واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


عقیدہ ختم نبوت قرآن حدیث کی روشنی میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-10-11, 10:53 PM   #1
عقیدہ ختم نبوت قرآن حدیث کی روشنی میں
نبیل خان نبیل خان آف لائن ہے 03-10-11, 10:53 PM

نبیوں میں نبی ایسا کہ خاتم الانبیا ٹھرا
حسینوں میں حسین ایسا کہ محبوب خدا ٹھرا

بسم اللہ الرحمٰن الرحمیم
پہلی آیت

ماکان محمد ابااحد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النبین وکان اللہ بکل شئ علیما
یہ بائسواںپارہ سورۃ احزاب کی چالیسویں آیت ہے جس میں اللہ تعالٰی نے نبی مکرم سید دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعلان فرمایا ہے ۔ اس آیت کا شان نزول مفسرین نے یہ زکر کیا ہے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متنبی و منہ بولے بیٹے تھے لیکن حقیقی بیٹے نہ تھے ۔ انہوں نے اپنی بیوی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دی ۔ بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مطلقہ سے نکاح کر لیا تو اس پر کفار نے طعنہ دیا کہ نعوذ بااللہ۔ یہ کیسے نبی ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کر لیا ہے ۔تو اس پر یہ آیت اتری کہ تمہارا یہ الزام بے محل ہے ۔ کیوں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں ۔ زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صلبی بیٹا تو نہیں ہے اس لیے فرمایا ۔ما کان محمد ابا احد من رجالکم ۔یہاں رجال رجل کی جمع ہے اور رجل بالغ مرد کو کہتے ہیں ۔تو اللہ کریم نے فرمایا کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تمام مردوں میں سے کسی ایک کے نسبی اور جسمانی باپ نہیں ہیں ۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو بیٹے تھے وہ بچپن میں انتقال فرما گے ۔ ان میں سے کوئی بھی حد بلوغ کو نہ پہنچا ۔پھر فرمایا : و خاتم النبیین : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ نبی کا لفظ عام ہے صاحب شریعت ہو یا نہ ہو اور رسول کا لفظ خاص ہے جو صاحب شریعت ہو جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا تو رسول بدرجہ اولٰی نہیں ہو گا ۔علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے روح المعانی میں ذکر کیا ہے کہ خاتم النبیین کا لفظ بتا رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیامیں وصف نبوت کے ساتھ متصف ہونے کے بعد اب کسی جن و انس میں یہ وصف نبوت پیدا نہیں ہو سکتی ۔اور وصف نبوت کا کسی میں پیدا ہونا منقطع اور ختم ہے ۔ اس لیے تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت ختم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوٰی کرنے والا دجال کذاب کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔پھر فرمایا : و کان اللہ بکل شیئ علیما :کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے اللہ کریم کے علم میں تھا کہ ایسے لوگ آئیں گے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا انکار کریں گے اور دنیا کو دھوکہ دیں گے ۔ اس لیے اللہ نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعلان کر دیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اظہار فر مادیا کہ یہ آخری نبی ہیں اب تم کو جو ضرورت پیش آئے اس کا حل اللہ کے قرآن اور پیغمبر کے فرمان میں ملیے گا

دوسری آیت
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا :
یہ آیت بھی ختم نبوت کی دلیل ہے ۔ اللہ کریم نے اس میں تین چیزیں ذکر کی ہیں
: ۱ : کہ اے نبی کے امتیو میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اب اس دین کے بعد کسی نئے دین کی ضرورت نہیں ہے ۔
: ۲: فرمایا میں نے تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی ہے وہ نعمت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت ہے لہٰذااب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہی۔
:۳: فرمایا میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا ہے اب تمہاری ہر ضرورت و مشکل کا حل اسلام میں ہے اب نئی شریعت نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے ۔
تیسری آیت:
وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین :
یہ بھی عقیدہ ختم نبوت کی دلیل ہے کہ اللہ کریم نے فرمایا اے محبوب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت عام ہے ۔ اس میں انسان اور جن اور ملائکہ اور انبیاء بھی مستفید ہو رہے ہیں ۔ تو اس رحمت کے بعد اب نئی نبوت کی ضرورت نہیں ہے جو اس نبوت سے باہر نکلے گا وہ زحمت میں جائے گا:

چوتھی آیت :
وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیراونذیرا :
یہ آیت بھی عقیدہ ختم نبوت کی دلیل ہے ۔ کہ اے پیغمبر ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے ۔ کافۃ کے لفظ نے ختم نبوت کا ڈنکا بجا دیاہے :
پانچویں آیت :
قل یاایھاالناسانی رسول اللہ علیکم جمیعا ن الذی لہ ملک السمٰوٰت والارض
اے پیغمبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان کریں کہ اے لوگو میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ وہ اللہ کہ جس کی بادشاہی آسمانوں اور زمینوں میں ہے ۔ تو یہ آیت اعلان کر رہی ہے کی جہاں جہاں اللہ کی بادشاہی ہے وہاں وہاں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی مصطفائی ہے :

چھٹی آیت :
یاایھاانبی انا ارسلناک شاھدو مبشرونذیراوداعیا الی اللہ باذنہ وسراجامنیرا :
اللہ کریم نے فرمایا کہ اے پیغمبر ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبشر بنا یا جو حق بات مانے اس کو جنت کی خوشخبری سناو اور آپ کو نذیر بنایا جو حق بات نہ مانے اس کو جہنم سے ڈرانے والا آپ کو داعی الی اللہ بنایا اور آپ کو سراج منیر بنایا ۔ چراغ روشنی دینے والا ۔اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سرج منیر کہا ۔اور اللہ نے سو رج کو سراج کہا اور چاند کو منیر کہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سراج منیر کہا اس سے اشارہ کیا کہ سورج کی روشنی دن کو ہے رات کو نہیں ، چاند کی روشنی رات کو ہے دن کو نہیں مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نبوت کی روشنی نہ دن کو ختم ہوتی ہے اور نہ رات کو ختم ہوتی ہے یہ روشنی سب کے لیے ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سب کے لیے ہیں ۔ پھر اشارہ کیا کہ دنیا کے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے شب کی ظلمت تھی رات کی تاریکی اور اندھیرا تھا جب سورج آیا اندھیرا گیا سویرا ہو گیا تو اسی طرح اس دین کے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے کفر و شرک و بدعات کے اندھیرے تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے دین کا سورج طلوع ہوا تو کفر و شرک کی تاریکیاں ختم ہوئیں ۔ اور توحید و سنت کا سویراہوا ۔ پھر اس میں یہ اشارہہے کہ جیسے رات کو چاند اور ستارے ہوتے ہیں ان کی چمک ہوتی مگر جب سورج آتا ہے تو ان کی روشمی ختم ہو جاتی ہے تو اسی طرح حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے انبیاء کرام جو ستاروں کی مانند تھے ا ور ان کی نبوت کی چمک تھی ان کی شریعت تھی مگر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو تمام انبیاء کرام کی نبوت و شریعت ختم ہو گئی ۔ اب ہر جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی روشنی ہو گی اور اس سے لوگوں کو روشنی ملے گی،ہدایت ملے گی ۔ اس آفتاب نبوت کے بعد اب کسی نبوت کی ضرورت نہیں ہے
:
جس طرح آیات قرآنیہ میں ختم نبوت کے عقیدہ کا ذکر ہے اسی طرح احادیث نبویہ میں بھی عقیدہ ختم نبوت کاذکر ہے :
پہلی حدیث :
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا :او تیت ستالم یعطھن احد من الانبیاء قبلی:
کہ اللہ نے مجھے تمام انبیاء پر چھ چیزوں کی وجہ سے فضیلت عطا فرمائی ہے ۔
پہلی چیز :
اوتیت جومع الکلم ۔ اللہ نے مجھے ایسے کلمات عطا فرمائے ہیں جو جامع ہیں۔
دوسری چیز : ونصرت بالرعب ۔ اللہ نے میری مدد رعب کے ذریعہ فرمائی
۔
تیسری چیز : واحلت لی الغنائم ۔ اللہ نے میرے لیے مال غنیمت کو حلال کر دیا ۔ جو پہلی امتوں کے لیے نہ تھا ۔
چوتھی چیز :وجعلت لی الارض مسجداوطھورا ۔اللہ نے روئے زمین کو جائے نماز یعنی نماز پڑھنے کی جگہ بنایا اور پاک کرنے کا ذریعہ یعنی تیمم کرنے کا ذریعہ بنایا ۔
پانچویں چیز : وارسلت الی الخلق کافۃ۔اللہ نے مجھے تمام مخلوق کے لیے رسول بنا کر بھیجا ۔
چھٹی چیز : وختم بی النیون ۔اللہ نے مجھے تمام نبیوں کے آخر میں بھیجا ۔ اور مجھ پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا
دوسری حدیث :
مسجدی ھذا آخر مساجدالانبیاء وانا آخرالانبیاء لا نبی بعدی وانتم آخرالامم لا امۃ بعدکم ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری یہ مسجد نبوی تمام انبیاء کی مسجدوں سے آخری مسجد ہے اور میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا اور تم آخری امت ہو تمہارے بعد کوئی امت نہ ہو گی ۔
