بسم اللہ وحدہ و الصلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ محمد و علی آلہ و اصحابہ و ازواجہ
::::: فرقہ قدریہ، فرقہ جبریہ اور فرقہ مرجئہ کے عقائد ::::::
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
منتظمین بھائی نے
ایک تھریڈ میں قدری فرقے کے عقائد کے بارے میں پوچھا ،
اسی تھریڈ میں مرجئہ کے بارے میں بھی کچھ بات ہے ، گو کہ وہاں بات الگ الگ ہے ، لیکن ان تینوں کے عقائد کے مطابق ان کا تعارف اکٹھے ہی پیش کیا جانا بہتر ہے،
اس کے علاوہ
اس تھریڈ میں زیر بحث اعتراضات کی صحیح تفہیم کے لیے بھی یہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قدریہ ، اور اس کی ضد جبریہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ مرجئہ کا بھی ذکر کیا جائے ،
میں یہاں اس تھریڈ میں ، ان فرقوں کے صرف ان بنیادی عقائد کا اجمالی ذکر کروں گا جو کہ کتاب اللہ اور سنتء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و افعال کے خلاف تھے ، اور ان عقائد کی بنا پر ان عقائد کے حاملین کو عُلماء کرام رحمہم اللہ نے الگ الگ فرقہ قرار دیا ،
خیال رہے کہ مسلمانوں میں بہت قدیم سے عقائد میں اختلاف شروع ہو گیا ، اور اس اختلاف کی بنا پر کئی فرقے نمودار ہوئے جن میں کچھ تو اسلام کی حدود میں سے خارج ہونے والے عقائد اپنائے ہوئے تھے ، اور کچھ ایسے عقائد اپنائے ہوئے تھے جو اسلام سے خارج کرنے والے تو نہ تھے لیکن ایمان میں نقص اور انتہائی کمزوری کا یقینی سبب تھے، ایسے فرقوں کو گمراہ ، بدعتی ، اور عقائد کے باب میں فاسق وغیرہ تو کہا گیا لیکن کافر نہیں ،
میں یہاں جو معلومات مہیا کر رہا ہوں وہ تعارف کی حد تک اجمالی معلومات ہیں ، نہ کہ کسی عقیدے کے کفر ہونے کی بابت کوئی بات کی جا رہی ہے ، اور نہ ہی ان عقائد کی تفصیل ،
جی اگر کوئی ان عقائد میں سے کفر والے عقائد کو جاننا یا سمجھنا چاہے تو مزید بات کی جا سکتی ہے ، قارئین کرام اس بات کو ذہن نشین رکھیں کہ یہاں مذکورہ بالا فرقوں کے جو عقائد بتائے جائیں گے وہ بلا شک و شبہ گمراہی پر مبنی اور کتاب اللہ اور سنت ء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور جماعتء صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعلیمات اور اعمال کے خلاف ہیں ، یعنی غیر اسلامی ہیں ،
:::::: قدریہ :::::::
یہ وہ لوگ تھے اور ہیں جو قدر یعنی تقدیر کا انکار کرنے والے تھے اورہیں ،
ان میں دو اقسا م کے لوگ ہیں ،
:::::: (۱) ::::::: وہ لوگ جو بالکل ہی تقدیر کے منکر ہیں ،
یہ لوگ انسانوں کے اپنے تمام افعال کا خالق مناتے ہیں ، خواہ وہ فعل خیروالا ہو یا شر والا ، اس طرح یہ لوگ اللہ کی مشیئت اور ارادے کے، اور اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں اس کی قدرت کے ہونے کے انکاری ہو گئے ،
:::::: (۲) ::::::: وہ لوگ جو جزوی طور پر تقدیر کے منکر ہیں ،
یہ لوگ وہ ہیں جو شر والی تقدیر کا انکاری ہیں اور کہتے ہیں کہ:::
""""" شر والی تقدیر اور افعال کا خالق اللہ نہیں """""
اِس طرح یہ لوگ مجوسیوں کے ہم نوا ہو گئے جو خدائےءخیر اور خدائے شر ،دوسرے الفاظ میں خدائے نور اور خدائے ظُلمات کے وجود کا عقیدہ رکھتے تھے اور ان دونوں خداوں کا ایک بڑا خدا """ یزداں """ کے وجود کا عقیدہ رکھتے تھے ، قدریہ میں اس تیسرے باطل معبود """ یزداں """ کے وجود جیسا تو کوئی عقیدہ نہ آیا لیکن خیر اور شر والی تقدیر اور افعال کے الگ الگ خالق مانے ، خیروالے افعال کا خالق اللہ اور شروالے افعال کا خالق انسان خود ،
ان عقائد کی توجیہ میں وہ لوگ درج ذیل خرافاتی فلسفہ پیس کرتے ہیں کہ :::
""""" انسان کے افعال کے بارے میں اس کے اختیار اور قدرت کی جو خبر یں ہمیں قران و سنّت میں ملتی ہیں، اور جو خبریں اللہ کی مقرر کردہ تقدیراور اس میں اللہ کی مشیئت اور قدرت کے بارے میں ملتی ہیں ان میں اتفاق کرنا نا ممکن ہے ، کیونکہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیراور اس میں اللہ کی مشیئت اور قدرت کو اگر بندوں کے افعال پر بھی نافذ مانا جائے تو پھر انہیں سزا اور جزاء کیوں ؟
لہذا معاملہ یہ ہے کہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر اور اللہ کی مشیئت اور قدرت کے بارے میں جو خبریں ہیں وہ بندوں کے افعال کے بارے میں نہیں ہیں ( یعنی معاذ اللہ بندوں کے افعال اس سے خارج ہیں)پس بندے صرف اپنی ہی مشیئت اور اِرادے سے اپنے خیر یا شر والے افعال کےخالق و فاعل ہیں ۔ """""
و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ، و نعوذ بہ من کل ضلالۃ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:::::: جبریہ :::::::
جبریہ کے عقائد قدریہ کے عقائد کی ضد ہیں ،
انہوں نے تقدیر کے اثبات میں اس قدر غلو کیا کہ انسان کو ایک مجبورء محض سمجھ لیا ، ان کا کہنا ہے کہ :::
""""" انسان کا کوئی فعل در حقیقت اس کا فعل ہی نہیں ، کیونکہ انسان کے لیے اپنے افعال کے اختیار و رد میں کوئی آزادی نہیں ، جو کچھ اس کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے وہ اس کے مطابق کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے ، جیسا کوئی خس و خاشاک کاتنکہ ہوا میں بلا اختیار و ارادہ اُڑتا ہے ،
اور یہ جو کسی فعل کی نسبت کسی انسان کی طرف کی جاتی ہے اور اسے اس کا فاعل کہا جاتا ہے، مثلا ً کہ اس نے نماز پڑھی ، اس نے روزہ رکھا ، اس نے جہاد کیا وغیرہ ، تو یہ محض مجازی قول ہے ، جیسا کہ کہا جاتا کہ سورج طلوع ہوا ، چاند غروب ہوا، اور بادل برسے وغیرہ وغیرہ ۔ """"""
اس غیر اسلامی عقیدے کی بنا پر جبریہ نے اللہ تعالیٰ پر بندوں کو ان کی طاقت سے زیادہ کاموں کے حکم دینے کا ، اور بندوں کو ایسے کاموں پر عذاب دینے میں ظلم کرنے کا الزام لگا دیا جو کام (جبریہ کے باطل عقیدے کے مطابق) حقیقتاً بندوں کے افعال ہی نہیں ، اور اس طرح یہ لوگ اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی حکمتء بے عیب اور مکمل بے نقص انصاف و عدل کے منکر ہوگئے ۔
و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ، و نعوذ بہ من کل ضلالۃ ،
ان شاء اللہ اگلی فرصت میں مرجئہ کے عقائد پیش کروں گا ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کواور ہمارے سب مسلمان بھائی بہنوں کو ہر گمراہی سے محفوظ رکھے،و السلام علیکم۔