| اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1471
|
||||
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-01-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
مقبول
|
اعتراض
جب تک اس روی زمین پر مسلمان موجود ہیں ، یہ مسلمات میں سے ہے کہ ، ان کے لئے حکومت ، حاکم اور امام کی ضرورت ہے ، پس کیوں شیعہ امامت وخلافت کو صرف بارہ اشخاص میں منحصر کرتے ہیں ؟ اورکیوں یہ بارہ افراد علی اور اولاد علی میں سے ہوں ؟ اور کیوں حضرت مہدیؑ ، وہی حسن عسکری ؑ ہی کے فرزند ہوں ؟؟٢؎ ٢۔ احمد الکاتب ، الشوریٰ العدد العاشر ، ص١٩ بدر السامی ، شبہاتٌ وردود؛ ص ١٤٧۔ جواب مذکورہ سوالات کے متعدد جواب ہم نے '' منکرین مہدویت کا مدلل جواب '' میں تفصیل کے ساتھ ، دیتے ہوئے ، عقلی ، نقلی اورتاریخی دلایل سے ثابت کیا ہے ٣؎کہ شیعہ اثنا عشریہ ، اگر امامت وخلافت کو بارہ اشخاص میں منحصر کرتے ہیں ، اور امامت کو علی اور اولاد علی ، اور ان میں سے بارویں اور آخری امام کو محمد بن الحسن العسکری المہدی کو قرار دیتے ہیں ، تو یہ اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں ہے بلکہ مرسل اعظم حضرت رسول خدا ؐ کی وہ حدیثیں ہیں جو فریقین ( شیعہ وسنی ) کی حدیث کی کتابوں مین موجود ہے ، پیغمبر اکرم ؐ سے تواتر کے ساتھ نقل ہوکر ہم تک پہنچی ہیں ۔ انہی احادیث کی روشنی میں شیعہ کہتے ہیں بارہ کے علاوہ کوئی خلیفہ اور امام نہیں ہوسکتا ۔ بارہ سے کم ، اوراسی طرح تیرہویں یااس سے زیادہ خلیفہ اور امام کا وجود محال ہے اور جو دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور فریب کار ہے ۔ مذکورہ جوابات کے علاوہ یہاں پر مزید چند جواب ملاحظہ ہو: ٣۔ منکرین مہدویت کا مدلل جواب، ص؟؟؟؟ ١۔ مذکورہ سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ اس حقیقت کو ہم نہیں جانتے ،خدا وند متعال نے چاہا رسول اللہ ؐ کے جانشین صرف بارہ اشخاص علی اور اولاد علی میں سے ہوں ، اوران میں آخری محمد بن الحسن العسکری المہدی ؑ ہوں ۔ علاوہ براین ہم معترضین سے سوال کرتے ہیں کہ ، کیوں دنیا بھر کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ پیامبران الہیٰ ایک لاکھ چوبیس ہزار ہوں نہ کم ونہ زیادہ؟؟ کیوں تمام انبیاء کو خود، خدا وندمتعال نے انتخاب کیا، اور کیوں حضرت محمدبن عبداللہ ؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی قرار پائے ؟ کیوں حضرت آدم کو اولین نبی قرار دیا؟ کیوں حضرت موسی ؑ کو حضرت عیسیٰ سے پہلے مبعوث کیا؟ کیوں انسانوں کے صرف دو پیر ، دو ہاتھ اور دو آنکھیں ہیں؟ کیوں انگلیوں کی تعداد عادی طور پر صرف پانچ رکھی اورکیوں ....؟؟ اس قسم کے کیوں اور کیوں کی بے شمار قسمیں بن سکتیں ہیں اگر اس سلسلے کو ادامہ دیں تو شاید کیوں اور کیوں کا سلسلہ ختم ہی نہ ہو۔ پس اس سے اچھا اورکیا ہوسکتا ہے کہ خداوند متعال نے اپنے علم وحکمت کی بنیاد پر ہر چیز کو معین اور مشخص فرمایا ، اور اسی طرح خاتم الانبیاء کی وصایت اور جانشینی کو خاندان عصمت وطہارت اور علی ؑ وفاطمہ ؑ کی اولادوں میں قرار دیا اور سلسلہئ امامت وخلافت کو حسن عسکری کے لخت جگر مہدیؑ قائم آل محمد ، پر ختم کیا۔ اگر آپ کو یہ بات پسند نہیں آتی اور آپ میں اگر طاقت ہے تو قضا ء الہیٰ کو بدل دیں " دانشمندان عامہ ومہدی موعود؛ ص ٩" ٢۔ اشکال کرنے والے کی عبارت سے واضح ہے کہ امام سے ان کا مقصد دنیوں حاکمیت اور ریاست ہے ، جب کہ شیعوں کے نزدیک امامت کا ایک وسیع وعریض معنی و مفہوم پایا جاتا ہے ، اوروہ یہ کہ امام سے مراد صرف حاکم اور رئیس کے نہیں ، بلکہ امام بھی نبی کی طرح معصوم ہتا ہے اوراحکام الہیٰ بیان کرتا ہے اوراسی طرح دنیاوی امور میں نبی ہی کی طرح اولی بالتصرف ہے ۔ امام ، یعنی ، معصوم ، اور جس کے قول وفعل اورخاموشی لوگوں کے لئے حجت اوردلیل ہے ، احکام خداوندی کے بیان اوراجراء امام معصوم ؑ کے زمانہ حضور میں انہیں سے مخصوص ہیں ، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ معصوم امام کی اجازت کے بغیر حکم صادر ، یاان کا اجراء کریں، جیسا کہ رسول اللہ ؐ کی موجود گی میں یہ حق صرف آنحضرت ہی سے مخصوص ہے ۔ لہذااہل بیت ؑ پیامبرؐ ،سے ، بارہ اماموں کی امامت شیعوں کے یہاں اس امامت کی طرح نہیں ہے جس پر ، زیدیہ اور معتزلہ و... عقیدہ رکھتے ہیں ، بلکہ امامت کے معنی شیعوں کے یہاں یہ ہے کہ ان کی اطاعت مسلمانون کے فرد فرد پر فرض ہے اور یہ بارہ افراد خدا کی طرف سے ان پر حجت ہیں ، چہ لوگ ان کی بیعت کریں یا نہ کریں امام متداد نبوت کا نام ہے الگ سے کوئی دوسری چیز نہیں ہے ۔ لیکن جہاں تک احکام الہیٰ کا بیان اور اجراء کا تعلق ہے ، تو اس حوالے سے ائمہ اطہارؑ اور رسول اللہ ؐ میں کوئی فرق نہیں اور اس بات پر دلیل وہ روایات صحیحہ ہیں جو مذہب حقہ کی مجامع اورکتب روائی میں تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں۔"اصول کافی ، ج٢، کتاب الحجۃ ، ص ١کے بعد ، الشافی فی الامامۃ، ج١ ، ص ٢٣٩ کے بعد '' الجمل '' شیخ مفید، ص ٧٣ ، ناشر مؤتمر العالمی الاسلامی" ٣۔ پیامبر اکرم کے بعد منصب امامت وخلافت کا خاندان رسالت کے بارہ افراد میں منحصر ہونے کا مسئلہ ، باالکل اسی طرح ہے جس طرح حضرت ابراہیم ویعقوب اور عمران کی ذریت کے لئے مخصوص تھیں ، چنانچہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صریحاً بیان ہوا ہے نمونہ کے طور پر ایک آیت ملاحظہ ہو۔ ''انّ اللہ اصطفی آدم ونوحاً وآل ابراہیم وآل عمرانَ علی العالمین ذریۃً بعضہا من بعض واللہ سمیعٌ علیم۔'' بے شک خدا نے آدم ونوح آل ابراہیم اور خاندان عمران کو سارے عالمین پر برگزیدہ کیا ہے بعض کی اولاد کو بعض سے اور[ خدا سب کی] سنتا ہے اورسب کچھ جانتا ہے ۔" سورہ آل عمران ، آیت/٣٣ و٣٤؛ سورہ حدید آیت /٢٦۔" اہل سنت کے مایہ ناز محدث ومفسر ، حافظ جلال الدین سیوطی '' در المنثور '' میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہےں کہ '' حضرت رسول خدا آل ابراہیم میں سے ہیں ، اورمحمد وآل محمد ؐ ابراہیم کی اہل بیت میں سے ''۔٢؎ ٢۔ در المنثور ، ج٢، ص ٢٢٢؛ صواعق محرقہ ، الایۃ الثانیہ عشر، ص ١٤٨۔ اہل سنت کے مشہور مفسر '' ثعلبی '' اپنی مشہور تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ '' مصحف ابن مسعود ؓ میں آل عمران کے ساتھ آل محمد بھی تھا۔٣؎ ٣۔ تفسیر ثعلبی ، ج١، ص ٥١ ؛ معجم کبیر ،طبرانی ، ج٧ ، ص ١٤٥۔ پس اس آیت کی روشنی میں ثابت ہوا کہ : ١۔ امامت وخلافت کا خاندان رسالت کے بارہ افراد میں ، معین اور منحصر ہونا اس نسبت الٰہیہ کے مطابق ہے جو خاتم الانبیاء سے پہلے والے انبیاء کے بارے میں جاری کےے جاتے رہے ہیں ۔ ٢۔ خدا وند متعال نے رسول اللہ اور ان کے اہل بیت ؑ کو سارے جہاں والوں سے افضل قرار دیا ، یہاں تک کہ تمام انبیاء الہیٰ پر بھی آل محمدؐ کی فضیلت دی گئی، اور حکمت الہیٰ کا تقاضیٰ یہ ہے تھا کہ رسول خداؐ کے بعد حضرت زہرا مسلمان عورتوں پر حجت خدا قرار دیں جس طرح موسیٰ کے بعد عمران ؑ کی بیٹی مریم ؑ کو اس وقت کے لوگوں پر حجت قرار پائیں ۔ اور حکمت الہیٰ نے یہ بھی تقاضیٰ کیا کہ خاتم الاوصیائ، حضرت مہدی کو حضرت فاطمہ کی ذریت میں سے قرار دیں ، جس طرح اس سے پہلے خاتم انبیاء حضرت عیسیٰ کو آل عمران میں سے حضرت مریم کی ذریت میں سے قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں بہت سی آیتیں ، حدیثیں اور تاریخی وعقلی دلایل موجود ہیں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اسی مقدار پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اور معترضین اور مغرضین سے گزارش کرتے ہیں ، اگر شیعہ کتب کے مطالعہ کی توفیق نہیں ہوتیں ، تو اندھی تقلید اور تعصب کی عینک اتار کر کم از کم اپنے بزرگوں کی کی کتابوں کے مطالعہ کی زحمت فرمائیں ۔ پھر کسی موضوع پر قلم اٹھائیں تاکہ کل کو جب اللہ تعالیٰ کے حضور اولین وآخرین کے ساتھ محشور ہوں تو کم از کم یہ کہنے کی نوبت نہ آئے ''قال رب لم حشرتنی اعمیٰ وقد کنت بصیراً ، کذالک أتتک آیاتنا فنیتہا وکذا لک الیوم تنسٰی''١؎'' ... قیامت کے دن اندھا (بنا کے ) اٹھائیں گے وہ کہے گے الہیٰ میں تو( دنیا میں ) آنکھ والا تھا تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا؟ فرمائے گا ایسا ہی ( ہونا چاہے ) ہماری آیتیں بھی تو تیرے پاس آئی تھیں تو انہیں بھلا بیٹھا اور اس طرح آج بھلا دیا جائے گا۔''ویا '' ویوم بعض الظالم علی یدیہ یقول یٰلتنی اتخذتُ مع الرّسول سبیلاً ، یٰویلتیٰ لیتنی لم اتخذت فلاناً خلیلاً '' ٢؎ اورجس دن ظلم کرنے والا اپنے ہاتھ ( مارے افسوس کے ) کاٹنے لگے گا اور کہے گا کہ کاش رسولؐ کے ساتھ میں بھی ( دین کا سیدھا راستہ پکڑتا ، ہائے افسوس کاش میں فلان شخص کو (اپنا) دوست نہ بناتا۔'' ١۔ طٰہۤ؛ آیت /١٢٥و ١٢٦۔ ٢۔ سورہ فرقان؛ آیت/ ٢٧و٢٨۔ اعتراض شیعہ کا عقیدہ امامت ومہدویت ؑ حضرت علی ؑ حضر حسنؑ اور حضرت حسین ؑاوران کے اولاد کے جملہ ائمہ اوربزرگوں کی تعلیمات کے باالکل برعکس ہے ۔ روایت ہے کہ حضرت جندب بن عبداللہ نے عرض کیا : '' یاامیرالمؤمنین آپ کا انتقال ہوجائے تو کیا ہم آپ کے صاحبزادے حسن کے ہاتھ پر بیعت کریں؟ فرمایا: نہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں ، تم لوگ بہتر جانتے ہیں ۔ جب شہادت حضرت عثمان کے بعد آپ ؑ کے ہاتھ پر بیعت کا ارادہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ''دعونی والتمسواغیری فانا منقبلون امراً لہ وجوہ والوان ، لاتقوم لہ القلوب ولاتثبت علیہ العقول ، وانّ الآفاق قد اغامت والحجۃ قد تنکَرَّت ، واعلموا أنّی احتکم رکِبْتَ بکم مااعلم ولم أُصغِ الیٰ قول القایل وعتب العاتب ، وان ترکتمونی فأنا کأحدکم ولعلّی اسمعکم واطوعکم لِمَنْ وَلَّیتموہ امر کم وأنالکم وزیراً خیرٌ لکم منّی امیراً۔''١؎ ''مجھے چھوڑ دو، اوراس ( خلافت کے لئے ) میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈلو ، ہمارے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں جسے نہ دل برداشت کرسکتے ہیں اورنہ عقلیں اسے مان سکتی ہیں دیکھو افق علم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں ، راستہ پہچاننے میں نہیں آتاتمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اگر میں تمہاری اس خوہش کو مان لوں ، تو تمہیں اس راستے پر لے چلوں گا، جو میرے علم میں ہے اوراس کے متعلق کسی کہنے والے کی بات اور کسی ملاقات کرنے والے کی سرزنش پر کان نہیں دھروں گا ۔ اور تم میرا پیچھا چھوڑ دو، تو پھر جیسے تم ہوویسا میں ہوں اور ہوسکتا ہے کہ جسے تم اپنا امیر بناو ، اس کی میں تم سے زیادہ سنوں اور[ مانو، میرا تمہارے دنیوں مفاد کے لئے ] امیر ہونے سے وزیر ہونا بہتر ہے ''۔ ١۔نہج البلاغہ ، خطبہ ،٩٠، ترجمہ مفتی جعفر حسینؒ ، ص ٢٧٧۔ اور فرمایا: ''واللّہ ماکانت لی فی الخلافۃ رغبۃ ولافی الولایۃ اربۃ ولکنّکم دعوتمونی ومملتمونی علیہا ''۔ خدا کی قسم مجھے خلافت کی کوئی رغبت نہ تھی نہ حکومت کی لیکن تم لوگوں نے مجھے اس کی دعوت دی اور خود مجھ کو اس پر امادہ کیا۔١؎ ١۔نہج البلاغہ ، خطبہ ،٢٠٣، ترجمہ مفتی جعفر حسینؒ ، ص ٢٧٧۔ حضرت علی کے ان تینوں ارشادات کا بغور جائزہ لینے والا ہر شخص کھلے طور پر یہی نتیجہ اخذ کرے گا کہ حضرت علی ؑ کی شہادت کے روز تک آپ ؑ کو اور آپ کے رفقاء کو شیعہ کے بعد میں وضع کئے جانے والے '' عقیدہ امامت '' کی کچھ خبر نہ تھی ۔'' ٢؎اورجس بارہویں امام اور حضرت حسن عسکری کے صاحبزادے کے بارے میں ان کے امام مہدی ہونے کا عقیدہ اپنایا گیا ہے کم از کم حضرت علی اس کی کچھ خبر کسی کو دے دیتے ، اس کی علامت بتا دیتے اور اس عقیدہ کی کچھ بنیاد بنائی ہوتی ۔ ٢۔ فاروقی ، حضرت مہدی ، ص ٦٠۔ ٦٤ ، عبدالستار تونسوی ، مناقب خلفاء الاربعہ فی مؤلفات الشیعہ ، ص ٦٣۔٦٤۔ عقیدہ امامت کی بنیاد پر خاندان نبوت کی جن بارہ ہستیوں کو چنا یا گیا ان میں سے کسی ایک نے بھی شیعہ کے مزموم عقیدے کی نہ تائید کی ہے نہ ہی کسی جگہ اس عقیدہ کی اثبات ملا ہے ہمارا دعویٰ ہے کہ اصحاب رسول ؐ اور خلفاء راشدین کی خلافت اور تحریف قرآن کے بارے میں جو باتیں '' اصول کافی'' وغیر ہ میںان کی طرف منسوب کی گئی ہے وہ تمام بزرگ اس سے مکمل طور پر بری ہے یہ سب کچھ شیعہ کے عہد انحراف ٣٠١ھ کے بعد کی فسوں کاری ہے جس کی خامہ فرسائی نے اسلام کے سینہ کو اہل بیت ؑ کی محبت کی چھتری کے نیچے چھیدڈالا ہے ''۔٣؎ ٣۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی، ص٦٤۔ '' شیعہ کے '' عقیدہئ امامت کی عمارت ایک مرتبہ پھر اس وقت زمین بوس ہوگئی جب حضرت حسن ؑ نے منصب خلافت پانے کے چھ ماہ بعد ہی یہ بارِ خلافت اپنے کاندہوں سے اتار کر ، حضرت معاویہ کے کاندھے پر رکھ دیا ہ، یوں نہ صرف'' عقیدہ امامت''کا سارا ڈھانچہ ہی تحلیل ہوا ، بلکہ اقتدار اورامامت کے لئے بھی خاندان نبوت کو مکمل طور پر معزول کردیا گیا ۔ شیعہ عقیدہئ امامت کے یہ ابتدائی تضادات ہیں ، جن کے سامنے شیعہ عقاید کا سارا محل پیوند خاک ہوجاتا ہے ۔ اماموں کے بارے میں ایک مشکل کشا ، حاجت روا، عالم الغیب اورہر چیز پر قادر ہونے کا عقیدہ، پھرانہیں منصب خلافت سنبھالنے کے بارے میں ایسا عاجز ودرماندہ قرار دینا کہ وہ چھ ماہ بعد ہی ایسے مجبور ہوگئے کہ انہیں بار امامت بھی حضرت معاویہ کے سپرد کرنا پڑا''۔١؎ ١۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی، ص٦٥۔ جیسا کہ ملاحظہ فرمایا: جناب فاروقی صاحب کے مذکورہ بیانات میں چند اعتراضات اٹھائے گئے ہیں : ١۔ اصلِ عقیدہ امامت غلط ہے ۔ ٢۔ امام علی علیہ السلام کو اپنی شہادت کے روز تک اپنے امام اور جانشین رسول ؐ ہونے کا علم نہیں تھا، دلیل نہج البلاغہ کے دو خطبے۔ ٣۔ امام علی ؑکے کسی کلام میں حضرت امام مہدیؑ کے بارے میں حضرت ؑ نے کچھ نہیں فرمایا ہے ۔ ٤۔ بارہ (١٢) ائمہ کے عقیدہ کی ائمہ علیہم السلام نے تائید نہیں کی ہےں ، بلکہ یہ عقیدہ ''کلینی'' صاحب کی افسانہ کاری ہے ۔ ٥۔ شیعہ تحریف قرآن کے قایل ہیں ۔ ٦۔ عقیدہ امامت شیعہ کے عہد انحراف ٣٠١ھ کی افسانہ کاری ہے ! ٧۔ امام حسن ؑ نے حکومت معاویہ کے حوالہ کرکے عقیدفہ امامت کا سارا ڈھانچہ تحلیل کرتے ہوئے ، خاندان نبوت وامامت کو ، خلافت اورامامت سے ہمیشہ کے لئے معزول کردیا۔ ٨۔ ائمہ علیہم السلام کے عالم الغیب ، مشکل کشا اور ... ہونے پر اعتراض ہے ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے صرف علی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (08-01-12), Real_Light (26-05-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
مقبول
|
ہمارا جواب
١۔ امامت وخلافت اور اس کی ضرورت کا عقیدہ صرف شیعوں کا عقیدہ نہیں بلکہ اہل سنت بھی خلیفہ یا امام کے ہونے کو اسلام معاشرہ کے لئے ضروری سمجھتے ہیں ، ١؎ اور اس کا مبنا اور اساس عقل وفطرت ، اورتاریخی تجربہ کے علاوہ رسول اللہ ؐ کی وہ مشہور ومعروف حدیث '' من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃً جاہلیۃ'' ہے جو بطور متواتر شیعہ وسنی محدثین نے نقل کی ہے اوراس حدیث کی بنا پر اہل سنت کے ، رئیس الفقہاء والمحدثین ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے راتوں رات '' حجاج بن یوسف ثقفی '' کے پاس جاکر اوران کے پیروکاروں پر ہاتھ رکھ کر '' عبدالملک '' کی بیعت کی تھی'' ٢؎ اور اسی حدیث کی اہمیت کے پیش نظر '' یزید بن معاویہ'' کی بیعت نہ کرنے والوں سے جنگ کرنے کا اعلان کیا تھا، اس کی تفصیل اس کتاب کی پہلی جلد میں بیان کرچکے ہیں ، خواہشمند حضرات مراجعہ کرسکتے ہیں ۔٣؎ ١۔ قاضی عضدالدّین ایجی ، شرح المواقف، ج٨، ص ٣٤٩۔٣٥٠، سعد الدین تفتازانی ، شرح المقاصد، ج٥، ص ٢٤٤۔ ٢۔ صحیح بخاری ، ج٤، باب اذا قال عند قومٍ شیاً ثم خرج فقال بخلافہ ، صحیح مسلم ، ح١٢، کتاب الامارات ، باب وجوب ملازم جماعۃ المسلمین عند ظہور الفتن و...''۔ ٣۔ محمود حیدری ، منکرین مہدویت کا مدلل جواب ، ص ؟؟؟؟۔ ٢۔ جناب فاروقی اوران کے ہم فکر حضرات نے '' نہج البلاغہ '' کے جن خطباب سے استفادہ کرتے ہوئے ، جو نتیجہ اخذ کیا ہے ، اس سلسلے میں یہاں پر صرف اتنا عرض کرتے ہیں کہ اگر مذکورہ مصنفین میں ذرا سا بھی اخلاقی جرأت ہو تیں تو وہ حضرات ان دو خطبوں کے ساتھ ، ساتھ علی بن ابی طالب ؑ کے وہ خطبات بھی بیان کرتے ، جن میں اہل بیتؑ پیغمبر ؐ کے فضائل اوران کی امامت وخلافت کے بارے میں تصریح کی گئی ہے اس طرح خلفاء راشدین کے بارے میں خطبات نہج البلاغہ میں موجود ہیں بخصوص غصب خلافت کے بعد جو خطبے آنحضرتؑ نے ارشاد فرمایا ہے ، ان کو بھی نقل کر کے ان چار قسم کے خطبات میں موازنہ کرتے ہوئے کوئی نتیجہ اخذ کرتے، تو ہر پڑھنے اور سننے والا ان کی باتوں کی تصدیق کرتے ، لیکن افسوس !کتر بیونٹ سے کام لیتے ہوئے حقیقت کو چھپانے کی کوششیں کی ہیں ، البتہ یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں اس لئے کہ ان کے بزرگوں کا بھی یہی طریقہ رہا ہے ، کچھ نمونہ'' معترضین امامت کا مدلل جواب '' میں قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے ۔ مذکورہ نہج البلاغہ کے خطبات اور اصل امامت سے متعلق اعتراضات ، اسی طرح امام علی بن ابی طالب - وامام حسن مجتبی ؑ کے حوالے سے جواعتراضات ، مصنف مذکور اوران کے پیشروجناب احسان الہیٰ ظہیر وغیرہ، نے اٹھایا ہے ان کے جوابات آپ '' معترضین امامت وخلافت کا مدلل جواب'' میں ملاحظہ فرمائیں گے اوراسی طرح تحریف قرآن کے حوالے سے اعتراضات کا جواب بھی ایک جدا گانہ کتاب میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا ۔ انشاء اللہ ۔ ٣۔جہاں تک اماموں کی تعداد کے بارہ اور ان سب کا اولاد علی ؑ وفاطمہ ؑ میں سے ہونے کے بارے میں شیعوں کا جو عقیدہ ہے وہ بھی رسول اللہ ؐ کی اتباع کا بہترین نمونہ ہے اس سلسلہ میں ہم نے '' منکرین مہدویت کا مدلل جواب '' ١؎ میں حدیث '' خلفائی اثنیٰ عشر کلہم من قریش او من بنی ہاشم '' کے ذیل میں تفصیلاً بحث کی ہے ۔ اور آنے والے صفحات میں مناسبات کے لحاظ سے مختصر گفتگو کی جائے گی ۔ ١۔ منکرین مہدویت کا مدلل جواب، ص٨٢ سے ١٤٠ اعتراض ١۔ کیا شیعہ اور اہل سنت کا تصور مہدیؑ یکسان ہے ؟ ٢۔ شیعہ کی طرف سے یہ کہنا کہ امام مہدی ؑ کے بارے میں مسلمان اورشیعہ کا نقطہ نظر یکسان ہے سراسر جھوٹ اورکذب بیانی ہے ۔ ٣۔ ہم نہیں جان سکے کہ شیعہ نے ظہور مہدیؑ کے بارے میں جو عقیدہ اپنایا ہے اس کا مأخذ کیا ہے ۔١؎ ١۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی، ص ١٧۔ ١٨۔ ''حضرت حسین ، حضرت امام زین العابدین ، حضرت امام محمدباقر ، حضرت امام جعفر صادق، حضرت امام کاظم ، حضرت امام رضا ، حضرت امام جواد، حضرت امام ہادی ، حضرت حسن عسکری ، کے کسی مستند قول ، ان کے کسی واقعہ میں ، ان کی تصریح نظر نہیں آتی ''۔٢؎ ٢۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی، ص ٢٣و ٦٤۔ ہم نہیں جان سکیں کہ شیعہ نے ظہور امام مہدی کے بارے میں جو عقیدہ اپنایا ہے اس کا مأخذ کیا ہے ؟ صرف آنحضرت ہی نہیں بلکہ شیعہ کے مذکورہ عقیدے کی تائید میں حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین کی طرف سے بھی کوئی سند نہیں ملتی ''۔ ٣؎ ٣۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی، ص ١٨و ٢٣۔ '' نہج البلاغہ سے لے کر حضرات حسنین کریمین + کے اقوال وارشادت تک کسی مجموعہ میں ہیں یہ نظر نہیں آتا کہ امام مہدیؑ آخرالزمان اپنے والد حضرت حسن عسکری ؑ کی وفات سے دس روز قبول ٢٥٨ھ کو چار سال کی عمر میں '' بغداد '' کی ایک غار '' سرمن ریٰ'' میں پراسرار طور پر غائب ہوگئے تھے ...''۔٤؎ ١۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی، ص ٢٣و٦٤۔ ہمارا جواب ١۔ اگر کوئی واقعی سنی ہوں اور حقیقی معنوں میں سنت نبی ؐ کے اتباع کے قائل ہوں تو حضرت امام مہدیؑ کے بارے میں ان کا بھی وہی عقیدہ ہونا چاہئے اور ہے اس سلسلے میں بعض محدثین وموخین و.... اہل سنت کے عقاید اور بیانات کو ہم پہلی جلد میں بیان کرچکے ہیں ۔١؎ اور بہت سے بزرگ علما کے عقاید اور بیانات اور نظریات حضرت مہدیؑ کی ولادت اور حدیث '' اسم ابیہ اسم ابی'' ٢؎ کی بحث میں قارئین محترم کی خدمت میں پیش کریں گے ، اور ثابت کریں گے تمام مسلمانوں کا عقیدہ وہی ہے اور ہونا چاہئے جو شیعوں کا ہے ۔ ١۔ ملاحظہ فرمایں، منکرین مہدویت کا مدلل جواب۔ ٢۔؟؟؟ لیکن کچھ مغرض افراد یا منحرف گروہ اہل سنت کے لبادہ اوڑھ کر اسلامی عقاید بخصوص عقیدہئ مہدویت ؑ کے بارے میں شکوک وشبہات ایجاد کر رہا ہے اس طرح نہ صرف یہ کہ اسلامی بنیاد عقاید کو مخدوش بنا رہا ہے بلکہ اہل سنت کے نام اہل سنت کے افراد خصوصاً نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اہل سنت کے ذمہ دار افراد متوجہ رہیں۔ ٢۔ اگر اہل سنت اور شیعوں کے نقطہ ئ نظر میں فرق ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ اہل سنت کے بعض فرقوں کے یہاں امام مہدی ؑ کا کوئی واضح تصور موجود نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کے دور سے لے کر جناب عمر بن عبدالعزیز کے دور تک مکتب خلفاء میں آحادیث کے لکھنے ، نقل کرنے اور ناقلین حدیث پر مدینہ سے باہر جانے پر پابندی لگائی گئی تھی ، اوراگر کوئی حدیث پیغمبر ؐ نقل کرتے تو '' درّہ'' کا سامنا کرنا پڑتا تھااس طرح یہ سلسلہ سو (١٠٠ ) سال تک جاری رہا اور ان سو سالوں میں صحابہ کرام ؓ میں سے اکثر اس دنیا سے رحلت کرگئے تھے سوای چند افراد کے ، اورباقی ماندہ صحابہ بھی بڑھاپے کی وجہ سے اپنا حافظہ کھوبیٹھے تھے ۔ اورجب ''تابعین '' کے دور میں احادیث کے نقل سے پابندی اٹھائی ، تو جعل حدیث کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس سے بڑے بڑے زاہد وپرہیز گار لوگ بھی نہ بچ سکے بلکہ جعلِ حدیث کو اس زمانے میں ایک افتخار وامتیاز سمجھتے تھے ۔١؎ ١۔ چنانکہ امام بخاری نے چھ لاکھ حدیثوں میں سے دوہزار چھ سو(٢٦٠٠) حدیثیں منتخب کیں ، جناب مسلم نے ، آٹھ لاکھ حدیثوں میں سے چار ہزار حدیثیں قابل انتخاب سمجھیں ، ابوداود نے پانچ لاکھ حدیثوں مین سے چار ہزار آٹھ سو حدیثیں انتخاب کیں، امام احمد حنبل نے ساتھ لاکھ پچاس ہزار حدیثوں میں سے تیس ہزار منتخب کیں ۔ مگر جب اس انتخاب کو دیکھا جائے تو ایسی سیکڑوں حدیثیں سامنے آتی ہےں کہ وہ کسی حالت میں بھی پیغمبر اکرم ؐ کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی !! لیکن اس کے برخلاف '' مکتب اہل بیتؑ '' کے ماننے والوں نے کبھی بھی حدیث کے نقل اور لکھنے میں توقف نہیں کی بلکہ علی بن ابی طالب ؑ اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے تھے '' قیدو العلم بالکتابہ'' یہی وجہ ہے ائمہ اطہار ؑ اور ان کے پیروکارشروع ہی سے احادیث کے لکھتے تھے اور ایک دوسرے کے لئے نقل کرتے تھے ، جس کے نتیجے میں '' مصحف فاطمہؑ ، مصحف علی ، کتاب الجامعہ ، اور حضرت مہدیؑ کی غیبت تک چار سو کتابوں میں رسول اللہ ؐ کی حدیثوں کو جمع کرکے محفوظ کرلیں ، جو بعد میں مجامع روائی ، جیسے اصول کافی ، استبصار ، تھذیب الاحکام ، اور من لا یحضرہ الفقیہ وغیرہ میں جمع کی گئی ، اور چار سو کتابوں میں جتنی بھی احادیث جمع کی گئی ہے ان کے روائی ، تمام اہل بیتؑ پیامبر ؐ میں سے ہیں ۔ ان میں سر فہرست حضرت فاطمہ زہراؑ ، علی مرتضی ، حسن مجتبیٰ ، حسین سیدالشہداء ، علی بن الحسین زین العابدین ، محمد باقر ، جعفر صادق، موسیٰ کاظم ، علی ابن موسی الرضا ، محمد ابن علی الجواد ،علی ابن محمد الہادی ، حسن ابن علی العسکری اور محمدابن حسن العسکری المہدی ؑ علیہم السلام ، شامل ہیں ۔ لہذا یہ ایک طبیعی بات ہے کہ شیعہ اور اہل سنت کا تصور مہدی ؑ یکسان نہیں ہے ، کیونکہ شیعہ اہل سنت کی طرح کسی بے نام ونشان اور مجھول الہویت مہدی کے قائل نہیں ، بلکہ شیعوں کے یہاں حضرت امام مہدیؑ کاایک واضح تصور اور خدوخال موجود ہے اور یہی وہ راز ہے کہ جس کی وجہ سے مکتب تشیع دوسرے فرق اسلامی میں ایک ممتاز درجہ رکھتی ہے اور اس کی علت اور سبب وہی تھا جو عرض کرچکا ، یعنی شیعہ ایک دن کے لئے بھی '' منبع وحی ونبوت '' سے جدانہ ہوئیں اور سنت نبی ؐ کو ان کے حقیقی جانشینوں سے لیتے اور محفوظ کرتے رہیں ۔ البتہ اس حقیقت سے ہمارے مخالفین بھی ، بخصوص علماء اعلام ، آگاہ ہیں ، لیکن کھل کر ان چیزوں کا اظہار نہیں کرتے ، اس لئے کہ بات بہت آگے بڑھ نہ جائیں ۔ اب یقینا قارئین محترم وجود وظہور حضرت مہدیؑ سے متعلق شیعہ مآخذ سے آگاہ ہوئے ہوں گے جس کا بعض مغرض اور اسلام کے ٹھکیداروں کو علم نہ ہوسکا۔ ٣۔ یہ لوگ فکر کرتے ہیں کہ '' نہج البلاغہ '' وغیرہ میں حضرت امام مہدیؑ کے بارے میں علی بن ابی طالب اور دوسرے ائمہ طاہرین علیہم السلام سے کوئی روایت نقل نہیں ہوئی ہیں ۔ ان کی یہ غلط فکر اور سوچ در حقیقت تاریخ اور اسلامی افکار کے گہرے مطالعہ نہ ہونے کا نتیجہ ہے ورنہ رسول اللہ ؐ کی وفات کے بعد بھی ائمہ ٪ حضرت امام مہدی ؑ کے بارے میں گفتگو کرتے تھے اور لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے اوراس سلسلہ میں ائمہئ اہل بیت ؑ سے ہزاروں کی تعداد میں حدیثیں ، کتب روائی میں نقل ہوئی ہیں ۔ چنانچہ بعض محققین نے رسول اللہ ؐ اور بارہ اماموں سے حضرت مہدیؑ کے بارے میں نقل ہونے والی حدیثوں کی تعداد چھ ہزار بتائی ہیں ۔ ١؎ اور میرے ناقص تتبع کے مطابق صرف '' صافی گلپائیگانی'' صاحب کی کتاب '' منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر'' میں رسول خداؐ اورائمہ علیہم السلام سے ساتھ ہزار بیالیس حدیثیں جمع آوری کی گئی ہے جن میں سے بعض احادیث ٢٣ سے زیادہ طرق سے نقل ہوئیں ہیں ۔ البتہ یہ تعداد ان احادیث کی ہیں جو اس محقق کے مطالعہ میں آیا ہے اوراگر کوئی اور دقیق تتبع کرے اور دنیا کے مختلف لائبریریوں میں جاکر حضرت مہدیؑ سے متعلق حدیثوں کی چھان بین کرے تو یقینا احادیث کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ ١۔ سید محمد باقر الصدر ، بحوث حول المہدی ؑ ، ص٨٤، بحوالہ ، المہدی ، صدرالدین صدر۔ مختصریہ کہ حضرت مہدیؑ کے بارے میں اسلامی منابع میں اتنی احادیث نقل ہوئی ہیں جن کے بارے می شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ البتہ ان تمام حدیثوں کا بیان اور تجزیہ وتحلیل کرنا اس مختصر کتاب میں ہمارے لئے ممکن نہیں ۔لہذا آنے والی بحثوں میں مناسبات کے لحاظ سے مذکورہ تعداد میں سے نمونہ کے طور پر کچھ حدیثیں نقل کریں گے ، تاکہ جناب ابن جزم ، ابن خلدون ، ابن کثیر شامی ، احمد امین مصری، سعد حسن ، عبدالسقاء تونسوی ، احسان الہیٰ ظہیر، عبیداللہ سندھی، ضیاء الرحمان فاروقی ، اعظم طارق، احمد الکاتب ، اختر کاشمیری ، حبیب الرحمن صدیقی ، مجیب الرحمان شامی، ١؎ اور دوسرے اس قسم کی فکر رکھنے والے لوگ جان سکیں کہ شیعوں کے عقیدہئ مہدویت کا منبع وماخذ کیا ہے ۔ ١۔ دیکھیں: مقدمہ ابن خلدون، ج٢، ص ١٤٣؛ احمد الکاتب ، الفکر السیاسی الشیعی، ص ١٩٥، المہدیہ فی السلام ، سعد حسن مصری، الشیعہ والتشیع، احسان الہیٰ ظہیر، حضرت امام مہدی، فاروقی ، قومی ڈائجسٹ ، مولانا مفتی محمود ایڈیشن، ١٩٨١ئ ، دائرۃ المعارف اسلامی ، ج٢١، ص ٨٥٩۔ ٨٦٥ ، ہیئت تحریریہ دانشگاہ پنجاب پاکستان ۔ انصاف دیدیجئے اور بتائے ! کیا اتنی ساری حدیثوں کو شیعوں نے جعل کیا ہے ؟ یا یہ کہ یہ تمام سات ہزار حدیثیں ضعیف ہیں ؟ جس کی وجہ سے ہمارے نادان دوستوں کو ( جو اسلام اور مسلمین کے ترجمان ہونے کے دعویدار بھی ہیں ) شیعوں کے عقیدہ مہدویت کا مأخد معلوم نہ ہو سکا؟ ویانہ '' فی قلوبہم مرض'' ویا '' یجعلون اصابعہم فی آذانہم من الصواعق حذر الموت'' ؟ کیا یہ تمام حدیثیں صرف جناب کلینی ؒ صاحب کی کتابوں میں نقل ہوئیں ہیں اورسب کے سب جناب کلینی ؒ کی اضافہ کاریاں ہےں؟ کیا اس زمانے میں ، تمام محدثین اور اہل قلم حدیث وغیرہ کو حیوانوں کے کھالوں یا دوسری چیزوں پر لکھ کر محفوظ کرتے تھے ، جناب کلینی ؒ صاحب کے پاس '' کمپیوٹر '' یا انٹر نیت '' موجود تھا ، جس کی وجہ سے انہوں نے ساتھ ہزار سے زیادہ احادیث کو صرف حضرت مہدیؑ کے بارے میں گھڑاکر کمپیوٹراز کیا تھا، اوران کے بعد آنے والے شیعہ علماء ودانشمند حضرات اس سے استفادہ کرتے ہوئے جناب کلینی ؒ کے افسانوں کو حدیث بنا کر پیش کرتے رہیں؟! ذرا سوچیئے ! صرف امام مہدیؑ کے بارے میں سات ہزار سے زیادہ احادیث جناب کلینی ؒ نے خود سے گڑھی ہوت بارہ اماموں کے بارے میں کتنی حدیثیں ہونی چاہئے ؟ ! عقل کے اندے ! کچھ ایسی بات اپنی کتابوں میں لکھ دیتے ، کہ کم از کم ،اپنی جھوٹ پرمبنی تہمت وافتراء کوتو چھپا سکے ،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جھوٹے کا حافظہ کمزور ہوتا ہے ، اسی لئے جناب '' فاروقی '' ایک جگہ لکھتے ہیں کہ '' اصل عقیدہئ امامت ومہدویت ٢٠١ھ کی فسون کاری ہے ''١؎ دوسری جگہ لکھا ہے کہ '' ١٣١ ھ ( یعنی امام جعفر صادقؑ کے دوران امامت) میں ہی شیعہ کے عقیدہئ مہدویت کے بنیاد پر ، '' احمد برغوانی'' نے مہدویت کااعلان کیاتھا'' ٢؎ یعنی جناب کلینی کے فسانہ کاری سے ڈیڑہ سو سال قبل ، باالکل اسی طرح ان کے پیشرو اور استاد جناب احسان الہیٰ ظہیر ، ایک جگہ لکھتے ہیں کہ حضرت امام مہدیؑ اور بارہ اماموں کی امامت کے بارے میں ، جو حدیثیں کتابوں میں موجود ہیں سب جھوٹ ہیں اورائمہ کی طرف نسبت دی گئیں ہے '' ٣؎ لیکن اسی کتاب کے بعد والے صفحات پر لکھتے ہیں کہ '' ولایت حضرت مام مہدی ؑ ٤؎کے بارے میں جو احادیث شیعہ کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ، ان میں صحیح السند احادیث بھی ہیں ''۔٦ ١۔ فارقی ، حضرت امام مہدی، ص ٢٣۔ ٢۔ مذکورہ حوالہ ، ص١٥١۔ ٣۔ الشیعہ والتشیع، ص ٢٧٤۔ ٤۔ مہدویت کے حوالے سے ، شیعہ وسنی کے درمیان بنیادی اختلاف اسلی مسئلہ میں ہے۔ ٥۔ الشیعہ والتتبع ، ص ٢٧٧۔ ملاحظہ فرمائے : مخالفین ، علی اور اولاد علی ؑ کی دشمنی میں اپنے حواس تک کھوچکے ہیں ، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، اس لئے کہ : '' لوگ چاہتے ہیں اپنے منہ سے ، پھونک مارکر خدا کے نور کوبجھا دیں اور خدا اس کے سواکچھ چاہتا ہی نہیں کہ اپنے نور کو پورا کرکے ہی رہے ، اگرچہ کافر برا مانا کرنا''۔١؎ اور وہی تو وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول ( محمدؐ) کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کے تمام ادیان پر غالب کرلے اگرچہ مشرکین برا مانا کریں''۔٢؎ ١۔٢۔ سورہئ توبہ ، آیت /٣٢، ٣٣۔ '' یریدون ان یطفؤا نوراللّہ باافواہم واللّہ متّم نورہ ولوکرہ الکافرون ۔ ہو الذین ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدّین کلہ ولوکرہ المشرکون۔'' ٢۔ شیعہ ٢٢٩ھ تک اپنے سؤالات کے جوابات اپنے زمانے کے امام حضرت مہدی ؑ سے لیتے رہےں اس لئے کہ غیبت کبریٰ ٢٢٩ھ کے بعد سے شروع ہوتا ہے تو اگر افسانہ کاری کرتے بھی تو ٢٢٩ ھ کے بعد ہی کرتے !! ٣۔ مصنف مذکور کا یہ دعویٰ کہ '' شیعہ عقاید کی تدوین ٣٠١ ہجری میں ہوئی ہے '' واضح البطلان ہے ۔ اس لئے کہ ان کے استاد جناب احسان الہیٰ نے تصریح کیا ہے کہ شیعہ عقیدہئ مہدویت حضرت امام جعفر صادق کے دوران امامت میں اتنی مشہور تھی، کہ جناب برغوانی جیسے لوگوں نے مسلمانوں کی اس پاک وپاکیزہ عقیدہ سے سوء استفادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ثقۃ الاسلام کلینی ؒ سے پہلے اس موضوع پر شیعہ علما ومحدثین کی بے شمار کتابیں موجود تھیں ، جن کی تعداد ، صدر اسلام سے لے کر حضرت امام مہدیؑ کی غیبت صغریٰ کے زمانے تک چار سو، تھیں جو '' کتب اربعماۃ کے مصنفین میں سے بعض نے ، علی بن ابی طالب اورائمہ معصومین ؑ کی امامت سے معلق روایات کو '' الوصیہ '' یا '' الوصایا'' کے نام سے تالیف کی ہیں اور ثقۃ الاسلام کلینی کی کتاب ( کافی) انہیں چار سو کتابوں میں سے بعض کا مجموعہ ہے جس نے انہوں نے بیس کے انتہک جدوجہد اورزحمتوں کے بعد جمع کئے ہیں ۔اس سے مصنف مذکورہ اور دوسرے مغرض افراد غافل ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ شیعہ علی ایک بے بنیاد وعقیدے کے قائل ہیں اوراس کاکوئی مأخذ ومنبع نہیں ہے ۔ جبکہ حقیقت باالکل اس کے خلاف ہے۔ یہ حضرات ہر موضوع پر شیعوں کے خلاف لکھتے ہیں ، لیکن اگر آپ ان کے رنگ نگارش دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ ہوا میں محل کھڑے کررہے ہیں ، اس لئے کہ یہ حضرات شیعہ کتب کے مطالعہ کی زحمت ہی نہیں کرتے تاکہ اپنے تقلیدی عقیدے میں خلل نہ پڑے ! جی ہاں ! یہ لوگ شیعوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے مگر لکھتے سب کچھ میں !! مختصریہ کہ صدر اسلام سے لے کر حضرت امام مہدی ؑ کی غیبت کبریٰ کے زمانے تک اعاظم شیعہ نے چار سو معتبر کتابوں میں اپنے ائمہ علیہم السلام کے ارشادات کو ضبط کرکے آنے والی نسلوں تک منتقل کیا، ذیل میں چند نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔ ١۔کتاب الوصیۃ ....... حشام ابن حکم ............................... متوفی ١٩٩ھ ١؎ ٢۔کتاب الوصیۃ .......حسین ابن سعید بن حمام ..................... متوفی ھ ٢؎؎ ٣۔کتاب الوصیۃ .......حَکَم ابنمسکین .............................. متوفی ھ ٤۔کتاب الوصیۃ .......علیبنمغیرہ ................................. متوفی ھ ٥۔کتاب الوصیۃ .......علی بن حسین ابنفضل..................... متوفی ھ ٦۔کتاب الوصیۃ .......محمد ابن علی ابن فضل ابن تمام ............... متوفی ھ ٧۔کتاب الغیبۃ.......محمد ابن علی ابن فضل ابن تمام ................... متوفی ھ٣؎ ١۔ ابن جعفر محمد بن حسن الطوسی ( شیخ طوسی ) الفہرست ، ص ٣٥٥۔ ٢۔ ابن جعفر محمد بن حسن الطوسی ( شیخ طوسی ) الفہرست ، ص ١٠٤۔ ٣۔ ابن جعفر محمد بن حسن الطوسی ( شیخ طوسی ) الفہرست ، ص٣٠٦و ٣٠٧۔ ٨۔کتاب الوصیۃ .......ابراہیم ابن محمد ابن سعید ابن ہلال................ متوفی ٢٨٣ ھ١؎ ٩۔کتاب الوصیۃ .......احمد بن محمد خالد البرقی..................... متوفی ھ٢؎ ١۔ الطوسی فہرست ، ص١٧۔١٨۔ ٢۔ الطوسی فہرست ، ص٣٧و٤٠۔ ١٠۔کتاب الوصیۃ .......بزرگ مورخ عبدالعزیز ابن یحی جلمودی ......... متوفی ھ ان میں سے اکثر لکھنے والے قرن اول او ردوم ہجری سے تعلق رکھتے ہیں ، تیسری صدی ہجری کے مؤلفات کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے ۔ جیسے ١۔ کتاب الوصیۃ .......محمد ابن حسن ابن فروخ............................ متوفی ٢٩٠ ھ١؎ ٢۔کتاب الوصیۃ .......علی ابن رأاب ...................................... متوفی ھ٢؎ ٣۔کتاب الوصیۃ ....... محمدابن احمد الصابونی.................................. . متوفی ھ ٤۔کتاب الوصیۃ .......یحی ابن مستفاد..................................... متوفی ھ ٥۔اثبات الوصیۃ،اولامامۃ،مورخ شہیر، علی ابن حسین مسعودی،صاحب ''مروج الذہب'' ٦۔ کتاب الوصیۃ ، شیخ طائفہ ، محمدابن حسن طوسی( شیخ طوسی) ............. متوفی ھ ٧۔کتاب الوصایا، محمد ابن علی شلمغانی ، ...................................متوفی ھ ٨۔ الوصیۃ ....، موسی ابن حسن ابن طاطری ، ............................متوفی ھ اور چوتھی صدی ہجری کے بعد جو کتابیں تالیف ہوئی ہیں ان کا تو شمار ہی مشکل ہے ۔٣؎ ١۔مولیٰ محسن فیض کاشانی ، نفید الایضاح ، چاپ بہ حاشیہ فہرست طوسی، ص ٢٨٩۔ ٢۔؟؟؟؟؟ ٣۔بحوالہ اصل واصول الشیعہ ، کاشف الغطاء ، ص ١٣٧۔ ١٣٩۔ جی ہاں ! معترضین شیعوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے، لیکن لکھتے سب کچھ ہیں ۔ ٤۔ گیارہ اماموں نے حضرت مہدی کی خبردی ہیں مصنف مذکور کایہ ادعا کہ ( ائمہ ٪ کے کسی مستند قول میں شیعوں کے عقیدہئ مہدویت کی تصریح نظر نہیں آتی ! درحقیقت ان کایہ ادعا اسلامی تعلیمات اورافکار کے گہرے مطالعہ نہ ہونے پر بہترین دلیل ہے ۔ اس لئے کہ اگر موصوف اوران کے یہی خواہ تاریخ اسلام اور اسلامی افکار کا مطالعہ کرتے تو کبھی ایسے واہی دعویٰ نہ کرتے ، بلکہ متقن دلیل کے ذریعے اپنے دعویٰ کو ثابت کرتے ، اس طرح ان کو بے بنیاد ادعا کی نوبت ہی نہ آتی ، کیونکہ اسلام عقل ومنطق کادین ہے ، نہ دعویٰ اورزور گوئی کا،یعنی دعویٰ بدون دلیل کادین ، اس کے علاوہ فریقین ( شیعہ وسنی ) کی کتاب حضرت امام مہدیؑ کے بارے میں ائمہ طاہرین سے نقل ہونے والی حدیثوں سے بھری ہوئیں ہیں ، چند نمونہ ملاحظہ فامائیں ۔ |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (26-05-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
مقبول
|
امام علی ؑ اور احادیث مہدیؑ
١۔'' اللّہمّ بلیٰ لاتخلوا الارض من قائم للّہ بحجۃٍ امّا ظاہراً مشہوراً وامّا کائفاً مغموراً ، لئلا تُبْطِلَ حُجَجُ اللّہِ وبیّنَاتُہ ، وکم ذا وأین اولئٰک؟ واللّہ ، ألأقلّون عدداً ، ولأعظمون عنداللّہِ قدراً یحفظُ اللّہ بہم حججہ وبیّناتہ ، حتّی یودعوہا نظرائہم ، ویزرعوھا فی قلوب اشباہہم ... اولئٰک خلفاء اللّہ فی ارضہِ والدُّعاۃ الیٰ دینہِ وآہ آہ شوقاالیٰ رویتہم...''١؎ اے کمیل ... ہاں زمین ایسے فرد سے خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے ، چاہے وہ ظاہر اور مشہور ہو یاخائف اور پوشیدہ تاکہ پرور دگار کی دلیلیں اور اس کی نشانیاں مٹنے نہ پائیں۔ لیکن یہ ہیں ہی کتنے اور کہاں ہیں ؟؟؟ خدا کی قسم ان کے عدد بہت کم ہیں لیکن ان کی قدر ومنزلت بہت عظیم ہے خدا وند عالم انہیں کے ذریعے اپنے دلایل و بینات کی حفاظت کرتا ہے تاکہ یہ اپنے ہی جیسے افراد کے حوالے کردیں اوراپنے جیسے افراد کے دلوں میں بودیں ، انہیں علم نے بیصرت کی حقیقت تک پہونچا دیا ہے اوریقینی کی روح کے ساتھ گھل مل گئے ہیں ... یہی روئے زمین پر اللہ کے خلیفہ اوراس کے دین کے داعی ہیں ، ہائے مجھے ان کے دیدار کا کس قدر اشتیاق ہے۔ ١۔ نہج البلاغہ ، ترجمہ وشرح ، علامہ مفتی جعفر حسین ، کلمات قصار ، ١٤٧۔ ص٨٥١۔ ان عبادتوں میں گرچہ صریحاً حضرت امام مہدیؑ کا نام نہیں لیا گیا ہے ، لیکن نہج البلاغہ میں آپ ؑ کے بارے میں دوسرے مقامات پر ذکر ہونے والے اس سے مشابہ جملوں سے یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ آپ ؑ کی مراد حضرت مہدیؑ ہی ہیں ۔ ٢۔ آنے والے فتنوں اور ہنگاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ '' المہدی یعطف الہویٰ علی الہدیٰ ، اذا عطفوا الہدیٰ علی الہویٰ علی الہویٰ ، ویعطف الرأی علی القرآن ، اذا عطفو القرآن علی الرأی، حتّٰی تقوم الحرب بکم علیٰ ساقٍ ، بادیاً نواجذُہا، مملوئۃً اخلافُہا ، حلواً رضاعہا ، علقماً عاقبتہا ، الاوفی عذٍ ـ و سیاتی غدٌ بما لا تعرفون ـ یأخذ الوالی من غیر عمّا لِہاعلیٰ مساویئِ اعمالہا، ویخرج لہ الارضُ أفالیذکبدہا، وتلقی الیہ سُلماً مقالیدہا، فیریکم کیف عدل السیرہ ، ویحي میِّت الکتاب والسنّۃ۔''١؎ '' حضرت مہدی ' خواہشوں کو ہدایت کی طرف موڑ دے گا جب لوگ ہدایت کو خواہشات کی طرف موڑ رہے ہوں گے ، اوروہ رائے کو قرآن کی طرف پھیر لے گا جب لوگوں قرآن کو (موڑ مروڑ کر) قیاس ورائے کے دھڑے پر لگایا ہوگا۔ ( اسی داعی حق سے پہلے یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ ) جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے گی دانت نکالے ہوئے اور تھنوں کو پرکئے ہوئے ، جن کا دودھ شیرین وخوشگوار معلوم ہوگا ، لیکن انجام تلخ وناگوار ہوگا۔ ہاں کل ! اوریہ کل بہت نزدیک ہے کہ ایسی چیزوں کو لے کر آجائے جن کا تمہیں انداز نہیں ہے ۔ اس جماعت سے باہر کا والی تمام عمّال کی بد اعمالیوں کا محاسبہ کرے گا اورزمین اس کے سامنے اپنے خزانے انڈیل دے گی اور نہایت آسانی کے ساتھ اپنی کنجیاں اس کے حوالے کردے گی اور پھر وہ تمہیں دکھلائے گا کہ عادلانہ سیرت کیا ہوتی ہے اور وہ دم توڑ چکنے والی کتاب کو پھر سے زندہ کردے گا...'' ١۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ، ١٣٦۔ترجمہ وشرح ، مفتی جعفر حسین۔ اس لئے ، انسانیت اس عہد زرین کے لئے سراپا انتظار ہے جب خدائی نمائندہ دنیا کے تمام حکام کا محاسبہ کرکے عدل وانصاف کا نظام قائم کردے اور زمین اپنے تمام خزانے اگل دے ، دنیا میں راحت وسکون کا دور دورہ ہواور دین خدا اقتدار کلی کا مالک ہوجائے ۔ ٣۔'' وأخذوا یمیناً وشمالاً طعناً [ظعناً] فی مسالک الغیِّ ، وترکاً لمذاہب الرشد ، فلاتستعجلوا ماہو کائنٌ مرصدٌ ، ولا تستبطؤا مایجیئُ بہ الغد، فکم من مستعجلٍ بما ان ادرکہ ودَّ أنّہ شَیْرِغدٍ ایاقوم ، ہذا ابَّان وُرُودِ کلِّ موعودٍ ، ودنوُّ من طلغۃٍ لا تعرفون ألا وانّ من ادرکہا منّا یسری فیہا بسراجٍ منیرٍ، ویعذوفیہا علی مثال الصّالحین ، لیحُلَّ فیہا ربقاً ، ویعتِقُ فیہا رقّاً ، ویصدَعُ شعباً ویشعب صدعاً ، فی سترۃٍ عن النّاس لایبصر القایفُ اثرہ ولوتابع نظرہ ، ثم یشحذنَّ فیہا قومٌ شخذ القینِ النصل؛ تجلیٰ بالتنزیل ابصارہم ، ویرمیٰ بالتفسیر فی مسامعہم ، ویغبقون کاس الحکمۃ بعم القبوح...''١؎ '' ان لوگوں نے گمراہی کے راستوں پر چلنے اور ہدایت کے راستوں کو چھوڑنے کے لئے دائیں بائیں راستے اختیار کرلئے ہیں ، مگر تم جو بات ہوکر رہنے والی اور محل انتظار میں ہو اس کے لئے جلدی نہ مچاو، اور جیسے کل اپنے ساتھ لئے آرہا ہے ، اس کی دوری محسوس کرتے ہوئے ناگواری ظاہر نہ کرو، کہ کتنے ہی جلدی کے طلبگار جب مقصد کو پالیتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ کاش اسے حاصل نہ کرتے، آج کا دن کل کے سویرے سے کس قدر قریب ہے ۔اے میری قوم ! یہی تو وہ وعدہ کی ہوئی چیزوں کے آنے اور ان فتنوں کے نمایاں ہوکر قریب ہونے کا زمانہ ہے کہ جن سے ابھی تم آگاہ نہیں ہو۔ دیکھو ! ہم اہل بیتؑ میں سے جو بھی ان فتنوں کا دور پائے گا ، وہ اس میں ہدایت کا چراغ لے کر بڑھے گا اور نیک لوگوں کی راہ وروش پر قدم اٹھائے گا تاکہ بندھی ہوئی گرھوں کو کھول دے اور ہر غلام کو آزاد کرے، اورحسب ضرورت جڑے ہوئے کو توڑے اور ٹوٹے ہوئے کو جوڑے ۔وہ لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوگا ،کھوج لگانے والے پیسم؟؟ نظریں جمانے کے باوجود بھی اس کے نقش قدم کو نہ دیکھ سکیں گے ۔ اس وقت ایک قوم کو احق کی شانیں اس طرح تیز کیا جائے گا جس طرح لوہار تلوار کی باڑ تیز کرتا ہے ، قرآن سے ان کی آنکھوںمیں جلا پیدا کی جائے گی اور اس کی جائے گی اور اس کے مطالب ان کے کانوں میں پڑتے رہیں گے اورحکمت کے چھلکتے ہوئے ساغر انہیں صبح وشام پلائے گا...''۔ ١۔ نہج البلاغہ، خطبہ١٤٨، ص ٣٩٢۔ ٣٩٣،ترجمہ وشرح ، مفتی جعفر حسین۔ ٣۔''فاذا کان ذالک ضرب یعسوب الدین بزنبہ ، فیجتمونَ الیہ کما یجتمع فزع الخریفِ۔'' ١؎ جب وہ وقت آئے گا تو دین کا یعسوب اپنی جگہ پر قرار پائے گا اورلوگ اس کے پاس اس طرح جمع ہوں گے جس طرح موسم خریف کے قزع ( بادل کے ٹکڑے) ۔ سید رضی کہتے ہیں کہ: یعسوب اس سردار کو کہا جاتا ہے جو تمام امور کا ذمہ دار ہوتا ہے اور قزع بادل کے ان ٹکڑوں کو کہا جاتا ہے کہ جن میں پانی نہ ہو۔٢؎ یعسوب شہد کی مکھوں کے سربراہ کو کہتے ہیں ، اور یعسوب الدین ( حاکم دین وشریعت ) سے مراد حضرت امام مہدیؑ ہیں ، اس لفظ سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جس امیر نحل کاظاہر وباطن پاک ہوتا ہے اور وہ نجاست سے احتراز کرتے ہوئے پھولوں اور شکوفوں سے اپنی غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح حضرت مہدیؑ بھی تمام آلودگیوں سے پاک وصاف اور ہرطرف سے طیب وطاہر ہوں گے ۔٣؎ ١۔٢۔٣۔ نہج البلاغہ،کلام غریب ، کلام ١، ص ٨٨٦۔ترجمہ، مفتی جعفر حسین۔ ان عبارتوں میں گرچہ صریحاً حضرت امام مہدیؑ کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن یہ بظاہر ( امام مہدی ؑ کے ظہور کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا مصداق اس کے علاوہ کسی دور میں نہیں پیدا ہو سکا ہے ۔ ٤۔'' قد لبس للحکمۃ جنَّتہا ، واخذہا بجمیع ادبہا من الاقبال علیہا ، والمعرفۃ بہا ، والتّفرّغ لہا، فہی عند نفسہ ضآلتُہُ الّتی یطلبہا، وحاجتہ التی یسأل عنہا، فہو مغتربٌ اذا اغترب الاسلامُ وضرب بعیب ذنبہ، وألصق الارضَ بجرانہ، بقیّۃٌ من بقایا حجّتہ ، خلفۃٌ من خلائف انبیائہ۔''١؎ ''وہ حکمت کی سپرزیب تن کئے ہوگا اور اسے پورے آب وتاب کے ساتھ اختیار کئے ہوگاکہ اس کی طرف متوجہ ہوگا۔ اس کی معرفت رکھتا ہوگا اور اس کے لئے مکمل طور پر فارغ ہوگا، یہ حکمت اس کی نگاہ میں ایسی گم شدہ دولت ہوگی جس کو تلاش کررہا ہوگا، اور ایسی ضرورت ہوگی جس کے بارے میں دریافت کرہا ہوگا ، وہ اسلام کی غربت کے ساتھ غریب الوطن ہوگا اور اس اونٹ کی طرح ہوگا جو تھکن سے زمین پر دم ٹیک رہا ہو اور سینہ زمین پر ٹیکے ہوئے ہو، وہ اللہ کی حجتوں میں سے آخری اور اس کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ ''۔ ١۔ نہج البلاغہ، خطبہ١٨٠، ص ٤٧٣۔ترجمہ وشرح ، مفتی جعفر حسین۔ یہ تھے چند نمونے '' نہج البلاغہ '' سے حضرت امام ؑ کے بارے میں جن میں مندرجہ ذیل نکات بیان ہوئے ہیں : ١۔ اتمام حجت بہر حال ایک اہم اورضروری مسئلہ ہے ، لہذا ہر دور میں حجت خدا، اہل بیتؑ کے ایک فرد کا رہنا ضروری ہے '' اللّہمّ بلیٰ لاتخلوا لارض من حجۃٍ '' دوسرے لفظوں مین جب تک روی زمین پر نوع انسان کا وجود ہے اس وقت تک ان کے درمیان ایک کامل ومعصوم انسان کا وجود بھی ضروری ہے کہ جس میں اس نوع کے تمام کمالات جلوہ گر ہوں ، علم وعمل سے لوگوں کی ہدایت کرتا ہو اور ان کو ان کے کمالات ومقامات کی طرف بلاتا ہو، حلال وحرام کی معرفت کراتا ہو اور ان کو راہ خدا کی طرف بلاتا ہو تاکہ پرور دگار کی دلیلیں اور نشانیاں مٹنے نہ پائیں '' لئلا تبطل حجج اللہ وبیناتہ '' . ٢۔ چاہے ظاہر بظاہر منظر عام ہو ہو( اما ظاہراً مشہور اً') ٣۔ یاپردہئ غیب میں ہو( اما خائفاً مغموراً) یعنی اتمام حجت کے لئے امام کا وجود اور حضور کافی ہے اس کے ظہور کی شرط نہیں ہے ۔ ٤۔ لفظ ''مغموراً ''اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امام زمانہ کے حضور اور فعالیت کا انجام دینا ضروری ہے تاکہ پروردگار کی دلیلیں اور نشانیاں مٹنے نہ پائیں، لہذا غیبت امام زمان اور حجت خدا کا معنی معاشرہ سے کنارہ گیری اختیار کرنا نہیں ہے ، بلکہ آپ ؑ ہمیشہ معاشرے میں حضور فعّال رکھتے ہیں '' لوگوں کے درمیان رفت وآمد رکھتے ہیں ، اوران کے ساتھ رہتے ہیں ، مجالس میں بیٹھتے ہیں ، مضطر کی فایادرس اور ان کی حاجت روائی کرتے بیماروں کی عیادت کرتے ہیں ، آپ لوگوں کے دیکھتے ہیں اور سلام کرتے ہیں اور لوگ آپ ؑ کو بھی دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ۔''١؎مختصر یہ کہ امام زمانہ ؑ زمانہئ غیبت میں بھی اسلام کی عظمت وارتقاء اور مسلمانوں کے امور کے حل وفصل میں ممکنہ حدتک کوشش فرماتے ہیں ۔ ٥۔ مذکورہ خطبہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آپ کی غیبت کا ایک سبب '' خوف '' تھا ''اماخائفاً مغموراً ''یعنی اس وقت کے حکمران آپ ؑ کا خاتمہ چاہتے تھے ، لیکن غیبت کی وجہ سے قتل سے نجات پائی۔ دوسری حدیثیں بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں ۔٢؎ البتہ دین اورحق کی راہ میں قتل ہونے سے امام زمانہ ؑ نہ ڈرتے تھے اورنہ ڈرتے ہیں ، لیکن ان کے قتل ہونے میں معاشرہ اور دین کی صلاح نہیں ، کیونکہ ہر شہید ہونے والے امام اور جانشین پیغمبر ؐ کے بعد دوسرا امام اس کا جانشین ہوا ہے ، لیکن اگر امام زمانہ شہید ہوجائیں تو پھر کوئی جانشین نہیں ہے اور زمین حجت خدا کے وجود سے خالی ہوجائے گی ، جبکہ نہ مقدرہو چکا ہے کہ آخر کار حق باطل پر غالب ہوگا،١؎ اور امام زمانہ کے ذریعہ دنیا کے زمام ، حق پر ستوں اور اللہ کے نیک بندوں کے ہاتھوں میں آئے گی۔٢؎ ١۔ توبہ، ٣٣، ''ہو الذین ارسل رسولہ باالہدی ودین الحق لیظہر علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکوں''۔ ٢۔ انبیائ، ١٠٥، '' ولقد کتبنا فی الذبور من بعد الذکر ان الارض یرثہا عبادی الصالحون''۔ ٦۔ حوادث روزگار اور حضرت امام مہدیؑ کی طولانی غیبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: '' ماأطول ہذا العناء وابعد ہذالرّجاء ...'' '' ہائے !یہ رنج وغم کس قدر طویل ہوگا اور اس سے نجات کی امید کس قدر دور تر ہوگی۔ آخر زمانہ میں رونما ہونے والے حوادث اور فتنے ١۔سفیانی کا خروج اور مظالم حضرت امام مہدی کے اصلاحات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں : '' کأنی بہ قد نعق بالشام ، وفحص برایاتہ فی خواصی کوفان فعطف علیہا الفروس ، وفرش الارض بالرّوس...''٣؎ ''میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ ایک شخص [سفیانی ]٤؎ شام میں للکار رہا ہے اوراور کوفہ کے گرد اس کے جھنڈے لہرارہے ہیں ، وہ اس کی طرف کاٹنے والی اونٹنی کی طرف متوجہ ہے اورزمین پر سروں کا فرش بچھا رہا ہے ، اس کا منہ کھلاہوا ہے اور زمین پر اس کی دھمک محسوس ہورہی ہے ۔ ٣۔مفتی، خطبہ ١٣٦، ص٣٧٣، علامہ جوادی،خطبہ، ١٣٨ ، ص ٢٦٢۔ ٤۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ۔ خدا کی قسم وہ تمہیں اطراف زمین میں اس طرح منتشر کردے گا ، صرف اتنے آدمی باقی رہ جائیں گے جیسے آنکھ ،میں سرمہ اور پھر تمہارا یہی حشر رہے گا یہاں تک کہ عربوں کی گمشدہ عقل پلٹ کر آجائے ۔ لہذا ابھی غنیمت ہے مضبوط طریقہ ، واضح آثار اور اس کے قریبی عہد سے وابستہ رہو جس میں نبوت کے پائیدار آثار ہیں ۔١؎ ١۔مفتی، خطبہ ١٣٦، ص٣٧٣، علامہ جوادی،خطبہ، ١٣٨ ، ص ٢٦١و٢٦٢۔ ٢۔ظالمون کا باہمی عہد وپیمان اور فتنوں میں لوگوں کی حالت خدا کی حمد وثنا اور محمدؐ وآل محمدؐ کے فضائل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ''یہ فتنے ابتداء میں مخفی راستوں سے شروع ہوتے ہیں اورآخر میں واضح مصائب تک پہونچ جاتے ہیں ، دنیا کے ظالم باہمی عہد وپیمان کے ذریعہ ان کے وارث بنتے ہیں اول آخر کا قائد ہوتا ہے اورآخر اول کا مقتدی ، حقیر دنیا کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں اوربدبودار مردار پر آپس میں جنگ کرتے ہیں ، عنقریب مریداپنے پیراور پیر اپنے مرید سے برائت کرے گا اور بغض وعداوت کے ساتھ ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں گے ، لوگ ایک دوسرے کو کاٹنے ڈوریں گے جس طرح بھیڑ کے اندر گدھے ! خدا کی رسی کے بل کھل جائیں گے اور حقائق کے راستے مشتبہ ہوجائیں گے ، حکمت کا چشمہ خشک ہوجائے گا اور ظالم بدلنے لگیں گے ، یہ فتنے قضاء الہیٰ کی تلخی کے ساتھ وارد ہوں گے اور دودھ کے بدلے تازہ خون نکالیں گے ، دین کے منارے ہلاک ہوجائیں گے اور یقین کی گرھیں ٹوٹ جائیں گی ، رشتہ داروں سے تعلقات توڑ دئے جائیں گے اور اسلام سے جدائی اختیار کرلی جائے گی و...۔ لہذا خبر دار تم فتنوں کا نشانہ اور بدعتوں کا نشانہ مت بننا اور اسی راستے کو پکڑے رہنا جس پر ایمانی جماعت قائم ہے اور جس پر اطاعت کے ارکان قائم کئے گئے ہیں ، خدا کی بارگاہ میں مظلوم بن کر جاؤخبردار ظالم بن کر مت جانا''۔٢؎ ٢۔مفتی، خطبہ ١٤٩، ص٣٩٤۔ ٣۔ فتنوں میں لوگوں کی حالت ''... آگاہ ہوجاؤ اور اس وقت کے انتظار کرو جب تمہارا امور الٹ جائیں گے اور تعلقات ٹوٹ جائےں گے اور بچوں کے ہاتھ میں اقتدار آجائے گا یہ وہ وقت ہوگا جب ایک درہم حلال کے ذریعے حاصل کرنے سے آسان تلوار کا زخم ہوگا...۔ تم بغیر کسی شراب کے عیش وآرام اور نعمتوں کے نشہ میں سرمست ہوں گے اور بغیر کسی مجبوری کے بات پر قسمیں کھاؤگے اور بغیر کسی لاچاری کے جھوٹ بولو گے اور یہی وہ وقت ہوگا جب بلائیں تمہیں اس طرح کاٹ کھائیں گے جس طرح اونٹ کے پیٹھ کو پالان ! ہائے یہ رنج والم کس قدر طویل ہوگا اور اس سے نجات کی امید کس قدر دور تر ہوگی ۔'' '' ماأطول ہذا العناء وابعد ہذالرّجائ''١؎ ١۔مفتی، خطبہ ١٨٥، ص٥٠١۔ اور لوگوں پر ایک زمانہ آنے والا ہے جب صرف لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا مقرب بارگاہ ہو ا کرے گا ، فاجر کو خوش مزاج اور انصاف پسند کو کمزور وناتوان سمجھا جائے گا صدقہ کو لوگ خسارہ، اورصلہ رحمی کو احسان سمجھیں گے اور عبادت کو لوگوں پر برتری کا ذریعہ قرار دیں گے ۔ ایسے وقت میں عورتوں کے مشورہ ، بچوں کے اقتدار اور خواجہ سراوں کی تدبیر کے سہارے رہ جائے گی۔''١؎ ١۔مفتی، حکمت ١٠٢، ص٨٣٢۔ ٤۔اسلام میں صرف نام اور قرآن کے صرف نقوش باقی... '' لوگو عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں اسلام کو اس طرح الٹ دیا جائے گا جس طرح برتن کو اس کے سامان سمیت الٹ دیا جاتا ہے '' سیاتی علیکم زمانٌ یکفأفیہ الاسلام کمایکفاء الاناء بمافیہ'' وہ زمانہ ایسا ہوگا جس میں صرف وہی مؤمن نجات پاسکے گا جو گویا سورہاہوگا ، مجمع میں آئے تو لوگ اسے پہچان نہ سکیں گے اور غائب ہوجائے تو کوئی تلاش نہ کرے یہی لوگ ہدایت کے چراغ اور راتوں کے مسافروں کے لئے نشان منزل ہوگی ''۔١؎ ١۔مفتی، خطبہ ١٠١، ص٢٩٦ و٢٩٧۔ '' اور لوگوں پرایک ایسا دور بھی آنے والا ہے جب قرآن میں صرف نقوش باقی رہ جائیں گے اور اسلام میں صرف نام باقی رہ جائے گا،٢؎ کوئی شی حق سے زیادہ پوشیدہ اور باطل سے زیادہ نمایاں نہ ہوگی، سب سے زیادہ رواج خدا اور سول پر افتراء کا ہوگا ۔ اور اس زمانہ والوں کے نزدیک کتاب خدا سے زیادہ بے قیمت کوئی چیز نہ ہوگی، شہروں میں منکر سے زیادہ معروف اور معروف سے زیادہ منکر کچھ نہ ہوگا ، حاملان کتاب ، کتاب کو چھوڑ دیں گے اور حافظان قرآن ، قرآن کو بھلا دیں گے ، لوگوں نے افتراق پر اتحاد اور اتحاد پر افتراق کرلیا ہے ، جیسے یہی قرآن کے پیشوا ہیں اور قرآن ان کا پیشوا نہیں ہے ، اب ان کے پاس صرف قرآن کا نام باقی رہ گیا ہے اور وہ صرف اس کی کتابت وعبادت کو پہچانتے ہیں اور بس!۔ ٢۔ مفتی ، حکمت٣٦٩، ص٩٢٥۔ مسجدیں تعمیرات کے اعتبار سے آباد ہوں گی اور ہدایت کے اعتبار سے برباد ہوں گی اس کے رہنے والے اور آباد کرنے والے سب سے بدترین اہل زمان ہوں گے ، انہیں سے فتنہ باہر آئے گا اورانہیں کی طرف غلطیوں کو پناہ ملے گی جو اس سے بچ کر جانا چاہے گا اسے اس کی طرف پلٹا دیں گے اورجو دور رہنا چاہے گا اسے ہنگاکر لے آئیں گے ۔١؎ ١۔مفتی ،حکمت٣٦٩ ،ص٩٢٥۔ شاید کہ ہمارا دوران ارشادات گرامی کا بہترین مصداق ہے جہاں ، مساجد کی تعمیر بھی ایک فیشن ہوگی ہے اور اس کا اجتماع بھی ایک فنکشن ہوکر رہ گیا ہے ، روح مسجد فنا ہوگئی ہے اور مساجد سے وہ کام نہیں لیا جارہا ہے جومولائے کائنات کے دور میں لیا جارہا تھا ، جہان اسلام کی ہرتحریک کا مرکز مسجد تھی اور باطل سے مقابلہ کا ہر منصوبہ مسجد میں تیار ہوتا تھا ، لیکن آض مسجد صرف حکومتوں کے لئے دعائے خیر کا مرکز ہیں اوران کی شخصیتوں کے پروپیگنڈہ کا بہترین پلیٹ فارم۔ آج مسلمانوں کی زندگی پر ایک نظر ڈالئے قرآن کہاں ہے ؟ سرکاری اداروں میں ہے ، اقتصادی نظام میں ہے ؟ روابط کے نظم ونسق میں ہے ، عوام کی باہمی تعلقات میں ہے ؟ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہے ، خارجہ سیاست یاحکومت کے باہمی تعلقات میں ہے ؟ عوام کے درمیان قومی سرمایہ کی تقسیم میں ہے ؟ اسلامی معاشرے کی سربراہوں کے عادات وخصال میں ہے ؟ اقوام وملل کے مختلف طبقات میں کہیں قرآن نظر آتا ہے ؟ اسلامی احکام کی انفرادی رفتار میں ، زن ومرد کے روابط ، خوراک ولباس میں ، زندگی کے کس اصلی پرتو میں قرآن ہے ؟ ایوانوں میں ، امانتوں اوربینک ڈپازٹ میں ، معاشرت میں ، انسان کے عوامی اور سماجی تحریکات میں ؟ کیا کہیں قرآن نظر آتا ہے ؟ زندگی کے اتنے سارے میادین ہیں ، البتہ مسجدوں ، میناروں اور عوام فریبی کے لئے ریڈیو ٹیلی ویژن کے چند پروگرام مستثنی ہیں، مگر کیاقرآن فقط اسی لئے ہے ؟ کیا قرآن صرف ہدیہ دینے اور آرائش وزینت کے لئے سجاکر رکھنے ، قبرستان میں تلاوت کرنے اوراور طاقوں میں سجانے کے لئے رہ گیا ہے ؟ کیا امت اسلام اور امت قرآن کی حالت پریشان کن نہیں ہے ؟ ١؎ سید علی خامنہ ای کی تقریر سے اقتباس ، بحوالحہ مجلہ میزان ، ش٢، ص ١،٢۔ ٣۔ لوگ راہ حق سے منحرف ہوکر دائیں بائیں ( افراط وتفریط) کے ساتھ ضلالت وگمراہی کی راہ پرگامزن ہوئے ہدایت کے راستے کو چھوڑ دیں گے '' وأخذو یمیناً وشمالاً طعناً فی مسالک الغیّ وترکاً لمذاہب الرّشد...''١؎ ١۔مفتی ،خطبہ١٤٨ ،ص٣٩٢۔ ٤۔ اس داعی حق کے ظہور سے پہلے نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ '' جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے گی ، دانت نکالے ہوئے اورتھنوں کو پرکئے ہوئے ، اس کا دودھ پینے میں شیریں معلوم ہوگا اور اس کا انجام بہت برا اورناگوار ہوگا'' حتی تقوم الحرب علیٰ ساقٍ بادیاً نواخذہا حلوٌ ارضاعہا علقماً عاقبتُہا''۔٢؎ یعنی بہت ہی خطرناک جنگ چھیڑ جائے گی اور خوفناک حالات پیدا ہوگی، اور جنگ چھیڑانے والے استکباری قوتیں یہ سمجھتے ہوں گے کہ اس جنگ کاسوفیصد فایدہ انہیں کو پہنچ رہا ہے جب کہ اس کے انجام سے وہ بے خبر ہوں گے ۔ ٢۔مفتی ،خطبہ١٣٦ ،ص٣٧٣۔ روشن مستقبل مختصریہ کہ علی - ایک خوفناک مستقبل کی پیشنگوئی کررہے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ کاروان انسانیت یونہی ظلم وستم کا نشانہ بنتا رہے گا؟ کیا اہل حق فنا ہوکر صرف باطل قوتوں کی حکمرانی باقی رہے گی؟ نہیں ہرگز نہیں ! اگرچہ اکثر لوگ راہ حق سے منحرف ہوکر شرق وغرب کی باطل قوتوں کی اتباع اور ضلالت وگمراہی کی راہ پر گامزن ہوں گے اور دیکھنے میں ہر طرف باطل نظر آئے گا ، لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے ، کیونکہ اہل حق کی مثال پانی کی طرح ہے اوراہل باطل اور کفر اوپر آجانے والا پھیں، اہل حق دہات ہے اورباطل اوپر جمع ہوجانے والا جھاک ،١؎ جھاک ہمیشہ اوپر غالب دکھائی دیتا ہے ، لیکن جوش ختم ہوتے ہی فنا ہوجاتا ہے اور پانیاور سونا وغیرہ جو باقی رہ جاتا ہے کہ یہ کام آنے والا ہے، لہذا اہل حق ایک روشن وتابناک مستقبل رکھتے ہیں چنانچہ علی بن ابی طالب ؑ فرماتے ہیں : ١۔سورہ انبیائ،آیت/١٦سے ١٨۔ ١۔ ''ومااقرب الیوم من تباشیرِ غدٍ...''مستقبل کی بشارتیں کتنی قریب ہے، اب وعدوں کے پورا ہونے اور چیزوں کے ظاہر ہونے کا وقت ہے جنہیں تم نہیں پہچانتے ۔ دیکھو! ہم اہل بیت میں جو بھی ان فتنوں کا دور پائے گا ۔ وہ امام زمانہ ؑ ہے ۔ وہ اس میں ہدایت کے چراغ کے ساتھ قدم اٹھائے گا اور صالحین کے نقش قدم پر چلے گا تاکہ بندھی ہوئی گرہوں کو کھولے ( مشکل حل کرے) اور اسیروں اور غلاموں کو آزاد کرے ۔ وہ باطل قوتوں پراکندہ اور مومن گروہوں کو اسلام سے دفاع کے لئے جمع کریں گے ''ویصدع شعباً ویشعب صدعاً''۔ ٢۔ [ امام زمانہ کے وجود کی برکت سے زمانہ غیبت میں دین سے دفاع کے لئے ] لوگوں کی ایک جماعت کو اس طرح تیز کیا جائے گا ، جیسے لوہار تلوار کی باڑ تیز کرتا ہے ان لوگوں کی آنکھوں کو قرآن کے ذریعہ روشن کیاجائے گا اوران کے کانوں میں (قرآن کی) تفسیر کو مسلسل پہنچایا جائے گا اور انہیں صبح وشام علوم ومعارف اور حکمت کے جاموں سے سیراب کیا جائے گا۔'' ثمّ لَیُشعذنَّ فیہا قومٌ شَعْذَ القینِ النَّصْلَ ، تجلیٰ باالتنزیلِ ابصارُہم و....''١؎ ١۔مفتی ، خطبہ ١٤٨، ص ٣٩٢۔ ظہور حضرت مہدی اورآپ کے اصلاحی اقدامات ١۔ جب وہ وقت آئے گا تو دین کا یعسوب ( حاکم دین وشریعت حضرت مہدی) اپنی جگہ پر قرار پائے گا اور لوگ ( آپ کے اصحاب خاص ) اس کے پاس اس طرح جمع ہوں گے جس طرح موسم حریف کے بادل کے ٹکڑے ۔'' فاذا کان ذالک یعسوب الدین بذنبہ فیجتمعون کما یجتمع قزع الخریف''٢؎ ٢۔مفتی،کلام غریب ،١، ص٧٧٦ ٢۔ حضرت مہدیؑ خواہشات کو ہدایت کی طرف موڑدے گا جب کہ لوگ ہدایت کو خواہشات کی طرف موڑرہے ہوں گے '' یطعف الہوی اذا عطفوا الہدی علی الہویٰ''٣؎ ٣۔ مفتی ، خطبہ ١٣٦، ص ٣٧٣، علامہ جوای، خطبہ ١٣٨، ص ٢٦١۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ دنیا کا ہر فتنہ خواہشات کی پیروی اور بدعتوں کی ایجادات سے شروع ہوتا ہے اوریہی تاریخی حقیقت ہے کہ اگر امت اسلامیہ رسول اللہ ؐ کی وفات کے بعد کتاب خدا کے خلاف خواہشات کے مطابق احکام وضع نہ کئے ہوتے اور خواہشات کا اتباع نہ کرتے اور رسول اللہ کے حقیقی جانشینوں کا اتباع کرتے ، اور حق وباطل ملاوٹ سے الگ رہتا ، توآج اسلام باالکل خالص اور صریح ہوتا اور حق اہل حق سے پوشیدہ نہ رہتا،عناد رکھنے والی زبانیں بھی بند ہو جاتیں ، لیکن ہوایہ کہ خواہشات کی پیروی میں ، کچھ ادھر سے لیا کچھ اُدھر سے اورحق کو باطل سے ملادیا جس کے نتیجے میں امت اسلامی ایک دائمی فتنے میں مبتلاء ہوگئی۔ آج بھی دنیا میں بہت کم افراد ایسے ہیں جنہوں نے خدا کو خدا سمجھاہو اور خواہشات کی خدائی کا درِ پردہ اقرار نہ کیا ہو۔ خواہشات کے بندے حدود مذہب کے باہر بھی پائے جاتے ہیں اورحدود مذہب کے اندر بھی بلکہ کبھی کبھی مذہب کے نام پر جان دینے والے بھی دراصل خواہشات ہی کے بندے ہوتے ہیں کہ ان کا جان دیدینے کا فیصلہ بھی خواہشات کی پیداوار ہوتا ہے اور اس کا حکم خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا گویا کہ یہ خواہشات کو قربان کرنے کے بجائے خواہشاتی قربانی پیش کرتے ہیں ، شریعت کے قوانین کے اتباع کے بجائے خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے ہیں ، جب کہ شریعت کے قوانین دراصل اس لئے بنائے گئے ہیں کہ انسانی خواہشات پر روک لگائی جائے اور انسانوں کو ایک ایسا معیار دے دیا جائے کہ اس سے انحراف خواہشات کی خدائی کے مترادف ہوجائے چاہے اس کا نام جو بھی رکھ دیا جائے ۔ مختصر یہ کہ ظہور کے بعد حضرت مہدیؑ بدعتوں کا قلع قمع کریں گے اوراحکام الہیٰ کو ایسے ہی نافذ کرےں گے جیسے کہ وہ صادر ہوئے تھے، کیونکہ حضرت مہدی'' سیرت رسول'' کے مطابق عمل اور آثار محمدیؐ کی صحیح تفسیر کریں گے ۔١؎ ١۔ علامہ جوادی ، ص ٢٧٠۔ ٦۔ یہ وضعیت اور حالت اسی طرح جاری رہے گا اور اس داعی حق سے پہلے یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ جنگ اپنے پیروی پر کھڑی ہوجائے گی دانت نکالے ہوئے اور تھنوں کو پرکئے ہوئے ''حتی تقوم الحرب بکم علیٰ ساق بادیاً نواجذُہا''یعنی بہت ہی خطرناک حالت پیدا ہوگی اور خونریز جنگ چھڑجائے گی۔ اس کا دودھ پینے میں شرین معلوم ہوگا اور اس کا انجام بہت تلخ وناگوار ہوگا، '' حلوٌ ارضاعُہا علقماعاقبتہا''١؎یعنی عالمی جنگ چھڑانے والے استکباری قوتیں یہ سمجھتے ہیں ، کہ اس جنگ کا سوفیصد فائدہ انہیں کو پہنچ رہا ہے جب کہ اس کے انجام سے وہ بے خبر ہیں ۔ ١۔ مفتی ، خطبہ٣٣٦،٣٧٣۔ ٧۔ اس کے بعد امیر المومین ؑ فرماتے ہیں :'' الاوفی غد، وسیاتی غدٌ بہا لاتعرفون '' ٢؎ یاد رکھو کل اور یہ کل بہت نزدیک ہے ، وہ حالات لے کر آنے والا ہے جس کا تمہیں اندازہ نہیں، یعنی اگرچہ حضرت امام مہدیؑ کے ظہور سے پہلے جنگ وخونریزی ناگزیر ہے لیکن جنگ ایک محمدود مدت کے لئے ہے اور اس جنگ کے نتیجے میں حضرت ظہور فرمائیں گے اور اس جنگ میں آپؑ اورآپ کے سپاہی کامیاب ہوں گے اور آپ کے ہاتھوں ظالم حکومتوں کا تختہ الٹ دیا جائے گا اور پوری دنیا میں توحید اور عدل کی حکومت قائم ہوگی۔ ٢۔ مفتی ، خطبہ١٤٧،٣٩٢۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے صرف علی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (08-01-12), Real_Light (26-05-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
مقبول
|
حضرت کے اصلاحی اقدامات اور آپ کی حکومت کی خصوصیات
١۔جنگ ختم ہوجائے گی اور حضرت مہدی، بدکردار حکمرانوں سے ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے مؤاخذہ کرے گا اور تمام شہروں اور صوبوں میں لائق حکام ضروری احکام کے ساتھ منصوب کئے جائےں گے '' یاخذ الوالی من غیرہا، عُمّالہا مساوی اعمالہا''اور اس طرح دنیا کی اصلا ح ہوگی۔ ٢۔زمین آپ ؑ کے سامنے اپنے خزانے انڈیل دے گی اور تمام جگر کے ٹکروں کو نکال دے گی اور نہایت آسانی کے ساتھ اپنی کنجیاں اس کے حوالہ کردے گی'' وتخرج لہ الارضُ افالیذ کبدہا وتلقی الیہ مسلماً مقالیدہا''١؎ یعنی زمین کے خزانے آشکار ہوجائیں گے ، عالم طبیعت کے تمام اسرار اور پوشیدہ امور مادی ہویامعنوی۔ آپ کے ہاتھوں منکشف ہوں گے ، اور دنیا کے تمام ممالک کے حکمران آپ کے مطیع اور اپنی حکومتوں کا نظم ونسق آپ کے حوالہ کردیں گے ۔ ١۔ مفتی ، خطبہ١٣٨ ص١٣٦م١٣٧۔ ٣۔ آپ بظاہر مردہ اور دم توڑ چکنے والی کتاب وسنت کو پھر سے زندہ کرے گا '' ویحی میّت الکتاب والسنّۃ'' یعنی آپ ؑ قرآن کے متروکہ احکام کا اجراء کریں گے اور لوگوں کو قرآن کی طرف بلائے گے ، اور لوگوں کے درمیان رائج غلط رسوم اور بری عادات اور باطل قوانین کو ختم کر کے شریعت اسلام پر عمل کرنے کی طرف بلائیں گے ۔ ٤۔ عادلانہ سیرت دنیا کے سامنے پیش کریں گے ''فیریکم کیف عدلُ السیرۃ''پھر وہ تمہیں دکھلائے گا کہ عادلانہ سیر ت کیا ہوتی ہے ۔١؎ ١۔ مفتی ، خطبہ١٣١،ص١٣٧۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان نے جب سے اس روی زمین پر قدم رکھا ہے اب تک اسے چین وسکون ، صلح وآشتی اور سب سے بڑھ کر عزت وشرف ، وقار ومنزلت اور اپنی حقیقی مقام کی تلاش ہے جواس کی فطرت کا تقاضا بھی ہے ۔ آج تک کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ دن اس دنیا نے دیکھا اور انسان کو اس کی دلی مراد نصیب ہوئی ، دکھ سکھ سے بدلا، ظلم وزیادتی عدل وانصاف سے اور ناامنی صلح وآشتی سے بدل گئی۔ کسی مکتب فکر یا نظام حکومت نے اس کا صحیح مقام عنایت کیا اور اسے شرافت وکرامت نصیب ہوگئی، بلکہ اس کے برخلاف تاریخ جیسے ، جیسے آگے بڑھی ناانصافی ، ناقدری، نابرابری ، ناامنی، قتل وغارتگری ، انسانی اقدار کی پائیمالی ، جنسی واخلاقی انحرافات اور تہذیب وتمدن کے نام پر بے راہ وروی اور بڑھتی گئی اورآج کے ترقی یافتہ دور میں بھی انسانی حقوق کے نام پر بڑے بڑے بین الاقوامی ادارے باالکل اسی طرح انسانوں کا استحصال کررہے ہیں جس طرح اسلام سے پہلے زمانہ ئ جاہلیت میں لوگوں کا استحصال ہوتا تھا ۔ نہ انسانوں کو کل حقیقی چین وسکون ملا، نہ آج اسے اس کا واقعی مقام مل سکا، اور عقل اسے تسلیم نہیں کرتی کہ یہ کاروان انسانیت یونہی ظلم وستم کا نشانہ بنتا رہے گا اور کچھ لوگ قوت وطاقت اورمال وزر کے بل بوتے پر اسی طرح انسانوں کا خون چوستے رہیں گے ، انسانی جانیں ضائع ہوتی رہےں گی ، بچے یتیم ہوتے رہیں گے ، عورتیںبیوہ ہوتی رہیں گی مگر کوئی فریاد رس ہمدرد مسیحا دور ، دور تک دیکھائی بھی نہ دے ! دوسری طرف خود پروردگار نے قرآن میں جابجا مظلوموں ، درد کے مارے ہوئے انسانوں اور مستضعفین عالم کو ڈھارس دی ہے کہ ایک دن مظلوموں کا دن پلٹے گا ، ظالمین اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے ، ١؎ اور پیغمبرؐ کا دین سارے عالم پر غالب ہوکر رہے گا اور اسلام کے فرامین ایک نہ ایک دن سارے انسانوں کی عزت وسربلندی کے ضامن ہوں گے ۔ ٢؎ ١۔سورہ قصص، آیت /٥۔ ٢۔سورہ توبہ، آیت/٣٣ اللہ تعالی کے وعدوں کا بھرم رسول اللہ اورائمہ معصومین کے ارشادات کے مطابق مہدی ؑ موعود کی آمد پر متوقف ہے ۔ اس کے علاوہ دنیا کے بگڑے حالات ، بڑھتی ہوئی بے سروسامانی، چین وسکون کا چھن جانا، اشتراکی حکومتوں کا زوال اورنظام سرمایہ داری اور سکیولیریزم کاروز بروز برھتا ہوا اضمحلال اور اس کے کی ناتوانی ، اسلام کی آفاقیت کا قرآن میں صریحی اعلان اور صالحین کی حکومت کا الہیٰ وعدہ ،٣؎ حضور کا یہ فرمان کہ میری اور فاطمہ کی نسل ایک شخص ظہور کرے گا جو ظلم وجور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا، یہ سب کچھ وہ عقلی نقلی اور تاریخی مستحکم شواہد ہیں جو ظہور حضرت مہدیؑ اور حکومت عدل الہیٰ کے قیام کو ناقابل انکار بنادیتا ہے ۔ لہذا یہ دنیا پر ایک بار پھر اہل بیتؑ کی عادلانہ حکومت ہوگی ، چنانچہ امیر المؤمنین - نہج البلاغہ کے ایک اور خطبہ میں فرماتے ہیں: '' لتعطفنّ الدّنیا علینا بعد شماسہا عطف الطروس علی ولدہا... '' یہ دنیا منہ زوری دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے ۔١؎ [اس کے بعد حضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: '' ونرید انّ نمنّ علی الذین الستضعفوا فی الارض ونجعلہم ائمۃً ونجعلہم الوارثین۔''٢؎ ١۔ حکمت ، ٢٠٩، مفتی ، ص ٨٦٨، جوادی، ص ٧٠٢۔ ٢۔ سورہ قصص ، آیت/٥ جی ہاں ! جس وقت ساری دنیا فتنہ وفساد سے بھر جائے گی اس وقت خداوند اس عظیم مصلح کو بےجے گا تاکہ گمراہی کے قلعے ان کے ہاتھوں ریزہ ریزہ ہوجائیں ، توحید ، عدالت اور حقانیت کا چراغ انسانیت کے دل ودماغ کو منور کردے اورکفر وشرک ، ظلم وجور کی تاریکی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نیست ونابود ہوجائے ، تمام سلطنتیں اور ظالم حکومتیں ختم ہوجائیں اور '' لیظہرہ علی الدّین کلہ'' کا مکمل نمونہ نگاہوں کے سامنے آجائے ۔ یہی منشاء الہیٰ ہے اور یہی وعدہ قرآنی ہے جس کے خلاف کا کوئی امکان نہیں پایاجاتا ہے ۔ یقینا آپؑ کے ظہور سے مظلوموںکادن پلٹے گا ، ظالمین اپنے کیفر کردار کو پہنچیں گے اور ساری گیتی پر خدا کے نیک وصالح بندے حکمرانی کریں گے ۔ تو پھر ہم بھی دل وجان سے اس پر مسرت اور عطر اگین پیغام کی راہ میں چشم براہ ہیں، ملاحظہ فرمایا! علی ؑ بن ابی طالب ؑ نے مذکورہ خطبات میں شیعوں کے عقیدہ ئ مہدویت کو صریحاً اور حرف بہ حرف بیان فرمادیا ہے ، لیکن ان تصریحات کے باوجود جناب فاروقی اوران کے بہی خواہ حضرات یہ کہیں کہ '' نہج البلاغہ '' سے لے کر حضرات حسنین کریمین کے اقوال وارشادات تک کسی مجموعہ میں ہمیں یہ نظر نہیں آیا کہ حضرات ائمہ نے شیعہ کے عقیدہئ مہدویت کی تائید کی ہو۔١؎ ١۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی، ص ٦٤۔ ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ '' نے ان کے دلوںاور کانوں پر گویا مہر لگادی ہے کہ نہ کچھ سنتے ہیں اورنہ سمجھتے ہیں اوران کے انکھوں پر بھی پردے پڑگئے ہیں ، ان کے واسطے آخرت میں عذاب عظیم ہے ''٢؎ یا یہ کہ '' ان کے پاس دل ہے ، مگر سمجھتے نہیں ہے اورآنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہے اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہے ، یہ لوگ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میں غافل ہیں ۔٣؎ ٢۔ سورہ بقرہ ، آیت /٧۔ ''ختم اللہ علیٰ قلوبہم وعلیٰ سمعہم وعلی ابصارہم غشاوۃ'' ٣۔ سورہ اعراف ، ایت/ ١٧٩، '' لہم قلوبٌ لا یفقہون بہا ولہم اعین لا یبصرون بہا ولہم آذانٌ لایسمعون بہا، اولٰئک کاالانعام بل ہم اضلّ واولئٰک ہم الغافلون۔'' مختصر یہ کہ حضرت علی بن ابی طالب اور دوسرے ائمہ ہدیٰ علیہم السلام نے نہ صرف حضرت مہدیؑ کے وجود ، غربت ، غیبت اورظہور کا تذکرہ فرمایا ہے بلکہ آپ ؑ کے صحیح خد وخال بھی صریحاً بیان کردیا گیا ہے ، جوآنے والی بحثوں میں ملاحظہ فرمائیں گے اس کے علاوہ ہمارے ائمہ علیہم السلام نے '' عالم الغیب '' ہونے کی وجہ سے چودہ سو سالل پہلے سے ہی یہ پیشین گوئی فرمائی ہیں کہ آنے والے زمانوں میں نام نہاد اسلام کے ٹھکیدار حضرات کی طرف حضرت مہدی کی ولادت وغیبت کا انکار کریں گے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں: ١۔اصبغ بن نباتہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں امیر المؤمنین علیؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ؟؟؟؟؟؟ کو فکر مندپایا، لکڑی کا تنکا لئے زمین خرید رہے ہیں ، میں نے عرض کی مجھے کیا ہوگیا کہ میں آپ کو فکر مند زمین خرید تے ہوئے دیکھ رہاہوںکیا آپ کو اس لئے ( زمین پر حکمرانی ) دلچسپی ہے ؟ تو فرمایا: '' لاواللّہ مارغبت فیہا ولافی الدنیا یوماً قطُّ ، ولٰکنّی فکّرتُ فی مولودٍ یکون من ظہری الحادی عشر من ولدی، ہوالمہدی الذی یملاء الأرض عدلاً وقسطاً کما ملئت جوراً وظلماً ، تکون لہ غیبۃٌ وحیرۃٌ یُضلّ فہیا اقوام ، ویہتدی فیہا آخرون۔''١؎ '' خدا کی قسم !مجھے اس سے ( زمین اور حکمرانی) اور دنیا کی کسی چیز سے دلچسپی کبھی بھی نہیں رہی ہے ، لیکن میں اس مولود کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو میری اولاد میں گیارہویں پشت میں ہوگا اور وہی مہدی ہیں جو دنیا کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ناانصافی اورظلم سے بھر چکی ہوگی ، ان کے لئے غیبت اور حیرت ہیں ( اور اس غیبت وحیرت ) کے زمانے میں بہت سے گروہ ( مسلمانوں میں سے) گمراہ ہوجائیں گے اورکچھ ہدایت پاجائیں گے ۔ ١۔ شیخ صدوق ، کمال الدین ، ج١، باب مااخبر بہ امیر المؤمنین ، ص ٥٣٨، ٥٣٩، شیخ حر عاملی اثبات الہداۃ ، ج٣، ص ٤٦٢؛ طوسی ، کتاب الغیبۃ ، ص ١٠٤؛ نعمانی ، الغیبۃ ، ص ٦٩، باب فی آن الائمۃ اثنی عشر اماماً۔ ٢۔فرات بن اخنف امیرالمؤمنین ؑسے نقل کرتے ہیں کہ آپ ؑ نے فرمایا: ''ویبعثی اللّہ رجلاً من ولدی فی آخر الزمان یطالب بدمائنا ، ویغیبنَّ عنہم تمیزاً لأھل الضّلالۃ ، حتّٰی یقول الجاہل : ماللّہِ فی آل محمد من حاجۃٍ''٢؎ '' آخری زمانے میں خداوند میری اولاد میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا ، جو ہمارے خون کا بدلہ لے گا وہ لوگون کی نظروں سے غائب ہوجائےں گے تاکہ گمراہ لوگ پہچان لیئے جائیں ، اور ایسے ہی غائب رہیں گے یہاں تک کہ جاہل لوگ کہیں گے کہ خدا کو آل محمد ؐ کی ضرورت نہیں ہے ۔ ٢۔ طبرسی ، اعلام الوری، ج٢، ص ٢٢٨؛ حر عاملی ، اثبات الہداۃ، ج٣، ص ٤٦٣۔ لا حول ولاقوۃ الاّ بااللہ ! صدق یاصدیق الاکبر ویاعالم الغیب علی بن ابی طالب علیہما السلام ! یاعلی ! آپ کی پشین گوئیاں آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد، نیل کے ساحل (مصر)سے لے کر وطنِ عزیز پاکستان تک میں ، ہم اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ، ساتھ ہماری امیدوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ، اس لئے کہ اب وہ وقت قریب آچکا ہے ، جس کی آمد کا شکستہ دلوں کو انتظار ہے ۔ ٣۔ عیسی بن عبداللہ علوی نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے جد سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے علی بن ابی طالب ؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: '' صاحب ہذا الامر من ولدی ہوالذی یقال مات او ہَلَک ، لابل فی ایِّ وادٍ سلک۔'' '' صاحب امر ( مہدی ؑ) میرا وہ بیٹا ہے کہ جس کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ مرگئے ، یا ہلاک ہوگئے ، نہیں بلکہ وہ کسی وادی میں چلے گئے ! یعنی مہدی ؑ میرا وہ بیٹا ہے کہ جس کے بارے میں نام نہاد مولوی حضرات کہیں گے وہ تو مرچکا ہے ، ہلاک ہوگیا ہے بلکہ کہا جائے گا نہیں معلوم وہ کہاں چلے گئے ! سامراء کے سرداب میں یا بغداد دوحلہ کے سردابوں میں ! آئیے ہم آپ کو اہل سنت ہی کی کتابوں سے بھی شیعوں کے عقیدہئ مہدویت ؑ کی سند علی بن ابی طالبؑ ہی کی زبانی سناتے ہیں ، تاکہ پھر کوئی مولوی یہ نہ کہے کہ دلیل تراشی تو شیعوں کی پرانی عادت ہے ۔!! ١۔حافظ ابی داؤد سجستانی ، حافظ ابو عیسی ترمذی اور حافظ ابن ماجہ اپنے '' سنن'' میں نقل کرتے ہیں ، البتہ متنِ حدیث کو ہم سنن ابن ماجہ سے آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں: حافظ ابن، حدثنا عثمان بن ابی شیبہ، ثنا ابو داوود حسن بن الحضرمی ، ثنا یاسین عن ابراہیم بن محمد الحنفیہ عن ابیہ علی قال : قال رسول اللّہؐ : المہدی منّا اہل البیتؑ یصلحہ اللّہ فی لیلہ ۔ وقال ہذا حدیث صحیح۔ ١؎ '' ابن ماجہ فرماتے ہیں ، ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، ان سے داوود حضرمی نے حدیث بیان کی ان سے یاسین نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم ابن محمد حنفیہ سے ، وہ اپنے والدگرامی علی ابن (ابی طالب ؑ) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ؑ نے فرمایا: کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :مہدی ہم اہل بیتؑ میں سے ہیںخدا وندمتعال ان کے ظہور کے اسباب وعلل ایک رات میں فراہم کردے گا اور یہ روایت صحیح ہے ۔ ١۔ سنن ابن ماجہ ، ابواب الفتن ، باب خروج المہدی، ج٢،ص ١٣٦؛ سنن ابی داوود ، کتاب المہدی ، ج٢، ص ١٠٨؛ سنن ترمذی ،کتاب الفتن، باب ماجاء فی المہدی ، ج٤،ص٤٣۔ ٢۔''عن ابی طفیل ، عن علی ؓ قال: اذا قام قائم آل محمد جمع اللہ لہ اہل المشرق والمغرب ویجتمعون کما یجتمع قزع الحزیف ، فاما الرفقاء فمن اہل الکوفۃ وان الابدال فمن اہل الشام۔''٢؎ '' ابن عساکر نے اس حدیث کو ابی طفیل سے اور انہوں نے علی [ بن ابی طالبؑ ] سے نقل کیا ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا: '' جب قائم آل محمد قیام کریں گے تو خدا مشرق ومغرب والوں کو جمع کردے گا ، چنانچہ وہ اس طرح جمع ہوجائیں گے جس طرح موسم خریف کے بادلوں کے ٹکڑے جمع ہوجاتے ہیں ، آپ ؑ کے رفقاء کوفہ والوں میں سے ہوں گے اورابدال شام والوں سے ۔ ٢۔ تاریخ ابن عساکر ، ج١، ص ٦٢ ؛ ابن حجر ہیثمی مکی ، الصوعق المحرمہ ، ذیل الایۃ الثانبیۃ عشر، ص١٦٥۔ ٣۔حافظ گنجی شافعی اپنے سلسلہ سند کے ساتھ مکحول سے نقل کرتے ہیں ، اور انہوں نے علی ( ابن ابی طالبؑ ) سے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول خدا سے عرض کی یارسول اللہ ؐ مہدی ہم میں سے ہے یا ہمارے غیر میں سے یا ہمارے غیر سے؟فرمایا: ''یارسول اللّہ آمنّا آل محمد المہدی ام غیر نا؟ فقال رسول اللّہ، لا بل منّا یختم اللّہ بہ الدّین کما فتح بنا، ینقذونَ عن الفتحہ کما انقدوا من الشّرک ، وبنایؤلف اللّہ قلوبہم بعد عداوۃٍ الشّرک ، وبنا یصبحون بعد عداوۃ الفتنۃِ اخواناً ، ہذا حدیثٌ حسنٌ عال رواہُ الحفّاظ فی کتبہم ۔'' ١؎ نہیں ، بلکہ ہم میں سے ہے ، خدا، ان پر دین کو اسی طرح ختم کرے گا جس طرح ہم سے آغاز کیاتھا ، اور اس طرح لوگ ہمارے ذریعے فتنہ سے نجات پائیں گے ، جس طرح ہمارے ذریعہ انہوں نے شرک سے نجات پائی ہے ، اور ہمارے ہی وجہ سے ان کے دلوں میں دشمنی وعداوت کے بعد الفت ومحبت پیدا ہوجائے گی، جس طرح شرک کے دشمنی کے بعد آپس میں دینی بھائی بن گئے تھے یہ حدیث حسن اور عالی ہے ، جسے حافظ راویوں نے اپنی کتابوں میں نقل کئے ہیں ۔ ٤۔ابو اسحاق سبعی کہتے ہیں کہ: '' نَظَرَ علیٌّ الی الحسین فقال : ان البّنی ہذا سید کماسماہ رسول اللّہ ، وسیخرج من صلبہ رجلٌ باسم نبیّکم ، یخرج علی حین غفلۃ من الناس واماتۃ الحق واظہار الجور ... یملاء الارض کماملئت ظلماً وجوراً۔٢؎ '' علی [ بن ابی طالبؑ] نے اپنے فرزند حسین کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ میرا بیٹا سید ہے جیسا کہ رسول اللہ نے اس کا نام سید رکھا ہے، عنقریب ان کی صلب سے ایک بچہ پیدا ہوگا جس کا نام ، تمہارے نبی کے نام پر رکھا جائے گا اور وہ صورت وسیرت میں آنحضرت سے مشابہ ہوگا، اور اس وقت ظہور کرے گا کہ جب لوگ غافل ہوں گے ، حق مرچکا ہوگا اور ظلم وناانصافی ظاہرہوچکا ہوگا ... وہ زمین کو عل سے اسی طرح بھردے گا جس طرح وہ ظلم وناانصافی سے بھر چکی ہوگی۔ ١۔ گنجی شافعی، البیان فی اخبار صاحب الزمان ، ص ١٣٠ ، مقدسی شافعی ، عقد الدرر، باب ٣، ص ١٤١، نعیم بن حماد روزی ، الفتن ، ج٢، ص ١٢٨، طبرانی ، المعجم الاوساط ، ج٢، ص ١٤٣؛ متقی ہندی ، حنفی، البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان باب ٢، ص ؟؟؟ ، قندوزی حنفی ، ینابیع المودۃ، ص ٤٣٢۔ ٢۔ جوینی ، فراید السمطین ، ج٢، باب ٩١، ص ٣٢١؛ خوارزمی ، مقتل الحسین، ج١، باب فضائل الحسن والحسین، ص ١١٣۔ ٥۔ سعید بن بشر وسعید بن قیس علی بن ابی طالبؑ سے اور انہوں نے رسول اللہ ؐ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: '' عن سعید بن بشر، عن علیؑ بن ابی طالبؑ قال: قال رسول اللّہ ؐ : أنا واردکم علی الحوض ، وأنت یاعلی الساقی، والحسن الراید، والحسین الامر وعلی بن الحسین الفارط ، ومحمد بن علی الناشر، وجعفر بن محمد السایق وموسیٰ بن جعفر محص المحبین والمبغضین وقامع المنافقین ، وعلیٰ بن موسی معین المؤمنین ، ومحمدبن علی المُنزل اہل الجنۃ فی درجاتہم ، وعلی بن محمد خطیب شیعتہ ومُزَوِّجُہُمْ الحورالعین، والحسن بن علی سراج اہل الجنۃ، سیتضیؤون بہ والمہدیؑ شفیعہمْ یوم القیامۃ ۔'' ١؎ رسول خداؐ نے فرمایا روز محشر میں تمہارے ساتھ حوض کوثر پر وارد ہوگا ، اوراے علی تم ساقی (کوثر) ہوں گے ، حسن راید حسین آمر، علی بن حسین فارط محمد بن علی ناشر، جعفر بن محمد سایق موسیٰ بن جعفر اہل بیت ؑ کے دوستوں اور دشمنوں کے درمیان حصار اور منافقین کا قلع قمعکرنے والے، علی بن موسیٰ مؤمنین کے مدد گاراہل جنت کو ان کے درجات تک لے جانے والے ، علی بن محمد اپنے پیروکاروں کے خطیب اور حورالعین سے ان کی تزویج کرنے والا، اور حسن بن علی اہل جنت کے لئے ایسا چراغ ہوں گے جس سے روشنی حاصل کی جائے گی اورامام مہدیؑ قیامت کے دن ان لوگوں کے شفیع ہےں ۔ ١۔ ابراہیم بن موئد جوینی ، فراء فرائد السمطین ، ج٢، باب ٩١، ص ٣٢١؛ خطیب خوارزمی ؛ مقتل الحسین ، ج ١، باب فضائل الحسن والحسین+ ، ص ١١٣؛ قندوزی حنفی ،ینابیع المودۃ ، باب ٦٢، مزید روایات ظہور حضرت کی بحث میں ملاحظہ فرمائیں گے ۔ یہ تھیں چند نمونہ ، ان ایک سو تیس (١٣٠) احادیث میںسے ، جو علی بن ابی طالب + سے حضرت امام مہدی ؑ کے بارے میں شیعہ سنی محدثین نے اپنی کتابوں میں نقل کئے ہیں۔ کیااب بھی ہمارے نادان دوست یا مغرض افراد کہیں گے کہ علی ؑ ابن ابی طالب ؑ کو اپنی شہادت کے دن تک، نہ اپنی امامت کی خبر تھی ، نہ دوسرے ائمہ ؑ اور نہ حضرت مہدی ؑ کی امامت کی ؟؟ '' حق کی روش راہ کے بعد بجز گمراہی کے کچھ نہیں ، تو تم کہاں بہکے چلے جارہے ہو۔''١؎ ١۔ سورہ یونس، آیت/٣٢'' فماذا بعد الحق الّا الضلال فأنّٰی تصرفون۔'' حاکم نیشابپوری علی بن ابی طالب ؑ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ؑ نے فرمایا: '' روشن پیشانی اور لمبی ناک والے مہدیؑ مجھ سے ہیں اور وہ زمین کو ایسے ہی عدل وانصاف سے پر کریں گے جس طرح وہ ظل وستم سے بھر چکی ہوگی ساتھ سال تک انکی حکمرانی ہوگی ۔'' اس حدیث کو ابی داؤد اور سیوطی نے بھی نقل کرکے صحیح قرار دیا ہے ۔٢؎ ٢۔مستدرک ، ج٤، ص ١١٢؛ سنن ابی داؤد ، کتاب المہدی ، ج٤، ص ٥٣٠۔ مقدسی شافعی ...عن ابی جعفر محمدعلی قال: سئل عن علی ابن ابی طالب عن صفۃ المہدی قال: ہوشاب مربوع ، حسن الوجہ یعلوا نور وجہہ سواد شعر لحیتہ و رأسہ۔''٣؎ حافظ مقدسی شافعی فرماتے ہیں کہ امام جعفر بن محمد بن علی ( امام صادق) نے فرمایا: علی بن ابی طالب سے حضرت مہدیؑ کے اوصاف کے بارے میں پوچھا گیا : تو آپ ؑ نے فرمایا : مہدی جوان ، متوسط قد وقامت خوبصورت چہرہ والا ہوگا... آپ کی داڑھی اور سر کے سیاہ بالوں کی وجہ سے آپ کے چہرے کے نور میں اور اضافہ ہوگا۔ ٣۔ مقدسی شافعی عقد الدرر ، باب سوم ، ص ١٦٠۔ امام حسن مجتبی ؑ اور احادیث مہدیؑ '' صدوق... عن ابی سعید عقیصا قال ، لما صالح حسن بن علی ؑ معٰویۃ بن سفیان دخل علیہ النّاس فلامہ بعضہم علی بیعتہ فقال علیہ السلام : ویحکم ماتدرون ماعملت... اما علمتم انّ مامناالاّ ویقع فی عنقہ بیعۃ لطاغیۃ زمانہ الاّ القائم الذی یصلی روح اللّہ خلفہ ، فانّ اللّہ عزّوجل یخفی ولاذنہ ویغیب شخصہ لئلایکون فی عنقہ بیعہ، اذا خرج ذالک التاس من ولد اخی الحسین، ابن سیدۃ النساء الامائیطیل اللّہ عمرہ فی غیبتہ ثم یظہر بقدرتہ فی حورۃ شابّ دون اربعین سنۃ و ذالک یعلم انّ اللّہ علی کل شیئٍ قدیر۔''١؎ '' ... ابو سعید عقیصا سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : جب امام حسن بن علی ؑ نے معاویہ سے صلح کی تو کچھ لوگ آپ ؑ کے پاس آئے اورآپ سے گستاخانہ انداز میں بات کرنے لگے ۔ آپ ؑ نے فرمایا: تم پر افسوس ہو جو میں نے کیا ہے اسے تم نے سمجھا بھی ہے ؟ !... کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہم میں سے ہرایک کی گردن میں اس زمانہ کا سرکش حاکم اپنی بیعت کا قلادہ ڈالنے کا خواہش مند رہتا ہے ، ہاں قائمؑ جن کے پیچھے روح اللہ ( عیسی بن مریمؑ ) نماز پڑھیں گے اورخداان کی ولادت کو پوشیدہ رکھے گا اور اس کے بعد ان کو پردہئ غیبت، اس لئے کہ جب وہ ظہور کریں تو ان کی گردن پر کسی سرکش حاکم کی بیعت نہ ہوں اوریہ مہدیؑ میرے بھائی حسین بن سیدۃ النساء کی اولاد میں سے ہوگا ، خدا اس کی غیبت میں اس کی عمر طولانی کرے گا پھر اپنی قدرت سے رہے چالیس سال سے کم عمر کے جوان کی صورت میں ظاہرکرے گا تاکہ معلوم ہوجائے کہ خدا ہرچیز پر قادر ہے ۔ ١۔ کمال الدین ، ج١، ص ٥٨١۔ ٥٨٢، باب روایات امام مجتبیٰ ؑ در بارہئ غیبت حضرت مہدی۔ ٢۔آپ نے فرمایا : رسول اللہ ؐ کے بعد بارہ امام ہیں ، ان میں سے نو میرے بھائی حسینؑ کی نسل سے ہوں گے اور اس امت کا مہدیؑ بھی انہی کی نسل سے ہوگا، آٹھ حدیثیں اور ہیں ۔١؎ ١۔معجم احادیث المہدی ؑ ، ج٣، ص١٦٢۔١٦٣۔ ٣۔ ''حافظ مقدسی شافعی عن حسن بن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہما آنّہ قال: لوقام المہدی لأنکرہ الناس لأنّہ لایرجع الیہم شاباً وہم یحسبون شیخاً کبیراً۔''٢؎ ''حافظ مقدسی شافعی لکھتے ہیں کہ حسن ابن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر حضرت مہدی ظہور فرمائیں گے تو لوگ ان کا انکار کریں گے ، اس لئے کہ وہ لوگوں کے درمیان حالت جوانی میں آئیں گے در حالانکہ انہیں بوڑھا اور سن رسیدہ شخص تصور کرتے ہوں گے ۔ ٢۔عقد الدرر ، باب سوم ، ص ١١٢۔ |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (26-05-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
مقبول
|
امام حسین ؑ اور احادیث مہدیؑ
''صدوق... عن عبدالرحمن بن سلیط قال: قال الحسین بن علیؑ بن ابی طالبؑ : منّا اثناعشر مہدیاً اولہم امیرالمؤمین علی بن ابی طالبؑ ، وآخرہم التاسع من ولدی ، وہو الامام القائم باالحق ، یحي اللّہ بہ الأرض بعد موتہا ویظہر بہ دین الحق علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون ، ''صدوق... عبدالرحمان بن سلیط سے روایت کی ہے کہ کہ انہوں نے کہا : حسین بن علی ابی طالب علیہم السلام نے فرمایا: ہم میں سے بارہ امام ہیں ، ان میں سے پہلے امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ ہیں اور آخری میرے نویں فرزند ہیں اور وہ امام قائم برحق ہے ، خداان کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرے گا اوردین حق کو تمام ادیان پر غالب کرے گا خواہ یہ بات مشرکین کو ناگوارہی کیوں نہ گزرے ۔ لہ غیبۃٌ یرتدُّ فیہا اقوام ویثبتُ فیہا علی الدّین آخرون فیؤذون ویقال لہم '' متیٰ ہذا الوعدان کنتم صادقین '' اما ان الصابر فی غیبتہ علی الاذیٰ والتّکذیب بمنزلہ المجاہد باالسیف بین یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔'' ١؎ میرایہ فرزند ایک زمانے تک غیبت میں رہے ہیں اس زمانہ میں کچھ لوگ دین سے پھر جائیں گے اورمرتد ہوجائےں گے ۔ لیکن کچھ لوگ دین پر ثابت رہیں گے ( سرزنش کے طور پر) ان سے کہا جائے گا اگر تمہارا عقیدہ (مہدویت)صحیح ہے تو تمہارا امام کب ظہور کرے گا اور اگر تم سچے ہوتمہارا وعدہ کہاں ہے ؟ !! لیکن جوان کی غیبت کے زمانے میں دشمنوں کی اذیتوں کو برداشت اور جھٹلانے کے باوجود صبر کرے گا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جن نے رسول خدا کی رکاب میں تلوار سے جہاد کیا ہو۔'' ١۔ کمال الدین ، ج١، باب ٣٠، ص٥٨٤۔ '' حافظ متقی ہندی... عن ابی عبداللہ الحسین بن علی ؑ قال: لصاحب الامر، یعنی المہدی غیبتان احدیہا تطول حتی یقول بعضہم مات وبعضہم ذہب ، ولایطلع علی موضعہ احدئ من ولی ولاغیرہ۔''١؎ '' حافظ متقی ہندی لکھتے ہیں کہ ابی عبداللہ الحسین ابن علی ؑ نے کہا: صاحب امر یعنی حضرت مہدیؑ کے لئے دو غیبتیں ہیں ان میں سے ایک اتنی طولانی ہوگی کہ بعض یہاں تک کہدیں گے کہ وہ مرگئے یاکہیں چلے گئے ، ان کے قیام گاہ کے بارے میں کسی کو کوئی اطلاع نہ ہوگی چہ ولی خدا ہو یاعام آدمی ۔'' ١۔البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان ، ص ١١٤، عقد الدرر، باب سوم ، ص ١١٤۔ ''مقدسی شافعی ، عن شعیب بن حمزہ قال: دخلت علیٰ ابی عبداللہ الحسین بن علی فقلت لہ انت صاحب الامر؟ قال لا : فقلت فولدک ؟ قال لا: فقلتُ فمن ہو؟ قال : الذی یملائہا عدلاً کماملئت جوراً ، علی فترۃ من الائمۃ ثانی ، کماانّ رسوللہ بعث علی فترۃ من الرسول ۔''١؎ '' شیعب بن ابی حمزہ نے کہا: میں ابوعبداللہ الحسین بن علی ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ، کیا آپ صاحب الامرہیں ؟ فرمایا نہیں : میں نے عرض کی پھر آپ کے بیٹے ہیں ؟ فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی پھر کون ہے؟ فرمایا: وہ ہے جو اس زمین کو عدل سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی ...'' ١۔عقد الدرر ، باب سوم ، ص ١٥٨۔ '' مقدسی شافعی آنہ سئل ہل ولد المہدی ؟ قال لا: ولوادرکتہ لخدمت حیاتی۔''٢؎ مقدسی نقل کرتے ہیں کہ امام حسین ؑ سے پوچھا گیا کہ؟؟؟؟؟؟ فرمایانہیں : اس کے بعد فرمایا اگر میں ان کے زمانہ ظہور کو درک کرتا تو پوری زندگی ان کی خدمت کرتا۔ ٢۔عقد الدرر ، باب سوم ، ص ١٦٠۔ ''مقدسی شافعی عن ابی عبداللہ الحسین بن علی رضی اللہ عنہما یقول : لایکون الأمیرالذی ینتظرحتّی یبراء بعضکم من بعض ویتفل بعضکم فی وجوہ ، فیشہد بعضکم علیٰ '' مقدسی شافعی ، عمیر بنت نفیل سے کہ انہوں نے کہا: میں نے حسین بن علی بن ابی طالب سے سنا کہ فرمارہے تھے :وہ امر جس کا انتظار کیا جارہا ہے اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم ایک دوسرے سے بیزار نہیں ہوںگے ، ایک دوسرے کے منہ پر تھوکیں گے نہیں ، تم میں سے بعض بعض کو کافر کہیں گے تم ایک دوسرے پر لعنت کروگے ، میں نے عرض کی اس زمانے بعض باالکفر ویلعن بعضکم بعضاً فقلت لامافی ذالک الزمان من خیر؟ فقال الحسین : الخیر کلہ فی ذالک الزمان یقوم قائمنا ویدفع ذالک کلہ۔'' ١؎ میں تو کوئی بھلائی نہیں ہوگی ، توحسین بن علی نے فرمایا: ساری خوبیاں اوربھلائیاں تو اس زمانہ میں ہے جس میں ہمارا قائم قیام کرے گا اوران تمام چیزوں کو دور کرے گا۔'' ١۔ عقد الدرر ، باب سوم ، ص ١٦٣۔ امام زین العابدین اوراحادیث مہدی ''قال علی بن الحسین ؑ : القائم منا تخفی ولادتہ علی النّاس حتی یقول لم یولد بعد، فیخرج حسین یخرج ولیس لأحد فی عنقہ بیعۃ''١؎ '' علی بن الحسین زین العابدین ؑ نے فرمایا: قائم ہم میں سے ہیں ان کی ولادت لوگوں سے پوشیدہ رہے گی یہاں تک کہ کہیں گے ابھی وہ پیدا نہیں ہوئے اوروہ اچانک خروج کریں گے اوران کی گردن پر کسی کے عہد وبیعت کا قلادہ نہ ہوگا۔ ١۔ کمال الدین ، ج١، باب ٣١، ص ٥٩٢، غیبت نعمانی ، باب ١٠، ص ٢٣٩۔ ''عن علی بن الحسین ، عن حسین بن علی ؑ انّہ قال: قال رسول اللّہ ؐ الأئمۃ بعدی اثنٰی عشرہ یاعلی اوّلہم انت وآخرہم القائم الذی یفتح اللہ عزوجّل علی یدہ مشارق الارض ومغاربہا۔''٢؎ ''ثابت بن دینار نے علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے جد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ نے فرمایا میرے بعد بارہ امام ہوں گے اے علی ؑ ! ان میں سے پہلے تم ہو اورآخری قائم ( آل محمدؐ ) ہیں کہ جن کے ہاتھوں پر خدا زمین کے مشرق ومغرب کو فتح کرے گا۔'' ٢۔ معجم احادیث المہدی، ج٣، ص ١٩٣۔ امام محمد باقر اوراحادیث مہدیؑ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے غیبت اورظہور حضرت مہدی ؑ کے بارے میں ١٦٠ سے زیادہ حدیثیں نقل ہوئیں ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں : '' اں لصاحب ہذا الامر غیبتین یقال فی احدیہما: ہلک ولا یدری فی ایّ وادٍ سلک۔'' ١؎ نعمانی ...عن ابی بصیر ، عن ابی جعفر الباقر علیہ السلام قال یکون مناتسعۃ بعدالحسین بن علی تاسعہم قائمہم۔'' ٢؎ نعمانی...عن ابی حمزہ ثمالی قال: کنت عند ابی جعفر محمد الباقر ذات یومٍ فلما تفرق من کان عندہ قال لی: یاابا حمزہ من المحتوم الذی لاتبدیل لہ عنداللّہ قیام قائمنا، فمن شک فیما اقول لقی اللّہ وہو بہ کافر ولہ جاحد ثم '' بیشک صاحب امر( حضرت مہدی ؑ) کے لئے دو غیبتیں ہیں ، ان میں سے ایک کے دوران کہا جائے گا وہ ہلاک ہوگئے اورکسی کو نہیں معلوم کہ کس وادی میں چکے گئے ہیں۔'' ابو بصیر نے ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: حسین ؑ کی نسل سے نو امام ہوں گے ان میں سے نواں قائم ( آل محمد ؐ ) ہیں ۔ ''نعمانی ... ابو حمزہ ثمالی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : ایک دن میں ابوجعفر محمد باقرؑ کی خدمت میں حاضرتھا چنانچہ جب دیگر حاضرین وہاں سے چلے گئے توآپ ؑ نے مجھ سے فرمایا: اے ابو حمزہ خدا کے یہاں جو چیز حتمی ہے اورجن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے ان میں سے ہمارئے قائم کا قیام بھی ہے پھر جو شخص میری اس بات میں شک کرے تو وہ خدا سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ کافر اورخدا کا منکر ہوگا۔ قال: بأبی وأمی المسمیٰ باسمی ، والمکنّٰی بکنیتی السابع بعدی بأبی من یملاءُ الأرض عدلاً وقسطاً کما ملئت ظلماً وجوراً ، وقال: یااباحمزہ من ادرکہ فلم یسلم لہ فماأسلم لمحمدٍؐوعلیؑ ، وقدحرّم اللّہ علیہ الجنۃ، ومادیٰہ النّار '' وبئس مثوی الظالمین...''٣؎ اس کے بعد فرمایا: اس پر میرے ماں ، باپ قربان کہ جس کا نام میرا نام اورجس کی کنیت میری کنیت ہے وہ میری ساتویں پشت میں ہیں ، ان پر میرے باپ ،قربان جو زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی اورفرمایا: ابوحمزہ ! جو انہیں پائے اوران پر ایمان نہ لائے ، وہ محمد ؐ وعلیؑ پر ایمان نہیں لایا، ان کے منکر پر خدا نے جنت کو حرام قرار دیا ہے اوراس کا ٹھکانہ جہنم ہے جو ظالموں کے لئے بدترین ٹھکانہ ہے ...'' ١۔ غیبت نعمانی، باب ١٠، ص ١٥٣۔ ٢۔ غیبت نعمانی، باب ١٠، ص ١٣٩۔ ٣۔ غیبت نعمانی، باب ١٠، ص ٢٥٤۔ امام جعفر صادق اوراحادیث مہدیؑ حضرت امام جعفر صادقؑ سے حضرت مہدی ؑکے بارے میں دوسو ستانوے حدیثیں نقل ہوئیں ہیں جن میں آپ کی ولادت ، غیبت اور ظہور کے بارے میں گفتگو کی ہیں ۔ صدوق... عن صفوان بن مہران ، عن الصادق جعفر بن محمد علیہما السلام آنہ قال'' من اقرّ بجمیع الأئمۃ وحجد المہدی کان کمن اقرّ بجمیعالانبیاء و جحد محمداً صلی اللّہ علیہ وآلہ '' صفوان مہران نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا: جس نے تمام ائمہ کا اقرار کیا اور مہدی ؑ کا انکار کردیا تو وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے تمام انبیاء کا اقرار کیا اورمحمد ؐ کی نبوت کا انکار کردیا۔ وسلم نبوتہ۔ فقیل لہ : یابن رسول اللّہ فمن المہدی؟ قال: الخامس من ولد السابع، یغیب عنکم شخصہ ولایحل لکم تسمیتُہ۔''١؎ عرض کیا گیا: فرزند رسول مہدی کس ساتویں بیٹے ( موسیٰ بن جعفر ) کا پانچواں ، وہ تمہاری نظروں سے غائب ہوجائے گا اوراس کا نام لے کر پکارنا تمہارے لئے جائز نہیں ہے ۔ ١۔کماالدین ، ج٢، باب ٣٢، ص ٣۔٤۔ نعمانی ... عن شعیب بن حمزہ قال: دخلت علیٰ ابی عبداللّہ فقلت لہ:أنت صاحب ہذالأمر ؟ فقال لا، قلتُ أولدک؟ قال: لا، قلت فولد ولدک؟ قال لا، قلتُ : فمن ہو؟ قال الذی یملأہا کما ملئت جوراً ۔''٢؎ نعمانی... نے شعیب بن حمزہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں ابو عبداللہ ( جعفر صادقؑ) کی خدمت میں حاضر ہوا، اورعرض کی : کیاآپ صاحب الامر ہیں؟ فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی پھر آپ کے بیٹے ہیں ؟ فرمایا نہیں ، میں نے عرض کی پھر آپ ؑ کے بیٹے کے بیٹے ہیں؟ فرمایا نہیں ، میں نے عرض کی پھر کون ہے ؟ فرمایا : وہ ہے جو اس زمین کو ایسے ہی عدل سے بھر دے گا جیسا کہ وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی۔ صدوق... عن ابی بصیر قال: سمعت ابا عبداللہ یقول : انّ سنن الانبیاء بما وقع بہم من الغیبات حادثۃ فی القائم منا اہل البیت حذوالنعل باالنعل والقذَّۃ باالقذَّۃ۔ قال ابو بصیر : فقلت لہ یابن رسول اللّہ ومن القائم منکم اہل البیتؑ؟ ''صدوق ... ابو بصیر سے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابوعبداللہ سے سنا کہ فرماتے ہیں کہ غیبت انبیاء کی سنت ہے ، یہ ہم اہل بیتؑ کے قائم کے لئے بھی ہے اور جوحوادث وغیبتیں سلف میں ہوئیں ہیں وہ خلف میں بھی ہوں گی ۔ ابوبصیر کہتے ہیں : میں نے عرض کیا فرزند رسول آپ اہل بیت میں سے قائم کون ہے ؟ فقال: یا ابا بصیر ! ہوالخامس من ولدابن موسیٰ ، ذالک ابن سیدۃ الامائ، یغیب غیبۃً یرتاب فیہا المبطلون ، ثم یظہرہ اللّہ عزوجل فیفتح اللّہ علیٰ یدہ مشارق الارض ومغاربہا ، وینزل روح اللّہ عیسیٰ بن مریم ؑ فیصلی خلفہ وتشرق الارض بنور ربّہا ، ولاتبقیٰ فی الارض بقعۃ عُبدَ فیہا غیر اللّہ عزوجل الاّ عُبِدَ اللہُ فیہا، ویکون الدّین کلّہ للّہ ولوکرہ المشرکون۔'' ١؎ فرمایا: اے ابو بصیر وہ میرے بیٹے موسیٰ کی پانچویں نسل میں سے ہوں گے وہ کنیزوں کے سردار کے بیٹے ہیں وہ غیبت اختیار کریں گے اس میں باطل پرست شک کریں گے ، پھر خدا ان کو ظاہر کرے گا اور ان کے ہاتھوں زمین کے مشرق ومغرب کو فتح کرے گا اور عیسی بن مریم اتریں گے ، اورآپ ؑ کی اقتداء میں نمازپڑھیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور زمین کے کسی بھی گوشہ میں خدا کے علاوہ کسی اور کی پرشش نہیں کی جائے گی۔ ٢۔ غیبت نعمانی، باب ١٠، ص ٢٢٨۔ ١۔کماالدین ، ج٢، باب ٣٢، ص ٢١۔٢٢۔ امام موسی بن جعفر اور احادیث مہدی ؑ ''صدوق مجلسی... من یونس بن عبدالرحمان قال: دخلت علیٰ موسیٰ بن جعفر فقلت لہ: یابن رسول اللّہ أأنت القائم باالحق؟ فقال: انا القائم ولکن القائم الذی یطہِّر الأرض من اعداء اللّہ یملائہا عدلاً کما ملئت جوراً '' صدوق مجلسی... یونس بن عبدالرحمان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں موسیٰ بن جعفرؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : فرزند رسول کیا آپ قائم برحق ہیں؟ تو آپ ؑ نے فرمایا: میں قائم ہوں لیکن وہ قائم زمین کو خدا کے دشمنوں سے پاک کرے گا اور اسے اسی طرح ہو الخامس من ولدی، لہ غیبۃٌ یطول أحدہا خوف علی نفسہ، یرتد فیہا اقوامٌ ویثبت فیہا آخرون، ثم طوبیٰ لشیعتنا المتمسکین بحبلنا فی غیبتہ ، الثابتین علی موالاتنا والبرائۃ من اعدائنا اولئک منّا ونحن منہم ، قد رضوا بنا ائمۃ ورضینا بہم شیعۃ، فطوبیٰ لہم واللّہ معنا فی درجتنا یوم القیامۃ۔''١؎ عدل سے پر کردے گا جس طرح وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی ، وہ میری پانچویں نسل میں ہوں گے ۔ وہ دشمنوں کے خوف سے طویل مدت تک غیبت اختیار کرے گا ، ان کے زمانہ غیبت میں کچھ لوگ دین سے خارج ہوجائیں گے اورکچھ اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہیں گے ۔ پھر آپ نے فرمایا : خوش نصیب ہے ہمارے شیعہ جو قائم آل محمد کی غیبت کے زمانہ میں ہماری ولایت سے وابستہ ، ہماری محبت اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری میں ثابت قدم رہیں گے وہ ہم میں سے ہیں اورہم ان سے ، وہ ہماری امامت سے راضی اورہم ان کے شیعہ ہونے سے راضی ہیں، خوشخبری ہوان کے لئے خدا کی قسم وہ جنت میں ہمارے ساتھ ہوں گے ۔ ١۔کماالدین ، ج٢، باب ٣٢، ص ٤٣۔٤٤۔ امام رضا اوراحادیث مہدی ؑ ''صدوق ... عن الرّیان بن صلت قال: قلت للرضا علیہ السلام : أنت صاحب ہذالامر ؟ فقال:انا صاحب الامر ہذا ولکنّی لستُ باالذی املائہا عدلاً کما ملئت جوراً ، وکیف اکون ذالک علیٰ ماتریٰ مِن ضعف بدنی ، وانّ القائم ہوالذی اذا خرج کان فی سن الشیوخِ ومنظَرِ الشاب ، قویاً فی بدنہ حتّٰی لومدّیدہ الیٰ اعظم شجرۃٍ علی وجہ الارض لقلعہا، ولو ماح بین الجبال لتدکت مخورُہا، یکون معہ عصا موسیٰؑ ، خاتم سلیمان ؑ ذالک الرابع من ولدی ، یغیّبہ اللّہ فی سترہ ماشائ، ثم یظہرہ فیملاء بہ الارض قسطا وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً۔''١؎ '' صدوق نے ... ریان بن صلت سے رویت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی : آپ ہی صاحب الزمان ہیں؟فرمایا: میں صاحب الامر ہوں لیکن میں وہ صاحب الامر نہیں ہوں جو اس زمین کو اسی طرح عدل سے بھر دے گا جس وہ ظلم سے بھر چکی ہوگی ۔ اور وہ میں کیسے ہوسکتا ہوں جب کہ تم میرے بدن کے ضعف کو دیکھ رہے ہو، اور قائم وہ ہیں جو بڑھاپے کی عمر میں خروج کریں گے لیکن جوان لگیں گے اوراتنے طاقتور ہوں گے کہ اگرزمین سے بڑے سے بڑے درخت اکھاڑنا چاہیں گے تو اکھاڑ لیں گے ، اگر آپ ؑ پہاڑوں کے درمیان آواز بلند کریں گے تو وہ دھل جائیں گے ، ان کے ساتھ موسیٰؑ کا عصا اور سلیمان ؑ کی انگوٹھی ہوگی وہ میری چوتھی نسل میں ہوں گے ، جب تک خدا چاہے گا انہیں پردہئ غیبت میں رکھے گا، پھر انہیں ظاہر کرے گا اوران کے ذریعے زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے پرکریں گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی۔ ١۔ کمال الدین ، ج٢، باب٣٥، ص ٦٩۔ ''صدوق ... عن الحسین بن خالد قال: قال علی بن موسی الرضاعلیہ السلام لادین لمن لاورع لہ ولا ایمان لمن لاتقیۃ لہ : ان اکرمکم عنداللہ اعملکم بالتقیۃ، فقیل لہ : یابن رسول اللہ الیٰ متیٰ؟ قال : الیٰ یوم الوقت المعلوم وہو یوم خروج قائمنا اہل البیت ۔ فمن ترک التقیّۃ قبل خروج قائمنا فلیس منّا ، فقیل لہ یابن رسول اللہ ومن القائم منکم اہل البیت ؟ قال: الرابع من ولدی ابن سیدۃ الاماء ، یطہّر اللّہ بہ الارض من کل جور، ویقدسہا من کل ظلم وہو الذی یشک الناس فی ولادتہ ، وہو صاحب الغیبۃ قبل خروجہ...'' ١؎ '' صدوق... حسین بن خالد نے کہا: علی بن موسیٰ الرضاؑ نے فرمایا: جس کے پاس دین ہیں ہے اس کے پاس پرہیزگاری اور پاک دامنی بھی نہیں ہے اورجس کے پاس تقیہ نہیں ہے اس کے پاس ایمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک تم میں سے وہی عزیز ومحترم ہے جو تقیہ پر زیادہ عمل کرتا ہے عرض کیا گیا : فرزند رسول کب تک ؟ فرمایا وقت معلوم تک اوریہ وہ دن ہے کہ جس میں ہم اہل بیت ؑ کے قائم خروج کریں گے پھر جس نے ہمارے قائم کے ظہور سے پہلے تقیہ چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عرض کیا گیا : فرزند رسول آپ اہل بیتؑ میں قائم کون ہے ؟ فرمایا: وہ میری چوتھی نسل میں ہوں گے ، وہ کیزوں کے سردار کے فرزند ہیں خدا ان کے ذریعے زمین کو ظلم سے پاک کرلے گا اوراس کو مقدس بنادے گا ، یہ وہی ہے جس کی ولادت میں لوگ شک کریں گے وہ اپنے خروج سے پہلے غیبت میں رہیں گے اور جب خروج کریں گے تو زمین ان کے نور سے چمک اٹھے گی...''۔ ١۔ کمال الدین ، ج٢، باب٣٥، ص٦١۔ امام تقی اور حضرت مہدی + ''عبداللّہ بن موسی الردیانی عن عبدالعظیم ( حسنی ) بن عبداللّہ بن الحسن بن زید بن جعفر بن محمدبن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب قال: دخلتُ علی سیّدی محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب ؑ واناارید ان أسألہ عن القائم ، أہو مہدیؑ او غیرہ ؟ فابتدأ ہو فقال لی: یاابالقاسم أن القائم ہو المہدی الذی یجب ان ینتظر فی غیبتہ ویطاع فی ظہورہ وہو الثالث من ولدی والذی بعث محمد باالنّبوۃ ، وخصّنا بالامامۃ انّ لولم یبق من الدّنیا الاّ یوم واحد لطول اللّہ ذالک الیوم حتی یخرج فیہ فیملاء الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً وأن اللّہ تبارک وتعالیٰ لیصلح امرہ لیلۃ کما اصلح اللّہ امر کلیمہ موسیٰ اذ ذہب لیقبس لأہلہ ناراً فرجع وہو رسول نبیّ مرسل ثم قال افضل الاعمال شیعتنا انتظار الفرج''۔١؎ امام محمد تقی ؑ نے حضرت عبدالعظیم حسنی سے فرمایا: قائم ، وہی مہدی موعود ہے کہ غیبت کے زمانے میں ان کا انتظار اورظہور کے زمانے میں ان کی اطاعت کرنا واجب ہے ، قسم اس خدا کی جس نے محمد کو نبوت کے ساتھ مبعوث اور ہمیں امامت سے سرفراز فرمایا ہے ۔ اگر دنیا کی عمر کا ایک ہی دن باقی بچے گا تو بھی خداوند متعال اس دن کو اتنا طویل بنادے گا یہاں تک کہ جس میں مہدی ظاہر ہوا اورزمین کو اس طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ، خدا وند عالم ایک رات میں ان کے ظہور کے اسباب فراہم کرے گا جیسا کہ اپنے کلیم موسیٰ کی کامیابی کے اسباب ایک ہی رات میں فراہم کئے تھے ۔ موسیٰ بیوی کے لئے آگ لینے گئے تھے لیکنمنصب نبوت ورسالت لے کر پلٹے اس کے بعد امام نے فرمایا: ہمارے شیعوں کا بہترین عمل فرج (آل محمد)کا انتظار ہے ۔ ١۔ کمال الدین ، ج٢، باب٣٦، ص١٠۔ امام علی نقی اور حضرت مہدی + ''صدوق عن محمد بن عبداللہ بن حمزہ عن الحسن بن حمزہ عن علی بن ابراہیم عن عبداللّہ بن احمد المرحل عن الصقربن ابی دلف قال: سمعت علی بن محمد بن علی الرضا یقول : الامام بعدی الحسن ابنی وبعدالحسن ابنہ القائم الذی یملاء الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت جوراً وظلماً ''۔ ''... صقر بن ابی دلف نے کہا: میں نے علی بن محمد بن علی الرضاؑ کو یہ کہتے سنا : کہ آپ فرمارہے تھے : میرے بعد میرابیٹا حسن (عسکری)امام ہے اورحسن کے بعد ان کے بیٹے قائم ہیں جو کہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔اسی مضمون کے ٨٣ حدیثیں اور ہیں ۔٢؎ ١۔ کمال الدین ، ج٢، باب٣٧، ص٧٩۔٨٠۔؛ اثبات الہداۃ ، ج٦ ، ص ٤٢٧؛ بحار الانوار، ج٥١، منتخب الاثر، ص٢٨٤۔٢٨٥۔ ٢۔ منتخب الاثر، ص٢٨٥کے بعد۔ امام عسکری اور امام مہدی + '' صدوق الحسین بن علی عن احمد بن یحيٰ العطّار عن سعد بن عبداللہ عن موسیٰ بن جعفر بن وہب البغدادی ، قال : سمعتُ ابا محمد الحسن بن علی العسکری یقول : کانّی بکم ، وقداختلفتم بعدی فی الخلف منّی الاّ ان المقر باالائمۃ بعد رسول اللّہ المنکر لولدی کمن اقر بجمیع انبیاء اللّہ '' موسی بن جعفر بن وہب بغدادی نے کہا: میں نے ابو محمد بن علی عسکری کو یہ کہتے سنا: کہ آپ فرمارہے تھے گویا میں دیکھ رہاہوں کہ تم لوگ میرے جانشین کے بارے میں اختلاف کررہے ہو، لیکن یاد رکھو جو شخص رسول خدا کے بعد تمام ائمہ پر ایمان رکھتا ہے اور صرف میرے بیٹے کی امامت کا انکار کرتا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی تمام انبیاء ؑ پر ایمان واعتقاد رکھتا ہے ورسلہ ثم انکر نبوۃ رسول اللّہ ، لان طاعۃ آخرنا کطاعۃ اولنا، والمنکر لأخرنا کالمنکر لأولنا، اما أن لولدی غیبۃ یرتاب فیہا الناس الاّ من عمد اللّہ '' ١؎ لیکن محمدؐ کی رسالت کا منکر ہے اس لئے کہ ہم سے آخری امام کی اطاعت ایسی ہے جیسے اول کی ، پس جو شخص ہمارے آخری امام کا انکار کرے گا گویا اس نے پہلے کا انکار کردیا ۔ جان لو: میرے بیٹے کی غیبت اتنی طولانی ہوگی کہ لوگ شک میں پڑجائیں گے مگر یہ کہ خداوند ان کے ایمان کو محفوظ رکھیں ۔''١؎ ١۔ کمال الدین ، ج٢، باب٣٨، ص١١٩۔ ''صدوق... عن احمد بن اسحاق بن سعد قال: سمعت ابا محمد الحسن بن علی العسکری علیہ السلام یقول : الحمد للّہ الذی لم یخرجنی من الدّنیا حتّٰی أرافی الخلف من بعدی أشبہُ النّاس برسول اللّہ خَلقاً وخُلقاً، یحفظہ اللّہ تبارک وتعالیٰ فی غیبتہ ثم یظہرہُ فیملاء الأرض عدلاً وقسطاً کما ملئت جوراً وظلماً ۔'' ٢؎ صدوق... نے احمد بن اسحاق ابن سعد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو محمد حسن ابن علی عسکری ؑ سے سنا کہ فرماتے ہیں: خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے دنیا سے نہیں اٹھایا یہاں تک کہ اس نے مجھے اپنے بعد ہونے والے خلف کو دکھایا ہے وہ جو گفتار وکردار میں سب سے زیادہ رسول اللہ ؐ سے مشابہ ہے ، اس کی غیبت میں خدا اس کی حفاظت کرے گا اور پھر انہیں ظہور کا حکم دے گا پس وہ زمین کو ایسے ہی عدل وانصاف سے پر کردے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی ۔ ٢۔ کمال الدین ، ج٢، باب٣٨، ص١١٧۔١١٨۔ ''صدوق... حدثنی علان الرازی قال: اخبربعض اصحابنا انّہ لما حملت جاریۃ ابی محمد علیہ السلام قال: لتحملینَ ذکراً واسمہ محمد وہو القائم من بعدی۔''١؎ صدوق...علان رازی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا مجھے ہمارے بعض علماء نے خبردی ہے کہ جب ابو محمد ( حسن عسکری) کی کنیز حاملہ ہوئی تو کہا: تم اس بیٹے سے حاملہ ہو کہ جس کا نام محمد ہے اور میرے بعد وہ قائم ہیں ۔ ١۔ کمال الدین ، ج٢، باب٣٨، ص١١٧۔١١٨۔ آپ کی ولادت کی کیفیت اور تاریخ والادت، اورآپ ؑ کی والدہ گرامی کے بارے میں حدیث متواتر اور قطعی الدلالت احادیث موجود ہیں ۔ ان میں کچھ نمونے آپ کی ولادت کے باب میں ذکر کریں گے اور ان احادیث صحیحہ کا اقتضاء یہ ہے کہ صاحب الزمان متولد ہوچکا ہے اس لئے کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے کہ زمیں حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی جب کہ ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ حضرت مہدی ؑ کے والد امام حسن عسکری وفات پاچکے ہیں ۔ یہ تھیں ان ہزاروں احادیث میں سے چند حدیثیں جو نمونہ کے طور پر ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کی ۔ اب اس کے بعد کوئی یہ کہے کہ حضرت علی ؑ سے لے کر امام عسکری تک بارے اماموں کے اقوال وارشادات میں شیعوں کے عقیدہ مہدویت کی کوئی سند نہیں ملتی ۔١؎ اس کے جواب میں ہم اتنا عرض کریں گے ان کے دلوں میں مرض تھا ہی اب خدا نے ان کے مرض کو اور بڑھا دیا، اور چونکہ وہ لوگ جھوٹ بولا کرتے تھے اس لئے ان پر تکلیف دہ عذاب ہے ''۔٢؎ ١۔ فاروقی ، حضرت امام مہدی ، ص ٨و ص ٢٣۔ ٢۔سورہ بقرہ، ١٠۔ '' فی قلوبہم مرض...''۔ ''یہ لوگ بہرے گونگے اندھے ہیں کہ پھر اپنی گمراہی سے باز نہیں آسکتے ۔''١؎ یاان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمانی بارش میں تاریکیاں ، گرج ، بجلی ہو موت کے خوف سے کڑک کے مارے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لئے ہیں ۔٢؎ ١۔ ؛ بقرہ آیت ١٨ صم بکم عمی فہم لا یرجعون۔'' ٢۔سورہ بقرہ ، آیت ١٩؛'' او کصیّب من السماء فیہ ظلمات ورعد وبرق یجعلون اصابعہم فی اذانہم من الصواعق حذر الموت واللہ محیط بالکافرین ۔'' |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | Real_Light (26-05-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
|
سوال
کیا امام مہدیؑ کے متعلق یہ تمام حدیثیں صحیح ہیں ؟ ہمارا جواب ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ حضرت مہدی ؑ سے متعلق تمام ساتھ ہزار انتالیس حدیثیں صحیح ہیں لیکن ایک اچھی خاصی تعداد از جملہ وہ حدیثیں جن کو ہم نے یہاں پر بیان کی ہیں ، صحیح احادیث میں سے ہیں ۔ البتہ تمام احادیث کی طرح احادیث مہدیؑ میں بھی بعض صحیح ، کچھ حسن ، کچھ موثق اور کچھ ضعیف ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک کی تحقیق اور ان کے راویوں کے حالات کی چہان بین کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ جو بھی غیر جانبدارانہ اور انصاف کے ساتھ ان کی طرح رجوع کرے گا اسے اس بات کا یقین حاصل ہوجائے گا کہ ان سب کی دالات اس پر ہے کہ وجود حضرت مہدیؑ اسلام کے ان مسلّمہ عقاید میں سے ہے کہ جن کا بیج خود حضور پاک ؐ نے بویا تھا اور ائمہ علیہم السلام نے اس کی آبیاری کی ہیں ۔ واضح رہے آپ کی ولادت ، غیبت ، وجود اورظہور کے بارے میں حضور پاک اورائمہ طاہرین میں سے صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے محدثین نے بھی احادیث نقل کی ہیں جن میں اشعری ، معتزلی ، امامی یا دوسرے لفظوں میں مالکی، حنفی، حنبلی ، شافعی ، وہابی، بریلوی ، دیوبندی اور جعفری نے قلمبند کئے ہیں ۔ ان کے راویوں میں عربی ، عجمی ، مکی، مدنی ، کوفی ، بخاری ، نیشاپوری بغدادی ، شامی ، بصری ، قمی، کرخی، خراسانی ، بلخی ، کابلی وغیرہ ہیں ۔ کیا ان ہزاروں احادیث کے باوجود کوئی منصف مزاج وجود وظہور مہدی کے بارے میں شک کرے گا اوریہ کہے گا کہ یہ احادیث متعصّب شیعوں نے جعل کرکے پیغمبر اکرم کی طرف منسوب کردی ہیں ؟! اعتراض ممکن ہے کوئی یہ کہیں کہ ہم اصل مہدویت ؑ کے متعلق احادیث کو قبول کرتے ہیں لیکن امام عسکری کے فرزند کو مہدیؑ موعود نہیں مانتے کیونکہ اس سلسلے میں صرف شیعہ کتب میں حدیثیں نقل ہوئی ہیں ، اہل سنت کی کتابوں میں ان کا نام ونشان تک نہیں ہے ۔ ہمارا جوب ١۔ ہم ان کی خدمت میں عرض کریں گے کہ اگرشیعہ کتب میں موجود احادیث صحیح ، معتبر اور قابل عمل نہیں ہے تو کس طرح دوسرے فرق اسلامی کی کتب حدیثی کی حجیّت اور معتبر ہونے کو ثابت کرسکتا ہے ؟ کیونکہ وہی الزام جوآپ شیعوں پر لگارہے ہیں آپ ہی کی کتابوں پر بطریق اولیٰ لگائے جاسکتے ہیں اس لئے کہ اگر فاطمہ زہراء = ، علی بن ابی طالب ؑ ، حسن بن علی ؑ ،حسین بن علی ؑ ، علی بن الحسین ؑ محمد بن علی ؑ ، جعفرالصادقؑ ، موسیٰ کاظم ، علی الرضا، محمد تقی، علی النقی ، حسن العسکری علیہم السلام سے مروی احادیث قابل عمل نہیں ہے تو ام ّ المؤمنین عایشہ ؓ ، حفصہؓ ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر خطاب ، عثمان بن عفان ، عبداللہ بن عمر، عمربن العاص ، معاویہ بن ابی سفیان ، عبداللہ بن زبیر ، انس بن مالک ، ابو ہریرہ دوسی، کعب الاحبار یہودی نژاد ، مسلمہ بن زفر ، امام مالک ، ابو حنیفہ احمد بن حنبل اور شافعی وغیرہ سے منقول احادیث کیونکر معتبر اور قابل اعتماد ہوسکتے ہیں ؟! لہذا حق وانصاف کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی واقعاً احادیث نبی کے اتباع کے خواہان ہوں تو اسے چاہئے کہ ان احادیث کو فوقیت دیں جو شیعہ کتب میں نقل ہوئی ہیں ۔ کیونکہ شیعہ کتب میں وہی کچھ نقل ہوئی ہیں جو اہل بیت علیہم السلام نے بیان کئے ہیں اور یہ بھی ناقابل انکار حیثیت ہے کہ '' اہل ُ البیت ادری بمافی فی البیت'' یعنی گھر والے ہی گھر کی باتیں اچھی طرح جانتے ہیں اور وہ نبی کی عترت ہیں ۔ لہذا سنت نبی کو بھی عترت نبی سے ہی لینی چاہئے ۔ علوم اسلامی کو دار علم سے باب علم کے ذریعے حاصل کرنا چاہئے نہ درو دیوار کے ۔ کیونکہ درو دیوار سے گھر میں داخل ہونے والا چور ہوا کرتا ہے اور مجرم ۔ بے جا تعصب غرض مندی اور بے جاتعصب تحقیق کی منافی ہے جو شخص حقائق کی تحقیق کرنا چاہتا ہے اسے تحقیق سے پہلے خود کو بغض و عناد اور بے جا تعصّب سے آزاد کرلینا چاہئے اور اس کے بعد غیر جانبدار ہوکر مطالعہ کرنا چاہے اگر تحقیق کے دوران کوئی چیز حدیث کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تو اس حدیث کے راویوں کی وثاقت کی بحث کرے ۔ اگر ثقہ ہیں توان راویوں پر اعتماد کریں خواہ شیعہ ہو یاسنی ۔ یہ بات تحقیق کے خلاف ہے کہ ثقہ راویوں کے احادیث کو شیعہ وسنّی ہونے کے الزام میں رد کردیا جائے ۔ علماء اہل سنت سے منصف مزاج حضرات اس بات کی طرف متوجہ رہے ہیں ۔ ١۔ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : جن مقامات پر تضعیف کرنے والے قول پر توقف کرنا چاہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ تضعیف کرنے والے اور جس کی تضعیف کی گئی ہے ان کے درمیان عقیدے کا اختلاف اور عداوت و دشمنی ہو۔١؎ ١۔لسان المیزان ، ج١، ص ١٦۔ ٢۔ محمد بن احمد بن عثمان ذہبی ابان بن تغلب کے بارے میں لکھتے ہیں : ''فان قیل کیف ساغ تو ثیق مبتدع وحدُّ الثقہ والعد الۃ والاتقان ، فکیف یکون عدلاً وہو صاحب بدعۃ ؟ وجوابہ ان البدعۃ علی ضربین : فبدعۃ صغری کغلوالتشیّع وکالتّشیع بلا غُلو ولاتحرق ، فہذا کثیرٌ فی التابعین واتباعہم، مع الدین والورع والصدق فلوردّ حدیث ہؤلاء لذہب جملۃ من الآثارالنبویہ، وہذہ مسفدۃٌ بیّنۃ ثم بدعۃ کبری کاالرفض الکامل والغلّو فیہ، والحط علی ابی ابکر وعمرو رضی اللّہ عنہما...''١؎ اگر ہم سے پوچھا جائے کہ بدعتی ہونے کے باوجود تم ابان بن تغلب کی توثیق کیوں کرتے ہو تو ہم جواب دیں گے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں ایک بدعت یہ ہے کہ جیسے تشیع میں غلّو یاتشیع میں انحراف ، البتہ تابعین اور تبع تابعین میں ایسی بدعت رہی ہے اس کے باوجود ان کی سچائی ، دیانتداری اور پرہیزگاری باقی رہی اگر ایسے افراد کی احادیث ردّ کرنا ہی مسلم ہے تو نبیؐ کی بے شمار حدیثیںردّ ہوجائیں گی اور اس بات میں جو قباحت ہے یہ کسی پر مخفی نہیں ہے ، بدعت کی دوسری قسم ، بدعت کبریٰ ہے یعنی مکمل رافضی البتہ ایسے راویوں کی حدیثوں کو رد کردینا چاہئے اوران کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ مختصر یہ کہ ان تضعیفات پر اعتماد نہیں کرنا چاہیئے بلکہ بھر پورکوشش اور چھان بین سے راوی کی صلاحیت اور عدم صلاحیت کا سرا؎گ لگانا چاہئیے۔ ١۔ میزان الاعتدال ، محمد بن احمد بن عثمان برخی، جلد١، ص٥؛ لسان المیزان ، جلد١، ص١٦۔ ٣۔ اہل سنت کے بہت سے بزرگ علماء محدثین اور مورخین بھی اس کے قائل ہیں کہ حضرت امام مہدی ؑ امام حسن عسکری کے فرزند بلافصل ہیں اور ٢٥٥ھ یا ٢٥٦ھ میں پیدا ہوچکے ہیں۔ آپ کے والد امام عسکری ؑ نے خلفاء وقت کے خوف سے آپ کی ولادت کو مخفی رکھا اور صرف اپنے خاص دوستوں کو دکھایا اوران کو آگاہ کیا کہ ان کے بعد ان کے بیٹے زمانے کا امام ہیں ۔ آپ زندہ ہیں یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم ؑ کے ساتھ ظہور فرمائیں گے ۔ ولادت حضرت مہدی ؑ کیاامام حسن عسکری کے یہاں کوئی بیٹا تھا؟ اس سلسلے میں کلی طور پر دو نظرے پائے جاتے ہیں ۔ ١۔ ایک گروہ نے ، ابن حزم اورابن خلدون و... کی تباع کرتے ہوئے اس سے انکار کیا ہے ، خصوصاً چودوھویں صدی کے اوائل سے مصر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے بعض مصنفین نے اس مسئلے کو صرف شیعوں کا عقیدہ قرار دینے کی کوشش کی اوربزعم خود مکتب تشیع کے خلاف تبلیغات اور پڑوپیگنڈے کا ذریعہ بنایا۔ لیکن پوری تاریخ اسلام میں چند محدود افراد کے علاوہ تمام مذاہب اسلامی سے تعلق رکھنے والے ، محدثین ، مفسرین ، مورخین ، رجالین ، فلاسفر ، عرفاء اور صاحبان تراجم اور لغت شناس حضرات نے اپنی کتابوں میں حضرت امام مہدیؑ کی ولادت ، وجود ، اورظہور پر بحث کی ہے ، خصوصاً چند افراد کے علاوہ باقی تمام اسلامی مورخین نے ٢٥٥ھ ٢٥٦ھیا ٢٦٠ھ کے حوادث کے ضمن میں آپ کی ولادت ، حسب ، نسب اورآپ کے خدّوخال کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔ التبہ یہ بھی ایک حقیقت ہے ، ابن حزم ، ابن خلدون ، ابن کثیر وغیرہ بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے لیکن اہل بیت ؑ سے بغض وعناد جو کہ اپنے اسلاف سے ورثہ میں ملا تھا، کی وجہ سے اس اسلامی متفق علیہ عقیدے کے بارے میں شکوک وشبہات ایجاد کئے ، اس میں تعجب کی کوئی بات بھی ہے کیونکہ ابن حزم کے ایسے غلط عقاید کی وجہ سے خود مکتب خلفاء سے تعلق رکھنے والے اس وقت کے بڑے بڑے علماء نے اس کی تکفیر کی ہیں ، جن کے اقوال کو آپ آنے والے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے اور اسی طرح جناب ابن کثیر وابن خلدون وغیرہ بھی اس پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے سو سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ تک جمعہ وغیرہ کے خطبات میں سنگ اسلام کے منبروں سے علی اور اولاد علی ؑ پر لعن وطعن کیں اب ایسے لوگوں سے عقیدہ مہدویت کے بارے میں اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟؟؟ بہر حال اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس گروہ نے نہ صرف آپ ؑ کی ولادت کا انکار کیا بلکہ اصل عقیدہ کو یہودیوں اور مجوسیوں کا عقیدہ قرار دینے کی کوششیں کی جو ابھی تک جاری ہے خصوصاً آخری چند سالوں میں اس میں شدّت آگئی ، اورنیل کے ساحل سے لے کر ہمالیہ کے دامنوں تک میں رہنے والے بعض نام نہاد علماء اورصاحبان قلم کے دعویدار افراد نے اپنی کم علمی، یااسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ نہ ہونے ، ویااصلاً تعصب اور خود غرضی کی وجہ سے اصل عقیدہ مہدویت کی رد میں کتابیں لکھی اورلکھی جارہی ہےں اور منکریں کے جوابات ہم نے تجزیہ وتحلیل کے ساتھ پہلی جلد میں بیان کئے ہیں اور احادیث پیغمبر اکرم ؐ وبزرگ سنی علماء کے اقوال کی روشنی میں اس گروہ کے کافر اورگمراہ ہونے کو مستدل طریقے سے ثابت کیا ہے ۔ البتہ آخراً یہ افراطی گروہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ، ان میں سے ایک گروہ وہ لوگ ہیں جو اصل عقیدہ مہدویت کے قائل ہیں اور مقام تحریر میں اسے رد نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ ان تمام احادیث کو ، جو فریقین ( شیعہ وسنی) کی کتابوں میں حضرت امام مہدی ؑ کے بارے میں رسول خداؐسے نقل ہوگئی ہیں ، ان کورد کرنا درحقیقت رسول اللہؐ کی رسالت کا انکار کرنا ہے ، اس لئے کہ حضور پاک ؐ کاارشاد ہے : ''من انکر خروج المہدیؑ فقد کفر بما انزل علی محمد ؐ ''١؎ ''ومن کذب باالمہدی فقد کفر''٢؎ یعنی جس نے امام مہدیؑ کے وجود اور ظہور کو جھٹلایا وہ کافر ہوگیا یہاں پر آکر اس گروہ نے آپ کی پیدائش سے انکار کیا اور کہنے لگے کہ آپ قریب قیامت میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے ۔ ١۔ متقی ہندی حنفی ، البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان ، ص ١٧٧؛ ابن حجر حیثمی ، القواعد المختصر فی علامات مہدی المنتظر؛ جلاالدین سیوطی ، العرف الوردی فی اخبار المہدی، علامہ سفارینی حنبلی ، لوائع انوار البہیہ ...؛ ابوالقاسم تسھیلی ، شرع الیسر ، شہاب الدین حلوانی ، خمس رسایل ، محمد بن رسول بزبخی، الاشاعہ لاشراط الساعہ وغیرہم۔ ٢۔؟؟؟؟؟؟؟ سوال کیاحضرت امام مہدیؑ کی ولادت آخری زمانے میں ہوگی ...؟ ١۔ مذکورہ گروہ کا کہنا ہے کہ جی ہاں آپ ؑ آخری زمانے میں پیدا ہوں گے اور چالیس سال کی عمر میں ظہور فرماکر دنیا کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔ اور اس نظریہ پر چند دلیل ذکر کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں : ١۔ '' امام ابن حجر مکی اور امام سفارینی حنبلی ، کی تصریحات کے مطابق دنیا بھر کے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ امام المہدی ؑ قیامت کے قریب مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے اورچالیس سال کی عمر میں مکہ مکرمہ میں ان کا ظہورہوگا یہی ان کی بیعت عام ہوگی۔١؎ ١۔ حضرت امام مہدی ، فاروقی، ص ٢٣٦۔ ہمارا جواب ١۔ درحقیقت یہ وہ یہودیوں والا نظریہ ہے جو کہتے ہیں کہ ایک منجی عالم بشریت نسل یہود سے آخری زمانے میں پیدا ہوگا اور دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا اورپوری دنیا پر یہودیوں کی حکومت ہوگی۔٢؎ ٢۔دیباچہ ای بر رہبری ، دارمس تہ تر، فرانوی اسلام شناس ، ترجمہ محسن جہاں سوز، ص ٩ وص ١٠؛ مجموعہ ای از گفتارھا۔ گفتار ہشتم ، نوید بردزی، ص ١٨٢، بحوالہئ ، روح اسلام ، امیر علی ہندی۔ ٢۔مصنف موصوف کا یہ کہنا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مہدیؑ قریب قیامت مدینہ منورہ میںپیدا ہوں گے ، غلط دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے کہ خود مصنف نے صریحاً اعتراف کیا ہے کہ امام ابن حضر اور سفارینی ، نے تصریح کیا ہے کہ امام مہدیؑ مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے ان کے علاوہ شیعہ تو شیعہ ، سنی بزرگ علماء اور محدثین ومورخین اور مصنفین میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہا ہے کہ آپ مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے البتہ تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ کا ظہور مکہ مکرمہ میں ہوگا۔ ٣۔ یہ بات جوان دو بزرگوں سے منسوب کی ہے یہ صرف قائین کے ذہنوں کو مخرف کرنے کی ایک کوشش ہے ورنہ ان دونوں بزرگوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی ، اس لئے کہ مصنف موصوف نے ان کی طرف نسبت تو دی ہے لیکن کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا کہ کس کتاب میں ان دونوں علماء نے تصریح کیا ہے اور اسی طرح نہ ان کے اقوال کو نقل کرنے کی موصوف نے زحمت کی ہے اورنہ مذکورہ علماء کی دلیل کو ذکر کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف موصوف نے صرف اذہان کو مشوش بنانے کے لئے جان بوجھ کر ان دونوں کی طرف نسبت دی ہے اس کے علاوہ ہم نے کوششیں اور تحقیق کی کہ ان دونوں کی کتابوں کی طرف مراجعہ کیا جائے لیکن مذکورہ مطلب کو نہیں پایا بلکہ اس کے برخلاف امام ابن حجر مکی ہیثمی نے تصریح کیا ہے کہ امام مہدیؑ ، امام حسن عسکری ؑ کے فرزند ہیں اور امام عسکری ؑ کی شہادت کے وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی ۔ چنانچہ امام ابن حجر مکی ہیثمی '' الصواعق المحرقہ'' کے بارہویں باب کے تیسری فصل میں امام حسن عسکری کے بارے میں لکھتے ہیں ۔ مات بسرمن رأی ودُفِنَ عند ابیہ وعمہ، وعمرہ ثمانیۃ وعشرون سنۃ ویقال : أنّہ سمَّ ایضاً ولم یخلف غیرولدہ ابی القاسم محمد الحجۃ وعمرہ عند وفات ابیہ خمس سنین ، لکن آتاہ اللہ فیہا الحکمۃ وسمّی القائم المنتظر ل انّہ ستر وغاب فلم یعرف این ذہب۔١؎٭ آپ نے سرمن رای میں وفات پائی اور اپنے والد اور پھوپھی کے پاس دفن ہوئے آپ اٹھائیس ٢٨ سال کے تھے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کو بھی دوسرے ائمہ ؑ کی طرح زہر دیا گیا آپ نے ابوالقاسم ، کہ جنہیں محمد اورحجت (حجت خدا) کہا جاتا ہے ان کے علاوہ کوئی اولاد نہیں چھوڑدی اس بچے کی عمر آپ ؑ کے انتقال کےوقت پانچ سال تھی ، لیکن آپ کو بچپنے میں ہی خدا وند متعال نے حکمت عطا کی [ جس طرح حضرت یحی ؑاورعیسیٰ ؑ کو عطا کی تھی] اورآپ کو قائم منتظر کہتے ہیں اس لئے کہ آپ ؑ کو ( حکومت وقت کے خوف سے) چھپایا گیا اور غائب کردیا گیا ، پس معلوم نہ ہوسکا وہ کہا چلے گئے ۔''١؎ ١۔ الصواعق المحرقہ، باب ١٢، فصل ٣، ص ١٩٠۔ ٭٢۔ اس آخری جملے کا جواب ، حضرت مہدی ؑ کے مسکن اورمکان کی بحث میں دیا گیا ہے ۔ سبحان اللہ امام مہدیؑ کی ولادت پر امام ابن حجر مکی کسی شک وتردید کے بغیرصریحاً گواہی دے رہیں ہے کہ نہ صرف آپ کی ولادت کے قائل ہیں بلکہ اتاہ اللہ فیہا الحکمۃ کہ کر پانچ سال کی عمر میں آپ ؑ کے منصب امامت پر فائز ہونے پر تصریح کیا ہے ایک اور نکتہ جو امام ابن حجر کے کلام میں قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ کہا گیا کہ لانّہ ستر وغاب یعنی ( امام حسن عسکری نے خلفاء وقت کے خوف سے آپ کی ولادت کو مخفی رکھا، یہاں پر صاحبان عقل وشعور کے ذہن میں ایک سوال آتا ہے کہ کیوں ایک شخص کی ولادت کو مخفی رکھا اور کیوں خلفاء سے ڈریں...؟؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی ؑ موعود وہی امام حسن عسکری ؑ کے فرزند بلافصل ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ان کی ولادت کو مخفی رکھاجائے ۔ انصاف کیجئے امام ابن حجر کے اتنے تصریحات کے باوجود مصنف موصوف کسی دلیل کے بغیر یہ ادعا کریں کہ امام ابن حجر نے تصریح کی ہے کہ حضرت مہدیؑ آخری زمانے میں پیدا ہوں گے ۔ ٢۔ امام سفارینی کا قول بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ امام سفارینی '' لوامع الانوار البہیہ '' میں لکھتے ہیں : ''وقد کثرت بخروجہ ، یعنی المہدی الروایات حتی بلغت حدالتواتر المعنوی وشاع ذالک بین علماء السنّۃ حتی عدّ من معتقد اتہم ۔'' خروج حضرت مہدیؑ کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ، یہاں تک کہ حدتواتر معنوی تک پہنچی ہوئی ہیں اوریہ علماء اہل سنت کے درمیان شہرہ آفاق ہے یہاں تک کہ اسے اپنے اعتقادات ( اصل دین )میں شمار کیا گیا ہے ۔١؎ ١۔لوامع الانوار لاالبہیہ وسواطع الاسرار الاشریہ ، ص ٣٧۔ ملاحظہ فرمائے : امام سفارینی کے کلام میں ولادت امام مہدیؑ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اب یہ تو مصنف موصوف اوران کے بہی خواہ حضرات ہی کہہ سکتے ہیں کہ مدینہ میں پیدائش والی بات کو امام سفارینی نے ان کے حالت خواب میں بیان کیاتھا یا عالم ارواح میں ...؟؟ ٣۔ مصنف موصوف کا یہ دعویٰ امام مہدی ؑ کی ولادت قیامت کے قریب مدینہ منورہ میں ہونے کا عقیدہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا عقیدہ ہے عربوں کے بقول '' یضحک الثکلیٰ'' ہے اس لئے کہ دنیا میں کڑوروں مسلمان ایسے ہیں کہ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مہدیؑ ٢٥٥ ھ یا ٢٥٦ھ میں پیدا ہوچکے ہیں اورآپ کے ظہور کے منتظر ہےں لیکن مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ ؑ کو جب تک ظہور کا حکم نہ آئیں ناشناس طور پر زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا ہے اورجب بھی خدای حکیم کا حکم ہوگا آپ ؑ مکہ مکرمہ سے یکایک ظہور فرما کر دنیا کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی۔ البتہ یہ عقیدہ جناب فاروقی اور ان کے پیروکاروںکی طرح بدون دلیل نہیں ہے بلکہ اس عقیدہ پر ہم حدیثی دلیل رکھتے ہیں اور ہم عقلی ، تجربی اور تاریخی دلیل ، جو کہ آنے والے صفحات میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے ۔ اعتراض ١۔ شیعہ امام حسن العسکری کی شہادت کے بعد حیرت میں پڑھ گئے اور چودہ فرقوں میں بٹ گئے اورہرایک کا اپنا ایک امام مہدی ہیں۔١؎ ١۔فاروقی ، حضرت امام مہدی ، ص ٨٤؛ احسان الہیٰ ظہیر، الشیعہ والتشیع، ص ٢٧٠۔ ان چودہ فرقوں میں سب سے زیادہ دلچسپ موقف ان لوگوں کا تھا جو اس بات کے قائل تھے کہ امام حسن عسکری کا ایک بیٹا تھا جو٢٥٤ ھ یا ٢٥٦ھ میں پیدا ہواتھا ان کی والدت کو لوگوں سے مخفی رکھا گیا تھا اور یہ صاحب پانچ سال کی عمر میں اپنے والد کے انتقال سے دس دن پہلے اپنے شہر ''سرمن رای '' کے ایک غار میں جاچھپے۔٢؎ ٢۔فاروقی ، حضرت امام مہدی ، ص ٨٤۔ وہ لوگ جو امام حسن عسکری کے فرزند کے غائب ہونے کے قائل ہیں انہیں رافضی کہتے ہیں انہوں نے عقیدہ غیبت تو تیار کرلی ، لیکن اس امام موہوم کے وجود اور ولادت کے اثبات کے سلسلے میں حیرت میں پڑگئے ۔ پس ان میں سے ایک گروہ کہتے ہیں ، امام حسن عسکری نے وفات پائی تو ظاہراً ان کا کوئی وارث یا بیٹا نہیں تھا۔ ٢۔جیسا کہ کلینی نے احمد بن عبیداللہ خاقان سے نقل کی ہیں کہ امام مہدیؑ کی ماں ایک کنیز تھی اورخلفاء عباس نے جب تفتیش کی تو حمل کے کوئی آثار نظر نہ آئے یاانہوں نے سقط کیاتھا۔ ٣۔ایک گروہ کا کہنا ہے کہ امام مہدیؑ امام حسن عسکری کی وفات کے اٹھارہ ماہ کے بعد پیدا ہوئے اربلی نے کشف الغمہ میں نقل کیا ہے ۔ ٤۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ تیس رمضان ٢٥٨ھ میں پیدا ہوئے ایک اور گروہ کا کہنا ہے کہ یہ امام موھوم اپنے والد کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے تھے ۔ ایک اور گروہ کہتا ہے کہ نہیں بلکہ امام حسن عسکری کی وفات سے پانچ سال پہلے پندرہ شعبان کی نصف شب کو ٢٥٥ھ یا ٢٥٦ھ میں پیدا ہوئے تھے۔ اور اس طرح اس کنیز کے نام کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امام مہدیؑ اس کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ١۔ مفید کتاب ارشاد میں لکھتے ہیں ، اس کنیز کا نام نرجس تھا۔ ٢۔ اربلی کشف الغمہ میں لکھتے ہیں اورایک گروہ نے حکیمہ اوربعض نے سوسن بیان کیا ہے اس لئے ابن حزم نے کہا: ''...وکل ہذا ہوس، ولم یعقب الحسن المذکور لاذکراً ولا انثیٰ...)ثم القصیٰ اللتی اختلفت واخترعت واخترعت لولادۃ ہذا لمولود الذی لم یولد قط وعن اختفائہ عن الأعین...''١؎ یہ سب کچھ صرف ہوس بازی ہے ورنہ امام حسن عسکری کے کوئی اولاد نہ تھی نہ اولاد ذکور نہ اناث اس کے بعد وہ قصے جو اس بچے کی ولادت اورغیبت کے بارے میں اس گروہ نے جعل کئے تاکہ اپنی جھوٹی بات میں مبالغہ آرائی اور اس جھوٹے دعوے کو ، جو کبھی اثبات نہیں کرسکتے ہیں ثابت کرسکیں ۔ اس قسم کی حکایات ، خرافات اورافسانہ کاریاں جو ایک وجود نہ رکھنے والے کو ایجاد کرنے کے لئے گھڑی گئی ہیں خود اس گروہ کے افسانہ کاری کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے خصوصاً ،شیعہ اثنا عشری کہ جس کا ادعا ہے کہ وہی اصلی اورحقیقی شیعہ ہیں کے مذہب اوردیانت کی بنیاد ہی ایک معدوم چیز پر قائم ہے ۔ ١۔احسان الہیٰ ظہیر، الشیعہ والتشیع، ص ٢٧٣۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے صرف علی کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (07-01-12), Real_Light (26-05-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
مقبول
|
ہمارا جواب
١۔ مخالفین کایہ اعتراض کہ شیعہ چودہ فرقوں میں بٹ گئے ... یہ بات نہ صرف شیعوں کے عقیدہ مہدویت کے خلاف نہیں ہے کو رد نہیں کرسکتا ہے بلکہ ہمارے اس عقیدے کی صدر اسلام میں مسلم اور رائج العقیدہ ہونے پر بہترین دلیل ہے اس لئے کہ ان واقعات و حوادثات سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ عقیدہ مہدویت اور مصلح غیبی کا ظہور مسلمانوں کے درمیان ایک مسلم عقیدہ تھا اور مسلمان ان کے انتظار میں دن گنا کرتے تھے ۔ چنانچہ یہ چیز اس بات کا سبب بنی کہ بعض موقع کے متلاشی افراد نے لوگوں کے اس پاک وصاف عقیدے سے جس کا سرچشمہ مصدر وحتمی تھا، غلط فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہوگئے تاکہ خود کو مہدی موعود کے عنوان سے پیش کریں۔ گرچہ ان میں سے بعض نے اپنے مہدی موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا لیکن نادانی مصائب کی شدتوں اور عجلت پسند گروہ نے انہیں اسلام کا مہدی موعود سمجھا۔ ٢۔مخالفین کے اس اعتراض کا کوئی اساس نہیں ہے ایسے اعتراضات صرف ؟؟؟ہیں جس کی کوئی قیمت نہیں اس لئے کہ: ١۔ سبائہ ، کسانیہ ، نادسیہ ، اسماعلیہ ، زیدیہ وغیرہ جن کے امام مہدی ہونے کے قائل ہیں ان میں سے تمام ائمہ ہدیٰ کی شہادت تاریخی مسلمات میں سے ہیں اوراس طرح وہ غیر معصوم افراد جنہوں نے خود مہدیؑ ہونے کا دعویٰ کیا، یاکچھ لوگ خود سے ان کے مہدی ہونے کے معتقد ہوگئے وہ سب فوت ہوچکے ہیں جس پر تاریخ شاہد ہے ۔١؎ ١۔ شیخ مفید ، الفصول العشرہ فی الغیبۃ ، ص ٨٧۔ لیکن اس کے برعکس حضرت امام مہدی ؑ ابن حسن عسکری ؑ کی ولادت کا تمام اسلامی مورخین و... نے تصریح کیا ہے لیکن ان میں سے ایک نے بھی آپ ؑ کی وفات کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ سب کہتے ہیں کہ آپ غائب ہوگئے لیکن غائب ہو کر کہاں چلے گئے ..؟اس میں شیعہ اور اہل سنت کے علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے جس پر مذید گفتگو حضرت مہدی کے '' مکان '' کی بحث میں تفصیل سے ہوگی ۔ پس شیعہ امامیہ کے عقیدہ مہدویت اور زیدیہ ونادوسیہ ، وواقفیہ ، ویزیدیہ وسبائیہ کے عقیدے مہدویت ، کا موازانہ کرنا ہی غلط ہے اس لئے کہ یہ دونوں عقیدے قابل مقایسہ نہیں ہےں۔١؎ ١۔ شیخ مفید ، الفصول العشرہ فی الغیبۃ ، ص ٨٧۔ جواب١۔ ہم پہلی جلد میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ ادعای مہدویت کرنے والے صرف شیعہ فرقوں میں منحصر نہیں تھے بلکہ خود جناب فارقی اور مصر کے مصنف سعد حسن کے مطابق ٣٥ سے زیادہ لوگوں نے جوسب کے سب کٹر سنی تھے مہدویت کا دعویٰ کیا، جن میں پاک وہند میں مکتب وہابیت کے مبلغ اور مؤسس جناب '' احمد باربلی'' بھی تھا۔٢؎ ٢۔سعد محمد حسن ، المہدیہ فی الاسلام ، ص ٤٦١۔ مختصر یہ ہے کہ مہدویت کے دعویدار صرف شیعوں کے چودہ فرقوں سے مخصوص نہیں بلکہ جناب مولانا احسان ظہیر الہیٰ ، مولانا فاروقی اور طارق اعظم کے مکتب کے بانی تک نے مہدویت کا دعویٰ کیا ہے اگر یہی اختلاف اوربعض نادان لوگوں کا ادعا ی مہدویت کسی مکتب کے خرافی یاباطل یااسلام سے خارج ہونے پر دلیل ہے تو آپ کے مکتب کو سب سے پہلے ہی اسلام سے خارج سمجھنا چاہیئے ، کیونکہ برصغیر میں آپ کے مکتب کا پھیلانے والا'' احمد باربلی'' نے مہدویت کے سائے میں آپ کے مکتب کی بنیاد رکھی ہیں ۔٣؎ ٣۔ المہدیہ فی الاسلام ، ص ٤٦١۔ اور اگر غیبت حضرت مہدی کانہ بھی ہوتا تب بھی مغرض ، جاہ طلب ، ریاست وحکومت طلب لوگوں کی وجہ سے اختلافات پیش آتے ، اوراس قسم کے اختلاف کا پیدا ہونا صرف شیعہ مکتب سے مخصوص نہیں بلکہ خود اہل سنت کے درمیان میں بھی پائے جاتے ہیں ، ہم آپ سے پوچھتے ہیں اہل سنت کے یہاں اس وقت اٹھاون(٥٨) فرقے پاتے جاتے ہیں ١؎ کیا وہ سب بھی شیعوں کے بیان کردہ عقیدہ مہدویت کی وجہ سے ہیں ...؟ مختصر یہ کہ کسی چیز سے سوء استفادہ اس کی نفی نہیں کرتا بلکہ برعکس اس چیز کی اہمیت اور حقیقی ہونے کو ثابت کرتا ہے اس لئے کہ جو لوگ جعلی چیزیں بناتے ہیں آیا وہ کم قیمت والی چیزوں کے مشابہ بناتے ہیں یاقیمتی چیزوں کی شبیہ بناتے ہیں ....؟ لازمی بات ہے کہ کوئی عاقل کم قیمتی چیزوں سے مشابہ جعلی چیزیں نہیں بناتا ہے امور معنوی میں بھی بلکل یہی حالت رہی ہے مگر کیا خدا وند متعال کا وجود ایک حقیقت نہیں ہے ...؟ لیکن طول تاریخ میں کتنے جعلی خدا اوربت بنائے گئے اوران کی پوجا کی گئی اور کررہے ہیں ـ... اور کتنے لوگوں نے خدائی کا دعویٰ کیا ....؟ پس کیا اصلاً خدا کے وجود وصفات وغیرہ سے بحث نہیں کریں گے ...؟مگر تاریخ اسلام میں بہت سے جھوٹے لوگوں نے ادعایٰ نبوت نہیں کیا...؟ تو کیا نبوت کے بارے میں بھی خاموشی اختیار کرلی جائے ...؟بلکل یہی بات امام مہدی ؑ کے امامت کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے ۔ جی ہاں سوء استفادہ کرنا خود اس موضوع کی حقیقی اور مسلم اورناقابل انکار ہونے کی بہترین دلیل ہے اس لئے کہ کسی بنیاد ی چیز سے سوء استفادہ معنیٰ رکھتا ہے اورمصنف موصوف کا یہ کہنا کہ حضرت امام مہدی ؑ ٢٥٤ ھیا ٢٥٦ھ میں شہر سامراء میں پیداہوئے یہ صرف شیعوں کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ تمام سنّی مورخین اور صاحب تراجم اور علماء رجال ولغت شناس حضرات نے بھی نقل کیا ہے جن کی تفصیل آنے والے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے ۔ جواب٢۔مولانا احسان ظہیر الہیٰ صاحب کا یہ کہنا کہ خود شیعوں کے درمیان امام مہدیؑ کی ولادت کی تاریخ میں اختلاف ہے یہ تو ایک فطری بات ہے اس لئے کہ امام عسکری ؑ نے خلفاء وقت کے خوف سے اپنے فرزند کی ولادت کو عام شیعوں سے بھی مخفی رکھا، البتہ آہستہ آہستہ قابل اعتماد افراد کو بیٹے کی پیدائش کی خبردی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمام شیعوں تک پہنچ گئی ۔ لہذا تاریخ ولادت میں اختلاف ایک فطری امر ہے، اس سلسلے میں آنے والی بحثوں میں تفصیل سے گفتگو کی جائے گی ۔ جواب٣۔جہاں تک آپ کی مادر گرامی کے متعدد نام بیان کرنے کی بات ہے درج ذیل دو نکات کی طرف توجہ فرمائیں تو مذکورہ اختلاف کا سبب معلوم ہوجائے گا۔ ١۔ امام حسن عسکری کی مختلف نام کی متعدد کنیزیں تھیں ۔١؎ ١۔ بحار الانوار ، جلد ٥١، ص ١٧، وص٢٥، آفتاب عدالت ، ١٢٦۔ ٢۔فرزند امام حسن عسکری نے خطرناک اور وحشت ناک ماحول میں ولادت پائی کیونکہ خلفائے نبی عباس نے یہ احساس کرلیا تھا کہ حضرت مہدیؑ یعنی ظالم وستمگروں سے جہاد کرنے والے کی والادت کا وقت قریب ہے اس لئے انہوں نے اپنے جاسوسوں کو اس بات پر مامور کیا تھا کہ وہ امام حسن عسکری ؑ بلکہ تمام علویوں کے گھروں کی مکمل طور پر نگرانی کریں بنی عباس کی اس مشینری کی پوری کوششیں یہ تھی کہ ان گھروں سے ایک نوزاد بچہ کو تلاش کر کے خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کریں ۔ ان دونوں مقدموں کے بعد ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے یہ مقدر ہوگیا تھا کہ ایسے خوفناک حالات اور ایسے مرکز توجہ گھر میں امام حسن عسکری کے بیٹے کی پیدائش ہو اور ساتھ ساتھ اس بیٹے کی جان بھی خطرے سے محفوظ رہے اس لئے تمام پیش بندیاں کی گئی تھیں ۔ اولاً جیسا کہ روایات میں بھی وارد ہوا ہے کہ آپ کی والدہ میں حمل کے آثار ظاہر نہیں ہوئے ۔ ثانیاً: امام حسن عسکری ؑ نے احتیاط کی رعایت کے تحت کسی کو ان کی مادر گرامی کا نام نہیں بتایا۔ ثالثاً: ولادت کے وقت حکیمہ خاتوں اورچند کنیزوں کے علاوہ کوئی اور گھر میں نہیں تھا ، وضع حمل کے وقت عام طور پر دائی اور چند عورتوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ، کوئی نہیں جانتا تھا کہ امام حسن عسکری ؑ نے شادی کی ہے یا نہیں اوراگر کی ہے تو کس سے ...؟ پندرہ شعبان کی رات میں نہایت خفیہ ، خوف کے ماحول میں امام حسن عسکری ؑ کے یہاں بیٹا پیدا ہوا۔ اس گھر میں جہاں متعدد کنیزیں موجود تھیں لیکن کسی میں بھی حمل کے آثار ظاہر نہیں تھے اوروضع حمل کے وقت حکیمہ خاتون کے علاوہ وہاں کوئی اور موجود نہ تھا کوئی اور قضیہ کے اظہار کی جرأت نہیں رکھتا تھا۔ ایک زمانہ تک یہ موضوع سربستہ راز ومخفی رہا بعد میں خاص اصحاب کے درمیان یہ موضوع زیر بحث آیا بعض کہتے تھے خدا نے امام حسن عسکریؑ کو ایک فرزند عطا کیا ہے اوربعض انکار کرتے تھے چونکہ کنیزیں یکساں تھیں کسی میں بھی حمل کے آثار ظاہر نہیں تھے اس لئے امام مہدیؑ کی مادر گرامی کے بارے میں اختلاف ناگزیر تھا بعض کہتے تھے ان کی والدہ '' صقیل '' ہیں اور بعض کہتے تھے '' سوسن'' ہیں اور بعض ریحانہ کو آپ کی والدہ قرار دیتے تھے اور کچھ ان کے علاوہ کسی اور کے قائل تھے ۔ حقیقت حال سے کوئی بھی واقف نہ تھااورجو معدود افراد واقف بھی تھے انہیں حقیقت بیان کرنے کی اجازت نہ تھی یہاں تک کہ حکیمہ خاتون بھی جو آپؑ کی ولادت کی گواہ وشاہد تھیں احتیاط کی رعایت کی وجہ سے کبھی نرجس کو ، کبھی سوسن کو آپ ؑ کی والدہ بتاتی تھیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدیؑ کی والدہ گرامی کے بارے میں جو اختلاف نظر آتا ہے وہ کوئی عجیب وغیرب بات نہیں ہے بلکہ اس زمانے کے وحشت ناک حالات ، کنیزوں کی کثرت اور اختفاء میں شدت کا یہی اقتضاء تھا۔١؎ ١۔ بحوالہ آفتاب عدالت ، ١٤٦۔ رابعاً : بالغرض قبول کرلیں کہ حضرت مہدیؑ کی مادر گرامی کی تعیین میں ابہام تھا لیکن اس سے آپ کے اصل وجود پر کوئی حرف نہیں آتا، کیونکہ ائمہ اطہار اورامام حسن عسکری ؑ نے اپنے بیٹے کے وجود کی خبردی ہے اور حکیمہ خاتون بنت امام محمد تقی جو کہ قابل اعتماد وثوق عورت تھیں نے آپ ؑ کی ولادت کی وضاحت کی ہے اس کے علاوہ امام حسن عسکری ؑ کے گھر کے خدام اور بعض ثقہ افراد نے آپ کو دیکھا ہے اورآپ ؑ کے وجود کی گواہی دی ہے والدہ کا نام خواہ کچھ بھی ہو ۔ ٤۔ جہاں تک جناب احسان ظہیر الہیٰ کا( ابن حزم اندلسی ) کے قول سے استدلال کا تعلق ہے ، اس حوالے سے ہم اتنا ہی عرض کریں گے ، کہ '' ابن حزم '' کے ایسے غلط عقائد وافکار کی وجہ سے وہ خود اپنے ہم مکتب والوں کے ہاں بھی مردود شخص شمار کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس وقت کے بزرگ سنی علماء نے ان کی تکفیر کی ہیں جن کے اشکال آنے والے صفحات میں ملاحظہ کریں گے ۔ اب ایسے شخص سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے پھر مصنف موصوف اور ان کے ہم فکر حضرات ابن حزم کی باتوں کو اپنے لئے حجت قرار دیتے ہیں تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں ۔ '' لااعبد ماتعبدون لکم دینکم ولی دین''١؎ ١۔ سورہ کافرون ، آیت٢۔ جواب٥۔ اور فاضل مصنف کا یہ کہنا کہ شیعوں کے عقائد اور دیانت کی بنیاد ہی معدوم چیزوں پر رکھی گئی ہیں ہم اتنا عرض کریں گے ، ہم تو غیبت پر ایمان رکھتے ہیں ، اورغیبت پر ایمان رکھنا نہ یہ کہ قابل سرزنش نہیں ہے بلکہ مؤمن کی بہترین علامتوں میں سے ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے '' یہ وہ کتاب ہے جس (کے کتاب خدا ہونے )میں شک نہیں ہے ( یہ) پرہیز گاروں کا راہنما ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔'' ٢؎نہ صرف ہمارے اس اصل کی بنیاد غیب پر ہے بلکہ ہمارے تمام اصول دین یعنی توحید ، عدل ، نبوت ، امامت ، معاد پر ایمان بھی غیبی ہے ۔ آپ اگرہر اس چیز کو جو دیکھنے میں نہیں اتی ہے معدوم سمجھ کر انکار کرتے ہیں تو خدا، ورسول اور قیامت کا بھی انکار کرلیں۔ ٢۔سورہ بقرہ ، آیت /٣۔ جواب٦۔ مصنف موصوف نے جس روایت کو عبداللہ ابن خاقان کے حوالے سے نقل کی ہے ، گذشتہ بحثوں سے اس کو جواب بھی واضح ہوجاتا ہے اور اصل واقعہ یہ ہے کہ جس کنیز نے حاملہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا درحقیقت وہ بھی حضرت مہدیؑ کی ولادت کو مخفی رکھنے کی خاطر انجام دیا تھا۔ چنانچہ شیخ صدوق'' کمال الدین میں رقمطراز ہیں ،'' جب امام حسن عسکری کی میراث کے سلسلے میں آپ کی والدہ اور جعفر کے درمیان نزاع ہوااور قضیہ خلیفہ تک پہنچا تو اس وقت امام حسن عسکری کی ایک کنیز '' صیقل '' نے حاملہ ہونے کا دعویٰ کیا چنانچہ اس کنیز کو خلیفہ معتمد کے گھر لے جایا گیا اور خلیفہ کی عورتوں ، خدمت گاروں ، ماہر عورتوں اور قاضی کی عورتوں کی مسلسل نگرانی میں رکھی گئیں تاکہ ان کے حاملہ ہونے کا مسئلہ واضح ہوجائے ، لیکن اس زمانے میں عبداللہ ابن یحیٰ اور صاحب زنج کے خروج کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا اورحکومت کے افراد کو سامرہ سے نکلنا پڑا اور اپنے مائل میں الجھ گئے اور صیقل کی نگرانی سے دستبردار ہوگئے ۔''١؎ ١۔کمال الدین، ج٢، ص ١٤٩، آفتاب عدالت ، ص ١٥٠۔ اب مصنف موصوف نے اتنی سی بات کو حضرت امام مہدی ؑ کی عدم ولادت پر دلیل بنا کر پیش کیا تاکہ عام اسلامی حلقوں کے اذہان کو مخرف کیا جاسکے۔ درحالیکہ صاحب الامر کی مادر گرامی کے نام میں ابھام سے آپ کے اصل وجود پر کوئی حرف نہیں آتا ہے کیونکہ ائمہ اطہار ؑ اور خصوصاً امام حسن عسکری نے اپنے بیٹے کی ولادت کی خبر دی ہے اور امام محمد تقی کی بیٹی حکیمہ خاتون جو کہ قابل اعتماد خاتون تھیں ، نے آپ کی ولادت کے وضاحت کی ہے ۔ آپ کے علاوہ تمام اسلامی مورخین نے جن کے اسماء گرامی آنے والے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے ، آپ کی ولادت کا اعتراف کیا ہے ۔ اعتراض : امام مہدی کی جائے پیدائش '' قرعہ '' ہے تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدیؑ مدینے کے ایک گاوں مین پیدا ہوں گے ابو نعیم نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا'' مہدی ایک گاوں سے آئیں گے جس کا نام '' قرعہ'' ہوگا( یہ مدینہ منورہ کے قریب ایک بستی ہے ) لیکن شیعوں کا امام مہدی ، صاحب الزمان اور امام قائم ہیں ، آپ ٢٥٦ھ میں جسے آج کل سامراء کہا جاتا ہے وہاں پیدا ہوئے ہیں اور چار برس ایک روایت کے مطابق پانچ برس کی عمر میں سرداب نامی غار میں چھپ گئے تھے اورابھی تک وہیں چھپے ہوئے ہیں ۔١؎ ١۔فاروقی ، حضرت امام مہدی ، ص ٢٢٦۔ ہمارا جواب گرچہ مصنف موصوف نے اس حدیث کے ترجمہ پر اکتفا کیا ہے لیکن مطلب کو واضح کرنے کی خاطرہم مذکورہ حدیث کی عین عربی عبارت کو حافظ کنجی شافعی کی ''البیان فی اخبار صاحب الزمان'' سے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ، تاکہ خود قارئین موصوف کے استدلال کے انداز اور روش سے آگاہی حاصل کرسکیں حدیث ملاحظہ فرمائیں۔ ١۔''اخبرنا شیخ الشیوخ عبداللہ بن عمرابن حمویہ وغیرہ... عن کثیر بن مرّہ عن عبداللہ بن عمرہ ، قال: قال رسول اللہ یخرج المہدی عن قریۃ یقال لہا کرعہ ہذا حدیث حسن ...''١؎ ہمیں شیخ الشیوخ عبداللہ بن عمر بن حمویہ وغیرہ نے خبردی... انہوں نے کثیر بن مرہ سے انہوں نے عبداللہ بن عمر و سے نقل کیا انہوں نے کہا: کہ رسول خداؐ نے فرمایا: مہدیؑ ''کرعہ'' نامی گاؤں سے خروج کریں گے اوریہ حدیث حسن ہے ...'' ١۔ البیان فی اخبار صاحب الزمان ، باب١٤، ص ١٢٩۔ ٢۔ صاحب مجعم البلدان نے اسی حدیث کو عبداللہ بن عمروبن عاص سے نقل کیا اور اس میں ایک لفظ اضافی ہے '' یخرج المہدیؑ من قریۃ بالیمن یقال لہا کرعہ''١؎ ١۔معجم البلدان ، ج٤، ص٥١٢۔ ٣۔ اورحافظ قندوزی حنفی بھی '' ینابع المودۃ '' میں لکھتے ہیں '' کرعہ'' یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے اب ان روایتوں کی روشنی میںدو نکات کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔ ١۔ تین روایتوں میں لفظ یخرج آیا ہے اب یہ تو موصوف ہی بتا سکتے ہیں کہ '' یخرج'' لغت عرب میں '' یولد'' کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یانہیں ؟ ایک ابتدائی طالب علم بلکہ ایک عام بازاری جس کو عربی بول چال آتی ہو وہ بھی اس کو قبول نہیں کرے گا کہ '' یخرج'' کا معنی پیدائش کے ہیں ۔ ٢۔ معجم البلدان اورینابیع کی عبارت سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ '' کرعہ'' یمن میں ہے نہ مدینہ منورہ میں ۔ ٣۔ رہا شیعوں کا نظریہ اس حوالے سے بعد میں تفصیل سے گفتگو ہوگی ۔ اعتراض ، امام مہدیؑ کی والدہ کا نام آمنہ ہے ۔ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت امام مہدیؑ کی والدہ کا نام آمنہ ہوگا جو حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہوگی اس سلسلے میں احادیث دوسرے باب میں تفصیل سے گزر چکی ہیں شیعہ کہتے ہیں کہ آپ کی والدہ کا نام نرجس ہوگا۔٢؎ ٢۔ فاروقی حضرت امام مہدی ص ٢٢٦و ٢٢٧۔ ہمارا جواب ١۔بہت ہی عجیب بات ہے کہ موصوف نے اس کو تمام مسلمانوں کا عقیدہ قرار دیا ہے جب کہ اس سلسلے میں شیعہ تو شیعہ ، اہل سنت کی احادیث ، رجال ، تراجم اور تاریخی کتابوں میں کہیں ایسی بات نظر نہیں آتی کہ آپ کی مادر گرامی کا نام آمنہ ہوگا۔ ممکن ہے کسی خاص صحابہ ؓ کی صحیفہ میں سے انہوں نے نقل کیا ہو، اس لے کہ صحابہؓ کی صحایف میں ایسی باتیں کبھی کبھی دیکھنے کو ملتی ہے!! ٢۔ مصنف موصوف نے کوئی دلیل پیش نہیں کی یہاں تک کہ سنّی علماء کے ایک قول تک کا بھی حوالہ نہیں دیا بلکہ یہ کہہ کر رہ گئے کہ اس سلسلے میں احادیث دوسرے باب میں تفصیل سے گزرچکی ہے جو سراسر جھوٹ ہے قارئین مراجعہ کرسکتے ہیں روایت تو دور کی بات ہے ایک سنی عالم کا قول کا بھی حوالہ نہیں دیا ۔ اس لئے کہ یہ سنّیوں کے عقیدے سے نہیں ہے اورکسی سنی عالم نے یہ نہیں لکھا کہ حضرت مہدی ؑ کی والدہ کا نام آمنہ ہے شاید یہ صرف اس ضعیف روایت '' اسم ابیہ اسم ابی ، کو درست کرنے کے لئے بیان کیا ہے ۔ چونکہ اس ضعیف روایت کے مطابق حضرت امام مہدیؑ کے والد گرامی کا نام عبداللہ ہے لہذا والدہ کا نام بھی آمنہ ہونا چاہیے ۔ درحقیقت یہاں پر انہوں نے قیاس سے کام لیاہے البتہ نہ قیاس علمی ، بلکہ قیاس بازاری۔ اعتراض: آنحضرت ؐ کے بیان کردہ احادیث کے مطابق حضرت مہدیؑ کے والد کانام عبداللہ ہے لیکن شیعہ عقیدہ کے مطابق امام مہدیؑ کے والد کانام حسن عسکری ہے ۔١؎ ١۔ فاروقی حضرت امام مہدی ص١٨و ٢٥۔ دلیل:رویت عبداللہ بن مسعود زاہدہ عن عبداللہ وہو ابن مسعودؓ عن النبی صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم، قال لو لم یبق من الدنیا الاّ یوم واحد لطوّل اللّہ ذالک الیوم زاہدہ نے عبداللہ سے یعنی ابن مسعود سے انہوں نے پیغمبراکرم ؐ سے نقل کیاہے کہ حضور نے فرمایا: اس دنیاکی عمراگرچہ ایک دن ہی کیوں نہ رہ گئی ہو، پھر بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کردے یہاں تک کہ حتّی یبعث فیہ رجلاً منی اوعن اہل بیتی یواطیء اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی ۔ مجھ سے یا مرے اہل بیتؑ سے ایک شخص کو مبعوث فرمائے گا ، جو میرا ہم نام ہوگا اوراس کا والد میرے والد کے ہم نام ہوں گے ۔١؎ ١۔سنن ابی داوود کتاب المہدی ، ج٢، ص ١٠٦وص ١٠٧۔ ہمارا جواب ١۔اسی روایت کو تمام محدثین نے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن سنن ابی داوود کے علاوہ کسی میں بھی (اسمہ اسم ابی ) والا جمعہ نہیں ہے مگر ایک طریق جسے عبداللہ بن موسی نے زاہدہ سے نقل کیا ہے لہذا یہ حدیث ضعیف ہے اورواضح ہے کہ اس میں دستکاری ہوئی ہے چنانچہ حافظ کنجی شافعی ''البیان فی اخبار صاحب الزمان'' میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں '' ان الترمزی ذکر الحدیث لم یذکرقولہ''واسم ابیہ اسم ابی ''اسی روایت کو ترمزی نے بھی نقل کیا لیکن اسم ابیہ اسم ابی والا جملہ نہیںہے۔ وذکرہ ابی داوود فقط ، والذی رواہ '' اسم ابیہ اسم ابی'' فہو (راوی )زایدہ ، وہو یزید فی الحدیث ،وجمع حافظ ابو نعیم طرق ہذا الحدیث عن الجم الغفیر... و فی الجمع ''اسمہ اسمی''فقط ولاتاب اللبیب انّ ہذہ اور فقط ابی داؤد نے '' اسم ابی '' نقل کیا ہے اورجس سے ابی داؤد نے یہ روایت نقل کی ہے وہ زایدہ ( ابن ابی الرقاد الباہلی ) ہے ، اور وہ احادیث میں اپنی طرف سے اضافہ کیا کرتے تھے ، اورحافظ ابو نعیم نے کتاب مناقب المہدی میں اس حدیث کے طرق بہت سے مدثیں سے جمع کیا ہے ۔١؎اور سب کے سب میں فقط '' اسمہ امی '' ہے اور کسی بھی عاقل پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ [ زایدہ نے جع چیز اپنی طرف سے مذکورہ حدیث میں اضافہ کیا ہے ۔ ائمہ حدیث کے اس کے خلاف اجتماع کے ١۔حافظ گنجی کے مطابق ، ابونعیم نے مذکورہ حدیث کو چونتیس طرق سے نقل کیا ہے (مؤلف) الزیادہ لااعتبار لہا مع اجتماع ہؤلاء الائمۃ علیٰ خلافہا... '' وان الامام الاحمد مع ضبطہ واتقانہ روی ہذالحدیث فی مسندہ فی عدۃ مواضع '' واسمہ اسمی'' ... وحافظ محمد حسین ابن ابراہیم بن عاطم ابری ، فی کتاب مناقب الشافعی ذکر ہذالحدیث وقال: زاد ، زایدہ فی روایتہ '' لولم یبق من الدنیاالاّ یوماً ... حتّی یبعث فیہ رجلاً من اہل بیتی یواطی اسمہ اسمی ، واسم ابیہ اسم ابی۔ ویحتمل انّہ قال اسم ابیہ اسم ابنی ای الحسن ، ووالد المہدی اسمہ حسن فیکون الراوی قد توہم قولہ ابنی فصعفہ، فقال : ابی۔''١؎ بعد۔اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ... اورامام احمد بن حنبل نقل حدیث میں اپنی قوی یاداشت اور اتقان کے باوجود اس حدیث کو اپنی مسند [مسنداحمد ] میں متعدد مقامات پر نقل کیا ہے اوران سب کے سب میں فقط '' اسمہ اسمی'' ہے یعنی رسول اللہ نے فرمایا: کہ ان کا نام میرے نام کے موافق ہے ۔ اور حافظ محمد حسین ابن ابراہیم ابن عاطم ابری ، نے بھی اسی حدیث کو '' مناقب الشافعی '' نامی کتاب میں نقل کیا ہے اورحدیث کے نقل کے بعد کہا ہے کہ '' زایدہ [راوی] نے اپنی روایت '' لولم یبق من الدنیا...'' میں ، جملہ، '' اسم ابیہ اسم ابی '' والے جملہ کی اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے ...'' اور اس کے علاوہ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ ، رسول خدا نے یوں کہا ہوکہ'' حضرت مہدی کے والد گرامی کا نام میرے بیٹے ، یعنی امام حسن مجتبی کے ہم نام ہوگا، اورحضرت امام مہدی کے والد گرامی کانام بھی حسن (عسکری )ہیں ، پس راوی نے گمان کیا کہ شاید '' ابنی کے بجاے '' ابی'' ہوگا ، اوراس طرح اس نے اس روایت میں توحیف کرتے ہوئے ابی کی جگہ ابی نقل کردیا۔٢؎ ١۔ البیان فی اخبار صاحب الزمان ، ص٨٢، ٨٥۔ ٢۔ دیکھیں ، منتخب الاثر، حاشیہ ، ص ٢٩١سے ٢٩٥تک، مصنف۔ مختصر یہ کہ تقریباً اہل سنت کے تمام محدثین نے مذکورہ روایت کو '' اسمہ اسمی '' تک نقل کیاسوای ابی داؤد نے جو زایدہ کے حوالے سے نقل کیا ہے اس میں اس اخری جملے کا اضافہ ہے ۔ اوربعد والے محققین اوراہل سنت کے داشوروں نے دو روایتوں میں سے تعارض کو حل کرنے کی خاطر بہت سی توجہیات وتاویلات کی ہیں ۔١؎ ١۔کتاب نے چھ جوابات شیعہ سنی دانشوروں سے نقل کیا ہے ۔ (مؤلف) لیکن حافظ گنجی کے اس تفصیلی جواب کے بعد کسی توجیہ اور تاویل کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہے مگر بحث کو محکم اور مدلل بنانے کی خاطر مجبور ہیں کہ علم رجال کی طرف مراجعہ کریں اور اس سلسلے میں علماء رجال کے اقوال کو قارئین کی خدمت میں پیش کریں۔ |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-01-12) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
مقبول
|
سند روایت کی بررسی
حافظ گنجی کے محکم بیان کی روشنی میں واضح ہوگیا کہ '' اسم ابیہ اسم ابی'' والی روایت میں توحیف ہوئی ہے اورسند کے لحاظ سے بھی یہ روایت ضعیف ہے ، کیونکہ مذکورہ روایت کا راوی ''زایدہ '' ہے اورزایدہ اہل سنت کے بزرگ رجالین اور محدثین کے نزدیک ضعیف اور مردود شخص ہیں چند اقوال ملاحظہ فرمائیں ۔ حافظ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی متوفی٨٥٢ھ نے '' تہذیب التہذیب'' اور لسان المیزان '' میں ، اورحافظ ومورخ شہیر، محمد بن احمد بن عثمان ذھبی متوفی ،٧٤٨ھ نے '' میزان الاعتدال'' باب الزائ، میں لکھتے ہیں کہ جس زایدہ سے عبیداللہ بن موسی حدیث نقل کرتے ہیں وہ'' زایدہ بن ابی الرقاد الباہلی الحلی '' ہے اوریہ مجھول ، منکر الحدیث اوروضاع ہے چنانچہ لکھتے ہیں :١؎ ١۔ اصل متن تہذیب التہذیب سے ہے ، اورلسان المیزان اورمیزان الاعتدال میں جو عبارت ہیں ان کا بھی مضمون کچھ کمی زیادتی کے ساتھ وہی ہے جو تہذیب میں ہے ۔ ''قال ابو حاتم: یحدث احادیث مرفوعۃ منکرہ، ولاتدری منہ ، او من زیاد ۔ وقال البخاری، منکر الحدیث ، وقال ابی داوود، لااعرف خبرہ، وقال النسائی لاأدری من ہو؟ وقال ابو احمد الحاکم، حدیثُہ لیس باالقائم ، وقال النسایی فی ''کتاب الضعفائ'' منکرالحدیث ، وقال ابن حبان یروی المناکیر عن المشاہیر، ولا یحتع بخبرہ ولایکتب الا الاعتبار ، وقال ابن عدی یروی عن المقدمی وغیرہ ، احادیث افرادات وفی بعض حدیہ ماینکر وقال البزاز لا بأس بہ ، وانما نکتب من حدیثہ مالم نجد عند غیرہ۔''١؎ '' ابو حاتم کہتے ہیں ( زایدہ) احادیث مرفوعہ اورمنکرہ کو نقل کرتا ہے اور معلوم نہیں ہوتاکہ یہ خود ان کا ہے یا '' زیاد'' کا ابو داوو کہتے ہیں میں ان کی خبر کو نہیں جانتا ، نسائی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہے ؟ ابواحمد حاکم کہتے ہیں کہ اس کی حدیث مستند نہیں ہوتی، اورنسائی '' کتاب الضعفاء '' میں لکھتے ہیں ، زایدہ منکر الحدیث ہے ابن حبان کہتے ہیں وہ غیر مستند حدیث کو مشہور راویوں کی طرف نسبت دیتے ہیں اورمناکیر کو مشاہیر سے نقل کرتا ہے ۔ اوراس کے منقولہ احادیث سے کسی چیز پر دلیل قائم نہیں کی جاسکتی [ پس کیوں آپ ان سے نقل کرتے ہیں ] اوراس کی احادیث کو ہم ضبط کرنے کی خاطر لکھدیتے ہیں ابن عدی کہتے ہیں ، زایدہ ، مقدمی وغیرہ سے حدیث افراد نقل کرتا ہے ، اوران کے بعض حدیث مانینکر ہے ۔ بزازکہتے ہیں ان سے منقولہ حدیث قابل عمل نہیں ہے ۔ ١۔ تہذیب التہذیب ، ج٣، ص ٢٧١وص ٢٧٢؛ لسان المیزان ، ج٣، ص ١٢٣ومیزان الاعتدال فی نقد الرجال ، ج٢، ص ٦٥۔ مختصر یہ کہ مذکورہ حدیث سند کے لحا ظ سے ضعیف ہے اورتمام محدثین اوررجالین اہل سنت کے نزدیک زایدہ بن ابی الرقاد ، مردود شخص ہیں اور'' اسم ابیہ اسم ابی'' والے جملہ کو مذکورہ راوی نے اپنی طرف سے اضافہ کیا ہے ۔ اب نہ جانے ہمارے مخالفین اس زمانے میں بھی جس میں علمی بحث وتحقیق کے بے پناہ وسایل موجود ہیں ایسی واہی باتیں لکھ دیتے ہیں جن کو پڑھ کر انسان کو ان کی جہالت ونادانی پر رونا آتا ہے ۔ درواقع یہ لوگ چاہتے ہیں کہ شیعہ وسنی کے نام پر ، اہل بیتؑ پیامبرؐ کو صحن حیات سے دور کردے!۔ لیکن خداوند متعال ان احتمالات کے امکان یاان کے دافع ہونے کو جانتا تھا، لہذا اپنی شریعت اوردین کو ضایع ہونے سے بچانے کے لئے اپنے مخصوص بندوں میں سے ائمہ کو منتخب کیا اوران کو علم وکتاب کا وارث قرار دیا، تاکہ خدا پر لوگوں کی حجت باقی نہ رہے۔ چانچہ ارشادہے : ''پھر ہم نے اپنے مخصوص بندوں میں سے وارث کتاب انہیں بنایا جنہیں ہم منتخب کرچکے تھے ۔١؎ ١۔ فاطر، آیت٣٢۔ اور رسول اللہ بھی زبان وحی سے اعلان فرمارہے ہیں '' میں تمہارے درمیان دوگران قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کتاب خدا اور میرے اہل بیتؑ اور عترت، اگر تم ان سے متمسک رہو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان پر سبقت لے جانے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اوران سے الگ نہ ہوجانا ورنہ برباد ہوجاؤگے اور(دکھو) انہیں سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں اوریہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں۔ اوراب یہی اہل بیتؑ اورعلم نبی کے حقیقی وارث تو یہ کہیں کہ مہدی قائم آل محمد اولاد فاطمہ وعلی وحسین و... اورحسن عسکری ؑ کے فرزند بلا فصل ہے اورآپ ؑ کے والد گرامی کا نام حسن عسکری ہے ۔ اورنام نہاد اسلام کے ترجمانی کے دعویدار ان کے کلام جن کی حجیت قرآن وسنت سے ثابت ہے کو چھوڑ کر کعب الاحبار ، ابوہریرہ دوسی اورزایدہ بن ابی الرقاد باہلی جیسے گمنام وجاہل اوروضاعِ حدیث کے قول سے تمسک کرکے عقیدہ مہدی ؑ کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہاں پر تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں '' فماذا بعد الحق الاّ الضلال''؟ اعتراض: امام حسن عسکری نے وصیت میں ذکر نہیں کیا بعض معترضین لکھتے ہیں کہ خود شیعہ عقیدے کے مطابق امام مہدیؑ کی ولادت اورامامت کو ثابت کرنا تو دور کی بات ہے بلکہ امام حسن عسکری کی امامت بھی خطرے میں پڑھ جاتی ہے کیونکہ شیعہ عقیدے کے مطابق امامت کی شرائط میںسے ایک یہ ہے کہ پہلے والے امام آنے والے امام کو وصیت کرتا ہے اوراپنا وصی قرار دیتا ہے اوریہ شرط امام مہدیؑ اورامام حسن عسکری میں موجود نہیں ہے لکھتے ہیں : '' وعند مایولد مولود الحسن العسکریؑ رأوانّ جمیع قواعدہم انہا رت ... کاالعلامات للامام ۔ ہذا، وزیادۃ علی ذالک کانت امامۃ الحسن العسکری معرفۃ للخطر، حیث لم تنطبق علیہ علامات کثیرۃ منہاانہ لم یعقب ولم یخلف ثم لم یوص الی من بعد، ولم یغلہ امام کذالک ولم یثبتوا بعدہ علی احدِ درع رسول اللّہ ؐ وعن لایکون موجوداً کیف یحکم علیہ بانّہ عالم وشجاع واخیراً خلیت الارض من حجتہ وبقیت بلا امام ولم تسخ''٢؎ '' جب امام حسن عسکری کے یہاں بیٹا پیدا ہوا تو شیعوں نے دیکھا کہ ، ان کے وہ تمام قواعد جو امامت کے اثبات کے لئے بیان کیے جاتے ہیں ، سب کے سب ریت کے پشتے کی طرح گِر جاتے ہیں ۔ جیسے امامت کی علامات اس کے علاوہ خود حسن عسکری کی امامت بھی خطرے میں پڑھ جاتی ہے کیونکہ امامت کی جو علامات ہیں وہ ان پر تطبیق نہیں ہوتی ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ حسن کی کوئی اولاد نہ تھی اوراس طرح خودانہوں نے اپنی وصیت میں اپنے بیٹے کانام ذکر نہیں کیا اوراس طرح ان کے بیٹے نے ان کو غسل نہیں دیا اوران کے بعد کسی کو رسول اللہ ؐ کا زرہ زیب تن کئے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور وہ شخص جس کا کوئی وجود ہی نہیں کیسے حکم لگایا جاسکتا ہے کہ وہ عالم اورشجاع انسان ہے اوربعد میں تو زمین بھی حجت خدا سے خالی ہوگئی ، لیکن دھنسی نہیں ! ١۔وصیت کے بارے میں روایات کے لئے مراجعہ کریں ، اصول کافی، جلد٢کتاب الحجہ باب'' ان الائمہ لم یفعل شائ... ولایفعلون الاّ یعہداللہ... '' ص ٢٦٦ کے بعد و باب ان الامام لعرف الامام الذی یکون من بعدہ ص٣٥٤بہ بعد وباب الامور التی توجب حجۃ الامام '' ص٣٨٢۔ ٢۔ احسان ظہیر ، الشیعہ والتشیع، ص ٢٩٢۔ ہمارا جواب ١۔ مصنف موصوف کا یہ کہنا کہ امام حسن عسکری ؑ کی کوئی اولاد نہ تھی گذشتہ بحثوں کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ یہ صرف ایک دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اس کے برخلاف آپ کی ولادت عقل ونقل وتجربہ اورتاریخی دلائل سے ثابت ہے جو آنے والے صفحات میں بھی آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کریں گے ۔ ٢۔ امام حسن عسکری نے جان بوجھ کر وصیت میں اپنے بیٹے کا نام ذکر نہیں کیا تھا تاکہ خلفاء وقت کی طرف سے یقینی خطرات سے انہیں نجات دلائیں اس سلسلے میں آپ بہت زیادہ محتاط رہے اواپنے بیٹے کی ولادت کی خبر طشت از بام ہونے سے اس قدر خوف زدہ رہتے تھے کہ کبھی تو اپنے بعض اصحاب سے بھی اسے چھپاتے تھے اوراس موضوع کو مبہم بنا رکھتے تھے ۔ لیکن امام حسن العسکری نے خطرناک حالات کے باوجود لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنے بعض معتمد اصحاب کو اپنا بیٹا دکھایا اور کچھ موثق افراد کو اپنے بیٹے کی ولادت کی خبر بھی دی تھی ، لیکن اس بات کی تاکید کی تھی کہ اس موضوع کو دشمنوں سے محفوظ رکھنا ، یہاں تک کہ ان کا نام بھی نہ لینا۔١؎ ١۔ اصول کافی، جلد،٢ص،٥٤٧سے ٥٥٠، کتاب الحجۃ ، بابٌ فی النہی عن الاسم۔ امام جعفر صادق نے بھی اپنی وصیت میں بہت احتیاط سے کام لیاتھا آپؑ نے پانچ اشخاص ، خلیفہ وقت منصور عباسی ، مدینہ کے گورنر کا بیٹا محمد بن سلیمان ، اپنے دو بیٹے عبداللہ وموسی کاظم ؑاور موسی کی مادر گرامی حمیدہ کواپنا وصی مقرر کیا تھا۔٢؎ ٢۔ اصول کافی ، ج٢، ص ٤٧٢، باب الارشارۃ والنص علی ابی الحسن موسیٰؑ۔ امام جعفر صادق نے اپنے اس عمل سے اپنے فرزند امام موسیٰ کاظم ؑ کو یقینی خطرات سے نجات عطا کی۔کیونکہ آپ جانتے تھے اگر موسیٰ کاظم ؑ کی امامت ووصایت خلیفہ پر ثابت ہوگئی تو وہ ان کے قتل کرنے کے درپے ہوجائے گا ، چنانچہ امام کا خیال صحیح ثابت ہوا اور خلیفہ نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اگر امام جعفر صادق ؑ کا کوئی معین وصی ہو تواسے قتل کردو۔٣؎ اورجب منصور دوانیقی کو معلوم ہواکہ پانچ لوگوں کو وصی بنادیا ہے ان میں سرفہرست ان کا نام بھی ہے توبے ساختہ بول اٹھا '' فقال ابو جعفر (منصور کالقب تھا)'' لیست الیٰ قتل ھٰؤلاء سبیل''یعنی ان کو اتنے آسانی کے ساتھ قتل نہیں کیاجاسکتا '' اصول کافی، کتاب الحجۃ ، باب الاشارۃ والنّص علی ابی الحسن موسیٰ ، ص ٤٧٢و ٤٧٣۔ مختصر یہ ہے کہ اگرامام حسن عسکریؑ نے اپنے بیٹے کانام وصیت میں ذکر نہیں کیا تھا تو خلیفہ وقت کی طرف سے موجود یقینی خطرات سے انہیں نجات دلانے کے لئے عمداً ایسا کتا تھا، جس طرح امام صادقؑ نے ایک معین وصی مشخص نہ کرکے امام موسیٰ کاظم کی حفاظت فرمائی ، نہ یہ کہ امام حسن عسکری نے اپنے بیٹے کی ولادت اس لئے عام لوگوں سے مخفی رکھا تاکہ لوگ شک وحیرت میں مبتلا رہیں۔ ٣۔ ائمہ پر نماز جنازہ اور غسل سوال :کیا امام معصوم ؑ کی نماز جنازہ پڑھانے اورغسل کے لئے امام معصوم کاہونا ضروری ہے؟ جواب اس سلسلے میں شیعہ دانشوروں کے درمیان دو نظریے پائے جاتے ہیں : ١۔ امام معصوم ؑ کی نماز جنازہ پڑھانے اورغسل دینے کے لئے امام معصوم کا ہونا شرط ہے اس سلسلے میں کچھ احادیث موجود ہیں ۔ از جملہ ، ثقۃ الاسلام کلینی ؒ سے اصول کافی میں تین روایتیں نقل کی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ: '' الامام لایغسلہ الاّ الامام '' یعنی امام معصوم کو ،امام معصوم کے علاوہ کوئی اورغسل نہیں دے سکتا امام صادق فرماتے ہیں '' فیما اوصانی ابی انّہ قال: یابُنیّ اذا نامت فلایغسلی احدٌ غیرک فانّ الامام لایغسلہ الاّ الامام '' ١؎ میرے والد امام محمد باقر - کی سفارشات میں سے ایک یہ تھا، کہ انہوں نے فرمایا: بیٹا جب میں اس دنیا سے چلاجاؤں تو مجھے غسل دے دینا کیونکہ امام معصوم کو امام معصوم کے علاوہ کوئی اورغسل نہیں دے سکتا۔ ١۔ کلینی، اصول کافی ، کتاب الحجۃ ، باب ان الامام لایغسلہ الاّ امام من الائمۃ ، ص ٢٤٠و٢٤١، مجلسی، بحارالانور، ج٢٧، ص٢٨٨۔ سند ودلالت روایات ١۔ ثقۃ الاسلام کلینی سے جوتین روایات نقل ہوئی ہیں یہ تینوں قابل استناد واستدلال نہیں ہے کیونکہ: ٢۔ تینوں روایات کی سلسلہ سند میں '' معلی بن محمد بصری '' پایا جاتا ہے جو شیعہ رجالیوں ، کے نزدیک '' مضطرب الحدیث والمذہب '' ہے لہذا ان کی نقل کردہ روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ایس لئے علامہ مجلسی ؒ ، نے تینوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے ۔١؎ ١۔ مجلسی ،مرآۃ العقول ، ج٤، ص ٢٥٦۔ ٣۔ ان تینوں روایتوں کا مضمون اورمفہوم بعض ائمہ کے ساتھ جو حالات پیش آئے ہیں سے سازگاری نہیں رکھتا مثال کے طور پرامام حسین ؑ کو کربلا میں شہید کیا گیا اور امام سجاد کو اسیر بنایا اور ظاہری طور پر آپ غسل وکفن ودفن کرنے سے معذور تھے یہی وجہ ہے کہ تین دن تک فرزند رسول اوران اعوان وانصار کے لاشے بے گوروکفن زمین کربلا پرپڑے رہے ۔ امام رضا ؑ کو '' طوس'' میں شہید کردیا گیا ، اور اس وقت امام جواد ؑ مدینہ تھے اور اسی طرح امام موسی بن جعفر + کو بغداد کے تاریک زندان میں شہید کیا گیااور امام رضاؑ مدینہ میں تھے ایسے موارد میں ظاہری اورعادی طور پر ، امام سجاد ، امام رضا اورامام جواد ٪ کے لئے ممکن نہ تھا کہ اپنے والد کو غسل وکفن یاان کے جنازوں پر نماز پڑھائیں ۔ اس کے علاوہ اوربھی شواہد تاریخی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام ائمہ معصومین کی نماز جنازہ ، یاان کے غسل وتدفین کے لئے امام معصوم کا ہونا ضروری نہیں ہے ۔ البتہ اگرائمہ مجبور نہ ہوں اورظالم خلفاء کی طرف سے کوئی فشار اورسختی میں نہ ہوں تو پھر امام معصوم کو امام معصوم کے علاوہ کوئی اورغسل وکفن نہیں دے سکتا۔١؎ اوراسی طرح کسی اور کو حق نہیں کہ ان کا نماز جنازہ پڑھائے شاید مذکورہ روایات کا مقصد بھی یہی ہو ،یعنی عادی حالات اورامکان کی صورت میں '' الامام لایغسلہ الاّ امام'' پس معلوم ہوا کہ امام معصوم کے لئے غسل وکفن دینا یاان کا نماز جنازہ پڑھا نا، امامت کی شرائط میں سے نہیں ہے اورنہ شیعہ مذہب کی ضروریات دینی میں سے ہے ۔ اب نہ جانے جناب احسان ظہیر الہیٰ کو ان ضعیف روایات میں کونسی باتیں نظر آئی جسے شیعوں کے خلاف ایک ایشو بنا کر پیش کرتے ہوئے اتنی سی بات پر شیعوں پر کفر کے فتوے جاری کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے ؟ ١۔بحوالہ مجلہ حوزہ، ش٧١و٧٢۔ ٢۔ مجامع روائی میں منقول احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام مہدیؑ ہی نے ، امام حسن عسکری کو غسل وکفن دیا اور ان کے جنازہ پر نماز پڑھائی ، جس پر دلیل وہ حدیثیں ہیں جویہ کہتی ہیں کہ ، جب امام عسکری شہید ہوئے اورآپ کے بھائی جعفر کذاب آپ کا نماز جنازہ پڑھانے کے لئے آگے بڑھا ، اتنے میں ایک کم سن بچہ لوگوں کے درمیان میں سے نکل کرآیا اورجعفر کے عباء کو پکڑ کر کھینچتے ہوئے کہا: اے چچا اس کام کے لئے آپ سے زیادہ میں مستحق ہون یہ حالت دیکھ کر جعفر کارنگ اڑگیا اور پیچھے ہٹ گیا اور اس بچے نے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھائی۔١؎ ١۔ صدوق، کمال الدین، ج٢، ص ٢٢٤، حدیث ٢٥۔ '' ابو ادیان نے کہا :'' فتقدم جعفر بن علی لِیُصلّی علی اخیہ ، فلمّا ہمّ بالتکبیر خرج صبی یوجہہ سُمرۃ... فحبذ برداء جعفر وقال : تأخر یاعمّ : فأنا احق باالصلاۃ علیٰ ابی ، فتاخر جعفر وقداربّد وجہہ واصفرَّ...''۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام مہدی ؑ اس وقت سامراء میں موجود تھے اورآپ ہی نے اپنے والد گرامی کو غسل دیا ، کفن پھنایا اور نماز جنازہ پڑھائی۔ اس صورت میں بالغرض اگر غسل دینا اور نماز جنازہ پرھانا امام کے شرائط میں سے ہوں تو بھی یہ شرط حضرت امام مہدیؑ میں موجود ہیں ۔ ممکن ہے یہاں پر کوئی یہ کہیں نقل تاریخی سے ثابت ہے کہ امام حسن عسکری ؑ کی نماز جنازہ تو، '' ابی عیسیٰ '' نے پڑھائی تھی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ روایت سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت امام مہدیؑ نے جونماز پـڑھائی ہے وہ خود حضرت امام عسکری ؑ کے گھر میں پڑھائی تھی اوراس وقت اس میں صرف آپ ؑ کے خاندان کے افراد ہی موجود تھے ، جن میں جعفر کذاب بھی تھا ، اوریہ مسئلہ عادی طور پر انجام پایاتھا۔ اوراس میں معجزہ کا کوئی عمل دخل بھی نہیں ہے ، اوروہ نماز جو '' ابوعیسیٰ'' نے پڑھائی ہے وہ رسمی طور پر حکومت وقت کی طرف سے تھی ، جو لوگوں کو گمراہ کرانے کے لئے خلفاء بنی امیہ اوربنی عباس پڑھواتی تھی ۔ سوال یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت امام مہدیؑ اپنے والد گرامی کو غسل وکفن دے کر نماز جنازہ بھی پڑھائے اور حکومت وقت کے جاسوسوں کو پتہ بھی نہ چل سکا؟ جواب اس سوال کا جواب اپروالے پیراگراف میں واضح ہوگیا اوروہ یہ کہ حضرت امام مہدیؑ نے جوکام انجام دیا اس وقت امام حسن عسکری ؑ کے خاندان کے خاص افراد کے علاوہ کوئی اور وہاں موجود نہ تھا، لہذا آپ ؑ غسل وکفن اورنماز پڑھانے کے بعد آرام کے ساتھ وہاں سے نکل گئے اورکسی نے پہچانا بھی نہیں کیونکہ پہلے والی بحثوں میں ثابت کر چکے ہیں کہ مخصوص افراد کے علاوہ کوئی بھی صحیح خدوخال کے ساتھ آپ ؑ کو نہیں پہچانتا تھا۔ اور ہماری اس بات کی تائید وہ روایتیں کرتی ہیں جو ہم کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت نے جعفر کذاب کی شکایت پر کچھ لوگوں کو امام حسن عسکری ؑ کے دفن کے فوراً بعد حضرت امام حسن عسکریؑ کے فرزند کو تلاش کرنے پر مامور کیا اورآپ کے گھر کی تلاشی کا حکم دیاجس کے ١؎ نتیجے میں حکومت کے کارندوں نے آپ کے خاندان کے افراد کو ازیتیں پہنچائیں اورآپ ؑکی بعض کنیزوں کو قید کردیا۔ ١۔ اربلی ، کشف الغمہ ، ج٣، ص٣٥١ل شیخ مفید، الارشاد، ج٢، ص ٣٣٦۔ اب نہ جانے ہمارے مخالفین کو کس بات پر اعتراض ہے اورجہاں بھی حضرت مہدیؑ کاذکر آتا ہے وہاں شیعوں پر بے بنیاد تحمتیں لگا کر عام اسلامی حلقوں کی ذہنوں کو منحرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، خدا ان سب کو ہدایت فرمائیں ۔ ٣۔ اورمولان احسان ظہیر الہیٰ کایہ کہنا کہ آخر میں زمین حجت خدا سے خالی ہوگئی اورزمین بھی اپنی جگہ پر برقرار ہے یہ اشارہ ہے حدید'' لولا حجتہ لساخت الارض باھلہا''کی طرف اورموصوف کا مقصد شیعوں پر طنز کرتا ہے لیکن قارئین کی خدمت میں عرض کرتا چلوں یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر حجت خدا اس روے زمین پر موجود نہ ہوتو زمین اپنے اہل کے ساتھ دھنس جائے گی ۔ اوراگر زمین اپنی جگہ پر برقرار ہے توحجت خدا مہدی ؑقائم آل محمد ؐ کی طفیل سے ہے اور یہ عقیدہ صرف شیعوں کے عقائد میں نہیں بلکہ جو بھی اپنے کو مسلمان سجھتا ہے ان سب کا یہی عقیدہ ہے اورہونا چاہیے ، اس لئے کہ یہ حدیثیں رسول اللہ سے صادر ہوئی ہیں ، جو اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے ، چنانچہ جس طرح شیعہ محدثیں نے اس مضمون کے حامل حدیثوں کو اپنے ائمہ ؑ کے توسط رسول للہ ؐسے نقل کی ہیں اسی طرح سنی محدثیں نے بھی اپنی حدیث کی کتابوں میں بیان کی ہیں ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں : امام الحرمین حافظ متقی ہندی الحنفی، عن انس بن مالک ، قال : سمعت عن رسول اللّہ یقول : لیس یزال ہذالدین قائماً الی اثنیٰ عشر من قریش فاذا ہلکواماجت الأرض باہلہا۔'' '' انس بن مالک کہتے ہیں ، میں نے رسول خداؐ کو یہ کہتے سنا ، کہ آپ فرمارہے تھے ، یہ دین اس وقت تک باقی رہے گا جب تک قریش کے بارہ (١٢) افراد موجود ہیں ، لہذا جیسے یہ لوگ روی زمین سے اٹھ جائیں زمین اپنے اہل کے ساتھ مضطرب ہوگی۔ ١۔ کنز العمال ، باب لواحق الأمارات ، ج٦، ص ٦٩؛ واخت القرآن ، صحیح مسلم کتاب الامارات ، باب النّاس تبع لقریش، ج١٢ ، ص ٢٠٣و٢٠٤۔ اس مذکورہ حدیث سے درج ذیل چند باتیں واضح ہوجاتی ہے : ١۔اخرین دین الہی دین اسلام ہے اوریہ دین اس وقت تک قائم رہے گا جب قریش کے بارہ افراد جو سب کے سب حجت خدا ہوں گے میں سے کوئی اس دنیا میں موجود ہوگا ۔ ٢۔ پیغمبر کے بعد خلفاء کی تعداد بارہ ہی ہوں گی اورسب کے سب قریش ہوں گے ٣۔ دین اسلام اب بھی باقی ہے اوردنیا میں ہزاروں مسلمانوں ابھی موجود ہیں جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ اب بھی دنیا میں حجت خدا باقی ہے ورنہ اگر ایک لمحہ کے لئے بھی دنیا حجت خدا سے خالی ہوجائیں تو '' ساخت الارض ، یاساخت الارض باھلہا'' یعنی زمین اپنے اہل کے ساتھ دھنس جائے گی ۔اب مصنف موصوف ہی بتاسکتے ہیں ،ا س میں طنز اورمزاق والی کونسی بات ہے ؟ درحقیقت یہ اسلامی عقاید بخصوص رسول گرامی ؐ اسلامی کی شخصیت کا مذاق اڑانا ہے اس لئے کہ ہمارا اگر یہ عقیدہ ہے تو رسول ؐ خدا کی اتباع کی بہترین مثال ہے اورہمیں اس پر فخر ہے ابن حجر عسقلانی فتح الباری (جو صحیح بخاری کی شرح ہے ) میں لکھتے ہیں : آخری زمانے میں اورقریب قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ کااس امت کے ایک فرد کے پیچھے نماز پڑھنا اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوسکتی ۔١؎ ١۔فتح الباری فی شرح صحیح ،ج؟؟؟،ص ؟؟؟۔ صحیح نظریہ ، امام مہدیؑ پیدا ہوچکے ہیں دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں اوراہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت امام مہدی ؑ ٢٥٥ ھ یا٢٥٦ھ میں پیدا ہوچکے ہیں اورآپ اس سلسلہ امامت کے گیارہویں تاجدار حضرت امام حسن عسکری ؑ کے فرزند بلافصل ہیں اورپانچ سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے بعض اسباب کی بنیاد پر آپؑ ابتداء پیدائش ہی سے پوشیدہ رہے سترسال تک خاص قائدین کے ذریعے آپ تک آپ کے شیعوں کی رسائی ہوتی رہے اور اس کے بعد سے غیبت کبریٰ کا آغاز ہوا اور آخری زمانے میں ظہور فرماکر دنیا کواس طرح عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔ یہ ہے حقیقی مسلمانوں کا عقیدہ حضرت امام مہدی ؑ کی ولادت کے بارے میں ، اوراس عقیدے پر ، ہم نقلی دلیلیں موجود ہیں ،ہم عقلی اور ہم تاریخی اوتجربی ملاحظہ فرمائیں ۔ عقلی اورنقلی دلیل قانون اوفقہی نگاہ سے کسی کے یہاں بچے کی پیدائش ، یاکسی کے فرزند ہونے کو چند طریقوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے ۔ ١۔ دائی کی گواہی اگردائی یاکوئی اور عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت وہاں موجود ہوں ، اوروہ لوگوں کے سامنے حاضر ہوکر گواہی دیں کہ فلاں شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے ، یایہ کہ ، یہ فلان شخص کا فرزند ہے ۔ ٢۔ صاحب فراش خود لوگوں کے سامنے اعتراج کریں کہ وہ صاحب اولاد ہوگئے ہیں ۔ ٣۔ دو عادلوں کی گواہی ۔ دوعادل شخص گواہی دیں کہ فلان شخص نے ان کے یہاں فرزند کی پیدائش یاوجودکا، ان کے سامنے اقرار کیا ہے ۔ مذکورہ تینوں صورتوں میں اگر کوئی ادعا کریں وہ صاحب اولاد ہے تو اس کی یہ دعویٰ شرعاً اور قانوناً ثابت ہوجاتی ہے ۔ اور حضرت امام مہدیؑ کی ولادت کے بارے میں مذکورہ تینوں طریق موجود ہیں ۔١؎ یعنی ہم خود امام حسن عسکری ؑ نے آپ کے یہاں بیٹے کی ولادت کی خبردی ہے ، ہم دائی حکیمہ خاتون نے آپ کی ولادت کی وضاحت کی ہے اور اس طرح تین سو سے زیادہ موثق افراد نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ انہوں نے امام حسن عسکری کے لخت جگرکو دیکھا ہے اوران کی زیارت سے شرفیاب ہوئے ہیں ۔ ١۔ اصل عناوین الفصوالعشرہ فی الغیبۃ ، شیخ مفیدؒ ، ترجمہ ، محمد باقر خالص ، ص ٣٢۔ دائی کی امام مہدی ؑ کی ولادت کے بارے میں گواہی حضرت امام مہدی ؑ کی ولادت کا حال دایہ حکیمہ خاتون کی زبانی ہم اہل سنت کے بزرگ علماء وحفاظ کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں تاکہ شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے ،'' ابراہیم بن مؤید بن عبداللہ جوینی '' '' فراید السمطین '' میں خواجہ پارسانقشبندی '' فصل الخطاب '' میں ، ملاجاصی'' ''شواہد النبوہ '' میں اورحافظ قندوزی حنفی '' ینابیع المودۃ '' میں نقل کی ہیں ، اس کا خلاصہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔ '' حکیمہ خاتون کہتی ہیں پندرہ شعبان ٢٥٥ھ کی رات میں امام حسن عسکری ؑخالص ، کے گھر میں گئی تھی ، جب میں اپنے گھر واپس آنا چاہتی تھی، اس وقت امام حسن عسکری نے فرمایا: پھوپھی جان ! آج کی رات آپ ہمارے گھر ٹھرجائیے ، کیونکہ آج کی رات ولی خدا اورمیرا جانشین پیدا ہوگا... حکیمہ نے قبول کیا، صبح صادق کے وقت اچانک '' نرجس'' کی حالت بدل گئی اوراضطراب پیدا ہوا کچھ دیر نہ گذری تھی ، ولی خدا نے مختون اورپاک وپاکیزہ حالت میں عرصہئ حیات میں قدم رکھا، امام عسکری ؓ کے پاس لائی تو انہوں نے بچے کو لیا اور اپنے دست مبارک کو بچے کی آنکھوں پر پھیرا فوراً بچے نے انکھیں کھولدیں تو انہوں نے اپنی زبان کو نوزاد کے دھان میں رکھا، اوردائیں کان میں آذان اوربائیں کان میں اقامت کہی اس کے بعد مجھ سے فرمایا: اس بچے کو'' نرجس '' کے پاس لے جاو ، تو میں نوذاد کو '' نرجس '' کے پاس لے گئی۔ حکیمہ خاتون کہتی ہیں میں اپنے گھر واپس آئی اس کے بعد میں دوبارہ حسن عسکری ؑ کے پاس پہنچی تو دیکھا بچہ زرد لباس میں ملبوس آپؑ کے سامنے ہے ، بہت ہی نورانی تھا، لہذا میرے دل میں اس کی محبت پیدا ہوگئی ، میں نے حسن عسکریؑ سے کہا: اے سید وسردار ! آیا آپ ْؑ اس نوزاد کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟ آپؑ نے فرمایا : پھوپھی جان ! یہ وہی مولود ( مہدی) منتظر ؑ ہے جس کی ہمارے جدامجدنے ہمیں خبر دی تھی ، یہ سن کر میں سجدہ میں گرپڑی اورخدا کا شکر ادا کیا ۔١؎ ١۔ حافظ عبدالرحمن جامی حنفی'' شواہد النبوہ'' ، ج٢، ص ٢٠٨؛ ینابیع المودۃ ، ص ٤٤٩سے ٤٥٢؛ بحوالہ ، فصل الخطاب خواجہ پارسا؛ فراید السمطین ، ج٢، ص ٣٢٦۔ اور اس حدیث کو تفصیل کے ساتھ تمام شیعہ محدثیں ومورخین سے بھی بیان کیا ہے ،٢؎ لیکن ہمارے مدعاکے اثبات کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ بزرگ سنی علماء نے بھی اس حدیث کو اپنے سلسلہ سند کے ساتھ اپنی کتابوں میں بھی نقل کیا ہے ۔ ٢۔ کلینی ، اصول کافی، ج٢، ص ١٠٦، کتاب الحجہ باب فی تسمیۃ من راہ ، طوسی ، الغیبہ ، ص٢٣٤سے ٢٤٩؛ اعلام الوریٰ ، ج ٢،ص ٢١٤؛ مسعودی ، اثبات الوصیہ، ج٢، ص٢٤٢؛ کمال الدین تمام النعمۃ ، ص ٣٩٠و ٣٩١؛ نعمانی کتاب الغیۃ ، ص ١سے ٥ ؛ بحار الانور، ح٥٢؛ منتخب الاثر، ص٣٩٨؛ آفتاب عدالت ، ص١٣٣۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اتنی صراحت کے باوجود ہمارے بعض برادران اہل سنت کہتے ہیں کہ حضرت مہدیؑ آخری زمانے میں پیدا ہوں گے جب کہ اس پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے ، کیونکہ معظم علماء اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ ؑ کی ولادت ٢٥٥ھ یا٢٥٦ھ میں ہوچکی ہے اور آپ کا ظہور آخری زمانے میں ہوگا، آنے والے صفحات میں آپ ان کے اقوال کو ملاحظہ فرمائیں گے ۔ |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-01-12) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
مقبول
|
سند روایت کی برسی
سوال کیا روایت حکیمہ ، صحیح ہے ؟ جواب ١۔شیخ صدوق ؒ نے ''کمال الدین ''میں اس حدیث کو تین طرق سے نقل کیا ہے ، لیکن از نظر رجالی ، سند روایت ضعیف ہے ، کیونکہ دونوں سند میں بعض راوی مجھول الحال اور بعض متہم بہ غُلو ہیں۔ لہذا شیخ صدوق کے سلسلہ سند پر اعتماد کرتے ہوئے روایت کو صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اس روایت کو شیخ طوسی ؒ ، نعمانی ، اورمسعودی وغیرہ نے صحیح سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، لہذا یہ روایت صحیح ہے، اور کوئی اشکال اس پر وارد نہیں ہوتا ۔ ٢۔ اہل سنت کے جن تین بزرگ علما نے اس حدیث کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے وہ خود اس حدیث کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ ان بزرگوں نے اس پر کوئی اشکال نہیں کیا ہے ، بلکہ حافظ قندوزی مذکورہ حدیث کو نقل کرنے کے بعد اس کے صحیح ہونے پر تصریح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں ''فاالخبر المعلوم المحقق عند النثقات'' ١؎ یعنی مذکورہ حدیث ثقات( محدثیں اہل سنت ) کے نزدیک معین ومشخص ہے ۔ ١۔ینابیع المودۃ ، با٧٩، ص ٤٥٢؛ شیخ طوسی نے تین سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے مراجعہ کریں ، الغیۃ ، ص ٢٣٤سے ٢٤٠ ۔ ٣۔ باالغرض اگر حضرت حکیمہ سے منقولہ روایت صحیح السند نہ بھی ہو ، پھر بھی امام مہدیؑ کی ولادت کے اثبات میں کوئی مشکل نہیں، کیونکہ ہمارے پاس دوسرے صحیح السند متواتر روایات موجود ہیں ، جواس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپؑ کی ولادت ٢٥٥ھ یا٢٥٦ھ میں ہوچکی ہے، بعض محققین کی مطابق آپ ؑ کی ولادت کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ اورائمہ اطہارؑ سے دوسوچودہ حدیثیں مجامع روائی میں نقل ہوئیں ہیں ۔١؎ اس کے علاوہ ایک سوچھالیس حدیثوں میں آپ ؑ کے والد گرامی کا اسم گرامی حسن بتایا گیا ہے ۔٢؎اور ایک سو سنتالیس احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے والد گرامی کا نام حسن عسکری ابن امام علی النقی الہادی ہے ۔٣؎ اوراسی طرح دوسو چودہ روایتوں میں تصریح کی گئی ہے کہ آپؑ ٢٥٥ھ یا٢٥٦ھ میں ہوچکے ہیں اور کچھ علل واسباب کی بنا پر لوگو ںکی نظروں سے غائب ہیں اورآخری زمانے میں ظہور فرماکر ظلم وجور سے بھری ہوئی زمین کو پھر سے عدل ونصاف سے بھر دیں گے ان تمام احادیث کو تجزیہ وتحلیل کے ساتھ پیش کرنا، اس مختصر کتاب می ہمارے لئے ممکن نہیں، لہذانمونہ کے طور پر چند احادیث ملاحظہ فرمائے ۔ ١۔''روی مفضل بن عمرو قال: دخلت علی سیدی جعفر بن محمد الصادقؑ فقلتُ: یاسیدی لوعہدت الینا من الخلف من بعد؟ فقال: یامفضل، انّ الامام من بعدی موسیٰ، والخلف المنتظر ، م ـح ـ م ـ د بن الحسن بن علی بن موسیٰ علیہم السلام ۔''٤؎ '' مفضل بن عمرو ، کہتے ہیں میں امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اورعرض کی: اے میرے سید وسردار ، کیاآپ ہمیں آپ ؑ کے جانشین کے بارے میں کچھ بتائےں گے ؟ تو آپؑ نے فرمایا: اے مفضل میرے بعد میرا بیٹا موسیٰ (کاظم) تمہارا ، امام ہے اوراس کے بعد خلف صالح (مہدی) منتظر فرزند حسن ابن علی ابن موسیٰ (کاظم) ہیں۔ ١۔ منتخب الاثر ، ص ٣٩٧سے ٤٢٩۔ ٢۔ ص ٢٨٥ کے بعد۔ ٣۔ کتاب مذکورہ، ص ٢٩١کے بعد۔ ٤۔اسی مضمون کے (١٩٩) ایک سو ننانوے حدیث نقل ہوئی ہیں ، رجوع کریں ، منتخب الاثر، ص ٢٧٥۔ ١۔صقر کہتے ہیں ، کہ میں نے علی بن محمد ( امام علی النقی) الہادی سے سنا: کہ آپ ؑ نے فرمایا: میرے بعد میرے بیٹے حسن عسکری ؑ امام ہیں اوران کے بعد ان کے بیتے قائم ( آل محمدؐ) ہیں ، جو زمین کی اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی، اسی مضمون کے دوسو تیرانیوے (٢٩٣) حدیثیں اور ہیں ۔١؎ ١۔ منتخب الاثر ، ص ١٤٦۔ امام حسن عسکری ( صاحب فراش) کی امام مہدی ؑ کی ولادت کے بارے میں گواہی خود امام حسن عسکری ؑ نے متعدد احادیث میں اس بات کی خبردی کہ قائم ومہدی میربیٹا ہے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔ ١۔محمد بن عثمان نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے : '' میں امام حسن عسکری کی خدمت میں تھا کہ آپ ؑ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا جو کہ ان کے آباء واجداد سے نقل ہوئی ہے کہ تاقیامت زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی اورجوشخض اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جہالت کی موت مرتا ہے ، امام نے جواب دیا: یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح اورحق ہے ۔ عرض کیا: اے فرزند رسول ؐ:آپ کے بعد امام وحجت کون ہے ؟ فرمایا:میرے بیٹے حجتِ خدا اورامام ہیں ، اور جوان کی معرفت کے بغیر مرے گا وہ جہالت کی موت مرے گا، آگاہ ہوجاؤ ! میرا بیٹا غیب میں رہے گا ، اس زمانہ میں دنیا والے سرگردان ہوں گے ، باطل پرست ہلاک ہوں گے اور جو شخص ان کے ظہور کے وقت کو معین کرتا ہے وہ جھوٹا ہے ، وہ اپنی غیبت کا زمانہ ختم ہوجانے کے بعد قیام کریں گے ، گویا میں سفید پرچم نجف میں ان کے سر پر لہراتا ہوا دیکھ رہاہوں ۔١؎ ١۔ بحار الانوار ، ج٥١،ص ١٦٠، آفتاب عدالت ، ص١٣٠۔ ٢۔فضل بن شاذان جس کا انتقال حضرت مہدیؑ کی ولادت کے بعد اورامام حسن عسکری کی شہادت سے پہلے ہواتھا، نے اپنی کتاب '' الغیبۃ '' میں محمد بن علی ابن حمزہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام حسن عسکری سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے : پندرہ شعبان کی شب طلوع فجر کے وقت حجت خدا اورمیرا جانشین پیدا ہوا۔٢؎ ٢۔١۔ منتخب الاثر ، ص ٣٩٧،بنقل از النجم الثاقب واربعین ، خاتون آبادی ، آفتاب عدالت، ص١٣١۔ ٣۔ احمد بن اسحاق کہتے ہیں : کہ میں نے امام حسن عسکری سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے ''حمد ہے اس خدا کی جس نے میرے مرنے سے پہلے ہی مجھے میراجانشین دکھادیا، اخلاق وخلق میں وہ سب سے زیادہ رسول اللہ ؐ سے مشابہ ؛ہے ، ایک مدت تک خدا انہیں پردہئ غیبت میں رکھے گا، اس کے بعد انہیں ظاہر کرے گا تاکہ وہ زمین کو عدل وانصاف سے پرکریں۔١؎ ١۔ منتخب الاثر ، ص ٤٠٨، بحوالہ کفایۃ الاثر اثبات العداۃ ، ج٦، ص٤٣٢، آفتاب عدالت، ص ١٣٢۔ ٤۔ احمد بن اسحاق نے روایت کی ہے کہ جب خلف صالح پیدا ہوئے اس وقت امام حسن عسکری ؑ کا خط میرے پاس پہنچا ، اس میں آپ ؑ نے اپنے دست مبارک سے تحریر کیا تھا کہ :'' ہمارے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے ، اس بات کو مخفی رکھنا کیونکہ میں نے سوائے اپنے دوستوں کے اورکسی سے بیان نہیں کیا۔٢؎ ٢۔؟؟؟؟ ٥۔ اسحاق بن احمد کہتے ہیں : ایک روز میں امام حسن عسکری ؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا تو آپ نے فرمایا: '' احمد جس چیز کے بارے میں لوگ شک میں مبتلا ہیں اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں نے عرض کی: ہمارے زن ومرد اوربوڑھے ، جوان ، پرتوحق اس وقت آشکار ہوگیا تھا جب آپؑ نے خط کے ذریعے بیٹے کی ولادت کی خوشخبری دی تھی ، چنانچہ ہم ان کے معتقد ہوگئے ۔١؎ ١۔ منتخب الاثر ، ص٤٢٨بحوالہ اثبات الوصیۃ، سعودی، آفتاب عدالت، ص ١٣٢۔ ٦۔ابوجعفر عمروی نے روایت کی ہے جب صاحب الامر پیدا ہوئے اس وقت امام حسن عسکری نے فرمایا: '' ابو عمر و کو بلاو! جب میں خدمت میں حاضر ہوا تو آپؑ نے فرمایا: دس ہزار رطل نان( یعنی آدھا سیر) اور دس ہزار رطل گوشت خرید کر لاو اور بنی ہاشم میں تقسیم کرو اور فلان گوسفند سے میرے بیٹے کا عقیقہ کرو۔٢؎ ٢۔ حر عاملی، اثبات الہداۃ ، ج٣، ص ٤٨٣، آفتاب عدالت،١٣٢۔ ٧۔ معتز عباسی ، امام ہادی ؑ کو شہید کرنے کے بعد چاہتا تھا کہ امام حسن عسکری ؑ کو بھی شہید کریں ، اور اپنے کارندوں کو آپ ؑ کے قتل کا حکم دیا تھا لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ '' ترکان'' کی شورش کے موقع پر ان کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا جب یہ خبر امام حسن عسکری ؑ تک پہنچی تو آپ نے اپنے شیعوں کے نام ایک پیغام جاری کرتے ہوئے فرمایا: ''ہذا جزآء من اجتزء علی اللّہ فی اولیائہ ، یزعم ان یقتلنی ولیس لی عقب فکیف ریٰ قدرۃ اللہ ؟؟''١؎ '' اس طرح ذلیلانہ طریقے سے قتل کیا جانا ، ان لوگوں کے لئے خدا کی طرف جزا ہے ، جواولیاء الہیٰ کے قتل پر آمادہ رہتے ہیں ۔ان کا ادعا تھا کہ مجھے قتل کردے گا اور میری کوئی اولاد بھی نہ ہو لیکن خدا کی قدرت کو اس کے بارے میں تم لوگوں نے دیکھا ، یعنی وہ خود واصل جہنم ہوگیا۔ ١۔ اصول کافی ،ج،ص٨٠٢؛حرعاملی ، اثبات الہداۃ، ج٣، ص ٤٤١۔ ٨۔ ایک اور پیغام میں آپ نے فرمایا: ''زعموا انّہم یریدون قتلی لیقطعوا ہذا النسل وقد کذب اللّہ عزوجل والحمدللّہ''٢؎ '' یہ لوگ گمان کرتے تھے کہ مجھے شہید کردیں گے تاکہ نسلِ فاطمہؑ منقطع ہوجائے ، درحالیکہ خدا وند متعال نے ان کی اس فکر کو غلط قرار دیا ، حمد وستایش صرف اللہ کے لئے ہے ۔ ٢۔بحارالانوار ، ج٥١، ص ١٦٠وص ١٦١۔ ٩۔ ایک اور روایت میں آپؑ نے اپنے بیٹے کی پیدائش پر خداوند متعال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: '' الحمداللّہ الذی لم یخرجنی من الدنیاحتّٰی ارانی الخلف من بعدی ، اشبہ النّاس برسول اللّہ خلقاً وخلقاً ، یحفظہ اللّہ تبارک تعالیٰ فی غیبتہ ثم یظہرہ فیملاء الأرض عدلاً وقسطاً کما ملئت ظلماً وجوراً ۔'' ١؎ '' حمد وشکر اس خدا کے لئے جس نے مجھے بیٹا اور میرے بعد جانشین عطاکیا ، جو خَلق وخُلق میں رسول اللہ ؐ کے مشابہ ہیں ، خدا میرے اس بیٹے کو پردہئ غیب میں محفوظ رکھے گا، اس کے بعد ان کو دنیا والوں کے لئے ظاہر فرمائیں گا۔ پس وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی''۔ ١۔کمال الدین ، ج٢، باب ٣٨، ص ١١٨، حدیث ٧۔ مختصر یہ کہ پیغمبر اکرمؐ اورائمہ اطہار علیہم السلام سے نقل ہونے والی متواتر احادیث میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے کہ حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسیٰ بن جعفر صادق ابن محمد باقر ، ابن علی بن الحسین زین العابدین ، بن حسین بن علی ، بن ابی طالب ٪ کے یہاں بیٹا پیدا ہوا جو طولانی غیبت کے بعد لوگوں کی اصلاح کے لئے قیام کرے گا اورزمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا اوران کے ظہورسے تاریک پتھر دلوں میں نور توحید کی روشنی ہوگی ۔ مذکورہ احادیث کے مجموعے سے یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ امام حسن عسکری کے یہاں بیٹا تھا اور وہی مہدی موعودؑ ہیں ۔ اب خدا جانے جناب فاروقی ، احسان ظہیر الہیٰ ، احمدا لکاتب ، سعد حسن اعظم طارق ، اوراختر کاشمری جیسے لوگوں نے اس نظرےے کو کس کتاب ڈھونڈ نکالا ہے ، کہ شیعہ ایک موہوم اور معدوم امام مہدیؑ کے قایل ہیں !! کاش مذکورہ مصنفین کو نقد ونظر ہی کا کچھ خوف ہوتا، اور اپنے مزعوم ادعا کے لئے کوئی ثبوت ضروری سمجھتے ۔ شیعوں کے مؤلفات علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ حضرت امام مہدیؑ امام حسن عسکری ؑ کے فرزند بلا فصل ہیں اور ٢٥٥ھ میں پیدا ہوکر حکم خدا سے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں ، اورقریب قیامت میں مکہ مکرمہ سے ظہور فرما کر زمین کو عدل سے بھر دیں گے ۔ موثق افراد کی امام مہدی ؑ کی ولادت کے بارے میں گواہی اس سلسلے میں بعض محققین نے تین سو سے زیادہ موثق افراد کے نام ذکر کیا ہے ہم یہاں اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے چند احادیث قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں۔ ١۔ معاویہ بن حکیم ، محمدبن ایوب بن نوح اور محمد بن عثمان عمری نے روایت کی ہیں کہ ہم چالیس آدمی امام حسن عسکری ؑ کے گھر میں جمع تھے کہ آپؑ نے اپنے بیٹے کو لائے اور فرمایا: یہ تمہارا امام اور میرا جانشین ہے ، میرے بعد تمہیں اس کی اطاعت کرنا چاہیے اور اختلاف نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاو گے واضح رہے ، کہ میرے بعد تم اسے نہ دیکھ سکو گے ۔١؎ ١۔منتخب الاثر ، ص ٤٣٨، بنقل از غیبت شیخ ، وکمال الدین ، صدوق ؛ آفتاب عدالت ، ص ١٣٧، بنقل از نجار، ج٥٢، ص ٢٣۔ ٢۔ امام حسن عسکری ؑ کی خدمت گار، نسیم اور ماریہ نے روایت کی ہے کہ ، جب صاحب الامر نے ولادت پائی تو وہ پہلے دوزانو بیٹھے اوراپنی انگشت شہادت کو آسمان کی طرف بلند کیا، اس کے بعد چھینک آئی تو فرمایا: ''الحمد اللہ رب العالمین''۔٢؎ ٢۔آفتاب عدالت ، ص ١٣٥، از اثبات الہداۃ ، ج٧، ص ٢٩٢؛ والغبۃ ، طوسی ، ص ٢٢٤؛ واثبات الوصیۃ ، ص ١٩٧ وص١٤١۔ ٣۔ ابو غانم ، خادم کہتے ہیں : امام حسن عسکری ؑ کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا ، تیسرے دن اس بچے کو آپ نے اپنے اصحاب کو دکھایا اورفرمایا: یہ میرا بیٹا میرے بعد تمہارا امام ومولیٰ ہے ، اور یہی وہ قائم ہے جس کا تم انتظار کرو گے اور اس وقت ظہور کرے گا جب زمین ظلم وستم سے بھر جائے گی اوریہ اسے عدل وانصاف سے بھر دے گا۔١؎ ١۔آفتاب عدالت ، ص ١٣٥،واثبات الہداۃ ، ج٣، ص ٤٨٢۔ ٤۔ ابو علی خیزرانی اس کنیز سے نقل کرتے ہیں جو کہ امام حسن عسکریؑ نے انہیں بخش دی تھی کہ اس نے کہا: صاحب الأمر کی ولادت کے وقت میں موجود تھی، ان کی والدہ کانام '' صیقل '' ہے۔ ٢؎ ٢۔آفتاب عدالت ، ص ١٣٥۔ ٥۔ حسین بن علوی کہتے ہیں میں سامرہ میں امام حسن عسکری ؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور آپ کے فرزند کی ولادت پر مبارک باد دی۔٣؎ ٣۔آفتاب عدالت ، ص ١٣٦واثبات الہداۃ ، ج٣، ص ٤٨٢۔ ٦۔ ابو ہارون کہتے ہیں ، میں نے صاحب الزمان ؑ کو دیکھا ہے جب کہ آپ کا چہرہ چودھویں چاند کی طرح چمک رہا تھا۔٤؎ ٤۔طوسی ، الغیبۃ ، ص ٢٥٠؛ صدوق ، کمال الدین ، ج٢،باب ؟؟ ص ٢ ، منتخب الاثر، ص ٤٣٩۔ ٧۔ عمر اہوازی کہتے ہیں : امام عسکری ؑ نے مجھے اپنا بیٹا دکھا دیا اور فرمایا : میرے بعد میرا بیٹا تمہارا امام ہے۔٥؎ ٥۔الغیبۃ ، طوسی ، ص ٢٣٤؛ کلینی ، اصول کافی ، کتاب حجت ، باب الارشاد والنّص الی صاحب الدار حدیث، ٣۔ ٨۔علی بن مطہر کہتے ہیں کہ: میں نے حسن عسکری ؑ کے فرزند کو دیکھا ہے ۔٦؎ ٦۔منتخب الاثر، ص ٤٣٩،بنقل از ، الارشاد شیخ مفید ، الغیبۃ ،شیخ طوسی ، ص ٢٣٤و اصول کافی وینابیع المودۃ؛ آفتاب عدالب ، ص ١٣٨ بنقل از اثبات الہداۃ ، ج٣، ص ٤٨٤و ٥٠٦۔ ٩۔ ابو نصر خادم کہتے ہیں ، میں نے صاحب الزمان کو بچپنے میں دیکھا ہے ۔٧؎ ٧۔منتخب الاثر، ص ٤٣٩،بنقل از ، الارشاد ، و'' تبصرۃ الولی فیمن رای القائم المہدی؛آفتاب عدالب ، بنقل از اثبات الہداۃ ، ص ١٩٨، واثبات الہداۃ ، ج٣، ٥٠٨، والغیبۃ ، طوسی، ص ٢٤٦۔ ١٠۔ سعد بن عبداللہ کہتے ہیں ، میں نے صاحب الامر کو دیکھا ہے آپ کا چہرہ چاند کے ٹکرے کی مانند تھا۔١؎ اس سلسلے میں روایات بہت زیادہ ہیں ہم اسی مقدار پر اکتفاء کرتے ہیں اور اس سلسلے میں تفصیل کے خواہشمند حضرات مندرجہ ذیل کتب کی طرف مراجعہ کریں ۔١؎ ١۔ اصول کافی ، باب فی تسمیۃ من رآہ ؛ الارشاد ، شیخ مفید ، باب من ریٰ الامام الثانی عشر؛ ینابیع المودۃ ، قندوزی حنفی، باب من ریٰ صاحب الزمان ؛ تبصرۃ الولی فیمن المہدی؛ کما ل الدین ، صدوق، نجم الثاقب ، میرزا حسین نوری ، نورا لابصار ، سید مؤمن بن حسن شلنجی از علماء اہل سنت ، اعلام الوریٰ ؛ فصل بن حسن طبرسی؛ الغیبۃ ، شیخ طوسی ، ص ٢٢٩، بہ بعد بحارالانوار ، مجلسی ، ج٥١۔ منتخب الاثر ، ص ٤٣٨؛ آفتاب عدالت ، ص ١٣٣سے ١٤٠واثبات الہداۃ ، حرعاملی ، باب فی النصوص علی امۃ مہدی وولادتہ وغیبتہ ، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ ، اربلی۔ یہ لوگ امام حسن عسکری ؑ کے معتمد اور اصحاب وخدام ہیں کہ جنہوں نے بچپنے میں آپ ؑ کے نور نظر کو دیکھا اور اس کے وجود کی گواہی دی ہے ، جب ہم اس گواہی کے ساتھ ، پیغمبر اکرم ؐ اور ائمہ علیہم السلام کی احادیث کو ضمیمہ کرتے ہیں تو امام حسن عسکری ؑ کے بیٹے کے وجود کا یقین حاصل ہوجاتا ہے ۔ احادیث والادت امام مہدی ؑ محدثین اہل سنت کی زبانی علماء اہل سنت کی جماعت نے بھی امام مہدی ؑ کی ولادت کے بارے میں احادیث نقل کیں ہیں چند نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔ ١۔گذشتہ صفحات میں حضرت حکیمہ سے مروی روایت کو ہم اہل سنت کے تین معروف علماء کی کتابوں سے آپ کی خدمت میں پیش کرچکے ہیں ۔١؎ ١۔اسی کتاب کے ، ص ١٣٥؟؟؟ ٢۔علامہ عدوی الخمراوی المالکی ، '' مشارق الانوار فی فوز اہل الاعتبار '' میں حدیث ''المہدی من عترتی من ولد فاطمہ ''کی ذیل میں جابر بن عبداللہ انصاری ؓ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں : '' قال رسول اللہ ؐ : یاجابر انّ اوصیائی وائمۃ المسلمین من بعدی، اثنیٰ عشر،اولہم علی ثم الحسن ثم الحسین، ثم علی بن الحسین ، ثم محمد المعروف باالباقر ستدرکہ ،یاجابر اذالقیتہ فاقراء منی السلام ، ثم جعفر بن محمد ، ثم موسی بن جعفر، ثم علی بن موسیٰ ، ثم محمدبن علی ثم علی بن محمد ، ثم الحسن بن علی ، ثم القائم، اسمہ اسمی وکنیتہ کنیتی ، ابن الحسن بن علی ، ذالک الذی یفتح اللّہ علیٰ یدیہ مشارق الارض ومغاربہا، ذالک الذی یغیب عن اولیائہ لایثبت علی القول باماتہ الاّ من امتحن اللّہ قلبہ للایمان'' '' اے جابر ! میرے بعد میرے اوصیاء اور اماموں کی تعداد بارہ ہوگی ، ان میں پہلا امام علی بن ابی طالبؑ ہے ، ان کے بعد حسن، ان کے بعد حسین ، ان کے بعد علی بن الحسین ، ان کے بعد محمد جو باقر کے نام سے مشہور ہوں گے ، بہت جلد تم ان سے ملاقات کرو گے ، اے جابر ! جب تم ان سے ملاقات کریں ، تو میرا سلام کہنا ، ان کے بعد جعفر بن محمد ، ان کے بعد موسیٰ بن جعفر ، ان کے بعد علی بن موسیٰ ، ان کے بعد محمد بن علی ان کے بعد حسن بن علی ، ان کے بعد قائم [آل محمد] فرزند حسن بن علی ، جومیرا ہمنام اورہم کنیت ہے ، یہ وہ ہوگا جن کے ہاتھوں خداوند متعال مشرق ومغرب کو فتح کرے گا اوریہ اپنے دوستوں کے نظروں سے غائب ہوں گے [اوران میں سے اکثر طولانی غیبت کی وجہ سے ] ان کی امامت پر ثابت نہ رہ سکیں گے مگر وہ لوگ جن کے دلوں کا اللہ تعالیٰ نے امتحان کرلیا ہو۔١؎ ١۔مشارق الانوار فی فوز اہل الاعتبار، ذیل حدیث ''المہدی من عترتی من ولد فاطمہ '' ص٣٢٤۔ ٢۔ ابراہیم ابن محمد جوینی ٭ بزرک محدث ابراہیم جوینی '' فرائد السمطین '' میں تحریر فرماتے ہیں : ٭مذکورہ حافظ ساتھویں صدی ہجری کے ، اہل سنت کے بزرگ محدث اور حفاظ میں سے ایک ہیں جن کے بارے میں مورخ اوراہل سنت کے مشہور محدث ورجالی، محمدبن احمد بن عثمان ، جوذہبی ، کے نام سے مشہور ہیں لکھتے ہیں :'' الامام المحدث الاوحد الاکمل فخر الاسلام سعد الدین ابراہیم ابن محمد ابن موید حمونی الجوینی... وکان شدید الاعتناء باالروایۃ وتحصیل الاجزاء وعلیٰ یدہ اسلم فازان الملک'' ١؎ ١۔تذکرۃ الحفاظ ، ج،٤، شمارہ ١٥٠٦؛ اس کے علاوہ ملاحظہ فرمائیں '' الدر الکاتبہ ( ابن حجر) ج،١ص ٦٧، والعبر فی اخبار من غبر ( ذہبی ) طبقات الشافعیہ و...) '' قال اللہ تعالیٰ یا محمد انّی خلقتک و خلقت علیاً وفاطمہۃ الحسن والحسین والائمۃ من ولدہ من شبح نوری ، وعرضت لایتکم علی اہل السماوات والارض فمن قبلہا کان عندی من المومنین ومن جحدہا کان من الکافرین ، یامحمد : لوانّ عبداً من عبیدی حتّٰی ینقطع او یصیر کاالشّن اللیالی، ثم اتانی جامداً لولاتکم کاغفرتُ لہ حتّی یقر بولایتکم ۔ یا محمد اتحب ان تراہم ؟ قلت نعم یاربّ ، فقال: التفت عن یمن العرش اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد ! میں نے تمہیں ، علیؑ فاطمۃؑ، حسن ؑ اورحسین ؑ اور حسینی کی نسل سے بقیہ ائمہ کو ایک نور سے خلق کیا ، اور پھر میں نے تمہاری ولایت کو آسمان وزمین والوں کو پیش کی ، تو جس نے قبول کیا وہ میرے نزدیک مؤمنین میں سے ہوگیا، اورجس نے انکار کیا وہ میرے نزدیک کافروں میں سے ہوگیا۔اے محمدؐ! اگر میرے بندوں میں سے کوئی بندہ اتنی عبادت کرے کہ اسے یقین حاصل ہوجائے ، یااس کا بدن عبادت کرتے کرتے پگل جائے پھر وہ میرے پاس اسی حالت میں آئے کہ تمہاری ولایت کا انکار کرنے والاہو، تو بھی میں اس وقت تک اس کی مغفرت نہیں کروں گا جب تک کہ وہ تمہاری ولایت کا اقرار نہ کرلے اے محمدؐ ! کیا تم ان کو دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہاں اے پرودگارا،اس پر اشاد ہوا : اے محمد عرش کے دائیں طرف دیکھو۔ فاالتفت، فاذاً ، انا بعلی وفاطمہ والحسن والحسین وعلی بن الحسین ومحمد بن علی وجعفر بن محمد وموسی بن جعفر وعلی بن موسیٰ ومحمد بن علی وعلی بن محمد والحسن بن علی والمہدی فی ضحضأمن نورقیاماً یصلون وہو فی وسطہم کأنّہ کوکبٌ درّی و قال : یا محمد ! ہؤلاء الحجج وہو التاثر من عترتک ، وعزتی وجلالی انّہم الحجۃ الواجبۃ لأولیائی والمنتقم من اعدائی'' حضور فرماتے ہیں ، کہ جب میں نے عرش کے دائیں طرف دیکھا ، تو وہاں میرے ساتھ ، علی ؑ، فاطمہؑ، حسن ؑ وحسین، علی بن الحسین ، محمد بن علی ، جعفر بن محمد ،موسی بن جعفر ،علی بن موسیٰ ،محمد بن علی، علی بن محمد،حسن بن علی اور المہدی علیہم السلام چمکتے ہوئے نور کی صورت میں کھڑے اورنماز پڑھ رہے تھے اورامام مہدیؑ ان کے درمیان چمکتے ہوئے ستارے کی مانند نظر آرہے تھے ، ارشاد ہوا، اے محمدؐ ! یہ لوگ خدا کی حجتیں ہیں اورمہدیؑ تیری عترت کا انتقام لینے والا ہے اور میرے عزت وجلالت کی قسم یہ وہ حجت خدا ہے جس کی ولایت میرے اولیاء پر واجب ہے اوروہ میرے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے ۔''١؎ اسی روایت کو موفق بن احمد حوارزمی حنفی ، نے '' مقتل الحسین'' اور حافظ قندوزی حنفی ، نے ینابیع المودۃ میں بھی نقل کیا ہے ، اسی مضمون کے اس سے بھی طویل احادیث اہل سنت کے محدثین نے اپنی کتب میں پیغمبر اکرم ؐ سے نقل کیں ہیں ، تفصیل کے خواہشمند رجوع کریں۔٢؎ ١۔فرائد السمطین ، ج ٢، ص ٣٢٠، ینابیع المودۃ ، ص ٤٣٢، مقتل خوارزمی، ص ١١٠۔ ٢۔ منکرین مہدویت کا مدلل جواب ، ص ٣٠٧سے ٣١٨۔ انصاف دیجئے ، اہل سنت کے بزرگ علماء کے اتنے تصریحات کے باوجود اگر کوئی یہ کہیں کہ شیعہ کے عقیدے مہدیؑ کے چودہ سوسالہ علماء اور عصر حاضر کے بریلوی ، دیوبندی ، اہل حدیث علماء میں کوئی تائید نہیں کرتا ، یا یہ کہیں ، یہ سب گھپیں اور افسانے ہیں اوران کا کوئی ماخذ نہیں، آیا ایسے لوگ اسلام کے حامی ہیں ؟؟ اگر یہی صورت حال ہے تو ، ہم اتنا عرض کریں گے ''صم بکم عمیٌ فہم لایرجعون '' ١؎ یہ لوگ بہرے ، گونگے اندھے ہیں پھر اپنی گمراہی سے باز نہیں آتے ۔ '' ختم اللہ علی قلوبہم وعلیٰ سمعہم وعلیٰ ابصارہم غشاوہ'' ٢؎ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر [نظر کرکے] خدا نے تصدیق اور علامت مقرر کردی ہے [ کہ یہ ایمان نہ لائیں گے ] اوران کی آنکھوں پر پردہ [پڑا ہوا ]ہے ''۔ ١۔سورہ بقرہ ، ١٨ ٢۔سورہ بقرہ ،٧ |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (08-01-12) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
|
سند احادیث کی بررسی
کیا حضرت امام مہدیؑ کی ولادت سے متعلق تمام احادیث صحیح ہیں ؟ جواب ١۔جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے ٣؎ کہ : ہمارا یہ دعویٰ ہر گز نہیں کہ ولادت حضرت امام مہدیؑ سے متعلق تمام احادیث صحیح اوران کے تمام راوی ثقہ وعادل ہیں ، لیکن ان میں سے ایک کی تحقیق اوران کے راویوں کے حالات کی چھان بین کی ضرورت نہیں ہے ، کیونکہ احادیث ولادت حضرت مہدیؑ متواترہ ہیں ، چنانچہ بعض محققین نے ان کی تعداد ہزار سے بھی زیادہ بتاتی ہے ۔١؎ لہذا ہرایک پر تحقیق کی ضرورت نہیں اور یہ بات رجالیوں کے درمیان متفق علیہ مسایل میں سے ہے چنانچہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : ٣۔ اسی کتاب کے ص ١٣٨۔ ١۔مجلہ انتظار ، شمارہ ،١،ص ٢١٦، سال اول ، ( بررسی احادیث ولادت مہدی ، اصفر علی اخوانی۔ '' خبر متواتر سے یقین حاصل ہوجاتا ہے اوراس پر عمل کرنے کے سلسلے میں کسی بحث کی ضرورت نہیں رہتی ''٢؎ ٢۔ابن حجر عسقلانی نزہۃ النظر ، ص ١٢۔ ٢۔معظم علماء اہل سنت نے احادیث کو صحیح قرار دیا ہے ، جن کے کچھ نمونے گذشتہ صفحات میں نقل کیے ہیں یہاں تک مولانا فاروقی ، کے استاد، مولانا احسان الہیٰ ظہیر ـ جوکہ اصل عقیدہئ امامت ومہدویتؑ کے منکر ہے اورعقیدہئ مہدی کو موہوم اورلغو قرار دیتے ہیں ـ نے بھی ان احادیث کی صحیح السند ہونے کے اوعتراف پر مجبور ہوئے ہیں ،چنانچہ وہ '' الشیعہ والتشیع '' میں شیعوں پر تہمت وافتراء ، اور لعن وطعن کے بعد لکھتے ہیں : '' ... وروی القوم عن کبار محدثیہم عن ابن بابویہ القمی ؒ وعن شیخ الطائف الطوسیؒ بأساتید معتبرۃ متعمدۃ !! کما ذکرو اخرافات کثیرۃ یجعل للانسان بذکرہا۔''١؎ '' اور شیعوں نے اپنے بزرگ محدثین ابن بابویہ قمی (صدوق) اور شیخ الطائفہ ، طوسی ؒ سے جان بوجھ کر صحیح اور معتبر سلسلہ سند کے ساتھ حضرات امام مہدی ؑ کی ولادت کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں ، جس طرح دوسروں نے خرافاتی باتیں ، جن کو پڑھ کر انسان کو شرم آتی ہے ، کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے ۔!! ١۔ الشیعہ والتشیع ، ص ٢٧٦و ٢٧٧۔ ملاحظہ فرمایا، موصوف نے تصریح کی کہ احادیث ولادت حضرت امام مہدیؑ صحیح السند ہیں ، لیکن شیعہ دشمنی میں یہاں پر بھی عام اسلامی حلقوں کی ذہنوں کو منحرف کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے شیعوں پر یہ الزام لگایا ، کہ ایسا جان بوجھ کر کیا ہے ۔ اب مسلمانوں کے ترجمانی کے دعویدار، بجائے اس کے کہ کوئی علمی اورمنطقی دلایل پیش کرکے شیعہ کتب میں موجود احادیث کو ردّ کرتے ، افتراء اور تہمت پر اتر آتے ہیں ۔ ہم تو صرف یہ کہیں گے اگر مصنف مذکور کی اسی دید ، سے احادیث کو ردّ کرتے جائیں تو کسی بھی مسلمان فرقے کی کتابوں میں موجود حدیثوں کی صحت ثابت نہیں کرستکے ، کیونکہ دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے آپ پر بھی یہی الزام لگائیں گے اس کے علاوہ اگر قارئین مراجعہ کی زحمت کریں اور شیعہ سنی کتب حدیث کا موازنہ کریں ، تو معلوم ہوجائے گا کہ از لحاظ نقل شیعہ محدثیں ، اہل سنت کے محدثیں سے زیادہ دقیق ہیں ، مثال کے طور پر آپ اصول کافی اورصحیح بخاری یا صحیح مسلم ، میں موازنہ کریں تو ہماری مذکورہ بات کی تائید کریں گے ۔ بہر حال ؛ اس کے علاوہ اورکوئی چارہ نہیں کہ علم رجال کی طرف مراجعہ کریں اور علم رجال کے قواعد وضوابط کے تحت کسی حدیث کی صحیح یاضعیف ہونے کو ثابت کریں ، اورہم پہلے یہ عرض کرچکے ہیں کہ علم رجال کے قواعد وضوابط کی روشنی میں دنیا بھر کے مسلمان علماء کے نزدیک حضرت امام مہدیؑ کی ولادت ، غیبت ، ظہور اور حکومت سے متعلق احادیث میں ایک اچھی خاصی تعداد صحیح احادیث کی ہیں ۔ جس سے انکار گویا رسول اللہ ؐ کی رسالت سے انکار کرنا ہے ، اورحضور پاک کی رسالت سے انکار تمام علماء اسلام کے فتوے کے مطابق کفر وگمراہی ہے اور اگر کسی کو یہ شوق ہے تو اس کو پورا کرلیں ، لیکن اتنا ضرور ہے کہ کل کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچیں گے تو کہا جائے گا کہ : '' ہم نے تو تم لوگوں کو عنقریب آنے والے عذاب سے ڈریا جس دن آدمی اپنے ہاتھوں پہلے سے بیجھے ہوئے اعمال کو دیکھے گااور کافر (گمراہ )کہے گا ، کاش میں خاک ہوجاتا ''١؎ ١۔ سورہ ، نباء ، آیت ٤'' انّا انذرناکم عذاباً قریباً یوم ینظر المرء ماقدمت یداہ ویقول الکافر یلیتنی کنتُ تراباً۔'' '' بی شک یہ لوگ آخرت کے حساب کی امید ہی نہیں رکھتے تھے اور ان لوگوں نے ہماری آیتوں کو بری طرح جھٹلایا اور ہم نے ہرچیز کو لکھ کر منضبط کررکھا ہے، تو اب تم مزہ چکھو، ہم تم پر عذاب ہی بڑھاتے جائیں گے بے شک پرہیز کاروں کے لئے بڑی کامیابی ہے ۔٢؎ ٢۔ نباء ، آیت ، ٢٧سے تک ۔'' انّہم کانوا لایرجون حساباً وکذبوا باٰیاٰ تنا کذّاباً ۔ وکلّ شیءٍ احصیناہُ کتاباً فذوقوا فلن نزیدکم الاّ عذاباً'' تاریخی دلیل بارویں امام کا تعارف حسب ونسب م۔ ح ۔ م۔ د۔ ابن حسن ابن علی ابن محمد ابن موسیٰ ابن جعفر ابن محمد بن علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب ٪ ۔ نام:رسول اللہ کے ہمنام، م۔ ح ۔ م۔ د۔١؎ ١۔ اصول کافی ، ج٢، ص ٥٣٦و ٥٣٥، الارشاد ، شیخ مفید ، ج٢، ص ؟؟ وکشف الغمہ ، ج٣، ص ٣٣٩۔ والدہ کا نام۔ : نرجس خاتون ، صیقل یاسوسن ۔٢ لقب مہدی ؑ ، خدا کی محبت ، قائم آل محمد ، صاحب الزمان ، وخلف صالح ۔٣؎ ٢۔ الغیبۃ ، نعمانی ، باب١٣، ص ٣٣٠۔ ٣۔ مذکورہ منابع ملاحظہ فرمائیں ۔ کنیت ۔ ابوالقاسم وابو عبداللہ جائے ولادت ۔ شہر سامرائ، یامدینہ منورہ ولادت کا دن ۔ جمعہ کے دن ، طلوع فجر کے وقت۔ تاریخ۔ شعبان کی پندرہ ولادت کا سال۔٢٥٥ھ ١؎ ١۔ کلینی ، اصول کافی ، ج٢، ص ٥٥٨، باب مولد الصاحب ؛ شیخ مفید ، الارشاد ، ج٢، ص ٣٢٩و کشف الغمہ ، ج٣، ص٣٢١، ص ٣٢٤، ص ٣٣٢؛ صدوق ، کمال الدین ، ج؟؟ ص؟؟ ؛ شیخ طوسی، الغیبۃ ، ص ١٢١۔ امام مہدی ؑ کی ولادت پر ایک نظر حضرت امام مہدیؑ کی ولادت اور زندگی بہت سے ایسے اہم حوادث میں سے ایک ہے کہ جس کی جڑیں مسلمانوں کے دینی عقیدہ میں سے ہیں ۔ حضرت امام مہدیؑ کی ولادت ، طولانی زندگی ، ظہور اورآپ کی امامت ایک سرنوشت ساز مسئلہ ہے یہ ایک ایسی بنیاد ہے جو دیندار لوگوں کی زندگی کو جہت عطا کرتی ہے ۔ بہت سی احادیث پیامبراکرم ؐ اورائمہ معصومین ٪ سے شیعہ سنی ١؎ طرق سے ہم تک پہنچی ہیں جو حضرت امام مہدی ؑ کی بعض خصوصیات کو بیان کرتی ہیں کہ حضرت امام مہدیؑ بارہ ائمہ وخلفاء میں سے ایک ہیں قریش بنی ہاشم اور اولاد فاطمہ ؑ میں سے ایک ہیں امام حسین ؑ کی نویں پشت ہیں، امام حسن عسکری ؑ کے فرزند بلافصل اورمسلمانوں کے بارھویں پیشوا ہیں ۔٢؎ ١۔ملاحظہ فرمائیں: منکرین مہدویت کا مدلل جواب ، ص ١٤٠سے ص ٤١٠۔؟؟؟ ٢۔ اصول کافی ، ج٢، ص ٥٣٤کے بعد الارشاد، ج٣، ص٣٣٢ کے بعد ، کشف الغمہ ، ج٣، ص ٣٢١کے بعد ؛ الغیبہ ، نعمانی، ص٣١٠ کے بعدو...۔ تاریخ لکھنے والوں نے بھی چاہے وہ آپ کی ولادت سے پہلے والے مورخین ہوں یاآپ کی ولادت کے بعد میں آنے والے ہوں ، سب نے آپ کی ولادت پُر برکت کی خبریں دی ہیں ان میں سے بعض نے جنہیں آپ کی دیدار کی توفیق حاصل ہوئی تھی آپ کے شکل وشمایل اور اوصاف کو بھی بیان کیا ہے ۔٣؎ ٣۔ تمام کتب تاریخی رجالی وکلامی اورمجامع روایی شیعہ وبعضی از کتب حدیثی اہل سنت ۔ اتنے شواہد اور قرائن کے باوجود ، کہ ان کے صحیح ہونے میں شک وشبہ کی گنجائش بھی نہیں ، لیکن بعض متعصب اورمغرض لوگوں نے اتنے واضح اور روشن موضوع کو مخدوش بنانے کی ناکام کوشش کی اورابھی بھی کررہے ہیں اور شاید کرتے رہیں گے ۔ قارئیں محترم کی آگاہی اوربحث کو صاف وشفاف اور مستدل بنانے کے لئے بعض نظریات کو پیش کرتے ہوئے ان کے اعتراضات کا مدلل جواب دیں گے ،وہ حضرات جنہوں نے حضرت امام مہدیؑ کی ولادت ، غیبت اورظہور یہاں تک کہ اصل دین امام مہدیؑ کو تعصب اور بدبینی کے عینک سے دیکھنے کی کوشش کی اورکررہیں ہیں ان میں سے بعض کے نام اور نظریات ملاحظہ ہوں ۔ ١۔ابن حزم اندلسی متوفی، ٤٥٦ھ مصنف مذکور اپنی کتاب '' جمہرۃ انساب القریش'' میں لکھتے ہیں : '' حسن عسکری رافضیوں کے آخری امام ہیں اوران کی کوئی اولاد نہ تھی [لیکن] رافضیوں نے دعویٰ کیا کہ امام عسکریؑ کے ہاں '' صیقل '' نامی ایک کنیز تھی جن سے ان کے ہاں ان کی ( حسن عسکری) وفات کے بعد ایک بیٹا پیدا ہوا ، اوران کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے ''١؎ ١۔جمہرۃ انساب القریش الفصل ابن حزم ، ص ١١٢، دانشمندان عامہ وامام مہدی، ص ٢٢۔ اب حزم شاید پہلا شخص ہے کہ جس نے حضرت امام مہدیؑ سے متعلق احادیث میں تشکیک اورآپ کے امام حسن عسکری ؑ کے فرزند ہونے سے انکار کیا ہے اور اس کی یہ انحرافی فکر ایک گروہ کے انحراف اور خصوصاً کچھ ہم عصر مؤلفین کے انحرافات کاسبب بنی اگر جناب ابن حزم نے ایسے افکار کا اظہار کیا ہے تو تعجب کی بات نہیں کیونکہ ابن حزم اپنے ہی ہم مذہبوں کے نزدیک بھی ایک مردود اورغیر قابل اعتبار شخص ہے ۔ چنانچہ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب '' لسان المیزان'' میں '' ابن حزم'' کے نام کے ذیل میں لکھتے ہیں ۔ '' ابن حزم کے ہم عصر تمام علماء ودانشمندان اہل سنت نے ان کی تکفیر کی ہے ''٢؎تو ایسے شخص سے اورکیا توقع کی جاسکتی ہے ۔ ١۔لسان المیزان ، ج١،ص١٣٥۔ ابن کثیر، متوفی،٧٧٢ھ ابن کثیربھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں کہ جو جان بوجھ کر امام مہدیؑ کے ذکر کرنے سے گریز کرتے ہیں اوروہ اپنی مشہور کتاب '' البدایۃ والنہایۃ '' کی گیارہویں جلد میں ٢٥٤ھ کے حوادث کا ذکر کرتے ہوئے فقط دسویں امام کا نام لیتے ہوئے لکھتے ہیں : ''وہ[ امام علی النقیؑ] حسن ابن علی عسکری کے باپ ہیں ''١؎ یہاں تک دوسرے بعض علماء ومورخین کی طرح ٢٦٠ھ کے حوادث کے ضمن میں امام حسن عسکری کا نام تک نہیں لیتے تاکہ نارہے بانس نہ بجھے بانسری یا ایرانیوں کے بقول اصل شعر نگو تادر قافیہ گیر نیافتد''! ١۔ البدایۃ والنہایۃ، ج٦، ص ٩؛'' امّا ابو الحسن علی الہادی فہو ابن محمد الجواد بن علی ... بن علی ابی طالب ، احد الائمہ الاثنیٰ عشریہ وہو والد الحسن بن علی العسکری المنتظر عندالفرقہ الضالۃ الجاہلۃ الکاذبۃ الخاطئہ''۔ ٣۔ ذہبی ، متوفی ٧٤٨ھ ذہبی '' العبر فی اخبار من غیر '' میں لکھتے ہیں : '' محمد حسن [ امام زمانہ] ٢٥٦ ھ یا ٢٥٨ھ میں پیدا ہوئے اوراپنے والد کے بعد دو سال تک زندہ تھے لیکن بعد میں معدوم ہوئے اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کس طرح وفات پائی ''۔٢؎ ٢۔ العبر فی اخبار من غیر، ج٢، ص ٦۔ یہ تھے بعض مؤرخین کے نظریات جن کا حضرت امام مہدیؑ کی ولادت کے بارے میں انہوں نے اظہار کیا ہے اورانہیں چند افراد کے نظریات بعد میں آنے والوں کے انحرافات کا سبب بنا ، یہاں تک کہ کچھ اس عقیدے کو افسانہ قرار دیتے ہیں اورکچھ اصلا انکار کرتے ہیں اورکچھ اس عقیدے کو صرف شیعوں کا عقیدہ قرار دیتے ہوئے مہدویت کی ردّ میں کتابیں لکھ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر مصر کے ''سعد محمد حسن ''نے '' المہدیہ فی الاسلام '' اور اسی طرح مصر کے ایک اور مصنف '' احمد امین '' نے المہدی والمہدویہ فی الاسلام '' کے نام کتابیں لکھ کر عقیدہ مہدویت کو افسانہ قرار دینے کی کوشش کی ہے اورآخری چند سالوں میں انہیں کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے وطن عزیز پاکستان میں بھی کچھ لوگوں نے اپنی کم عملی اورتعصب کی بنیاد پر اس موضوع پر قلم اٹھایا ، مثال کے طور پر جنا ب عبیداللہ سندھی نے '' عقیدہ انتظار مسیح ومہدی '' اورجناب تمنا عماد نے '' انتظار مہدی فن رجال کی روشنی میں '' اور اعظم طارق نے اپنی تقریروں کے علاوہ '' امام مہدی کا آپریشن '' نامی کتاب میں امام مہدیؑ کے مسئلہ کو افسانہ قرار دینے کی کوشش کی ، اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ نام نہاد علماء کی بے غیرتی اور بی دینی اس حد کو پہنچ گئی کہ حضور پاک ؐ اورخاندان وحی، علی واولاد علی ؑ کی اہانت اورتحقیر کے لئے ڈائجسوں میں ، خیالی کہانیوں کے ساتھ ان ہستیوں کے خلاف مضامین نشر کئے جاتے ہیں شہر لاہو سے چھپنے والے ایک ڈائجسٹ ، جس کا نام ''قومی ڈائجسٹ '' ہے اپنی فروری ١٩٨١ء کے ایڈیشن میں ، جس کے مدیر مجیب الرحمن شامی ، ہیں اختر کاشمیری کا ایک مضمون چھاپ دیئے ہیںاورائمہ معصومین ؑ اوراہل بیت پیامبر کے ذاوت مقدسہ پر حملے کرتے ہوئے اورامام زمانہ ؑ کے بارے میں گستاخی کی ہےں۔ اور ستم ظریفی کی بات تو یہ ہے کہ عزیز وطن پاکستان میں کچھ عرصے سے ایک ایسا ماحول پیدا ہوچکا ہے جو کسی کی مرضی میں آئے لکھنا چاہے اورشایع کرتا جائے ، لیکن کوئی پوچھنے والا موجود نہیں ہے البتہ ان گستاخیوں کا اہل بیتؑ کے ماننے والوں کی طرف سے جب عملی طور پر [ نہ عملی میدان میں] کچھ ردّ عمل سامنے آیا تو مخالفین بھی کچھ سنبھل گئے، اور ڈائریکٹ خاندان عصمت وطہارت پر حملے کرنے کے بجائے اپنی تحریروں میں شیعیت پر حملے کے چستر؟؟ میں ، خاندان عصمت وطہارت پر حملے کررہے ہیں ، اور ظاہراً کچھ مہذب طریقے سے اپنی کتابوں میں ائمہ علیہم السلام کے نام لیتے نظر آتے ہیں ، انہی کتابوں میں سے مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کی کتاب '' حضرت امام مہدیؑ '' ہے جو ظاہراً اپنے ہم فکر کاشمیری ، عبیداللہ سندھی ،اعظم طارق کے روش کے برخلاف اصل عقیدہئ مہدویت ؑ کو قبول کرتے ہوئے مکتب تشیع پر امام مہدیؑ کے حوالے سے خوب حملے کرتے ہیں ، مدنظر کتاب میں ہم نے کوشش کی ہے کہ ان کے لئے جوشبہات پیدا ہوئے ہیں ان کو رفع کریں ، چونکہ مذکورہ کتاب اب بھی ہر جگہ دستیاب ہے اور کسی حدتک مہذب طریقے سے شبہات کو پیش کیا گیا ہے لہذا مسلمان نوجوان جو صرف مذکورہ کتاب کو پڑھیں گے ، تو انحراف کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں لہذا ایک مسلمان فرد کی حیثیت سے دینی فریضہ سمجھ کر اپنی استعداد کے مطابق قرآن وسنت ، تاریخ ورجال وعلم تراجم اوراسلامی دانشمندوں کے آثار سے حداکثر استفادہ کرتے ہوئے ، مذکورہ کتاب مین بیان کئے گئے مہم شبہات کے مدلل جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ تمام مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کو انحراف سے بچاتے ہوئے مغرض افراد پر حجت قائم کرسکیں ، تاکہ ''لیھلک من ہلک عن بیّنۃ ویحیٰ من حیّٰ عن بیّنۃ '' کی عملی تفسیر سامنے آسکے ۔ مذکورہ گنے چنے چند افراد کے مقابلے میں اکثر مورخین اہل سنت اورمحدثین کی ایک اچھی خاصی تعداد نے ، جوآنے والی بحثوں میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے ، صریحاً آپ ؑ کے امام حسن عسکری کے فرزند بلا فصل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام مہدیؑ جن کے ظہور کی حضور ؐ نے بشارت دی تھی٢٥٥ھ یا٢٥٦ھ پیدا ہوچکے ہیں اوراسی طرح آپ ؑ کے مہدیؑ موجود ہونے کی تصدیق کی ہے کیونکہ سب نے لکھا ہے کہ آپ ؑ حضرت امام حسن عسکریؑ کے فرزند ہیں اورمذکورہ سن میں پیدا ہوچکے ہیں ، لیکن اکثر نے خاموشی اختیار کیا ہے کہ ولادت کے بعد آپ کہاں چلے گئے ؟ البتہ بعض مصنف مزاج علماء اہل سنت نے شیعہ اثناعشری کی طرح لکھا ہے کہ آپ ؑ غائب ہوگئے ہیں اور جب حکم خدا ہوگا تو ظہور فرمائیں گے ۔ ٤۔حافظ بلاذری ، متوفی٣٣٩ھ ٭ ٭۔توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وہ بلاذری نہیں ہے جنہوں نے '' فتوح البلدان '' لکھی ہے کیونکہ ان کا نام '' احمد بن یحی ہے '' اورمذکورہ بلاذری کانام '' ابو محمد '' ہے جو اہل سنت کے مشہور حفاظ میں سے تھے۔ بزر دانشمند اورمحدث تھے بلاذری نے مکہ مکرمہ سے امام رضا ؑ سے احادیث یادداشت کیا ہے۔ شیخ عبدالعزیز دھلوی جو متعصب علماء اہل سنت میں سے ایک ہیں کہ جنہوں نے شیعوں کے رد میں '' تحفۃ اثنی عشریہ '' لکھی ہے اور '' النزہۃ'' میں اپنے والد شاہ ولی اللہ محدث دھلوی کی کتاب ''مسلسلات ''جو '' الفضل المبین '' کے نام شے مشہور ہیں ایک حدیث '' ابن عقبہ مکی '' کی کتاب '' مسلسلات '' سے سلسلہ سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حافظ ابو محمد بلاذری نے کہا مجھ سے ( م۔ ح ۔ م۔ د) یعنی [ حضرت امام مہدیؑ] فرزند حسن ابن علی ، محبوب؟؟ ،اپنے زمانے کے امام ، انہوں نے اپنے والد گرامی سے اور انہوں نے ان کے جدامجد علی بن موسیٰ الرضاؑ سے انہوں نے ... علی بن ابی طالب سے کہ انہوں نے فرمایا مجھے اولیاء کے سردار حضرت محمد ؐ نے خبر دی کہ انہوں نے فرمایا مجھے فرشتوں کے سردار جبرئیل امین نے خبردی کہ انہوں نے کہا: کہ خدا وند متعال نے فرمایا: '' انّی انا اللہ لاالٰہ الاّ انا ، من اقرّ بالتوحید دخل حصنی ومن دخل حصنی امن من عذابی...'' جیسا کہ ملاحظہ فرمایا : محمد بلازری نے جواہل سنت کے بزرگ علماء میں سے ہیں اس حدیث مین جس کو صاحب '' تحفۃ اثنی عشریہ'' نے جو کہ شیعوں کے سخت ترین مخالفین میں شمار ہوئے ہیں اپنی کتاب میں تصریح کرتے ہیں امام زمان ؑ م۔ ح ۔ م۔ د۔ کوشخصاً دیکھا ہے اورآنحضرت سے حدیث نقل کی ہے ایسا واقعہ حتی علماء شیعہ کے درمیان بھی نہیں ملتا۔ اوراسی حدیث کو پندرہ (١٥) بزرگ علماء اہل سنت نے جناب بلازری سے نقل کرکے ان کے علمی شخصیت کو قبول کرتے ہوئے ان کی توثیق کی ہے وہ پندرہ شخصیات کے نام مندرجہ ؟ذیل ہیں ۔ ٥۔شیخ محمد بن عقبہ، مؤلف کتاب '' مسلسلات '' کہ محمدث عبدالعزیز دھلوی نے ان سے '' تحفہ اثنیٰ عشریہ '' میں نقل کیا ہے۔ ٦۔شیخ حسن بن علی عجمی، کہ اپنے زمانے کے بزرگ علماء میں سے ہیں نے '' ابن عقبہ'' سے روایت کی ہے ۔ ٧۔حافظ جمال الدین باہلی نے شیخ حسن عجمی سے نقل کی ہےں۔ ٨۔محمد حجازی واعظ ، نے جماالدین باہلی سے نقل کی ہیں۔ ٩۔شیخ عبدالوہاب شعرانی ،[ الیواقیت والجواہر] نے بھی بلاذری کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ ١٠۔ جلال الدین شیوطی، جواپنے زمانے کے مجتہد یگانہ ہونے علاوہ محدث ومورخ بھی تھے اور٢٠٠ سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں ، انہوں نے بھی مذکورہ حدیث کو محمد بلاذری سے نقل کیا ہے ۔ ١١۔حافظ ابو نعیم رضوان عقبی، نے بھی اسی حدیث کو اپنے سلسلہ سند کے ساتھ محمد بلاذری سے نقل کیا ہے ۔ ١٢۔شمس محمد جزری ، نے اسی حدیث کو بلاذری سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے '' والعمدۃ علی البلاذری ''۔ ١٣۔ جمال الدین محمد بن جمال ، جو اپنے زمانے کے مشہور علماء میں سے ہیں انہوں نے بھی اسی حدیث کو بلاذری کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ ١٤۔محمد بن مسعود، جو بلاد فارس کے محدثین میں سے ایک ہیں انہوں نے بھی نقل کیا ہے ۔ ١٥۔شیخ اسماعیل بن مظفر شیرازی، جو اپنے زمانہ کے دانشمندوں میں شمار ہوے ہیں انہوں نے بھی نقل کیا ہے ۔ ١٦۔عبد السلام بن ابی ربعی حنفی، جو اپنے زمانے کے مشہور محدثین میں سے تھے انہوں نے بھی مذکورہ حدیث کو بلاذری کے حوالے سے نقل کیاہے ۔ ١٧۔ ابو بکر عبداللہ بن محمد بن شاپور قلانسی، نے بھی نقل کیا ہے ۔ ١٨۔ عبدالعزیز استادوی ، اہل سنت کے بزرگ علماء میں شمار ہوتا ہے نے بھی مذکورہ حدیث کو بلاذری کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ ١٩۔ محمد آدمی ، جو عبدلعزیز استادوی کے استاد اور اپنے زمانے کے امام کہلاتے تھے نے بھی اسی حدیث کو بلاذری سے نقل کیاہے ۔ ٢٠۔ سلیمان بن ابراہیم بن سلیمان ، جو اپنے زمانے کے بہت بڑے دانشمند تھے نے بھی مذکورہ حدیث کو حافظ بلاذری سے روایت کی ہے ۔١؎ ١۔ بحوالہئ ، دانشمندان عامہ ومہدی موعود، علی درانی ، ص ٤٣سے ٤٦۔ خلاصہ سولہ علماء اور دانشمندوں نے ''حدیث سلسلہ الذہب '' کو اپنے اپنے طرق سے حافظ بلاذری سے اورانہوں نے امام مہدی ؑ سے نقل کیا ہے اس سے چند نکات استفادہ ہوتے ہیں : ١۔ پہلا نکتہ یہ کہ حافظ محمد بلاذری کی توثیق ہوتی ہے ، کیونکہ کسی ایک نے بھی اس حدیث یاراوی حدیث حافظ بلاذری کے بارے میں کسی قسم کا خدشہ ظاہر نہیں کیا ہے ۔ ٢۔ دوسرا نکتہ ، امام زمانہ ؑ کا امام حسن عسکری کا فرزند بلافصل ہونا ثابت ہوجاتا ہے ۔ ٣۔ تیسرا نکتہ، اسی فرزند امام حسن عسکری ؑ کے مہدی موعودؑ ہونے کوان تمام محدثین اورحافظ مذکور نے تسلیم کیا ہے۔ ٤۔چھوتا نکتہ یہ کہ یہ سولہ علماء عصر غیبت میں امام زمانہ سے ملاقات کے بھی قابل ہیں کیونکہ جناب بلاذری نے حدیث سلسلۃ الذہب کو مستقیما خود امام زمانہ سے نقل کیا ہے اور ان تمام علماء مذکورہ نے اسی حدیث کو صحیح جانا ہے ۔ ٢١۔ابو بکر خوارزمی ، متوفی ٣٨٣ھ ابو بکر خوارزمی اہل سنت کے مشہور علماء مین سے ہیں جنہوں نے '' مفاتیح العلوم '' میں'' ائمہ کی صفات عقاید امامیہ کی روشنی میں '' کے عنوان سے لکھتے ہیں ''علی مرتضی ، حسن مجتبی ، حسین سید الشہداء ، زین العابدین ... حسن العسکری ، محمد مہدیؑ القائم المنتظر ، شیعوں کے نزدیک وہ نہ فوت ہوئے ہیں اورنہ ہوں گے ، جب تک کہ دنیا کو اسی طرح عدل انصاف سے بھر نہ دیں ، جس طرح وہ ظلم وستم سے بھر چکی ہوگی اوروہ محمد [ مہدی ، فرزند حسن ابن علی ابن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین ابن علی ابن ابی طالب علیہم السلام اجمین ہیں ۔١؎ ١۔ دانشمندان عامہ ومہدی موعود،بحوالہئ مفاتیح الغیب خوارزمی ، ص ٣٢۔ ٢٢۔ فخر رازی ، متوفی ٦٠٦ھ دانشمند ، متفکر ، فیلسوف اوراہل سنت کے مایہ ناز مفسر فخرالدین ابن ضیاء الدین عمر، جو امام الشکیکین کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ، انہوں نے '' الفرق میں شیعوں کے فرقوں کو گنتے ہوئے لکھا ہے : '' تیراہواں فرقہ ، فرقہ منتظران ہے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ امام حسن عسکری ؑ کے بعد منصب امامت ان کے فرزند کا حق ہے جوابھی لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اورایک دن ظہور فرمائیں گے ، ہمارے زمانے مین جو امامیہ ہیں وہ اسی مذہب کے پیروکار ہیں ''اس کے بعد دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں :'' اللّہم صلی علی محمد المصطفیٰؐ وعلی المرتضی وخدیجۃ الکبریٰ وفاطمۃ الزہراء والحسن والزکی ، والحسین الشہید بکربلا علی زین العابدین ومحمد بن علی الباقر وجعفر بن محمد الصادق ، وموسیٰ بن جعفر الکاظم وعلی بن موسیٰ الرضا ومحمد بن علی التقی و علی بن محمد النقی والحسن بن علی ومحمد بن الحسن العسکری الامام القائم المنتظر المہدی۔'' ٢؎ ٢۔الفرق، ص٤١٢۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس مفسر بزرگ نے اپنی تفسیر '' مفاتیح الغیب '' جو تفسیر کبیر کے نام سے جانی جاتی ہے اسی میں شیعوں پر خوب تنقید کی ہے ۔ لیکن '' محقق دوانی '' کے بقول یہ اسی بات کے لئے مانع نہیں بنتا کہ حق وحقیقت ان کے قلم پر جاری ہو، جس طرح ابن حجر ہیثمی مکی شیعوں کے ساتھ عناد اور تعصب رکھنے کے باوجود جگہ جگہ پر اپنی کتابوں میں بھی حق کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہ چیزیں جو تعصب کی بنیاد پر چھپا کر رکھتے تھے کبھی کبھی خود بخود آشکار ہوجاتی ہےں۔ چنانچہ فخر رازی '' مفاتیح الغیب '' یعنی تفسیر کبیر کی پہلی جلد میں '' جہر واخفات بسم اللہ '' کے بارے میں بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ''... مذہب علی بن ابی طالب ؑ یہ ہے کہ وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کو نماز میں بلند آواز میں پڑھتے تھے اور تواتر کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے اور جو بھی علی کے تابع ہوں اوران کو پیشوای دین مانتے ہوئے ان کی پیروی کریں ، تو یقینا انہوں نے حق کے راستے کو پالیا ہے ۔ [کیونکہ] آیا کوئی شخص پیغمبر اسلام ؐ کے اس حدیث کو '' اللّہم دار الحق مع علی '' سے انکار کرسکتا ہے ؟! جناب فخر رازی بحث کو جاری رکھتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں '' عقلی دلائل ہمارے مبنا [ یعنی نماز میں بسم اللہ کو آہستہ پڑھنے ] کے مطابق ہیں اور ہمارا عمل علیؑ کے قول کے مطابق ہے [ یعنی مقام استدلال میں ہم اخفات کو ثابت کرتے ہیں لیکن عملی میدان میں علی بن ابی طالب ؑ کی پیروی کرتے ہوئے ہم نماز میںبلند آواز کے ساتھ ''بسم اللہ الرحمن الرحیم'' کی تلاوت کرتے ہیں !] آگے لکھتے ہیں '' اور جو بھی علی کو امام مانتے ہوئے ان کو اپنے دینی امور میں [ نہ دنیوں امور میں چونکہ بات خلفاء راشدین تک پہنچی ہے ] علی ؑ کو اپنا امام قرار دے گویا اس نے اپنی جان دین اورایمان کو ایک محکم پناہگاہ تک پہنچا دیا ہے ۔١؎ ١۔مفاتیح الغیب '' تفسیر کبیر'' ج١ ، ص ١١و ص ٢٠٩۔ اور امام مہدی کی ولادت اورامام حسن عسکری کے فرزند بلا فصل اور ان کی امامت اور قائم منتظر ہونے کا اعتراف اورائمہ ہدیٰ علیہم السلام وخاندان عصمت پر صلوٰت ان امور میں سے ایک ہے جو حق کبھی کبھی چھپانے کی کوشش کرنے کے باوجود آشکار ہوجاتا ہے ۔ ٢٣۔ یاقوت حموی متوفی ٢٢٦ھ یاقوت حموی کا شمار مشہور جغرفیا دانوں میں ہوتا ہے وہ '' معجم اللبدان '' میں لفظ '' سامراء '' کے ذیل میں لکھتے ہیں: '' وہ مشہور سرداب کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ امام مہدیؑ اسی سرداب سے باہر آئیں گے سامراء کے جامع مسجد میں واقع ہے ۔١؎ ١۔ معجم اللبدان، ج٣، ص ١٩٥،'' وبہا سرداب المعروف فی جامعہا الذی تزعم الشیعہ انّ مہدیہم یخرج منہ...'' ٢٤۔ ابی الثلج بغدادی ، متوفی ٣٢٥ھ ابی الثلج بغدادی امام زمانہ کے نواب خاص کے ہم عصر تھے انہوں نے'' موالید ووفیات الائمہ''امام زمانہ کی ولادت باسعادت کے بارے میں لکھا ہے ۔ ''اخبرنا امام الفاضل العلامہ محب الدین(٢٥) ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمود بن الحسن بنی النجار البغدادی المحدث باالمدرسۃ الشریفۃ المنتصریہ قال: اخبر المشائخ الثلاثہ:٢٦۔ ابو عبداللّہ محمد بن عبدالواحد بن فاخر القرشی وابو ماجد ٢٧۔محمد بن حامدبن عبدالمنعم ابن عزیر واعظ و٢٨۔ابو محمداسعد بن احمد بن حامد الثقفی اجازۃ قالوا جمیعاً اخبرنا ابو منصور٢٩۔ عبدالرحیم محمد بن احمد الترابی الشیرازی، ہمیں امام فاضل علامہ محب الدین ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمود بن الحسن بنی نجار بغدادی جو مدرسہ منتصریہ شریف کے محدث ہیں نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں ہمارے تین اساتید ، ابو عبداللہ محمد بن عبدالواحد ابن فاخر قرشی ، اورماجد کے باب محمد ابن حامد ابن عبدالمنعم ، ابن عزیرواعظ اور محمد کے باب محمد اسعدابن احمد بن حامد ثقفی ، کہ اجازہ نقل حدیث کے ساتھ ان سب نے کہا ، ہمیں منصور کے باب عبدالرحیم اس کو محمد بن ابن احمد شیرازی نے خبردی ، انہوں نے اخبرناابو مسعود ٣٠۔ احمد بن محمد بن علی العمادی النسوی ، بنساء ، قرأتہ علیہ اخبرنا ٣١۔ابو العباس احمد بن ابراہیم علی الکندی بمکۃ سنۃ خمسین وثلاثمأۃ [٣٥٠] اخبرنا ابو بکر ٣٢۔محمداحمد بن احمد بن محمد بن عبداللہ بن اسماعیل المعروف بابن ابی ثلج حدثنی ٣٣۔عتبہ بن سعدبن الکنانہ عن ٣٤۔ احمد بن محمد انصارمانی [یاافریانی] عن٣٥۔ نصر بن علی الجہفمی وُلد الخَلَف سنۃثمان وخمسین ومأتین ومضی ابو محمد ، وللخلف سنتان واربعۃ الشہر ، آخذ عن٣٦۔ الحافظ محمد بن جریر طبری صاحب التاریخ '' نے کہا ہمیں ابو مسعود احمد بن محمد ابن علی عمادی نسوی بنساء نے جوان کے لئے پڑھ کر سنایا تھا ، نے خبردی انہوں نے کہا ہمیں ابو عباس احمد بن ابراہیم کندی نے مکہ مکرمہ میں سن تن سو پچاس (٣٥٠) میں خبردی ، انہوں نے کہا ہمین ابو بکر محمد ابن احمد بن محمدبن عبداللہ ابن اسماعیل جو ابی ثلج کے نام سے مشہور تھے ، نے خبر دی انہوں نے کہا ہم سے عتبہ بن سعد بن کنانہ نے حدیث بیان کی انہوں نے احمد بن محمد فارمانی یافریانی سے انہوں نے جناب بخاری اور مسلم کے استاد نصر بن علی جہفمی سے انہوں نے کہا:'' خلف صالح ٢٥٨ھ میں پیدا ہوئے اور ابو محمد [حسن عسکریؑ] کی وفات کے وقت آپ دو سال چھ مہینے کے تھے اس مطلب کو میں نے تاریخ دان محمد بن جریر طبری سے آخذ کیا ہے ''۔١؎ ١۔ تاریخ الائمہ ، ص ١٥۔ اس نقل کے سند میں جتنے بھی محدثین کا نام لیا گیا ہے سب کے سب اہل سنت کے بزرگ علماء اور محدثین میں سے ہیں کہ سب نے امام زمانہ کے وجود اورآپ کے حضرت امام حسن عسکری کے فرزند ہونے اور آپ کی ولادت کی خبردی ہے ۔ سلسلہ سند میں مذکور تمام راویان ، ازجملہ ثلج طبق رجالین اہل سنت اور خطیب بغدادی ١؎ کے تصریح کے مطابق ثقہ ہیں لہذا اس نقل تاریخی کے بارے میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ ١۔تاریخ بغدادی ، ج١٤، ص٨۔ گرچہ تمام سلسلہ سند کا ذکر کرنا حجم کتاب میں اضافے کا سبب بنا ہے لیکن موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم نقل کرنے پر مجبور ہیں ۔ ٣٧۔زرکلی، خیرالدین متوفی ٣٩٦ھ زرکلی حضرت مہدی کو اعلام میں شمار کرتے ہوئے آپ کی ولادت اورعمر کے بارے میں لکھتے ہیں : '' محمد بن الحسن العسکری (الخالص) بن علی الہادی ابو القاسم آخر الائمہ الاثنٰی عشر عند الامامیہ وہو المعروف عندہم باالمہدی وصاحب الزمان والمنتظر والحجۃ ... وُلد فی سامراء ومات ابوہ ولہ من العمر نحو خمس سنین''۔ محمد فرزند حسن عسکری خالص ابن علی ہادی ابو القاسم ، امامیہ کے نزدیک بارہ اماموں میں سے آخری امام ہیں اور وہ امامیہ کے نزدیک ، مہدی صاحب زمان منتظر اور حجت( خدا) کے نام سے مشہور ہیں ۔ آپ سامراء میں پیدا ہوئے اورآپ کی عمر پانچ سال کی تھی جب آپ کے والد گرامی نے وفات پائی۔٢؎ ٢۔قاموس الاعلام ، ج٦، ص٨٠۔ حاشیہ ؛ ان کی یہ عبارت ایک ایسے انسان کے بارے میں ہے جس کی صرف پانچ سال عمر ہو، اور اسے اعلام اور بزرگان اسلام میں شمار کرنے کا مطلب اس کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے کہ آپ زمانے کے امام ہیں ، ورنہ پانچ سال کی عمر میں بزرگان دین کے ساتھ آپ کا ذکر معنی نہیں رکھتا۔ کاش جناب زرکلی تھوڑی سی زحمت کرکے احادیث کی طرف مراجعہ کرتے اور ان حدیثوں میں دقت کرتے تو دیکھتے امام مہدیؑ کی امامت صرف شیعوں کے نزدیک ہی ثابت نہیں بلکہ اہل سنت کے ہاں بھی آپ کا بارہویں امام ہونا ثابت ہیں ۔١؎ ١۔ اتفاق در مہدی موعود ، علی اکبر قرشی ، ص ٨٤۔ بہر حال مصنف موصوف کے نزدیک ولادت حضرت مہدی ؑ واضحات میں سے تھی جیسا کہ ان کی عبارت سے عیاں ہے۔ ٣٨۔ کما ل الدین محمد بن طلحہ شافعی ، متوفی ٦٥٠ھ کما ل الدین محمد بن طلحہ شافعی اپنے زمانے کے نامور فقیہ اور محدثیں میں ان کا شمار ہوتا ہے اوراس دور کے مذہب شافعی کے رئیش تھے نے '' مطالب السؤال فی مناقب آل الرسول '' میں بارہ باب کھولے ہیں ہر باب میں ایک امام کی ولادت حسب ونسب اور فضائل بیان کئے ہیں گیارہویں باب میں وہ لکھتے ہیں : ''ابو محمد [مہدی] ٢٣١ھ میں متولد ہوئے خدا وند متعال نے جو صفت اوربزرگی اور خصوصیت ان کو عطا کی ہے وہ دائمی ہے اوروہ یہ ہے کہ خداوند متعال نے محمد مہدیؑ کو ان ( امام عسکری ) کی نسل میں قرار دیا ہے اور وہ انہی کے فرزند ہیں'' بارہویں باب میں لکھتے ہیں : ''ابوالقاسم محمد [ مہدیؑ] فرزند حسن خالص فرزند علی متوکل، فرزند محمد قانع فرزند علی رضا ، فرزند موسیٰ کاظم ؑ ، فرزند جعفر الصادق ، فرزند محمد باقر ، فرزند علی زین العابدین فرزند حسین زکی فرزند علی مرتضی امیر المؤمنین ، فرزند ابی طالب ، مہدی ، حجت خدا، خلف صالح ، منتظر علیہم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، کے بارے میں ہے ۔١؎ ١۔مطالب السؤال ، بحوالہئ دانشمندان عام و مہدی موعود، ص ٧٠۔ ٣٩۔ ابن عقبہ ، متوفی ٨٢٨ھ جمال الدین احمد بن علی حسینی جو ابن عقبہ کے نا م سے مشہور ہیں '' عمدۃ الطالب فی انساب ابی طالب '' میں لکھتے ہیں: ''واما علی الہادی فلقب باالعسکری بمقام سر من رأی وکانت سمی العسکر ... واعقب من رجلین ہما الامام الہمام ابو محمد الحسن العسکری وکان من الزہد والعلم علی امر عظیم وہو والد الامام محمد المہدی ثانی عشر الائمۃ عندالامامیہ ، وہو القائم المنتظر عندہم ، من ام ولد اسمہا نرجس''۔ یعنی '' امام علی ہادی کہ ان کا لقب عسکری ہے چوں کہ سامراء کو عسکر کہا جاتا ہے اورآپ اسی میں زندگی بسر کرتے تھے ... اور ان کی نسل میں دو افراد ہیں ، ان میں سے ایک امام ہمام ابو محمد حسن عسکری ہیں جو پرہیزگاری اور علم میں بہت بڑا مقام رکھتے تھے اور وہ شیعوں کے بارہویں امام حضرت امام محمد مہدیؑ جوان کے نزدیک قائم اور منتظر ہیں ، کے باب ہیں ، آپ ایک کنیز جس کا نام نزجس ہے ان کے فرزند ہیں''۔١؎ ١۔عمدۃ الطالب ، فی انساب ابی طالب ، فصل عقب موسیٰ بن جعفر، ص ٢٨٨۔ ٣٩۔ابو الفداء ، متوفی ٧٣٢ھ ابو الفداء عماد الدین شامی '' المختصر فی تاریخ البشر'' میں ٢٥٤ھ کے حوادث کے ضمن میں لکھتے ہیں : '' حسن عسکری امامیہ اثنی عشر کے گیارہویں امام ہیں اور وہ حسن فرزند علی زکی ... حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین ، قائم منتظر اور صاحب سرداب کے والد گرامی ہیں و محمد [امام زمانہ] منتظر جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا امامیہ کے عقیدے کے مطابق بارہویں امام ہیں ان کو قائم ، مہدی ، اورحجت خدا بھی کہتے ہیں ، منتظر ٢٥٥ھ میں پیدا ہوئے ، شیعہ کہتے ہیں٭وہ سامرہ میں اپنے باپ کے تہ خانہ مین چلے گئے اور ان کی ماں انہیں دیکھتیں رہیں ، لیکن وہ دوبارہ پلٹ کر نہیں آئے ۔''١؎ ٭۔ بحث مسکن امام مہدی میں ملاحظہ فرمائیں گے ، یہ صرف شیعوں کی طرف نسبت دی گئی ؛ اہل سنت کہتے ہیں کہ وہ سرداب میں ہیں نہ کہ شیعہ۔ ١۔ المختصر فی اخبار البشر ، معروف بہ( تاریخ ابی الفدائ)، ج٢، ص ٤٥، باب فصل خلع متعین عباسی ، وباب معتمد عباسی ، ص ٤٩ضمن حوادث ٢٦٠ھ۔ ٤٠۔بزرگ عالم سنی حافظ ابو المظفر یوسف بن قزاد غلی بن عبداللہ حنفی ، معروف بہ سبط ابن جوزی متوفی ٦٥٤ھ '' تذکرۃ الخواص '' میں لکھتے ہیں : فصلٌ فی ذکر الحجۃ المہدی ہو محمد بن الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی الرضا بن جعفر بن محمد بن علی بن ا لحسین بن علی بن ابی طالب ، وکنیتہ ابو عبداللہ وابوالقاسم وہو الخلف الحجۃ ، صاحب الزمان القائم المنتظر، والتالی ، وہو آخرالائمہ، انبائنا عبدالعزیز بن محمود البزاز عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ : یخرج فی آخرالزمان رجل من ولدی اسمہ کاسمی وکنیتہ ککنیتی یملاء الارض قسطاً وعدلاً حضرت مہدی کے حجت خدا ہونے کے بارے میں فصل : حضرت مہدی کا نام محمد ہے اوران کا سلسلہ نسب یوں ہے ، محمد ابن حسن ابن علی ، ابن محمد، ابن علی ابن موسیٰ الرضا، ابن جعفر، ابن محمد ، ابن علی ابن حسین ، ابن علی بن ابی طالب ؑ ، ان کی کنیت ابو عبداللہ اور ابو القاسم ہے وہ جانشین رسول ، حجت خدا امام زمانہ ، وہ جن کے دم سے دنیا قائم ہے ، وہ جن کاانتظار کیا جائے اور وہ جو سب سے بعد میں آنے والے آخری امام قرار پائے عبدالعزیز ابن بزاز نے ابن عمر ؓ کے ذریعے سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: کہ آخری زمانے میں میری اولاد میں سے میرا ہم نام ایک شخص ظہور کرے گا،اس کی کنیت میر کنیت جیسی ہوگی ، وہ زمین کو عدل وانصاف سے کما ملئت ظلماً وجوراً اس طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔١؎ ١۔تذکرۃ الخواص، باب الثانی عشر، فی ذکر الحجۃ المہدی، ص ٣٢٥۔ یہ عالم بزرگ ، مذہب حنفیہ کے مشہور علماء میں سے ایک ہیں ، اور یہ بزرگ نہ صرف حضرت مہدی کے حسب ونسب وکنیت بیان کررہے ہیں بلکہ صریحاً آپ ؑ اور دوسرے ائمہ ؑ کی امامت اوحجت خدا ہونے کے بھی قایل ہیں ، اور آپؑ کے حجت خدا ہونے کے باے میں نہ صرف تصریح کرتے ہیں بلکہ رسول اللہ ؐ کی احادیث سے استدلال بھی کرتے ہیں ۔ سبحان اللہ بزرگان وعلماء اہل سنت کے پاس مسئلہ مہدیؑ اوران کی امامت وخلافت کا کتنا واضح تصور تھا ، لہذا ذرا سے بھی شک وشبہ کے بغیر اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ۔ ٤١۔ ابو الحسن علی بن الحسین مسعودی ، متوفی ٣٤٦ھ مروج الذہب میں لکھتے ہیں : وفی سنۃ ستین ومأتین قبض ابو محمد الحسن بن علی بن محمد بن علی بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن ا لحسین بن علی بن ابی طالب فی خلافتہ المعتمد ، وہو ابن تسع عشر وعشرین سنۃ وہو ابو المہدی النتظر ... '' اور ٢٦٠ھ میں ، ابو محمد حسن ابن علی ، ابن محمد، ابن علی ابن موسیٰ ، ابن جعفر، ابن محمد ، ابن علی ابن حسین ، ابن علی بن ابی طالب ؑ ،نے معتمد کے دور خلافت میں وفات پائی ، اس وقت آپ کی عمر انتیس (٢٩) سال تھی ، اورآپ مہدی منتظر ؑ کے والد ہے ۔٢؎ ٢۔ مروج الذہب ، ج٢، باب احوال معتمد عباسی ، ٤٨٤۔ ٤٢۔عز الدین ابن اثیر متوفی ، ٦٣٠ھ ، '' التاریخ الکامل '' میں حوداث سال ٢٦٠ھ کے ضمن میں لکھتے ہیں : وفیہا توفی ابو محمد العلوی العسکری احدالأئمۃ الاثنی عشر علی مذہب الامامیہ وہو والد محمد الذین یعتقدونہ سنۃ اثنتین وثلاثین ومأتین اور ٢٦٠ھ میں محمد عسکری علوی نے وفات پائی ، وہ شیعہ اثنی عشری کے ائمہ ؑ [مہدیؑ] کے والد گرامی ہیں ، جو شیعہ عقاید کے مطابق منتظر اور صاحب سرداب سامراء ہیں ۔ اور آپ کی تاریخ ولادت ٢٣٢ھ ہے ۔٢؎ ٢۔ التاریخ الکامل، ج٥، باب حوادث سال ٢٦٠ھ ، ص ٣٧٣۔ |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-01-12) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
مقبول
|
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا: یہ مورخ مشہور آپ کی ولادت کی تصریح کرتا ہے اورآپ ؑ اورآپ کے والد گرامی امام حسن عسکری ؑ کو شیعہ اثناعشری کے بارہ اماموں میں شمار کرتا ہے یہاں ایک نکتہ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ قارئین محترم اگر اس سے پہلے والی محبت ، یعنی '' بحث اوصاف ومشخصات حضرت مہدی ؑ '' کی طرف مراجعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ آپ کی امامت خلافت اور منتظر ہونے کے بارے میں علماء اہل سنت کا بھی یہی عقیدہ ہے ۔
٤٣۔حافظ ابن خشاب ، ابی عبداللہ بن نصر بغدادی متوفی٥٦٧ھ '' تاریخ موالید الائمہ ووفیاتہم '' میں لکھتے ہیں : فی ذکر خلف الصالح عن الرضا قال: الخلف الصالح من ولد ابی محمد الحسن بن علی وہو صاحب الزمان '' حضرت مہدی موعود ؑ کے بارے میں حضرت رضا سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: مہدی موعودؑ حسن بن علی عسکری کے فرزند ہیں اور وہ امام زمانہ اور مہدی ؑ ہیں ۔١؎ ١۔ تاریخ موالید الائمہ ووفیاتہم، ص ٤٣، ینابیع المودۃ ، باب ٩٤، ص ٤٩١، بحوالہئ'' غایۃ المرام '' مؤلفہ ابن خشاب بغدادی۔ ٤٤۔ ابی الفرج عبدالرحمن ابن جوزی حنفی متوفی ٥٩٧ھ '' تلبیس ابلیس '' میں لکھتے ہیں : قالوا الائمہ فی موسی بن جعفر ثم فی ابنہ ... ثم الی حسن بن محمد العسکری ، ثم الی ابنہ محمد وہ الامام الثانی عشر المنتظر ۔ امامیہ نے موسیٰ بن جعفر کے بارے میں کہا ہے کہ وہ امام ہیں ... اور اس کے بعد حسن بن محمد عسکری امام ہیں ، ان کے بعد ان کے فرزند محمد ، اور وہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق بارہویں امام ہیں کہ جس کا انتظار کیا جائے ۔١؎ ١۔تلبیس ابلیس ، فصل ذکر تلبیس علی الرافضہ، ص ١١٨و١١٩۔ اگرچہ اس عالم نے ائمہ کی امامت کو رد کیا ہے لیکن تصریح کرتا ہے کہ امام عسکری ؑ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد [ مہدیؑ] ہے ۔ ٤٥۔ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر ہیثمی شافعی متوفی ٩٧٤ھ '' صواعق محرقہ '' میں لکھتے ہیں: ''مات بسرمن رایٰ ودفن عندابیہ وعمۃ وعمرہ ثمانیۃ وعشرون سنہ ویقال انہ سمَّ ایضاً ، ولم یخلف غیر ولدہ ابی القاسم محمد الحجۃ ، وعمرہ عند وفات ابیہ خمس سنین لکن اتاہ اللہ فیہا الحکمۃ ، وسمی القائم المنتظر ...'' آپ [امام عسکری ؑ] نے سرمن رای میں (سامراء )ں وفات پائی اور اپنے والد اور پھوپھی کے پاس دفن ہوئے آپ اٹھائیس ٢٨ سال کے تھے اور کہا جاتا ہے کہ آپ کو بھی دوسرے ائمہ ؑ کی طرح زہر دیا گیا آپ نے ابوالقاسم ، کہ جنہیں محمد[مہدیؑ] اورحجت ( خدا) کہا جاتا ہے ان کے علاوہ کوئی اولاد نہیں چھوڑدی اس بچے کی عمر آپ ؑ کے انتقال کےوقت پانچ سال تھی ، لیکن آپ کو بچپنے میں ہی خدا وند متعال نے حکمت عطا کی اور آپ کو قائم منتظر کہتے ہیں ۔١؎ ١۔ الصواعق المحرقہ ، الباب ثانی عشر،فصل الثالث، ص ١٦٥۔ ٤٦۔محدث انوالدین علی بن محمد بن صباغ مالکی ، متوفی ٨٥٥ھ '' الفصول المہمہ ...'' کے آخری فصل میں لکھتے ہیں : '' و کانت مدۃ امامتہ سنتین و خلّف ابو محمد الحسن من الولد ابنہ الحجۃ القائم المنتظر لدولۃ الحق ، وکان قد اخفیٰ مولدہ وستر امرہ لعصوبۃ الوقت وخوف السلطان وتطلبہ الشیعۃ والقبض علیہم...''١؎ مدت امامت امام حسن عسکری ؑ دوسال تھی انہوں نے اپنے بعد اپنے بیٹے حجت[خدا] اور قائم ومنتظر کو دولت حق کے لئے چھوڑا اور ان کے والد نے بادشاہ وقت کے خوف سے ان کی ولادت مخفی رکھا، جو کہ شیعوں کا تعاقب اور ان لوگوںکو گرفتار کرتا تھا ۔ ١۔ الفصول المہمہ، فصل حادی والتسعون (٩١)۔ اور اسی کتاب کی بارہویں فصل میں لکھتے ہیں : ولد ابوالقاسم محمد الحجۃ بن الحسن الخالص سرّمن رایٰ لیلۃ نصف من شعبان سنۃ خمس وخمسین ومأتین للھجرہ ، وامّا نسبہ فہو ابوالقاسم محمد الحجۃ بن الحسن الخالص بن علی الہادی ابن۔۔۔ بن علی بن ابی طالب ۔ ابوالقاسم محمد [مہدی] حجت [خدا] فرزند حسن خالص ؑ ٢٥٥ھ پندرہ شعبان کی نصف شب کو سرمن رای [ سامرائ] میں پیدا ہوئے آپ کا سلسلہ نسب ابوالقاسم محمد [مہدی] حجت ( خدا) حسن خالص ابن علی ہادی ابن... حسین بن علی ابن ابی طالب ہیں ۔١؎ ١۔الفصول المہمہ، فصل الثانی عشر،ص٩٠۔ اس محدث بزرگ نے بھی آپ ؑ کی ولادت کی تصریح کی ہے اورہم آپ کے بارویں امام ہونے کو بیان فرمایا ہے ۔ ٤٧۔ حافظ ابو عبداللہ محمد بن یوسف شافعی متوفی ٦٥٨ھ اپنی کتاب کفایۃ الطالب '' کے فصل ، فرعٌ فی ذکر الائمہ '' کے عنوان کے ضمن میں لکھتے ہیں : '' وقبض ( العسکری) یوم الجمعۃ لِثَمانِ خلون من ربیع الاول سنۃ ستین ومأتین ، ولہ یومئذٍ ثمان وعشرین سنہ، بسرمن رأی وخلف ابنہ ، وہو الام المنتظر ، نَخْتِمُ الکتاب ونردہ منفرداً۔١؎ امام عسکری نے روز جمعہ آٹھ ٨ ربیع الاول ٢٦٠ھ میں سرمن رای (سامرائ) میں وفات پائی آپ نے اپنے بعد اپنے بیٹے کو چھوڑا ، جو کہ امام منتظر ہیں ہم اپنی کتاب ''کفایۃ الطالب '' کو یہیں پر ختم کرتے ہیں ۔ور امام منتظر کے بارے میں بحث کو ایک جداگانہ کتاب میں بیان کریں گے ۔ ١۔کفایۃ الطالب، فصل فرعٌفی ذکر الائمۃ، باب ٨ ، ص ٤٥٨۔ سبحان اللہ خدایا ان علماء کے نزدیک مہدیؑ کا مسئلہ کتنا واضح اور روشن تھا کہ کسی شک وشبہ اور تردید کے بغیر کہ رہے ہیں'' وہو الام المنتظر'' نہ صرف یہی کہا ہے بلکہ اپنے وعدے کے مطابق آپ ؑ کے بارے میں '' البیان فی اخبار صاحب الزمان '' جیسی عظیم کتاب بھی لکھی ۔ لیکن افسوس ان کے بعد آنے والے کچھ مصنفین پر، اورافسوس ہے بنی امیہ اوربنی عباس کے ظالم حکمرانوں پر جنہوں نے ان حقائق اور عقاید واحکام اسلام کے بیان بیان اور ترویج سے علماء اسلام کو منع کیا، اور علماء اسلام نے ان مسائل کو صریحاً لوگوں تک نہ پہنچا سکے ، لیکن اتنی سختی کے باوجود علماء اسلام نے نے کسی نہ کسی طریقے سے ، ولو مجمل ہی سہی ان حقائق کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ ٤٨۔حافظ شمس الدین محمد بن احمد ذہبی شافعی متوفی ٧٤٨ھ ؛'' العبر فی اخبارمن غبر '' میں لکھتے ہیں : '' وفیہا ( ای فی ٢٦٥ھ ولد محمدبن الحسن بن علی محمد االجواد بن علی الرّضا بن موسیٰ الکاظم بن جعفر الصادق العلوی الحسنی، ابوالقاسم ، الذی تلقبہ الرافضہ الخلف الحجۃ وتلقبہ المہدی المنتظر وتلقبہ بصاحب الزمان وہو خاتم الاثنیٰ عشر۔'' اور ٢٦٥ھ میں محمد بن حسن ابن علی ہادی ابن محمد جواد ابن علی رضا بن موسیٰ کاظم ابن جعفر صادق علوی حسنی، ابوالقاسم پیدا ہوئے ، جنہیں شیعہ خلف صالح، حجت خدا مہدی منتظر اور صاحب الزمان کہتے ہیں اوروہ بارہ ائمہ میں سے آخری امام ہیں۔١؎ ١۔العبر فی اخبار من عبر ، وقایع ٢٦٥ھ و٢٦٠ھ۔ ٤٩۔ حافظ محمد بن محمود بخاری ، حنفی ، متوفی ٨٢٢ھ ، جوخواجہ پارسا کے نام سے معروف ہیں'' کتاب فصل الخطاب '' میں لکھتے ہیں: ومن أئمۃ اہل البیت الطیبین ابو محمد الحسن العسکری...ولم یخلف ولداً غیر ابی القاسم محمد المنتظر المہدی ، المسمیٰ باالقائم والحجۃ والمہدی وصاحب الزمان وخاتم الائمۃ الاثنیٰ عشر عند الامامیۃ ، وکان مولد المنتظر لیلۃ النصف من شعبان سنۃ خمس وخمسین ومأتین ، امہ ام ولد یقال لہا نزجس توفی ابوہ وہو ابن خمس سنین فااختفیٰ الی الآن و '' ائمہ اہل بیت ؑ میں سے ابو محمد حسن عسکری ہیں ... آپ نے ابو القاسم محمد منتظر مہدیؑ جسے ، قائم ، حجت خدا، مہدی ، صاحب الزمان ، جو شیعہ قوم کے نزدیک آخری امام ہیں ، کے علاوہ کوئی اولاد نہیں چھوڑی آپ کی ولادت پندرہ شعبان کی نصف شب ٢٥٥ھ کو ہوئی ، آپ کی والدہ گرامی ایک کنیز تھیں ، جنہیں نرجس کہا جاتا ہے ، جب آپ ؑ پانچ سال کے تھے تو آپؑ کے والد گرامی نے وافات پائی ، اور اس وقت سے لے کر ابھی تک آپ مخفی ہیں، اور ابو محمد العسکری ولدہ المنتظر رضی اللہ عنہما معلوم عند خاصۃ اصحابہ وثات اہلہ...''١؎ اور امام ابو محمد حسن عسکری ، جن کا بیٹا محمد منتظر ہے ، رضی اللہ تعالی عنہما ، علماء علم حدیث اور اصحاب ثقات کے نزدیک معلوم ومشخص ہے ...'' ١۔ بحوالہئ ینا بیع المودۃ ، ص ٣٨٦و ٣٨٧۔ ٤٩۔ عبدالحق محدث دہلوی ''وہو الامام من لدن مات ابو الی یوم الیامۃ وعیسیٰ یصلی خلفہ ویصدقہ علی دعواہ ویدعوالیٰ ملتہ التی ہو علیہا والنبی ، صاحب المکۃ'' ٥٠۔ مذکورہ عبارت کو بعینہ محدث ابو المجد عبدالحق دہلوی نے '' رسالۃ مناقب الائمہ اہل بیت ؑ میں بھی لکھا ہے ، اورمزید لکھتے ہیں : وہو الام من لدن مات... الخ اور وہ امام ہیں ، اس وقت سے جب سے ان کے والد نے وفات پائی ، تاروز قیامت ۔ اورحضرت عیسیٰ ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اوران کے دعویٰ کی تصدیق کریں گے ، اوران کی ، اور اس کے جد بزرگوار رسول اللہ ؐ کی ملت کی طرف دعوت دیں گے '' ١؎ ١۔ بحوالہ الصراط السوی فی احوال المہدی، ص ٣٦٧۔ ٥١۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حنفی '' العقیدۃ الحسنہ '' میں لکھتے ہیں : ''ائمہ اہل بیتؑ میں سب سے اول حضرت مولیٰ علی ؑ ہیں پھر حضرت امام حسن پھر حضرت امام حسین پھر حضرت امام زین العابدین ، پھر حضرت امام محمد باقر، پھر حضرت امام جعفر صادق ، پھر حضرت امام موسی کاظم ، پھر امام علی موسیٰ رضا، پھر حضرت مام محمد تقی ، پھر حضرت امام علی النقی ، پھر حضرت امام حسن عسکری ، رضی اللہ تعالیٰ عنہم، اور پھر حضرت امام مہدی ÷ جو قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے''۔٢؎ ٢۔ العقیدۃ الحسنۃ ، ص ٣٠٦، شارح مفتی محمد خان برکاتی حنفی ۔ ٥٢۔ابن الارزق عبداللہ بن محمد فارقی متوفی ٥٧٧ھ'' میافارقین '' میں امام مہدی ؑ کی ولادت کے بارے میں لکھتے ہیں : '' ان الحجۃ المذکور ولد تاسع ربیع الاول سنۃ ثمان وخمسین وماتین ، وقیل فی ثامن شعبان سنۃ ست وخمسین ومأتین ، وہو الاصح'' '' حجت مذکورہ ( حضرت مہدی ) نو ربیع الاول ٢٥٨ھ کو پیدا ہوئے اوربعض نے کہا ہے کہ آتھ شعبان ٢٥٦ھ میں پیدا ہوئے ، اور یہی صحیح ترین قول ہے ''١؎ ١۔بحوالہئ ائمہ اثناعشر ، فصل ١٢، ص ١٣٠، ابن طولون ، حنفی واتفاق در مہدی موعود ، ص ١٠٦وص١٠٧۔ ٥٣ شیخ الاسلام محمد ابن ابراہیم جوینی حموینی الشافعی ابوصلتہروی سے ناقل ہے کہ: '' عن دعبل الخزاعی ، عن الرضال قال: یادعبل ، الامام بعدی محمد ابنی ، وبعد محمد ابنہ علی ، وبعد علی ابنہ الحسن وبعد الحسن ابنہ الحجۃ القائم المنتظر فی غیبتہ المطاع فی ظہورہ ولولم یبق من الدنیا الّا یوم لطول اللہ ذالک الیوم حتّی یخرج فیملائہا عدلاً کما ملئت جوراً ۔'' '' دعبل نے کہا، کہ حضرت رضا نے فرمایا: اے دعبل : میرے بعد میرا بیٹا محمد امام ہیں ، اس کے بعد اس کے فرزند علی ، اورعلی کے بعد ان کے نورعین حسن ، اورحسن کے بعد ان کے لخت جگر، حجت خدا ، قائم ( آل محمد ) ومنتظر ہے اور زمان ظہور میں ان کی اطاعت کی جائے گی ، اس دنیا کی عمر اگر چہ ایک دن ہی کیوں نہ رہ گئی ہو، پھر بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو طولانی کردے گا ، یہاں تک کہ حضرت مہدی خروج کریں گے ، پس وہ دنیا کو اسی طرح عدل سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہوگی ۔'' ٥٤۔ابو البرکات ،نعمان ابن محمود حنفی آلوسی ، متوفی ١٣١٧'' غایۃ الواعظ وقبس المتعظو...'' میں لکھتے ہیں : '' المشہور من مذاہبہم مذہب الامامیہ الاثنی عشریہ ، ان المہدی ہو محمد بن الحسن العسکری بن علی الہادی بن محمد الجواد ابن علی الرضا ابن موسیٰ ابن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہم ، ویعرف عندہم باالحجۃ والمنتظر والقائم، وہو الذی غاب فیالسرداب وامّہ منتظرہ'' شیعہ مذاہب میں سے مشہور مذہب ، مذہب امامیہ اثنیٰ عشریہ ہے ومہدی ، وہ محمد بن حسن عسکری ابن علی ہادی ابن محمد جواد ابن علی رضا ، ابن موسی کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں اوروہ امامیہ اثنیٰ عشریہ کے نزدیک ، حجت خدا، منتظر اور قائم ( آل محمد) کے نام سے جانے جاتے ہیں ، اور وہ وہی ہیں ، جو بچبنے میں میں ، سامراء کے مقام پر اپنے والد کے گھر ے تہہ خانہ میں غائب گئے ، اوران کی ماں ( غائب ہوتے ہوئے ) دیکھ رہی تھی اوریہ واقعہ ٢٩٥ھ میں پیش آیا''١؎ ١۔ غایۃ الواعظ وقبس المتعظ و... ج١، ص ٧٨۔ ٥٥۔فرید وجدی '' دائرۃ المعارف'' میں کلمہ '' العسکری'' کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ: '' العسکری ، ہو ابو القاسم محمد بن الحسن العسکری بن علی الہادی بن محمد الجواد بن علی الرضا بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن الحسین بن علی بن ابی طالب ، ہو ثانی عشر الائمہ الاثنی عشر فی اعتقاد الامامیہ ، المعروف باالحجۃ وہو الذی تزعم الشیعہ انہ المنتظر '' عسکری ، منتظر کے باے ہیں ، اور ان کا سلسلہ ئ نسب یہ ہے ، ابو محمد، حسن ابن علی ، ابن محمد ابن علی ابن موسیٰ الرضا، ابن جعفر الصادق ابن محمد باقر ، ابن علی زین العابدین ، ابن حسین ، ابن علی ، ابن ابی طالب ، اوروہ شیعہ امامیہ کے عقیدے کے مطابق بارہ ائمہ میں سے ایک ہیں اور وہ منتظر (مہدی)صاحب سرداب کے باپ ہیں ۔''١؎ ١۔ دائرۃ المعارف ، ج٦، ص ٤٣٨، باب العین ذیل کلمہ ( العسکری) نصیر بن علی جہفمی ، جوامام بخاری ومسلم کے استاد تھے ، '' تاریخ الموالید الائمہ '' میں امام حسن عسکری کی اولاد کا ذکر کیا ہے اورایک روایت خود امام حسن عسکری سے نقل کی ہے ، اورحضرت امام مہدیؑ کی ولادت کے واقعہ کو حکیمہ خاتون سے نقل کرنے کے بعد امام مہدی ؑ کے حالات لکھتے ہیں ۔٢؎ ١۔ بحوالہ الصراط السوی فی احوال المہدی، ص ٣٦٨۔ ٥٧۔ فضل بن روز بہان ، حنفی مذہب کے معروف عالم '' شرح شمایل الترمذی '' میں اولاد فاطمہ ؑ اورائمہ کی تعریف وتوصیف اوران کے فضایل ومناقب کا ذکر کرنے کے بعد جملہ اہل بیتؑ پر سلام منظوم میں فرماتے ہیں : سـلام علی القـائــم المنتـظر ابی القاسم الوقوم نور الہدیٰ سیطلع کا الشمس فی غاسق ینجــیہ مـن سیـفـہ المـنتقیٰ تریٰ علاء الارض من عـدلہ کــما ملئـت جـوراہـل الہـدیٰ ســلام علیـــہ و آبــائـــہ و انـصــارہ مـا قـدوم السـمــائ٣؎ ١۔ بحوالہ الصراط السوی فی احوال المہدی، ص٣٦٩و ص ٣٧٠۔ باالکل واضح ہے کہ محدث موصوف نے باوجود اپنے مذہب کے سخت ، اقرار کیا ہے کہ مہدی موعود جو زمین کو عدل وانصاف سے پر کریں گے ، یہی ابو القاسم محمد ابن حسن عسکری ، اولاد فاطمہ اورائمہ اہل بیت علیہم السلام میں سے بارویں امام ہیں ۔٤؎ ١۔ بحوالہ الصراط السوی فی احوال المہدی،ص ٣٧٠۔ ٥٨۔ ناصر باللہ ، خلیفہ عباسی بھی جود اورغیبت امام محمد بن الحسن العسکری مہدی ؑ کا قائل تھا اور اسی نے سرداب سامراء پر گنبد بنوایا ہے اور کتبے میں حضرت قائم باالحق امام مہدی ؑ کا نام مبارک زمرہ ائمہ اہل بیتؑ میں ذکر کیا ہے ، جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانے کے کل یا اکثر علماء اسلام ولادت باسعادت محمد بن حسن عسکری مہدیؑ کے قایل اوراس پر اتفاق رکھتے تھے ، اورخلیفہ موصوف خود مسلک علماء ومحدثین میں داخل ہے اوربعض محدثین نے اس سے روایات نقل کی ہیں۔''١؎ ١۔ بحوالہ الصراط السوی فی احوال المہدی،ص ٣٧٠۔ ٥٩۔ شیخ صلا ح الدین صفدی، '' شرح الدائرۃ '' مٰن لکھتے ہیں کہ : '' ان المہدی الموعود ہو الامام الثانی عشر من الائمہ ، اولہم سیدنا علی وآخرہم المہدی رضی اللہ عنہم ونفعنااللّہ بہم '' '' مہدی موعود ، ائمہ اثنی عشر میں بارہویں امام ہیں جن کے اول علی بن ابی طالب اورآخری مہدی رضی اللہ عنہم ، ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی ذات مقدسہ کے ذریعے ہمیں نفع پہنچائے''۔٢؎ ٢۔ فراید السمطین ، ج٢، ص ٣١٢وینابع المودۃ ، ص ٤٧١۔ ٦٠۔ حسن عسکری امام اسلامی انسائیکلوپیڈیا، نامی کتاب میں ، محققین کے ایک جمع حسن عسکری امام کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :'' ابو محمد حسن بن علی اثناعشری شیعہ کے گیارہویں امام ، الصامت الزکی ، الخالص التقی ، الرفیق ، الہادی ، آپ ؑ کے القاب تھے ، سلسلہ نسب یہ ہے ، حسن بن علی ابن محمد الجواد بن علی الرضا ابن موسیٰ کاظم ابن جعفر الصادق ابن محمد باقر، ابن علی زین العابدین ، ابن الحسین ، ابن علی بن ابی طالب ...'' بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ آپ نے '' محمد کو جو آپ کے صاحبزادے تھے، چھوڑے ، لیکن دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے ۔''٣؎ ٣۔ اسلامی انسائیکلوپیڈیا، ج٢، ص ٧٩٣۔ گنجی شافعی متوفی ٦٥٨ھ ''البیان فی اخبار صاحب الزمان '' میں لکھتے ہیں : انّ الامام المہدی من اولاد الحسن العسکری ، فہو حتی موجود باق منذ الآن...'' حضرت امام مہدی ؑ ، حسن عسکری ؑ کی اولاد میں سے ہیں اور وہ آب تک زندہ اور موجود ہیں ''١؎ ١۔البیان فی اخبار صاحب الزمان باب ٢٥، ص ٣٣٦۔ ٦٢۔ ابو الفلاح عبدالحی بن احمد دمشقی حنبلی ، معروف بہ '' ابن عماد '' متوفی ١٠٨٩ھ '' شذراۃ الذہب فی اخبار من قد ذہب '' میں لکھتے ہیں : ''محمد بن الحسن بن علی بن محمد الجواد بن علی الرضا بن موسیٰ کاظم بن جعفر الصادق العلوی الحسینی ابوالقاسم ، الذی تلقبہ الرافضہ، الخلف الحجۃ و تلقبہ باالمہدی المنتظر وتلقبہ بصاحب الزمان وہو خاتم الاثنیٰ عشر'' '' محمد ابن حسن ابن علی ابن محمد جواد ابن علی الرضا ابن موسیٰ کاظم ابن جعفر الصادق ، علوی ، حسینی آپ کی کنیت ابو القاسم ہے ، شیعہ انہیں خلف صالح ، حجت خدا، کہتے ہیں اورآپ کو مہدی منتظر وصاحب الزمان کے القاب سے ملقب کرتے ہیں ، اوروہ بارہ ائمہ میں سے آخری امام ہیں ''۔٢؎ ٢۔ شذراۃ الذہب، ج٢، ص ١٤٣، باب حوادث سال ٦٠ھ۔ ٦٣۔ ابن خلکان ، شمس الدین برمکی اربلی شافعی متوفی ٦٨١ھ '' وفیات الاعیان '' میں لکھتے ہیں : ''ابو القاسم محمد بن الحسن العسکری بن علی الہادی بن محمد جواد ثانی عشر الائمہ الاثنیٰ عشر علی اعتقاد الشیعہ الامامیہ... وہو حسن عسکری ابن علی ہادی ابن محمد جواد ، شیعہ امامیہ کے عقیدے کے مطابق ائمہ میں سے بارہویں امام ہیں ، یہ وہی ہیں جن کے بارے میں شیعہ گمان کرتے ہیں کہ مہدی منتظر الذین تزعم الشیعہ انّہ المنتظر کانت ولادتہ یوم الجمعۃ متصف شعبان سنۃ خمس وخمسین ومأتین وممّا توفی ابوہ ... کان عمرہ خمس سنین واسم امہ '' خمط '' قیل '' نرجس۔'' ١؎ ہیں ... آپ ؑ کی ولادت ٢٥٨ھ پندرہ (١٥) شعبان کی نصف شب کو ہوئی اور جب آپ ؑ کے والد نے وفات پائی اس وقت آپؑ کی عمر پانچ سال کی تھی آپ کی مادر گرامی کا نام خمط ہے اوربعض نے نرجس لکھا ہے ۔ ١۔ وفیات الاعیان، ج٤، ص ١٧٦، باب المیم شمارہ٥٦٢ ۔ ٤٦۔ شمس الدین ابن طولون دمشقی حنفی متوفی ٩٥٣ھ '' الائمہ الاثنی عشر '' میں حضرت امام مہدیؑ کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : کانت ولادتہ رضی اللّہ عنہ یوم الجمعۃ منتصف شعبان خمس وخمسین ومأتین ولما توفیٰ ابوہ المتقدم ذکرہ رضی اللّہ عنہما ، کان عمرہ خمس سنین واسم امہ ''خمط ''وقیل ''نرجس''۔ آپ ؑ کی تاریخ ولادت ٢٥٥ھ روز جمعہ پندرہ ١٥ شعبان کی آدھی رات ہے اورجب آپ کے والد کا انتظار ہوا، کہ جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ، اس وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی ۔اور آپ کی مادر گرامی کا نام خمط تھا بعض نے نرجس لکھا ہے۔٢؎ ٢۔الائمہ الاثنی عشرفصل ١٢، ص ١٢٩( ابن طولون)۔ ٩٥۔ حافظ شیخ سلیمان حنفی قندوزی متوفی ١٢٩٤ھ ''ینابیع المودۃ '' میں لکھتے ہیں : انّ المہدی الموعود ہوالامام الثانی عشر من الائمۃاولہم سیدنا علی وآخرہم المہدی رضی اللّہ عنہ ۔ بے شک مہدی موعودؑ بارہ(١٢) ائمہ میں سے آخری امام ہیں ان میں پہلے [ امام ] علی ابن ابی طالب ؑ اورآخری حضرت مہدیؑ رضی اللہ عنہم ہیں ۔ ١۔ینابیع المودۃ باب٨٦، ص ٤٧١۔ موصوف ایک اور جگہ لکھتے ہیں : الامام ابومحمد الحسن العسکری اریٰ ولدہ القائم المہدی بخواص موالیہ وأئمتہم انّ الامام بعدہ ولدہ رضی اللّہ عنہما۔٢؎ امام ابو محمد حسن عسکری نے اپنے بیٹے قائم محمد مہدیؑ کو اپنے خاص دوستوں کو دکھایا اور ان کو آگاہ کیا کہ ان کے بعدا ن کے بیٹے زمانے کے امام ہیں رضی اللہ عنہما۔ ٢۔ینابیع المودۃ باب٨٢، ص٤٦٠۔ موصوف مزید لکھتے ہیں : ولد لأبی محمد الحسن مولودٌ ، فسماہُ محمداً فعرضہ علی اصحابہ یوم الثالث وقال ہذا امامکم من بعدی وخلیفتی علیکم وہو القائم الذین تمتد علیہ الاعناق باالانتظار ، فاذا متلأت الارض ضوراً وظلماً خرج ، فیملائہا قسطاً وعدلاً ''۔ '' ابو محمد حسن ( عسکری ) کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا ، تو انہوں نے ان کا نام محمد رکھا ، اورولادت کے تین دن بعد اپنے اصحاب کو دکھایا اور فرمایا: یہ میرے بعد تم لوگوں کا امام اور میر ا جانشین ہیں ، یہ وہی قائم ہیں کہ جس کے انتظار میں لوگ زندگی گزاریں گے پس جب زمین ظلم وجور سے بھر جائے گی، تو اس وقت خروج کریں گے اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ''۔٣؎ ٦٦۔مشہور نسب شناس '' محمد امین بغدادی لویدی ،متوفی ٨٢١ھ '' سبائک الذّہب '' میں لکھتے ہیں : '' محمد المہدی وکان عمرہ عند وفات ابیہ خمس سنین وکان مربوع القامہ ، حَسنُ الوجہ والشعر ، اقنٰی الانف صبیحُ الجبہۃ۔''٤؎ امام مہدیؑ اپنے والد '' حسن عسکریؑ'' کی وفات کے وقت پانچ سال کے تھے، آپ متوسط قامت ، زیبا چہرہ اوربال ، دراز ناک ، اور روشن پیشانی رکھتے تھے ۔ ٣۔ینابیع المودۃ باب٨٢، ص٤٦٠۔ ٤۔ سبائک الذہب، ص٧٨۔ ٦٧۔ فاضل ملا علی متوفی١٠١٤ھ '' مرقاۃ ، شرح مشکواۃ'' میں اثنی عشر خلیفہ کا ذکر کرکے لکھتے ہیں : ''شیعوں کا اعتقاد یہ ہے کہ اس حدیث میں بارہ خلفاء رسول سے مراد ، بارہ امام ہیں ، یعنی علی بن ابی طالب وحسن بن علی وحسین ابن علی وعلی بن الحسین ، ومحمد بن علی وجعفر بن محمد وموسی بن جعفر وعلی بن موسیٰ ومحمد ابن علی وعلی بن محمد وحسن بن علی و،م۔ ح۔ م۔ د۔ بن حسن مہدیؑ ۔ جیسا کہ زبدۃ الاولیاء خواجہ پارسانے فضل الخطاب میں لکھا ہے اوراس سے ملا جامی ( حنفی ) نے '' شواہد النبوہ '' میں اتفاق کیا ہے اوریہ خہا شیعوں کا غلط ہے کہ ہم ان کے ائمہ کو دشمن رکھتے ہیں ''١؎ ١۔ بحوالہئ ، الصراط السوی ...'' ص ٣٦٨۔ ٦٨۔ محمد بن علی حموی ، لکھتے ہیں : '' ابو القاسم محمد منتظر ٢٥٩ھ کو شہر سامراء میں پیدا ہوئے '' ٢؎ ٢۔آفتاب عدالت ، ص ١٥٦، بحوالہ ، تاریخ منصوری ، ص١٤١۔ ٦٩۔مشہور مصنف ، محمد بن خاوند شاہ متوفی ٩٠٣ھ ( صاحب روضۃ الصفاء '' لکھتے ہیں : '' محمد ، حسن عسکری کے بیٹے ہیں اورآپ کی کنیت ابو القاسم ہے ، امامیہ انہیں حجت قائم اور مہدی سمجھتے ہیں '' ٣؎ ٣۔آفتاب عدالت ، ص ١٥٦،بحوالہ روضۃ الصفائ، ج١، ص ٣٢٢۔ ٧٠۔ عبدالرزاق ، کاشانی ،'' تحفۃ الاخوان فی خصائص الفتیان '' میں لکھتے ہیں : ''چنانچہ نبوت کا مبدائ٭ اور مظہر آدم صفی اللہ تھے اورفتوت٭ کا قطب٭ ابراہیم اور خاتم النبین حضرت محمد حبیب خدا تھے ، فتوت کا مبداء بھی ابراہیم خلیل اللہ ہیں اوراس کے خاتم پیغمبر خدا ہیں ، اور مبداء فتوت ابراہیم خلیل اللہ ہیں اوراس کے قطب علی بن ابی طالب اوراس کا خاتم اور انتہاء محمد مہدی ہیں جو خاتم الاولیاء ہیں ''١؎ ٭مبداء ، فتوت ، قطب وابدال ، عرفانی اصطلاحات ہیں ۔ ٧١۔ عبدالرحمن بن احمد بن قوام الدین جامی حنفی '' شواہد النبوہ '' میں اقطاب٭ اورابدال ٭کے سلسے کے ضمن میں لکھتے ہیں : ١۔ بحوالہ دانشمندان عامہ ومہدی موعود ، ص ٧٩۔ '' ان لوگوں میں سے ایک ، جو قطبیت کے مرتبہ پر فائز ہوئے ، محمد بن حسن عسکری ہیں ، جب آپ پردہئ غیبت میں چلے گئے اس وقت سے آپ قطبیت کے زمرے میں شامل ہوگئے ''٢؎ ٢۔شواہد النبوہئ ، ج٣،ص ١٢٠۔ ٧٢۔ شیخ عبدالرحمن سبطامی'' درۃ المعارف'' میں لکھتے ہیں '' مہدی موعود جو زمین کو عدل وانصاف سے پر کریں گے ابوالقاسم ، م۔ ح۔ م۔ د۔حجت خدا فرزند حسن عسکری ؑ ہیں ''۔٣؎ ٣۔ بحوالہ دانشمندان عامہ ومہدی موعود ، ص١١٠۔ ٧٣۔ صدرالدین قونی موصوف کہتے ہیں '' ابوالقاسم محمد المہدی پندرہ شعبان دو سوپچاس ہجری میں پیدا ہوئے آپ کی مادر گرامی ام ولد تھیں ، اور نام '' نرجس'' اپنے والد گرامی کی شہادت کے وقت آپ کی عمر پانچ سال تھی ۔ آپ ؑ کے لئے دو غیبتیں ہیں ، ایک صغریٰ دوسرا غیبت کبری ٰ، آپؑ ابھی تک زندہ ہیں اورجب خدا کی طرف سے ظہور کی اجازت ملے گی تو ظاہر ہو کر دنیا کو عدل سے بھر دے گا۔ حضرت مہدیؑ کے ظہور امت اسلامی کے درمیان متفق علیہ ہے ، لہذا دلیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔''٤؎ ٤۔ بحوالہ ، تاریخ درمحاکمہ آل محمد، ص ٢٦٤۔ ٧٤۔ بہلول بہجت آفندی حنفی ، متوفی ١٣٥٠ھ مورخ شہیر شیخ قاضی زنگہ روزی بہلول آفندی ''تاریخ درمحاکمہ آل محمد'' میں لکھتے ہیں :'' حدیث '' من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاہلیۃ '' متفق علیہ علماء عامہ وخاصہ ہیں ، لہذا کوئی مسلمان پیدا نہیں ہوسکتا ، جو حضرت مہدی ؑ کے وجود کا اقرار نہ کرلیں ، ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امام محمد مہدیؑ صاحب العصر ، اپنے والد کی حیات میں کچھ عرصہ کے لئے حاضر تھے لیکن آپ ؑ کے والد کی شہادت کے بعد حکمت الہیٰ کا تقاضا تھا کہ سلسلہ امامت قیامت تک کے لئے باقی رہے ، اور بخاری ومسلم کے معتبر سند کے ساتھ منقولہ احادیث '' الخلفاء بعدی اثنیٰ عشر کلہم من قریش کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ؑ ظالم حکمرانوں کے زیر سایہ نہ رہیں ، لہذا خداوند متعال نے اپنی حکمت کے تقاضا کے مطابق آپ ؑ کو غیبت کا حکم دیا اوریہ غیبت ظہور کے حکم آنے تک باقی رہے گی ۔١؎ ١۔تاریخ فیمحاکمہ آل محمد، ص٢٥٠و ٢٥١۔ دقت کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ معروف سنی عالم ، ایک شیعہ کی طرح آپ ؑ کی ولادت غیبت اورظہور کے معتقد ہیں ، چنانچہ یہ بات ان کے کلمات سے عیاں ہے ۔ آثار مہدویت میں حذف اورتحریف جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول خدا ؐ کی رحلت کے بعدتقریباً دو سو سال تک احادیث پیغمبر اکرم ؐ کو لکھنے سے شدت کے ساتھ منع کیا گیا اور یہ سلسلہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے دور میں شروع ، اورحضرت عمر کے دور خلافت میں باعدہ قانونی شکل اختیار کرلی۔ اوریہ سلسلہ بنی امیہ کی حکومت کے آخری ایام تک جاری رہا۔اس کا مقصد اہل بیتؑ اوربارہ اماموں کے بارے میں جواحادیث پیغمبر اکرم ؐ سے نقل ہوتی تھی ، کو مخفی رکھنا تھا ، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس سیاست کے نتیجے میں پیامبر اکرم ؐ کے بزرگ صحابی رحلت کرجائیں گے ، اوراہل بیت ؑ کے بارے میں پیغمبر اکرم ؐ سے منقول احادیث بھی ، ان کے ساتھ خود بخود دفن ہوجائیں گی لیکن یہ لوگ اس حقیقت سے غافل تھے کہ دین اسلام کے ایک قوی محافظ ہیں اور وہی دین اسلام اوراہل بیتؑ کی حقانیت کی حفاظت کرے گا ، اس لئے کہ خود فرماتے ہیں '' انّا نحن نزلنا الذکروانّا لہ لحافظون '' لیکن مخالفین کے اتنی کوششوں کے باوجود آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اہل بیتؑ اور علی بن ابی طالب ؑ کے فضائل سے کتابیں بھری ہوئی ہےں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مخالفین سمجھ گئے کہ '' منع تدوین حدیث'' کے ذریعے وہ اپنے ہدف کو حاصل نہیں کرسکتے ، لہذا انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا، یعنی احادیث کی ''جعل ''اور ان میں '' تحریف'' کا سلسلہ شروع کیا : اور اہل بیت ؑ کے مقابلے میں دوسروں کے فضائل کے لئے احادیث جعل کیا ، تاکہ اہل بیتؑ کی فضیلت کو کم کیا جاسکے۔ ان خانیانتکاوں نے اب تک کئی بار مدارک اسلامی میں تحریف کی کوشش کیں اورجعلِ حدیث کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ کہنا تو بہت مشکل ہے کہ کس حد تک انہوں نے مدارک اسلامی میں دست اندازیاں کیں ، لیکن تخمینہ لگا سکتا ہے کہ ہزار بار مدارک اسلامی میں تحریف کے لئے دست اندازیاں کیں ہیں ۔ تیسرا راستہ ، جو اہل بیتؑ کے فضایل کو چھپانے کے لئے مخالفین نے اپنایا '' سیاست حذف'' تھا ، یعنی کچھ متعصب اور اسلامی تعلیمات سے ناآشنا لوگوں کے ذریعے حکومتِ وقت کی پشت پناہی میں کوشش کیں ، کہ اہل سنت کے دستہ اول کی حدیث اور تاریخ کی کتابوں سے اہل بیتؑ سے متعلق احادیث کو حذف کیا جائے ، اوریہ سیاست متعصب افراد کی طرف سے کئی سو، سالوں سے جاری ہے ۔١؎ ١۔تفصیل کے شائقین رجوع کریں: الغدیر ، علامہ امینی؛ دراسات وبحوث فی التاریخ والاسلام ؛ علامہ جعفر مرتضی عاملی ، مجلہ معرفت ، شمارہ ٥٢، ومجلہ انتظار ، شمارہ ٤، سال دوم ، مقالہئ '' حذف وتحریف در آثار مہدی ، غلام حسین زینلی۔ جدید طرز کے نشری اداروں ، اور مشینری کی وجود میں آنے کے بعد یہ توقع تھی کہ یہ سلسلہ بند ہوجائے گا ، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اورعلم ودانش ، اورکمپوٹر ، و انٹرنیٹ کے دور میں بھی یہ لوگ اپنے مذموم عزایم سے باز نہیں آئے جہاں ارتباطات اور علم وودانش کے دور مین بھی ، نہ صرف اہل بیت پیامبر علیہم السلام اور علی بن ابی طالب ؑ کے فضائل کے حذف کا سلسلہ جاری ہے ، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے متفق علیہ عقیدہ ، یعنی عقیدہ مہدویت ؑ ، اورحضرت امام مہدی ؑ سے متعلق احادیث حذف، اوران میں تحریف ، اوران کے بارے میں شکوک وشبہات ایجاد کرنے کی بھر کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ایسے موارد بہت زیادہ ہیں ، دو نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔ پہلا نمونہ حافظ وعارف عبدالوہاب شعرانی حنفی ، متوفی ٩٧٩ھ ، نے '' الیواقیت والجواہر '' کے بحث ،٦٥، کو حضرت مہدی ؑ کی زندگی اورآپ ؑ کے فضایل اور صاف وغیرہ کے لئے مخصوص کیا ہے، مذکورہ کتاب میں حضرت مہدیؑ کے حسب ونسب کے سلسلہ میں '' محی الدین ابن عربی'' کی کتاب '' الفتوحات المکیۃ '' کے حوالے سے نقل کرتے ہیں : اعلموا انّہ لابدّ من خروج المہدی ، ...وہو من عترۃ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ و[آلہ] وسلم من ولد فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، جدّہ الحسین بن علی بن ابی طالب ووالدہ الامام حسن العسکری ابن الامام علی النقی ، باالنون، ابن الامام محمد تقی، باالتاء ، ابن الامام علی الرضاابن ابن الامام موسی الکاظم ابن الامام جعفر الصادق ابن الامام محمد الباقر ابن الامام علی بن الحسین، ابن الامام الحسینؑ ابن الامام علی بن ابی طالبؑ رضی اللّہ تعالٰی عنہم یواطی اسمہ اسم رسول اللّہ یبایعہ المسلمون، بین الرکن والمقام۔یشبہُ رسول اللہ فی الخلق ( بفتح الخائ) وینزل عنہ فی الخُلق ـ بضمہا ـ اذلایکون احدٌ مثل رسول اللّہ فی اخلاقہ واللّہ تعالیٰ یقول'' وانّک لعلیٰ خلق عظیم'' ١؎ ١۔الیواقیت والجواہر، مبحث ، ٢٥، بحث اشراط ساغہ ، ج٢، ص ٣٦٢، ناشر ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت لبنان ، طبع اول ١٤١٨ھ ۔ ١٩٩٧۔ جیسا کہ ملاحظہ فرمایا: دسویں ہجری کے اوایل تک ۔جو علامہ شعرانی نے مذکورہ کتاب لکھی ہے ۔ یہ سند '' ابن عربی'' کی مذکورہ کتاب میں موجود تھی ، کیونکہ علامہ شعرانی نے '' فتوحات المکیّہ '' کے عین عبارت کو نقل کیا ہے ۔ لیکن آج کل جو کتابیں '' الفتوحات المکیہ '' کے نام سے چھپ کر بازار میں آتی ہے، میں صرف علی بن ابی طالبؑ اورحضرت امام مہدیؑ کے نام نامی موجود ہے ، بقیہ ائمہ ؑ کے اسماء گرامی کو حدف کر دیا گیا ہے ۔ ٧٦۔محی الدین ابن عربی متوفی ٦٣٨ھ کی مذکورہ عبارت کو ، ٧٧۔علامہ محمد بن علی الصبان المالکی ، مصری متوفی ١٢٠٦ھ ، نے بھی '' الراغبین فی یدہ المصطفی وفضایل اہل بیت الطاہرین '' میں بھی نقل کیا ہے ۔ اس معلوم ہوتا ہے کہ ١٢٠٠ ھ تک یہ عبارت '' الفتوحات المکیہ '' میں موجود تھی اور اس کے بعد آنے والے خیانت کاروں نے اس سے گیارہ ائمہ معصومین ؑ کے اسماء گرامی کوحذف کیا ہے ۔ لیکن اسے اصل مطلب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ اہل سنت کے دوسرے کتب معتبرہ میں ابن عربی کا بیان موجود ہے ۔ دوسرا نمونہ حذف کا دوسرا نمونہ '' سنن ابی داود '' ہے جو اہل سنت کے معتبر ترین کتب حدیثی ، یعنی صحاح ستہ، میں سے ایک ہے ، جس کے مصنف حافظ سلمان بن اشعث سجستانی ، متوفی ٢٧٥ھ ، ١؎ہیں ، موصوف نے مذکورہ کتاب کو حضرت امام مہدی کی ولادت سے پہلے یا آپ کی ولادت کے فوراً بعد لکھی ہے اوراس میں ایک کتاب ، '' کتاب المہدی'' کے نام سے لکھی ہے جس میں حضرت مہدیؑ سے متعلق احادیث کو جمع کیا ہے ۔ ١۔بحوالہئ مجلہ انتظار ، شمار ہ چہارم ، سال دوم ، بنقل از اعلام زرکلی، ج٣، ص ١٢٢، ناشر ، دارالعلم للملائین ، بیروت ، لبنان ، چاپ دہم، ١٩٩٢ئ۔ مختصر یہ کہ گیارہ سو سال سے یہ کتاب '' کتاب المہدی'' کے نام سے جانی جاتی ہے ، اور جس کسی نے بھی امام مہدیؑ کے بارے میں مذکورہ کتاب سے کوئی مطلب نقل کیا ہے اسی نام '' کتاب المہدی'' کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ١٤٠٨ ھ میں ابی داود، کی کتاب جو مصر سے چاپ ہو کر بازار میں آئی ہے اس میں '' کتاب المہدی'' کو '' کتاب الہدیٰ'' کے نام سے چاپ کیا ہے ۔ گرچہ احادث وہی ہیں ، لیکن یہ احتمال دیا جاسکتا ہے ، جس ناشر نے یہ خیانت کی ہے، بعد والے ایڈیشن میں حضرت امام مہدی سے متعلق احادیث کو بھی حذیف کریں گے۔١؎ ١۔بحوالہئ مجلہ انتظار ، شمار ہ چہارم ، سال دوم۔ خدا وند متعال ان خیانت کاروں کو اگر قابل ہدایت نہیں ہے تو جلداز جلد واصل جہنم کریں ۔ ذیل میں ان خیانتوں کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔ فٹو کاپی باقی۔ ؟؟؟؟؟؟؟ نقل اقوال کا سلسلہ بہت طولانی ہوگیا اوریقینا قارین کرام کے لئے ملال آور ہے لیکن بحث کو شفاف اور واضح بنانے کے لئے ضروری تھا تاکہ معترضیں یہ نہ کہہ سکیں کہ دلیل تراشی تو شیعوں کی پرانی عادت ہے !! جب کہ شیعہ یعنی عقل ومنطق وبرہان!! اب ہم اتنی مقدار پر اکتفاء کرتے ہوئے بعض علماء اہل سنت کے اسماء گرامی درج کرنے پر اکتفا کرتے ہیں کہ جنہوں نے دوسرے مذکورہ علماء کی طرح آپ کی ولادت پر تصریح کیا ہے کیونکہ نقل اقوال کے اس سلسلہ کو اسی طرح ادامہ دیں تو صرف اسی نقل تاریخی کے لئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے ۔ بعض علماء اہل سنت کے اسمائ ٧٨شیخ عبدالرحمن بسطانی نے '' درۃ المعارف'' میں حضرت مہدیؑ کی ولادت کی تصریح کی ہے ۔ ٧٩۔جوادساباطی نے '' براہین الساباطیہ ''میں ۔ ٨٠۔ علامہ بدخشانی نے '' مفتاح الجنات '' میں ۔ ٨١۔شیخ عبدالرحمن نے ''مرآۃ الاسرار'' میں ۔ ٨٢۔ صرح الدین صفری ، بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧١۔ ٨٣۔ جلال الدین بلخی نے مثنوی میں ، بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧٢۔ ٨٤۔ ابن روز بہان شیرازی نے '' ابطال الباطل'' میں ۔ ٨٥۔ ملک العلماء دولت بادی نے '' ہدایۃ السعدائ'' میں ۔ ٨٦۔ شیخ عبدالرحمن جامی حنفی ، '' شواید النبوۃ '' میں ۔ ٨٧۔ شیخ حسن عراقی ، بحوالہ کتاب الوقائع۔ ٨٨۔ ابن الفوارس رازی۔ ٨٩۔ سید جمال الدین محدث ۔ ٩٠۔ شیخ قطب السدار۔ ٩١۔ شیخ سعد الدین حموی نے '' مقصد اقصیٰ '' میں بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧٢۔ ٩٢۔ سید علی ہمدانی نے '' مودۃ القربیٰ'' میں۔ ٩٣ ۔ سید نسیمی بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧١۔ ٩٤۔ شیخ قطب مدار۔ ٩٥۔ شیخ صدر الدین قونی( بحوالہئ ، المحاکہ فی تاریخ آل محمد) بہلول بہجت آفندی)۔ ٩٦۔محمد بن سعد صدیقی شافعی نے '' انوار الہدایۃ '' میں ۔ ٩٧۔حسین بن معین الدین میبدی۔ ٩٨۔ شیخ عام البقری۔ ٩٩۔ شیخ جلال الدین رومی ، بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧٢و ص٤٧٣۔ ١٠٠۔ خواند ، میرنے '' حبیب السیر '' میں ۔ ١٠١۔ شیخ عطا نیشابوری ، بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧٢و ص٤٧٣۔ ١٠٢۔ سید نعمت اللہ ولی ، بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧٢۔ ١٠٣۔شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے '' المسلسلات '' میں ۔ ١٠٤ ۔محمود بن وہیب قزاء غولی بغدادی حنفی '' جواہر الکلام '' میں ۔ ١٠٥۔عماد الدین حنفی ۔ ١٠٦۔ شیخ عبداللہ عطری ۔ ١٠٧۔ سید سراج الدین رفاعی '' صحاح الاخبار '' میں ۔ ١٠٨۔ شیخ ابن عماد حنفی '' شذراۃ الذہب'' میں ۔ ١٠٩۔ محمود بن محمد بن زرکلی دمشقی '' الاعلام '' میں ۔ ١١٠۔ شیخ ابو بکر احمد بن حسین بن علی بہیقی '' لعب الایمان '' میں ۔ ١١١۔ یاقوت حموینی، معجم البلدان ، میں ۔ ١١٢۔ شمس الدین محمد یوسف زرندی '' معراج الوصول '' میں ۔ ١١٣۔ شیخ عبداللہ بن محمد مدنی نے '' ریاض النضرۃ'' میں ۔ ١١٤۔قاضی بہلول بہجت آفندی نے '' المحاکمہ فی تاریخ آل محمد '' میں ۔ ١١٥۔شیخ محمد صبان مصری۔ ١١٦۔ جلال الدین سیوطی۔ ١١٧۔شیخ عبدالکریم یمانی۔ ١١٨۔ شیخ احمد فارقی نقشبندی۔ ١١٩۔ یافعی'' مرآۃ الجنان '' میں ۔ ١٢٠۔ سید عباس الملکی '' نزہت الجلین '' میں ۔ ١٢١۔محمد فرید وجدی ، دائرۃ المعارف '' میں ۔ ١٢٢۔ ابو العباس فرمانی احمد بن یوسف دشمقی '' اخبار الدول '' میں ١؎ ١٢٣۔ سید نعمت اللہ ولی (بحوالہئ ینابیع المودۃ، ص٤٧١۔) ١۔اس سے بھی ، تفصیل کے خواہشمند حضرات مندرجہ ذیل کتب کی طرف بھی مراجعہ کرسکتے ہیں ، کشف الاستار، محدث نوری ، ینابیع المودۃ، قندوزی، منتخب الاثر،وامامت ومہدویت ، لطف اللہ صافی گلپائیگانی، مجموعہ ای از گفتار ، گفتار سوم ، ناشر، ستاد برگزاری جشن ہای ملاد امام مہدی، اتفاق در مہدی موعود ، علی اکبر قریشی، وامام مہدی اور علماء اہل سنت۔ مذکورہ تمام علماء کا تعلق اہل سنت سے ہیں جن میں دیوبندی بریلوی نقشبندی ، اہل حدیث ، اہل حدیث ، اہل عرفان دوسرے لفظوں میں مالکی ، حنفی ، حنبلی اور شافعی سب شامل ہیں ۔ اتنے روشن حقایق اور دلائل کے باوجود جناب فاروقی یہ دعویٰ کرلے کہ شیعوں کے عقیدہ مہدویت ، جس کی ائمہ اربعہ اور چودہ سوسالہ علماء اور عصر حاضر کے بریلوی ، دیوبندی اہل سنت علماء میں سے کوئی تائید نہیں کرسکتا، جب کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا جناب فاروقی ، احسان الہیٰ ظہیر ، طارق اعظم اوراختر کاشمیری جیسے چند منحرف افراد کو چھوڑ کر تمام مسلمان ( اعم از شیعہ وسنی) اور علماء اسلام کا عقیدہ ہے کہ خدا کی آخری حجت حضرت امام مہدیؑ پندرہ شعبان ٢٥٥ھ یا ٢٥٦ھ میں متولد ہوچکے ہیں اورخلفاء وقت کے خوف سے ولادت کے دن سے ہی عام لوگوں کی نظر وں سے مخفی زندگی گزار رہے ہیں اور جب خدای حکیم ظہور کا حکم دے ، تو مکہ مکرمہ سے ظہور فرما کر ظلم وجور سے بھری ہوئی زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ۔ اوراسلام کے امور مضمحل ہونے کے بعد آپ کے زمانے میں پھر سے فروغ پائیں گے ۔اور پوری دنیا میں '' اشہد انّ اللّہ الہٰ الاّ اللہ واشہد انّ محمد رسول اللّہ'' کی صدائیں بلند ہوں گے ۔ انشاء اللہ اور کیا، مصنف مذکور اور ان کے پیروکار اب بھی اصرار کریں گے کہ علامہ جوینی اوربن حجر ہیثمی نے ، آخری زمانے میں آپ کی ولادت پر تصریح کیا ہے ؟ ، کہ نہیں کیا ہے ، یابیت المال پر پلنے والے یہ کہ سکیں گے کہ سنیوں کے مستند علماء دین اس مسئلے پر بحث ہی نہیں کرتے ؟! اگر یہی صورت حال ہے تو ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں '' فی قلوبہم فرض فزادہم اللّہ مرضا''ان کے دلوں میں مرض تھا ہی اب خدا نے ان کے مرض کو اور بڑھا دیا ، اور چونکہ وہ لوگ جھوٹ بولا کرتے تھے اس لئے ان پر تکلیف دہ عذاب ہے '''' اورجب کہا جاتا ہے ان سے کہ ملک میں فساد نہ کرتے پھرو ( تو) کہتے ہی کہ ہم تو صرف اصلاح کرتے ہیں ، خبردار ہوجاؤ بے شک یہی لوگ فسادی ہیں اورلیکن سمجھتے نہیں ۔''١؎ ١۔ بقرہ ، آیت ١٠سے ١٢۔ دقت کرنے کی ضرورت ہے ، یہ خداوند متعال کا کام ہے ، جس نے حقائق کو ان دانشوروں کے ذریعے اس طریقے سے محفوظ کرلیا ہے ۔ اور ان تمام علماء و محدثین کے بیانات اس بات کو بھی روز روشن کی طرح کردیتے ہیں کہ آپ ؑ کی ولادت اورحضرت عسکری کے فرزند بلافصل ہونے میں اہل سنت کے بزرگوں کے درمیان ذرہ برابر شک وشبہ نہیں تھا، باوجود اس کے کہ دشمنوں کے خوف سے امام عسکری ؑ نے آپ ؑ کی ولادت کو عامۃ المسلمین سے مخفی رکھا تھا، لیکن بعد میں یہ بات سب کے لئے روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ۔ بحث کا خلاصہ پورے بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ ، کسی شخص کی ولادت صرف اس کے باپ ، دایہ یاموثق افراد کی گواہی سے ثابت ہوتی ہے ، چاہے اسے کسی نے بھی نہ دیکھا ہو، چہ جائیکہ اسے سینکڑوں لوگوں نے دیکھا ہو، عقل ونقل اور مورخین اس کی ولادت کا اعتراف کیا ہو، علماء انساب نے اس کا نسب بیان کیا ہو اس کے قریبی لوگوں نے اس کے ہاتھ پر معجزات کامشاہدہ کیاہو، اس کے وکیل معروف ہوں ان کے سفیر معلوم ہوں اور ہر عصر ونسل میں لاکھوں لوگ اس کے مدد کار اور پیروکار ہوں ۔ کیا مغرض انسنا کے علاوہ کوئی ان کے متعلق شبہات ، یاان کی ولادت کا انکار کرسکتا ہے ؟؟ کیا اس سے زیادہ ثبوت چاہتا ہے یااپنی زبان حال سے مہدیؑ کو وہی کہہ رہا ہے جو زبانِ مقال کے ساتھ مشرکین قریش نے ، آپ ؑ کے جد امجد پیغمبر اکرم ؐ کے بارے میں کہتے تھے ۔ '' اے رسول ! کفّار مکہ نے تم سے کہا تم ہمارے زمین سے (چشمہ نہ ) بہانکا لوگ ہم تم پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے ، یا( یہ نہیں تو) کھجوروں اورانگوروں کا کوئی باغ ہو ، اس میں تم بیچ بیچ میں نہریں جاری کرکے دکھا دو یا جیسا تم گمان رکھتے تھے ہم پر آسمان سے ہی کوئی ٹکرے ( ٹکڑے ) کر کے گراو، یاخدا اور فرشتوں کا ( اپنے قول کی تصدیق میں ہمارے سامنے ) گواہی میں '' کھڑاکردو، یا تمہارے ( رہنے کے )لئے کوئی طلائی محل سرا، ہویا تم آسمان پر چڑھ جاو اور جب تک تم ہم پر ( خدا کے ہاں سے ایک) کتاب نہ نازل کروگے کہ ہم اسے خود پڑھ بھی لیں اس وقت تک ہم تمہارے ( آسمان پر چڑھنے کے بھی قائل نہ ہوں گے ) اے رسول ، تم کہدو کہ سبحان اللہ میں ایک آدمی ( خدا کے) رسول کے سوا، آخر اورکیا ہوں ( جو یہ بے ہودہ باتیں کرتے ہو) اورجب لوگوں کے پاس ہدایت آچکی تو تو ان کو ایمان لانے سے سوا، اورکسی چیز نے نہ روکا کہ وہ کہنے لگے کہ کیا خدا نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ (اے رسول )تم کہدو اگر زمین پر فرشتے ( بسے ہوئے) کہ اطمینان سے چلتے پھر تو ہم ان لوگوں کے پاس فرشتہ ہی کو رسول بنا کر نازل کرتے ( اے رسول ) تم کہدو کہ ہمارے تمہارے درمیان گواہی کے واسطے بس خدا کا فی ہے اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے بندوں کے حال سے خوب واقف ، اور دیکھتا رہتا ہے '' صدق اللہ العلیٰ العظیم ۔ وصدق رسولہ الکریم ۔ ونحن علی ذالک من الشاہدین ۔ ١۔'' وقالوا من نومن لک حتیٰ تفجر لنا من الارض ینبوعاً او تکون لک جنۃٌمن نخیل وعنبٍ فتفجر الأنہار خلٰلہا تفجیراً وتسقط السماء کما زعمتَ علینا کِسفاً اوتاتیَ بااللّہ والملٰئکت قبیلا۔ او یکون لک بیتٌ من زخرف او ترقیٰ فی السما ولن نومن لرُقیّک حتّٰی تُنَزّل علینا کتا باً نقرؤہ قل سبحان ربی ہل کنت الاّ بشراً رسولاً ۔ ومامنع النّاس ان یؤمنوا ازجائہم الہدیٰ الاّ ان قالوا ابعث اللّہ بشراً رسولاً۔ قل لوکان فی الأرض ملٰئکۃ یمشون مطمئنینلنزلنا علیہم من السماء ملکاً رسولاً ۔ قل کفیٰ بااللّہ شہیداً بینی وبینکم ، انّہُ کان بعبادتہ خبیراً بصیراً۔ ایک اہم سوال ممکن ہے کوئی یہ سوال کریں ، باالفرض مان لیا جائے کہ حضرت امام حسن عسکری ؑ کے یہاں ایک بیٹا تھا ، لیکن کیا دلیل ہے کہ یہ وہی مہدی ہیں جس کے ظہور کے رسول اللہ نے بشارت دی ہے؟ جواب مذکور سوال کے جواب کو ہم اہل سنت کے ایک بزرگ حافظ ومحدث ابن طلحہ کمال الدین شافعی متوفی ٦٥٤ھ کی کتاب '' مطالب السؤل فی مناقب آل رسول '' سے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ، ملاحظہ ہو۔ مذکورحافظ ومحدث، اسی سوال کو اپنی کتاب میں اٹھانے کے بعد لکھتے ہیں :'' اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جب رسول اللہ ؐ نے مہدیؑ کو متعدد اوصاف سے متصف کیا ہے اور بتلایا ہے کہ وہ اولاد فاطمہ ، اولاد عبدالمطلب سے ہے روشن پیشانی اوربلند بینی رکھتے ہیں اور اس کا نافلان ہے اورنسب فلان ہے اوران سب اوصاف کو علامت قرار دیا ہے جس میں یہ تمام صفات جمع ہوں وہی شخص مہدی ہیں ، پھر یہ صفات کل کے کل محمدابن حسن خلف صالح کے سوا اورکسی میں نہیں پائے جاتے ۔ اس لئے ضروری ولازم ہے کہ ہم اس بات کے قایل ہوں کہ وہی مہدی موعودؑ ہے نہ کوئی اور۔ اوراگر ان علامات اور دلائل کے وجود کو تسلیم کرلیں اورمعلوم ومدلول کو تسلیم نہ کریں اور وہ ثابت نہ ہوں تو ان کو علائم اوردلایل قرار دینا غلط وباطل ہوگا اور آنحضرت پر کذب صریح لازم آئے گا اور یہ دلایل وعلامات نہ ہوں گی اور اس کا کوئی عقلمند قایل نہیں ہوسکتا...'' |
|
|
|
| صرف علی کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-01-12) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
مقبول
|
ضروری حاشیہ
ہم کہتے ہیں کہ صاحبان علم وعقل پر یہ پوشیدہ نہیں کہ درحقیقت یہ اعتراض ہی وارد نہیں ہے ، اس لئے کہ جہاں حضور پاک ؐ نے یہ صفات وعلائم بیان فرمایا ہے وہاں واضح لفظوں میں تصریح کیا ہے کہ مہدیؑ موعود ، ابو القاسم محمد ابن حسن عسکری ابن علی، ابن محمد ابن علی ، ابن موسیٰ ، ابن جعفر ، ابن محمد باقر ، ابن علی ابن الحسین ، ابن علی بن ابی طالب علیہم السلام ہے یعنی وہ ذریت رسول ، اولاد بتول، فرزند علی سے گیارہویں فرزند ہیں ، اوروہ سوای حجۃ بن الحسن العسکری المہدی ؑکے او رکوئی اولاد نہیں ہے ۔ اور اسی میں تمام مذکورہ صفات جمع ہیں اوراس بات کو ہم نے '' منکرین مہدویت کا مدلل جواب '' اور اسی کاب کے گذشتہ صفحات میں محکم ومتقن دلایل سے ثابت کیا ہے ، اورآنے والی بحثوں میں مزید دلایل پیش کریں گے ۔ لہذا حافظ مذکور کا استدلال ان کے نقطہ نگاہ سے سو فیصد صحیح ہونے کے ساتھ مغرضین کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ بھی ہے ، لیکن ہمارے نزدیک اصل اعتراض ہی غلط ہے ۔ منابع ١۔ الائمہ الاثنی عشر ، شمس الدین محمد بن بن طولون حنفی ، متوفی ٩٥٣ھ ، تحقیق، صلاح الدین مجد ، منشورات الرضی ودار حیابیروت ، بے تاریخ۔ ٢۔الأعلام ، خیر الدین ذرکلی، بیروت ، دارالعلم للملایین ، طبع چہارم ، ١٩٩٩ء ، وچاپ دہم ، ١٩٩٢ء ۔ ٣۔ الاشاد فی ، معرفۃ حجج اللہ العباد ، محمد بن نعمان ، الشہیر المفید، قم ، موسسۃ آل البیتؑ لاحیاء التراث ، ومطبعۃ المدنی ، بے ، تاریخ ۔ ٤۔ الاذاعہ لما کان ومایکون بین یدی الساعہ ، سید محمد صدیق حسن ، متوفی ١٣٠٧ھ ، مکتبۃ العلمیہ باالمدینہ المنورہ، مطبعۃ المدنی ، بی تا۔ ٥۔ مقدمہ ابن خلدون ، عبدالرحمن بن محمد خلدون ، تحقیق ، علی عبدالواحد وافی ، دارالنہفہ ، مصر ، طبع الثانیہ۔ ٦۔ المنار المنیف فی الصحیح والضعیف ، شمس الدین محمدبن ابی بکر حنبلی ،متوفی٧٥١ھ تحقیق عبدالفتاح ابو غدہ، مکتب المطبوعات الاسلامیہ ، حلب الفرافرہ۔ ٧۔البرہان فی علامات مہدی آخری الزمان ، علاء الدین علی بن حسام الدین ( متقی ہندی) متوفی ٩٧٥ھ تحقیق علی اکبر غفاری ، مطبعہ خیام ، قم ، ١٣٩٩ھ۔ ٨۔ البدایۃ والنہایۃ ، ابی الفداء اسماعیل الدمشقی ، الشہیر بابن الکثیر ، تحقیق، مکتب تحقیق التراث ، بیروت مؤسسۃ التاریخ العربی، ١٤١٣ھ ، ١٩٩٣ئ۔ ٩۔الجامع الصحیح، ابی عیسیٰ محمدبن سورہ ، متوفی، ٢٩٧ھ ، تحقیق ابراہیم عطوہ ، شرکۃ مکتبہ محمد محمود الحلبی وشرکائہ وتصحیح ، محمد جمیل العطار، دارالفکر، بیروت١٤١٤ھ۔ ١٠۔البیان فی اخبار صاحب الزمان ، محمد بن یوسف بن محمد کنجی شافعی، متوفی ، ٦٥٨ھ ، مؤسسہ النشر الاسلامی ، طبع پنجم ، ١٤٠٦ھ۔ ١١۔التذکرہ فی احوال الموتی وامور الآخرۃ، محمد بن احمد بن ابی بکر قرطبی ، متوفی٦٧١ھ؛ تصحیح ، احمد محمد موسیٰ ، طبع اول ، ناشر ، مصحح ، بی تا۔ ١٢۔ الجمل ، محمد بن نعمان المفید ( شیخ مفید) مؤتمر العالم السلامی ، بے تاریخ۔ ١٣۔الرسالۃ ، ابی غالب الرازی ، قم ، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، بے تاریخ۔ ١٤۔الصواعق المحرقہ فی ... ، احمد بن حجر الہیثمی المکی ، متوفی ٩٧٦ھ ، مکتبۃ القاہرہ ، طبع الثانی ١٣٨٥ھ۔ ١٥۔الفتوحات المکیہ ، محی الدین محمد بن علی ( ابن عربی) متوفی ٦٣٨ھ ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اول ، ١٤١٨ھ۔ ١٦۔الفصول المہمۃ فی معرفۃ احوال الائمہ ، علی بن محمد ابن احمد المالکی، تہران ، انتشارات اعلمی ، طبع اول ،١٣٧٥۔ ١٧۔الفصول العشرۃ ، محمد بن نعمان المفید ( شیخ مفید) مترجم ، محمد باقر خالص ، انتشارات اسلامی ، طبع دوم، ١٣٧٨ ١٨۔الشیعہ والتشیع،احسان ظہیر الہیٰ ، ادارۃ ترجمان السنۃ ، لاہور ، طبع دہم ، ١٤١٥ھ ١٩۔ العقیدۃ الحسنہ ( عقاید الاسلام )شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، ترجمہ وشرح ، مفتی محمد خان برکاتی ، مکتبہ جام نور، دریاگنج دہلی نمبر٢ ، کوچہ چیلان ، بی تا۔ ٢٠۔العبرفی اخبار من غبر، محمد بن احمدبن عثمان ذہبی ، متوفی ٧٤٨ھ ، دارالفکر بیروت ، طبع اول ١٩٩٩ئ۔ ٢١۔المہدیہ فی الاسلام منذ اقدم العصور الی الیوم ، سعد محمد حسن المصری، دارالکتب العربی ، طبع اول ١٣٧٣ھ۔ ٢٢۔المہدی فی احادیث المسلمین ، محمد رضا حسینی جلالی ، ناشر ، مصنف ، طبع دوم ، ١٤١٧ھ۔ ٢٣۔المستدرک علی الصحیحین ، حافظ ابی عبداللہ ، حاکم نیشابوری ، متوفی ، ٢٠٥ھ ، بیروت : دارالمعرفہ ، بی نا، ودارلکتب العلمیہ ، طبع اول بے تاریخ ۔ ٢٤۔المعجم الکبیر ، سلیمان بن احمد الطبرانی ٢٥۔المعجم الاوسط ، سلیمان بن احمد الطبرانی، تحقیق ، عبدالمجید لفی ، مصر مکتبۃ ابن تیمیہ ، ودار احیاء التراث العربی، طبع دوم ، ١٤٠٦ھ۔ ٢٦۔المہدی، سید صدر الدین صدر،قم ، مؤسسہ نشر اسلامی ، طبع دوم ، ١٤٢٠ھ۔ ٢٧۔١٦۔الفصول المہمۃ فی معرفۃ احوال الائمہ ، علی بن محمد ابن احمد المالکی، عراق، مطبعۃ نجف اشرف ، بی تا۔ ٢٨۔ الغیبۃ ، ابی رینیب ، محمد ابن ابراہیم نعمانی ، مترجم ، جواد غفاری ، تہران ، کتاب خانہئ صدوق طبع اول ، ١٣٦٣ش۔ ٢٩۔ الفتن ، نعیم بن حماد بن معاویہ بن حارث مروزی، متوفی ٢٢٩ھ ، تصحیح ، محمد بن منصور، بیروت،دارالکتب العلمیہ، طبع اول ، ١٤١٨ھ۔ ٣٠۔الصراط السوی فی احوال المہدی۔ ٣١۔ الیواقیت والجواہر ، عبدالوہاب ، شعرانی ، داراحیاء التراث العربی ، طبع اول، ١٤١٨ھ۔ ٣٢۔اصل واصول شیعہ ، محمد حسین کاشف الغطاء ، مترجم ، سید ابن حسن نجفی ، کراچی، ادارۃ تمدن اسلامی ، طبع سوم ، ١٣٩٢ھ۔ ٣٣۔اصول کافی، محمد بن یعقوب کلینی رازی ، مترجم ، محمد باقر کمرہ ای ، قم انتشارات اسوۃ طبع سوم، ١٣٧٥ھ ، وترجمہ صادق حسن زادہ ، نشر صلواۃ ، طبع اول ١٣٨٣ھ ۔ ٣٤۔اصول عقاید ، محسن قرائتی ، قم ، انتشارات سازمان تبلیغات اسلامی ، طبع دوم ، ١٣٩٠ھ ٣٥۔اسلامی انسائیکلو پیڈیا، کراچی ، شاہکار فاونڈیشن ، بے تاریخ۔ ٣٦۔ اعلام الوریٰ باعلام الہدیٰ؛ فصل بن حسن طبرسی؛مؤسسۃ آل البیتؑ لاحیاء التراث ، طبع اول ، ١٤١٧ھ۔ ٣٧۔ اثبات الوصیۃ ، علی بن الحسین مسعودی، بیروت، دارالاضواء ، بے تاریخ۔ ٣٨۔انساب الاشراف ، احمد بن یحی بن جابر بلارزی، متوفی ٩٢ ٨ھ ، تحقیق دکتر سھیل نکار، دارالفکر، بیروت ، طبع اول ، ١٤١٧ھ۔ ٣٩۔انتظار مہدی فن رجال کی روشنی میں تمنا عماد، الرحمن پلیکیشنز، کراچی ، ١٤١٧ھ۔ ٤٠۔امام مہدی، ضیاء الرحمن فاروقی ، اشاعت المعارف ، فیصل آباد ، طبع اول ، ١٩٩٧ئ۔ ٤١۔ امام مہدی،سید محمدباقر الصدر ، مترجم ، نثار احمد خان زینپوری، کنگرہئ بین المللی، شہید صدر، ١٤٢١ھ۔ ٤٢۔ انتظار، مجلہ تخصصی ویژہ امام مہدی ، بنیاد فرھنگی حضرت مہدی موعودؑ ، قم ش ١و٢، سال اول، ١٣٨٠ش۔ ٤٣۔ انتظار، مجلہ تخصصی ویژہ امام مہدی ، بنیاد فرھنگی حضرت مہدی موعودؑ ، قم ش٣و٤، سال دوم ، ١٣٨١ش۔ ٤٤۔ انتظار، مجلہ تخصصی ویژہ امام مہدی ، بنیاد فرھنگی حضرت مہدی موعودؑ ، قم ش ٤٥۔اتفاق در مہدی موعود ، سید علی اکبر قریشی ، قم ، انتشارات اسلامی ، طبع اول ، ١٣٧٠ش۔ ٤٦۔امام مہدی وعلماء اہل سنت ، کراچی ، جامعۃ الاطہر پبلیکشنز ، بے تا۔ ٤٧۔امامت ومہدویت ، لطف اللہ صافی گلپائیگانی ، قم، انتشارات حضرت معصومہ،طبع سوم ١٤٢٠ھ۔ ٤٨۔ آفتاب عدالت ( دادگستر جہان) ابراہیم امینی ، مترجم ،نثار احمد خان ،زینپوری، انصاریان پبلیکیشنز، قم ، ١٤١٥ھ۔ ٤٩۔بحار الانوار ، مولیٰ محمد باقرمجلسی، تہران ، انتشارات کتابفروشی اسلامی ، طبع سوم ١٣٩٨ھ۔ ٥٠۔تاریخ بغدادی، ابی بکر احمد بن بغدادی ، مصر، دارالمعارف ، ١١١٩کورش فیل ۔ ٥١۔تاریخ ابن عساکر ، علی بن حسن ہبۃ اللہ شافعی ، شام ، مطبعۃ الردفہ ، ١٣٢٩ھ۔ ٥٢۔ تاریخ الائمہ ، محمد بن جریر الطبری۔ ٥٣۔ تاریخ الغیبۃ الکبری ، سید محمد صدر۔ ٥٤۔ تاریخ الخمیس،حسین بن محمدبن حسن دیار بکری مالکی۔ ٥٥۔ تذکرۃ الخواص ،شمس الدین یوسف بن قزعلی حنفی،بیروت، موسسۃ آل البیتؑ ، بی تا۔ ٥٦۔ تفسیر کشاف ، جاراللہ محمود زمخشری ،بیروت، دارالکتب العربی ، بی تا۔ ٥٧۔تراثنا وموازین النقد، احمد الکاتب ، منتشرہ در مجلہ نقد الحدیث، آستان قدس رضوی ۔ ٥٨۔ تہذیب التہذیب ، شہاب الدین احمد علی بن حجر عسقلانی ، تحقیق عبدالقادر عطا، دارالکتب العلمیہ، بیروت طبع اول ، ١٤١٥ھ۔ ٥٩۔ تلبیس ابلیس ، ابی الفرج عبدالرحمن بن جوزی ، تحقیق ، محمد حسن اسماعیل ، دارالکتب العلمیہ، بیروت طبع اول ، ١٤١٨ھ۔ ٦٠۔تاریخ ابن خلدون ، عبدالرحمن ، تحقیق ، استاد خلیل شحاوہ، بیروت ، دالفکر ، طبع سوم، ١٤١٧ھ۔ ٦١۔دانشمندان عامہ ومہدی موعود، علی دوانی ، ہران ، دارلکتب الاسلامی ، طبع سوم ١٣٦١ش۔ ٦٢۔زندگانی خاتم الاوصیاء امام مہدی ، باقرشریف ، مؤسسۃ نشر فقاہت ، طبع اول ١٤١٨ھ ٦٣۔ دائرۃ المعارف ، فرید وجدی ٦٤۔ دائرۃ المعارف اسلامی ، ادارۃ تحریریہ ، دانشگاہ پنجاب ، زیر اہتمام دانشگاہ پنجاب طبع اول ، ١٤٠٧ھ۔ ٦٥۔ خمس رسایل، شہاب الدین احمدبن اسماعیل حلوانی، مطبعۃ الامیریہ ، مصر طبع اول، ١٣٠٨ھ۔ ٦٦۔خورشید مغرب ، محمد رضا حکیمی ، دفتر نشر فرھنگ اسلامی ، ١٣٦٠ ش۔ ٦٧۔سنن ابی داوود ، حافظ سلیمان ابن الاشعث سجستانی ، متوفی ٢٧٥ھ ، تحقیق محمد محی الدین عبدالحمید ، بیروت، داراحیاء التراث العربی، بی تا۔ ٦٨۔سنن ابن ماجہ ، ابی عبداللہ محمد بن یزید بن عبداللہ بن ماجہ، متوفی ٢٧٣ھ ، تحقیق محمد فواد الباقی،بیروت، دارالکتب العلمیہ ، ۔ ٦٩۔سنن ترمذی ، ابی عیسیٰ محمد بن سورہ ،تصحیح محمد جمیل عطار ، بیروت ، دار الفکر ، ١٤١٤ھ۔ ٧٠۔سیرت علی قرآن کریم کی روشنی میں ، سید شیر احمد ، محمد یوسف ، ، راوالپنڈی تحفظ ناموس صحابہ ، جوہڑیاں، بے تا ۔ ٧١۔ سیر اعلام النبلاء ، محمد بن احمد بن عثمان ذہبی ، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ ، طبع یازدہم ١٤١٧ھ۔ ٧٢۔ستارگان درخشان ، ج١٤، محمد جواد نجفی ، شیران ، تہران ،کتابفروشی اسلامی ، طبع پنجم ، ١٣٧١ھ۔ ٧٣۔ شذرات الذہب فی اخبار من ذہب ، ابی الفلاح عبدالحی بن عماد حنبلی ، متوفی١٠٨٩ھ داراحیاء التراث العربی ، بیروت۔ ٧٤۔شواہد النبوہ ، عبدالرحمن جامی حنفی۔ ٧٥۔ صحیح بخاری ،ابی عبداللہ محمد بن اسماعیل بیروت ، دارالحیل ، بے تا۔ ٧٦۔صحیح مسلم، بشرح امام نووی ، مسلم بن حجاج نیشاپوری ، بیروت ،دارالکتب العربی ، طبع چہارم ١٤٠٧ھ ودار احیاء التراث العربی ، بے تاریخ۔ ٧٧۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر ، یوسف بن علی بن عبدالعزیز مقدسی ، تحقیق عبدالفتاح الحلو، انتشارات نصایح ، طبع اول ، ١٤١٦ھ۔ ٧٨۔عیون اخبار الرضا ، محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ القمی ،شیخ صدوق ، بیروت ، موسسۃ الاعلمی ، طبع اول ، ١٤٠٢ھ۔ ٧٩۔ غایۃ الواعظ ، ومصباح المقغط... خیر الدین ابی العبرکات نعمانی ( آلوسی زادہ ) حنفی ، مصر، مطبعۃ الامیریہ طبع اول ١٣٠١ھ۔ ٨٠۔ فرایدا لسمطین ، ابراہیم بن محمد ابن المؤید الجوینی الحموی الشافعی، متوفی ، ٧٣٠ھ ، تحقیق ، محمد باقر محمودی ، مؤسسۃ المحمودیہ ، بیروت، طبع اول ، ١٣٩٨ھ ۔ ٨١۔ فوائد الفکر فی اخبار المنتظر ، یوسف مقدسی حنبلی ، تحقیق ساقی غریری ، مؤسسۃ المعارف الاسلامیہ ، قم ، طبع اول ، ١٤٢١ھ۔ ٨٢۔ قومی ڈائجست ، مجیب الرحمن شامی ، مفتی محمود ایڈیشن ، ١٩٨١ئ۔ ٨٣۔کتابیات علیہ امامیہ ، ج١، سید حسین ، دارالتبلیغ امامیہ، اسلام آباد ، بے تاریخ۔ ٨٤۔ کتاب الغیبہ ، ابی جعفر محمد بن الحسن الشہیر بہ شیخ طوسی، مؤسسۃ معارف اسلامی ، طبع اول ١٤١١ھ۔ ٨٥۔کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ، علی بن عیسی اربلی، مترجم ، حسین رواریی، تبریز ، انتشارات حاج محمد باقر کتابچی، ١٣٨١ھ۔ ٨٦۔ کفایۃ الطالب ، محمد بن یوسف بن محمد الکنجی الشافعی ، تصحیح ، محمد ہادی امینی، داراحیاء تراث آل البیتؑ ، طبع سوم ١٤٠٤ھجری۔ ٨٧۔کربلا کیا ہے ؟ ڈاکٹر پیام ، اعظمی ، یوپی ، امامیہ دارالاشاعہ، اعظم گڑھ ، ہندوستان۔ ٨٨۔ کمال الدین وتمام النعمۃ ، محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ القمی ، شیخ صدوق، بیروت، موسسۃ الاعلمی ، ١٤١٢ھجری، ودار الکتب العلمیہ ، بیروت ، طبع دوم ، ١٣٩٥ھجری۔ ٨٩۔کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال علاء الدین علی بن حسام الدین ( متقی ہندی) موسسۃ الرسالہ ، بیروت،١٤٠٩ھ۔ ٩٠۔معجم احادیث المہدی ، ہیت علمیہ موسسہ معارف اسلامی ، ناشر موسسہ معارف اسلامی ، طبع اول ، ١٤١١ھجری۔ ٩١۔معجم البلدان ، یاقوت بن عبداللہ حموی ، تحقیق ، فرید عبدالعزیر الجندی ، بیروت ، دارالکتب العلمیہ ، بے تاریخ۔ ٩٢۔مجمع الزواید، حافظ نورالدین علی بن بکر ھیثمی ، متوفی ٨٠٧ ھ ، دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤٠٨ ھ ۔ ٩٣۔مجموعہ ای از گفتار دربارہ ئ حضرت مہدی ، تہران ، سمد صدریہ ، طبع اول ، ١٤٠٢ھ۔ ٩٤۔ مروج الذہب ، علی بن حسین مسعودی ، بیروت دار المعرفۃ ، بی تا۔ ٩٥ ۔ مرآۃ العقول ، مولیٰ محمد باقر مجلسی ، تہران ، دارالکتب الاسلامیہ، بے تاریخ۔ ٩٦۔مجلہ حوزہ، ویژہ نامہ امام مہدی، ش ٧٠، ٧١، سازمان تبلیغات اسلامی، ١٣٧٤ھ۔ ٩٧۔منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر، لطف اللہ صافی گلپائیگانی ، مؤسسۃ السیدۃ المعصومہ ، قم ، طبع اول ، ١٤١٩ھ۔ ٩٨۔محاکمہ در تاریخ آل محمد ، قاضی زنگہ بھلول بہجت آفندی حنفی ، مترجم میرزا مہدی ادیب ، تبریز ، کتابفروشی صابری ، ١٣٤٩ش۔ ٩٩۔ مشارق الانوار فی فوز اہل الاعتبار ، شیخ حسن حمزاوی ، متوفی ١٣٠٣ھ مطبعۃ العثمانیہ مصر، ١٣٠٧ھ ۔ ١٠٠۔ مناقب الخلفاء الاربعۃ فی مؤلفات الشیعہ ، عبدالستار تونسوی ، فیصل آباد، دارنشر معارف اسلامی ، بے تاریخ۔ ١٠١۔ منکرین مہدویت کا مدلل جواب ، ج١، محمود حسین حیدری ، قم مدرسہ علمیہ امام خمینی ۔ ١٠٢۔مفاتیح الغیب ( تفسیر کبیر) امام محمد رازی ، فخرالدین بن ضیاء الدین عمر، دارالفکر بیروت، طبع سوم ، ١٩٨٥ء ،١٤٠٥ھ۔ ١٠٣۔مراصد الاطلاع علی اسماء الامکنۃ والبقاع، شیخ عباس قمی ، بیروت ، دارالمعرفہ ، بے تاریخ۔ ١٠٤۔مسند امام احمد ، احمد بن محمد بن حنبل شیبانی ، بیروت ، دارصا ، بے تاریخ۔ ١٠٥۔ نورا لابصار فی فوز اہل الاعتبار ، مؤمن بن حسن بن مؤمن شلنجی ، بیروت، دارالکتب العلمیہ ، بے تاریخ۔ ١٠٦۔نقد الحدیث بین الاجتہاد والتقلید ، محمد رضا حسینی جلالی، مشہد ، آستان قدس رضوی۔ ١٠٧۔ نہج البلاغہ ، مفتی جعفر حسین ، لاہور ، امامیہ کتب خانہ مغل حویلی موچی دروازہ ، بے تاریخ۔ ١٠٨۔میزان الاعتدال ، فی نقد الرجال ، شہاب الدین احمد بن علی بن محمد بن حجر عسقلانی ، تحقیق محمد عبدالرحمن مرعشلی، بیروت، داراحیاء التراث العربی ، بے تاریخ ۔ ١٠٩۔لسان المیزان ، شہاب الدین احمد بن علی حجر عسقلانی ، تحقیق ، محمد عبدالرحمن مرعشلی ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، طبع اول ، ١٤١٦ھ۔ ١١٠۔ لوایح الانوار البہیہ وسواطع اسرار الاثریہ ، شیخ محمد بن احمد سفارینی حنبلی ، بمصر،مطبعۃمجلہ المنار طبع اول ، ١٣٣٤ھ ۔ ١١١۔ وفیات الاعیان وانباء الزمان ، شمس الدین احمد بن ابی بکر خلکان ، متوفی ٦٨١ھ، تحقیق ، احسان عباس ،بیروت ، دار صا، بے تاریخ ١١٢۔٧٩۔ینا بیع المودۃ ، حافظ سلیمان بن شیخ ابراہیم ، ( خواجہ کلال) البلخی القندوزی الحنفی،متوفی ١٢٩٤ھ ، دارالکتب العراقیہ ، طبع دوم ، ١٣٨٥ھ١٩٦٦ئ۔ ١١٣۔ نہج البلاغہ ، ترجمہ وشرح ،مفتی جعفر حسین ، لاہور ، امامیہ کتب خانہ مغل حویلی موچی دروازہ ، بے تاریخ۔ ١١٤۔نہج البلاغہ ، ترجمہ وشرح ، سید ذی شان حدی جوادی ، قم ، انصاریاں پبلیکیشنز، طبع اول ،١٤٢٠ھ۔ ١١٥۔نہج البلاغہ ، ترجمہ وشرح ، میثم ابن علی بن میثم بحرانی ، ترجمہ ، محمد صادق عارف، مشہد ، بنیاد پژوھشہای اسلامی ، آستان قدس رضوی ، طبع اول ، ١٣٧٠ش۔ ١١٦۔نہج البلاغہ ، ترجمہ وشرح ، محمد دشتی ، قم ، مؤسسہ فرھنگی تحقیقاتی امیر المومنین، طبع ١٢، ١٣٨٢ش۔ ١١٧۔نہج البلاغہ ، شرح ، ابن ابی الحدید معتزلی ، بیروت ، دارالفکر ، ١٣٧٣ھ ۔ ١١٨۔ پیام امیر المومنین ( شرح نہج البلاغہ ) ، ناصر مکارم شیرازی وہمکاران ، تہران دارلکتب الاسلامیہ ، طبع اول ، ١٣٨٢ش۔ ١١٩۔ الغیبۃ ، محمد ابن ابراہیم بن جعفر نعمانی ، تحقیق ، فارس حسون کریم ، قم ،نشر، مدین ، طبع اول ٤٢٦ھ۔ ١٢٠۔کمال الدین وتمام النعمۃ ، شیخ صدوق ، ترجمہ منصور پہلوان ، قم ، سازمان چاپ ونشر حدیث، طبع اول ، ١٣٨٠ش۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے صرف علی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں
|
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-01-12) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی صرف علی، مخلصانہ عرضکر رہا ہوں ، یہ طعنہ نہیںہے۔ کہ اس مضمون کو شئیر کرنے کا بہت شکریہ۔ آپ نے اس مضمون کو شئیر کرکے وہ شیعہ روایات اور احادیث پیش کیں جن پر سنی اور اہل سنت یقین و ایمان نہیں رکھتے۔ جو لوگ روایات اور صھیح احادیث کے انجکشن لگاتے رہتے ہیں وہ ان روایات اور احادیث پر کیوںیقین نہیں رکھتے ؟ کیا حضرت علی کی پیش کردہ روایات ، بخاری کی پیش کردہ روایات سے ضعیف ہیں؟
روایات پر یعنی "احادیث"پر یقین رکھنا ہے تو پھر سب احادیث پر یقینرکھو، شیعہ کتب کی روایات پر بھی اور سنی کتب کی روایات پر بھی ![]() والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (07-01-12) |
![]() |
| Tags |
| فن, فرض, گذارش, پاکستان, وزیر, قرآنی, لوگ, نظر, مکمل, موجودہ, آج, ایمان, اللہ, اسلامی, بھائی, توحید, جواب, خلاف, خدا, راستہ, سودا, عیسیٰ, عبادت, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|