واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-02-08, 05:44 PM   #1
شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں
عادل سہیل عادل سہیل آن لائن ہے 14-02-08, 05:44 PM

السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ
بہت سی عجیب و غریب عادات میں سے ایک یہ بھی ہم مسلمانوں میں داخل ہو چکی ہے کہ دِین کے معاملات اپنی اپنی طرف سے مقرر کی گئی کسوٹیوں پر پرکھ کر اپنا لیتے ہیں ، اپنے اپنے طریقے ، اپنے اپنے قوانین ، اپنے اپنے ڈھب و مسلک ، کے مطابق شریعت کے حکم لیے جاتے ہیں ، عقائد اور عِبادات بنا لی جاتی ہیں ،
اور بظاہر ہر کسی کا عنوان ، """ قران و سنّت """ ہوتا ہے ،اور اپنی بات ، اپنے عقیدے ، و عبادات کی دلیل بھی وہاں سے نکال لی جاتی ہے ،
اگر ہر کسی کی بات کی دلیل قران و سنت میں ہے تو پھر کہیں کوئی غلط نہیں ! اور یہ نا مکمن ہے کیونکہ حق دو کے پاس نہیں ہو سکتا ، پس قران و سنّت کو سمجھنے اور جاننے کے لیے ایک اور کسوٹی بھی اللہ کی طرف سے مقرر کی گئی ہے جِسے چھوڑنے کی وجہ سے ہم لوگ بالکل بنیادی ، عقائد ، اور عِبادات میں بھی اِختلاف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ،
میں پہلے بھی کئ دفعہ عرض کر چکا ہوں کہ ، قُران اورسُنّت کو سمجھنے کے لیے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و افعال کی حدود میں رہنا لازم ہے ، خاص طور پر عقیدے اور عِبادات میں ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے ہم سب کے لیے اِیمان اور فہمِ دِین کے لیے ایک کسوٹی اور ایک معیار مقرر فرمایا ، اور یہود و نصاریٰ کو جواب دِلواتے ہوئے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب کو حُکم دِیا :::
( قُولُوا آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا اُنزِلَ اِلَیْْنَا وَمَا اُنزِلَ اِلَی اِبرَاہِیمَ وَاِسمَاعِیلَ وَاِسحَاقَ وَیَعقُوبَ وَالاَسبَاطِ وَمَا اُوتِیَ مُوسَی وَعِیسَی وَمَا اُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِم لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ اَحَدٍ مِّنہُم وَنَحنُ لَہُ مُسلِمُونَ O فَاِن آمَنُوا بِمِثلِ مَا آمَنتُم بِہِ فَقَدِ اہتَدَوا وَّاِن تَوَلَّوا فَاِنَّمَا ہُم فِی شِقَاقٍ فَسَیَکفِیکَہُمُ اللّہُ وَہُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ) ( تُم سب (رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی) کہو ہم اِیمان لائے اللہ پر اور جو ہماری طرف اُتارا گیا اُس پر ، اور جو اِبراہیم اور اِسماعیل اور اِسحاق اور یعقوب (علیہم السلام )اور اپنے پوتوں پر اُتارا گیا اُس پر ، اور جو کچھ دِیا گیا موسی اور عیسی اور (دوسرے) نبیوں ( علیہم السلام اجمعین) کو اُن کے رب کی طرف سے دِیا گیا اُس پر ، ہم نبیوں میں سے کِسی میں فرق نہیں کرتے (یعنی سب کی نبوت پر اِیمان رکھتے ہیں) اور ہم اللہ (اور اُسکے احکام ) کے لیے سر نگوں ہیں O اور اگر (اِس پیغام کے بعد ) یہ تُم لوگوں کی طرح اِیمان لاتے ہیں تو پھر یہ ہدایت پائے ہوئے ہیں اور اگر منہ پھیرتے ہیں تو وہ کھُلے اِختلاف میں ہیں اور جلد ہی اللہ آپ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )کو اِس سے کفایت فرما دے گا اور اللہ سب کچھ سننے والا اور مکمل عِلم رکھنے والا ہے ) البقرۃ / آیت ١٣٦،١٣٧
اور مزید فرمایا ( وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الہُدَی وَیَتَّبِع غَیرَ سَبِیلِ المُؤمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاء ت مَصِیراً ) ( اور ہدایت (یعنی اللہ کی طرف سے ارسال کردہ احکامات و ہدایت )واضح ہو جانے کے بعد بھی جو کوئی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو الگ کرے گا اور ''' المؤمنین''' ( اہل سنت و الجماعت کے تمام مسلکوں کا اِس پر اتفاق ہے کہ ''' المؤمنین''' صحابہ رضوان اللہ علیہم ہیں تو جو کوئی اُن ) کے راستے کے عِلاوہ کِسی بھی اور کی اتباع (پیروی) کرے گا تو ہم اُسے اُسی طرف چلا دیں گے جِس طرف اُس نے رخ کیا ہے اور ہم اُسے جہنم میں داخل کریں گے ( کیونکہ یہ ہی اُسکے اپنائے ہوئے راستے کی منزل ہے ) اور جہنم کیا ہی بُرا ٹھکانہ ہے ) سورت النساء /آیت ١١٥ ،
( آگے چلنے سے پہلے ، بھائی عرفان حیدر صاحب سے گذارش ہے کہ اِس دوسری مذکورہ بالا آیت کی طرف ذرا خصوصی توجہ فرمائیں کہ اِس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے دو دفعہ جمع کا صیغہ اِستعمال فرمایا ہے ، اِس لیے اگر کوئی اور اللہ تعالیٰ کا ذِکر جمع کے صیغے میں کرتا ہے تو وہ خِلاف توحید نہیں ، بلکہ اللہ کی کبریائی اور قوت و قدرت کی بڑائی اور عظمت کے لیے ہے اور اللہ کی طرف سے اجازت شدہ ہے ، جی ہاں قُران میں تو اللہ نے یہ ہی سکھایا ہے ، اب اپنی ذاتی ارا یا غیر مسلم مستشرقین کے فلسفے کو کسوٹی بنا کر یا اُس کی مدد سے قران کو سمجھا جائے تو پھر دِین میں کچھ بھی کہا اور بنایا جا سکتا ہے )
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اُن کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا کسوٹی مقرر فرمایا ، اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ یہود و نصاریٰ کے لیے ہے ، بلکہ ہر ایک اِنسان کے لیے کہ اگر اُس کا اِیمان و عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین کی اتباع میں ہو گا تو وہ ہدایت والا ہوگا اور اگر نہیں تو وہ گمراہی والا ہوگا ، اور یہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ، ہر فرقہ مذہب و مسلک ظاہری طور پر قُران و حدیث کا نام لیوا ہوتا ہے ، لیکن جب اِن دنوں کو وہ اپنی عقل کے مُطابق سمجھتا اور سمجھاتا ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال و افعال کو ترک کر دیتا ہے تو پھر وہیں پہنچتا ہے جہاں کی خبر اللہ نے اِس مندرجہ بالا آیات مُبارکہ میں فرمائی ،
مزید وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس معروف حدیث میں ملتی ہے کہ (اِنَّ بَنِی اِسرَائِیلَ افتَرَقَت علی اِحدَی وَسَبعِینَ فِرقَۃً وَاِنَّ اُمَّتِی سَتَفتَرِق ُ علی ثِنتَینِ وَسَبعِینَ فِرقَۃً کُلُّہَا فی النَّارِ اِلا وَاحِدَۃً وہی الجَمَاعَۃُ ) ( یقینا بنی اِسرائیل (یہودی) ٧١ فرقوں میں بٹے اور میری اُمت٧٢ فرقوں میں بٹے گی ، سب کے سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے ، اور وہ فرقہ ( جو جنّت میں جائے گا ) الجماعت ہے ) حدیث صحیح ہے اور سنن ابن ماجہ ، سنن ابی دواؤد ، المستدرک الحاکم ، مُسند احمد ، سنن البیہقی الکبریٰ اور حدیث کی دیگر کتابوں میں ابو ہُریرہ ، انس ابن مالک ، عبداللہ ابن مسعود ، عوف بن مالک ، معاویہ بن ابی سُفیان ، ابو اُمامہ ، عبداللہ ابن عباس ، رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایت کی گئی ہے ،
اور مستدرک الحاکم اور سنن الترمذی کی ایک روایت میں نجات پانے والے کامیاب ہونے والے فرقے کے بارے میں فرمایا ( مَا اَنا عَلیہِ و اَصحَابی الیَوم ) ( جِس پر میں اور میرے صحابہ آج کے دِن ہیں ) ، حدیث کا درجہ صحت ''' حسن '''
پس ، اپنے عقائد اور عبادات کو قران اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کی کسوٹی پر ، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کی حدود میں رہتے ہوئے سمجھیئے ، کوئی عقیدہ ، کوئی عِبادت اپنی مرضی سے نکالے گئے معنیٰ و مفہوم کی بنیاد پر نہیں بنائی ، اپنائی جا سکتی ، بلکہ مکمل طور پر حرفاً حرفاً اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میںرہتے ہوئے اپنانا ہے ، اور اگر ایسا نہیں تو کوئی بھی اپنی کِسی بات کو صحیح ثابت کرنے لے لیے کِسی آیت یا حدیث کو اپنے معنیٰ اور مفہوم دے کر کچھ بھی جائز اور ناجائز بنا سکتا ہے ، سوچنے اور سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ ''''''' اگر اُن آیات اور احادیث کا معنیٰ و مفہوم ، مطلوب و مقصود وہ ہی ہو ، جو کوئی بھی اپنے کسی عقیدے یا عِبادت کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، یا صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت نے اُس پر کیا اُسی طرح عمل کیا تھا جِس طرح یہ حضرات بیان کرتے ہیں ؟؟؟ اگر ہاں تو اُن کی بات ٹھیک ہوئی ، اور اگر نہیں تو کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت سے زیادہ قُران و حدیث کو سمجھنے والے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے ہیں ؟؟؟ '''''''
یہ تو کوئی معیار نہیں اور نہ ہی حق گوئی ، اور نہ ہی انصاف پسندی کہ جو بات اپنے مسلک و مذہب کے مطابق نہ ہو ، یا جس بات کا عِلمی جواب ، یعنی قران اور صحیح ثابت شدہ سنّت ، صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے اقوال و افعال کی روشنی میں نہ دیا جا سکے ، اُسے فرقہ واریت کے کھاتے میں ڈال دِیا جائے ،
مسلمانو ، کچھ تو خیال کیجیئے ، جو کام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت نے نہیں کیا، جو عقیدہ اُن لوگوں نے نہیں اپنایا ، بلکہ صدیوں تک اُمت میں اُس کا نام و نشان نہیں ملتا ، اُسے اپنانا تو درست ہوا اورقران اور صحیح ثابت شدہ سنّت ، صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے اقوال و افعال کی روشنی میں اپنانا غلط ہوا ، اور غلط قرار دینے کے کوئی ثابت شدہ علمی دلیل نہیں بلکہ ''' دو سو سال پہلے کے کسی فرقے''' کی روش قرار دے کر بات گول کر دی جاتی ہے ، اور اپنے خود ساختہ عقائد اور عِبادات کی تاریخ پر نظر کی جاتی ہے اور نہ ہی دلائل کے فہم پر،
اللہ ہم سب کو حق جاننے ماننے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by عبداللہ حیدر; 05-02-12 at 05:33 PM.. وجہ: فونٹ سائز کی درستگی

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1005
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق خان (15-02-08), چیتا چالباز (28-01-09), مون لائیٹ آفریدی (24-08-08), مجاہد حسین (15-02-08), محمد عاصم (03-05-10), رضی (06-04-09), ضِرار Derar (21-04-10), عبداللہ حیدر (14-02-08)
پرانا 15-02-08, 04:33 AM   #2
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,258
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

سلام،
تحقیق کے ساتھ جواب دیتا ہوں۔
وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (06-04-09)
پرانا 15-02-08, 11:57 AM   #3
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 11
کمائي: 17
شکریہ: 18
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عرفان حیدر مراسلہ دیکھیں
سلام،
تحقیق کے ساتھ جواب دیتا ہوں۔
وسلام
سلام ، عرفان صاحب جیسی تحقیق عادل صاحب کرتے ہیں ، ویسی ہی تحقیق سے بات کیجیئے گا ، یعنی ایسے اور مکمل حوالوں سے جو سب کے مشترکہ ہوں اور آسانی سے دیکھے اور سمجھے جا سکنے والے ہوں ،
شکریہ
فاروق خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق خان کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-02-08, 12:28 PM   #4
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,258
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق خان مراسلہ دیکھیں
سلام ، عرفان صاحب جیسی تحقیق عادل صاحب کرتے ہیں ، ویسی ہی تحقیق سے بات کیجیئے گا ، یعنی ایسے اور مکمل حوالوں سے جو سب کے مشترکہ ہوں اور آسانی سے دیکھے اور سمجھے جا سکنے والے ہوں ،
شکریہ
سلام،
جناب میں تو اپنی کتابوں کے انتہائی معتبر علماء کرام کے حوالہ جات دوں گا۔
وسلام،
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-03-08, 03:10 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

بھائی سب سے بہتر اور سب کو قابل قبول حوالہ جات قرآن و سنت سے ہوتے ہیں اور ہمارے علم میں اضافہ کا باعث‌بھی۔ دیگر علماء‌کی رائے بھی قابل احترام ہے لیکن اللہ تعالی اور رسول اللہ کے احکامات نور سے بھرپور ہوتے ہیں۔ آپ کوشش کیجئے کہ اچھے حوالہ جات قرآن و سنت سے عطا فرمائیے۔

نوٹ : سنت سے یہاں‌مراد رسول اکر م کے اقوال و افعال و احکامات مراد ہیں ۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (03-05-10)
پرانا 19-03-08, 05:46 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی سب سے بہتر اور سب کو قابل قبول حوالہ جات قرآن و سنت سے ہوتے ہیں اور ہمارے علم میں اضافہ کا باعث‌بھی۔ دیگر علماء‌کی رائے بھی قابل احترام ہے لیکن اللہ تعالی اور رسول اللہ کے احکامات نور سے بھرپور ہوتے ہیں۔ آپ کوشش کیجئے کہ اچھے حوالہ جات قرآن و سنت سے عطا فرمائیے۔

نوٹ : سنت سے یہاں‌مراد رسول اکر م کے اقوال و افعال و احکامات مراد ہیں ۔
السلام علیکم ، بھائی فاروق سرور خان صاحب سب سے پہلے تو میں آپ کو یہاں خوش آمدید کہتا ہوں ، آپ کی بات بہت ہی مناسب ہے ، میں اس سے بالکل متفق ہوں اور یہ اضافہ کرتا ہوں کہ کسی بھی فقہ یا مسلک کے عالم کی کوئی ایسی بات جو مندرجہ بالا کسوٹیوں پر پوری اترتی ہو وہ ہر مُسلمان کو کسی ضد یا تعصب کے بغیر مان لینی چاہیے ، اًمید ہے آپ بھی میری اس بات سے اتفاق فرمائیں گے ، اور دوسرے صاحبان بھی ، انشا اللہ تعالیٰ ،
و السلام علیکم
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پرانا 24-08-08, 10:20 AM   #7
Senior Member
 
مون لائیٹ آفریدی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 326
کمائي: 3,028
شکریہ: 783
145 مراسلہ میں 300 بارشکریہ ادا کیا گیا
مون لائیٹ آفریدی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں مون لائیٹ آفریدی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک شخص کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ مندرجہ ذیل حدیث۔
"( یقینا بنی اِسرائیل (یہودی) ٧١ فرقوں میں بٹے اور میری اُمت٧٢ فرقوں میں بٹے گی ، سب کے سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے ، اور وہ فرقہ ( جو جنّت میں جائے گا ) الجماعت ہے ) "
کو میں نہیں مانتا ہوں ، کیونکہ یہ قرآن کی آیت
" واعتصمو بحبل اللہ جمیعاّ ولاتفرقوا " ۔
کے خلاف ہے۔
حالانکہ حدیث بھی صحیح ہے ، آیت کا معنٰی بھی صحیح ہے۔ کوئی حقیقی تعارض بھی نہیں ہے ۔تو ایسی حالت میں کہا جاتا ہے ۔
( وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الہُدَی وَیَتَّبِع غَیرَ سَبِیلِ المُؤمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاء ت مَصِیراً )
__________________
مون لائیٹ آفریدی آف لائن ہے   Reply With Quote
مون لائیٹ آفریدی کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (25-08-08)
پرانا 24-08-08, 09:20 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مون لائیٹ آفریدی مراسلہ دیکھیں
ایک شخص کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ مندرجہ ذیل حدیث۔
"( یقینا بنی اِسرائیل (یہودی) ٧١ فرقوں میں بٹے اور میری اُمت٧٢ فرقوں میں بٹے گی ، سب کے سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے ، اور وہ فرقہ ( جو جنّت میں جائے گا ) الجماعت ہے ) "
کو میں نہیں مانتا ہوں ، کیونکہ یہ قرآن کی آیت
" واعتصمو بحبل اللہ جمیعاّ ولاتفرقوا " ۔
کے خلاف ہے۔
حالانکہ حدیث بھی صحیح ہے ، آیت کا معنٰی بھی صحیح ہے۔ کوئی حقیقی تعارض بھی نہیں ہے ۔تو ایسی حالت میں کہا جاتا ہے ۔
( وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الہُدَی وَیَتَّبِع غَیرَ سَبِیلِ المُؤمِنِینَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاء ت مَصِیراً )
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی آفریدی ، یقینا آیت اور حدیث میں کوئی تعارض نہیں ، چہ جائیکہ خلاف ہو ، نہ حقیقی نہ غیر حیقیقی ، یہ بات آپ تو سمجھ گئے ، لیکن جن صاحب نے حدیث کو ماننے سے انکار کیا آپ کو چاہیے تھا کہ آپ انہیں جوابا کچھ سمجھاتے یا سمجھانے کی کوشش تو کرتے اگر ان کا نہیں تو ان کی اس بات کو پڑہنے والوں میں سے کسی کا بھلا ہو جاتا ،
اور انہیں وہیں یہ مشورہ بھی دیتے کہ """ جناب قران و حدیث کے بارے میں بات کرنے سے پہلے کچھ عربی تو سیکھ لجیے ، ورنہ آپ صحیح احادیث کا یہی حشر کر کر کے اپنی اور دوسروں کی آخرت خراب کرتے رہیں گے ، شاید وہ کوئی """ جدت پسند """ ہوں گے جو کچھ ترجمے پڑھ سن کر دینی معاملات میں """ رائے """ تو کیا فیصلے صادر فرمانے لگتے ہیں ،
اگر آپ کی پہنچ ان تک یا ان کے اس اعتراض تک ہے تو انہیں بتایے کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے """ و اعتصموا """ فرمایا ہے جو امر کا صیغہ ہے ، یعنی حکم دیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو ، کوئی خبر نہیں دی کہ """ و تعتصم ھذہ الامۃ """ یا کسی اور اسلوب میں کوئی خبر نہیں دی ، اگر ایسی کوئی خبر ہوتی کہ """ یہ امت اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھے گی """ تو پھر رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان میں دی گئی خبر کہ یہ امت فرقوں میں بٹے گی ہی ، کو مخالف ، متعارض ، وغیرہ کہا جاتا اور ایسا ہونے کی صورت میں پھر دونوں میں اختلاف دور کرنے کے قواعد پر عمل کیا جاتا اور ناکامی کی صورت میں حدیث کو چھوڑا اور آیت قرانی کو اپنایا جاتا لیکن ، قربان جاوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر جن کی زبان مبارک اللہ کی وحی کے مطابق بات فرماتی تھی ہمیں بتا گئے کہ ((( ان اللہ لا ینزع العلم انتزاعا من الناس بل یقبض العلما فیرفع العلم معھم فیبقی فی الناس روؤسا جھالا یفتونم بغیر علم فیضلون و یضلون ::: بے اللہ لوگوں میں سے علم کو کھینچ کے نہیں اٹھا لے گا بلکہ علما کو موت دے گا اور علم ان کے ساتھ اٹھا لے گا تو لوگوں میں جاھل بڑے (عالم) بن جائیں گے اور بغیر علم کے لوگوں کو جوابات دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ))) صحیح مسلم ، کتاب العلم ،
آفریدی بھائی آج ہم یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں ، اللہ ہمارے حال ہر اپنی خاص رحمت کرے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
چیتا چالباز (28-01-09), میاں شاہد (25-08-08), مون لائیٹ آفریدی (25-08-08), محمد عاصم (03-05-10), رضی (06-04-09), ضِرار Derar (21-04-10), عبداللہ حیدر (21-04-10)
پرانا 25-08-08, 08:41 AM   #9
Senior Member
 
مون لائیٹ آفریدی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 326
کمائي: 3,028
شکریہ: 783
145 مراسلہ میں 300 بارشکریہ ادا کیا گیا
مون لائیٹ آفریدی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں مون لائیٹ آفریدی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شریعت کے احکام جاننے کی کسوٹیاں

اقتباس:
، شاید وہ کوئی """ جدت پسند """ ہوں گے جو کچھ ترجمے پڑھ سن کر دینی معاملات میں """ رائے """ تو کیا فیصلے صادر فرمانے لگتے ہیں ،
بعد میں معلوم کیا تو پکا قادیانی نکلا ۔ ہمارے ساتھ وہ تقریباّ 20 دن رہا ، ان دنوں میں اس نے کوئی نماز نہیں پڑھی۔

Last edited by مون لائیٹ آفریدی; 25-08-08 at 10:34 AM.
مون لائیٹ آفریدی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مون لائیٹ آفریدی کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (30-08-08), پیاسا (25-08-08), میاں شاہد (25-08-08), رضی (06-04-09), عادل سہیل (25-08-08)
پرانا 30-08-08, 07:41 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شریعت کے احکام جاننے کی

قادیانیت ایک غیر منظقی مذہب ہے ۔ اس اتوار کو ہم لوگوں نے اپنے ریڈیو پرگرام پر جو کہ 1050 اے ایم ہیوسٹں سے نشر ہوتا ہے، قادیانیوں کو بلایا ہے کہ وہ اپنے عقائد کا دفاع قرآن سے کریں۔ یہ ثابت کریں‌کہ مہدی کا وعدہ قرآن میں تھا۔ حضرت عیسی کا وعدہ قرآن میں تھا اور رسول اللہ کے بعد مزید اور نبیوں کے آنے کا وعدہ اللہ نے کیا تھا۔ اور ایک سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان اللہ نے کیا بتائی ہے۔ یہ سوالات ہوں گے ہمارے۔

ایک تو دعا کیجئے کہ ہم ان کے دعووں کا شافی جواب دے سکیں اور دوسرے آپ اگر کوئی اچھا سوال عطا کرسکیں تو عنایت ہوگی
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-08-08, 07:53 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شریعت کے احکام جاننے کی

موضوع کی مناسبت سے کہ کیا دوسرے مذاہب جنت میں جائیں گے ؟ بحیثیت ایک مسلمان کہ جو بین القوامی امن و سلامتی اور عدل و انصاف کا داعی ہے ، دیگر مذاہب کے بارے میں مسلمان کی سوچ کے ارتقاء اور مناسب رویے کے لئے ضروری ہے کہ ہم جہاں ان عقائد کی نسبت قرآن و اسلام کو بہتر جانتے ہیں وہاں یہ بھی جانیں کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی انسان ہیں اور اللہ تعالی ہم کو ان سے ہمدردی اور انسانیت کی بنیاد پر حق و انصاف اور امن و آشتی کی کی بنیاد پر تعلقات رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔ لہذا درج ‌ذیل آیات پر بھی غور فرمائیے۔

22:17 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور نصارٰی (عیسائی) اور آتش پرست اور جو مشرک ہوئے، یقیناً اﷲ قیامت کے دن ان (سب) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اﷲ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے
2:62 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَالَّذِينَ هَادُواْ وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے
22:40 الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
(یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)، اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے، اور جو شخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے)

49:11 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ لوگ اُن (تمسخر کرنے والوں) سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے وہی عورتیں اُن (مذاق اڑانے والی عورتوں) سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کے برے نام رکھا کرو، کسی کے ایمان (لانے) کے بعد اسے فاسق و بدکردار کہنا بہت ہی برا نام ہے، اور جس نے توبہ نہیں کی سو وہی لوگ ظالم ہیں

5:8 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ لِلّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُواْ اللّهَ إِنَّ اللّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 30-08-08 at 08:02 PM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (06-04-09)
پرانا 21-04-10, 09:16 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عادل صاحب
آپ کی بات تو دل لگتی ہے
پر اس میں سے کچھ باتون کی سمجھ نہیں آئی
لگتا ہے آپ بھی غیر مقلد ہونے کی دعوت دیتے ہو
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-05-10, 07:02 PM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
موضوع کی مناسبت سے کہ کیا دوسرے مذاہب جنت میں جائیں گے ؟ بحیثیت ایک مسلمان کہ جو بین القوامی امن و سلامتی اور عدل و انصاف کا داعی ہے ، دیگر مذاہب کے بارے میں مسلمان کی سوچ کے ارتقاء اور مناسب رویے کے لئے ضروری ہے کہ ہم جہاں ان عقائد کی نسبت قرآن و اسلام کو بہتر جانتے ہیں وہاں یہ بھی جانیں کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی انسان ہیں اور اللہ تعالی ہم کو ان سے ہمدردی اور انسانیت کی بنیاد پر حق و انصاف اور امن و آشتی کی کی بنیاد پر تعلقات رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔ لہذا درج ‌ذیل آیات پر بھی غور فرمائیے۔

[22:17] إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور ستارہ پرست اور نصارٰی (عیسائی) اور آتش پرست اور جو مشرک ہوئے، یقیناً اﷲ قیامت کے دن ان (سب) کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ بیشک اﷲ ہر چیز کا مشاہدہ فرما رہا ہے
بھائی آپ کی پیش کی ہوئی آیات پر ۱یک ۱یک کر کے بات کرونگا وقت کم ہوتا ہے اس لیے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ګ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ 62۝

ہم مسلمان ہوں، یہودی ہوں نصاری ہوں یا صابیہوں جو کوئی بھی اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔ سورۃ البقرہ آیت نمبر ۶۲
تفسیر مکہ
بعض مفسرین کو اس آیت کے مفہوم سمجھنے میں غلطی لگی یعنی رسالت محمدیہ پر لانا ضروری نہیں ہے، بلکہ جو بھی جس دین کو مانتا ہے اور اس کے مطابق ایمان رکھتا ہے اور اچھے عمل کرتا ہے اس کی نجات ہو جائے گی۔ یہ فلسفہ سخت گناہ ہے آیت کی صحیح تفسیر یہ ہے۔ جب اللہ تعالٰی نے سابقہ آیات میں یہود کی بدعملیوں اور سرکشیوں اور اس کی بنا پر ان کے مستحق عذاب ہونے کا تذکرہ فرمایا تو ذہن میں اشکال پیدا ہو سکتا تھا کہ ان یہود میں جو لوگ صحیح کتاب الٰہی کے پیروکار اور اپنے پیغمبر کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے والے تھے ان کے ساتھ اللہ تعالٰی نے کیا معاملہ فرمایا یا کیا معاملہ فرمائے گا؟ اللہ تعالٰی نے اس کی وضاحت فرما دی صرف یہودی نہیں نصاری اور صابی بھی اپنے اپنے وقت میں جنہوں نے اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھا اور عمل صالح کرتے رہے وہ سب نجات آخروی سے ہمکنار ہونگے اور اسی طرح رسالت محمدیہ علیہ السلام پر ایمان لانے والے مسلمان بھی اگر صحیح طریقے سے ایمان باللہ والیوم الآخر اور عمل صالح کا اہتمام کریں تو یہ بھی یقینا آخرت کی ابدی نعمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ نجات اخروی میں کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جائے گا وہاں بے لاگ فیصلہ ہوگا۔ چاہے مسلمان ہوں یا رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر جانے والے یہودی، عیسائی اور صابی وغیرہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری اس امت میں جو شخص بھی میری بات سن لے، وہ یہودی ہو یا عیسائی، پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا،ان آیات کو جہاں دیگر آیات قرآنی کو نظر انداز کر کے اس طرح کا نتیجہ نکالنا ہے، وہاں احادیث کے بغیر قرآن کو سمجھنے کی مذموم سعی کا بھی اس میں بہت عمل دخل ہے۔ اس لئے یہ کہنا بلکل صحیح ہے کہ احادیث صحیحہ کے بغیر قرآن کو نہیں سمجھا جا سکتا۔
باقی آیات پر بھی بات ہو گی ان شاءاللہ
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
عادل سہیل (10-05-10)
پرانا 10-05-10, 08:48 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ضِرار Derar مراسلہ دیکھیں
عادل صاحب
آپ کی بات تو دل لگتی ہے
پر اس میں سے کچھ باتون کی سمجھ نہیں آئی
لگتا ہے آپ بھی غیر مقلد ہونے کی دعوت دیتے ہو
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ضِرار بھائی ، آپ کی بات کا کوئی جواب دینے سے پہلے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ مُقلد اور غیر مُقلد کی کیا تعریف جانتے ہیں ؟؟؟
و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (11-05-10), ضِرار Derar (12-05-10)
پرانا 12-05-10, 09:18 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ضِرار بھائی ، آپ کی بات کا کوئی جواب دینے سے پہلے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ مُقلد اور غیر مُقلد کی کیا تعریف جانتے ہیں ؟؟؟
و السلام علیکم۔
السلام علیکم
عادل صاحب
مقلد کا مطلب ہے جو کسی امام کو مانے اور جس امام کو مانے بس اس کی ہی بات مانے
اور غیر مقلد وہ ہوتا ہے جو کسی امام کو نہیں مانتا بس اپنی ہی مانتا ہے
شکریہ
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرقہ واریت, کتابوں, گذارش, قران, لوگ, نظر, مکمل, محبت, آج, اللہ, بھائی, توحید, ترک, جواب, جلد, حکم, حدیث, حسن, حضرات, خبر, خصوصی, عقل, صحیح, صحابہ, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میری طبیعت بہت خراب ہے۔ فرحان دانش آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 17 09-01-11 12:58 PM
رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت Hina4malik کتاب گھر 1 30-12-10 04:26 PM
رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت ابن آدم شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات 13 01-12-10 05:14 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:21 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger