واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


عقل و شعور .... انسان کا طرہ امتیاز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-12-08, 06:40 PM   #1
عقل و شعور .... انسان کا طرہ امتیاز
چیتا چالباز چیتا چالباز آف لائن ہے 17-12-08, 06:40 PM

عقل و شعور .... انسان کا طرہ امتیاز

آپ نے حسب معمول اپنے خطبے کا آغاز باری تعالیٰ کی حمدو ثنا اور حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سلام سے کیا اور تمام ایمان والوں کو نیکی اور تقویٰ کی تلقین کی پھر آپ نے فرمایا کہ پروردگار نے بنی آدم کو اپنی دیگر کثیر مخلوقات پر فضیلت دی ہے اور بڑی خصوصیات عطا کی ہیں۔ پروردگار نے انسان کو تمام حیوانات ، جمادات اور نباتات پر اور جنوں پر بھی فضیلت عطا کی ہے ۔ انسان کو عقل و فہم ، سمجھ اور تدبر اور تفکر عطا کیا ہے ۔
ارشاد ربانی ہے :
ولقد کرمنا بنيادم وحملنہم في البر والبحر ورزقنہم من الطيبت وفضلنہم علي کثير ممن خلقنا تفضيلا ( بنی اسرائیل : 70 )
” یقینا ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ۔ “

تمام نعمتوں میں عقل اور سمجھ سب سے بڑی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان خیرو شر ، نیکی اور بدی نیز نفع و نقصان میں فرق کر سکتا ہے ۔ عقل کی بدولت ہی انسان اپنی زندگی سنوارتا ہے ، تدبر اور غور و فکر سے کام لیتا ہے ، عقل ہی کی بنا پر انسانی معاشرے منظم اور موثر طور پر عمل رہتے ہیں۔ فضیلت مآب نے فرمایا کہ عقل ایک قیمتی جوہرہ ہے ، موتی ہے جسے عقل مند حضرات ، دانشمند لوگ حفاظت سے رکھتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں ۔ دانشمند انسان عقل کو انہی اغراض کے لیے استعمال کرتے ہیں جن کے لیے وہ عطا کی گئی ہے اگر انسان عقل کھو دے تو وہ حیوانات جیسا تصرف کرنے لگتا ہے اس میں اور حیوانات میں اور نباتات و جمادات میں کوئی فرق نہیں رہتا بلکہ حیوانات بسا اوقات انسان سے بہتر نظر آتے ہیں جو عقل کھو دے اسے کوئی نفع نہیں پہنچتا وہ نفع بخش شمار ہی نہیں کیا جاتا بلکہ وہ اپنے اہل و عیال ، اپنے کنبے اور اپنے معاشرے پر بوجھ بن جاتا ہے ۔

فضیلت مآب نے آگے چل کر اپنے خطبے میں فرمایا کہ ایسے انسان بھی ہیں جو اپنی عقل سے صحیح کام نہیں لیتے اور اس کی حفاظت نہیں کرتے وہ عقل جو اپنے پیروں تلے روندتے ہیں ، نفس پرستی اور شہوت رسانی ان پر غالب آجاتی ہے ۔ یہی رویہ دیگر لوگوں میں اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتے ہیں یا کئی قسم کی منشیات کا استعمال کرتے ہیں ایسی نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں جن سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے اور انسان اپنی انسانیت بھی کھو بیٹھتا ہے وہ حیوانوں جیسا تصرف اور سلوک کرنے لگتا ہے ، مجرم بن جاتا ہے ، پاگل بھی ہو جاتا ہے فسق و فجور میں ڈوب جاتا ہے ، نشے میں انسان اپنے غم کو بھی بھول جاتا ہے ۔ خود اپنے نفس پر بھی اسے قابو نہیں رہتا ، وہ اپنے آپ پر بھی ظلم کرتا ہے اس کا ارادہ اور اس کی سمجھ مفلوج ہو جاتی ہے اس کے زندہ رہتے ہوئے اس کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور اس کی زندگی ہی میں اس کی بیوی بیوہ ہو جاتی ہے ایسا انسان زندگی کی پانچ اہم ضروریات بھی ترک کر دیتا ہے وہ نشے میں اپنے مذہبی واجبات بھی ادا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے ، محروم بھی ہو جاتا ہے جن کی پابندی کی ضرورت تمام مذہبی شریعتوں میں روش رہی ہے یعنی عقل کی ضرورت عبادت ہے جس کے لیے انسان اور جن پیدا کیے گئے اور جب یہ عقل کی ضرورت ہی ناپیدہو تو نشے میں خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے ، اپنے کنبے اور اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے وہ اپنے گرد و نواح میں بد امنی اور بدعنوانیاں پھیلاتا ہے اور کنبے پر بوجھ بن جاتا ہے ۔ فضیلت مآب نے فرمایا کہ نشہ آور چیزوں کا استعمال ایک انتہائی قبیح عادت ہے یہ اہل جاہلیت کی نشانی ہے ۔

جاہلیت میں معاشرے کے لوگ ایک ساتھ شراب نوشی کی محفلیں جمایا کرتے تھے اور شراب کو باعث فخر سمجھتے تھے وہ وقت گزارنے کے لیے شراب نوشی کرتے تھے یعنی وقت ضائع کرنے کے لیے جاہلیت میں لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ وہ اپنے غم کو بھلانے کے لیے شراب پیتے ہیں ۔ وہ اپنی شعرو شاعری میں بھی شراب نوشی پر فخر کرتے تھے ۔ انہوں نے ایک مشہور معلقے میں شراب کی تعریف میں قصیدے کا آغاز کیا اور یہ معلقہ اور قصیدہ کعبے کے غلاف پر چسپاں کر دیا تھا ، لٹکا دیا تھا ۔ فضیلت الشیخ نے فرمایا کہ جو قوم اپنے فرزندوں کی عقل و دانش کا دفاع نہ کر سکے ، حفاظت نہ کر سکے وہ با لآخر تباہ ہو جاتی ہے انہوں نے صحیحین کی ایک حدیث بیان کی جو واقعہ اسراء پر موقوف ہے واقعہ اسراء کے متعلق ہے فرمایا کہ مجھے د و برتن دئیے گئے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی مجھ سے کہا گیا کہ تم جو چاہو لے لو میں نے دودھ والا برتن لے لیا اور پیا پھر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے فطرت کی ہدایت پا لی اگر تم نے شراب والا برتن لیا ہوتا تو تمہاری امت گمراہ ہو جاتی ۔ ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کی ایک روایت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ تمہاری امت پر حرام کی جائے گی ۔ یہ خمر یعنی شراب اگر تم نے اس میں سے پی لیا ہوتا تو تمہاری امت میں بہت کم لوگ داخل ہوتے ۔ فضیلت مآب نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے قوم کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی امت اسلامیہ شراب نوشی نہیں کرے گی اور نہ شرابی کا اتباع کرے گی ، نہ اس کی اطاعت کرےگی چاہے وہ شراب پینے والا نبی ہی کیوں نہ ہوں ۔ فضیلت مآب نے فرمایا کہ ایک امت میں دودھ اور شراب ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ فطرت اور خمر ایک دوسرے کی ضد ہیں صحیح فطرت بلا شراب ہی ظاہر ہوتی ہے ۔ فضیلۃ الشیخ الشریم نے مکی حرم شریف میں اپنا خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شراب یا خمر جاہلیت میں فخر کی بات شمار کی جاتی تھی لیکن اسلام نے اسے قطعی طور پر حرام کر دیا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

يايہا الذين امنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون

” اے ایمان والو ! شراب ، جوا ، آستانے ( جہاں پر غیراللہ کی نذر و نیاز دی جاتی ہو ) اور فال گیری یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے بچو تا کہ تم فلاح پا سکو ۔ “

کیونکہ شراب نوشی ایک قبیح عادت ہے انہوں نے فرمایا کہ شراب دشمنان اسلام نے تمام انسانی معاشروں میں پھیلا دی ہے اور انہوں نے ہی دنیائے اسلام میں پھیلائی ہے تاکہ وہ مسلم افراد کے اعضا کو مفلوج کر دیں اور لوگ اپنے دین سے غافل ہو جائیں ۔ فضیلت مآب نے فرمایا کہ ہماری امت کے کتنے ہزار لوگ شراب اور منشیات میں مبتلا ہیں اور وہ اس طرح اپنی جانیں ضائع کر رہے ہیں وہ انہی زہریلی عادتوں کے نتیجے میں خود اپنی قبریں اپنے ہاتھوں سے کھود رہے ہیں وہ اپنی زندگی ہی میں مردہ ہو گئے ہیں کیونکہ جس بدن میں عقل باقی نہ رہی ہو وہ مردہ ہی ہوتا ہے ۔ فضیلت مآب نے فرمایا کہ شراب نوشی کے بھاری نقصانات کی یقین دہانی طب جدید سے ہو گئی ہے اور بین الاقوامی معاشرے نے تسلیم کر لیا ہے کہ منشیات کے نتیجے میں بہت زیادہ بیماریاں ہوتی ہیں انہوں نے کم از کم ایک سو بیس سے زیادہ دینی اور دنیاوی نقصانات کا ذکر کیا ہے جو شراب کے نتیجے میں ہوتے ہیں ان میں سے سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنی عقل کھو بیٹھتا ہے اور نشے میں مبتلا شخص کی کوئی قیمت نہیں رہتی ۔

نشے کے نتیجے میں ہزاروں حادثات رونما ہوتے ہیں ، ٹریفک کے حادثات ایسے لوگوں کی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں جو منشیات یا شراب کا استعمال نہیں کرتے لیکن وہ شرابیوں کا شکار ہو جاتے ہیں آج کل آپ نے دیکھا ہو گا کہ منشیات کے نتیجے میں کس قدر جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، فحاشی بڑھ رہی ہے اور متعدد نئے جرائم ظاہر ہو رہے ہیں ۔ فضیلت مآب نے حرم شریف میں فرمایا کہ اسلام میں تمام نشہ آور اشیا بتدریج حرام قرار دی گئی ہیں کیونکہ لوگ ان کے عادی بن چکے تھے اور یک لخت یہ عادت چھوڑنا دشوار تھا اس لیے بتدریج شراب حرام کی گئی اور یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ جس چیز کے بھی زیادہ پینے سے نشہ آتا ہو وہ کم مقدار میں پینا بھی حرام ہے ۔ شراب حرام ہونے کے بعد شراب پینے والے کی سزا80کوڑے مقرر کی گئی ہے شراب پینے کے بعد اگر انسان اسے دہرائے ، دوبارہ پیے تب سزا کا مستحق ہو گا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے تھوڑی پی ہے تمام صحابہ کا اس پر اتفاق ہے کہ شراب کم ہو یا زیادہ بندہ نشے میں ہو یا نہ ہو اگر بار بار پیے تو شرعی سزا کا مستحق ہو گا ۔

80کوڑوں کا ، اور یہ کوڑے اسے لوگوں کے سامنے لگائے جائیں گے تنہائی میں نہیں ، بعض فقہا کا کہنا ہے کہ اگر چوتھی بار شراب پیے تو شرعی تعزیر کا مستحق ہو گا ۔ پہلی دوسری اور تیسری بار پینے سے اسے نصیحت و تنبیہہ کی جائے ۔ فضیلت مآب نے کہا کہ شراب پینے والا فاسق ہو جاتا ہے ، نہ اسے سلام کیا جائے ، نہ اس کے ساتھ میل جو ل رکھا جائے ، نہ بیماری کی حالت میں اس کی عیادت کی جائے ، نہ اس کی دعوت قبول کی جائے ۔ ابو داؤد ، ابن ماجہ اور ترمذی میں حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ شراب پینے والے پر ، پلانے والے پر ، شراب بیچنے والے پر ، خریدنے والے پر ، شراب تیار کرنے والے پر یعنی انگور نچوڑنے والے پر ، اسے اٹھا کر لانے والے پر او ر جس کے لیے لے جایا جا رہا ہو ان سب پر برابر سے اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ۔ فضیلت مآب نے ان نصیحتوں کے بعد اپنا خطبہ حسب معمول دعائیہ کلمات پر ختم کیا ۔ کثرت سے دعائیں اور کثرت سے توبہ و استغفار کریں ، مجھے اور اپنے ساتھییوں کو بھی اپنی دعاؤں میں نہ بھولیں ۔

 
چیتا چالباز's Avatar
چیتا چالباز
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,171 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 217
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (17-12-08), جیدی (17-12-08)
پرانا 17-12-08, 09:55 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عقل و شعور .... انسان کا طرہ امتیاز

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی سعود ، اللہ پاک مزید خیر کی ہمت عطا فرمائے ، بھائی یہ خطبہ یا کلام کس کا ہے ؟ و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-12-08, 10:35 PM   #3
Senior Member
 
چیتا چالباز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
کمائي: 15,654
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,171 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: عقل و شعور .... انسان کا طرہ امتیاز

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی سعود ، اللہ پاک مزید خیر کی ہمت عطا فرمائے ، بھائی یہ خطبہ یا کلام کس کا ہے ؟ و السلام علیکم۔
جناب حوصلہ افزائی کا شکریہ
یہ خطبہ مکہ مکرمہ کے امام سعود الشریم کا ہے
چیتا چالباز آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ٹریفک, پاک, پاگل, لوگ, نظر, مکہ, ایمان, اللہ, انسان, بھائی, ترک, جوا, جواب, حدیث, حضرات, دعائیں, زندگی, شاعری, شخص, عقل, عبادت, عزت, غم, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام پر ایک اور بجلی بم گرانے کی تیاریاں جاویداسد خبریں 0 16-07-10 02:27 PM
بے نظیر قتل: رحمن ملک اور بابر اعوان سے تفتیش نہیں ہوگی، صدر زرداری کا فیصلہ گلاب خان خبریں 2 03-05-10 11:22 AM
عورتوں کی شباہت اختیار کرنے کے بارے میں حدیث sahj مطالعہ حدیث 7 03-06-09 02:13 PM
محترمہ بے نظیر بھٹو کے خط کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے تو اسکاٹ لینڈ یارڈ سے تعاون کرنے کو تیار ہیں،بابر اعوان عبدالقدوس خبریں 0 06-01-08 07:08 AM
ملک بچانے کی خاطر عوام میر اساتھ دیں، دھاندلی کیخلاف تحر یک چلانے کیلئے بھی تیار ہیں،نواز شر یف خرم شہزاد خرم خبریں 0 17-12-07 08:22 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger