| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 4830
|
||||
| 18 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-12-10), asakpke (22-07-10), sahj (18-07-10), saimali (18-07-10), فیصل ناصر (16-07-10), فاروق سرورخان (02-08-10), پاکستانی (16-07-10), نورالدین (19-07-10), میاں شاہد (04-08-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (16-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), ابن آدم (11-08-10), ارشد کمبوہ (06-03-11), بلال اویسی (16-07-10), حسن قادری (11-07-11), زہیر (16-09-10), عبداللہ آدم (17-07-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
ماشاء اللہ پہلی پوسٹ اور وہ بھی علم غیب کے جیسے حساس موضوع پر۔ بھئی واہ سبحان اللہ اگلی پوسٹس کا انتظار رہے گا۔
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64 ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا | کنعان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), ناصر نعمان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلال بھائی پہلی پوسٹ کس موضوع پر ہونی چاہئے تھی ؟
![]() ناصر نعمان بھائی آپکو پاک نیٹ پر خوش آمدید ہوسکے تو تعارف والے سیکشن میں اپنے بارے میں کچھ لکھئے تاکہ ہم بھی آپ کے بارے میں کچھ جان سکیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | sahj (18-07-10), نورالدین (19-07-10), ناصر نعمان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10), عبداللہ خراسانی (16-06-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
آپ نے مشورہ دے کر خود ہی بتادیا کہ پہلی پوسٹ کہاں کرنی چاہیئے یعنی تعارف والے تھریڈ میں،
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بلال بھائی
ہوسکتا یہ سب کچھ مزاقاً کہہ رہے ہوں فورم کا کوئی ایسا rule نہیں ہے کے پہلی پوسٹ صرف تعارف پر مبنی ہوگی یہ صرف ایک درخواست ہے جسے قبول کرنا یا ناکرنا ممبر کی مرضی ہے دوسری عرض ہے کے ہر نئے آنے والے ممبر کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے ناکہ ایسے جملے سے تواضع کرنی چاہئے جو طنز یہ پیرائے پر مبنی ہو یا کوئی اس کو ایسا سمجھ لے |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-12-10), sahj (18-07-10), کنعان (18-07-10), نورالدین (19-07-10), مرزا عامر (16-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (16-07-10), عبداللہ آدم (17-07-10) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
جناب سیریس لینے کی ضرورت نہیں،ہم سب فیملی ارکان ہیں۔ ہم یہیں اپنے نئے فیملی ممبرکوخوش آمدید کہتےہیں۔ ویسے بھی جب دودوست ملتے ہیں سب سے پہلے تعارف کروایا جاتاہے۔ بہرحال کوئی بات نہیں، کام ہونا چاہیئے تعارف ہوتا رہے گا۔ پوسٹس کا انتظار رہے گا۔ شکریہ ![]() ![]() ![]() ![]() ![]()
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح اور صاف صاف فرمان کہ”غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا“ : ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ الخ النمل 65 پارہ 20 (ترجمہ :کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا ،اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیںکہ کب اٹھا کھڑے کئے جائیں گے ) علامہ بغوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ آیت مشرکین کے بار ے میں نازل ہوئی جبکہ انہوں نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تھا۔(معالم التنزیل جلد 5 صفحہ 12 ![]() اور یہی شان نزول تفسیر جلالین صفحہ 321،مدارک جلد2 صفحہ 167،اور جامع البیان صفحہ 321 وغیرہ میں مذکور ہے۔ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو حکم دےتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی ،غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں ۔ مزید لکھتے ہیں کہ یہاں استثناءمنقطع ہے ،یعنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی انسان ،جن ،فرشتہ غیب داں نہیں۔(تفسیر ابن کثیر جلد 3 صفحہ 372) علامہ خازن رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”مطلب آیت کا یہ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ ہی کو علم غیب ہے اور وہی جانتا ہے کہ قیامت کب آئے گی اور ان کو یہ خبر نہیں کہ وہ کب دوبارہ زندہ کئے جائیں گے یعنی جو مخلوق کہ آسمانوں میں ہے اور وہ فرشتے ہیں اور جو زمین میں ہیں یعنی بنی آدم (اور جنات وغیرہ)ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کے علم کے ساتھ متفرد ہے“(یعنی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا) (تفسیر خازن جلد 5 صفحہ125) قاضی ثنا ءاللہ الحنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”اے محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم آپ فرمادیجیے کہ غیب بجز اللہ تعالیٰ کے نہیں جانتے وہ جو آسمانوں میں ہیں یعنی فرشتے ،اور جو زمین میں ہیں یعنی جن اور انسان اور انہی انسانوں میں حضرات انبیا ءکرام علیہم الصلوةوالسلام بھی ہیں“(تفسیر مظہری جلد 7 صفحہ 126) غیب پر مطلع ہونا ، انباءغیب اور غیب جاننے کا فرق اس موضوع کا یہ نقطہ سب سے زیادہ اہم ہے ۔ کیوں کہ یہ نقطہ ہی سمجھنے کی غلط فہمی علم غیب پر اختلافات کی بنیاد ہے ۔اور فریق مخالف کے دلائل کی بنیادیں اسی نقطہ پر رکھی گئیں ہیں۔اس لئے آپ تمام دوستوں سے خصوصی توجہ کی درخواست ہے ۔ اب یہاں ہم سب سے پہلے فریق مخالف کی طرف سے پیش کی ہوئی غیب کے اثبات میں آیات مبارکہ پیش کرتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ الخ اٰٰل عمران 179 پارہ 4 (ترجمہ:اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرے تم کو غیب پر ،لیکن ہاں جس کو خود چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں ،اُن کو منتخب فرمالیتا ہے) اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ﴿٢٦﴾ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ الخ جن 26،27 پارہ 29 (ترجمہ :۔ غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے،سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو ، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے) اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔( ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ الخ یوسف 102 پارہ 13 (ترجمہ:یہ غیب کی خبریں ہیں جو وحی کر رہے ہیں ہم تمہاری طرف ) اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ ۖ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلَا قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـٰذَا الخ ھود 49 پارہ 12 (ترجمہ:یہ خبریں ہیں غیب کی جو ہم وحی کر رہے ہیں تمہاری طرف (اے نبی)نہیں جانتے تھے یہ باتیں تم اور نہ تمہاری قوم اس سے پہلے) یہ بہت ہی خاص بات ہے ،آپ لوگ اپنے ذہن میں رکھیں ان شاءاللہ آگے مزید وضاحت آئے گی۔ اب یہاں نیچے والی آیات مبارکہ ملاحظہ فرمائیں کہ غیب کی نفی میں واضح طور پر ”غیب جاننے کی نفی “ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّـهُ الخ النمل 65 پارہ 20 (ترجمہ :کہہ دے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے کوئی بھی سوائے اللہ کے غیب کو نہیں جانتا) اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔( قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ الخ الاعراف 188 پارہ 9 (ترجمہ: کہہ دو کہ میں نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لئے بھی نہ کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا ،مگر یہ کہ چاہے اللہ ،اور ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کر لیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کوئی نقصان) ہم یہاں آیات مبارکہ کی تفاسیراس لئے پیش نہیں کر رہے ہیں کیو ں کہ ہمارا مقصد اس وقت صرف غیب کے اثبات اور غیب میں نفی میں آیات مبارکہ میں اس فرق کو واضح کر نا ہے کہ فریق مخالف کا موقف ہے کہ ”حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں“ اوردلیل میں جو آیات مبارکہ پیش فرماتے ہیں ان میں غیب پر مطلع ہونا یا انباءغیب کا بیان ہے۔ اب آجائیں فریق مخالف کے کچھ اعتراضات کی طرف۔ فریق مخالف کا کہنا ہے کہ ”مخالفین کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ،یا نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں غیب نہیں جانتا ،یا فقہاءکرام فرماتے ہیں جو غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ مانے وہ کافر ہے۔ فریق مخالف کا کہنا ہے کہ یہ دلائل تو خود مخالفین کے خلاف ہیں کیوں کہ بعض غیب تو وہ بھی مانتے ہیں ،اور اختلاف تو ”جمیع کان وما یکون (یعنی جو ہوچکا ہے یا جو کچھ ہونے والا ہے) “پر ہے۔تو یہ حضرات فرماتے ہیں کہ پھر اس فتوی کی زد سے تو مخالفین بھی نہیں بچ سکتے کیوں کہ ایک بات کا بھی علم مانا تو ان کے دلائل کے خلاف ہوا۔ یہاں ان حضرات کا نقطہ یہ ہے کہ ”بعض غیب تو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں “ جیسا کہ ہم چندبزرگان دین کے اقوال پیش کررہے ہیں قاضی بیضاوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ اپنے غیب مخصوص پر جو اس کے علم کے ساتھ خاص ہے کسی کو مطلع نہیں کرتا ۔ہاں مگر اپنے بعض رسولوں کو اپنے بعض غیب پر مطلع کر دیتا ہے تاکہ یہ اس کے لئے معجزہ ہوجائے“ (بیضاوی جلد6 صفحہ 379) علامہ نسفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”یعنی الا من ارتضیٰ من رسول سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی برگزیدہ رسول کو بعض غیب پر مطلع کر دیتا ہے تاکہ اس کا غیب کی خبر دینا معجزہ ہوجائے “(مدراک جلد 6 صفحہ 379) حافظ ابن حجررحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”مگر جس رسول کو اللہ پسند کرے کیوں کہ یہ آیت بتانا چاہتی ہے کہ رسول بعض غیب پر مطلع ہوئے“ (فتح الباری جلد 8 صفحہ 395) یہاں ہم فریق مخالف کی اس غلط فہمی کی دو حصوں میں وضاحت کریں گے ۔(ایک تو یہ بات یاد رکھیں یہاں بھی فریق مخالف سے اختلاف رکھنے والے یہ تسلیم نہیں کر تے کہ ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم بعض غیب جانتے ہیں“ بلکہ” بعض غیب پر مطلع ہوئے “تسلیم کرتے ہیں) یہاں پہلے تو” بعض غیب “ کا مفہوم سمجھیں ۔ اور یہ بات سمجھیں کہ ”اللہ تعالیٰ نے بعض غیب پر نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا“ سے کیا مراد ہے؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔(الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ )البقرة 3 پارہ 1 (ترجمہ:جو لوگ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں) ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ (تفسیر طبری 1/335) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔(تفسیر طبری 1/235))حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایمان کہتے ہیں عمل کو۔(تفسیر طبری 1/235) ربیع بن انس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔(تفسیر طبری 1/235) ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ زبان سے،دل سے،عمل سے غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر ،اس کی کتابوں پر ،اس کے رسولوں پر ایمان لانا شامل ہے،اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے ۔ مزید فرماتے ہیں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لےنے کو۔ آگے غیب کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ غیب کا لفظ جو یہاں ہے اس کے معنی میں بھی مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں ،اور وہ سب صحیح ہیں اور جمع ہوسکتے ہیں ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ پر،فرشتوں پر،کتابوں پر رسولوں پر ،قیامت پر،جنت دوزخ پر،اللہ سے ملاقات پر،مرنے کے بعد جی اٹھنے پر ایمان لانا ہے۔قتادہ ابن دعامہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔(تفسیر طبری1/236) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر اصحاب سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو نظروں سے اوجھل ہیں جیسے جنت دوزخ وغیرہ ،وہ امور جو قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ مزید لکھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے وہ سب غیب میں داخل ہے۔ ابو ذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن ہے۔ عطاءابن ابو رباح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ پر ایمان لانے والا غیب پر ایمان لانے والا ہے ۔ اسماعیل بن ابو خالد رحمتہ اللہ علیہ اسلام کی تمام پوشیدہ چیزیں مراد ہیں۔ زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تقدیر پر ایمان لانا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ پس یہ تمام اقوال معنی کی رو سے ایک ہی ہیں۔اس لئے کہ سب چیزیں پوشیدہ ہیں اور غیب کی تفسیر ان سب پر مشتمل ہے ،ان سب پر ایمان لاناواجب ہے۔ میرے بھائیوں دوستوں بزرگوں ! اللہ تعالیٰ کی کتابیں،اللہ کے رسول، فرشتے،مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اورقیامت ،روز آخرت ،میدان محشر،اللہ سے ملاقات ، حساب کتاب ،پل صراط ،جنت ،جہنم ،یہ سب غیب کی باتیں توہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا۔ الحمد للہ جن پر ہم ایمان لاتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد احادیث پاک ہیں جن میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے غیب کی اطلاع دیں۔(ہم اختصار کے ساتھ چند احادیث پاک پیش کر رہے ہیں) ” حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت چھینے کی کوشش کی اطلاع“(ترمذی ج 2 ص 212) ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر“(ترمذی ج 2 ص 221) ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت مدینہ طیبہ کے سفر میں آندھی کا آنا اور حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے کسی بڑے منافق کی موت کی خبر دی“(مشکوة ج2 ص 536) ”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت جنت میں سب سے پہلے اہل بیت میں سے بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملاقات“(مشکوة ج 2 ص 563) حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ (نفیع بن الحارث المتوفی 49ھ) فرماتے ہیں : ”جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (المتوفی 50ھ)کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا(بخاری ج 2 ص 1053) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے: ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کچھ ایسے حکام پیدا ہوں گے جو میری سیرت اور میری سنت پر نہیں چلیں گے دل ان کے شیطانوں کے سے ہوں گے مگر شکل صورت میں انسان ہوں گے“(مسلم ج 2 ص127) اس طرح اللہ تعالیٰ کی کتابیں،اللہ کے رسول، فرشتے،مرنے کے بعد کی زندگی، قیامت کی نشانیاں اور قیامت کا قائم ہونا ،روز آخرت ، میدان محشر،اللہ سے ملاقات ، حساب کتاب ،پل صراط ،جنت ،جہنم اور اس کے علاوہ بہت سی احادیث پاک ہیں جن میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں کی اطلاع دیں،اور بہت سی غیب کی خبروں کی اطلاع دیں (یہاں وہ تما م احادیث پاک شامل ہوجاتیں ہیں جن میں غیب کی خبروں کابیان ہے اور فریق مخالف اپنے موقف میں بطور دلیل پیش فرماتے ہیں ،الحمد للہ ہمارا تمام احادیث پاک پر ایمان ہے) ہم نے ایک طرف غیب کی تفصیلی وضاحت کی ہے ۔اور دوسری طرف ان بعض غیب کی مختصر وضاحت کی ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا اور جن پر الحمدللہ ہم ایمان لاتے ہیں۔ بزرگان دین ان غیب کی خبروں کو اخبار غیب یا انبا ءغیب فرماتے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اطلاع علی الغیب ،انبا ءالغیب اور اظہار الغیب کے ذریعہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو جتنے علوم سے نوازا وہ اللہ کی مخلوق میں کسی کو بھی عطا نہیں ،اور فوق کل ذی علم علیم کے مصداق آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اب آجائیں اس نقطہ کے انتہائی اہم رخ کی طرف ۔ بہت زیادہ توجہ کی درخواست ہے۔ فریق مخالف حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب کے اثبات میں اوپر بیان کی گئیں آیات مبارکہ سے دلیل پیش کرتے ہیں کہ ”حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں“ جبکہ ایک آیات مبارکہ میں بھی حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے غیب جاننے کا بیان موجود نہیں بلکہ مطلع کیا اور انباءغیب کا بیان ہے۔ اورفریق مخالف کو مغالطہ ہے کہ غیب کی خبروں پر مطلع ہونا غیب جاننے کی دلیل ہے۔ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبروں سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو مطلع فرمایا۔ (فریق مخالف کی منطق سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی غیب کے جاننے والے ہوئے) صحابہ کرام نے تابعین کرام کو مطلع فرمایا اور تابعین کرام نے تبع تابعین کرام کو مطلع فرمایا اور اسی طرح درجہ بدرجہ ائمہ کرام،بزرگان دین ،محدثین حضرات ایک دوسرے کو مطلع فرماتے رہے اور اسی طرح آج لاکھوں کروڑوں مسلمان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے ۔ ان غیب کی خبروں میں سے بہت سے واقعات ہوچکے ہیں(جو غیب میں داخل ہیں)اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں (جو غیب میں ہی داخل ہیں) تو فریق مخالف کی منطق سے اگر غیب پر مطلع ہونا،غیب جاننے کی دلیل ہے تو اس لحاظ سے وہ سب لوگ غیب جاننے والے ہوئے جو لوگ احادیث پاک سے مطلع ہوئے کہ کل کیا کیا ہوا ؟اور آنے والے کل کیا کیا ہوگا؟ اور اسی طرح فقہائے کرام کے فتوی ”غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے“سمجھ میں آجائے گا۔ کہ غیر اللہ کے لئے غیب جاننے کا عقیدہ ر کھنا کفر ہے۔ جبکہ بزرگان دین اور دیگر علماءکرام کے اقوال کے مفہوم یہ نہیں ہیں کہ” نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں “ بلکہ بزرگان دین اور علماءکرام کے اقوال میں” بعض غیب پرمطلع ہوئے “وغیرہ کے ارشادات ہیں ۔اور غیب پر مطلع ہونا ۔غیب جاننے کی دلیل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی وفیق عطاء فرمائے آمین اگر کسی بھائی کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی غلطی نظرآئے تو ہمیں ضرور نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں . جزاک اللہ باقی وضاحتیں ان شاء اللہ تعالیٰ اگلی پوسٹ میں Last edited by ناصر نعمان; 18-07-10 at 04:43 AM. |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), فیصل ناصر (20-07-10), فاروق سرورخان (02-08-10), میاں شاہد (04-08-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (17-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (17-07-10), حسن قادری (11-07-11), عبداللہ آدم (17-07-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ماشاءاللہ بہت خوب اور کمال کی تحریر ہے۔ کاش کہ یہ سچا عقیدہ مسلمانوں کے دلوں میں اتر جائے- جزاک اللہ خیر
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-12-10), فیصل ناصر (20-07-10), ناصر نعمان (17-07-10), میاں شاہد (04-08-10), محمد عاصم (18-07-10), عبداللہ آدم (29-07-10) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ماشاء اللہ
جزاک اللہ اللہ کرے زور قل اور زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (20-07-10), ناصر نعمان (17-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (17-07-10) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
ماشاء اللہ ناصر نعمان صاحب آتے ہی چھا گئے ماشاءاللہ آپ اپنی تمام پوسٹس مکمل کرلیں، انشاء اللہ پھر گفتگو کا سلسلہ چلے گا ابھی بات نامکمل ہے۔ اطمنان سے مکمل کرلیں۔ شکریہ
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ سب بھائیوں کی محبت اور حوصلہ افزائی کو بہت بہت شکریہ
اور جناب بلال اویسی بھائی ضرور بات چیت فرمائیے گا لیکن آپ کو تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (18-07-10), عبداللہ آدم (18-07-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,867
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ ! علم غیب کی دو قسمیں ذاتی اور عطائی اب آجائیں فریق مخالف کے ایک اور اعتراض کی طرف۔ فرماتے ہیں کہ جیسے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے(ترجمہ:کہہ دے کہ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا) اور جیسا کہ قرآن پاک میں اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ :۔ غیب کا جاننے والا وہ ہی ہے،سو مطلع نہیں فرماتا وہ اپنے غیب پر کسی کو ، سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے) فریق مخالف فرماتے ہیں کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا ۔ تو دوسری آیت مبارکہ میں اللہ کے رسولوں کے لئے غیب کا اثبات ہے تو اس کو کس زمرے میں رکھیں گے ؟ اورفرماتے ہیں کہ یہاں تعارض پیدا ہوجائے گا کہ ایک موقعہ پر ارشاد ہے کہ”اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا “اور دوسری موقعہ پر غیب کا اثبات ہے؟؟؟ بھائیوں دوستوں بزرگوں ! جبکہ تضاد ان آیات مبارکہ کو سمجھنے میں تھا جس کو ہم نے اوپر قرآن پاک کے ارشادات سے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کے اثبات کے بیان میں ”مطلع ہونا“ یا”یہ انباءغیب (غیب کی خبریں) ہیں جو وحی کیں گئیں “کے ارشادات ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے غیب کی نفی کے بیان میں ”اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا “کابیان ہے۔ اور جاننا اور مطلع ہونے میں کیا فرق ہے اور اس کی وضاحت بھی پیش کی ہے ۔ لیکن اگر بالفرض غیب کے اثبات کی آیات مبارکہ سے فریق مخالف کے موقف کو درست مان لیا جائے کہ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں“ تو تعارض تو اصل یہاں پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ”زمین والوں اور آسمان والوں میں سے اللہ کے سوا کوئی بھی غیب کو نہیں جانتا“ اور فریق مخالف کا دعوی ہے کہ ”حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں“ اوراس واضح اور صاف تعارض کوفریق مخالف یہ کہہ کر دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ”جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا غیب کے جاننے کی نفی آئی ہے اس سے مراد” ذاتی علم غیب ہے عطائی نہیں “ ملاحظہ اس دلیل کی حقیقت: بھائیوں دوستوں بزرگوں ! بزرگان دین کی عبارتوں میں ”ذاتی “ اور ”عطائی“ کے الفاظ آئے ہیں۔ لیکن بزرگان دین کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم ”ذاتی“ طور پر اور بالاستقلال تو کل غیوب کو نہیں جانتے مگر ”عطائی“اور غیر مسقل طور پر کل مغیبات کو جانتے ہیں ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آپ یہ بات سمجھیں کہ بزرگوںنے لفظ ”ذاتی“ کا استعمال کر کے کیا بات سمجھانے کی کوشش کی ہے ؟ ذاتی طور پر غیب جاننے سے مراد ہے کہ” از خودغیب جاننا“جس کا فریق مخالف بھی قائل نہیں ۔ اور عطائی طور پر غیب جاننے سے مراد یہ ہے کہ مثال کے طور پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی ،جب تک ارض حجاز سے آگ نہ نکلے جس کی روشنی بصری کے مقام پر اونٹوں کی گردنیں نظرآنے لگیں“(بخاری ج 2ص1054)(مسلم ج 2 ص393) یہ غیب کی خبر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اس خبر سے مطلع فرمایا ( یا اس ”غیب کی خبر“ کا علم عطا ءفرمایا) تو یہاں بزرگوں کے قول ’’عطائی‘‘ سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ”ذاتی “طور پر (یعنی از خود)یہ غیب کی خبر نہیں جانتے بلکہ” عطائی “طور پر یہ غیب کی خبر جانتے ہیں اورغیب پر مطلع ہونے کے بعد یا غیب کی خبر عطا ءہونے کے بعدغیب کی خبر جاننا۔۔علم غیب جاننے کی دلیل نہیں ۔ ہم یہاں دوبارہ اپنی بات دہرا دیتے ہیں کہ ہم اور آپ اور بہت سے مسلمان بھائی احادیث پاک سے بہت سی غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے (جن میں بہت سے واقعات رونما ہوچکے ہیں اور بہت سے واقعات ہونے والے ہیں جو غیب کی خبریں ہیں )اور وہ تمام مسلمان جو غیب کی خبروں پر مطلع ہونے کے بعدان غیب کی خبروں کوجانتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم یا وہ تمام مسلمان (جو ان غیب کی خبروں پر مطلع ہوئے ہیں ) غیب جانتے ہیں ۔ اس طرح بزرگان دین کے اقوال میں ”عطائی طور پر غیب جاننے “سے مراد بطور ”بعض غیب کی خبروں پر مطلع ہونا یا بعض غیب کی خبروں کا علم عطا ءہونا“ ہے۔ اور جبکہ فریق مخالف کا موقف ہے کہ ”عطائی طور پر“غیب جاننے سے مراد بطور” ذرے ذرے کاکلی علم غیب جاننا“ ہے۔ اب یہاں یہ بات بھی سمجھتے چلیں کہ بزرگوں کے اقوال میں لفظ ”بعض“ سے کیا مراد ہے ؟ ابتدائے کائنات سے اب تک اور پھر قیامت تک۔۔۔۔ کھرب ہا کھرب ،کھرب ہا کھرب اور نہ جانے کتنے کھرب انسان،جانور ،چرند پرند، کیڑے مکوڑے،دریائی اور سمندری مخلوقات،زمین کے اندر کی مخلوقات،آسمانوں کی مخلوقات جو ابتدائے کائنات سے اب تک آچکے ہیں اور قیامت تک آئیں گے ان تمام جانداروں اور بے جان ذروں ذروں کی ہر ہرلمحہ کی حرکات سکنات،ذرے ذرے کی خبر غیب ہی ہے۔اور اس تمام تفصیل کو اگر اعداد میں لکھنا چاہیں تو یقینا کوئی لکھ بھی نہ سکے۔ ان تمام خبروں میں سے صرف اور صرف ایک کھرب خبریں لی جائیں اور دوسری طرف احادیث پاک میں گذشتہ اور آئندہ کی جتنی بھی خبریں ہیں اگربالفرض دس لاکھ خبریں بھی سمجھ لیں تو بھی یہ صرف ایک کھرب کا %0.001 حصہ ہے۔ جبکہ نہ جانے کتنے کھرب ہا کھرب خبریں غیب میں داخل ہیں۔ اس طرح آپ بزرگوں کے ا قوال میں لفظ”بعض“ کا مفہوم سمجھ سکتے ہیں۔ (آئیے واپس موضوع کی طرف چلتے ہیں) اسی طرح قرآن پاک ، احادیث پاک اور بزرگان دین کے اقوال میں جہاں غیر اللہ کے غیب جاننے کی نفی کا بیان آجائے فریق مخالف محض یہ کہہ کر تعارض دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مراد ”ذاتی طور پر“علم غیب جاننے کی نفی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے : ”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے کہ جو کہے کہ حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کل کی بات جانتے تھے ،اس نے اللہ تعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں“ مسلم شریف ،کتاب الایمان،باب معنی قول اللہ عزوجل (ولقد رآہ نزلتہ اخریٰ)ح:177 طول منہ(بخاری جلد 2 صفحہ 720)(مسلم جلد 1 صفحہ9 (ابو عوانہ جلد 1 صفحہ 154)(بخاری جلد 2 صفحہ 109 (ترمذی جلد 2 صفحہ 160)(مشکوة جلد 2 صفحہ 501)یہاں فریق مخالف کا کہنا ہوگا کہ ”حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ”علم غیب ذاتی کی نفی کی ہے عطائی کی نہیں“ فریق مخالف کے اس مغالطہ کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ”جن مواقعہ پر حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلم کے لئے غیب جاننے کا”انکار“ آجائے وہاں لفظ ”ذاتی “ کا استعمال کرکے اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے۔ فریق مخالف کے اس مغا لطہ پر سے پردہ اٹھا نے کے لئے ہم آپ کے سامنے ایسی صحیح احادیث پاک پیش کر رہے ہیں جن میں غیب کا ”اثبات“ بھی ہے اور” نفی“ بھی ہے“ دیکھتے ہیں نیچے بیان کی گئی صحیح احادیث پاک کے جواب میں فریق مخالف کیا فرماتے ہیں؟؟؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایامجھے ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئیں ہیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں ،اللہ ہی کے پاس ہیں علم قیامت کا اور بارش نازل کرنے کا اور مافی الرحام کا خبیر تک (جو سورہ لقمان کی آخری آیتیں ہیں) (کنز العمال ج6 ص 106)(مسند احمد ج2 ص 85)(درمنشور ج5 ص 170)(ابن کثیر ج 3 ص 454)(امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں بسند صحیح خصائص الکبریٰ ج 2 ص195)(علامہ عزیزی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں قال الشیخ الحدیث صحیح(السراج المنیر ج 2 ص79)(علامہ آلوسی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں بسند صحیح (روح المعانی ج 12 ص 99) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (المتوفی32 ھ) فرماتے ہیں: ” تمہارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم غیب کے خزانے عطا کئے گئے ہیں مگر یہ پانچ امورعطا نہیں کئے گئے جو سورہ لقمان کی آخر میں ہیں“(مسند احمد ج 4 ص 43 ![]() نیز فرماتے ہیں کہ: ”نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز کا علم عطا ء کیا گیا ہے سوائے ان پانچ چیزوں کے (کہ ان کا علم کسی کوبھی عطاء نہیں ہوا)(فتح الباری ج 1 ص115 ۔اور ج 8 ص395۔جلد 13 ص 30 (تفسیر ابن کثیر ج 3 ص454)وقال ہذا اسناد حسن و در منشور ج 5 ص 170)حضرت ربعی بن خراش (المتوفی 100ھ)سے روایت ہے : مجھ سے بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ علم میں سے کوئی ایسی چیز بھی باقی ہے جس کو آپ نہ جانتے ہوں ،حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت سی خیر کی تعلیم دی ہے اور بے شک علوم میں سے وہ بھی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا چناچہ پانچ باتیں جو سورہ لقمان کی آخری آیت میں مذکور ہیں ،ان کا پورا علم بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کسی دوسرے کو نہیں “(مسند احمد )(وقال ابن کثیر ج 3 ص455)ہذا اسناد صحیح (در منشور ج 5 ص 170) ہمارا فریق مخالف سے سوال ہے کہ: کیا یہ احادیث پاک صحیح ہیں ؟ اگریہ احادیث پاک صحیح ہیں تو ان احادیث پاک میں بیان ہوا ہے کہ(مثال کے طور پر) عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ” حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سب چیز کی چابیاں دی گئیں مگر ان پانچ چیزوں کی عطا نہیں کی گئیں“(جو سورہ لقمان کی آخری آیات ہیں) فریق مخالف فرمائیں گے کہ ”جن پانچ چیزوں کی چابیاں عطا ءنہیں کی گئیں“ کا بیان ہے اس سے مراد ”ذاتی “ ہے ”عطائی “ نہیں۔ پھر آپ جواب دیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”مجھے سب چیز کی چابیاں دیں گئیں ہیں “ اس سے کیا مفہوم ثابت ہوتا ہے ؟ کیا جن چیزوں کی چابیاں عطا ءکئے جانے کا بیان آیا ہے وہ ”ذاتی“ کے لئے ہے ؟ (جبکہ ذاتی ہونے کا فریق مخالف بھی قائل نہیں) تو پھر ”عطائی “ کے لئے ہے ۔ (جیسا کہ ان احادیث پاک کے الفاظ سے ہی واضح ہو رہا ہے ”عطا کی گئیں“) تو پھر ان احادیث پاک میں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جن پانچ چیزوں کی چابیوں کی نفی کی ہے وہ کیا ہیں؟ تمام بھائیوں،بزرگوں اور دوستوں سے درخواست ہے کہ جب آپ اس نقطہ پر غور فرمائیں گے تو ان شاءاللہ تعالیٰ بات آسانی سے سمجھ آجائے گی کہ قرآن پاک اور احادیث پاک میں اللہ تعالیٰ کے سوا علم غیب جاننے کی جہاں جہاں واضح نفی ہے فریق مخالف اس” نفی“ کواپنے موقف کے” اثبات“ میں” ڈھالنے“ کے لئے لفظ ”ذاتی “ کا استعمال کرتے ہیں۔ تاکہ اپنے موقف کا دفاع کیا جاسکے۔ اور لوگوں کے ذہنوں میں سے پیدا ہونے والے سوالات کا آسان جواب دیا جاسکے۔ فریق مخالف کا محض”ذاتی اور عطائی “ کے الفاظ کو استعمال کر کے واضح اور صاف تعارض (یعنی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زمین والوں میں سے اور آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا اورفریق مخالف کا دعوی ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے ہیں)دور نہیں ہوگا۔ یہاں ہم اپنی بات ایک دفعہ پھر دہراتے ہیں کہ بزرگان دین کے اقوال میں ”عطائی طور پر“ غیب جاننے سے مراد بطور ”غیب کی خبروں پر مطلع ہونا یا غیب کی خبروں کا علم عطا ءہونا“ ہے۔ اور جبکہ فریق مخالف کا موقف ”عطائی طور پر“غیب جاننے سے مراد بطور”غیب کی خبروں پر مطلع ہونا یا غیب کی خبروں کا علم عطاءہونا“ نہیں ہوتا بلکہ ”ابتدائے آفرینش سے الی یوم القیامتہ کے ذرے ذرے کا کلی علم غیب جاننے کی عطاء“ ہونا ہوتا ہے۔ جبکہ بیشتر وہ بزرگان دین جو ذاتی اور عطائی کی قیود کو ملحوظ رکھتے ہیں وہ اپنی تصریحات میں صاف اور واضح طور پر لکھتے ہیں کہ” کلی علم غیب“ صرف خاصہ خداوندی ہے۔ لیکن فریق مخالف بزرگان دین کے ان واضح اور صاف صاف اقوال کو چھوڑ کر محض” ذاتی اور عطائی“ کے الفاظوں کو لے کر ”ذرے ذرے کاکلی علم غیب جاننا “ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق عطاءفرمائے ۔آمین اگر کسی بھائی کو ہمارے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی کوتاہی نظر آئے تو ہمیں ضرور نشاندہی فرمائیں تاکہ ہم اپنی اصلاح کرلیں۔جزاک اللہ باقی وضاحتیں ان شاءاللہ اگلی پوسٹ میں Last edited by ناصر نعمان; 18-07-10 at 08:54 PM. وجہ: font change |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-12-10), sahj (30-10-10), saimali (18-07-10), فیصل ناصر (20-07-10), فاروق سرورخان (02-08-10), محمد عاصم (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), بلال اویسی (18-07-10) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام علیکم
ناصر نعمان بھائی آپ کو دل کی گہرائیوں سے پاک نیٹ پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ میں نے سوچا ہی تھا کہ آپ کو یہاں کا لنک دوں اور آج آپ کی تحریر نظر سے گزری، بہت خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا | saimali (18-07-10), ناصر نعمان (18-07-10), مرزا عامر (18-07-10), مسلم بھائی (20-07-10), عبداللہ آدم (18-07-10), عبداللہ حیدر (18-07-10) |
|
|
#14 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
بھائی ناصر نعمان کیا آپ اس دھاگے کا فونٹ بدل سکتے ہیں، معافی چاہتا ہوں مگر تھوڑا سا پڑھنے کے بعد ہی آنکھیں درد کرنے لگ گئیں، اور خیر سے اتنی لمبی پوسٹ ہے ۔۔۔۔ اگر آسانی سے ہو سکے تو ۔۔۔۔ جزاک اللہ خیر Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 08:02 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ziamurtaza کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 60
کمائي: 1,746
شکریہ: 270
58 مراسلہ میں 205 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم
بھائی ناصر نعمان کیا آپ علم غیب کی تعریف کر دیں گے، لغت کے لحاظ سے اور شریعی بھی، آپ کی باتیںسجھنے میں آسانی ہو جائے گی، جزاک اللہ Last edited by ziamurtaza; 28-07-10 at 08:02 PM. |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پہچان, پاک, لوگ, مکمل, معلوم, ایمان, اللہ, جھوٹ, جیت, حدیث, حضرات, خلاف, خصوصی, درخواست, دعا, سال, علی, علاج, عالم, صاف, صحیح, صحابہ, صحرا, صرف, صراط |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| غیر تعامل گیسیں inert gases یا nobel gaes | طارق راحیل | شعبہ طب | 0 | 27-12-08 03:57 PM |
| افغانستان: ہرات میں غیر ملکی افواج کے قافلے پر خودکش حملہ، متعدد ہلاک | ابن جلال | خبریں | 0 | 18-10-08 03:04 PM |
| علم غیب کیا ہے اور اس کی تعریف کیا کی جا سکتی ہے.؟ | چاچا کمال | مذہبی مسائل اور ان کا حل | 22 | 19-08-08 01:21 AM |