ضروریات ایمان (ان میں سے کسی ایک چیز کاانکار سب کا انکار ہے)
اٰمَنْتُ بِاﷲِوَمَلٰٓءِکَتِہ وَکُتُبِہ وَرُسُلِہ وَالْےَوْمِ الْاٰخِرِوَالْقَدْرِخَیْر ِہ وَشَرِّہ مِنَ اﷲِتَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَالْمَوْتِ ہ
میں ایمان لایا اﷲتعالٰی پر اور اُسکے فرشتوں پر اوراسکی کتابوں پراور اسکے رسول پر آخرت کے دن پراور اچھی بُری تقدیر کہ وہ اﷲ کی طرف سے ہے
باﷲ اﷲتعالیٰ کے واجب الوجود ہونے،معبودہونے اور تمام عیوب سے منزہ و مبرا ہونے اور قادر مُطلق ہونے پر ایمان لانا
ملاءکتہ اسکے فرشتوں پرایمان ۔فرشتے اﷲ تعالیٰ کی نوری مخلوق ہیں ،جو اﷲتعالیٰ کی تسبیح وتہلیل کرتے ہیں ،اﷲ تعالیٰ کے امور کی انجام دہی کرتے ہیں اورفرشتے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے
لایعصون اﷲ ماامرھم یفعلون مایؤمرون (وہ اﷲتعالٰی کی نافرمانی نہیں کرتے،وہی کرتے ہیں جس کا اﷲ تعالیٰ انہیں حکم دیتاہے) اسلئے یہ کہنا کہ ھاروت وماروت کو بابل میں عذاب ہورہا ہے،سراسرغلط اور من گھڑت ہے کیونکہ عذاب تو نافرمانی پر ہوتا ہے
کتبہ اسکی کتابوں پر ایمان۔اﷲتعالٰی نے تمام رسُولوں کو علیحدہ علیحدہ شریعتیں عطا کیں تو ظاہر ہے اُن کے احکام بھی مختلف ہی ہیں،تو اﷲ تعالٰی نے شریعتیںصحائف کی صورت میں نازل فرمائیں لیکن اﷲ تعالٰی نے مکمل کتابیں صرف چار نازل فرمائیں،زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر،تورات حضرت موسٰی علیہ السلام پر،انجیل حضرت عیسٰی علیہ السلام پراور قرآن حضرت محمد مُصطفٰے صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہ وسلم پر ،صحائف چونکہ لا تعداد ہیں اس لئے اُن پر ایمان بھی کتابوں کے تحت ہی داخل ہے
ورسلہ رسول اﷲ تعالٰی کے وہ برگزیدہ بندے ہیں جن کو اﷲتعالٰی نے انسانوں کی رہنمائی کیلئے معبوث فرمایا،جہاں ایمان لانے کے حوالے سے رسول یا نبی کا ذکر آئے گا تو وہاں نبی اوررسول میں فرق نہیں ہوگا جبکہ نبی اور رسول میں اصطلاحی فرق ہے،رسول صاحبِ شریعت ہوتا ہے جبکہ نبی صاحبِ شریعت نہیں ہوتا ،رسولوں کی تعداد 313 ہے انبیاء کی تعدادِ معینہ پرایمان لاناکُفر کا باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ انبیاء کم یا زیادہ ہوں،اگر معین کر لیا تو کسی تکفیر کا باعث ہو سکتا ہے
ولیومِ آلاخر آخرت کے دن پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بندہ پابند ہوجاتا ہے کہ وہ جو کچھ کرے گا اسکا حساب دینا ہوگا،جو رائی کے دانے کے برابر نیکی کرے گا اسکو اسکا اجر ملے گا،جو رائی کے دانے برابرگناہ کرے گا اسکو اسکی سزا ملے گی۔ ( ذلذال ۔القرآن) آخرت پر ایمان دین مُصطفٰے صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلم میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے
ولقدرخیرہ وشرہ من اﷲتعالٰی تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اﷲ تعالٰی کی تقدیر کے تابع ہے،اسکی حکمتیں وہی جانتا ہے کہ ایک بندہ اچھے حالات میں زندگی گزار رہا ہے اور دوسرااعمال کے اعتبار سے بہتر ہے لیکن وہ مصائب کا شکار ہے ،اس کو شیخ سعدی نے کریما سعدی میں درصنعت باری تعالٰی کے تحت بڑے خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے
والبعث بعد الموت مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پرایمان، یہ وہ عقیدہ ہے جس نے دین اسلام کو تمام ادیان سے ممتاز کر دیا ہے ،کفارِمکہ حضور علیہ الصلٰوۃ السلام کے پاس آتے تھے ،بوسیدہ ہڈیاں لاتے تھے اور کہتے تھے بتائو کیا یہ دوبارہ زندہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ اﷲتعالیٰ نے قرآن عزیز میں بے پناہ دلائل بیان فرمائے ہیں کہ دوبارہ زندگی دینے والی ذات اﷲتعالٰی کی ہے،جس انسان کواﷲتعالٰی نے پانی کی بوند سے اولاًپیدا فرمایا تو کیا وہ دوبارہ پیدا فرمانے پر قادر نہیں؟
نوٹ یہ ضروریاتِ ایمان جو بیان کی گئی ہیں ان پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے تقاضے بھی پورے کئے جائیں یعنی اﷲ تعالٰی کی ذاتِ مقدسہ کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے،اگر کوئی یہ دعوٰی کرے کہ میں اﷲ تعالٰی کو مانتا ہوں اور ساتھ ساتھ معاذاﷲ اﷲتعالٰی کے جھوٹ بولنے کو بھی مانے تو یقینا اس نے اﷲتعالٰی پر ایمان لانے کا تقاضا پورا نہیں کیا،اسی طرح جو رسول ا ﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم پر ایمان لانے کا دعوٰی کرے اور اس کے ساتھ آدابِ رسالت کالحاظ نہ کرے مثلاً حضور علیہ السلام کو معاذاﷲ ڈاکیا سمجھے یا یہ عقیدہ رکھے کہ حضور علیہ السلام کو اپنے انجام کی خبر نہیں یا اس طرح کی دیگر بے ادبیاں کرے یاد رکھیں بے ادبی انکار کی نشانی ہے،قرآن تو حضور علیہ السلام کی تعظیم کو لازمی قرار دیتا ہے ،
لتومنواباﷲورسولہ وتعزرہ وتوقرہْ
اسی طرح فرشتوں کتابوں آخرت تقدیر دوبارہ زندگی کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے،آخرت پر ایمان کا تقاضا ہے کہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے،ان تقاضوں کو پورا کرنے والا ہی کامل مومن ہے