| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 281
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,455
شکریہ: 8,476
1,585 مراسلہ میں 3,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی : محمدی بیگم مرزا احمد بیگ کی بیٹی تھی ۔ مرزاکے چچا زاد بھائی مرزا نظام الدین ،مرزا کمال الدین ، مرزا امام الدین محمدی بیگم کے حقیقی ماموں تھے مرزا غلام ۔قادیانی کے بیٹے فضل احمد کی بیوی محمدی بیگم کی پھوپھی زاد بہن تھی ۔مرزا غلام ۔ ۔ ۔قادیانی اس لڑکی سے نکاح کے بارے میں خود لکھتا ہے ۔ : یہ جس کے نکاح کی طلب ہے ایک کمسن چھوکری ہے اسے کسی نے نہیں چھوا ہے اور میں ا س وقت پچاس سال سے تجاوز کر چکا ہوں ۔ ( آئینہ کمالات اسلام ص ۵۷۴ ) مرزاغلام۔ ۔ قادیانی نے اس لڑکی کا انتخاب کیوں کیا اس کے بارے میں مرزا غلام ۔ ۔ قادیانی خود لکھتا ہے : چار بجے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود ا اورایک عورت بیٹھی ہے ۔۔وہ عورت یکایک سرخ اورلباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی کیا دیکھتا ہوں کہ جوان عورت ہے ۔۔ ۔میں نے د ل میں خیال کیا یہ وہی عورت ہے جس کے لیے اشتہار دیے تھے اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی اس نے کہا میں آگئی ہوں ۔ ( تذکرہ ص۸۳۱ ) مرزا کی خواہش ہوتی تھی کہ جوخواب یکھے اسے ظاہرا بھی پورا کرے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی محمدی بیگم سے شادی کی کوششیں مرزا امام الدین کا ایک بھائی مرزا غلام حسین مفقودالخبر ہو گیا تھا اس کی بیوی مرزا احمد بیگ کی بہن تھی ۔ (اور یہ مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کے والد ہیں ) اس مفقودالخبر کی جائیداد بہن کے واسطہ سے مرزا احمد بیگ کو تب مل سکتی تھی کہ مرزا غلام حسین کے بھائیوں کے کی بھی اجازت ہو۔ احمد بیگ ان کا بہنوئی تھا وہ اس پر راضی تھے جدی جائیدادہونے کی وجہ سے برٹش لاء میں مرزا غلام احمد کی اجازت بھی ضروری تھی ۔ گو شرعًا اس کا اس پر حق نہ بنتا تھا ۔مرزا احمد بیگ ( مرزا کا ماموں زاد بھائی ) مرزا سے دستخط کروانے آیا ۔ تو مرزا نے یہ شرط لگا دی کہ اپنی کمسن بیٹی کی شادی مجھ سے کر دے اور یہ زمین لے ۔لے ۔مرزا احمد بیگ مرزا غلام قادیانی کی اس خواہش پر حیران رہ گیا ۔ اسے غیرت آئی اور واپس چلا گیا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مرزا احمد بیگ سے کہا کہ مجھے تو اللہ نے وحی کی ہے کہ احمد بیگ سے یہ لڑکی مانگ ۔ چناچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے : (ترجمہ عربی عبارت ) اللہ الباقی کی طرف سے مجھے الہام کیا گیا اور مجھے خبر دی گئی میرا خیال بھی کبھی اس طرف نہ گیا تھا اور نہ میں کبھی اس کا منتظر تھا اللہ تعالٰی نے مجھے وحی کی کہ تواس کی بیٹی کا رشتہ اپنے لیے مانگ اور اسے کہ وہ تجھے اپنی دامادی میں قبول کرے پھر تجھ سے وہ حصہ لے اور کہہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تیری مطلوبہ زمین تجھے ھبہ کروں اور اس کے ساتھ اور زمین بھی اور میں تجھ پر اور بھی بہت سے احسانات کروں گا اس شرط سے کہ تو اپنی دختر کلاں میرے نکاح میں دے ۔ ( آئینہ کمالات اسلام ص۲۷۵ ) مرزا قادیانی اس نکاح کے لیے اتنا بے قرار تھا کہ ا نکار کے ڈر سے مرزا احمد بیگ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : اور اگر تو نے یہ بات نہ مانی تو جان لے کہ اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شحص سے اس کے لیے اور تیرے لیے ہر گز مبارک نہ ہو گا تو نکاح کے بعد تیں سال میں مر جائے گا اور اسی طرح اس کا خاوند ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا اور آخر کار یہ میرے نکاح میں آکر رہے گی َ اور پھر یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ : میں تیری بیٹی محمدی بیگم کو اپنی کل زمین کا اور اپنی ہر مملوکہ چیز کا تیسرا حصہ بطریق عطاء دوں گا اور تو جو بھی مانگے تجھے دوں گا ۔۔ یہ جو میں نے تجھے خط لکھا ہے اپنے رب کے حکم سے لکھا ہے ( آئینہ کمالات اسلام ص ۳۷۵ ) دیکھیے مرزائیوں کا نبی اس نکاح کی خاطر کس طرح منتیں کر رہا ہے اور خوشامد اور چاپلوسی میں سب کو مات دے رہا ہے : جب مرزا احمد بیگ نے اپنی بیٹی مرزا سلطان محمد کے نکاح میں دے دی ۔ تو پھر بھی مرزا قادیانی نے ہمت نہیں ہاری اور کہا میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے اس کا انتظار کرو ۔ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو وہ پیشگوئی پو ری نہیں ہو گی اور میری موت آ جائے گی ۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ص ۱۳ ) مرزا سلطان محمد کی موت کی پیشگوئی مرزا قادیانی نے پیشگوئی کی تھی کہ اگر محمدی بیگم مرزا سلطان محمد سے بیاہی گئی تو مرزا سلطان محمد ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا ۔ اور یہ بھی کہاور اگر میں جھوٹا ہوں تو وہ پیشگوئی پو ری نہیں ہو گی اور میری موت آ جائے گی (ضمیمہ انجام آتھم ص ۱۳ ) تاریخ گواہ ہے کہ مرزا قادیانی کی 1908ء میں موت آ گئی اور مرزا سلطان محمد زندہ رہا اور 1914ء کی جنگ میں بھی شامل ہوا اس کے سر پر گولی بھی لگی مگر وہ نہ مرا ۔ مرزا سلطان محمد کے محمدی بیگے سے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں ۔ جو مرزا قادیانی کے کذب کی چلتی پھتی تصویریں تھے ۔ مرزا قادیانی اس کی مو ت کو تقدیر مبرم کہتا تھا مگر مرزا کی اپنی تقدیر بدل چکی تھی نہ محمدی بیگم مرزا کی زندگی میں بیوہ ہوئی اور نہ مرزا کے نکاح میں آئی ۔اور مرزا قادیانی چلتا بنا : جب محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان سے ہو گئی تو مرزا قادیانی پریشان ہو گیا اور جھوٹ پہ جھوٹ بولنا شروع کر دیئے ۔اور حواس باختہ ہو گیا اور ہر طرح کی کوشش کی کہ کسی طرح محمدی بیگم سے شادی ہو جائے مرزاقادیانی کی ایک اور پیشگوئی خداتعالٰی نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایاکہ مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں : محمدی بیگم : انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی ۔۔۔ خدا ہرطرح سی اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو پورا کرے گاکوئی نہیں جو اس کو روک سکے ۔ (ازالہ اوہام ص۶۰۳۔روحانی خزائن ج۳ ص۵۰۳ ) ۔مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی خدا کی محبت میں ا س قدر ڈوبا ہوا تھا کہ وہ نہ چاہتا تھا کہ خدا کی خبریں غلط نکلیں ۔مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد سے کہا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے کیونکہ اس کے رشتہ دار محمدی بیگم کو اس کے نکاح میں نیں دے رہے چناچہ فضل احمد نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ پھر مرزا قادیانی نے فضل احمد کی ماں اپنی پہلی بیوی کو جومحمدی بیگم کے خاندان میں سے تھی طلاق دے دی تاکہ اس خاندان کو زیادہ سے زیادہ تنگ کیا جا سکے ۔اور وہ مجبور ہو کر میری بات مان لیں ۔ مرزا قادیانی کا اشتہار۱894 ء اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے متعلق الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے : لا تبدیل لکلمات اللہ: یعنی میری یہ بات نہیں ٹلے گی پس اگر ٹل جاوے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہی۔ (اشتہار ۶ اکتوبر 1894ء۔تبلیغ رسالت ج۳ ص۵۱۱ ٰ) قارئین کرام : غور فرمائیں کہ تقدیر مبرم اور لا تبدیل لکلمات اللہ ۔ کا کیا انجام ہوا ۔مرزا قادیانی نے خدا کے نام سے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی بار بار کی اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنی سزا خود تجویز کی : ہمیشہ کی لعنتوں کی خبر مرزا قادیانی لکھتا ہے : اگر یہ پیشگوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر ۔۔ اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا ۔اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ لوگ مجھ پر ہمیشہ لعنت کرتے رہیں ۔مرزا کی یہ سزا محمدی بیگم سے نکاح نہ ہونے کی وجہ سی ہے ۔( اشتہار ۷۲ اکتوبر ۴۹۸۱ئ) مرزا نے کہا کہ میں دجال ہوں اگر یہ پیشگوئی خدا کی طرف سے نہیں تو میں نا مراد ، ملعون ،مردود ، ذلیل اور دجال ہوں ۔ (اشتہار ۶ اکتوبر۴۹۸۱ئ) ااب چاہیے کہ مرزائی ۔ مرزا قادیانی کے ان بیانات پر آمین کہیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ اس کے مقتدی اور امتی ہیں ، اب جب یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی تو مرزا قادیانی پر یہ سزا جاری ہونی چاہیے مخالفین تومرزا پر ہمیشہ یہ لعنت والی سزا جاری رکھتے ہیں لیکن یہ فرض اس کے ماننے والوں کا بھی ہے کہ وہ مرزا قادیانی پر یہ سزا جاری کریں تاکہ دنیا جان لے کہ مر زاقادیانی کی بات جھوٹی نکلی ا ور یہ خدا کی بات نہ تھی ۔ جو پیشگوئی کسی کے صادق و کاذب ہونے کا معیار قرار دی گئی ہو اور اس کے پورا ہونے کا انتظار عوام اور خواص دونوں کو برابر لگا ہو ا ہو اس میں کسی باریک تاویل کو راہ نہیں دی جا سکتی یہ اس لیے کہ صادق و کاذب کی اس پہچان میں عوام کو بھی اسے پہچاننے کا برابر کا حق حاصل ہے مرزا قادیانی خود بتائے کہ اللہ تعالٰی کے اس ارادہ کو کس نے توڑا ؟ مرزا قادیانی کا ایک اور انداز مرزا قادیانی لکھتا ہے : خدا کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہو گی اور دوسرے بیوہ ۔ چناچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالٰی چارپسر اس سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے ۔ (تریاق القلوب ص 35۔روحانی خزائن 15 ص201 ) مرزا قادیانی نے جو یہ لکھا ہے کی: میرے خدانے مجھے بشارت دی ہے کہ دو عورتیں تیرے نکاح میں لائوں گا ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ ۔۔۔ کیا کوئی قادیانی بتا سکتا ہے کہ وہ کون سی بیوہ عورت ہے جس سے مرزا قادیانی نے نکاح کیا ۔ مرزا سلطان محمد تو مرا نہیں اور نہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کی زندگی میں بیوہ ہوئی کیونکہ مرزا قادیانی نے خود پیشگوئی کی تھی کہ: اگر محمدی بیگم مرزا سلطان محمد سے بیاہی گئی تو مرزا سلطان محمد ڈھائی سال کے اندر اندر مر جائے گا ۔ اور یہ بھی کہا ور اگر میں جھوٹا ہوں تو وہ پیشگوئی پو ری نہیں ہو گی اور میری موت آ جائے گی (ضمیمہ انجام آتھم ص ۱۳ ) بردران اسلام آپ ذرااس دعوٰی پر بھی غور کریں کہ مرزا قادیانی کے الہام اور وحی کا کیا حال ہوا مرزا سلطان محمد تو مرزا کی پیشگوئی کے مطابق فوت نہ ہوا اور مرزا قادیانی خود 1908ء کوقبر میں جا پہنچا اور مرزا قادیانی اپنی خواہش کو پورا کیئے بغیر ہی مر گیا اور محمدی بیگم کا خاوند مدت دراز تک زندہ رہا اور پورے چالس سال بعد 1948ء کو فوت ہوا ۔ اور مرزا قادیانی اپنی پیشگوئی کے مطابق جیسا کی اس نے خود لکھا : جو شخص اپنے دعوٰی میں کاذب ہو اس کی پیشگوئی ہر گز پوری نہں ہوتی ۔(آئینہ کمالات اسلام ص ۲۲۳۔روحانی خزائن ج۵ ص ۲۲۳ ) اہم بات مرزائی مسلمانوں کے ذہنوں میں حضرت مہدی اور حضرت عیسٰی علیہ اسلام کے مسائل کیوں ڈالتے ہیں محض اس لیے کہ مسلمان عوام مرزا قادیانی کی اس قسم کی باتوں پر غور نہ کریں اور نہ ان کو زیر بحث لائیں اور مرزا قادیانی کے ان تھوک جھوٹوں پر پردہ پڑا رہے ۔۔۔۔ جبکہ اردو خوان طبقے پر قادیانیت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں کہ مرزا قایانی کی ان پیشگوئیوں پر غور کریں ۔۔۔ کیا مہدی اور مسیح سے ان جھوٹوں کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ :جاری ہے : Last edited by نبیل خان; 10-10-11 at 12:15 PM. |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,455
شکریہ: 8,476
1,585 مراسلہ میں 3,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مرزا کے لیے رحمت کا نشان مرزا کی بیوی نصرت جہاں بیگم کے ہاں اولاد ہونے کی امید ہوئی تو مرزا کو پھر جوش ٓیا کہ کیوں نہ ایک اور پیشنگوئی داغ دی جائے چناچہ مرزا قادیانی نے ایک اشتہار 18 اپریل1886ء کو دیا : مرزا قادیانی لکھتا ہے خدائے رحیم و کریم و بزرگ وبرتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا : میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اس کے موافق جو تجھ نے مجھ سے مانگا ۔۔۔ سو تجھے بشارت ہو ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ۔۔۔ وہ صاحب شکوہ اورعظمت و دولت ہو گا وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا وہ کلمۃ اللہ ہوگا۔۔۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گئے ۔ (تبلیغ رسالت ج58 ) مگر افسوس کہ اس حمل سے مرزا قادیانی کے ہاں لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی ۔ اور اسے لوگوں میں بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اب اس خفت کو مٹانے کے لیے مرزا قادیانی نے تاویلیں کرنا شروع کردی ۔اور کہنے نگا میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ وہ رحمت کا نشان اسی حمل سے پیدا ہو گا ۔ مرزا قادیانی نے اس پیشنگوئی کو لڑکی پیدا ہونے کی وجہ سے اگلے وقت پہ ڈال دیا ۔ پھر اگلے سال ۷اگست 1887ء کو مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو مرزا قادیانی خوشی سے پھول گیا اور اس موقع پر اپنی سابقہ پیشنگوئی کو خوبصورت انداز میں بیان کرنے لگا ۔ لڑکے کی پیدائش پر مرزا قادیانی کی پیشگوئی اے ناظرین میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لیے میں نے اشتہار 18 اپریل 1886ء میں پیشگوئی کی تھی ۔اور خدا سے اطلاع پا کر اپنے کھلے بیان میں لکھا تھا ۔۔۔ آج 16 ذیقعد1304ھ بمطابق ۷ ۔ اگست 1887ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڈھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا ہے ۔( تبلیغ رسالت ج۱ ص ۹۹) مرزا قادیانی نے اس کا م نام بشیرا حمد رکھا اور مرزائی اس کی پیدائش پہ بہت خوش تھے اور اس بچے کے سبب زمین کے کناروں تک پہچنے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔مگر افسوس کہ وہ لڑکا سولہ مہینے زندہ رہ کر فوت ہو گیا ۔ اور مرزا صاحب بہت گھبرائے کہ اب اس پیشگوئی کا کیا بنے گا ۔ اب مرزا قادیانی کے موافقین کے دل بھی ڈولنے لگے تھے ۔ ایسے وقتوں میں مرزا قادیانی کے رفیق راز حکیم نورالدین ہوتے تھے جو مرزا قادیانی کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ اب کونسا دعوٰی کیا جائے اور کونسا نہ ؟ مرزا قادیانی نے اس پریشانی کے عالم میں حکیم نورالدین کو لکھا : میرا لڑکا بشیر تیس روز تک بیمار رہ کر آج بقضائے الٰہی رب عزوجل انتقال کر گیا ہے اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہو گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا ۔(مکتوبات احمدیہ ج۵ص۲ ) حکیم نورالدین نے مشورہ دیا کہ اس مرحوم لڑکے کو بشیر اول سے موسوم کرو اس سے سمجھا جائے گا کہ اب بشیر دوم آئے گا جو اس پیشگوئی کو پورا کرے گا ۔اس پیشگوئی کو تیسرے حمل پر محمول کرنے کو لوگ ایسی پیشگوئیوں کو مزاق سمجھیں گے ۔ اس کی بجائے بشیر اول اور بشیر دوم کی تاویل کچھ بہتر رہے گی ۔ اب بشیر ثانی کو اس پیشگوئی کا مصداق بنانے میں زیادہ دقت نہ ہوگی ۔ حکیم نورالدین بشیر احمد کی وفات سے اس قدر پریشان تھا کہ زندگی بھر اس نے ایسی پریشانی نہ دیکھی تھی ۔۔۔ مرزا بشیرالدین محمود نے 1920ء کے ایک خطبہ میں حکیم کے اس مشورہ کو اگل دیا مرزا محمود کہتا ہے حکیم صاحب نے کہا تھا : اگر اس وقت میرا بیٹا مر جاتا تو میں کچھ پرواہ نہ کرتا مگر بشیر اول فوت نہ ہوتا اور لوگ اس ابتلاء سے بچ رہتے ۔ ( الفضل ج۸ ص ۵۱۔۰۳ اگست ۰۲۹۱ ) قارئین کرام آپ مرزا قادیانی کی اس پیشگوئی کو بھی سامنے رکھیں اور پھر مرزا قادیانی کو پرکھیںآپ کادل اور دماغ اس بات کی گواہی دیں گے کہ مرزا قایانی ایک جھوٹا انسا ن تھاجوہر بات پہ جھوٹ بولتاتھا اور پھر اس جھوٹ کو چھپانے کے لیے مزید جھوٹ بولتا تھا ۔ مرزا قادیانی کی اپنی عمر کے بارے میں پیشنگوئی مرزا قادیانی نے دعوٰی کیا کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ : ہم تجھے (۰۸ ) اسی سال یا اس کے قریب قریب اچھی زندگی دیں گے ۔ ( ازالہ اوہام ص ۵۳۶ ۔روحانی خزائن ج۳ص۳۴۴ ) پھر مرزا قادیانی نے اس لفظ قریب قریب کی تعین بھی خود ہی کر دی اور یہ بھی خدا کے نام سے کی۔ مرزا قادیانی لکھتا ہے : خدا تعالٰی نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہو گی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص97۔ روحانی خزائن21ص258 ) اب اگر مرزا کی اسی پیشنگوئی کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ کیسا انسان تھا ۔ مرزا قادیانی کی وفات باالتفاق 26 مئی 1908ء میں ہوئی اب صرف یہ جاننا کافی ہوگا کہ اس کی پیدائش کس سن میں ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی خود لکھتا ہی: میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ۔ (کتاب البر یہ ص159۔ روحانی خزائن ج13ص177 درحاشیہ ) ان تحریرات کی روشنی میں مرزا قادیانی کی عمر 68سال ہوئی ۔ مزکورہ خدائی الہامات کے تحت اس کی عمر زیادہ سے زیادہ 86سال اور کم از کم 74 سال ہونی چاہیے تھی مگر مرزا قادیانی اس پیشگوئی کو پورا کیے بغیر ہی 68 سال کی عمر میں ہی قبر میں اتر گیا ۔ مرزا قادیانی کے پیرو تاریخ وف1908ء میں تو کوئی تبدیلی نہ کر سکتے تھے انھوں نے تاریخ پیدائش کو مقدم کرنے کی کوشش کی اور دعوٰی کیا کی مرزا قادیانی نے کتاب البریہ میں اپنا سال پیدائش غلط لکھا ہے وہ اس سے چھ سال پہلے پیدا ہوئے تھے ۔ اب فیصلہ آپ خود کر لیں کہ فریقین میں سچا کون ہے امتی سچے ہیں یا ان کا نبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی کی ایک اور پیش گوئی جب کسی کو پیشگوئیوں کی عادت پڑجائے تو وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ یہی عادت مرزا کو پڑچکی تھی ؛ مرزا قادیانی کو اطلاع ملی کہ اس کے ایک مرید منظور احمد کے ہاں اولاد کی امید ہو گئی ہے تو مرزا قادیانی نے فوراپیش گوئیوں کا محاذ سنبھالا اورایک پیش گوئی داغ دی ۔ پھر ایسے پہلو دار لفظ بولتا کہ سننے والے وادی حیرت میں ڈوب جاتے ۔۔۔ مرزا قادیانی نے 19فروری1906ء کوایک خواب دیکھا دیکھا ہے کہ منظور کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا ۔ اوردیافت کرتے ہیں کہ اس لڑکا کا نام کیا رکھا جائے ۔ یہاں تک تو خواب تھا اب ساتھ ہی الہام ہوا کہ نام بشیرالدولہ رکھا جائے ۔ اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ وہ لڑکا خود اقبال مند اور صاحب دولت ہو گا لیکن ہم نہیں کہ سکتے کہ کب اور کس وقت یہ لڑکا پیدا ہو گا ۔(بدر ج ۲نمبر۸مورخہ 23فروری1806ء تزکرہ ص591 ) پھرسات جون 1906ء کو الہام ہوا اس لڑکے کے دو نام ہوں گی: (۱) بشیرالدولہ (۲)عالم کباب ۔ (تزکرہ ص615 ) یہ ہر دو نام بزریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے ۔پھر الہام ہوا کہ اس کے دو نہیں چار نام ہوں گے : ایک شادی خان اور دوسرا کلمۃ اللہ خان (تزکرہ 616) پھر گیارہ دن بعد الہام ہوا کہ اس لڑکے کے چار نہیں نو نام ہوں گے ۔ (تزکرہ 620) wمرزا قادیانی تو بار بار الہامی خبریں سناتا رہا مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا کیونکہ اللہ اپنے دشمن کو ذلیل کرنا چاہتا تھا اور ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہو۔اب مرزا صاحب تو لڑکے کے پیدا ہونے کی پیشگوئیاں سناتے رہے ۔مگر مرید منظور کے ہاں 17جولائی 1906ء کو لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہو گئی ۔اب مرزا قادیانی پہ کیا بیتی اب مرزا قادیانی چودہ دن گھر سے باہر نہ نکلا اور یہی سوچتا رہا کہ بشیرالدولہ کیوں نہیں آیا ۔پہلے دو ناموں والا آرہا تھا پھر چار ناموں والا پھر نو ناموں والا ۔ کل کتنے نام ہوئے پندرہ ۔ اب پندرہ ناموں والا تو نہیں آیا بلکہ ایک نام والی لڑکی آگئی ۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی موت کی پیشگوئی مرزا قادیانی کی کتاب چشمہ معرفت میں ایک یہ پیشگوئی بھی ملاحظہ کریں: اور ایسے ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام و نشان نہ رہا ۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعوٰی ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی4 اگست 1908ء تک ہلاک ہو جاوں گا اور یہ اس کی سچائی کے لیے ایک نشا ن ہوگا یہ شخص الہام کا دعوی کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے ۔ پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا پھر ۔۔۔ مرتد ہو گیا ۔۔۔ مگر خدا تعالٰی نے اس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلاکیاجائے گا ۔ اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا ۔۔۔۔ بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا ۔ ( چشمہ معرفت ص۱۲۳۔ روحانی خزائن ج۳۲ص۶۳۳) قارئین کرام تاریخ گواہ ہے کہ مرزا قادیانی ڈاکٹرعبدالحکیم کی پیشگوئی کے مطابق4 اگست 1908ء سے پہلے 26 مئی 1908ء کو مر گیا اور ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اس کے بہت بعد 1919ء میں فوت ہوا ۔ مرزاقادیانی کی یہ آخری پیشگوئی تھی جس میں بھی وہ جھوٹا نکلا ۔ ویسے تو مرزا قادیانی نے بہت ساری پیشنگوئیاں کی تھی جن میں سے بطور نمونہ چند پیشگوئیاں آپ احباب کے سامنے پیش کی ہیں ۔ جن کو دیکھ کو ہر صاحب عقل انسان مرزا قادیانی کی حقیقت کو جان سکتا ہے۔ بالخصو ص و ہ لوگ جو مرزا قادیانی کو ، مجدد ، مہدی ، مسیح اور نبی مانتے ہیں ان کے لیے یہ ایک کسوٹی کی حثیت رکھتی ہےکہ وہ مرزا کے اقوال کو پڑھیں اور افعال کی طرف بھی دیکھیں کیا اتنا بڑا جھوٹا انسان جو شرابی بھی ہو او ر زنا بھی کرتا ہو۔ مجدد ، مہدی ، مسیح اور نبی بننا تو بہت دور کی بات ہے کیا ایک اچھا انسان کہلوانے کے بھی قابل ہے ؟ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ جب مرزائی ۔ ۔ اس مصنوئی خول سے باہر نکلیں اور مرزائی مربیوں کی پہنائی ہوئی عینک کو اتار کر عقل سلیم کے ساتھ مرزا قادیانی کی زندگی کا مطالعہ کریں گے تو پھر بہت جلدی مرزا قادیانی اور اس کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیج کر ۔ اللہ کریم کے پیارے اور محبوب نبی اور آخری نبی سید دو عالم جناب محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جن کے بعد کوئی نیا رسول یا نبی نہیں آئے گا ) کی نبوت اور رسالت پر ایمان لے آئیں گے ۔کیونکہ اب نجات صرف اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی کا آخری نبی اور رسول ماننے میں ہے ۔ اور اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کے نئے نبی (چاہے وہ ظلی اور بروزی ہونے کا دعوٰی کرے ) کے انکا راور نفی کرنے میں ہے ۔ اللہ کریم ہم سب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان میں استقامت عطاء فرمائے اور ختم نبوت پی ڈاکہ زنی کرنے والوں سے حفاظت فرمائے آمین یا رب العٰلمین Last edited by نبیل خان; 12-10-11 at 12:35 AM. |
|
|
|
|
|
#7 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 31
کمائي: 757
شکریہ: 6
28 مراسلہ میں 72 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نبیل بھائی آپ لوگ قادیانیوں کو جو بلا شبہ ہمارے ہی بھائی ہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ دیکھیں یہاں تو ہم صرف اپنے دوسرے دوستوں کو بتا رہے ہیں۔ اگر ہم قادیانیوں کو یہ باتیں بتائیں گے تو میرا خیال ہے اس کا زیادہ فائدہ ہو گا۔ ان کی ویب سائٹ ہے جہاں بہت سے قادیانی بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہاں صرف ہم چند لوگ ہیں۔ آپ کو بھی اس جہاد میں شمولیت کی دعوت ہے
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,455
شکریہ: 8,476
1,585 مراسلہ میں 3,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دوسری بات ۔ جو آپ نے ان کی ویب سائٹ کے بارے بتایا ہے ان شاءاللہ میں بھی بہت جلد اس جہاد میں آپ کا ساتھی بننے والا ہوں اللہ کریم ہمیں حق پہ ثابت قدم رکھیں آمین |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, magenta, وقت, موت, مسلمانوں, مطابق, معلوم, اللہ, انسان, اسلام, تحریری, حال, خدا, دنیا, دعا, دعائیں, رات, شروع, عیسائیوں, عورتوں, علی, عملیات, عبداللہ, غلام, صیاد |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لڑکیو ں کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز | جان جی | گپ شپ | 30 | 08-03-12 10:46 AM |
| پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں | khanamjan | میری ڈائری | 5 | 28-10-11 09:16 PM |
| مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ | ابن جمال | متفرقات | 0 | 07-02-11 01:42 PM |
| لڑکیو ں کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز | جان جی | گپ شپ | 1 | 20-08-08 08:56 PM |
| ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 0 | 27-10-07 10:53 AM |