واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


شاتم رسول کی سزا اور اسکی معافی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-12-10, 04:14 PM   #1
شاتم رسول کی سزا اور اسکی معافی؟
ALI-OAD ALI-OAD آف لائن ہے 03-12-10, 04:14 PM

سینیٹر پروفیسر ساجد میر (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ﷺکی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ:
” اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے“۔

یہ حکم (نعوذباللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو حضرت عائشہ اور صحابہ کرامؓ کی شہادت موجود ہے کہ آپﷺ نے کبھی بھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے دلوں سے عظمت وتوقیر رسول ﷺ گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے، اس لئے توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ”تہذیب و شرافت“ سے برداشت کرلینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ نیز ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکزو محورہیں اس لئے جو زبان آپﷺ پر طعن کیلئے کھلتی ہے، اگر اسے کاٹانہ جائے اور جو قلم آپﷺ کی گستاخی کیلئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑانہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہوکر رہ جائیگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذباللہ) نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دینے والا ہے اور وہ ہمارے ایمان کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانے کیلئے ہجو نگاروں کی گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا۔ ان میں سے ایک ملعون کا نام ابن خطل تھا۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کیخلاف شعر کہتا اور اس کی دو لونڈیاں یہ غلیظ شعر اس کو گاگا کے سناتیں۔ فتح مکہ کے دن وہ حرم مکہ میں پناہ گزیں تھا ابوبرزہؓ صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کیمطابق اسے وہیں جہنم رسید کردیا۔

عام طورپر غزوات اور جنگوں میں آپﷺ کا حکم ہوتا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کی اجائے، لیکن توہین رسول ﷺاسلامی شریعت میں اتنا سنگین جرم ہے کہ اسکی مرتکب عورت بھی قابل معافی نہیں۔ چنانچہ آپﷺ نے ابن خطل کی مذکورہ دو لونڈیوں کے علاوہ دو اور عورتوں کے بارے میں بھی جو آپﷺ کے حق میں بدزبانی کی مرتکب تھیں، قتل کا حکم جاری کیا تھا‘ اس طرح مدینہ میں ایک نابینا صحابی کی ایک چہیتی اور خدمت گزار لونڈی جس سے انکے بقول انکے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کا ارتکاب کیا کرتی تھی۔ یہ نابینا صحابی اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی۔ ایک شب وہ بدزبانی کررہی تھی کہ انہوں نے اسکا پیٹ چاک کردیا۔ جب یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپﷺ نے فرمایا لوگو! گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان یا بدلہ نہیں ہے۔ (ابوداﺅد، نسائی)

جب حضرت عمرؓ نے گستاخ رسول ﷺ کے نابینا قاتل کے بارے میں پیارسے کہا دیکھو اس نابینا نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا، اسے اعمیٰ (نابینا) نہ کہو، بصیر و بینا کہو کہ اسکی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے اور جب ایک اور گستاخ ملعونہ اسماء بنت مروان کو اسکے ایک اپنے رشتہ دار غیرت مند صحابی نے قتل کیا تو آپﷺ نے فرمایا لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو جو اللہ اور اسکے رسولﷺ کی نصرت و امداد کرنیوالا ہے تو میرے اس جانثارکو دیکھ لو۔ یہ غیرت مند صحابی عمیر بن عدیؓ جب اس ملعونہ کے قتل سے فارغ ہوئے تو انکے قبیلہ کے بعض سرکردہ افراد نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے یہ قتل کیا ہے؟ انہوں نے بلاتامل کہا، ہاں اور اگر تم سب گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نے کیا تھا تو تم سب کو بھی قتل کردوں گا۔ (الصارم المسﺅل بن )

ایک اور شاتم رسول ﷺ ملعون یہودی ابورافع کو اس کی بدگوئی کی سزا دینے کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عتیقؓ کی سرکردگی میں ایک گروپ بھیجا۔ یہ ملعون ایک محفوظ قلعہ میں رہتا تھا، مگر عبداللہ بن عتیقؓ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اسکے سر پر جا پہنچے اور اسے واصل جہنم کیا۔ جلدی میں واپسی کیلئے مڑے تو ایک سیڑھی سے گر کر انکی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسے اپنے عمامہ سے باندھا اور قلعہ کے دروازہ سے باہر نکل آئے، مگر انتہائی تکلیف کے باوجود وہیں بیٹھ کر اپنے مشن کی تکمیل کی خوشخبری ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب ابورافع کی موت کا اعلان سنا اور اطمینان ہوا اور واپس خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری بات سن کر ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر دست شفقت پھیرا تو وہ اس طرح درست ہوگئی جیسے کبھی ٹوٹی نہ تھی۔ (بخاری)

کعب بن اشرف بدبخت یہودی تھا جو مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا اس کو آپﷺکی اجازت اور حکم سے محمد بن مسلمہ نے قتل کیا۔ (بخاری و مسلم) جب یہودیوں نے کعب کے قتل کی شکایت کی تو آپﷺ نے فرمایا، اس نے جو تکلیف دہ گستاخیاں کی تھیں، اگر تم میں سے کوئی اور کرے گا تو اسکی بھی یہی سزا ہوگی۔ عہد نبوی میں شاتمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیانک انجام کی ان متعدد مثالوں کے پیش نظر ہر دور کے مسلمان علماءکا فتویٰ یہی رہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے والے کی سزا قتل ہے۔
موجودہ حالات میں بھی عالم اسلام کے عالمی و روحانی مرکز سعودی عرب کے مفتی اعظم کے علاوہ متعدد مسلمان ملکوں کے عالی مرتبت علمائ
نے بھی شاتم رسول ﷺکے قتل کا فتویٰ دیا ہے حالانکہ صحیح یہ ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب معاشرے میں اپنی گندگی پھیلا چکے تو قتل کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سچی توبہ کرنے سے وہ آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے، مگر دنیا میں بہرحال اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا ہی پڑیں گے۔

یہ کس قدر افسوسناک، غمناک اور شرمناک بات ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کی مجرمہ سے صدر آصف علی زرداری کہ کہنے پر گورنر پنجاب نے جیل میں ملاقات کی اور اس سے رحم کی اپیل پر انگوٹھا لگوایا،حالانکہ کہنے کو دونوں مسلمان ہیں اور صدر اورگورنر کسی کو بھی پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کوشش کرنے کی جسارت نہ ہوئی مگر وہ ایک گستاخ رسول کیلئے اتنے بے تاب کیوں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی سے مسلم امہ کی دل آزاری ہوتی ہے اور انکے دل زخمی ہوتے ہیں،اس گستاخانہ اور ناپاک جسارت کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہیں۔مسلمان جس کے پیرو کار ہیں وہ امن کے داعی ، عدل و انصاف کے پیامبر، اقلیتوں کے محافظ اور انسانیت کے محسن ہیں۔

آج امریکہ جو دنیا کا تھانیدار بنا ہوا اس کا حال یہ ہے کہ وہ رسول اکرمﷺ کے گستاخ کو پناہ دینے کیلئے پیشکش کررہا ہے۔اگر برطانیہ اور امریکہ میں آزادی تحریر اور تقریر کے باوجود ملک اور اسکے آئین میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ملکہ کی توہین جرم ہے، روس میںلینن کو گالی دینا قابل تعزیر ہے توہمیں اپنے آقا ﷺکی توہین کے جرم کی سزاکے ببانگ دہل کے اعلان سے کون روک سکتا ہے، ہماری متاع ایمان کی بقاءکی ضمانت ہی نبی کریم ﷺکی ذات والا سے محبت اور آپ کی عظمت و توقیر ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ ہر مسلمان ناموس رسالت کے تحفظ کیلئے مر مٹنے کا جذبہ رکھتا ہے بعض لوگوں کیلئے شاید یہ امر باعث حیرت ہوکہ اسلام نے بڑے بڑے گناہگار کیلئے توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا۔ پھر شاتم رسول توبہ کے باوجود کم ازکم دنیاوی سزا کے کیوں نہیں بچ سکتا؟ امام ابن تیمیہ حمتہ اللہ نے اس موضوع پر اپنی کتاب ”الصارم المسﺅل علی شاتم الرسول“ میں خوب روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اہل حدیث امام احمد اور امام مالک کے نزدیک شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچا سکتی جبکہ امام شافعی سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول و عدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔
خود امام ابن تیمیہ اکثر محدثین و فقہاءکی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے‘ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو زور دار دلائل دئیے ہیں انکا خلاصہ اور وضاحت حسب ذیل ہے۔
1۔شاتم رسول ﷺفساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اسکی توبہ سے اس بگاڑ اور فساد کی تلافی اور ازالہ نہیں ہوتا جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔
2۔اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اسے اور دوسرے بدبختوں کو جرات ہوگی کہ وہ جب چاہیں توہین رسولﷺ کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کرکے اس کی سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمان کو بازیچہ اطفال بنالیں۔
3۔نبی کریمﷺکی گستاخی کے جرم کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ حقوق اللہ واللہ چاہے تو خود معاف کردیتا ہے، مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے، مگر اب اس کی کوئی صورت نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ ﷺکی طرف سے اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

4۔قتل، زنا، سرقہ جیسے جرائم کے بارے میں بھی اصول یہی ہے کہ ان کا مجرم سچی توبہ کرنے سے آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے، مگر دنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل، زانی یا چور گرفتار ہوجائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا تھا، مگر اب توبہ کری ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح شاتم رسولﷺ بھی ارتکاب جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے تو دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے بدتر اور زیادہ سنگین ہے۔
ان دلائل کے پیش نظر درست یہی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور اسکی سچی یا جھوٹی توبہ اسے اس سزا سے نہیں بچاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کو مغرب اور اس کی نام نہاد تہذیبی اقدار سے مرعوب ہوکر اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک پیدا نہیں کرنی چاہیے۔


شاتم رسول کی سزا اور اسکی معافی؟ (ساجد میر)
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 670
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (03-12-10), sahj (03-12-10), shafresha (04-12-10), کنعان (07-12-10), آبی ٹوکول (07-12-10), ارشد کمبوہ (07-12-10), حیدر (04-12-10), عادل سہیل (06-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10), عبداللہ حیدر (07-12-10)
پرانا 03-12-10, 09:04 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,276
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا یہی سزا 1400 سال بعد بھی ویسے ہی لاگو ہوگی؟
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-12-10), حیدر (04-12-10)
پرانا 04-12-10, 08:26 AM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,719
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا قتل سے کم سزا سے کام نہیں‌چل سکتا؟؟؟؟
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-12-10, 12:04 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی چل سکتا ہے ، اگر صاحبء حق صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اس میں ترمیم فرما دیں ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (14-12-10), shafresha (07-12-10), کنعان (07-12-10), آبی ٹوکول (07-12-10), ارشد کمبوہ (07-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10), عبداللہ حیدر (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 09:41 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 983
کمائي: 32,017
شکریہ: 1,331
738 مراسلہ میں 2,352 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمیں بچپن میں درسی کتب میں پڑھایا جاتا ہے کہ ایک بوڑھی عورت نبی پاک ﷺ پر کوڑا کرکٹ پھنیکتی تھی،اور ایک دفعہ جب بیمار ہوگئی تو کوڑا نہ پھینک سکی ، اور نبی پاک ﷺ اسے پوچھنے چلے گئے کہ کیا ہوا ،بوڑھی بیمار تھی اور آپ ﷺ کے اس حسن سلوک کی وجہ سے مسلمان ہوگئ۔
بڑے ہوئے تو احادیث پڑھنے کو ملیں کہ ایک صحابی نے اپنے بچوں کی ماں کو قتل کر دیا کیوں کہ وہ ہمارے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی،اور اس بات کو بنی پاک ﷺ نے سراہا اور بعد میں بھی آپ کی اس بات کی وجہ سے تعریف کرتے تھے ۔
پھر ہمارے سامنے حضرت عائشہ اور صحابہ ؓ کی شہادت بھی پیش کی جاتی ہے کہ آپ ذاتی انتقام نہیں لیتے تھے ، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ مکہ والی بوڑھی عورت کا آپ ﷺ سے کونسا ذاتی جھگڑا تھا جس کی وجہ سے وہ آپ پر کوڑا کرکٹ پھنیکتی تھی۔
انہیں واقعات کو میں ذرا غور کر کے پھر سے پڑھتا ہوں تو ایک چیز جو کہ مجھے بڑی واضح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ جن کو سزا دی گئی یہ وہ لوگ تھے جو کہ کھلم کھلا اور مسلسل نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے ، جیسے کہ
’’ایک ملعون کا نام ابن خطل تھا۔ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کیخلاف شعر کہتا اور اس کی دو لونڈیاں یہ غلیظ شعر اس کو گاگا کے سناتیں۔ فتح مکہ کے دن وہ حرم مکہ میں پناہ گزیں تھا ابوبرزہؓ صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کیمطابق اسے وہیں جہنم رسید کردیا۔‘‘
’’اس طرح مدینہ میں ایک نابینا صحابی کی ایک چہیتی اور خدمت گزار لونڈی جس سے انکے بقول انکے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کا ارتکاب کیا کرتی تھی۔ یہ نابینا صحابی اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی۔‘‘
’’کعب بن اشرف بدبخت یہودی تھا جو مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا اس کو آپﷺکی اجازت اور حکم سے محمد بن مسلمہ نے قتل کیا۔ ‘‘
اگر آپ غور کریں تو کسی کو بھی سزا ایک آدھ دفعہ کہنے کی وجہ سے نہیں دی گئی بلکہ پہلے جن کیلئے موقع تھا انہیں سمجھایا بھی گیا لیکن ان کے مسلسل تکرار کی وجہ سے سزا دی گئی یا وہ لوگ جو نبی پاک ﷺ کے بارے میں بدزبانی بہت ہی کھلم کھلا کرتے تھے اور وہ بھی بار بار کرتے تھے۔صرف انہیں ہی سزا دی گئی۔
’’مسلمان ملکوں کے عالی مرتبت علمانے بھی شاتم رسول ﷺکے قتل کا فتویٰ دیا ہے‘‘ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی بار بار سمجھانے کے باوجود بھی اسلامی سلطنت میں ہمارے ہی نبی ﷺ پر الزام تراشی کرے تو اسے ایسے ہی سزا دی جانی چاہیے ،لیکن اس سے پہلے باقی لوازم(نصیحت و تبلیغ) بھی پورے ہونے چاہیں۔تاکہ انصاف کا حق ادا ہوسکے ۔

Last edited by ابرارحسین; 07-12-10 at 09:43 AM.
ابرارحسین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-12-10), فیصل ناصر (07-12-10), فاروق سرورخان (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 10:12 AM   #6
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمتہ اللہ
عادل بھائی اگر مذکورہ گستاخ اسلام قبول کر کے مسلمان ہوجائے تو کیا اس کی گستاخی معاف ہوکر اس کا قتل مؤخر نہیں ہوجائے گا؟
کیونکہ اسلام قبول کرنا تو اسلام سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
والسلام شکریہ
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-12-10), فیصل ناصر (07-12-10), عادل سہیل (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 10:16 AM   #7
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک اِسلام در گُزر کا درس دیتا ہے تو اگر وہ سچے دِل سے معافی مانگ کر دائرہ اِسلام میں داٍل ہو تو سزا چاہیں تو معاف کی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ لوگ کریں۔ کیونکہ ہمارا دین بہت فلیکسیبل ہے اورمعافی کی گُنجائش موجود ہے۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-12-10), فیصل ناصر (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 10:50 AM   #8
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
بے شک اِسلام در گُزر کا درس دیتا ہے تو اگر وہ سچے دِل سے معافی مانگ کر دائرہ اِسلام میں داٍل ہو تو سزا چاہیں تو معاف کی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ لوگ کریں۔ کیونکہ ہمارا دین بہت فلیکسیبل ہے اورمعافی کی گُنجائش موجود ہے۔
ہو تو سکتا ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ اور ثبوت تو دیں مس زارا جی۔
آپ نے تو ڈائیرکٹ فتوی ای ٹھوک دیا
ارشد کمبوہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-12-10), فیصل ناصر (07-12-10), عبداللہ آدم (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 10:52 AM   #9
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,991
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,129 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
ہو تو سکتا ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ اور ثبوت تو دیں مس زارا جی۔
آپ نے تو ڈائیرکٹ فتوی ای ٹھوک دیا
محترم بھائی جی میں نے صرف بات کی ہے کہ ہمارے دین میں معافی کی گُنجائش ہے۔ فتوی میں نے نہیں دیا،
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-12-10), فیصل ناصر (07-12-10)
پرانا 07-12-10, 08:05 PM   #10
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جیس بات
آپ نے فرمائی...................اسے فتوٰی بھی کہا جا ستا ہے.............. یقین بالجزم کے ساتھ بات کرنا..............

نوٹ::سیریس نہ لیا جائے..........اور یہ میری ذاتی رائے ہے انتظامیہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے!!!
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-12-10), ارشد کمبوہ (07-12-10)
پرانا 08-12-10, 12:19 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ارشد کمبوہ مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمتہ اللہ
عادل بھائی اگر مذکورہ گستاخ اسلام قبول کر کے مسلمان ہوجائے تو کیا اس کی گستاخی معاف ہوکر اس کا قتل مؤخر نہیں ہوجائے گا؟
کیونکہ اسلام قبول کرنا تو اسلام سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
والسلام شکریہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے (((((يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ ::: اپنے بندوں سے ان کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں سے درگذر کرتا ہے اور وہ جانتا کہ وہ بندے کیا کرتے ہیں )))))
اسی مفہوم کی دیگر آیات اللہ اور بندے کے درمیان معاملات اور اللہ کے حقوق کے بارے میں ہیں ،
اور انہی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ((((( أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ ::: اسلام اپنے سے پہلے والے (کفر و شرک ) کو ڈھا دیتا ہے ))))) متفق علیہ،
رہا معاملہ حقوق العباد کا تو اس کی فیصلہ اللہ تعالیٰ بھی صاحبء حق کی مرضی کے مطابق فرمائے گا ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے اکثر دشمنوں کی توبہ کو درست مانا ، اور ان کے قبول ء اسلام کو درست مانا ، یہ ان کے رحمت العالمین ہونے کا ایک درخشاں ثبوت ہے،
جی ارشد بھإئی ، اگر کوٕئی ایسا کافر جو اپنے کفر میں رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا رہو ہو ، اور پھر وہ اسلام قبول کر لے ، تو اس کے اسلام کو مانا جإئے گا اور اس کی نگرانی کی جإئے گی کہ وہ واقعتا سچا مسلمان ہوا ہے ، یا اپنی جان بچانے کے لیے ، یا مسلمانوں کی‌صفوف میں شامل ہو کر کوٕئی فساد پھیلانے کے لیے مسلمان ہوا ہے ،
اگر اس کے اعمال ایک سچے مسلمان کے سے رہیں تو اس کے سابقہ فعل کی سزا موخر رکھی جإئے گی ،
لیکن سزا کی منسوخی کا حکم دینے کا کسی کو حق نہیں کیونکہ اس نے رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حق تلفی کی تھی ، اور کسی کا حق کوئی اور معاف نہیں کر سکتا ،
جیسا کہ رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ابو سفیان اور عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہما کی گستاخیوں کے باوجود رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ان کا اسلام قبول کرنا قبول فرما لیا ،
اور دوسری طرف جس کے لیے چاہا اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ، یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے رحمت للعالمین ہونے کا ایک درخشاں اور حکیمانہ ثبوت ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے علم کے مطابق انہیں پتہ تھا کہ کس کو چھوڑنا ان کی امت اور انسانیت کے لے فتنہ و فساد ہو گا ، پس اس میں کسی قسم کا شک نہیں کہ دُنیا میں تو کیا آخرت میں بھی کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی صاحبء حق کا حق معاف کر دے ، لہذا ہر مسلمان کو کسی گستاخء رسول کی سزا معاف کرنے کی خواہش کا اظہار تک نہیں کرنا چاہیے ،اور معاذ اللہ اگر کسی مسلمان کے دل میں ایسا کوئی وسوسہ ہو بھی تو اسے ز ُبان تک لانے کی بجائے اس کی درستگی کے لیے خوب مطالعہ کرے اور اہل علم اور اہل ذکر لوگوں سے ایک طالبء حق ، طالبء علم کی طرح حق سیکھنے کی کوشش کرے
توبہ کر کے مسلمان ہونے والا وہ شخص اگر مسلمان ہونے کے بعد ایک اچھے سچے مسلمان کی سی زندگی بسر کرتا ہوا مر گیا تو اس کا معاملہ اللہ کی عدالت میں طے ہو گا ، اگر رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم چاہیں گے تو اپنا حق معاف فرما دیں گے ،
اور اگر وہ شخص مسلمانوں میں ، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام دشمنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے دشمنی ، مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے کاموں میں ملوث ثابت ہوا تو اسے اس کے سابقہ جرم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سزا میں قتل کیا جائے گا ،اور اگر اس کے علاوہ بھی کوئی جرم اس پر ثابت ہو تواس کی بھی سزا دی جائے گی ، و اللہ اعلم ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-12-10), آبی ٹوکول (08-12-10), عبداللہ آدم (08-12-10), عبداللہ حیدر (08-12-10)
جواب

Tags
php, پاکستان, چور, نظر, مکہ, ممکن, محبت, معاشرہ, آج, ایمان, اللہ, امیر, امریکہ, اسلام, اسلامی, بچوں, جیل, جرم, حکم, حدیث, خون, دیکھو, راستہ, زرداری, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا ۔۔۔ sahj عقیدہ رسالت 101 06-02-11 03:23 PM
موہنِ رسول کی سزائے قتل پر ائمہ اربعہ اور علماء امت کا اجماع ! sahj عقیدہ رسالت 0 09-01-11 05:17 PM
باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ (حدیث 2( ھارون اعظم صحیح البخاری 0 13-03-10 04:19 PM
باب 1: رسول اللٰہ صلی اللٰہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ ھارون اعظم صحیح البخاری 0 13-03-10 04:07 PM
سوچتا ہوں کہ اُسے نیند بھی آتی ہوگی؟ محمدعدنان شاعری اور مصوری 10 04-12-09 11:49 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger