| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 670
|
||||
| 10 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (03-12-10), sahj (03-12-10), shafresha (04-12-10), کنعان (07-12-10), آبی ٹوکول (07-12-10), ارشد کمبوہ (07-12-10), حیدر (04-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10), عبداللہ حیدر (07-12-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
کیا قتل سے کم سزا سے کام نہیںچل سکتا؟؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی چل سکتا ہے ، اگر صاحبء حق صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اس میں ترمیم فرما دیں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (14-12-10), shafresha (07-12-10), کنعان (07-12-10), آبی ٹوکول (07-12-10), ارشد کمبوہ (07-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10), عبداللہ حیدر (07-12-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمیں بچپن میں درسی کتب میں پڑھایا جاتا ہے کہ ایک بوڑھی عورت نبی پاک ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھنیکتی تھی،اور ایک دفعہ جب بیمار ہوگئی تو کوڑا نہ پھینک سکی ، اور نبی پاک ﷺ اسے پوچھنے چلے گئے کہ کیا ہوا ،بوڑھی بیمار تھی اور آپ ﷺ کے اس حسن سلوک کی وجہ سے مسلمان ہوگئ۔
بڑے ہوئے تو احادیث پڑھنے کو ملیں کہ ایک صحابی نے اپنے بچوں کی ماں کو قتل کر دیا کیوں کہ وہ ہمارے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی،اور اس بات کو بنی پاک ﷺ نے سراہا اور بعد میں بھی آپ کی اس بات کی وجہ سے تعریف کرتے تھے ۔ پھر ہمارے سامنے حضرت عائشہ اور صحابہ ؓ کی شہادت بھی پیش کی جاتی ہے کہ آپ ذاتی انتقام نہیں لیتے تھے ، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مکہ والی بوڑھی عورت کا آپ ﷺ سے کونسا ذاتی جھگڑا تھا جس کی وجہ سے وہ آپ پر کوڑا کرکٹ پھنیکتی تھی۔ انہیں واقعات کو میں ذرا غور کر کے پھر سے پڑھتا ہوں تو ایک چیز جو کہ مجھے بڑی واضح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جن کو سزا دی گئی یہ وہ لوگ تھے جو کہ کھلم کھلا اور مسلسل نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے ، جیسے کہ ’’ایک ملعون کا نام ابن خطل تھا۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کیخلاف شعر کہتا اور اس کی دو لونڈیاں یہ غلیظ شعر اس کو گاگا کے سناتیں۔ فتح مکہ کے دن وہ حرم مکہ میں پناہ گزیں تھا ابوبرزہؓ صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کیمطابق اسے وہیں جہنم رسید کردیا۔‘‘ ’’اس طرح مدینہ میں ایک نابینا صحابی کی ایک چہیتی اور خدمت گزار لونڈی جس سے انکے بقول انکے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کا ارتکاب کیا کرتی تھی۔ یہ نابینا صحابی اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی۔‘‘ ’’کعب بن اشرف بدبخت یہودی تھا جو مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا اس کو آپﷺکی اجازت اور حکم سے محمد بن مسلمہ نے قتل کیا۔ ‘‘ اگر آپ غور کریں تو کسی کو بھی سزا ایک آدھ دفعہ کہنے کی وجہ سے نہیں دی گئی بلکہ پہلے جن کیلئے موقع تھا انہیں سمجھایا بھی گیا لیکن ان کے مسلسل تکرار کی وجہ سے سزا دی گئی یا وہ لوگ جو نبی پاک ﷺ کے بارے میں بدزبانی بہت ہی کھلم کھلا کرتے تھے اور وہ بھی بار بار کرتے تھے۔صرف انہیں ہی سزا دی گئی۔ ’’مسلمان ملکوں کے عالی مرتبت علمانے بھی شاتم رسول ﷺکے قتل کا فتویٰ دیا ہے‘‘ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی بار بار سمجھانے کے باوجود بھی اسلامی سلطنت میں ہمارے ہی نبی ﷺ پر الزام تراشی کرے تو اسے ایسے ہی سزا دی جانی چاہیے ،لیکن اس سے پہلے باقی لوازم(نصیحت و تبلیغ) بھی پورے ہونے چاہیں۔تاکہ انصاف کا حق ادا ہوسکے ۔ Last edited by ابرارحسین; 07-12-10 at 09:43 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمتہ اللہ
عادل بھائی اگر مذکورہ گستاخ اسلام قبول کر کے مسلمان ہوجائے تو کیا اس کی گستاخی معاف ہوکر اس کا قتل مؤخر نہیں ہوجائے گا؟ کیونکہ اسلام قبول کرنا تو اسلام سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ والسلام شکریہ |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بے شک اِسلام در گُزر کا درس دیتا ہے تو اگر وہ سچے دِل سے معافی مانگ کر دائرہ اِسلام میں داٍل ہو تو سزا چاہیں تو معاف کی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ لوگ کریں۔ کیونکہ ہمارا دین بہت فلیکسیبل ہے اورمعافی کی گُنجائش موجود ہے۔
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حوالہ اور ثبوت تو دیں مس زارا جی۔ آپ نے تو ڈائیرکٹ فتوی ای ٹھوک دیا |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
جیس بات
آپ نے فرمائی...................اسے فتوٰی بھی کہا جا ستا ہے.............. یقین بالجزم کے ساتھ بات کرنا..............نوٹ::سیریس نہ لیا جائے..........اور یہ میری ذاتی رائے ہے انتظامیہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے!!!
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | shafresha (08-12-10), ارشد کمبوہ (07-12-10) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے (((((يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ::: اپنے بندوں سے ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں سے درگذر کرتا ہے اور وہ جانتا کہ وہ بندے کیا کرتے ہیں ))))) اسی مفہوم کی دیگر آیات اللہ اور بندے کے درمیان معاملات اور اللہ کے حقوق کے بارے میں ہیں ، اور انہی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ((((( أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ ::: اسلام اپنے سے پہلے والے (کفر و شرک ) کو ڈھا دیتا ہے ))))) متفق علیہ، رہا معاملہ حقوق العباد کا تو اس کی فیصلہ اللہ تعالیٰ بھی صاحبء حق کی مرضی کے مطابق فرمائے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے اکثر دشمنوں کی توبہ کو درست مانا ، اور ان کے قبول ء اسلام کو درست مانا ، یہ ان کے رحمت العالمین ہونے کا ایک درخشاں ثبوت ہے، جی ارشد بھإئی ، اگر کوٕئی ایسا کافر جو اپنے کفر میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا رہو ہو ، اور پھر وہ اسلام قبول کر لے ، تو اس کے اسلام کو مانا جإئے گا اور اس کی نگرانی کی جإئے گی کہ وہ واقعتا سچا مسلمان ہوا ہے ، یا اپنی جان بچانے کے لیے ، یا مسلمانوں کیصفوف میں شامل ہو کر کوٕئی فساد پھیلانے کے لیے مسلمان ہوا ہے ، اگر اس کے اعمال ایک سچے مسلمان کے سے رہیں تو اس کے سابقہ فعل کی سزا موخر رکھی جإئے گی ، لیکن سزا کی منسوخی کا حکم دینے کا کسی کو حق نہیں کیونکہ اس نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حق تلفی کی تھی ، اور کسی کا حق کوئی اور معاف نہیں کر سکتا ، جیسا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ابو سفیان اور عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہما کی گستاخیوں کے باوجود رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کا اسلام قبول کرنا قبول فرما لیا ، اور دوسری طرف جس کے لیے چاہا اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ، یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے رحمت للعالمین ہونے کا ایک درخشاں اور حکیمانہ ثبوت ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے علم کے مطابق انہیں پتہ تھا کہ کس کو چھوڑنا ان کی امت اور انسانیت کے لے فتنہ و فساد ہو گا ، پس اس میں کسی قسم کا شک نہیں کہ دُنیا میں تو کیا آخرت میں بھی کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی صاحبء حق کا حق معاف کر دے ، لہذا ہر مسلمان کو کسی گستاخء رسول کی سزا معاف کرنے کی خواہش کا اظہار تک نہیں کرنا چاہیے ،اور معاذ اللہ اگر کسی مسلمان کے دل میں ایسا کوئی وسوسہ ہو بھی تو اسے ز ُبان تک لانے کی بجائے اس کی درستگی کے لیے خوب مطالعہ کرے اور اہل علم اور اہل ذکر لوگوں سے ایک طالبء حق ، طالبء علم کی طرح حق سیکھنے کی کوشش کرے توبہ کر کے مسلمان ہونے والا وہ شخص اگر مسلمان ہونے کے بعد ایک اچھے سچے مسلمان کی سی زندگی بسر کرتا ہوا مر گیا تو اس کا معاملہ اللہ کی عدالت میں طے ہو گا ، اگر رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم چاہیں گے تو اپنا حق معاف فرما دیں گے ، اور اگر وہ شخص مسلمانوں میں ، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام دشمنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے دشمنی ، مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے کاموں میں ملوث ثابت ہوا تو اسے اس کے سابقہ جرم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سزا میں قتل کیا جائے گا ،اور اگر اس کے علاوہ بھی کوئی جرم اس پر ثابت ہو تواس کی بھی سزا دی جائے گی ، و اللہ اعلم ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| php, پاکستان, چور, نظر, مکہ, ممکن, محبت, معاشرہ, آج, ایمان, اللہ, امیر, امریکہ, اسلام, اسلامی, بچوں, جیل, جرم, حکم, حدیث, خون, دیکھو, راستہ, زرداری, صحابی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔ | sahj | عقیدہ رسالت | 101 | 06-02-11 03:23 PM |
| موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! | sahj | عقیدہ رسالت | 0 | 09-01-11 05:17 PM |
| باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ (حدیث 2( | ھارون اعظم | صحیح البخاری | 0 | 13-03-10 04:19 PM |
| باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ | ھارون اعظم | صحیح البخاری | 0 | 13-03-10 04:07 PM |
| سوچتا ہوں کہ اُسے نیند بھی آتی ہوگی؟ | محمدعدنان | شاعری اور مصوری | 10 | 04-12-09 11:49 PM |