واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-07-10, 05:23 PM   #1
عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے
ناصر نعمان ناصر نعمان آن لائن ہے 16-07-10, 05:23 PM


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد اللہ رب العالمین والصلوة والسلام علی خاتم النبین صلیٰ اللہ علیہ وسلم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ !

اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب ،انبا ءالغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطاءنہیں،اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی ہیں ۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں ،نہ تو کلی علم غیب پر مطلع ہیں ۔

قرآن اور حدیث میں متعدد مقامات پر یہ مسئلہ صراحت سے واضح ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو کلی علم غیب نہ تھا ۔
اور ساتھ ہی اس کی تائید میں حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین،حضرات تابعین کرام ،تبع تابعین کرام ،محدثین کرام ،مفسرین کرام ،فقہائے کرام کے واضح اور صاف صاف اقوال بھی موجود ہیں ۔
لیکن ان تما م ٹھوس حقائق کے باوجود ایک مخصوص طبقہ کا دعویٰ ہے کہ ”جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کوابتدائے آفرنیش سے الی یوم القیامةاور پھر دخول جنت اور جہنم تک کے کلی علم غیب(یعنی شروع سے لے کر آخر تک ذرے ذرے کا علم) عطا ءکیا گیا“
باالفاظ دیگر ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے جب سے اس کائنات کو پیدا فرمایا اورزمین اور آسمان بنایا اس وقت سے لے کر۔۔۔۔۔ کائنات کے اختتام تک ۔۔۔۔ یعنی جب قیامت آجائے گی اور زمین اور آسمان ختم ہوجائیں گے ۔۔۔۔ اس وقت تک زمین اور آسمان میں جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ ہونے والاہے۔۔۔۔ اور جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے۔۔۔۔چاہے وہ زمین میں انٹارکٹیکا کا انتہائی برفانی علاقہ ہو(اور انتہائی برفانی علاقے میں موجود کوئی معمولی سا برف کا ذرہ ہویا کوئی مخلوق ہو)۔۔۔۔یا افریقہ کے انتہائی گھنے جنگلات ہوں (اور ان گھنے جنگلات کے کسی بھی کونے میں باریک سے باریک کوئی کیڑا ہو)۔۔۔ ۔۔یا عرب کے وسیع و عریض صحرا ہوں(اور ان صحرا کے کسی کونے میں پڑا معمولی سا ریت کا ذرہ ہویا کوئی مخلوق ہو)۔۔۔۔۔۔ یا دنیا کے ہزاروںمیل پھیلے ہوئے طویل سمندر ہوں(اور ان وسیع اور عریض سمندر کے بیچ پانی کا معمولی سا قطرہ ہو یا بیچ سمندر کوئی بھی مخلوق ہو)۔۔۔۔۔۔یا سمندر کی انتہائی گہرائیاں ہوں(اور ان انتہائی گہرائیوں میں کوئی چھوٹی سی چھوٹی مخلوق ہو)۔۔۔۔۔یا زمین کی انتہائی گہرائیاں ہوں(اور ان گہرائیوں میں موجود ایسی باریک مخلوق ہو جن کو انسانی آنکھ بھی نہ دیکھ سکے )۔۔۔۔۔یا آسمانوں کی ہزاروں سال کی مسافت دور آسمانوں میں جتنی بھی مخلوقات ہیں حتی کہ ذرہ برابر کی بھی کوئی بھی مخلوق ہو۔۔۔۔ان تمام ذرے ذروں کا علم عطاءکیا گیا؟؟؟

ہوسکتا ہے ہماری یہ بات اس مخصوص طبقہ کے بہت سے پیرو کاروں کے لئے بھی حیرت انگیز انکشاف لگے .... لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس مخصوص طبقہ کے اکابرین اپنے دلائل سے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں... جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی

البتہ جو حضرات اس موقف سے بے برات اور لاتعلقی کااظہار کریں ....ہمارا اُن سے کوئی نزاع نہیں .
جبکہ وہ حضرات جواس موقف کے حق میں ہیں .... اور اس کا دفاع کرنا چاہیں گے اُن کی خدمت میں ہم اپنی بات شروع کرنے سے قبل چند مختصر گذارشات کرنا چاہیں گے
جیسا کہ آپ حضرات کے علم میں ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا وہ چاہے بت پرست ہو ۔۔۔یایہود ہو۔۔۔ یا نصاریٰ ہو ۔۔۔۔یا قادیانی ہو ۔۔۔۔منکر حدیث ہو ۔ ۔۔۔۔۔ دنیا کا ہر مذہب والا اپنے آپ کو سیدھی راہ پر ہی سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔اور باقی سب کو گمراہ سمجھتا ہے ۔۔۔۔اور دنیا کا ہر مذہب والے کا پاس اپنے مذہب کو سچا ثابت کر نے کے لئے بے شمار دلائل اور جوازبھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ جن سے ایک طرف وہ اپنے پیرو کاروں کو مطمئن کرتے ہیں ۔۔۔۔ تو دوسری طرف اپنے مخالفین کی طرف سے پیش کئے گئے اعتراضات اور دلائل کے جوابات دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔لیکن کیوں کہ جھوٹ مٹنے کے لئے ہی ہے اس لئے جب حق سامنے آتا ہے تو آخر کار ایک موقعہ ایسا بھی آتا ہے کہ جہاں دنیا کے ہر باطل مذہب والے کو لاجواب ہونا پڑتا ہی ہے ۔۔۔۔ جس کے بعددنیا کے ہر باطل مذہب والے کو اپنے اپنے نام نہاد عقائد کے تحفظ اور بقاءکے لئے بالآخر ”ضد اور ہٹ دھرمی“ کا سہارا لینا ہی پڑتا ہے ۔۔۔۔جس کا یقینا کوئی علاج اور جواب نہیں ہوتا ۔۔۔۔اور ایسے مواقعہ پر۔۔۔۔اورضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آنے والوں کے لئے ہزاروں دلائل بھی ناکافی ہوتے ہیں ۔

اس چھوٹی سی تمہید باندھنے کا مقصد صرف چند باتوں کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ایک تویہ کہ محض کسی کا صراط مستقیم پر ہونے کے دعوے کرنا حق پر ہونے کی دلیل نہیں ۔۔۔۔دوسری بات یہ کہ اپنے مخالفین کے اعتراضات اور دلائل کے محض زبانی کلامی جوابات دے دینا بھی حق پر ہونے کی دلیل نہیں ۔۔۔۔۔بلکہ غیر جانبدارہو کر فریقین کے دلائل میں سے وزنی اور ٹھوس دلائل کا تعین کر کے ہی حق اور باطل کی پہچان کی جاسکتی ہے ۔۔۔۔ساتھ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرنا چاہیے ۔۔۔۔کیوں کہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔

آئیے ہم اپنے موضوع کی طرف چلتے ہیں
فریق مخالف بھی بظاہر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ”عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے “
لیکن دوسری طرف یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ابتدائے آفرینش سے لے کر الی یوم القیامتہ اور اس کے بعد دخول جنت اور نار تک کے ذرے ذرے کا علم غیب جانتے ہیں“

یعنی فریق مخالف نے ایک طرف یہ عقیدہ بیان کیا کہ ”غیب کا جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے “دوسری طرف ”نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھی غیب کا جاننے والا مانا“
اور اس عقیدے کے مخالفین کے اعتراضات اور اپنے پیرو کاروں کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات اور شک و شبہات کو دور کرنے کے لئے کیا کیا جتن کرتے ہیں اس کی مختصر تفصیل حاضر ہے ۔

(1) غیب کا جاننا ثابت کرنے کے لئے قرآن پاک سے غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ پیش فرمائیں اور موقف پیش کیا کہ غیب عطا ءکیا گیا۔

(2)غیب جاننے کی نفی کی آیات مبارکہ اور احادیث پاک کے جواب میں یہ دلیل پیش کی کہ مراد ذاتی غیب کی نفی ہے نہ کہ عطائی غیب کی نفی ہے ۔

پھر جب فریق مخالف کا یہ موقف سامنے آیا کہ” نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ابتدائے آفرینش سے الی یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کا کلی علم غیب جانتے ہیں“تو اس موقعہ پر بے شمار سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ۔سب سے پہلا سوال تو یہ تھا کہ قرآن پاک سے کیا دلیل ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کا کلی علم غیب جانتے ہیں؟

(3)فریق مخالف نے ایک طرف یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ قرآن پاک میں ہر ہر ذرے ذرے کا مفصل بیان موجود ہے اور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کوتدریجاً علم غیب عطا ءفرمایا گیا اور جس وقت قرآن کی آخری آیت نازل ہوئی آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا علم مکمل ہوگیا تھا( اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کا کلی علم غیب جانتے ہیں )

اس کے ساتھ ہی فریق مخالف کے سامنے یہ مسئلہ بھی آیا کہ قرآن پاک میں جن مواقع پر” ہر چیز کا روشن بیان “یا” ذرہ ذرہ چیزکا روشن بےان “یا”سب کچھ بیان فرمادیا“یا”ہرخشک اور تر کابیان“ کے ارشادات میں لوح محفوظ کا بھی بیان ہے۔

(4)تو فریق مخالف نے موقف پیش کیا کہ جو کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہے وہ سب کچھ قرآن پاک میں موجودہے۔(تاکہ فریق مخالف اپنے موقف کا دفاع کرسکے کہ قرآن پاک میں ہر ہر ذرے کا روشن اور مفصل بیان ہے اور قرآن پاک میں ذرے ذرے کی تفصیل موجود ہے)

(5)کہیں حدیث پاک سے استدلال کی کوشش کی گئی کہ ”ایک ہی خطبہ میں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے آفرینش سے لے کر الی یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کا بیان فرمایا“ (اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کاکلی علم غیب جانتے ہیں )

(6) کہیں حدیث پاک ”فتجلیٰ لی کل شئی وعرفت “ سے استدلال کیا گیا کہ زمین اور آسمان کی ہر چیز روشن ہوگئی (اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کاکلی علم غیب جانتے ہیں )

(7) کہیں حدیث پاک ”سلونی عما شئتم “سے استدلال کی گیا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہوا ” جو چاہو پوچھ لو“(اس دلیل سے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ذرے ذرے کاکلی علم غیب جانتے ہیں )

اس موضوع پر اگر کوئی دلیل نہ بھی پیش کی جائے اور صرف فریق مخالف کے دلائل کے یہ مختلف مختلف ٹکڑے پیش کئے جائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح ”کلی علم غیب جاننے“ کے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے کتنے جتن کئے ہیں ؟تودوستوں ”حق “اور ”باطل “میں تمیز کرنے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ زمینوں اور آسمانوں کے ذرے ذرے کا کلی غیب ثابت کرنے کے لئے مختلف مختلف باتوں کو جوڑ جوڑ کر اپنا موقف درست نہیں ثابت کیا جاتا

بلکہ ملاحظہ فرمائیں کہ زمینوں اور آسمانوں کا کلی غیب جاننے کا بیان قرآن پاک میں کتنے مختصر الفاظ ،سادہ ،جامع اور وضاحت والا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(لَهُ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِ وَأَسْمِعْ الخ الکھف 26 پارہ 15
(ترجمہ:اسی کو معلوم ہیں سب غیب(چھپی باتیں) آسمانوں کی اور زمین کی ،کیا خوب ہے وہ دیکھنے والااور سننے ولا)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علامہ جلال الدین محلی(المتوفی 864ھ)اور علامہ ابو السعود محمد بن محمد العمادی(المتوفی 982ھ)اورعلامہ نسفی اور علامہ خازن لکھتے ہیں:
”یعنی اللہ تعالیٰ پر آسمان و زمین کے باشندوں کے حالات سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے ،اور بس وہ تنہا ان کو جاننے ولا ہے“
(تفسیرجلالین ص 184)(ابو السعود ج 6 ص 5(تفسیر مدارک ج 3 ص 9)(تفسیرخازن ج 6 ص 169)

اور جب فریق مخالف کے سامنے سب سے اہم سوال سامنے آیا(جس سے فریق مخالف کے پیروکاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ کہیں ہم غلطی پر تو نہیں ؟) کہ فریق مخالف اور اس کے پیروکار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین اور آسمانوں کے ذرے ذرے غیب صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے اور فریق مخالف نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ذرے ذرے غیب کا علم ثابت کرتا ہے ۔تو یہ علم الٰہی کی برابری ہے؟

ملاحظہ فرمائیں کہ فریق مخالف نے کس طرح اپنے پیروکاروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ؟

(فریق مخالف نے دلیل پیش کی کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے علم کو علم الہٰی سے کوئی نسبت نہیں۔کلی علم غیب کا مطلب یہ نہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کا علم ہے وہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو سب حاصل ہے ۔بلکہ مخلوقات اور لوح محفوظ کے کل علوم حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہیں ،اور اللہ تعالیٰ کاعلم لوح محفوظ پر منحصر نہیں ہے بلکہ کروڑوں الوح بھی اللہ تعالیٰ کے علوم غیر متناہیہ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔“

یعنی ایک طرف نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب بھی ثابت کیا گیا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف کا دفاع بھی کرنے کی کوشش کی گئی کہ فریق مخالف اللہ تعالیٰ کے کل علوم نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے ثابت نہیں کرتے اس لئے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے ذرے ذرے کاکلی علم غیب ثابت کرنے سے برابری نہیں ۔

(9)اوراسی طرح فریق مخالف نے اللہ تعالیٰ کے علوم لامتناہیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے پیروکاروں کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ ہم بھی صرف اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب مانتے ہےں“

(10)اور فریق مخالف نے اپنے پیروکاروں کے ذہنوں سے ہر طرح کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے اور اپنے پیروکاروں کو اپنے پیش کئے ہوئے موقف پربالکل مطمئن کرکے اوراپنے دلائل پرمخالفین کی وضاحتوں پر کسی بھی قسم کے غور و فکریا سوچنے سمجھنے سے دور رکھنے کے لئے سب سے زبردست مغالطہ یہ پیش کیا کہ ”یہ امت شرک نہیں کرسکتی“(یعنی اب تم لوگ ہمارے پیش کئے گئے تمام( اختلافی) عقیدوں پر آنکھیں بند کر کے ایمان لا سکتے ہو)

یہ ایسا حربہ ہے کہ جس سے فریق مخالف کے پیروکار آنکھیں بند کر کے اپنے علماءکی طرف سے پیش کیا ہوا ہر عقیدہ من و عن قبول کرلیتے ہیں ۔
اور کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے کہ عمل کرنا یہ نہ کرنا ہمارا اپنا اختیار ہے چلو کبھی دیگر علماءکرام کا موقف بھی سن لیا جائے ۔
اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ کبھی کبھی کسی واقعہ کا %99.999 ہوجانے کے یقین کے باوجود اس یقین کے بر خلاف واقعہ رونما ہوجاتا ہے یا ہو سکتا ہے۔

میرے بھائیوں دوستوں اور بزرگوں عمل کرنا یا نہ کرنا یہ سب کا اپنا اپنا اختیار ہے ۔کوئی کسی کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتا ۔لیکن اپنے مخالفین کی بات ضرور سن لینی چاہیے ۔ہوسکتا ہے کہ کوئی اچھی بات آپ کے علم میں آجائے۔یا ہوسکتا ہے کہ مخالف کی بات سن کر آپ مخالف کی کوئی غلط فہمی دور فرمادیں۔

ہم اپنی بات شروع کرنے سے پہلے جو ہمارے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ان تمام حضرات سے ایک درخواست کرنا چاہیں گے کہ ہماری وضاحتوں میں ہماری غلطیوں کی نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کر لیں ۔لیکن اگر ہماری وضاحتوں میں سچائی مل جائے اور آپ کا ضمیر گواہی دے کہ ہماری پیش کی ہوئی وضاحتیں درست ہیں تو ”حق “قبول کرنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہ کیجیے گا۔ یاد رکھیے کہ کامیابی اپنے موقف کی جیت میں نہیں بلکہ کامیابی تو اللہ تعالیٰ اور نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے احکامات میں ہے۔ دعا فرمایے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطاءفرمائے ۔آمین

ان شاء اللہ اگلی پوسٹوں میں ہم ترتیب وار فریق مخالف کے دلائل کی مختصر وضاحتیں بھی پیش کرنے کی کوشش کریں گے

آپ تمام بھائیوں سے دعاوں کی خصوصی درخواست ہے

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین

Last edited by ناصر نعمان; 18-07-10 at 04:16 AM.. وجہ: font change

ناصر نعمان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 4830
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-12-10), asakpke (22-07-10), sahj (18-07-10), saimali (18-07-10), فیصل ناصر (16-07-10), فاروق سرورخان (02-08-10), پاکستانی (16-07-10), نورالدین (19-07-10), میاں شاہد (04-08-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (16-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (11-08-10), ارشد کمبوہ (06-03-11), بلال اویسی (16-07-10), حسن قادری (11-07-11), زہیر (16-09-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 16-07-10, 05:49 PM   #2
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,048
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاء اللہ پہلی پوسٹ اور وہ بھی علم غیب کے جیسے حساس موضوع پر۔ بھئی واہ سبحان اللہ اگلی پوسٹس کا انتظار رہے گا۔
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64
ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), ناصر نعمان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 16-07-10, 06:14 PM   #3
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلال بھائی پہلی پوسٹ کس موضوع پر ہونی چاہئے تھی ؟

ناصر نعمان بھائی آپکو پاک نیٹ پر خوش آمدید
ہوسکے تو تعارف والے سیکشن میں اپنے بارے میں کچھ لکھئے تاکہ ہم بھی آپ کے بارے میں کچھ جان سکیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (18-07-10), نورالدین (19-07-10), ناصر نعمان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ خراسانی (16-06-11)
پرانا 16-07-10, 06:42 PM   #4
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,048
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بلال بھائی پہلی پوسٹ کس موضوع پر ہونی چاہئے تھی ؟

ناصر نعمان بھائی آپکو پاک نیٹ پر خوش آمدید
ہوسکے تو تعارف والے سیکشن میں اپنے بارے میں کچھ لکھئے تاکہ ہم بھی آپ کے بارے میں کچھ جان سکیں
آپ نے مشورہ دے کر خود ہی بتادیا کہ پہلی پوسٹ کہاں کرنی چاہیئے یعنی تعارف والے تھریڈ میں،
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), میاں شاہد (04-08-10), مرزا عامر (16-07-10), اویسی (19-07-10)
پرانا 16-07-10, 07:04 PM   #5
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بلال بھائی
ہوسکتا یہ سب کچھ مزاقاً کہہ رہے ہوں
فورم کا کوئی ایسا rule نہیں ہے کے پہلی پوسٹ صرف تعارف پر مبنی ہوگی
یہ صرف ایک درخواست ہے جسے قبول کرنا یا ناکرنا ممبر کی مرضی ہے
دوسری عرض ہے کے ہر نئے آنے والے ممبر کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے ناکہ ایسے جملے سے تواضع کرنی چاہئے جو طنز یہ پیرائے پر مبنی ہو یا کوئی اس کو ایسا سمجھ لے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-12-10), sahj (18-07-10), کنعان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (16-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (16-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 16-07-10, 07:50 PM   #6
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,048
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بلال بھائی
ہوسکتا یہ سب کچھ مزاقاً کہہ رہے ہوں
فورم کا کوئی ایسا rule نہیں ہے کے پہلی پوسٹ صرف تعارف پر مبنی ہوگی
یہ صرف ایک درخواست ہے جسے قبول کرنا یا ناکرنا ممبر کی مرضی ہے
دوسری عرض ہے کے ہر نئے آنے والے ممبر کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے ناکہ ایسے جملے سے تواضع کرنی چاہئے جو طنز یہ پیرائے پر مبنی ہو یا کوئی اس کو ایسا سمجھ لے

جناب سیریس لینے کی ضرورت نہیں،ہم سب فیملی ارکان ہیں۔ ہم یہیں اپنے نئے فیملی ممبرکوخوش آمدید کہتےہیں۔
ویسے بھی جب دودوست ملتے ہیں سب سے پہلے تعارف کروایا جاتاہے۔ بہرحال کوئی بات نہیں، کام ہونا چاہیئے تعارف ہوتا رہے گا۔ پوسٹس کا انتظار رہے گا۔ شکریہ
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-07-10), مرزا عامر (16-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 05:27 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح اور صاف صاف فرمان کہ”غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا“ :
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ الخ النمل 65 پارہ 20
(ترجمہ :کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا ،اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیںکہ کب اٹھا کھڑے کئے جائیں گے )

علامہ بغوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
یہ آیت مشرکین کے بار ے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا۔(معالم التنزیل جلد 5 صفحہ 12
اور یہی شان نزول تفسیر جلالین صفحہ 321،مدارک جلد2 صفحہ 167،اور جامع البیان صفحہ 321 وغیرہ میں مذکور ہے۔

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حکم دےتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی ،غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں ۔ مزید لکھتے ہیں کہ یہاں استثناءمنقطع ہے ،یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی انسان ،جن ،فرشتہ غیب داں نہیں۔(تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 372)

علامہ خازن رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”مطلب آیت کا یہ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ ہی کو علم غیب ہے اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی اور ان کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کئے جائیں گے یعنی جو مخلوق کہ آسمانوں میں ہے اور وہ فرشتے ہیں اور جو زمین میں ہیں یعنی بنی آدم (اور جنات وغیرہ)ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے علم کے ساتھ متفرد ہے“(یعنی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) (تفسیر خازن جلد 5 صفحہ125)

قاضی ثنا ءاللہ الحنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”اے محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجیے کہ غیب بجز اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتے وہ جو آسمانوں میں ہیں یعنی فرشتے ،اور جو زمین میں ہیں یعنی جن اور انسان اور انہی انسانوں میں حضرات انبیا ءکرام علیہم الصلوةوالسلام بھی ہیں“(تفسیر مظہری جلد 7 صفحہ 126)

غیب پر مطلع ہونا ، انباءغیب اور غیب جاننے کا فرق

اس موضوع کا یہ نقطہ سب سے زیادہ اہم ہے ۔ کیوں کہ یہ نقطہ ہی سمجھنے کی غلط فہمی علم غیب پر اختلافات کی بنیاد ہے ۔اور فریق مخالف کے دلائل کی بنیادیں اسی نقطہ پر رکھی گئیں ہیں۔اس لئے آپ تمام دوستوں سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے ۔

اب یہاں ہم سب سے پہلے فریق مخالف کی طرف سے پیش کی ہوئی غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ پیش کرتے ہیں ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ الخ اٰٰل عمران 179 پارہ 4
(ترجمہ:اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرے تم کو غیب پر ،لیکن ہاں جس کو خود چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں ،اُن کو منتخب فرمالیتا ہے)

اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ﴿٢٦﴾ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ الخ جن 26،27 پارہ 29
(ترجمہ :۔ غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے،سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو ، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے)


اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔( ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ الخ یوسف 102 پارہ 13
(ترجمہ:یہ غیب کی خبریں ہیں جو وحی کر رہے ہیں ہم تمہاری طرف )


اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٰذَا الخ ھود 49 پارہ 12
(ترجمہ:یہ خبریں ہیں غیب کی جو ہم وحی کر رہے ہیں تمہاری طرف (اے نبی)نہیں جانتے تھے یہ باتیں تم اور نہ تمہاری قوم اس سے پہلے)
اوپر بیان کی گئیں غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ میں آپ نوٹ فرمائیں کہ ایک موقعہ پر بھی بیان نہیں کہ ”اللہ کے رسول غیب جانتے ہیں “ بلکہ ’مطلع کیا گیا“یا” غیب کی خبریں وحی کی گئیں“ کا بیان ہے۔
یہ بہت ہی خاص بات ہے ،آپ لوگ اپنے ذہن میں رکھیں ان شاءاللہ آگے مزید وضاحت آئے گی۔
اب یہاں نیچے والی آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں کہ غیب کی نفی میں واضح طور پر ”غیب جاننے کی نفی “ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ الخ النمل 65 پارہ 20
(ترجمہ :کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا)


اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔( قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ الخ الاعراف 188 پارہ 9
(ترجمہ: کہہ دو کہ میں نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لئے بھی نہ کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا ،مگر یہ کہ چاہے اللہ ،اور ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کر لیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کوئی نقصان)

ہم یہاں آیات مبارکہ کی تفاسیراس لئے پیش نہیں کر رہے ہیں کیو ں کہ ہمارا مقصد اس وقت صرف غیب کے اثبات اور غیب میں نفی میں آیات مبارکہ میں اس فرق کو واضح کر نا ہے کہ فریق مخالف کا موقف ہے کہ ”حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں“
اوردلیل میں جو آیات مبارکہ پیش فرماتے ہیں ان میں غیب پر مطلع ہونا یا انباءغیب کا بیان ہے۔

اب آجائیں فریق مخالف کے کچھ اعتراضات کی طرف۔

فریق مخالف کا کہنا ہے کہ ”مخالفین کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ،یا نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا ،یا فقہاءکرام فرماتے ہیں جو غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ مانے وہ کافر ہے۔

فریق مخالف کا کہنا ہے کہ یہ دلائل تو خود مخالفین کے خلاف ہیں کیوں کہ بعض غیب تو وہ بھی مانتے ہیں ،اور اختلاف تو ”جمیع کان وما یکون (یعنی جو ہوچکا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے) “پر ہے۔تو یہ حضرات فرماتے ہیں کہ پھر اس فتوی کی زد سے تو مخالفین بھی نہیں بچ سکتے کیوں کہ ایک بات کا بھی علم مانا تو ان کے دلائل کے خلاف ہوا۔

یہاں ان حضرات کا نقطہ یہ ہے کہ ”بعض غیب تو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں “ جیسا کہ ہم چندبزرگان دین کے اقوال پیش کررہے ہیں

قاضی بیضاوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”اللہ تعالیٰ اپنے غیب مخصوص پر جو اس کے علم کے ساتھ خاص ہے کسی کو مطلع نہیں کرتا ۔ہاں مگر اپنے بعض رسولوں کو اپنے بعض غیب پر مطلع کر دیتا ہے تاکہ یہ اس کے لئے معجزہ ہوجائے“ (بیضاوی جلد6 صفحہ 379)

علامہ نسفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”یعنی الا من ارتضیٰ من رسول سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی برگزیدہ رسول کو بعض غیب پر مطلع کر دیتا ہے تاکہ اس کا غیب کی خبر دینا معجزہ ہوجائے “(مدراک جلد 6 صفحہ 379)

حافظ ابن حجررحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”مگر جس رسول کو اللہ پسند کرے کیوں کہ یہ آیت بتانا چاہتی ہے کہ رسول بعض غیب پر مطلع ہوئے“ (فتح الباری جلد 8 صفحہ 395)

یہاں ہم فریق مخالف کی اس غلط فہمی کی دو حصوں میں وضاحت کریں گے ۔(ایک تو یہ بات یاد رکھیں یہاں بھی فریق مخالف سے اختلاف رکھنے والے یہ تسلیم نہیں کر تے کہ ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم بعض غیب جانتے ہیں“
بلکہ” بعض غیب پر مطلع ہوئے “تسلیم کرتے ہیں)

یہاں پہلے تو” بعض غیب “ کا مفہوم سمجھیں ۔ اور یہ بات سمجھیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے بعض غیب پر نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا“ سے کیا مراد ہے؟

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ )البقرة 3 پارہ 1
(ترجمہ:جو لوگ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں)

ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ (تفسیر طبری 1/335)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔(تفسیر طبری 1/235))حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایمان کہتے ہیں عمل کو۔(تفسیر طبری 1/235)
ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔(تفسیر طبری 1/235)

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ زبان سے،دل سے،عمل سے غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر ،اس کی کتابوں پر ،اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے،اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے ۔ مزید فرماتے ہیں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لےنے کو۔

آگے غیب کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ غیب کا لفظ جو یہاں ہے اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں ،اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہوسکتے ہیں
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ پر،فرشتوں پر،کتابوں پر رسولوں پر ،قیامت پر،جنت دوزخ پر،اللہ سے ملاقات پر،مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لانا ہے۔قتادہ ابن دعامہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔(تفسیر طبری1/236)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت دوزخ وغیرہ ،وہ امور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔
مزید لکھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔
ابو ذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔
عطاءابن ابو رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا غیب پر ایمان
لانے والا ہے ۔
اسماعیل بن ابو خالد رحمتہ اللہ علیہ اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔
زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تقدیر پر ایمان لانا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔اس لئے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے ،ان سب پر ایمان لاناواجب ہے۔

میرے بھائیوں دوستوں بزرگوں !
اللہ تعالیٰ کی کتابیں،اللہ کے رسول، فرشتے،مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اورقیامت ،روز آخرت ،میدان محشر،اللہ سے ملاقات ، حساب کتاب ،پل صراط ،جنت ،جہنم ،یہ سب غیب کی باتیں توہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔ الحمد للہ جن پر ہم ایمان لاتے ہیں۔

اس کے علاوہ متعدد احادیث پاک ہیں جن میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے غیب کی اطلاع دیں۔(ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث پاک پیش کر رہے ہیں)

” حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت چھینے کی کوشش کی اطلاع“(ترمذی ج 2 ص 212)
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر“(ترمذی ج 2 ص 221)
”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت مدینہ طیبہ کے سفر میں آندھی کا آنا اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑے منافق کی موت کی خبر دی“(مشکوة ج2 ص 536)
”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت جنت میں سب سے پہلے اہل بیت میں سے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات“(مشکوة ج 2 ص 563)
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (نفیع بن الحارث المتوفی 49ھ) فرماتے ہیں :
”جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفی 50ھ)کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا(بخاری ج 2 ص 1053)
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے:
”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام پیدا ہوں گے جو میری سیرت اور میری سنت پر نہیں چلیں گے دل ان کے شیطانوں کے سے ہوں گے مگر شکل صورت میں انسان ہوں گے“(مسلم ج 2 ص127)

اس طرح اللہ تعالیٰ کی کتابیں،اللہ کے رسول، فرشتے،مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کا قائم ہونا ،روز آخرت ، میدان محشر،اللہ سے ملاقات ، حساب کتاب ،پل صراط ،جنت ،جہنم
اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث پاک ہیں جن میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں کی اطلاع دیں،اور بہت سی غیب کی خبروں کی اطلاع دیں (یہاں وہ تما م احادیث پاک شامل ہوجاتیں ہیں جن میں غیب کی خبروں کابیان ہے اور فریق مخالف اپنے موقف میں بطور دلیل پیش فرماتے ہیں ،الحمد للہ ہمارا تمام احادیث پاک پر ایمان ہے)

ہم نے ایک طرف غیب کی تفصیلی وضاحت کی ہے ۔اور دوسری طرف ان بعض غیب کی مختصر وضاحت کی ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا اور جن پر الحمدللہ ہم ایمان لاتے ہیں۔

بزرگان دین ان غیب کی خبروں کو اخبار غیب یا انبا ءغیب فرماتے ہیں ۔

بے شک اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب ،انبا ءالغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں ،اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔

اب آجائیں اس نقطہ کے انتہائی اہم رخ کی طرف ۔
بہت زیادہ توجہ کی درخواست ہے۔

فریق مخالف حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب کے اثبات میں اوپر بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ ”حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں“
جبکہ ایک آیات مبارکہ میں بھی حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے غیب جاننے کا بیان موجود نہیں بلکہ مطلع کیا اور انباءغیب کا بیان ہے۔
اورفریق مخالف کو مغالطہ ہے کہ غیب کی خبروں پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل ہے۔

نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبروں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مطلع فرمایا۔
(فریق مخالف کی منطق سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی غیب کے جاننے والے ہوئے)
صحابہ کرام نے تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور تابعین کرام نے تبع تابعین کرام کو مطلع فرمایا
اور اسی طرح درجہ بدرجہ ائمہ کرام،بزرگان دین ،محدثین حضرات ایک دوسرے کو مطلع فرماتے رہے
اور اسی طرح آج لاکھوں کروڑوں مسلمان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے ۔
ان غیب کی خبروں میں سے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں(جو غیب میں داخل ہیں)اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں (جو غیب میں ہی داخل ہیں)

تو فریق مخالف کی منطق سے اگر غیب پر مطلع ہونا،غیب جاننے کی دلیل ہے تو اس لحاظ سے وہ سب لوگ غیب جاننے والے ہوئے جو لوگ احادیث پاک سے مطلع ہوئے کہ کل کیا کیا ہوا ؟اور آنے والے کل کیا کیا ہوگا؟

اور اسی طرح فقہائے کرام کے فتوی ”غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے“سمجھ میں آجائے گا۔
کہ غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ ر کھنا کفر ہے۔

جبکہ بزرگان دین اور دیگر علماءکرام کے اقوال کے مفہوم یہ نہیں ہیں کہ” نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں “

بلکہ بزرگان دین اور علماءکرام کے اقوال میں” بعض غیب پرمطلع ہوئے “وغیرہ کے ارشادات ہیں ۔اور غیب پر مطلع ہونا ۔غیب جاننے کی دلیل نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی وفیق عطاء فرمائے آمین

اگر کسی بھائی کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی غلطی نظرآئے تو ہمیں ضرور نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں . جزاک اللہ

باقی وضاحتیں ان شاء اللہ تعالیٰ اگلی پوسٹ میں

Last edited by ناصر نعمان; 18-07-10 at 04:43 AM.
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), فیصل ناصر (20-07-10), فاروق سرورخان (02-08-10), میاں شاہد (04-08-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (17-07-10), حسن قادری (11-07-11), عبداللہ آدم (17-07-10)
پرانا 17-07-10, 06:02 PM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاءاللہ بہت خوب اور کمال کی تحریر ہے۔ کاش کہ یہ سچا عقیدہ مسلمانوں کے دلوں میں اتر جائے- جزاک اللہ خیر
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-12-10), فیصل ناصر (20-07-10), ناصر نعمان (17-07-10), میاں شاہد (04-08-10), محمد عاصم (18-07-10), عبداللہ آدم (29-07-10)
پرانا 17-07-10, 06:53 PM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاء اللہ
جزاک اللہ
اللہ کرے زور قل اور زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-07-10), ناصر نعمان (17-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (17-07-10)
پرانا 18-07-10, 04:44 PM   #10
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,048
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاء اللہ ناصر نعمان صاحب آتے ہی چھا گئے ماشاءاللہ آپ اپنی تمام پوسٹس مکمل کرلیں، انشاء اللہ پھر گفتگو کا سلسلہ چلے گا ابھی بات نامکمل ہے۔ اطمنان سے مکمل کرلیں۔ شکریہ
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-07-10), ناصر نعمان (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), عبداللہ آدم (18-07-10)
پرانا 18-07-10, 05:01 PM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ سب بھائیوں کی محبت اور حوصلہ افزائی کو بہت بہت شکریہ
اور جناب بلال اویسی بھائی
ضرور بات چیت فرمائیے گا
لیکن آپ کو تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (18-07-10), عبداللہ آدم (18-07-10)
پرانا 18-07-10, 06:38 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ !

علم غیب کی دو قسمیں ذاتی اور عطائی

اب آجائیں فریق مخالف کے ایک اور اعتراض کی طرف۔

فرماتے ہیں کہ جیسے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے(ترجمہ:کہہ دے کہ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا)
اور جیسا کہ قرآن پاک میں اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ :۔ غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے،سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو ، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے)

فریق مخالف فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا ۔
تو دوسری آیت مبارکہ میں اللہ کے رسولوں کے لئے غیب کا اثبات ہے تو اس کو کس زمرے میں رکھیں گے ؟
اورفرماتے ہیں کہ یہاں تعارض پیدا ہوجائے گا کہ ایک موقعہ پر ارشاد ہے کہ”اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا “اور دوسری موقعہ پر غیب کا اثبات ہے؟؟؟

بھائیوں دوستوں بزرگوں !
جبکہ تضاد ان آیات مبارکہ کو سمجھنے میں تھا جس کو ہم نے اوپر قرآن پاک کے ارشادات سے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کے اثبات کے بیان میں ”مطلع ہونا“ یا”یہ انباءغیب (غیب کی خبریں) ہیں جو وحی کیں گئیں “کے ارشادات ہیں۔
جبکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے غیب کی نفی کے بیان میں ”اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا “کابیان ہے۔
اور جاننا اور مطلع ہونے میں کیا فرق ہے اور اس کی وضاحت بھی پیش کی ہے ۔

لیکن اگر بالفرض غیب کے اثبات کی آیات مبارکہ سے فریق مخالف کے موقف کو درست مان لیا جائے کہ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں“

تو تعارض تو اصل یہاں پیدا ہوتا ہے کہ
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ”زمین والوں اور آسمان والوں میں سے اللہ کے سوا کوئی بھی غیب کو نہیں جانتا
اور فریق مخالف کا دعوی ہے کہ ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں

اوراس واضح اور صاف تعارض کوفریق مخالف یہ کہہ کر دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ”جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کے جاننے کی نفی آئی ہے اس سے مراد”
ذاتی علم غیب ہے عطائی نہیں “

ملاحظہ اس دلیل کی حقیقت:

بھائیوں دوستوں بزرگوں !
بزرگان دین کی عبارتوں میں ”ذاتی “ اور ”عطائی“ کے الفاظ آئے ہیں۔
لیکن بزرگان دین کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم ”ذاتی“ طور پر اور بالاستقلال تو کل غیوب کو نہیں جانتے
مگر ”عطائی“اور غیر مسقل طور پر کل مغیبات کو جانتے ہیں ۔

اس بات کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آپ یہ بات سمجھیں کہ بزرگوںنے لفظ ”ذاتی“ کا استعمال کر کے کیا بات سمجھانے کی کوشش کی ہے ؟

ذاتی طور پر غیب جاننے سے مراد ہے کہ” از خودغیب جاننا“جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ۔

اور عطائی طور پر غیب جاننے سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ،جب تک ارض حجاز سے آگ نہ نکلے جس کی روشنی بصری کے مقام پر اونٹوں کی گردنیں نظرآنے لگیں“(بخاری ج 2ص1054)(مسلم ج 2 ص393)
یہ غیب کی خبر ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اس خبر سے مطلع فرمایا
( یا اس ”غیب کی خبر“ کا علم عطا ءفرمایا)
تو یہاں بزرگوں کے قول ’’عطائی‘‘ سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ”ذاتی “طور پر (یعنی از خود)یہ غیب کی خبر نہیں جانتے بلکہ” عطائی “طور پر یہ غیب کی خبر جانتے ہیں
اورغیب پر مطلع ہونے کے بعد یا غیب کی خبر عطا ءہونے کے بعدغیب کی خبر جاننا۔۔علم غیب جاننے کی دلیل نہیں ۔
ہم یہاں دوبارہ اپنی بات دہرا دیتے ہیں کہ ہم اور آپ اور بہت سے مسلمان بھائی احادیث پاک سے بہت سی غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے (جن میں بہت سے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں جو غیب کی خبریں ہیں )اور وہ تمام مسلمان جو غیب کی خبروں پر مطلع ہونے کے بعدان غیب کی خبروں کوجانتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم یا وہ تمام مسلمان (جو ان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے ہیں ) غیب جانتے ہیں ۔

اس طرح بزرگان دین کے اقوال میں ”عطائی طور پر غیب جاننے “سے مراد بطور ”بعض غیب کی خبروں پر مطلع ہونا یا بعض غیب کی خبروں کا علم عطا ءہونا“ ہے۔
اور جبکہ فریق مخالف کا موقف ہے کہ ”عطائی طور پر“غیب جاننے سے مراد بطور” ذرے ذرے کاکلی علم غیب جاننا“ ہے۔

اب یہاں یہ بات بھی سمجھتے چلیں کہ بزرگوں کے اقوال میں لفظ ”بعض“ سے کیا مراد ہے ؟
ابتدائے کائنات سے اب تک اور پھر قیامت تک۔۔۔۔ کھرب ہا کھرب ،کھرب ہا کھرب اور نہ جانے کتنے کھرب انسان،جانور ،چرند پرند، کیڑے مکوڑے،دریائی اور سمندری مخلوقات،زمین کے اندر کی مخلوقات،آسمانوں کی مخلوقات جو ابتدائے کائنات سے اب تک آچکے ہیں اور قیامت تک آئیں گے ان تمام جانداروں اور بے جان ذروں ذروں کی ہر ہرلمحہ کی حرکات سکنات،ذرے ذرے کی خبر غیب ہی ہے۔اور اس تمام تفصیل کو اگر اعداد میں لکھنا چاہیں تو یقینا کوئی لکھ بھی نہ سکے۔

ان تمام خبروں میں سے صرف اور صرف ایک کھرب خبریں لی جائیں اور دوسری طرف احادیث پاک میں گذشتہ اور آئندہ کی جتنی بھی خبریں ہیں اگربالفرض دس لاکھ خبریں بھی سمجھ لیں تو بھی یہ صرف ایک کھرب کا %0.001 حصہ ہے۔
جبکہ نہ جانے کتنے کھرب ہا کھرب خبریں غیب میں داخل ہیں۔
اس طرح آپ بزرگوں کے ا قوال میں لفظ”بعض“ کا مفہوم سمجھ سکتے ہیں۔

(آئیے واپس موضوع کی طرف چلتے ہیں)

اسی طرح قرآن پاک ، احادیث پاک اور بزرگان دین کے اقوال میں جہاں غیر اللہ کے غیب جاننے کی نفی کا بیان آجائے
فریق مخالف محض یہ کہہ کر تعارض دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مراد ”ذاتی طور پر“علم غیب جاننے کی نفی ہے۔

مثال کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے :
”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ جو کہے کہ حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کل کی بات جانتے تھے ،اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں“
مسلم شریف ،کتاب الایمان،باب معنی قول اللہ عزوجل (ولقد رآہ نزلتہ اخریٰ)ح:177 طول منہ(بخاری جلد 2 صفحہ 720)(مسلم جلد 1 صفحہ9(ابو عوانہ جلد 1 صفحہ 154)(بخاری جلد 2 صفحہ 109(ترمذی جلد 2 صفحہ 160)(مشکوة جلد 2 صفحہ 501)
یہاں فریق مخالف کا کہنا ہوگا کہ ”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ”علم غیب ذاتی کی نفی کی ہے عطائی کی نہیں“

فریق مخالف کے اس مغالطہ کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ”جن مواقعہ پر حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب جاننے کا”انکار“ آجائے وہاں لفظ ”ذاتی “ کا استعمال کرکے اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے۔
فریق مخالف کے اس مغا لطہ پر سے پردہ اٹھا نے کے لئے ہم آپ کے سامنے ایسی صحیح احادیث پاک پیش کر رہے ہیں جن میں غیب کا ”اثبات“ بھی ہے اور” نفی“ بھی ہے“

دیکھتے ہیں نیچے بیان کی گئی صحیح احادیث پاک کے جواب میں فریق مخالف کیا فرماتے ہیں؟؟؟

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئیں ہیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں ،اللہ ہی کے پاس ہیں علم قیامت کا اور بارش نازل کرنے کا اور مافی الرحام کا خبیر تک (جو سورہ لقمان کی آخری آیتیں ہیں)
(کنز العمال ج6 ص 106)(مسند احمد ج2 ص 85)(درمنشور ج5 ص 170)(ابن کثیر ج 3 ص 454)(امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں بسند صحیح خصائص الکبریٰ ج 2 ص195)(علامہ عزیزی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں قال الشیخ الحدیث صحیح(السراج المنیر ج 2 ص79)(علامہ آلوسی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں بسند صحیح (روح المعانی ج 12 ص 99)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (المتوفی32 ھ) فرماتے ہیں:
تمہارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب کے خزانے عطا کئے گئے ہیں مگر یہ پانچ امورعطا نہیں کئے گئے جو سورہ لقمان کی آخر میں ہیں“(مسند احمد ج 4 ص 43
نیز فرماتے ہیں کہ:
نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کا علم عطا ء کیا گیا ہے سوائے ان پانچ چیزوں کے (کہ ان کا علم کسی کوبھی عطاء نہیں ہوا)(فتح الباری ج 1 ص115 ۔اور ج 8 ص395۔جلد 13 ص 30(تفسیر ابن کثیر ج 3 ص454)وقال ہذا اسناد حسن و در منشور ج 5 ص 170)

حضرت ربعی بن خراش (المتوفی 100ھ)سے روایت ہے :
مجھ سے بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ علم میں سے کوئی ایسی چیز بھی باقی ہے جس کو آپ نہ جانتے ہوں ،حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت سی خیر کی تعلیم دی ہے اور بے شک علوم میں سے وہ بھی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا چناچہ پانچ باتیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں ،ان کا پورا علم بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کسی دوسرے کو نہیں “(مسند احمد )(وقال ابن کثیر ج 3 ص455)ہذا اسناد صحیح (در منشور ج 5 ص 170)

ہمارا فریق مخالف سے سوال ہے کہ:
کیا یہ احادیث پاک صحیح ہیں ؟
اگریہ احادیث پاک صحیح ہیں تو ان احادیث پاک میں بیان ہوا ہے کہ(مثال کے طور پر) عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ” حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سب چیز کی چابیاں دی گئیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں“(جو سورہ لقمان کی آخری آیات ہیں)

فریق مخالف فرمائیں گے کہ ”جن پانچ چیزوں کی چابیاں عطا ءنہیں کی گئیں“ کا بیان ہے اس سے مراد ”ذاتی “ ہے ”عطائی “ نہیں۔

پھر آپ جواب دیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھے سب چیز کی چابیاں دیں گئیں ہیں “

اس سے کیا مفہوم ثابت ہوتا ہے ؟

کیا جن چیزوں کی چابیاں عطا ءکئے جانے کا بیان آیا ہے وہ ”ذاتی“ کے لئے ہے ؟
(جبکہ ذاتی ہونے کا فریق مخالف بھی قائل نہیں)

تو پھر ”عطائی “ کے لئے ہے ۔
(جیسا کہ ان احادیث پاک کے الفاظ سے ہی واضح ہو رہا ہے ”عطا کی گئیں“)
تو پھر ان احادیث پاک میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جن پانچ چیزوں کی چابیوں کی نفی کی ہے وہ کیا ہیں؟

تمام بھائیوں،بزرگوں اور دوستوں سے درخواست ہے کہ جب آپ اس نقطہ پر غور فرمائیں گے تو ان شاءاللہ تعالیٰ بات آسانی سے سمجھ آجائے گی کہ قرآن
پاک اور احادیث پاک میں اللہ تعالیٰ کے سوا علم غیب جاننے کی جہاں جہاں واضح نفی ہے فریق مخالف اس” نفی“ کواپنے موقف کے” اثبات“ میں” ڈھالنے“ کے لئے لفظ ”ذاتی “ کا استعمال کرتے ہیں۔
تاکہ اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے۔
اور لوگوں کے ذہنوں میں سے پیدا ہونے والے سوالات کا آسان جواب دیا جاسکے۔

فریق مخالف کا محض”ذاتی اور عطائی “ کے الفاظ کو استعمال کر کے
واضح اور صاف تعارض
(یعنی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا
اورفریق مخالف کا دعوی ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں)دور نہیں ہوگا۔

یہاں ہم اپنی بات ایک دفعہ پھر دہراتے ہیں کہ بزرگان دین کے اقوال میں ”عطائی طور پر“ غیب جاننے سے مراد بطور ”غیب کی خبروں پر مطلع ہونا یا غیب کی خبروں کا علم عطا ءہونا“ ہے۔
اور جبکہ فریق مخالف کا موقف ”عطائی طور پر“غیب جاننے سے مراد بطور”غیب کی خبروں پر مطلع ہونا یا غیب کی خبروں کا علم عطاءہونا“ نہیں ہوتا
بلکہ
ابتدائے آفرینش سے الی یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کا کلی علم غیب جاننے کی عطاء“ ہونا ہوتا ہے۔

جبکہ بیشتر وہ بزرگان دین جو ذاتی اور عطائی کی قیود کو ملحوظ رکھتے ہیں وہ اپنی تصریحات میں صاف اور واضح طور پر لکھتے ہیں کہ” کلی علم غیب“ صرف خاصہ خداوندی ہے۔
لیکن فریق مخالف بزرگان دین کے ان واضح اور صاف صاف اقوال کو چھوڑ کر محض” ذاتی اور عطائی“ کے الفاظوں کو لے کر ”ذرے ذرے کاکلی علم غیب جاننا “ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاءفرمائے ۔آمین

اگر کسی بھائی کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کوتاہی نظر آئے تو ہمیں ضرور نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں۔جزاک اللہ

باقی وضاحتیں ان شاءاللہ اگلی پوسٹ میں

Last edited by ناصر نعمان; 18-07-10 at 08:54 PM. وجہ: font change
ناصر نعمان آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (23-12-10), sahj (30-10-10), saimali (18-07-10), فیصل ناصر (20-07-10), فاروق سرورخان (02-08-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (18-07-10)
پرانا 18-07-10, 07:13 PM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ناصر نعمان بھائی خوش آمدید

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ناصر نعمان مراسلہ دیکھیں
آپ سب بھائیوں کی محبت اور حوصلہ افزائی کو بہت بہت شکریہ
اسلام علیکم
ناصر نعمان بھائی آپ کو دل کی گہرائیوں سے پاک نیٹ پر خوش آمدید کہتا ہوں۔
میں نے سوچا ہی تھا کہ آپ کو یہاں کا لنک دوں اور آج آپ کی تحریر نظر سے گزری، بہت خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
saimali (18-07-10), ناصر نعمان (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), عبداللہ آدم (18-07-10), عبداللہ حیدر (18-07-10)
پرانا 18-07-10, 08:47 PM   #14
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فونٹ بدلنے کی درخواست

اسلام علیکم

بھائی ناصر نعمان

کیا آپ اس دھاگے کا فونٹ‌ بدل سکتے ہیں، معافی چاہتا ہوں‌ مگر تھوڑا سا پڑھنے کے بعد ہی آنکھیں‌ درد کرنے لگ گئیں، اور خیر سے اتنی لمبی پوسٹ ہے ۔۔۔۔

اگر آسانی سے ہو سکے تو ۔۔۔۔

جزاک اللہ خیر

Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 08:02 PM.
ziamurtaza آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا
sahj (30-10-10), نورالدین (19-07-10), ناصر نعمان (18-07-10), عبداللہ آدم (18-07-10)
پرانا 18-07-10, 09:22 PM   #15
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم

بھائی ناصر نعمان

کیا آپ علم غیب کی تعریف کر دیں‌‌ گے، لغت کے لحاظ‌ سے اور شریعی بھی، آپ کی باتیں‌سجھنے میں‌‌ آسانی ہو جائے گی،

جزاک اللہ

Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 08:02 PM.
ziamurtaza آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا
کنعان (18-07-10), ننھا بچہ (12-06-11), اویسی (19-07-10)
جواب

Tags
پہچان, پاک, لوگ, مکمل, معلوم, ایمان, اللہ, جھوٹ, جیت, حدیث, حضرات, خلاف, خصوصی, درخواست, دعا, سال, علی, علاج, عالم, صاف, صحیح, صحابہ, صحرا, صرف, صراط


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
غیر تعامل گیسیں inert gases یا nobel gaes طارق راحیل شعبہ طب 0 27-12-08 03:57 PM
افغانستان: ہرات میں غیر ملکی افواج کے قافلے پر خودکش حملہ، متعدد ہلاک ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:04 PM
علم غیب کیا ہے اور اس کی تعریف کیا کی جا سکتی ہے.؟ چاچا کمال مذہبی مسائل اور ان کا حل 22 19-08-08 01:21 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger