عقیدہِ ختمِ نبوت اور چند عباراتِ مرزا
الحمد للہ ہم مسلمان ہیں ۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے جو ساری کائنات کا مالک اور خالق ہے جو اپنی ذات و صفا ت میں یکتا اور واحد ہے ۔ وہی عبادت کے لائق اور معبو د و مسجو د ہے۔ ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ حضور اکرم حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آ خری نبی اور تمام نبیوں کے سردار ہیں ۔ قیامت تک آپ کے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی ۔ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم پر نبو ت کا سلسلہ ختم ہو گیا ۔ قرآ ن و حد یث میں بھی یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا دین آخری دین اور آپ کی اُمت آخری اُمت ہے ۔ دور صحابہ سے لے کر آ ج تک مسلمانوں کا یہ ایمان ہے کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جس کسی نے نبو ت کا دعویٰ کیا وہ کافر ، مر تد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اسی طرح اس کو نبی اور رسول ماننے والے بھی کا فر ہیں۔
مسلمانوں نے ایسے جھوٹے کاذب کے خلا ف علم جہاد بلند کیا اور اس کی جھوٹی نبو ت کو خاک میں ملا دیا ۔
عقیدئہ ختم نبوت دینِ اسلام کی بنیاد ہے ۔ دور ِ صحابہ سے آ ج تک پوری اُمت کا اس پر ایمان ہے کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں ۔
ختم نبوت کا تاج آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے سراقدس پر سجایا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشادر گرامی ہے
’’
ولکن رسول اللہ وخا تم النبین
‘‘
وہ اللہ کے رسول اور خا تم النبین ہیں
( سو رۃ احزاب)
حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی اور رسول ہونے پر قرآ ن مجید کی یہ ایک آیت ہی بطور دلیل کافی ہے ۔ جس میں آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعلان فر ما دیا گیا لہذا حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشر یف آواری کے بعد ہر قسم کی نبوتو ں اور رسالتوں کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گئے ۔ حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی تائید و تصدیق خود حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی ہو جا تی ہے ۔
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا ۔
’’
انا خاتم النبین لا نبی بعدی ‘‘
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کو ئی نبی نہیں۔
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد نے سارے جھو ٹے نبیوں کے دعوؤں کو پیوند خاک کر دیا ۔
حضور اکر م
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور موقع پر ارشا د فر مایا
’’
وانا آخر الانبیاء و انتم آخر الامم ‘‘
میں آخری نبی ہو ں اور تم آخری اُمت ہو ۔
( ابن ما جہ شریف)
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے یہ واضح ہوا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی دعویٰ نبوت کرے گا وہ کائنات کا سب سے بڑا جھوٹا اور کذاب ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت سے متعلق چند احادیث اور سنئیے اور اپنے ایمانوں کو مضبوط کیجئے۔
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔
رسالت اور نبو ت منقطع ہو چکی پس میر ے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی
( تر مذی شریف )
ترمذی شریف کی اس حد یث مبارکہ میں پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ نبی اور رسول کو الگ الگ ذکر فر مایا ہے کہ آپ کی دنیا میں تشر یف آواری کے بعد ہر قسم کی نبو ت ( ظلی ، بر و زی ) اور رسالت کا دروازہ بند ہو چکا ہے ۔ لہذا اب قیامت تک ہر سمت پر چم مصطفوی ہی لہراتا رہے گا۔
مسلم شریف میں ہے کہ
قیامت کے دن جب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو وہ کہیں گے کہ محمد کے پاس جائو لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے یا محمد انت رسول اللہ و خاتم الا نبیا ء ۔۔۔۔الخ
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کے رسول اور آ خری نبی ہیں
( مسلم شریف ص۱۱۱)
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ قیامت کے دن لوگ حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور نبی کے پاس نہیں جائیں گے ۔ کیو نکہ آپ کے بعد اگر کوئی اور نبی یا رسول مبعوث ہو تا تو وہ بعد میں اس کے پاس جاتے ۔ معلوم یہ ہوا کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں
حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور مو قع پر ارشا د فر مایا ۔
انی عبداللہ و خاتم النبین
میں اللہ کا بندہ اور خاتماالنبین ( آ خری نبی ) ہوں
( بہیقی شریف )
بخاری شریف میں ہے کہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! اے لو گو ! نبو ت کا کوئی جز باقی نہیں سوائے اچھے خوابوں کے
( بخا ری شریف )
اس حدیث مبارکہ میں بھی جھوٹی نبوتوں کے سارے دروازے بند کر دیے گئے اور حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں یہ اعلا ن فرما دیا کہ سلسلہ نبو ت ختم ہو چکا اور سلسلہ وحی بھی منقطع ہو چکا ۔ البتہ اجزائے نبوت میں سے ایک جز و مبشرات باقی ہے یعنی ایسے سچے خواب جو مسلمان دیکھتے ہیں ۔
بخاری شریف میں ہے کہ
سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصّہ ہے
( بخاری شریف)
ان مختصر سے دلائل سے یہ واضح ہو گیا کہ عقیدئہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقیدوں میں سے ایک ہے ۔ جس پر پوری ملت اسلامیہ کا اتفاق ہے۔ دو ر صحابہ سے اب تک تمام آئمہ دین ، محد ثین ، مجتہد ین اور بزرگانِ دین کا یہ فتویٰ اور فیصلہ ہے کہ حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کوئی دعویٰ نبوت کرے اور کوئی اسے نبی یا رسول مانے ایسا شخص کافر ، مر تد اور دائر ہ اسلام سے خار ج ہے۔
مسلمانو! اگر ہم ہندوستان کی تاریخ پر ایک سرسری سی نظر ڈالیں تو یہ معلوم ہو گا کہ مغلیہ سلطنت کے خاتمہ اور ہندوستان کی دھرتی پر انگریز قابض ہونے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کا جو حال ہوا وہ تاریخ میں ڈھکا چھپا نہیں۔ انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔ انہیں ہر وقت یہ فکر تھی کہ کہیں مسلمان متحد ہو کر انہیں ہندوستان کی حکمرانی سے محروم نہ کر دیں۔ چنا نچہ ۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریز حکومت کو میر جعفر اور میر صادق جیسے ضمیر فروش اور دین فروش مولویوں کی ضرورت تھی جنہیں بڑ ی بڑی جاگیریں اور جائیدادیں دے کر خریدا جا سکے۔ جو حکومت برطانیہ کے وفادار اور انگریز سرکار کے ایجنٹ ہوں ۔ چنانچہ انگریز حکومت نے ۱۸۵۷ء کے بعد اُمت مسلمہ کے دلوں سے عقیدئہ ختم نبوت اور جذبہ جہاد کو ختم کر دینے کے لئے بھار ت کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحیصل بٹالہ کے ایک گائوں قادیان کے رہنے والے ایک شخص کو منتخب کر لیا ۔ اس شخص کا نام مرزا غلام احمد تھا ۔ اس کی انگریز حکومت سے وفاداری کس درجے تھی اس کا اندازہ اس کی تحریر کردہ کتابوں سے لگایا جا سکتا ہے ۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے ۔
ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوں تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیر دوں ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد، وغیرہ کو دور کروں
( تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحہ ۱۰ ، مرزا غلام احمد قادیا نی)
مرزا قا دیانی ایک اور جگہ لکھتا ہے:۔
’’
میں نے مما نعت جہا د اور انگر یزی اطا عت کے با رے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الما ریا ں اس سے بھر جائیں۔
( تر یا ق القلو ب صفحہ ۲۵)
مرزا قادیانی کی انگریز حکومت سے وفاداری اور مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو ختم کر دینے کا اندازہ مذکورہ دو عبارات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ اور سنیئے’’ وہ لکھتا ہے کہ
’’
میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگریز کی تائید و حمایت میں گزرا ‘‘
مسلمانو ! انگریزوں کے اس آ لہ کار اور وفادار مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ
’’ ا
للہ نے اسے اس زمانے کی اصلاح کے لئے مامور کیا ہے اور وہ مہدی آخرالزماں اور مسیح موعود ہے ۔ اس اعلان کے چند سال کے بعد انگریزوں کے اس و فا دار نے 1901ء میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اس جھوٹے مد عی نے اپنی بناوٹی نبوت کا دعویٰ کرتے ہو ئے کہا : ۔
ہلاک ہو گئے و ہ جنہو ں نے ایک برگزیدہ رسول ( یعنی مرز ا قادیانی) کو قبول نہ کیا ۔ مبارک ہو اسے جس نے مجھے پہچانا ، میں خدا کی سب راہوں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیو نکہ میر ے بغیر سب اندھیرا ہے ۔
( دیکھئے کتاب کشتی نو ح ، ص ۵۶ )
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی ناپاک زبان سے ایک جگہ یہ بھی کہتا ہے کہ :۔
میں خدا کا رسول ، نبیوں کا پیرہوں ، سو ضروری ہے کہ ہر ایک نبی کی شا ن مجھ میں پائی جا ئے ۔
( دیکھئے کتاب تتمہ حقیقۃ الوحی ،ص ۸۴)
مرزا غلا م احمد قا دیانی اپنی کتابوں کو حق ثا بت کر تے ہو ئے لکھتا ہے کہ:۔
’’
میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اُٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں ، زنا کاروں کی اولاد ، جن کے دلوں پر خد ا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کر تے ‘‘۔
( دیکھئے آئینہ کمالات اسلام عربی عبارت ، ص۵۷۴،۵۴۸)
مر زا غلام احمد قا دیانی مسلمانوں کو گا لی دیتے ہو ئے مز ید لکھتا ہے کہ:۔
میرے مخالف جنگلو ں کے سور ہیں اور ان کی عو رتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔
( دیکھئے عربی عبارت نجم الہدیٰ ، ص ۱۰)
مرزا غلام احمد قادیانی مسلمانوں کو شیطان قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے ۔
’’
خدا نے مجھے ہزارہا نشانات ، معجزات دیے ہیں لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں شیطان ہیں وہ نہیں جانتے ‘‘۔
( چشمہ معر فت ص۳۱۷)
محترم مسلمانو! نبوت کے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلا ق سے گرے ہو ئے الفاظ آپ نے سنے جس سے اس کی گندی ذہنیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اللہ نے دنیا میں جتنے نبی بھیجے وہ سب کے سب اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے تھے۔ قرآ ن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد مصطفی
صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق کے بارے میں ارشاد فر ماتا ہے ۔
آپ تو بڑے ہی اخلا ق والے ہیں ۔ معلوم ہوا اللہ کا نبی اعلیٰ اخلا ق والا ہوتا ہے مگر آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلا ق کا اندازہ لگایا جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے کیا نیک بندوں کے اخلا ق ایسے ہی ہو تے ہیں! ہرگز نہیں ۔
ان مختصر سے حقائق سے اب یہ فیصلہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا وہ وفا دار اور پالتو کتا تھا جو اللہ کا نافرمان اور ختم نبوت کا منکر ہے ، جو انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہے جس نے اپنے نہ ما ننے والوں یعنی مسلمانوں کو حرامزادے ، سور اور شیطان کہا اور مسلمان عو رتوں کو کتیا ںقرار دیا ۔ جس نے اللہ کے آخری نبی حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے مقابل اپنی من گھڑت اور جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا ۔ لہٰذا جو مرزا غلا م احمد قادیانی کو نبی مانے یا اسے اچھا جانے ایسا شخص مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔
مسلمانو! قادیانی فرقہ اسلام کا بدترین دشمن ہے۔ جو پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے لیٹرے ہیں ۔
کیا حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی اُمتی اس کاذب و ملعون فرقہ سے تعلق قائم کر سکتا ہے ؟
کیا کوئی مسلمان کسی قادیانی کو اپنا دوست بنا سکتا ہے ؟
کیا کوئی مسلمان کسی قادیا نی گھرانے کو زیو ر علم سے آ راستہ کر سکتا ہے ؟
کیا کوئی مسلمان کسی کمیٹی یا کسی کابینہ میں قادیانی کو شامل کر سکتا ہے؟
کیا کوئی مسلمان کسی قادیانی کی ملازمت اختیار کر سکتا ہے؟
کیا کوئی مسلمان کسی قادیانی کی حمایت میں عدالت میں مقدمہ لڑ سکتا ہے؟
کیا کوئی مسلمان قادیانی کے ساتھ نرم رو یہ اختیارکر سکتا ہے؟
کیا کوئی مسلمان دنیوی لالچ اور خواہش نفس کی خاطر کسی قادیانی عورت سے شادی کر سکتا ہے؟
اگر کوئی ایسا کر تا ہے تو جا ن لو کہ وہ اپنے کر دار اور اپنے اعمال سے مسلمان ہو نے کی نفی کر رہا ہے ایسا شخص اسلا م کا وفا دار نہیں بلکہ اسلا م کا غدار ہے ایسے شخص کا انجام بھی بر و ز محشر قا دیانی فر قے کے ساتھ ہو گا۔ لہذ ا اے مسلمانو! عقید ئہ ختم نبو ت کو مستحکم کرو، قادیانیوں سے اپنی نفرت کا بھرپور مظاہرہ کرو۔ ان کی صحبت بد سے بچو اور اپنے رشتے داروں اور اپنے دوستوں کا بچائو۔
یاد رکھیئے قادیانی فتنہ مسلمانوں کو گمراہ اور بے دین کر نے کے لئے انگریزوں اور یہودیوں کی مدد سے کروڑوں ڈالر ماہانہ خرچ کر رہا ہے اور مسلمانوں کو میڈیا اور انٹر نیٹ کے ذریعے گمراہ اور بے دین کر رہا ہے ۔ سیدھے سادے مسلمان اسلامی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ان دجالوں کے دام فریب میں آ جاتے ہیں اور قادیانی مذہب اختیار کر کے اپنی آخرت برباد کر لیتے ہیں۔ قادیانی اسلامی لبادہ اوڑھ کر ہماری صفوں میں داخل ہو رہے ہیں جو انتہائی چالاکی اور ہو شیاری سے مسلمانوں کو قادیانی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ اس فتنہ سے بچنا اور ان کے خطرناک عزائم سے نئی نسل کو آگاہ کرنا اور تاجدار ختم نبوت حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور عقیدئہ ختم نبوت کو واضح کرنا ہر درد مند مسلمان کی دینی اور ملی ذمہ داری ہے ۔