پہلے زمانے میں جب ما ئیں دادیاں اور نا نیاں اسلامی ذہن رکھتی تھیں تو یہ بچو ں کو پہلا سبق دیتی تھیں کہ بیٹا جھوٹ مت بو لنا اور کہتی تھیں کہ اگر جھوٹ بو لو گے تو کوا کاٹ لے گا
اور بچے کو شروع ہی میں یہ احساس ہوجاتا تھا کے جھوٹ قابل سزا ہے
جھوٹ کے لیئے رسول اللہ

کی وہ حدیث ہے کہ ایک شخص حضور کے پاس آیا کہ حضور مجھ میں تمام برا ئیاں ہیں ،اور اس نے بھری مجلس میں وہ سب کچھ سنا دیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو بہت ہی ناگوار گزریں۔ مگر حضور

نے اس کو روکا نہیں ایک تووہ سچ کہہ رہا تھا دوسرے ہم کو سبق بھی سکھانا تھاکہ کسی کے بیچ میں لقمہ مت دو۔ لہذا حضور

آخرتک خاموشی سے سنتے رہے اور اس کو کہیں نہیں ٹوکا ۔ سب کچھ سنانے کے بعد اس نے پوچھا کہ حضور کیا ابھی بھی میرے لیئے ان سب کو چھوڑ نے کی کو ئی گنجا ئش ہے ۔ حضور

نے فر مایا
ہاں ! بس تو مجھ سے ایک عہد کر کہ جھوٹ نہیں بولے گا
اس نے وعدہ کر لیا کہ میں جھوٹ نہیں بولونگا ۔اور چلا گیا۔ اس کو چو نکہ حضور

نے اپنے دوسرے شغل چھو ڑنے کو نہیں فر مایا تھا لہذا اس نے وہ سب کیئے جو اسکا معمول تھا۔ اب جب وہ صبح کو حاضر ِ خدمت ہوا تو پریشان تھا کہ کیا کروں؟ اگر سچ بو لوں تو کچھ چھپا نہیں سکتا دوسرے میری جان خطرے میں پڑ جا ئے گی متعلقہ لوگ مارڈالیں گے؟ اور جھوٹ بولوں تو اول تو وعدے کی خلاف ورزی ہوگی ،دوسرے اللہ سبحانہ تعالٰی حضور

کو اس پر با خبر کردے گا لہذا اس نے مناسب یہ سمجھا کہ پہلے سب سے تو بہ کر لے پھر دوسرے دن در بار رسالت میں پیش ہو
آپ نے دیکھ لیا کہ یہ حکمت تھی حضور

کی اور ساتھ میں ان کی وہ صفت بھی جو کہ قرآن
بتا رہا ہے کہ
“ وہ کتاب پڑھ کر سناتے تے ہیں ،اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری سے روکتے ہیں"
آج کے دور میں ہما ری تبلیغ میں یہ عنصر غائب ہے یعنی مسجد یں تو بھری ہو ئی ہیں جدید نصاب ِ تبلیغ کی بنا پر، مگر تزکیہ نفس پر توجہ نہیں ہے جو حضور

کرواتے تھے اور اس کے بعد اولیائے امت کرواتے رہے۔ نتیجہ کیا ہے کہ وہ بظاہر تو مسلمان نظرآتے ہیں مگر ہر ہیر پھیر کوجا ئز سمجھتے ہیں ۔ اور سب سے زیادہ جھوٹ مسلمان ہی بو لتے ہیں اور بلا وجہ بو لتے ہیں
جبکہ حضور

نے فر مادیا کہ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے مگر جھو ٹا مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ اور خودحضور

کی صفات میں سب سے بڑی صفت یہ ہی راست گوئی ، امانت ، دیانت اور وعدوں کی پاسداری تھی ۔جس کو کبھی کسی کافر نے بھی جھٹلانے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ یہ ہی کہتے تھے کہ ہمیں آپ پر تو یقین ہے مگر اور جو یہ آپ آخرت وغیرہ کی بات فرماتے ہیں یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی دراصل وہ سمجھتے تو تھے مگریہاں ان کے مفادات آ ڑے آجاتے تھے
ورنہ وہ آخری وقت تک حضور

کوامین اور صادق مانتے رہے اور اپنی اما نتیں انہیں کی پاس رکھتے رہے۔ سلام ہو ان کی دیانت پر، سلام ہو انکی امانت پر، اور سلام ہو ان کے اعلیٰ اخلاق پر، یہ سب امت کے لیئےمشعل راہ ہے اگر اتبا ع کریں تو فلا ح پا جا ئیں
جھوٹ کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ آدمی معاشرے میں ہی نہیں پوری دنیا میں بے وقعت ہو کررہ جاتا ہے
کوئی اس کی بات کا اعتبار نہیں کر تا ۔کوئی اس سےلین دین اور معا ہدہ وغیرہ نہیں کر تا اور جس کا اعتبار اٹھ جا ئے تو نہ تو وہ ملازمت کر سکتا ہے نہ تجارت اور حکومت۔پھر وہ جیئے گا کیسے ؟
“ سچ کا بول بالا اور جھوٹے کا منہ کالا۔“