تیسری حدیث :
حضرت عربا ض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انی عنداللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی الطین ۔کہ اللہ کے پاس مجھ کو خاتم انبیین لکھ دیا گیا جب کہ حضرت آدم علیہ اسلام کا وجود ظاہر نہ ہواتھا بلکہ آپ ابھی مٹی میں تھے ۔
چوتھی حدیث :
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔کہ میری اور پہلے انبیاء کی مثال اس جیسی ہے کہ جیسے کسی شخص نے ایک مکان بنایا ہے جو بہت عمدہ اور بہت خوبصورت اور اچھا ہے لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑی ہوئی ہے تو لوگ اس مکان کے ارد گرد چکر لگاتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور اس مکان کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں ۔ ویقولون ھلا وضعت حذہ اللبنۃ ۔ کہتے ہیں یہ ایک اینٹ کی جگہ باقی نہ ہوتی ۔ قال فانااللبنۃ وانا خاتم النبیین ۔ فرمایا وہ نبوت کا سلسلہ جو حضرت آدم علیہ اسلام سے چلا اور مجھ پر ختم ہوا ۔ قصر نبوت میں جو ایک اینٹ کی جگہ باقی تھی وہ آخری اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔
پانچویں حدیث :
بیہقی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ۔ کہ ایک اعرابی آیا اور کہنے لگا میں آپ کی تصدیق نہیں کروں گا یہاں تک کہ یہ گوہ آپ کی تصدیق کرے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من انا یا ضب : اے گوہ میرے بارے میں بتلا ۔ تو اس گوہ نے فصیح عربی میں جواب دیا جس کو میں نے سمجھا کہنے لگی ۔لبیک وسعدیک یارسول رب العٰلمین ۔ اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں آپ بتلائیں آپ کیا فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من تعبد ۔ تو کس کی عبادت کرتی ہے تو گوہ نے کہا ۔ میں اس کی عبادت کرتی ہوں جس کا عرش آسمان میں ہے اور جس کی بادشاہی اور حکومت زمین میں ہے اور جس نے سمندر میں راستے بنائے ہیں اور جس کی رحمت کا منظر جنت میں ہے اور جس کے عذاب کا منظر جہنم میں ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من انا :میں کون ہوں : تو اس نے کہا انت رسول رب العٰلمین و خاتم النبیین ۔ آپ رب العٰلمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں ۔
عزیز دوستو : اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سب کے لیے ہے آپ انسانوں کے نبی ہیں ،آپ جنوں کے نبی ہیں ، آپ فرشتوں کے نبی ہیں ، آپ آسمانوں کے نبی ہیں ، آپ زمینوں کے نبی ہیں ، آپ تمام نبیوں کے نبی ہیں ، غرضیکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات کے نبی ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی برکت سے زہد کا ہر گوشہ آئے گا لیکن نبوت سے نبوت نہیں آئے گی ۔ آپ کی نبوت کی برکت سے صداقت آئے گی ، عدالت آئے گی سخاوت آئے گی ،شجاعت آئے گی ، دیانت آئے گی وفاآئے گی ،تمنا،رضا،صبر، تحمل،تجمل،جمال،جلال،عقائد ،اخلاق،اعمال، آئینگے ۔مگر نئی نبوت نہیں آے گی۔ الوھیت میں خدا یکتا ہے نبوت میں میرا محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم یکتا ہیں ۔خدا رب العٰلمین ہے ،کعبہ ھدی اللعٰلمین ہے ، قرآن ذکرللعٰلمین ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں
برادران اسلام : ختم نبت کا عقیدہ اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے اس کے بغیر انسان کا ایمان و اسلام مقبول نہیں ہے اس لیے ہر مسلمان ختم نبوت کا عقیدہ رکھے ۔ عقیدہ ختم نبوت اتنا اہم ہے کہ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات میں اس کا ذکر ہے ۔ اور دو سو دس احادیث میں اس کا ذکر ہے ۔جس میں سے ایک سو سے زیادہ احادیث متواترہ ہیں ۔جن میں سے میں نے چند آیات اور احادیث کا ذکر کیا ہے ۔
اللہ کریم ہم سب کرعمل کی تو فیق عطا فرمائے آمین یا رب العٰلمین
رضیت بااللہ ربا وبالاسلام دیناو بمحمدنبیاو ورسولا
نہ جب تھا نہ اب ہے نہ ہوگامیسر
شریک خدا اور جواب محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Last edited by نبیل خان; 12-10-11 at 10:44 AM..

نبیل خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
شکریہ: 8,476
1,585 مراسلہ میں 3,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 493
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (03-10-11), آبی ٹوکول (03-10-11), بنت حوا (25-11-11), حسن قادری (25-11-11), رضی (10-10-11), سیفی خان (03-10-11)
پرانا 03-10-11, 11:00 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,573
شکریہ: 442
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کوئی شخص کثرت عبادت محنت اور مجاہدہ سے نبی نہیں بن سکتا؛ البتہ اپنی کوشش وعبادت سے انسان ولی بن سکتا ہے، مگر افسوس ہے انیسویں صدی عیسوی میں صوبہ پنجاب ضلع گورداسپور کے قصبہ قادیان میں پیداہونے والے مرزاغلام احمد پر کہ وہ... اپنے ولی ہونے کا جھوٹا دعویٰ تو کیا کرتے انھوں نے صاف نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کردیا، حالانکہ عقیدئہ ختم نبوت ایک سو آیات قرآنیہ اور دوسو سے زائد احادیث نبویہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔

نمونہ کے طو رپر چند آیات واحادیث ملاحظہ ہوں:

(۱) مَا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّین . (الاحزاب:۴۰ پارہ:۲۲)
محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔

یہ آیت بطریق عبارة النص ختم نبوت کو ثابت کررہی ہے، اور دوسری آیات سے بھی بطور اقتضاء النص واشارة النص ودلالة النص یہ مسئلہ ثابت ہے۔

(۲) اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلاَمَ دِیْنًا. (المائدہ:۳، پارہ:۶)
آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو پورا کردیا اور اپنی نعمت تمہارے اوپر پوری فرمادی اور تمہارے لئے اسلام کو پسند کیا دین ہونے کی حیثیت سے۔
جب دین مکمل ہوچکاتو نبی کے آنے کی ضرورت بھی ختم ہوگئی۔

(۳) قُلْ یٰٓأَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا الذِیْ لَہ مُلْکُ السَّمٰوَاتِ وَالأَرْضِ. (الاعراف:۱۵۸، پارہ:۹)

آپ فرمادیجئے کہ میں تم سب کی طرف سے اس اللہ کا پیغمبر ہوں جس کے لئے آسمانوں اور زمینوں کی حکومت ہے۔
جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بعثت عام ہوچکی سبھی لوگوں کی طرف تو اب کسی اور نبی کی ضرورت نہیں۔
اسی طرح حضور صلى الله عليه وسلم نے احادیث متواترہ میں اپنے آخری نبی ہونے کا اعلان فرمایا اور ختم نبوت کی ایسی تشریح فرمائی کہ جس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم کے آخری نبی ہونے میں کوئی شک وشبہ اور تاویل کی گنجائش نہیں رہی۔
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (03-10-11), مرزا عامر (04-10-11), آبی ٹوکول (03-10-11), بنت حوا (25-11-11), حسن قادری (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 12:35 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,573
شکریہ: 442
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ. (ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب الرويا، 4 : 163، باب : ذهبت النبوة، رقم : 2272)

ترجمہ : اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔

اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ. (ترمذي، السنن، کتاب الفتن، باب : ماجاء لا تقوم الساعة حتی يخرج کذابون، 4 : 499، رقم : 2219)

ترجمہ: میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

اگر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ کسی معنی میں ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روئے زمین کی ہر قوم اور ہر انسانی طبقے کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتب کے احکام منسوخ کرنے والی اور آئندہ کے لیے تمام معاملات کے احکام و قوانین میں جامع و مانع ہے۔ قرآن کریم تکمیل دین کااعلان کرتا ہے۔ گویا انسانیت اپنی معراج کو پہنچ چکی ہے اور قرآن کریم انتہائی عروج پر پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد کسی دوسری کتاب کی ضرورت ہے ، نہ کسی نئے نبی کی حاجت۔ چنانچہ امت محمدیہ کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ انسانیت کے سفر حیات میں وہ منزل آ پہنچی ہے کہ جب اس کا زہن بالغ ہو گیا ہے اور اسے وہ مکمل ترین ضابطۂ حیات دے دیا گیا، جس کے بعد اب اسے نہ کسی قانون کی احتیاج باقی رہی نہ کسی نئے پیغامبر کی تلاش۔
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (25-11-11), بنت حوا (25-11-11), حسن قادری (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 02:44 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,455
شکریہ: 8,476
1,585 مراسلہ میں 3,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رسول مجتبٰی کہیے ، محمد مصطفٰی کہیے
خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر اس کے بعد کیا کہیے

شریعت کا ہے یہ اصرار کہ ختم الانبیاء کہیے
محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب خدا کہیے
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (25-11-11), ملک اظہر (25-11-11), بنت حوا (25-11-11), حسن قادری (25-11-11), سیفی خان (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 05:14 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Oct 2011
مراسلات: 1,133
کمائي: 12,503
شکریہ: 3,416
697 مراسلہ میں 1,606 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ ۔
بنت حوا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-11-11, 06:50 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 329
کمائي: 6,276
شکریہ: 2,159
266 مراسلہ میں 789 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء
قاسمی آف لائن ہے   Reply With Quote
قاسمی کا شکریہ ادا کیا گیا
ملک اظہر (25-11-11)
پرانا 25-11-11, 07:07 PM   #7
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک عقیدہ ختم نبوۃ کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
حسن قادری کا شکریہ ادا کیا گیا
ملک اظہر (25-11-11)
جواب

Tags
پاک, پسند, قرآن, لوگ, نماز, مکمل, مجید, مسجد نبوی, ایمان, اللہ, الزام, انسان, اسلام, بچپن, توحید, حدیث, ختم نبوت, خدا, دجال, رات, ستارے, شخص, طلاق, عبادت, عدالت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اسا مہ بن لاڈن کی موت یا موت کا ڈرامہ ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی سیفی خان عمومی بحث 18 10-06-11 12:38 AM
بغاوت کامیاب ہو جائے تو انقلاب بن جاتی ہے اور انقلاب ناکام ہو جائیں تو بغاوت کہلاتے ہیں ذوالفقار علی عمومی بحث 1 30-04-11 09:28 PM
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے۔۔۔۔ ایک نمازی کی سجدے کی حالت میں موت(ویڈیو) ایکسٹو متفرقات 2 09-03-11 01:54 PM
موت دی جائے یا نہیں فیصل ناصر عمومی بحث 4 04-03-11 08:34 AM
ہمارے صدر علم و دانش کا منہ بولتا ثبوت ہیں وجدان سیاست 17 10-12-08 10:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger