واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلامی عقیدہ



اسلامی عقیدہ اسلامی عقیدہ


::::::: نبی اور رسول میں فرق :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-12-11, 11:54 PM   #1
::::::: نبی اور رسول میں فرق :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آن لائن ہے 30-12-11, 11:54 PM

بِسمِ اللہِ و الحَمدُ لِلَّہِ وَحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلَی مَن لَا نَبیَّ بَعدہُ
اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں

::::::: نبی اور رسول میں فرق :::::::

رسول اور نبی میں یقیناً فرق ہے ، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دونوں کا ذکر الگ الگ فرمایا ہے ،
(((((وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ::: اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ ہی کوئی نبی ایسا بھیجا ہے کہ جب اس نے تلاوت کی ہو تو شیطان نے اس کی تلاوت میں وسوسے نہ ڈالے ہوں ، پس جو کچھ شیطان ڈالتا ہے اللہ اسے منسوخ کر دیتا ہے )))))سُورت الحج /آیت 52،
عام طور پر یہ بات معروف ہے کہ نبی وہ ہے جس پر اللہ کی طرف سے وحی ہو، لیکن اُسے اُس وحی کی تبلیغ کا حُکم نہ ہو ،
اور رسول وہ ہے جس پر اللہ کی طرف سے وحی ہو اور اسے اُس وحی کی تبلیغ کا حُکم بھی دِیا گیا ہو ،
لہذا ہر رسول نبی ہوتا ہے ، لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا ، اور اس طرح رسول ہونا ، نبی ہونے سے زیادہ أہم اور زیادہ ذمہ داری والا رتبہ ہوتا ہے ،
لیکن یہ بات دُرست نہیں محسوس ہوتی ، کیونکہ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی سُنّت اور اس کی حِکمت کے مطابق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی ایک شخص کو وحی کرے جو صرف اُس شخص تک ہی محدود رکھے جانے کے لیے ہو اور اس کی تبلیغ یا دعوت دوسروں تک نہ کی جانی ہو ،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک بھی اسی معاملے کی دلیل ہے کہ نبی پر کی جانے والی وحی کی بھی تبلیغ مقصود و مطلوب رہی ہے ، صرف اس نبی تک ہی محدود و مقید رکھے جانے کے لیے اُس پر وحی نہیں کی جاتی تھی ،
(((((عُرِضَتْ عَلَىَّ الأُمَمُ فَجَعَلَ يَمُرُّ النَّبِىُّ مَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِىُّ مَعَهُ الرَّجُلاَنِ ، وَالنَّبِىُّ مَعَهُ الرَّهْطُ ، وَالنَّبِىُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ::: (سفرء معراج کے دوران) مجھے اُمتیں دِکھائی گئیں ، تو کسی نبی کے ساتھ ایک مَرد تھا ، اور کسی نبی کے ساتھ دو مَردتھے ، اور کسی نبی کے ساتھ دس سے زیادہ (اور چالیس سے کم) مَرد تھے ، اور کسی نبے کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا)))))صحیح البخاری/حدیث5752/کتاب الطِب/باب42،
لہذا زیادہ دُرست بات یہ ہے اِن شاء اللہ ، کہ رسول وہ ہوتا ہے جسے نئی شریعت دی گئی ہو ، اور نبی وہ ہوتا ہے جو اُس سے پہلے والے رسول کو دی گئی شریعت کی دعوت و تبلیغ کی تجدید کرتا ہو، جس کی مثال بنی اسرائیل میں مبعوث کیے جانے والے انبیاء علیہم السلام ہیں ، جو کہ موسیٰ علیہ السلام کو دی جانے والی شریعت کی ہی دعوت و تبلیغ کرتے تھے ، اگر وہ دعوت نہ دیتے ہوتے اور ان پر ہونے والی وحی خفیہ رہتی تو پھر اللہ کے یہ فرامین مبارکہ کیا معنی رکھتے ہیں :::
(((((ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ::: ایسا اس لیے ، کہ وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے اور نبیوں کو بغیر کسی حق کے قتل کیا کرتے تھے))))) سُورت آل عمران /آیت112،
(((((سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ::: جو کچھ یہ(یہودی) کہتے ہیں ، اور ان کا بغیر حق کے نبیوں کو قتل کرنا، ہم جلد ہی سب کچھ لکھ لیں گے))))) سُورت /آیت181،
یعنی جنہیں بنی اسرائیل والے یہودی قتل کرتے تھے ، انہیں نبی جاننے کے بعد اور ان سے اللہ کی آیات سن کے اُن آیات کا انکار کرنے کے بعد ہی قتل کرتے تھے ، پس یہ واضح ہوا کہ نبی کو تبلیغ کا حُکم ہوتا ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو یہودی ان نبیوں کو نہ جان پاتے اور نہ ہی اُن سے اللہ کی آیات سن کر اُن آیات کا انکار کرتے اور نہ ہی بدبخت یہودی نبیوں کو قتل کرتے ،
ان آیات مبارکہ اور حدیث شریف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبیوں اور رسولوں علیھم السلام کی طرف کی جانے والی ایسی ہر وحی جو اللہ کے دِین سے متعلق ہو اُس کی تبلیغ کی جاتی رہی ، جی ایسی وحی جو کسی نبی یا رسول کے کسی ذاتی معاملے سے متعلق ہو، دینی احکام و عقائد سے متعلق نہ ہو اُس کے بارے میں یہ گُمان کیا جا سکتا ہے کہ اُس کی تبلیغ کا حُکم نہ ہوتا ہوگا ، مثلاً :::
آدم علیہ السلام کو تما م چیزوں کے نام سکھانے کے لیے اُن کی طرف کی جانے والی وحی،
اُن علیہ السلام کو توبہ کے کلمات سکھانے والی وحی ،
نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کے حُکم پر مشتمل وحی ، اور ہر جاندار مخلوق کا ایک ایک جوڑا اُس کشتی پر رکھ لینے کی وحی ، اور اُن علیہ السلام کے نا فرمان کافر بیٹے کو اُن علیہ السلام کے اھل خانہ میں سے خارج قرار دینے کی وحی ،
اور ابراھیم ، اور اسماعیل علیہما السلام کو بیت اللہ کو عبادت کرنے والوں کے لیے پاکیزہ کرنے کے لیے وحی کرنا ،
اپنے رب کی رضا کے لیے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو قربان کر دینے کی کوشش کی قبولیت کی خوشخبری کی وحی ، اور مزید دو بیٹے ملنے کی خوشخبری کی وحی ،
اور موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کو لے کر دریا کے درمیان میں سے نکل جانے کے بارے میں وحی کرنا ، وغیرہ ،
::: حاصل ء کلام ::: رسول اور نبی میں فرق یہ ہوا کہ ::: رسول وہ ہوتا ہے جسے نئی شریعت دی گئی ہو ، اور نبی وہ ہوتا ہے جو اُس سے پہلے والے رسول کو دی گئی شریعت کی دعوت و تبلیغ کی تجدید کرتا ہو۔
و السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 201
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (30-12-11), محمد عاصم (13-01-12), ابن آدم (19-01-12), عبداللہ حیدر (31-12-11)
پرانا 31-12-11, 12:26 AM   #2
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام و علیکم
عادل بھائی
میں تو سنا ہے رسول اللہ نے دین ابراھیم کی ہی شریعت کو نافذ کیا ہے جس کی شکل دور جاہلیت میں بدل کر کچھ اور ہوگئی تھی
میں نے یہ بھی سنا ہے کے رسول اور بنی میں فرق یہ ہے نبی کسی بھی علاقے اور اطراف میں تبلیغ کرتے رہے ہیں جبکہ رسول پوری قوم متعین ہوتے ہیں‌ نبی کے انکار یا نافرمانی پر عذاب آنا ضروری نہیں لیکن رسول حکم حجت ہے اور نافرمانی پر عذاب آتا ہے

واللہ و علم
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (08-01-12)
پرانا 19-01-12, 01:13 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
السلام و علیکم
عادل بھائی
میں تو سنا ہے رسول اللہ نے دین ابراھیم کی ہی شریعت کو نافذ کیا ہے جس کی شکل دور جاہلیت میں بدل کر کچھ اور ہوگئی تھی
میں نے یہ بھی سنا ہے کے رسول اور بنی میں فرق یہ ہے نبی کسی بھی علاقے اور اطراف میں تبلیغ کرتے رہے ہیں جبکہ رسول پوری قوم متعین ہوتے ہیں‌ نبی کے انکار یا نافرمانی پر عذاب آنا ضروری نہیں لیکن رسول حکم حجت ہے اور نافرمانی پر عذاب آتا ہے

واللہ و علم
۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم فیصل بھائی ، جزاک اللہ خیرا، آپ کا سوال کافی طویل جواب کا متقاضی ہے ،
لیکن وقت کی کمی کے باعث فی الحال اتنا ہی کہتا ہوں کہ کہی سنی باتوں پر بھروسہ کر کے ہم دِین کے کسی بھی معاملے کو دُرسُت طور پر نہیں سمجھ سکتے ، آپ نے اپنے سنے ہوئے میں جو لکھا ہے وہ بھی دُرُسُت نہیں لگتا کیونکہ اُس کی تردید اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام میں ہوتی ہے ،
آپ کی بات کے جواب میں کچھ بھی سمجھنے سے پہلے ہمیں """ دِین """ اور """ شریعت """ کا فرق سمجھنا ضروری ہے ، اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اِن الفاظ کےمحض لغوی معانی و مفاہیم کو ہی نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اِسلامی اصطلاحی مفاہیم کے مطابق ان کو سمجھا جائے گا ،
پہلی بات تو یہ کہ """ دِین """ سب ہی انبیاء اور رُسل علیہم السلام کا ایک ہی رہا ہے ، جو اللہ کی توحید یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی الوہیت، ربوبیت ، ذات اور صِفات کی واحدانیت کا اقرار، اور اُس اقرار کے مطابق عمل کرنا ہے ،
اس کے بعد عبادات ، معاملات میں سے حلا ل و حرام کے بارے میں احکام اور قوانین بدلتے رہے ہیں ، اِن احکام قوانین کے مجموعے کو اِسلامی اصطلاحات میں """ شریعت """ کہا جاتا ہے ،
پس خیال رہے کہ""" دِین """، اور""" شریعت""" ایک نہیں ہوتے ، دِین تو سب ہی انبیاء کا ایک ہی رہا ہے لیکن شریعت الگ الگ ،
اس موضوع کی کچھ وضاحت ایک عرصہ پہلے """دینی دُنیاوی مذھبی """ میں ارسال کی تھی ،
مزید وضاحت کے لیے اللہ پاک کے اس فرمان پر غور فرمایے کہ (((((وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ::: اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب اتاری ہے جو اُس سے پہلے والی کی تصدیق کرنے والی اور اُس کی حفاظت کرنے والی ہے ، لہذا آپ اُن (لوگوں) کے درمیان اُسی کے مطابق فیصلے کیجیے جو اللہ نے نازل کیا ہے اور حق میں سے جو کُچھ آپ کے پاس آیا ہے آپ اُسے چھوڑ کر اُن(لوگوں) کی خواھشات کی پیروی مت کیجیے گا ، ہم نے تُم سب کے لیے (الگ الگ) شریعت اور(اُس پر عمل کا) راستہ بنایا ہے ، اور اگر اللہ چاہتا تو تُم سب کو ایک ہی اُمت بنا دیتا ، لیکن (اللہ نے الگ الگ رکھا ) تا کہ تُم لوگوں کو جو کچھ دیا ہے اُس کے ذریعے تُم لوگوں کو آزمائے ، لہذا تُم لوگ نیکورں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو (اور یقین رکھو کہ) تُم سب کو اللہ کی طرف ہی واپس جانا ہے ، تو پھر اللہ تُم لوگوں کو اُس کے بارے میں بتا دے گا جِس میں تُم لوگ اختلاف کیا کرتے ہو)))))سُورت المائدہ/آیت48،
فیصل بھائی ، مذکورہ بالا آیت کریمہ سے پہلے والی آیات کا بھی مطالعہ فرمایے بالکل واضح ہو جائے گا کہ اللہ پاک نے سب رسولوں علیہم السلام کو الگ الگ """شریعت """ اور اُس پر عمل کرنے کا """منھج """ دیا ، کیونکہ اُن آیات میں پہلے والی کتابوں کا ذِکر ہے ، اور اُن کے ذِکر کے بعد آخری کتاب کو اُن کتابوں پر حاکم قرار دیا ہے ، اور آخری رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام کو پہلے والے رسولوں علیہم السلام پر ، اور اُن کو دی گئی آخری """ شریعت """ کو سابقہ شریعتوں پر ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس مذکورہ بالا فرمان مبارک کے عِلاوہ بہت سے دِیگر اقوال مبارکہ میں یہ بھی روزء روشن کی طرح واضح ہے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی سُنّت مبارکہ رہی ہے کہ اُس نے اپنے ہر نئے رسول کو سابقہ رسولوں کو دیے جانے والے """دِین """ کی تصدیق کرنے والی کتاب دی ، اور سابقہ شریعتوں میں تبدیلی کے ساتھ نئی شریعت دی ہے ، اور ہر زمانے میں نازل کی جانے والی آخری شریعت ہی حتمی مانی جاتی رہی ہے ، اور ہر شریعت میں سابقہ شریعت میں سے کچھ احکام منسوخ کیے گئے ، اور کچھ کو جُوں کا تُوں رکھا گیا ، اور کچھ کی أصل یعنی بنیاد کو برقرار رکھا گیا اور اُن میں مزید اضافے کیے گئے ، یا اُن میں کچھ تبدیلی کی گئی ،،،،،،،،
اِس عمل کو """تبدیل""" کہا جاتا ہے ، خواہ کُلیاً ہو یا جُزیاءً ،
مذکورہ بالا ان سب ہی اعمال میں سے کسی بھی عمل کو """تجدید""" نہیں کہا جاتا ،
فیصل بھائی ، تجدید کا معنی و مفہوم ہوتا ہے کسی چیز کو جس کی اصلی بنیادی پہلی صُورت ، حالت ، کیفیت وغیرہ تبدیل ہو چکی ہو ، یا اُس کےفعلی یا حُکمی صلاحیت ختم ہو چکی ہو تو اُس چیز کو اُس کی اصلی بنیادی پہلی صُورت ، حالت کیفیت ، وغیرہ میں کسی کمی یا زیادتی کے بغیر واپس لایا جانا ، یا اُس کی فعلی یا حُکمی صلاحیت کو کسی کمی یا بیشی کے بغیر پھر سے بحال کیا جانا ،
پس، ہر رسول کو دی گئی شریعت کسی سابقہ شریعت کی ""تجدید""" نہ تھی ، بلکہ """تبدیل""" تھی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد آپ کے سُنے ہوئے کے دوسرے حصے کے بارے میں بات کرتے ہیں :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
میں نے یہ بھی سنا ہے کے رسول اور بنی میں فرق یہ ہے نبی کسی بھی علاقے اور اطراف میں تبلیغ کرتے رہے ہیں جبکہ رسول پوری قوم متعین ہوتے ہیں‌
اللہ تعالیٰ کے اِن فرامین مبارکہ کو پڑھیے فیصل بھائی ، اِن شاء اللہ سب کچھ بہت واضح طور پر سمجھ آجائے گا ،
(((((كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ،،،،،::: پہلے لوگ ایک ہی اُمت تھے (پھر اختلاف کرنے لگے)تو اللہ نے (اُن کی طرف )نبیوں کو بھیجا ، جو خوشخبریاں دینے والے تھے اور ڈرانے والے تھے اور اُن کے ساتھ حق والی کتاب نازل کی تا کہ وہ لوگوں کے درمیان اں معاملات کے فیصلے کریں جن میں لوگوں نے اختلاف کیا ،،،،، )))))سُورت البقرہ/آیت213،
(((((وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ ::: اور ہم نے جس بستی میں بھی نبی ارسال کیا اس بستی کے لوگوں کو سختی اور پریشانی میں بھی مبتلا کیا تا کہ وہ لوگ تضرع اختیار کریں ))))) سورت الاعراف /آیت 94،
یعنی نبیوں کو اللہ نے اُن کی قوموں کی بسیتوں میں ہی بھیجا ، خواہ وہ چھوٹی چھوٹی بستیوں میں آباد تھی ، یا بڑے بڑے شہروں میں ، قوم ، قوم ہی ہوتی ہے اُس کا کوئی گرد ونواح اور اطراف نہیں ہوتا ، جی اگر جغرافیائی طور پر اس بات کو لیا جائے تو بھی بات یہی رہے گی کہ نبی اپنی ساری ہی قوم کے لیے مبعوث ہوتا تھا ، ایسا نہیں تھا کہ نبی تو قوم کی جغرافیائی حدود، یا پوری قوم کی بجائے کسی ایک یا چند ایک لوگوں یا قبیلوں یا خاندانوں وغیرہ کے لیے ہوتا تھا ،
جی اس بات میں کوئی شک نہیں نبی اور رسول علیہم السلام ہمیشہ اُن کی قوموں میں ساری قوم کی طرف پیغام پہنچانے والے بنا کر بھیجے گئے نبی کا کسی قوم کے ایک حصے تک محدود رہنے کا کوئی الہی قانون نہیں تھا ، اور نہ ہی کسی رسول کے لیے صِرف قوم کے مرکز تک ، یا مرکز میں رہ کر تبلیغ کرنے کا کوئی کوئی قانون ربانی تھا ،
پس ہر نبی اپنی قوم میں مبعوث ہوتا رہا ، مرکز و اطراف کی قید کی کوئی دلیل نہیں ، داخل در قوم کچھ لوگوں تک محدود رہ کر تبلیغ کرنے کی کوئی قید نہیں ،زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی نبی یا رسول علیہم السلام کی ذمہ داری صرف اسی کی قوم کی حد تک مقرر کی جاتی تھی،وہ دوسری قوموں میں تبلیغ کا ذمہ دار نہ ہوتا تھا ، سوائے ہمارے نبی اکرم مُحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ، کہ اُنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے سارے ہی انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا ،
(((((وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ::: اور ہم نے آپ کو سارے ہی انسانوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ، اور لیکن لوگوں کی اکثریت (یہ حق بھی)نہیں جانتی )))))سُورت سباء/آیت28،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیصل بھائی ، غور کیجیے کہ لوط، صالح ، شُعیب ، ذالکفل، یُونُس ، علیہم السلام سب ہی نبی تھے ، اِن میں سے کوئی بھی صاحبء کتاب نہ تھا ، اور نہ ہی کسی نئی شریعت والا ، لیکن سب ہی اپنی قوموں کے مرکز میں مأمور تھے ،
ان أنبیاء علیہم السلام کاذِکر قران مبارک میں پڑھیے تو اِن شاء اللہ اُس میں آپ کی سُنی ہوئی تیسری بات :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
‌ نبی کے انکار یا نافرمانی پر عذاب آنا ضروری نہیں لیکن رسول حکم حجت ہے اور نافرمانی پر عذاب آتا ہے
کا جواب بھی ہے کہ ان نبیوں علیہم السلام کی قوموں نے ان کا انکار کیا ، ان کی نافرمانی کی ، اپنے گناہوں اور برائیوں سے باز نہیں آئے تو اُن قوموں پر درد ناک عذاب نازل ہوئے ، اور اُن عذابوں کی زد میں کسی نبی کی نسبت بھی کام نہیں آئی ، جیسا کہ کچھ لوگ نبیوں کی نسبت کی وجہ سے اُن کے رشتہ داروں اور ان کی قوم کو مقدس اور قابل احترام جانتے ہیں خواہ وہ لوگ اللہ کے نافرمان ہی ہوں ، کھلے مُشرک اور کافر ہی ہوں ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر ایک کلمہ گو حق جاننے ، ماننے ، اپنانے اور اسی پر عمل پیرا ہونے کی جرأت عطاء فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (19-01-12), احمد نذیر (21-02-12), شکاری (19-01-12)
جواب

Tags
نبی،رسول،فرق،عادل سہیل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سوچنے کی بات: آپ بھی سوچیں حیدر گپ شپ 29 30-10-11 06:19 PM
منتشر سوچیں نیلم خان شاعری اور مصوری 16 20-08-11 10:09 AM
جنابت کی حالت میں سونا گلاب خان طہارت و نجاست 5 12-11-10 10:30 PM
بلوچستان میں سونے کی کان کا ٹھیکہ غیر ملکی کمپنی کودینے کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج جاویداسد خبریں 0 06-11-10 09:39 PM
:::‌کربلا کانفرنس سولجر بازار میں ہفتہ کومنعقد ہوگی ::: ابو کاشان خبریں 0 03-01-08 12:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger