واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


اختلاف ائمہ اور اسکے اسباب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-05-11, 03:46 PM  
اختلاف ائمہ اور اسکے اسباب
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 20-05-11, 03:46 PM

اسلام علیکم یہ مقالہ جناب شیخ عبدالعزیز صاحب کا تحریر کردہ ہے اسے میں نے ایک فورم پر کسی صاحب کے سوال کے جواب میں ان پیج پر نقل کرکے لگایا تھا اب اس کی افادیت کے پیش نظر اسے آپ لوگوں کے لیے یہاں بھی پیش کررہا ہوں امید ہے آپ لوگوں کو پسند آئے گا۔

علماءمسلمین کے ہاں پا یا جانے والا اختلاف ایک بہت بڑا موضوع ہے اور علم کا ایک باقاعدہ باب۔ ایک چھوٹا سا مقالہ نہ تو اس کی تفصیل کر سکتا ہے اور نہ اس موضوع کا حق ادا کر سکتا ہے۔ تاہم میں یہاں چند اساسی مسائل کی جانب محض اشارہ کروں گا جن سے لاعلم رہتے ہوئے ایک طالب علم کو مسائل شریعت اور علوم دین میں نظر پیدا کرنا روا نہیں۔ بلکہ اگر یہ مسائل اس سے روپوش ہیں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو طالب علم کے مقام پر باور ہی نہ کرے بلکہ اپنا شمار عوام الناس میں اور بے علم لوگوں میں کرے۔

اختلاف ائمہ اور اسکے اسباب (حصہ اول)
پہلا مسئلہ
:
کچھ شرعی مسائل اور دینی قواعد ایسے ہیں جن میں اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں اور ان کو صرف اور صرف تسلیم کر لیا جانا ہی واجب ہے اور جو کہ ۔۔۔
(ایک اصطلاح کی رو سے) قطعیات کہلاتے ہیں۔ یعنی جو امور قطعی طور پر ثابت ہیں اور علماءاسلام کا ان پر اتفاق ہے: مثلاً ارکان اسلام یا ارکانِ ایمان اور ان پر ایمان لانے کی فرضیت، پانچ نمازیں، نمازوں کی رکعات، زنا یا ربا یا شراب یا ناحق قتل وغیرہ ایسے امور کی حرمت۔ اسی طرح وہ قواعد شریعت بھی جن پر علماءمسلمین کا اتفاق ہے اور وہ احکام شریعت کے فہم استنباط میں مستعمل ہیں۔ مثلاً قاعدہ: لا ضرر ولاضرار یا مثلاً حدود کے شبہات کی بنا پر ٹل جانے کا قاعدہ، یا رفع حرج یا جلب تیسیر وغیرہ کا قاعدہ۔

پس واضح ہوا کہ قطعات ان تینوں انواع کے اندر پائے جا سکتے ہیں:

عقائد کے اندر بھی

فروع (احکام) کے اندر بھی

اور قواعد اصولیہ (فہم و استنباط وغیرہ کے قواعد) کے اندر بھی
ان میں نہ تو ’اجتہاد‘ کا کوئی گزر ہے اور نہ ’رائے‘ کا اور نہ ’اختلاف‘ کا۔ بلکہ یہ اس شرعِ عظیم الشان کے وہ اسس اور قواعد ہیں جو اٹل ہیں۔ نہ زمان کے بدلنے کی ان پر کوئی تاثیر ہے اور نہ مکان کے بدلنے کی۔ جو شخص ان کے تسلیم کرنے میں ہی تردد کرے یا ان کے معاملے کو مشکوک ٹھہرائے وہ ملت اسلام سے شذوذ کا مرتکب ہوتا ہے اور شیرازہ اسلام کو بکھیر دینے کا۔ اس کا قول مردود باور ہوگا اوراس کا ’اختلاف‘ کرنا باطل....
البتہ شرع کے وہ مسائل جو ’قطعیات‘ کے ماسوا ہیں اور جن کو کہ کچھ لوگ ’ظنیات‘ کا نام دے لیے تو یہ ہیں اختلاف اور اجتہاد کا محل۔ ان میں ایک عالم کی سمجھ دوسرے کی سمجھ سے مختلف ہو اور آراءمیں یہاں کوئی تنوع پایا جائے تو یہ روا ہے۔ خود شریعت نے ہی اس بات کی ترغیب دی ہے کہ ان امور کے اندر لوگ عقل وفکر سے کام لیں۔ ادراک ومعانی سے لے کر استخراج احکام اور توجیہ عِلل تک مسائل شریعت کے سب پہلوؤں اور حکمتوں تک رسانی کی باقاعدہ دعوت دی گئی ہے۔ وہ لوگ جو اہل نظر ہیں اور اصحاب فکر ہیں اور ذوی العقول اور اولوالالباب ہیں ان کے آگے شریعت نے فکر ونظر کے سب در وا کر دیے ہیں کہ ان میں کا ہر شخص مقدور بھر کوشش کرے کہ وہ معاملے کی تہہ کو پہنچے۔ ہماری شریعت عقل کو آزاد کرانے آئی ہے ان تمام قیود سے جن کے اندر اس سے پہلے ’عقل‘ قید کرکے رکھی گئی تھی۔ اور وہ پہلی قید جس سے اہل علم اور اصحاب فکر کو آزاد کرایا جمود اور تقلید ہے۔ چنانچہ شریعت نے ہر اس شخص کی مذمت کی جو اپنی عقل کو معطل کئے بیٹھا ہے اور اپنے ذہن کی مہار تقلید اور جمود کو سونپ چکا ہے جیسے ارشاد باری ہے۔۔
”وہ دل رکھتے ہیں مگر ان سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے۔ وہ کان رکھتے ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے۔ یہ چوپایوں کی طرح ہیں۔ نہیں بلکہ ان سے بھی گمراہ“۔(الاعراف179)
آخر قرآن کے اتارے جانے اور اس کی آیات کو کھول کر بیان کر دیا جانے اور اس کی امثال کو واضح کر دیا جانے کا اس کے سوا کوئی اور مقصد بھی ہے کہ لوگ ان کے بارے میں سوچیں اور اپنی عقول کو استعمال کریں؟ خدا کا کلام اس موضوع پر کس قدر واضح ہے:
”اور ہم نے یہ ’ذکر‘ تم پر نازل کیا کہ تم (نبی) لوگوں کیلئے وہ چیز واضح کر دو جو ان کی طرف نازل کی گئی اور تاکہ وہ (بھی) تفکر کریں“۔ (النحل: 44)
”اللہ تعالیٰ اس طرح اپنے احکام صاف صاف تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے، تاکہ تم سوچ سمجھ سکو“۔ (ترجمہ جونا گڑھی) (البقرۃ:219)


”یہ مثالیں ہیں جنہیں ہم لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور وفکر کریں“۔ (الحشر: 21)

قرآن نے تفکر پر بے انتہا زور دیا ہے اور جمود کی اور عقل کو معطل کر رکھنے کی بے حد مذمت کی ہے:

”کہو کیا ایک اندھا اور ایک دیکھنے والا برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم تفکر نہیں کرتے؟“۔
قرآن نے اس بات کی بھی مذمت کی ہے کہ آدمی دوسرے کی عقل پر سہارا کرنے میں اس حد تک چلا جائے کہ یہ اس کے قبول حق میں ہی مانع ہو جائے اور اس کی اپنی عقل وتفکیر بالکل معطل ہی ہو کر رہ جائے۔ یہی بات کفار کے راستے کھو دینے کا سب سے بڑا سبب تھی:
”اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راہ پر اور) اور ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں“۔ (الزخرف:23)

دوسرا مسئلہ:

فکر ونظر اور اجتہاد کو شریعت نے جو روا رکھا ہے تواس کے لوازم میں یہ خودبخود آتا ہے کہ ذوی العقول اور اصحاب تفکیر اور اہل اجتہاد کے مابین کسی وقت اختلاف بھی ہو جائے کیونکہ مخلوق میں خدا کی جو سنتیں ہیں ان میں یہ بات معلوم ہے کہ خدا نے اپنی سب مخلوق کو قوتِ ادراک اور صلاحیت فہم اور حدود عقل میں ایک برابر نہیں رکھا تاآنکہ یہ سب کی سب ایک ہی عقل اور ایک ہی فہم بن جائے۔ فہموں کے اندر اختلاف آئے گا اور آراءمیں تنوع لازماً پایا جائے گا کیونکہ عقول اور مدارک کا اپنا ہی معاملہ ایک سا نہیں۔ قوت وصنف کے معاملہ میں بھی اور وسعت ومحدودیت کے معاملہ بھی۔

نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مِّن نَّشَاء وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ (یوسف:76) ”ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے“۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اختلاف اگر اس باب میں ہو تو شریعت اس پر تشنیع نہیں کرتی بلکہ اس کی گنجائش باقاعدہ طور پر باقی رکھتی ہے۔ تاہم شریعت نے اُمت کا اس معاملہ میں یہ لحاظ رکھا ہے کہ ان پر واضح کر دیا کہ اختلاف ہو جانے کی صورت میں طریق کار کیا اپنائیں اور تب ان کا طرز عمل کیا ہو تاکہ ان کا ’اختلاف‘ کہیں ’انحراف‘ نہ بن جائے اور ’آراءکا تنوع‘ کہیں ’جادہء حق سے خروج‘ تک نہ پہنچ جائے:
”اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اپنے میں سے اولی الامر کی۔ پھر اگر نزاع کر لو کسی چیز میں تو لوٹاؤ اسے اللہ کی طرف اور رسول کی طرف“۔ (النساء:59)

چنانچہ اس آیت میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ مومنین جو اس بات سے متصف ہوچکے ہیں کہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت اور اولی الامر کی اطاعت کے پابند ہوں ان کے مابین نزاع اور اختلاف آجانا ایک ایسا امر ہے جس سے کوئی مفر نہیں اور یہ ضرر رساں بھی ہرگزنہیں جب تک کہ ’نزاع اور اختلاف‘ کرنے والے اس حَکَم پر متفق ہوں جس کی طرف تحاکم کے وہ ہر حال میں پابند ہوں گے اور جس کے دائرہ اختیار سے وہ کسی حال میں باہر نہ جائیں گے....

کچھ ایسا ہی مدلول نبی کے اس فرمان کا ہے:
اذا اجتہد الحاکم فاصاب فلہ اجر ان واذا اجتہد فاخطا فلہ اجر (متفق علیہ)
”فیصلہ کرنے والا جب اجتہاد کرے اور درست فیصلہ کرے تو اس کیلئے دو اجر ہیں اور جب وہ اجتہاد کرے اور خطا کرلے تو اس کیلئے ایک اجر“
۔

کیونکہ ایک سے زیادہ اجتہاد کرنے والوں کا پایا جانا اور پھر یہ کہ اجتہاد میں ’درست‘ نتیجے تک پہنچنے والے شخص اور اجتہاد میں ’غلطی‘ کر لینے والے شخص کا پایا جانا اس کے سوا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا کہ مسائل شرع کے فہم میں اختلاف واقع ہو جانا ممکن ہے۔

اور پھر اگر آپ نبی سے ملنے والے صحیح آثار کا تتبع کریں تو بھی آپ اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ نبی کی زندگی میں عملاً ایسا ہوا بھی اور آپ نے اس کی باقاعدہ تقریر فرمائی۔ چنانچہ صحابہ کا آنحضرت کے اوامر اور آنحضرت کے اقوال کے فہم میں اختلاف ہوا اور اس معاملہ میں ان کے اَفہام ایک دوسرے سے مغایر ہوئے مگر آپ نے کسی ایک پر بھی سرزنش نہ فرمائی۔ ایسے واقعات پر کسی وقت آپ سکوت اختیار فرماتے اور یا پھر کسی وقت فہم مراد کے معاملہ میں آپ ان کو مدد دیتے۔ اس معاملہ کی واضح ترین دلیلیں حدیث بنی قریظہ اور حدیث عدی بن حاتم ہیں۔ بنو قریظہ کے معاملہ میں آپ نے صحابہ کے (نماز کے وقت پر) اختلاف کی بابت خاموشی فرمائی (متفق علیہ) جبکہ عدی بن حاتم نے قرآن کی آیت (حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود ”جب تک کہ تمہارے لئے سفید دھاری سیاہ دھاری سے علیحدہ نہ ہو جائے“) عدی بن حاتم نے یہاں ظاہر لفظ کو لیتے ہوئے دو دھاگے لئے ایک سفید اور ایک سیاہ اور اپنے تکیے کے نیچے رکھ لئے۔ اس پر آپ نے عدی کو صرف اتنا کہا: ”تب تو تمہارا تکیہ بہت عریض ہوا! بھئی یہ رات کی سیاہی ہے اور صبح کی سفیدی“۔ (بخاری)

رسول اللہ سے اس باب میں جو تعقیب اور سرزنش وارد ہوئی اس کا محل وہ لوگ ہیں جو علم کے بغیر اجتہاد کرنے لگ جائیں اور بغیر بصیرت اور بلاثبت وتحقیق فتوے دیں۔ جبکہ آپ سے مروی ہے کہ جن لوگوں نے (جہاد میں) ایک شخص کو جس کے سر پر زخم تھا غسل جنابت کرنے کا فتوی دیا اور اس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی تب آپ نے فرمایا: ”انہوں نے اس کو مار ڈالا۔ خدا انہیں مارے۔ معلوم نہ تھا تو آخر پوچھ لیا ہوتا۔ جہالت کا مداوا یہی تو ہے کہ آدمی کسی سے دریافت کرلے“ (ابن ماجہ، ابوداؤد، احمد، دارمی، دارقطنی)

پس وہ سب نصوص جو اختلاف کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں اس سے مراد وہ اختلاف ہے جو شرع کے حدود اور آداب سے تجاوز کر گیا ہو۔ یا وہ اختلاف جس سے مقصود حق تک رسائی نہ ہو بلکہ ہوائے نفس ہو اور یا پھر تعصب۔ اسی طرح ہر وہ اختلاف جو اس حَکم arbiter سے بغاوت پر مبنی ہو جس کی جانب رجوع کو شرع نے فرض کیا ہو۔ یا جس سے مقصود عقیدہ کے اساسیات میں اختلاف کرنا ہو۔
رہی رسول اللہ کی وہ پیشین گوئی کہ آپ کی اُمت میں نزاع ہوگا تو وہ تفرقہ انقسام ہے۔ اسی لئے آپ نے اس سے خبردار فرمایا۔ اسی طرح آپ کا تہتر فرقوں کی پیشین گوئی فرمانا ہے جو سب کے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک کے تو اس سے مراد وہ اختلاف ہے جو عقائد میں ہو اور ان امور میں ہو جو مسلمانوں کے ہاں مسلمہ اور متفق علیہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے مستفترق کا لفظ استعمال فرمایا نہ کہ مستختلف کا۔ کیونکہ مطلق ’اختلاف‘ تو صحابہ میں بھی واقع ہوا۔ بعید نہیں بعض جاہلوں نے (تہتر فرقوں والی) اس حدیث کو ائمہء اسلام کے مذاہب پر بھی چسپاں کیا ہو خصوصاً آئمہء اربعہ کے مذاہب پر۔ حالانکہ ایک ذرہ بھر سمجھ کا مالک شخص بھی جانتا ہے کہ ان آئمہء کا اختلاف ویسا ہی ہے جیسا اختلاف نبی کے اصحاب میں ہوا۔ اس کا ’تفرقہ‘ سے کوئی تعلق ہی نہیں اس کا تعلق ہے تو اس ’وسعت‘ اور ’رخصت‘ اور ’گنجائش‘ سے ہے جو اُمت محمد یہ کیلئے رکھی گئی ہے۔
رہ گیا وہ ’تفرقہ‘ جو کچھ ان آخری صدیوں میں آکر مقلدین کے ہاں پایا جانے لگا ہے اور جو کہ انحطاط اور زوال کی صدیاں ہیں، تو اس سے وہ اختلاف معیوب نہیں ٹھہرتا جو ان آئمہء ھدی کے ہاں پایا گیا۔ معیوب ہے تو صرف وہ طرز عمل جو ان کے کچھ بے علم اور متعصب پیرکاروں کے ہاں پایا گیا....
البتہ وہ اختلاف جو صحابہ وتابعین اور ان ائمہ ہدایت کے ہاں پایا گیا جن پر پوری اُمت اعتماد کرتی ہے اور جن میں کہ ائمہء اربعہ بھی آتے ہیں تو وہ سب کا سب اختلاف دائرہء شرع کے اندر ہے اور وہ فصیل شرح سے خروج نہیں کرتا۔ فصیل شرع سے جس اختلاف نے خروج کیا وہ ہے خوارج کا اختلاف یا مثلاً روافض کا اختلاف یا جہمیہ یا ان جیسے دیگر طوائف کا جنہوں نے ’شبہات‘ کی بنا پر دین کے ’قطعیات‘ میں کلام کیا۔

تیسرا مسئلہ
وہ علماءاسلام جن پر اُمت اعتماد کرتی ہے جو کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے دور میں پائے گئے ان کا اختلاف صرف اور صرف دلیل کی بنا پر ہوتا ہے اور یا پھر دلیل کا مفہوم اور مدلول متعین کرنے کی بنا پر۔ یہ تصور درست نہیں کہ ان میں سے کوئی عمداً یا کسی دلیل کے بغیر نص کے خلاف چلا گیا ہو۔
ان علمائے اسلام میں سے بطور خاص مجھے ائمہء اربعہ کا ذکر کرنا ہے یعنی ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد۔ جس کا باعث ان کو اس معاملہ میں اُمت کے اندر یہ شہرت حاصل ہو جانا ہے اور جہان کے اندر ان کے مذاہب کا اس زبردست انداز میں پھیل جانا۔
چنانچہ ہر شخص جو علم رکھنے والا ہے اور ان ائمہء اَعلام کے اقوال وفتاوی کا تتبع کرتا ہے اور ان کے استدلال کی حقیقت پر غور کرتا ہے اور ان کے اختیار کردہ علمی اصول وقواعد پر نظر رکھتا ہے وہ اس بات کی سچائی پر پہنچ کر رہتا ہے۔
جس کسی نے بھی ان میں سے ایک کو کبھی مطعون ٹھہرایا ہے یا تو اس کا سبب اس کا اپنا تعصب ہوگا اور یا پھر ان ائمہ کی جلالت علمی کی بابت اس کی اپنی جہالت۔ وجہ یہ کہ ایک محدود نظر شخص جب دیکھتا ہے کہ ان ائمہ نے ’اس قدر زیادہ‘ اختلاف کر لیا ہے اور اس کی عقل میں یہ بات نہیں سماتی۔ یوں اس بات کو قبول کرنا اس کے محدود فہم کے بس سے باہر ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی نظر اس اختلاف کے ظاہر پر جاتی ہے بغیر اس کے کہ وہ اس کی تہہ تک پہنچ پائے اور ان سب پہلوؤں کا احاطہ کر پائے جن پر ان ائمہ کے اقوال کی بنا رکھی گئی.... تب اسے صرف یہ سمجھ آتا ہے کہ یہ ائمہء علم نصوص سے ’تصادم‘ اختیار کئے ہوئے ہیں!

شیخ الاسلام ابن تیمیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف رفع اعلان عن الائمۃ الاعلام میں لکھتے ہیں:

”وہ ائمہ جن کو اُمت کے اندر قبول کیا گیا ہے اور جن کی امامت پر اُمت کے ہاں اتفاق پایا گیا.... یہ ائمہ کسی ایک مسئلہ میں بھی کسی دلیل کے بغیر جو ان پر ظاہر ہوئی ہو کبھی بات نہیں کرتے اگرچہ ایک مبتدی کو دیکھنے میں ایسا لگے کہ یہ ائمہ دلیل سے مفارقت کر گئے ہیں“۔ (مجموع الفتاوی ج 20 ص250)

اب میں اس معاملہ میں ایک مثال پیش کروں گا:

مروی ہوا عبدالوارث بن سعید سے، کہا: میں مکہ گیا ___ ایک روایت میں ہے کہ میں کوفہ گیا___ جہاں میں نے (تین ائمہ) ابوحنیفہ، ابن ابی لیلی اور شبرمہ کو پایا میں نے ابوحنیفہ سے دریافت کیا: کیا فرماتے ہیں آپ اس بابت اس شخص کے جو ایک بیع کرتا ہے اور اس پر ایک شرط مشروط کرتا ہے؟“ (ابوحنیفہ نے) جواب دیا:
بیع باطل اور شرط بھی باطل۔ پھر میں ابن ابی لیلی کے پاس گیا اور ان سے وہی سوال کیا۔ (ابن ابی لیلی نے) جواب دیا: بیع جائز ہے مگر شرط باطل۔ پھر میں ابن شبرمہ کے پاس گیا اور ان سے یہی دریافت کیا۔ (ابن شبرمہ نے) جواب دیا: بیع جائز اور شرط بھی جائز۔ میں نے کہا سبحان اللہ! عراق کے تین فقیہ مجھے ایک ہی مسئلہ میں (تین) مختلف فتوے دیتے ہیں! تب میں ابوحنیفہکے پاس آیا اور ان سے یہ (سب ماجرا) کہا۔ (ابوحنیفہ) بولے: مجھے نہیں معلوم ان دونوں نے کیا کہا ہے البتہ مجھ سے بیان کیا عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے اور آگے اپنے دادا (عبداللہ بن عمر) سے ان النبی نھی عن بیع وشرط ”کہ منع فرمایا رسول اللہ نے بیع اور (اس پر) شرط سے“ پھر میں ابن ابی لیلی کے پاس آیا اور ان سے یہ سب بیان کیا۔ (ابن ابی لیلی) بولے: مجھے نہیں معلوم ان دونوں نے کیا کہا مجھ سے البتہ بیان کیا ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے، آگے عائشہ سے، فرمایا: ”کہ رسول اللہ نے مجھے امیر فرمایا کہ میں بریرہ کو خرید لوں اور اس پر شرط (قبول) کر لوں مگر پھر اس کو آزاد کر دوں“ لہٰذا بیع جائز ہوئی اور شرط باطل۔ پھر میں ابن شبرمہ کے پاس آیا اور ان سے یہ (کہانی) کہی۔ (ابن شبرمہ) کہنے لگے: مجھے نہیں معلوم ان دونوں نے کیا کہا البتہ مجھ سے کہا مسعر بن کدام نے محارب بن دثار سے، آگے جابر بن عبداللہ سے، کہا: ”میں نے نبی کو ایک اونٹی بیچی اور شرط رکھی کہ مدینہ تک میں اس پر بوجھ ڈھو لوں“ لہٰذا بیع جائز ہوئی اور شرط بھی جائز ہوئی“۔
طبرانی نے روایت کیا۔ ھیثمی نے مجمع الزوائد (ج 4 ص 84) میں اسے ذکر کیا اور کہا: اس کے اندر عبداللہ بن عمر کے طریق میں مقال ہے۔ سیوطی نے اسے اپنی کتاب تبییض الصحیفہ فی مناقب ابی حنیفہ (طبع حیدر آباد) میں بیان کیا اور کہا: طبرانی نے الاوسط میں اس کو اس سند سے بیان کیا: حدثنا عبداﷲ بن ایوب القزی ثنا محمد بن سلیمان الذھلی ثنا عبدالوارث بن سعید
جہاں تک اُمت اسلام کے معروف ائمہ کے مابین ہو جانے والے اختلاف کے اسباب کا تعلق ہے تو اس کی تفصیل جاننے کیلئے کئی ایک علمی تصانیف میسر ہیں۔ اس موضوع پر سب سے اچھی اور مبسوط تصنیف ایک تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی رفع الملام عن الائمۃ الاعلام اور ایک محمد بن عبداللہ بن محمد بن السید البطلیوسی الاندلسی (متوفی521 ھ) کی کتاب: الانصاف فی التنبیہ علی الاسباب التی اوجبت الخلاف بین المسلمن
مختصراً یہ اسباب یہ ہیں:


(1) کوئی نص ایک امام کو نہ پہنچی ہو۔

(2) اسناد کے معاملہ میں حدیث کے قبول کرنے میں ان کے مابین اختلاف ہو جانا اور قبولِ حدیث کے معاملہ میں ان کے اصول کے مابین کچھ اختلاف پایا جانا۔

(3) کسی نص کو منسوخ ماننے کے معاملہ میں ان کے مابین اختلاف ہو جانا۔
(4) نص سے جو مراد ہے اس کے فہم میں ان کے مابین اختلاف ہوجانا۔
علاوہ ازیں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ عربی لغت کے الفاظ جو معانی اور مدلولات رکھتے ہیں وہ بھی کسی وقت مختلف ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ان میں معانی کا اشتراک پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات ان کے استعمال کئے جانے کے پہلو مختلف ہوتے ہیں۔ جبکہ نبی جوامع الکلم بولتے تھے کسی وقت ان کی تفصیل فرما دیتے اور کسی وقت ان کو مجمل رہنے دیتے۔ ایسا ہی معاملہ قرآن کا بھی ہے۔ بسا اوقات قرآن اور سنت کچھ مسائل کی تفصیل سے خاموش رہتے ہیں اور ان کی تفصیل، مجتہدین کے اجتہاد پر چھوڑ دیتے ہیں جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں غور وفکر کے معاملہ میں گنجائش رکھی گئی ہے اور یہ کہ وہاں اجتہاد کر لیا جانا روا ہے۔


چوتھا مسئلہ:


جاننا چاہیے کہ علم کو لینے اور آگے پہنچانے کے معاملہ میں سلف کے ہاں دو طریقے پائے گئے۔ ایک مدرسہ محدثین کرام کا اور دوسرا فقہا عظام کا۔

امام ابن القیم ان دونوں مدرسوں کی تعریف میں لکھتے ہیں:
”علماءاُمت دو قسموں میں منقسم ہوتے ہیں:


حدیث کے حفاظ اور اسناد کےماہرین جو کہ اُمت کے قائد ہیں اور مخلوق کے امام اور اسلام کے پاسبان، جنہوں نے اُمت کے سب قلعے اور سب مورچے ہمیشہ کیلئے محفوظ بنا دیے اور اس کے علم وفکر کے تمام چشمے گدلے یا بدمزہ ہو جانے سے بچا لیئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے وہ ائمہ جن کیلئے خدا نے یہ رتبہء بلند لکھ رکھا تھا علم کے ان صاف شفاف چشموں سے یوں جام بھر بھر کر پیتے رہے کہ ’آرائ‘ نے ذرہ بھر ان کا ذائقہ نہ بدلا تھا۔ ان کی رسائی اس خالص چشمے تک ہو جاتی رہی۔۔
جو خدا کے خاص عباد کیلئے خاص کر رکھا گیا ہے کہ جہاں سے چاہیں اس کو جاری کر لیں اور جیسے چاہیں پئیں۔
فقہاءاسلام ___ جن کے اقوال پر مخلوق کو دیے جانے والے سب فتاوی کا دارومدار ہے___ جن کو کہ استنباط احکام کیلئے مختص کیا گیا اور جنہوں نے قواعد حلال وحرام کو ضبط میں لانے کیلئے زندگیاں صرف کر دیں۔ سو زمین میں ان کا وہ مقام ہے جو آسمان میں تاروں کا۔ ایک سرگردان اندھیرے میں انہی کی بدولت راہ پاتا ہے۔ مخلوق کی محتاجی ان کیلئے اس سے بڑھ کر ہے جتنی کہ کھانے اور پینے کیلئے مخلوق کی محتاجی۔ ان کی اطاعت مخلوق پر اس سے کہیں بڑھ کر ہے جتنی کہ ان پر ان کی اپنی ماؤں اور باپوں کی اطاعت، ازروئے نص کتاب: ”اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی۔ اطاعت کرو رسول اور اپنے میں سے اولی الامر کی“ کہا ابن عباس نے: اولو الامر ہیں علماء“ (اعلام الموقعین ص 1 ج9)


کہنے کا مقصد یہ کہ محدثین کی شب وروز محنت جس میدان میں ہوئی وہ ہے روایتِ سنت، نقدِ اسانید اور معرفتِ رجال۔ یوں وہ اس قابل ہوئے کہ اسلام کی یہ اصل عظیم ان سب آلائشوں سے محفوظ بنا دیں جو حدیثیں گھڑنے والوں کی حیلہ سازیوں یا پھر کچھ صالحین کی غفلتوں اور کمزوریوں کے باعث ذخیرہ دین میں جگہ پا سکتی تھیں۔ ان کا اس عظیم الشان علم میں زندگیاں کھپا دینا اس بات کا سبب بنا کہ وہ استنباط اور فقہ وغیرہ میں کچھ بہت زیادہ علمی ترکہ نہ چھوڑ پائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کچھ شہرہ آفاق محدثین مانند ابن معین، ابن ابی حاتم، بخاری اور مسلم وغیرہ فقہ پر کچھ بہت زیادہ ترکہ چھوڑ کر نہیں گئے۔

جبکہ فقہاءکی محنت جس میدان میں ہوئی ہے وہ ہے نصوص کا مطالعہ، ان کے معانی کی تفحیص، احکام کی علتوں اور وسعتوں کا استخراج، نصوص کے مابین جمع وترجیح، معرفت ناسخ ومنسوخ، پھر اس کے علاوہ انہوں نے وہ اصول اور قواعد وضع کئے جن کے مطابق نصوص سمجھی جائیں گی اور احکام کا استخراج کیا جائے گا اور حلال وحرام کا تعین ہوگا۔ فقہاءنے اپنے آپ کو فتاوی کیلئے مختص کیا اور اس باب میں ایک ترکہء عظیم چھوڑا۔ قیاس کے باب میں علم کا حق ادا کیا اور اس کی کما حقہ تفریع کی یوں اس باب میں ایک وسیع تراث چھوڑی۔ اس عمل کے نتیجے میں ان کے ہاں پورے کے پورے مذاہب تشکیل پائے۔ ان کے مناہج متمیز ہوئے۔ گو چار مذاہب ان میں سے بہت زیادہ شہرت پا گئے یوں کہ ان میں سے ہر ایک مذہب ایک پورا مدرسہ ہے جو اصول اور قواعد اور فروع پر مشتمل ایک پورا اور باقاعدہ منہج رکھتا ہے....

فقہا کا اس میدان میں متخصص ہو جانا اور اسی میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دینا اس بات کا باعث ہوا کہ وہ علم روایت واسناد کے مرد میدان نہ بن پائیں چنانچہ عمومی طور پر فقہاءنے روایت واسناد کے باب میں کچھ بہت علمی کام نہیں کیا۔ پس بہت کم آپ یہ پائیں گے کہ ایک امام نے روایت کے اندر بھی تبحر پیدا کیا ہو اور فقہ میں بھی، جس کی ایک مثال امام احمد بن حنبل ہیں رحمہ اللہ
جہاں تک امام ابوحنیفہ کا تعلق ہے تو آپ نے روایت کم کی ہے۔ اگرچہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امام ابوحنیفہ حفظ حدیث کا اہتمام نہ کرتے تھے۔ فقہ کے اندر آپ نے جو جواہر چھوڑے ہیں وہ اللہ کے کلام اور رسول کی سنت میں آپ کے غور وفکر کا ہی تو نتیجہ ہے۔ یہ ضرور ہے کہ آپ علم استنباط کیلئے اس حد تک مختص ہوئے رہے کہ جو احادیث آپ تک پہنچیں آپ ان کو آگے باقاعدہ روایت کرنے کا وہ اہتمام نہیں کرتے رہے جیسا کہ محدثین کے ہاں رہا ہے، رہ گیا علم حدیث پر آپ کا نظر رکھنا تو جو بھی اس بات کا تتبع کرے گا کہ ابوحنیفہ دلیل لانے میں کس غایت درجہ کی عرق ریزی کرتے ہیں وہ آپ کی معرفت حدیث کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہے گا....


پھر جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کوفہ اور بصرہ کے اندر امام ابوحنیفہ کے وقت میں ایک سو بیس صحابی پائے گئے اور پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ابوحنیفہ نے چھیتر محدثین اور فقہاء سے علم کی سماعت کی جن میں سے ایک تعداد کا حافظ مزی نے ذکر کیا ہے اور جن میں سے کچھ مشہور نام یہ ہیں:
طاووس، شعبی، عبداللہ بن دینار، عبدالرحمن بن ھرمز، عطائ، قتادہ، زھری، ہشام بن عروہ ودیگر....
اور پھر جبکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ خود ان کے شاگردوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو اپنے وقت کے بڑے محدثین اور حفاظ ہیں مثلاً عبداللہ بن المبارک، ابو یوسف، زفر بن ہذیل ودیگر۔ یوں یہ بات پایہء ثبوت کو پہنچتی ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مذہب آثار و مرویات سے ہی پھوٹتا ہے اور یہ کہ اس مذہب کو بہت سے ندی نالے ایسے حاصل رہے ہیں کہ اسے بھی سنت کے گھاٹ سے ہی پینے کو ملا ہے....
ابن ابی رزمہ روایت کرتے ہیں کہ جب کبھی کوفہ میں کسی محدث کا ورود ہوتا تو ابوحنیفہ اپنے تلامذہ سے کہتے: معلوم کرو کیا اس کے پاس حدیث میں کوئی ایسی چیز ہے جو ہمارے پاس نہیں۔
(تبییض الصحیفۃ فی مناقب ابی حنیفۃ للسیوطی)

ان حقائق کے ہوتے ہوئے کون یہ تصور کر سکتا ہے کہ ابوحنیفہبس فقیہ ہیں، حدیث کا علم نہیں رکھتے (1) .... آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ آدمی فقہ میں ایک عظیم امام ہو اور حدیث کا عالم نہ ہو۔ چنانچہ آپ بعض محدثین مانند ابوداؤد اور ابن حجر کو دیکھتے ہیں جب ابوحنیفہ کی سوانح عمری biography لکھتے ہیں تو اس حوالے سے کہ ان کے (علم حدیث وغیرہ کی) بابت کچھ کلام کیا گیا ہے! ابوحنیفہ کی امامت کی جانب اشارہ کر دینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ”ابوحنیفہ امام ہیں“۔ ابن حجر کہتے ہیں ”ابوحنیفہ امام ہیں اور ایک شہرہ رکھتے ہیں‘۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,812 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 745
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-05-11), احمد نذیر (23-05-11), حیدر (20-05-11), شمشاد احمد (20-05-11), عبداللہ حیدر (20-05-11)
پرانا 21-05-11, 12:38 PM   #16
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
عالم ربانی یہ تھے تو ہی ان کا دفاع کیا جاتاہے نا!!!

آپ بھی بات کو سیدھا سیدھا نہیں کر سکتے شاید،
اخی۔ ما ھذا "عالم ربانی"۔ ال ایکسپلین درکاری فی الٹرمی۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-05-11, 12:51 PM   #17
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
عالم ربانی یہ تھے تو ہی ان کا دفاع کیا جاتاہے نا!!!
،
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں
یہ طالب علم ہی تھے عالم ربانی نہی تھے بلکل نہی تھے ایسا اپ نے اپنی کم علمی کی وجہ سے کہا ہے اور نہ انھونے اپنے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے ہاں یہ ضرور کہا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے زریعے امت کو ھدایت کی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے ان ہی کو لکھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔

کیا کوئی شخص اردو، پنجابی، بلوچی ، پشتو ، سندھی یا دنیا میں بولی جانے والی 3 ہزار زبانوں کو بولنے والے افراد میں سے کوئی اگر ان کے پاس کوئی مسلہ لاتا تو کیا یہ اس کا سوال سمجھ کر جواب دے سکتے تھے ۔ ۔ ۔
نہی
جب نہی تو بس نہی
بات یہ ہے کہ ابھی تک تو امت اسی اختلاف میں پڑی ہوئی ہے کہ نبی آخرالزمان ص بھی عربی کے سوا کوئی زبان جانتے تھے یا نہی ؟

تو جب اپ نے اپنے اللہ کے سب سے محبوب بندے کے لیے یہ تصور کرلیا کہ وہ باقی دنیاوی زبانیں نہی جانتے تھے اسی لیے اپ نے یہ بھی سمجھ لیا کہ کوئی نہی جان سکتا۔

جب کہ قران پڑھتے ہیں کہ حضرت سلمان علیہ سلام پرندوں اور جنوں تک کی بولی سمجھتے تھے اور بات کرتے تھے ۔۔۔۔

حضرت حضر علیہ سلام کی مثال بھی ہے حضرت موسی علیہ سلام کی زبان کو نہ صرف سمجھے بلکہ ان کے جوابات بھی دئے اور ان سے زیادہ علم بھی رکھتے تھے ۔ ۔ ۔جو کہ اللہ کا ایک خاص فضل تھا
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-05-11, 01:34 PM   #18
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
اخی۔ ما ھذا "عالم ربانی" ۔ ال ایکسپلین درکاری فی الٹرمی ۔

عِلْمِ رَبّانی (عربی) :- وہ علم جو کسی سے سیکھے بغیر اللہ تعالٰی کی طرف سے ودیعت ہو۔



کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (23-05-11), حیدر (21-05-11), حیدر Rehan (21-05-11)
پرانا 21-05-11, 03:35 PM   #19
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو عالم ربانی ایسا عالم ہوا کہ جس نے کسی سے سیکھے بغیر ۔۔۔اللہ سے علم کا تحفہ براہراست حاصل کیا ہو۔
تو اس میں بحث کی کیا بات ہے
کئی ہوتے ہوں گے۔وہ جس کو ہم خداداد صلاحیت کہتے ہیں
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (21-05-11), آبی ٹوکول (21-05-11)
پرانا 21-05-11, 05:15 PM   #20
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایسے عالم ربانی کے قائلین پھر ان کے نام بھی پیش فرمائیں جن کو وہ عالم ربانی سمجھتے ہیں اور یہ بات بھی ثابت فرمائیں کہ انہوں نے کبھی بھی کسی سے علم حاصٌ نہیں کیا تھا!!!

بلکہ اس سے بھی پہلے اسلام کی رو سے عالم ربانی کی یہ تعریف بیان فرما دیں جو کہ کی جا رہی ہے کہ:: اس کو اللہ کی طرف سے ڈائریکت علم عطا ہوا ہو!!!
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (21-05-11), احمد نذیر (23-05-11), عبداللہ حیدر (21-05-11)
جواب

Tags
فورم, پسند, واقعات, قید, قواعد, قرآن, نظر, مکہ, موت, ممکن, مسائل, معلوم, آدمی, ایمان, امیر, اسلام, جواب, حال, حدیث, خدا, دریافت, عقل, صحابہ, صحابی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger