واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


قران پڑھتے ہوئے یا ذکر ازکار کرتے ہوئے ہلا کیوں جاتا ہے ؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-07, 12:15 AM  
قران پڑھتے ہوئے یا ذکر ازکار کرتے ہوئے ہلا کیوں جاتا ہے ؟؟؟
عادل سہیل عادل سہیل آن لائن ہے 27-07-07, 12:15 AM

قُرآن پڑھتے ہوئے ، یا ذِکر اذکار کرتے ہوئے ہلا کیوں جاتا ہے ؟؟؟
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہ ُ
عرصہ دراز سے ذہن میںیہ سوال معلق تھا کہ قران پڑھتے ہوئے اور ذِکر کرتے ہوئے ہم لوگ ہلتے کیوں ہیں ؟ معلق ایک سوال کا جواب ملا ،
کچھ عرصہ پہلے ایک مسئلے کی تحقیق کے لیے تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک بڑی عجیب بات سامنے آئی ، اور عرصہ دراز سے ذہن میں معلق اِس سوال کا جواب ملا ،
امام الزمحشری نے اپنی تفسیر '' الکشاف '' میں سورت الاعراف کی آیت ١٧١ کی تفسیرمیں لکھا ''' جب اللہ نے یہودیوں کے اُوپر طور کا پہاڑ معلق کر دِیا تو وہ سب ڈر کے اپنے چہرے کی داہنی طرف زمین سے لگائے ہوئے سجدے میں گرگئے ، اور بائیں طرف کی آنکھ کو اُوپر رکھا اور پہاڑ کو دیکھتے رہے ، یہی وجہ ہے کہ آپ کو ہریہودی اِسی طرح چہرے کی داہنی طرف پر سجدہ کرتا ہوا نظر آتاہے ، اور جب موسی علیہ السلام نے اللہ کی طرف سے دی گئی تختیوں کو کھولا اور نشر کیا جِن میں اللہ کی کتاب تھی ، تو ہر پہاڑ اور درخت لرزنے
لگا ، یہی وجہ ہے کہ یہودی جب تورات پڑھتے ہیں تو ہلتے ہیں ،
امام محمد بن ابی حیان الاندلسی اپنی ''' تفسیر البحر المحیط ''' میں اِسی آیت کی تفسیرمیں لکھتے ہیں ''' یہ عادت مُسلمانوں کی اولاد بھی آ گئی ، جیسا کہ میں نے مصر میں دیکھا کہ جب وہ قُرآن پڑھتے ہیں تو ہلتے ہیں اور اپنے سروں کو حرکت دیتے ہیں ، لیکن ہمارے ہاں اُندلس اور مغرب کے علاقوں میں اگر کوئی طالب عِلم قُرآن پڑہتے ہوئے ہلے تو اُستاد اُس کوسختی سے منع کرتاہے اور کہتاہے کہ ، مت ہلو اِس طرح تُم یہودیوں کی مشابہت کرتے ہو ''' ، اور الراعی الاندلسی نے ''' اِنتصار الفقیرالسالک ''' میں لکھا ''' اھل مصر نے درس و تدریس کے وقت یہودیوں کی طرح ہلنے کی عادت اپنا لی ، اور یہ کام یہودیوں کے کاموںمیںسے خاص ہے '''
حیرت کی بات ہے کہ یہ کام ابھی تک ہم مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستان ، ہند ، بنگلہ دیش کے مسلمانوں میں ہو رہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمارے سب احوال کی اصلاح فرمائے۔
السلام علیکم ، طلبگارِ دُعا ، عادل سہیل ظفر۔



__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1572
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (30-05-10), پاکستانی (30-05-10), ھارون اعظم (29-05-10), یاسر عمران مرزا (30-05-10), محمد عاصم (20-06-10), محمدمبشرعلی (18-10-10), مرزا عامر (03-09-10), آصف وسیم (17-09-10), ابو عمار (30-05-10), حضرت بنگش (17-02-09), سحر (06-09-10), شمشاد احمد (04-09-10), ضِرار Derar (08-06-10), طارق راحیل (07-09-10), عبدالقدوس (10-06-10)
پرانا 06-09-10, 06:27 AM   #31
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہماری دعائیں اور تمنائیں ‏آپ کے ساتھ ہیں بھائی
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-09-10), کنعان (06-09-10), عادل سہیل (07-09-10)
پرانا 07-09-10, 06:14 AM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

جس کی مرضی ھے قرآن مجید کی تلاوت ہل کر کرے یا بغیر ہلے کرے مگر یہ کہنا کہ یہودیوں می مشابہت ھے تو 1947 میں پاکستان معرض وجود میں آیا اور اس وقت سے اب تک پاکستان سے اسرائیل میں جانے پر پابندی ھے جس پر پاسپورٹ پر ریسٹرکشن سپیشل سٹیپ لگائی جاتی ھے۔ اور انٹرنٹ سے بھی اگر کسی نے یہودیوں کو ہلتے ہوئے دیکھا ھے تو چند سال پہلے ہی دیکھا ہو گا کہ وہ ہلتے ہیں۔

پاکستان میں کسی بھی مدارس میں چلے جائیں وہاں پر قرآن مجید سیکھنے پڑھنے والے بچے اور بڑے قرآن مجید پڑھتے وقت ہلتے ہوئے ہی نظر آئیں گے۔ نہ وہ اسرائیل گئے اور نہ انہوں نے کسی کو دیکھا۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
خوش آمدید کنعان بھائی ،
پیارے بھائی ، میں نے اس تھریڈ کا آغاز جس دھاگے سے کیا اُس میں صدیوں پہلے فوت شدہ أئمہ کرام رحمہم اللہ کی باتیں باحوالہ منقول ہیں ، پاکستانیوں یا چند سال پہلے کے مسلمانوں کے قران پڑھتے ہوئے ہلنے کا ذکر نہیں ، اور نہ ہی اُن کے ذکر و اذکار کرتے ہوئے ہلنے کا معاملہ بیان ہوا ہے ، بلکہ اُس وقت کے مسلمانوں میں اس عادت کے وجود کا ذکر ہوا ہے اور یہ عادت مسلمانوں میں کہاں سے آئی اس کا بیان ہوا ہے ، اور میرا خیال ہے کہ اسی کے مطابق بات ہو رہی ہے کہ مسلمانوں میں یہ عادت کہاں سے آئی ، اُن أئمہ رحمہم اللہ نے اس یہودی عادت کو درست پہچانا یا انہوں نے غلط کہا ہے اور یہ جو قران پڑھتے ہوئے اور ذکر اذکار کرتے ہوئے ہلنے کی عادت مسلمانوں میں پائی جاتی ہے وہ درست ہے ،
لیکن ، چونکہ یہ عادت ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے لہذا ہمیں اپنی اس عادت کو جائز قرار دینے کے لیے تاویلات کرنی ہی ہیں، یا ہم لوگ اتنے دلیر ہیں کہ اپنی عبادات سے منسلک عادات کو درست بتانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ افعال کو بھی یہودیوں کی مشابہت قرار دے سکتے ہیں ؟؟؟
اِنّا للہِ و اِنّا الیہِ راجعون ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
اگر قرآن مجید پڑھتے ہوئے ہلنے کو یہودیوں کی مشابہت کہا جائے تو پھر یہاں پر ایک اور مسئلہ بھی سامنے آتا ھے وہ یہ ھے کہ سعودی عرب والے جب نماز پڑھتے ہیں تو وہ اپنے دونوں ہاتھ ناف پر باندھنے کی بجائے سینے پر باندھتے ہیں، اور اس پر اگر حدیث مبارکہ سے مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں طریقوں سے نماز پڑھائی مگر آخری وقت میں دونوں ہاتھ ناف پر باندھ کر نماز پڑھائی، اور سینے پر ہاتھ باندھ کر نماز پڑھانے کی وجہ بھی حدیث مبارکہ سے ملتی ھے کہ کیوں ایسا کیا جاتا رہا۔
ماشاء اللہ ، کنعان بھائی ، نماز میں سینے پر ہاتھ رکھنا صرف سعودی عرب والوں تک محدود نہیں ، سعودی عرب والے یا کوئی اورمسلمان جو نماز میں ہاتھ سینے پر رکھتے ہیں الحمد للہ آپ نے خود ہی فرمایا کہ احادیث سے ثابت ہے ،
اس کے بعد آپ نے دو ایسی باتیں فرمائی ہیں جن کی تفصیل یقینا ہم سب کے لیے بہت دلچسپ ہو گی ، پس آپ سے گذارش ہے کہ ان دو معاملات کی کچھ با حوالہ دلائل کے ساتھ تفصیل عنایت فرمایے کہ :::
(۱ )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے آخری وقت میں اپنے سینے مبارک پر اپنے دونوں ہاتھ مبارک "رکھ کر" نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا ، اور اس کی بجائے ناف پر "ہاتھ باندھ " کر نماز پڑھتے یا پڑھاتے تھے ؟؟؟
ایک خصوصی درخواست یہ بھی ہے کنعان بھائی کہ دلائل کے بارے میں ائمہء محدثین کے احکام بھی ذکر فرما دیجیے گا ، جزاک اللہ خیراً ،
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سینہ مبارک پر ہاتھ شریف """ رکھ """ نماز پڑھتے تھے تو اس سینہ مبارک پر ہاتھ رکھنے کا کوئی خاص سبب تھا !!!
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
اب اگر قرآن مجید کو ہل کر پڑھنا یہودیوں کی مشابہت ھے تو پھر نماز میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھنا بھی یہودیوں سے اب بھی ثابت ھے کیونکہ یہودی اب بھی نماز سینے پر ہاتھ باندھ کر پڑھتے ہیں۔ اس پر یو ٹیوب میں یہودیوں کو نماز پڑھنے پر کلپ دیکھے جا سکتے ہیں پھر بھی میں ایک کلپ لگا کر دکھا دیتا ہوں
لگتا ہے کنعان بھائی ، آپ نے یہ مراسلہ کچھ جلدی میں لکھا ہے ،
میرے بھائی جب آپ خود یہ مان چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سینہ مبارک پر ہاتھ شریف """ رکھ """ نماز پڑھتے تھے ، تو اس کے بعد بھی معاذ اللہ اس کام کو یہودیوں کی مشابہت میں شامل کرنے کی بات کر دی !!!
بھائی ، جس کام کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی فعل مبارک سے سندء قبولیت ملی ہو اُسے آپ کس طرح کسی اور کی مشابہت قرار دے سکتے ہیں !!! ؟؟؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ میں کہیں قران پاک پڑھتے ہوئے ہلنے کا ، یا ذکر اذکار کرتے ہوئے ہلنے کا کچھ ذکر میسر ہے ؟؟؟ جو آپ نے نماز میں سینے پر """ ہاتھ رکھنے """ کے معاملے کی مثال دے کر دونوں معاملات کو ایک جیسا سمجھا یا سمجھانے کی کوشش کی ؟؟؟
کنعان بھائی آپ جیسے با خبر انسان سے یہ چھپا تو نہ ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تو اکثر کاموں میں یہودیوں کی مخالفت کا حکم فرمایا کرتے تھے ، اور سابقہ امتوں کے کاموں کے مطابق کام کرنے کو نا پسند فرماتے تھے اور اس بار بار منع فرماتے رہے ، یہاں تک یہودیوں کو بھی اس بات کا خوب اندازہ تھا اور یہ کہتے تھے کہ """"" ما يُرِيدُ هذا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ من أَمْرِنَا شيئا إلا خَالَفَنَا فيه ::: یہ شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) تو ہمارے کاموں میں سے کوئی چیز ایسی نہیں چھوڑنا چاہتا جِس میں ہماری مخالفت نہ کرے """""" صحیح مسلم / کتاب الحیض/ باب 2،
تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انہوں نے یہود کے طریقہ نماز کو اپنایا ہو ؟؟؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہود کی نماز کے جن وڈیو کلپس کو دیکھ کر آپ مسلمانوں کی نماز میں یہودیوں کی مشابہت محسوس فرما رہے ہیں ، اس کا معاملہ برعکس ہے ، یعنی ان کلپس میں یہودیوں نے مسلمانوں کی نماز کی مشابہت اختیار کر رکھی ہے ،یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ جان بوجھ کر مسلمانوں میں گمراہی پھیلانے کے لیے یا کسی اور سبب سے؟؟؟
بہر حال یو ٹیوب پر تو کچھ ایسے عناوین کے کلپس بھی ہیں کہ:::
jew pray like a muslim
jweish rabi and christians praying like muslims
تو میرے بھائی آج یہودی کس طرح اُس کی نماز پڑھتا ہے یہ ہمارے لیے ہماری نماز کے طریقے میں سے یہودیوں کی نماز سے مشابہت ڈھونڈنے کی دلیل نہیں ، بلکہ یہ بتایے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نماز پڑھنی شروع فرمائی اور جس طریقے سے نماز پڑھنا اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو سکھائی اس میں سے کون کون سا عمل یہودیوں کی مشابہت والا اختیار فرمایا ؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
نماز پڑھنے پر یہ عمل پر روشنی ڈالنا بہت ضروری ھے بنسبت قرآن مجید ہل کر پڑھنے کے دونوں مسئلے آپ کے سامنے ہیں اس پر کیا جواز پیش کیا جا سکتا ھے۔ بات وہی ھے جیسے ایک بھائی نے لکھا کہ نماز میں سر کو دھانپنا اب وہ ٹوپی سے ڈھانپیں یا کپڑے سے تو وہ تو یہودی بھی ڈھانپتے ہیں۔ تو اسے یہودیوں کی مشابہت کہنا بھی درست نہیں۔
دونوں مسئلے بالکل الگ ہیں ، میرے پیارے بھائی ، ابھی ابھی اس کی بات کی گئی ہے ، اسی طرح نماز میں سر ڈھانپنے کا معاملہ ہے ، کنعان بھائی ، نماز یا غیر نماز ، سر ڈھانپنے کے معاملے کی بھی کچھ تفصیل عنایت فرما دیجیے ، دیکھیے تو کہیں اس معاملے میں یہودیوں کی مشابہت کے بارے میں کچھ اِرشاد ء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میسر ہے ؟؟؟ ہے تو کیا ہے ؟؟؟
اور کیا وہ آپ کی یا کسی اور بھائی کی کہی ہوئی بات کی موافقت کرتا ہے ؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
قرآن مجید پڑھتے ہوئے ہلنا تو بہت دور کی بات ھے قرآن مجید پڑھتے ہوئے لوگوں پر وجد کی کیفیت بھی طاری ہو جاتی ھے۔
بہت خوب کنعان بھائی ، اس مراسلے میں تو آپ نے بہت سے سوالات کرنے پر مجبور کر دیا ہے ، پیارے بھائی یہ بھی بتا دیجیے کہ یہ """ وجد کی کیفیت """ کیا ہوتی ہے ؟؟؟
اس کو بھی میں اچھی طرح سمجھنا چاہتا ہوں ، باقی ان شاء اللہ آپ کی مہیا کردہ معلومات کے بعد ، ممکن ہے ان کے بعد مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ ہو ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
اس کلپ میں 1 منٹ کے بعد دیکھ سکتے ہیں
اس یہودی نے نماز میں اپنے ہاتھ کہاں باندھے ہوئے ہیں۔ اور یہ سجود کے بعد رکوع کرتے ہیں جیسا اس کلپ میں نظر آ رہا ھے[/COLOR]
کنعان بھائی ، یو ٹیوب میں یہودیوں کی نماز کے کلپس کے بارے میں بات ابھی ابھی کر چکا ہوں ، مزید گذارش یہ ہے میرے محترم بھائی کہ یہود کی وہ نماز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں تھی ، اور اس کے بعد صدیوں تک رہی ، اس کے بارے میں قران اور صحیح احادیث میں کیا خبر میسر ہے ؟؟؟ کچھ ان کی روشنی میں یو ٹیوب میں یہودیوں کی نمازوں کے سارے ہی منظر دیکھ کر بتایے کہ کونسے مناظر اُن کی نماز کے اُس طریقے کے مطابق ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ ء مبارک میں تھا ؟؟؟
اور کون سے طریقے اب ایسے ہیں جو انہوں نے بعد میں اختیار کر لیے ہیں ؟؟؟
اگر آپ قران اور صحیح احادیث کا مطالعہ فرمائیں اور تاریخ میں یہودیوں کی نماز کی کیفیات کے بارے میں پڑھیں تو ان شاء اللہ پھر آپ یہ کچھ نہ کہیں گے جو کچھ کہا ہے ،
جیسا کہ معروف ہے کہ یہودی اُن کی نماز میں رکوع نہ کرتے تھے ، لیکن اب وہ رکوع کرتے دکھائی دیتے ہیں !!!!!
تو کیا جو کچھ اب یہ یہودی اپنی نماز میں کرتے دکھائی دیتے ہیں وہ سب کچھ وہ لوگ اس وقت بھی کرتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مسلمانوں کو نماز سکھائی ، اور ان میں ، اور ان کے ساتھ نماز پڑھتے اور پڑھاتے رہے؟؟؟
میرے محترم بھائی ، یہودیوں نے اپنے دین کو بدل دیا ، اور اب تک مسلسل تبدیلی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں ، شاید اس بارے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہوں گے ،
یہ بات پھر گذراش کرنا چاہتا ہوں کہ سابقہ امتوں کے اعمال میں سے جس عمل کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فعل مبارک یا قول مبارک سے سندء قبولیت ملی ہو اُسے کسی مسلمان کی طرف سے کسی کافر کی مشابہت کہنا تو دور ٹھہرا ایسا سوچنا بھی تقریباً نا ممکن لگتا ہے ،
لیکن اس سے پہلے اس بات کا واضح ثبوت پیش کیا جانا چاہیے کہ واقعتاً وہ عمل کسی کافر قوم کی عبادات میں ، یا ان کے دین کے شعار کے طور پر ان کے ہاں مروج تھا ،،،،، غور فرمایے ،،،،،
میرے بھائی ، جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کیا ہے مسلمان اسے یہودیوں کا عمل سمجھ کر قبول نہیں کرتے ، اپنے الفاظ کے استعمال پر توجہ فرمایے ، اور خیال رکھیے کہ آپ جوش میں کہیں کچھ ایسا تو نہیں کہہ گئے جو نہیں کہا جانا چاہیے ،
کون مسلمان ایسا ہو گا جو یہ جان لے کہ جس عمل کو وہ اللہ کی عبادت یا عبادت کا جز سمجھ رہا ہے وہ کسی کافر قوم کے مخصوص اعمال یا عبادات میں سے ہے ، اور پھر بھی وہ اس عمل کو اپنا لے ،
اور معاذ اللہ اگر کوئی ایسا کرتا بھی ہے تو ہمیں اُس عمل کی حقیقت کو بتا کر خود کو اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کو کفار کی مشابہت کی پہچان کروا کر اُن اعمال سے محفوظ کرنے کی کوشش کرنا ہے ، ان شاء اللہ ،
آخر میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے افعال مبارکہ کے بارے میں یہ فرمان پیش کرتا ہوں ، اس پر غور فرمایے اس میں آپ کے سارے ہی مراسلے کا جواب ہے ((((( أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلی اللہ علیہ و عَلی آلہِ وسلم كان يَسْدِلُ شَعَرَهُ وكان الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رؤوسهم وكان أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ رؤوسهم وكان رسول اللَّهِ صَلی اللہ علیہ و عَلی آلہِ وسلم يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لم يُؤْمَرْ فيه بِشَيْءٍ ثُمَّ فَرَقَ رسول اللَّهِ صَلی اللہ علیہ و عَلی آلہِ وسلم رَأْسَهُ ))))) صحیح البخاری ، صحیح مسلم ۔ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
آصف وسیم (17-09-10), ضِرار Derar (21-09-10)
پرانا 07-09-10, 06:47 AM   #33
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادل بھائی صاحب

آپ نے اتنا کچھ لکھ دیا اس کی ضرورت نہیں تھی چلیں مطالعہ کے لئے اچھا ھے، آپ پہلے ایسے ہی بات کرتے، خیر قرآن مجید ہل کر پڑھنا نیا نیا نہیں شروع ہوا 40 سال پہلے میں نے جب قرآن مجید پڑھنا سیکھا تھا تب سے تو میں دیکھ رہا ہوں نیا کہاں سے ہو گیا اور یہ کسی مولوی صاحب کے بس کی بات نہیں کہ وہ کسی کو روکے، پڑھنے والا خود بخود ہلتا ھے۔

قرآن مجید ہل کر پڑھنا اگر یہودوں سے مشابہت ھے تو پھر نماز سینے پر ہاتھ رکھ کر پڑھنے بھی کس لئے شروع کیا گیا تھا اور پھر کیوں ہاتھ ناف پر رکھنے کو کہا گیا جو ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا کہ نماز سینے پر ہاتھ رکھ کے پڑھنی ھے یا ناف پر، کون صحیح ھے اس میں۔ نماز میں ہاتھ ناف پر رکھنا اس لئے جاری رہا ہو گا کہ مسلمان اور یہودی کی نماز میں یہ فرق بھی ختم ہو جائے۔

قرآن ہل کر پڑھنے پر آپ نے جو دھاگہ پیش کیا ھے۔ اس پر نہ تو قرآن مجید سے اور نہ ہی حدیث مبارکہ سے کچھ پیش کی ھے۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (07-09-10)
پرانا 07-09-10, 06:54 AM   #34
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
jew pray like a muslim
jweish rabi and christians praying like muslims
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادل بھائی صاحب

کلپ کے یہ ٹائٹل اتنے اہم نہیں ہیں جو بھی کوئی کلپس کو ڈسٹریبیوٹ کرتا ھے اس ایک کلپ پر ہر کوئی اپنا ٹائٹل بدل دیتا ھے۔ ٹائٹل کی بات نہیں ہو رہی کلپ آپکے سامنے ھے یہودی نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔

قرآن مجید کو ہل کر پڑھنا تو آپ نے یہودیوں کی مشابہت لکھ دیا، جبکہ قرآن مجید پڑھنے والا بھی قرآن مجید کو اللہ کے لئے پڑھتا ھے، یہودوں کی دیکھ کر ان کی عبادت کی طرح نہیں۔

وہ نیت سے ہلتے ہیں اور مسلمان پر کیفیت طاری ہوتی ھے جس سے وہ ہلتے ہیں۔ اگر آپ میں نہیں ھے تو اسے آپ یہودیوں سے تو نہ ملائیں۔ قرآن پڑھا جا رہا ھے کسی یہودی کو سامنے نہیں رکھا جا رہا میرے پیارے بھائی۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-09-10), ضِرار Derar (21-09-10)
پرانا 07-09-10, 12:01 PM   #35
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,695
شکریہ: 4,003
1,175 مراسلہ میں 2,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے نزدیک تو یہ ایک غیر اختیاری فعل ہے
ہل جانے میں میں کوئی مضائقہ نہیں اور نہ ہلنے پر گناہ بھی نہیں
اصل مقصد نیت پر ہے ہم یہودیوں کی مشابہت دین میں نہیں کر رہے دنیا کے ایک غیر اختیاری فعل مین کر رہے ہیں جیسا کے چلتے وقت ہاتھ ہلانا مکھی آنکھ پر بیٹھ جائے تو ہاتھ جھلنا اور روشنی سیدھی آنکھ پر پڑے تو آنکھ پر ہاتھ رکھ لینا ایسے ہی اپنی توجہ سبق پر مرکوز کرنے کے لئے اور اونگھ سے بچنے کے لئے ہلنے سے آواز میں ایک لے بھی شامل سی ہو جاتی ہے اس کو پیدا کرنے کے لئے ایسے عوامل ناجائز نہیں
اور آپ کی بات مان کر چھوڑ دینا چاہین تو بھی برا فعل نہیں
ہلنے کے بجائے ٹھہلنا شروع کر دیں گے
ہلنا تھہلنا جسم کو حرکت دینا یہ اونگھ نیند سے اور بوریت سے بچاتے ہیں اس وجہ سے جہاں ہم ٹھہل نہیں سکتے ہل کر ہی کام چلا لیتے ہیں


آپ سب کی کیا رائے ہے؟؟؟؟
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-09-10), شمشاد احمد (12-09-10)
پرانا 07-09-10, 01:50 PM   #36
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر ہم قران ہل کر پڑھنا چھوڑ دیں تو کیا ہم عظیم قوم بن جائیں گے ۔ اور اگر اسے پڑھتے ہوئے ہلنا بند نا کیا تو کیا ہم پر اسی طرح زلزلے اور سیلاب آتے رہیں گے اور قیامت کے دن ہم سے اللہ پوچھے گا کہ تم نے قران کو ہل کر کیوں پڑھا ۔ قران کریم کا جو اصل مقصد ہے وہ ہے اس کی تعلیمات پر عمل اس متعلق اگر وقت لگایا جائے تو یہ وقت کا بہترین مصرف ہو گا ۔ اور اگر ہم ہلنے اور ٹہرنے میں ہی لگے رہے تو قیامت تک اسی طرح لگے رہیں گے اور حاصل کچھ بھی نہیں ہو گا ۔
اور اس دن( بروز قیامت) ہر ظالم (غصہ اور حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائے گا (اور) کہے گا: کاش! میں نے رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیّت میں (آکر ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتاo ہائے افسوس! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتاo بیشک اس نے میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے اس سے بہکا دیا، اور شیطان انسان کو (مصیبت کے وقت) بے یار و مددگار چھوڑ دینے والا ہےo اور رسولِ (اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھاo (سورۃ الفرقان آیات 27 تا 30 )
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (07-09-10), ابرارحسین (07-09-10), شمشاد احمد (12-09-10), ضِرار Derar (21-09-10)
پرانا 07-09-10, 02:42 PM   #37
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

جب قرآن مجید پڑھا جاتا ھے تو پڑھنے والے کا دھان صرف اور صرف قرآن مجید کی تلاوت سے اللہ سبحان تعالی کی طرف ہوتا ھے، ہلنے والا عمل خود بخود اس کی کیفیت سے ھے، اب اگر کوئی یہ خیال کر لے کہ ہلنا یہودیوں کی علامت ھے جبکہ اس کا قرآن و حدیث میں شائد کہیں بھی کوئی ذکر نہیں تو پھر قرآن مجید پڑھنے والا اپنی توجہ قرآن مجید سے ہٹا کر ہلنے والے عمل کو روکنے میں‌ صرف کرے گا۔ یہ ایک وسوسہ ھے قرآن مجید کی تلاوت سے توجہ ہٹانے کا، اور قرآن مجید کی تلاوت یا دل میں پڑھنے کے دوران کسی اور چیز کا وسوسہ یا خیال لانا درست نہیں۔ اپنا کنسنٹریٹ قرآن مجید پر رکھیں دلوں کے راز اللہ سبحان تعالی جانتا ھے کہ قرآن مجید پڑھنے والا کس نیت سے پڑھ رہا ھے۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-09-10), ابرارحسین (07-09-10)
پرانا 07-09-10, 08:09 PM   #38
Senior Member
 
ناصحی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے خیال میں قرآن مجید پڑھنے کےدوران ہلنا ایک فظری عمل ہے۔

اس کا تعلق Adrenaline Rush اور Fight-or-flight response کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ لوگ صرف قرآن مجید اور تورات پڑھنے کے دوران ہی نہیں ہلتے گُلو کار جب گانا گاتے ہیں تووہ بھی ہلتے ہیں
__________________
ناصحی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ناصحی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (07-09-10), مرزا عامر (07-09-10)
پرانا 11-09-10, 08:45 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb محترم بھإئی کنعان صاحب کے مراسلے رقم 33 کے جواب میں کچھ گذراشات

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادل بھائی صاحب

آپ نے اتنا کچھ لکھ دیا اس کی ضرورت نہیں تھی چلیں مطالعہ کے لئے اچھا ھے، آپ پہلے ایسے ہی بات کرتے، خیر قرآن مجید ہل کر پڑھنا نیا نیا نہیں شروع ہوا 40 سال پہلے میں نے جب قرآن مجید پڑھنا سیکھا تھا تب سے تو میں دیکھ رہا ہوں نیا کہاں سے ہو گیا اور یہ کسی مولوی صاحب کے بس کی بات نہیں کہ وہ کسی کو روکے، پڑھنے والا خود بخود ہلتا ھے۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
سب سے پہلے عید ملتے ہوئے ، صحابہ رضی اللہ عنہم کی سُنّت کےمطابق دُعا کرتا ہوں کہ """ تقبّل اللہ مِنّا و مِنکُم """ اور اس کے بعد ،
جزاک اللہ خیرا ً کنعان بھائی کہ میرے لکھنے میں آپ کو ایک مثبت پہلو نظر آ یا ،
کنعان بھائی ، قران ہل ہل کر پڑھنے کے نئے ہونے کی کوئی بات میری طرف سے کہیں نہیں ہوئی ، میرے ارسال کردہ پہلے یعنی اس دھاگے کے بنیادی مراسلے میں امام الزمخشری کی تفیسر کا حوالہ سب سے پہلا حوالہ ہے اور میرے محترم بھائی امام الزمخشری کی تاریخ وفات 538 ہجری ہے ، چالیس پچاس سال کی کیا بات ہوئی ، یہ تو تقریبا ً نو سو سال پہلے کی بات ہے اور ایک مسلمان امام کی طرف سے ہے کہ یہ عادت یہودیوں کی تھی جو مسلمانوں میں بھی آگئی ،
مولوی صاحب اگر خود نہیں ہلیں گے تو ان کے شاگرد بھی نہیں ہلیں گے ان شاء اللہ ، یہ مشاہد و مجرب ہے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں

قرآن مجید ہل کر پڑھنا اگر یہودوں سے مشابہت ھے تو پھر نماز سینے پر ہاتھ رکھ کر پڑھنے بھی کس لئے شروع کیا گیا تھا اور پھر کیوں ہاتھ ناف پر رکھنے کو کہا گیا جو ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا کہ نماز سینے پر ہاتھ رکھ کے پڑھنی ھے یا ناف پر، کون صحیح ھے اس میں۔ نماز میں ہاتھ ناف پر رکھنا اس لئے جاری رہا ہو گا کہ مسلمان اور یہودی کی نماز میں یہ فرق بھی ختم ہو جائے۔
کنعان بھائی ، نماز میں سینے یا ناف پر ہاتھ """ رکھنے """ کی بات آپ کئی بار کر چکے ہیں اس کے بارے میں ابھی ایک درخواست پیش کروں گا ،
فی الحال ایک دفعہ پھر یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں کہ آپ خود نماز میں سینے پر ہاتھ""" رکھنے """کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا طریقہ مان چکے ہیں ، اور پھر اس کو یہودیوں کا طریقہ بھی بنانے پر مصر ہیں ، اور شاید یہ خیال کیے ہوئے ہیں کہ یہ طریقہ منسوخ یا ممنوع کر دیا گیا ہے ، لیکن اس منسوخ یا ممنوع ہو جانے کی کوٕئی دلیل ظاہر نہیں فرمإئی ،
آپ کے لکھی ہوئی منقولہ بالا عبارت کی آخری سطر کو کچھ سمجھ نہیں پایا ، اگر مناسب خیال فرمایے تو اس کی کچھ وضاحت فرما دیجیے گا ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں

قرآن ہل کر پڑھنے پر آپ نے جو دھاگہ پیش کیا ھے۔ اس پر نہ تو قرآن مجید سے اور نہ ہی حدیث مبارکہ سے کچھ پیش کی ھے۔

والسلام
جی بالکل درست فرمایا ، آپ نے کنعان بھائی ، یہ عادت مسلمانوں میں قران کے نزول ا ور حدیث کے اصدارکے دور کے بعد یہودیوں کو دیکھ کر وارد ہوئی ،
اور یہ ہماری اس بات کی ایک اور دلیل ہے ، اگر یہ کام اُس دور میں یا اس کے بعد کے خیر والے ادوار میں مسلمانوں میں پایا جاتا تو جہاں ہمیں انگلی کی ایک ایک حرکت کی خبر ملی ہے ، قران خوانی کے تمام احکام و آداب ہمیں ملے تو ان میں کہیں تو ہل ہل قران پڑھنے کا ذکر ملتا ، تو یہ اس بات کی منطقی دلیل ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ مبارک اور اس کے بعد خیر القرون میں کہیں یہ عادت مسلمانوں میں نہ تھی ، و للہ الحمد ،
آپ کے اگلے مراسلات کا جواب ان شاء اللہ کچھ دیر بعد حاضر کروں گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (12-09-10), مرزا عامر (12-09-10), ضِرار Derar (21-09-10)
پرانا 12-09-10, 03:34 AM   #40
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb محترم بھإئی کنعان صاحب کے مراسلے رقم 34 کے جواب میں کچھ گذراشات

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادل بھائی صاحب

کلپ کے یہ ٹائٹل اتنے اہم نہیں ہیں جو بھی کوئی کلپس کو ڈسٹریبیوٹ کرتا ھے اس ایک کلپ پر ہر کوئی اپنا ٹائٹل بدل دیتا ھے۔ ٹائٹل کی بات نہیں ہو رہی کلپ آپکے سامنے ھے یہودی نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے ہیں۔

قرآن مجید کو ہل کر پڑھنا تو آپ نے یہودیوں کی مشابہت لکھ دیا، جبکہ قرآن مجید پڑھنے والا بھی قرآن مجید کو اللہ کے لئے پڑھتا ھے، یہودوں کی دیکھ کر ان کی عبادت کی طرح نہیں۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، کنعان بھائی ،
میں بھی تو یہی عرض کر رہا ہوں کہ نماز میں سینے پر """ہاتھ رکھنے""" والے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے نماز میں"""ہاتھ رکھنے """ کا طریقہ سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں ، یہودیوں کا طریقہ سمجھ کر نہیں ،
اور نماز میں """ ہاتھ رکھنے """ کا یہی واحد طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ثابت ہے ،
جب کہ قران ہل ہل کر پڑھنے کے کسی طریقے کا تو کہیں ذکر تک بھی نہیں ،
تو میرے محترم بھائی میں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ جو لوگ قران ہل ہل کر پڑھتے ہیں وہ یہ جاننے کے بعد بھی کہ یہ یہودیوں کی عادت ہے اس عادت کو اپناتے ہیں ،
یہ عادت مسلمانوں میں داخل ہوئی اور حسبء معمول اس کی حقیقت جانے بغیر اس کو اپنا لیا گیا اور پھر آگے چلتی ہی چلی گئی ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں

وہ نیت سے ہلتے ہیں اور مسلمان پر کیفیت طاری ہوتی ھے جس سے وہ ہلتے ہیں۔ اگر آپ میں نہیں ھے تو اسے آپ یہودیوں سے تو نہ ملائیں۔ قرآن پڑھا جا رہا ھے کسی یہودی کو سامنے نہیں رکھا جا رہا میرے پیارے بھائی۔

والسلام
کنعان بھائی ، ایک کیفیت کا بنام """ وجد کی کیفیت """ آپ پہلے بھی ذِکر فرما چکے ہیں اور میں نے درخواست کی تھی کہ یہ تو بتایے کہ یہ """ وجد کی کیفیت """ ہوتی کیا ہے ؟؟؟
کنعان بھائی ، میں اللہ کا شکر گذار ہوں کہ مجھ میں ایسی کوئی کیفیت وارد ہونے نہیں دیتا جو اُس کے دِین میں نہیں ، و لہُ الحمد و المنۃ ،
پیارے بھائی ، میں نے قران ہل ہل کر پڑھنے کو یہودیوں کی عادت نہیں بتایا ، بلکہ نو سو سال پہلے ہو گذرے ایک امام التفیسر کی بات کے ذریعے یہ خبر مہیا کی ہے ، تأمل فرمایے ، اور نہ ہی میں نے یا اُن ائمہ کرام رحمہم اللہ نے کہیں یہ کہا کہ ایسا کرنے والے مسلمان یہودیوں کو سامنے رکھ کر ایسا کرتے ہیں ، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ عادت یہودیوں کی ہے اور ان سے مسلمانوں میں داخل ہو گئی اور مسلمان لا شعوری طور پر اسے اپنائے ہوئے ہیں ، اور اس کو ترک کرنے کی بجائے اس کی درستگی ثابت کرنے کے لیے عقلی تأویلات کا سہارا لے رہے ہیں جبکہ دینی معاملات اور بالخصوص عقائد اور عبادات کے معاملات میں کسی عقلی تأویل کی کوئی گنجائش نہیں ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (12-09-10), آصف وسیم (18-09-10), ضِرار Derar (21-09-10)
پرانا 12-09-10, 08:41 PM   #41
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb محترم بھإئی کنعان صاحب کے مراسلے رقم 37 کے جواب میں کچھ گذراشات

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

جب قرآن مجید پڑھا جاتا ھے تو پڑھنے والے کا دھان صرف اور صرف قرآن مجید کی تلاوت سے اللہ سبحان تعالی کی طرف ہوتا ھے، ہلنے والا عمل خود بخود اس کی کیفیت سے ھے،
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کنعان بھائی ، آپ کے سابقہ دو مراسلات رقم 33 اور 34 کے جواب کے بعد اب آپ کے ابھی تک کے ؔخری مراسلہ رقم 37 کے جواب میں گذارش یہ ہے کہ ، اللہ کرے کہ ایسا ہوتا ہو کہ قران کے ہر قاری کا دھیان قران پڑھتے ہوئے قران مجید کی تلاوت کے ذریعے اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی طرف ہوتا ہو ، پیارے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، قرون الخیر کے لوگ ، اور اب تک لاکھوں مسلمان جن کی زبان قران کی زبان ہے ، اور جن کی قرأت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک لفظ سمجھ کر پڑھ رہے ہیں اور ان الفاظ کا اثر ان کے آنسوؤں کی صورت میں بھی دکھائی دیتا ہے اور ان کی زندگی میں ان کے دیگر اعمال میں بھی ، وہ بے چارے اس دھیان کو کیوں نہیں پا سکے جو ہلنے پر مجبور کر دے ، اُن میں یہ کیفیت کیوں ظاہر نہیں ہو پاتی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں

اب اگر کوئی یہ خیال کر لے کہ ہلنا یہودیوں کی علامت ھے جبکہ اس کا قرآن و حدیث میں شائد کہیں بھی کوئی ذکر نہیں تو پھر قرآن مجید پڑھنے والا اپنی توجہ قرآن مجید سے ہٹا کر ہلنے والے عمل کو روکنے میں‌ صرف کرے گا۔ یہ ایک وسوسہ ھے قرآن مجید کی تلاوت سے توجہ ہٹانے کا،
جی قران و حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں اور یہ ذکر نہ ہونا اُس وقت کے مسلمانوں میں اس فعل کی عدم موجودگی کی دلیل ہے ، کچھ بات سابقہ مراسلات میں سے ایک میں ہو چکی ،
ایسا نہیں ہے کنعان بھائی ، یہ محض دل کے بہلاوے کا خیال ہے ، قران پڑھتے ہوئے اس میں تدبر کرنے والا ، اس میں دھیان دینے والا اپنے دھیان میں کمی لائے بغیر اپنی حرکات اور اپنے ارد گرد ہونے والی حرکات کی خبر بھی رکھ سکتا ہے ، اور خود اپنے سے سر زد ہونے والی حرکات کو روک بھی سکتا ہے ، اس سے قرأت اور تدبر اور اللہ کی طرف دھیان میں کوئی کمی نہیں آتی ، اس کی مثالیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قرأت مبارکہ اور وہ بھی دوران نماز قرأت مبارکہ میں بھی ملتی ہیں ، اب کیا معاذ اللہ یہ ہل ہل کر قران خوانی کرنے والے میرے بھائی بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے زیادہ دھیان سے قران خوانی کرنے والے ہیں کہ اس دھیان میں انہیں یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ ان سے کیا حرکات سر زد ہو رہی ہیں !!!؟؟؟
کنعان بھائی ، ہم کتنی عبادات ایسی کرتے ہیں جن میں ادا کیے جانے والے اعمال ، اور جن کی تکمیل کے لیے کیے جانے والے اعمال ہم پورے دھیان سے کرتے ہیں ، اور ہمارا دھیان نہ تو اس عبادت سے ہٹتا ہے اور نہ ہی اس میں کیے جانے والے اعمال سے ، مثلاً مکمل توجہ اور یکسوئی سے نماز پڑھنے والا قرأت کے دھیان میں رکوع و سجود ترک کر دیتا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
قران پڑھتے ہوئے ہلنے والے با کثرت قارئین ایسے ہیں جنہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں ، تو دھیان کیسا !!!!!!!
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
یہ ایک وسوسہ ھے قرآن مجید کی تلاوت سے توجہ ہٹانے کا، اور قرآن مجید کی تلاوت یا دل میں پڑھنے کے دوران کسی اور چیز کا وسوسہ یا خیال لانا درست نہیں۔ اپنا کنسنٹریٹ قرآن مجید پر رکھیں دلوں کے راز اللہ سبحان تعالی جانتا ھے کہ قرآن مجید پڑھنے والا کس نیت سے پڑھ رہا ھے۔

والسلام
کنعان بھائی ، دل میں پڑھنے سے غالباً آپ کی مراد آہستہ دھیمی آواز میں پڑھنا ہے ، بہرحال بلند آواز میں قرأت ہو یا دھیمی آواز میں آپ کی بات درست ہے کہ قاری کو اپنی کنسنٹریشن اپنے اس عمل پر رکھنی چاہیے ، ابھی ابھی گذارش کر چکا ہوں کہ عبادات کے معاملے میں اگر نیک نیتی سے ہو ، تو ایک مین ایکشن سے ریلٹیڈ سب ایکشنز میں اپنی کنسنٹریشن اپلائی کرنے سے سب ایکشن کی ادائیگی میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اس کی ٹھیک طور پر تکمیل ہوتی ہے باذن اللہ ، فُلی کنسنٹریٹڈ نمازی کی نماز میں رکوع و سجود اور دیگر حرکات کی مثال سامنے ہے ، یہ سب وہ کسی آٹومیٹڈ پروگرامڈ میکنیزم کے مطابق نہیں کرتا بلکہ انٹینشنلی کرتا ہے اور اس کے نماز میں دھیان اور کنسنٹریشن پر کوئی فرق نہیں پڑتا ،
کنعان بھائی قران پڑھتے ہوئے یا ذکر اذکار کرتے ہوئے ہلنا ، ایک عادت کی طرح ان عبادت یعنی ساتھ جڑ چکا ہے ، جو کسی کنسنٹریشن کے بغیر ہی ہوا چلا جاتا ہے ، جب کوئی عابد اپنی عبادت میں واقع ہونے والے لا تعلق اعمال سے بےخبر ہو تو اس کی عبادت میں کنسنٹریشن کی حقیقت خوب سمجھ آتی ہے ،
بالکل درست فرمایا کنعان بھائی کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ ہی دِلوں کے حال جانتا ہے ، اسی لیے میرے بھائی شریعت کا کوئی حُکم کس کے دِل کی کیفیت اور اس کے دل کے حال کے بارے میں نہیں دیا جاتا بلکہ اس ظاہری اعضاء کے أعمال کے بارے میں دیا جاتا ہے ،
اب آخر میں ، میں آپ سے خصوصی درخواست یہ کرتا ہوں ، کنعان بھائی ، کہ آپ دو تین دفعہ ایسی بات کہہ چکے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ نماز میں سینے پر ہاتھ رکھنا منسوخ ہو چکا ہے ، آپ کی مجھ پر بلکہ ایسے لا تعداد مسلمانوں پر بڑی مہربانی ہو گی ، اور ان شاء اللہ آپ کے لیے ایک اجر عظیم کا باعث ہو گا کہ آپ اس معاملے کی تفصیل بیان فرما دیں ، ہو سکتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو امت کے ایک بڑے گروہ کو ایک منسوخ کام پر عمل کی غلطی سے بچانے کا سبب بنا لے ،
اور ہو سکتا ہے اس مسئلے کا کوئی ایسا حل سامنے آجائے جو معتدل مزاج لوگوں کے لیے با آسانی قابل قبول ہو ، جس طرح بھتیجے عبداللہ حیدر کے """ نماز کے طریقے """ والے تھریڈز میں رفع الیدین کے بارے میں ایک بڑا اچھا مثبت نتیجہ سامنے آیا ،
امید کرتا ہوں کنعان بھائی کہ آپ اپنے بھائی کی اس درخواست کو شرفء قبولیت سے بازیاب فرمائیں گے اور اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ نکال کر مجھے بلکہ سب قارئین کو نماز میں سینے پرہاتھ """رکھنے """ کے مسنوخ ہونے کی خبر کی تفصیل سے آگاہ فرمائیں گے ، مزید مشورہ یہ ہے کہ اس موضوع کو ایک الگ دھاگے میں کھول لیجیے ، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے ، و السلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھإئی کنعان کے مراسلات کا جواب تمام ہوا ، وللہ الحمد ،
اب ان شاء اللہ مرزا بھائی ، اور بھائی ناسی وایس کے مراسلات کا جواب پیش کروں گا ۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (12-09-10), ضِرار Derar (21-09-10)
پرانا 12-09-10, 10:48 PM   #42
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم

جب قرآن مجید پڑھا جاتا ھے تو پڑھنے والے کا دھان صرف اور صرف قرآن مجید کی تلاوت سے اللہ سبحان تعالی کی طرف ہوتا ھے، ہلنے والا عمل خود بخود اس کی کیفیت سے ھے، اب اگر کوئی یہ خیال کر لے کہ ہلنا یہودیوں کی علامت ھے جبکہ اس کا قرآن و حدیث میں شائد کہیں بھی کوئی ذکر نہیں تو پھر قرآن مجید پڑھنے والا اپنی توجہ قرآن مجید سے ہٹا کر ہلنے والے عمل کو روکنے میں‌ صرف کرے گا۔ یہ ایک وسوسہ ھے قرآن مجید کی تلاوت سے توجہ ہٹانے کا، اور قرآن مجید کی تلاوت یا دل میں پڑھنے کے دوران کسی اور چیز کا وسوسہ یا خیال لانا درست نہیں۔ اپنا کنسنٹریٹ قرآن مجید پر رکھیں دلوں کے راز اللہ سبحان تعالی جانتا ھے کہ قرآن مجید پڑھنے والا کس نیت سے پڑھ رہا ھے۔

والسلام

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادل بھائی جان

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
[COLOR="DarkOrange"]::::::: نفسیاتی دباؤ Anxiety سے نجات کا طریقہ :::::::[/COLOR
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


مجھے چودہ سو سال پہلے کے زمانے میں سے پیغام رسانوں کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان سنائی دیتا ہے

((((( يا بِلالُ أَقِمِ الصَّلاةَ أَرِحْنَا بِھَا
::: اے بلال نماز کھڑی کرو اور ہمیں اس کے ذریعے راحت دو )))))
سنن ابو داؤد /حدیث 4985 /کتاب الادب/باب86، المعجم الکبیر/حدیث 6214 ، صحیح الجامع الصغیر /حدیث 7893

اور میرے دِل و دِماغ میں یہ سوال گونجنے لگتے ہیں کہ نماز میں اب یہ خوبی کیوں نہیں رہی کہ وہ ہماری اس پریشان حال تیز رفتار زندگی میں ہمارے لیے راحت و سکون کا سبب بن سکے ؟؟؟

کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنی عبادات میں پھر سے یہ خصوصیت حاصل کر سکیں کہ وہ ہماری زندگیوں میں ، ہمارے نفوس میں راحت ، سکون اور باطنی طاقت کے حصول کا سبب بن جائیں ؟؟؟

اور وہ یوں کہ ان عبادات کے ذریعے ہم اپنے رب سے براہ راست تعلق میں ہوتے ہیں ، اور ہمیں اس کی عظمت اور قوت کا احساس سکون ، راحت اور امن کا پھر پور احساس دلاتا ہے ،

((((( ألا بِذِكرِ اللهِ تَطمَئِنُ القُلُوب :::
کیا اللہ کے ذِکر سے دِل اطمینان نہیں پاتے )))))
جزاک اللہ خیر اسی میں وجدت کا جواب کے ساتھ باقی مانددہ جوابات بھی ہیں۔ گفتگو جتنی مرضی طویل کر لیں باتیں ختم نہیں ہوتیں، اب آپ دوسرے بھائیوں کے جوابات پیش فرمائیں۔ شکریہ

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

Last edited by کنعان; 12-09-10 at 10:54 PM.
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (12-09-10)
پرانا 12-09-10, 11:01 PM   #43
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادل بھائی جان



جزاک اللہ خیر اسی میں وجدت کا جواب کے ساتھ باقی مانددہ جوابات بھی ہیں۔ گفتگو جتنی مرضی طویل کر لیں باتیں ختم نہیں ہوتیں، اب آپ دوسرے بھائیوں کے جوابات پیش فرمائیں۔ شکریہ

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ارے کنعان بھائی اپلیکیشن کے بغیر چھٹی۔ آپ کا انتظار ہو رہا تھا۔ ویسے آپ کے کمنٹس درکار ہیں اینگزائیٹی والے تھریڈ میں۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 13-09-10, 12:09 AM   #44
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
ارے کنعان بھائی اپلیکیشن کے بغیر چھٹی۔ آپ کا انتظار ہو رہا تھا۔ ویسے آپ کے کمنٹس درکار ہیں اینگزائیٹی والے تھریڈ میں۔
السلام علیکم بھائی

میں دو دن سے اس لئے ایبسینٹ ہوں کہ میرے پی۔سی میں وینڈو ایرر واقع ہو چکا ھے اور بچے اپنا پی سی چھوڑتے نہیں تو انہی سے تھوڑا کام چلا رہا ہوں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (13-09-10)
پرانا 13-09-10, 02:07 AM   #45
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عادل بھائی جان



جزاک اللہ خیر اسی میں وجدت کا جواب کے ساتھ باقی مانددہ جوابات بھی ہیں۔ گفتگو جتنی مرضی طویل کر لیں باتیں ختم نہیں ہوتیں، اب آپ دوسرے بھائیوں کے جوابات پیش فرمائیں۔ شکریہ

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیراً ، کنعان بھإئی ، نماز سے ملنے والی راحت اور اللہ کے ذکر سے ملنے والے قلبی سکون میں اور اس وجد میں بہت نمایاں فرق ہے جو کسی کو اس کے حواس سے اس قدر بے خبر کر دے کہ اسے یہ احساس نہ ہو پإئے کہ اس کی عبادت میں کیا حرکات واقع ہو رہی ہیں ،
اگر نماز سے ملنے والی راحت اور اللہ کے ذکر سے ملنے والا قلبی سکون ایسے ہی وجد کا سبب ہوتا تو ہمیں ایسے وجد کی خبر رسول اللہ‌صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور خیر القرون کے لوگوں اور ان کے بعد صدیوں تک آنے والے إئمہ اور صالحین میں کہیں تو نظر آتا ،
جزاک اللہ خیراً کہ آپ نے میرا نفسیاتی دباو والا مضمون بھی اپنے مطالعہ میں شامل فرما لیا ، ابھی اس میں کافی معلومات شامل کر رہا ہوں ، اپنی قیمتی اور علمی آراء سے نوازتے رہیے گا ،
اب میں یہاں بھائی مرزا عامر کے مراسلے کا جواب پیش کرتا ہوں، والسلام علیکم
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ضِرار Derar (21-09-10)
جواب

Tags
color, ہوگا۔, ہوتا, ہے۔, کوئی, کتابوں, پاکستان, قران, لوگ, نظر, میں‌تو, ایسا, اللہ, بالکل, تعلق, جواب, خیال, دُعا, دینا, سمجھ, سبق, شاید, شائد, طور, عجیب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیاں عمر کیوں چھپاتی ہے ؟؟؟ ابن جلال گپ شپ 44 16-12-10 07:15 AM
کیوں ۔۔۔۔۔ ؟؟؟ محمدعدنان عمومی بحث 24 08-09-10 01:59 PM
اجازت کیوں نہیں ہے؟؟؟ محمد عاصم تجاویز اور شکایات 25 17-06-10 07:17 PM
::::: ہر کام میں اسلام کیوں ؟؟؟ ::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 13 08-05-10 09:40 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger