واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


اسلام اورصیہونی نیٹ ورک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-08-07, 01:15 PM   #1
اسلام اورصیہونی نیٹ ورک
جاوید جاوید آف لائن ہے 06-08-07, 01:15 PM

بلڈ برج ’’ نئے اہداف ‘‘
17مئی 2003ء کو پیرس سے بیس کلو میٹر دور ہوٹل تریفول پا رک میں اہم ترین مہمانوں کی آمد کی وجہ سے غیر سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے حیرت کی بات یہ ہے کہ عراق کے مسئلے پر امریکہ فرانس کشیدگی کے باوجود اس اجلاس کی بمام تر سکیورٹی کے انتظامات امریکی سی آئی اے کے ہاتھ میں تھے ہوٹل کے ارد گردبیسیوں کلومیٹر کا علاقہ عام انسانوں کے لئے ’’نوگو ایریا‘‘ قراردے دیا گیا تھا اس جگہ ہونے والے اہم ترین پر اسراراجلاس میں حسب سابق میڈیا کو ’’جھانکنے‘‘ کی اجازت نہیں تھی ۔یہ اہم ترین خفییہ اجلاس عالمی حکومتوں پر حکومت کرنے والی عالمی صہیونی تنظیم ’’بلڈربرج‘‘ کا تھا جو18[L: 44]17مئی 2003ء کو پیرس کے مضافات میں منعقد کیا گیا تھا ۔ اس اہم ترین اجلاس میں ہالینڈ کی ملکہ بیاتریس، اسپین کے بادشاہ خوان کارلوس اور ان کی اہلیہ ملکہ صوفیا، فن لینڈ کے سابق وزیراعظم بافولیبونان، سابق امریکی وزیر خارج ہنری کسنجر، امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رامسفیلڈ اور ان کے نائب پا لولفویٹر، امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اور وائٹ ہاؤس سے وابستہ مشیر رچرڈ بیرل نمایاں تھے مگر ہر سال کی برح اس مرتبہ بھی کسی اخبار، رسالے یا میڈیا کے چینل سے اس اہم اور خفیہ ترین اجلاس کی کوئی خبر شائع نہ ہوئی ،سوائےWHITE BLOWER نامی جریدے کے ایڈیٹر جوزف فرح کے جس نے اپنے فریدے کی ویب سائٹWWW. WORIDNETDAILY. COM پر اس طرح روشنی ڈالی:-
ََ۔۔۔۔کیا آپ نظر یہ سازش پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔۔؟
۔۔۔۔کیا ایسے طاقتور لوگوں پر آپ یقین رکھتے ہیں جو ہر سال خفیہ اجلاس میں دنیا پر اپنے قبضے کو مزید کرنے اور اس کے گرد اپنے منصوبوں کی متختلف لائنوں کا دائرہ کھینچتے ہیں ؟
اس کے بعدجوزف کہتا ہے کہ ’’ میرے پاس آپ کے لئے خبر ہے۔۔۔۔ جی ہاں یقینا ایسا ہے کہ ۔۔۔ ایسے طاقتور لوگ حقیقتاً موجود ہیں کہ جن کا دنیا پر حقیقی غلبہ ہے اور جو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے دنیا بھر میں سازشوں کا جال بچھاتے ہیں ۔۔۔ دیکھیں ان کی طاقت کتنی ہے کہ ان کے اجلاس کی کوریج دنیا کے کسی میڈیا میں نہیں ہو سکتی۔۔۔ اسنے ہمیشہ پردہ اخفاء میں رہنا ہوتاہے۔ ‘‘ ’’ وائٹ بلور‘‘ کے مدیر جوزف فرح کے نظرفرح کے نظریات اسلام کے سخت خلاف ہیں جبکہ صہیونیت کو وہ تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے مگر یہاں وہ بھی حقیقت حال چھپانے میں ناکام رہا اور اس خفیہ ترین عالمی صہیونی تنظیم ’’بلڈربرج‘‘ کے متعلق اشارے دینے پر مجبور ہو گیا۔ اس طرح کا دوسرا اشارہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی نامہ نگار’’ ایماجین کیربی‘‘ کی جانب سے تھا جس کا عنوان تھا ’طاقت کے دلالوں کا خفیہ اجلاس‘‘اس رپورٹ میں بلڈرطرج کا نام لئے بغیر کہا گیا کہ ’’ایک ایسی تنظیم کا اجلاس ہو ہے جس پر سے پردہ اٹھانا ممکن نہیں اس اجلاس میں عالمی سطح کی سیاسی و مالی شخصیات جمع ہوئیں ‘‘ اس ٹی عی چینل کے مطابق ’’ اس تنطیم کا کوئی رکن نہیں ۔۔اورنہ ہی کسی کو اس بات کا علم ہے کہ اس تنظیم کو کسی نے تشکیل دیا؟ مگر اس کا اجلاس ہر سال باقاعدگی سے ہوتا ہے لیکن اسے ہمیشہ خفیہ رکھا جاتا ہے جبکہاس مین شریک شخصیات کو میڈیا کے سامنے کسی قسم کا بیان دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔‘‘ آخر میں نامہ نگار سوال کرنی ہے کہ ’’ اگر اس تنظیم کے ارادے نیک ہیں اور اس کا مقصد بھلائی کے کام کرنا ہے تو اس کے اجلاسوں کو اتنا خفیہ کیوں رکھا جاتا ہے۔۔۔۔۔؟
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یورپ اور امریکہ میں میڈیا کا مربوط جال بچھا ہو ا ہے ۔ ہزاروں اخبار وجرائد سینکڑوں نجی ٹی وی چینل ہونے کے باوجود بلڈ برج کسی اجلاس اوراس سے متعلق شخصیات کے حوالے سے کوئی خبر نہیں آسکتی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہاس صہیونی تنظیم نے عالمی میڈیا سے متعلق شخصیات پر کس حد تک خوف بیٹھا رکھا ہے۔ اس صورتحال کے برعکس ترکی صحافت اور میڈیا میں ’’بلڈربرج‘‘ سے متعلق زباں بندی سے گریز کیا ہے بلکہ کھل کر اس عالمی صہیونی تنظیم اوراس کے منعقد ہونے والے خفیہ اجلاسوں کے بارے میں کھل کر بیان کیا ہے۔ حالانکہ ترکی واحد اسلامی ملک ہے جہاں دومرتبہ ’’بلڈربرج‘‘ کا خفیہ اجلاس منعقد ہو اتھا۔ ترکی کے وزیرمملکت برائے اقتصادی امور علی بابا جان اور ایک سیاسی جماعت ’’ سٹریٹ پاتھ‘‘ کے نائب صدر نے اس میں شرکت کی تھی۔ ترکی کے مشہور صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار ’’فھمی قورو‘‘ نے اپ نے طویل مقالات میں اس خفیہ تنظیم پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔
ایک انگریز صحافی جان رونسون JOHN RONSONچند سال پہلے پرتگال میں ہونے والے بلڈ برج کے ایک خفیہ اجلاس میں ’’ نقب لگانے ‘‘ میں کامیاب ہو گیا تھا جس کے بعد اس نے ایک مقالہ’’وہمہم جوانتہاء پسندوں کے ساتھ‘‘
"THEM[L: 58] ADVENTURE WITH EXTREMISTS"
کے عنوان سے تحریر کیا تھا جس میں اس کے نظریات سے مختلف نظرنہیں آتے۔ جان رونسون لکھا ہے کہ ’’ اس تنظیم بلڈ رطرجکا اجلاس ہر سال خفیہ طور پر منعقد کیا جاتا ہء جس پر بے پناہ اخراجات صرف کئے جاتے ہیں اس کی سرگرمیاں عالمی میڈیا سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں ۔ اجلاس میں ہونے والے تمام موضوعات انتہائی خفیہ رکھے جاتے ہیں اس میں شرکت کرنے والی شخصیات عالمی سیاست کی کرتا دھرتاہیں ، یقینی سی بات ہے کہ یہ عالمی شخصیات گالف کھیلنے تو ایک جگہ جمع نہیں ہوتیں ۔۔۔ میرا یقین ہے کہ بلڈ ربرج نامی تنظیم عالمی سیاست پر اثر انداز ہونے کے لیے اجلاس طلب کرتی ہے۔‘‘
عرب ذرائع کے مطابق عامی صہیونی تنظیم بلڈ ربرج کے مقاصد صرف سیاسی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اقتصادی معاملات بھی اہم ترین ہیں کیونکہ عالمی سیاسی شحصیات کے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات بھی ہیں یہ مالیاتی ادارے بھی ہیں اور تیل کمپنیا اور اسلحہ ساز ادارے بھی ۔ اس کی بڑی مثال امرکہ کا وزیر دفاع ڈونالڈ رامسفیلڈ ہے جس کے تیل اور اسلحہ ساز کمپنیوں سے قریبی تعلقات ہیں ۔ایران عراق جنگ کے دوران رامسفیلڈ نے عراق کو اسلحہ مہیا کرنے کے کئی معاہدے کئے اس کے ساتھ ساتھ اس نے شمالی کوریا کودوایٹمی ری ایکٹروں کا سودا بھی کرایا جس پر امریکہ الزام عائد کر رہا ہے کہ شمالی کوریا تیزی سے ایٹمی ہتھیاروںکی پیداوار کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ رامسفیلڈ کے قریبی دوست اور آئر لینڈ کے سابق جنرل پیٹر سوتھر لینڈ GN. PETER SUTHER LAND ہے جو یوربی یونین میں کلیدی منصب پر فائز رہا اس کے برطانوی آئل کمپنی (برٹش پیٹرول ) BPاور GOLDMANسے قریبی تعلقات ہیں ۔ 2000ء میں رامسفیلڈ اور اس کا دوست جنرل پیٹر ABBپاور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ممبر رہے ہیں ۔ اس لئے مئی 2003ء کوپیرس میں ہونے ولے بلڈربرج کے اجلاس میں کسی قسم کی پالیسی زیر بحث آئی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ ترک صحافی ’’ فھمی قورو‘‘کے مطابق پیرس کے خفیہ اجلاس میں کلیدی موضوع ’’عراق کی جنگ اور اس پر قبضکے بعد کی دنیا‘‘ اور ’’ افغانستان کی صورتحال‘‘ تھے۔۔۔!
’’بلڈربرج‘‘ کیا ہے؟ اس کے قیام کا اصل مقصد کیا تھا اس کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالے بغیر عالمی صہیونی تنظیم کے اصل مقاصد تک رسائی ناممکن ہے۔ اس تنظیم کا بانی سیڈن کا ایک کاروباری شخص جوزف ایچ ریٹنگر JOSEPH H. RETINGER کہا جاتا ہے اس شخص کے عالمی سیاسی میدان میں خاصے تعلقات تھے عام لوگوں کے نزدیک اس کی سیاسی زندگی کو خاصا کامیاب تصور کیا جات ہے اس کی بڑی کامیابیوں میں ایک کامیابع یورپ کو متحد کرنے کی تحریک منظم کرنا تھا اس کام کا آغاز اس نے ہالینڈ کے شہر ’’ اوسٹربیک‘‘ میں 5مارچ1949ء کو کیا جب جوزف پیرس کی سوربون یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا اس وقت سے یورپ کو متحد کرنے کے جنون میں مبتلا تھا جوزف ریٹنگر نے اپنا نظریہ اس وقت کے فرانسیسی وزیراعظم جارج کلیمنصو(1841-1929) کے سامنے پیش کیا تھا جس کے مطابق اسقف اغناطوس لیولا کی 1534ء میں قائم کردہ مذہبی تنظیم JESUS ORGANITION کے تحت مشرقی یورق میں آسٹریا، پولینڈ اور ینگری کو پہلے متحد کیا جائے مگر وزیراعظم جارج نے ویٹی کن کی جانب سے خاموشی دیکھتے ہوے اس نظریے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت جوزف ریٹینگر کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ویٹی کن کے ایطنٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
جوزف ریٹینگر نے فرانسیسی وزیراعظم جاج کے اس اقدام سے ہمت نہ ہاری بلکہ سوربون یونیورسٹی میں تعلیم مکل کرنے کے بعد اس نے میکسیکو کے کئی دورے کئے تاکہ اس کا یورپ کے ساتھ تجارتی اشتراک قائم کیا جا سکے اس سلسلے میں اسے خاص کامیابی ہوئی ۔ پچاس کی دہائی میں اس نے یورپ کے بڑے سیاسی اور حکومتی ارکان میں رسوخ پیداکر لیا تھا اس کے طرفداروں کا دعویٰ تھا کہ وہ امن کے نام پر دنیا کو متحد کرنے کا عزم تکھتا ہے جس کے لئے وہ عالمی سطح پر طاقتور تنظیمیں تشکیل دے رہا تھا۔ اقتصادی اور عسکری لحاظ سے اس مقصد کے حصول کے لئے اس طاقتور تنظیموں کے ذریعے ان ملکوں سے نمٹنے کا منصوبہ بھی وضع کیا تھا جواس کے مقاصد کے حصول میں حائل تھے یا رکاوٹیں کھڑی کر رہے تھے۔ جوزف ریٹینگر کو اس بات کا پورا ادراکتھاکہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کو شامل کئے بغیر عالمی امور پر گرفت مضبوط کرنا تقریباً ناممکن ہو گا اس امر کا ادراک ہو جانے کے بعد ا س نے ATLANTIC COMMUNITYکی تشکیل کے لئے تمام توانائیاں صرف کردیں تاکہ جنگ عظیم دوم کے بعد یورپ کی کھوئی ہوئی شان و شوکت کا اعیادہ کیا جاسکے۔ جوزف ریٹینگر کے قریبی دوست اور ہالینڈ کے شہزادہ برنہارڈBRINHARD نے اس نظریے کو خاصی تقویت بخشی۔ اپنے دور میں شہزادہ برنہارڈ کا نام یورپ کی سیاست اور عالمی پیٹرول کی صنعت میں ترقی یافتہ تصور کیا جاتا تھا ہالینڈ کی تیل کمپنی SHELLجوزف کی فکر کو پروان چڑانے میں پیش پیش تھی۔
1952ء میں جوزف ریٹینگر نے اپنے دوست شہزادہ برنہارڈ کع ایک تجویز پیش کی کہ ’’ نئی عسکری تنظیم نیٹو‘‘ کا بند کمرے میں اجلاس طلب کیا جانا چاہئے جس میں عالمی امور پرنگاہ دوڑائی جائے یعنی ایک ایس خفیہ اجلاس جس کے بعد کسی قسم کا کوئی بیان نہ دیا فائے اور انی کسی اخبار میںکوئی خبر لگ سکے ۔ اس سال ہالینڈ کے شہزادے برنہارڈ نے امریکی صدرٹرہمین سے رابطہ قائم کر کے انہیں اس خفیہ اجلاس کے منصوب سے آگاہ کیا اس وقت کی امریکی انتظامیہ نے اس منصوبے کو بسند کرتے ہوئے اس کی توسیع کر دی۔ یہ سلسلہ امریکی صدرآئزن ہاور کے دور تک جاری رہا اس میں امریکہ کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے روح رواں نے جوزف ریٹینگر کی اس سوچ کو فروغ دینے کے لئے اہم کردارادا کیا ۔ ا س کمیٹی کے دوارکان اس دور میں خاصے مشہور تھے اس میں سے ایک اس وقت کا سی آئی اے ڈائریکٹر جنرل والٹر بیڈل سمتھ WALTER BEDELL SMITH اور سی ڈی جیکسن C.D. JACKSO شامل تھے جنہوں نے اس منصوبے کے مطابق یورپی دانشوروں کے ساتھ مل کر کام کیا ۔آخر کار ان عالمی سیسہ گروں کی محنت رنگ لائی اور اس تنظیم کا پہلا اجلاس مئی 1954ء کو ہالینڈ کے شہر اوسٹر بیکOOSTER BEDK کے ایک فائیو سٹار ہوٹل ’’بلڈربرج‘‘ میں منعقد ہو ا جس کی صدارت ہالینڈ کے شہزاعے برنہارڈ نے کی۔ اس کے بعد وہ بائیس سال تک اس کے اجلاسوں کء صدارت کرتا رہا اور پہلے اجلاس میں اس عالمی خفیہ تنظیم کا نام ہوٹل کے نام پر بلڈر برج رکھا گیا۔ اس زمانے میں امریکہ میں میکارتھی تحریک عروج پر تھی جس کی وجہ سے بلڈ برج کے یورپی ارکان اس بات سے خوفزدہ تھے کہ دائیں بازو کی یہ فکراگر سیاسی سطح پر زور پکڑ گئی تو کہیں ایس نہ ہو کہ اس تنظیم میں امریکہ کی نمائندگی کرنے کوئی میکارتھی مقررہوجائے۔ مگراس صورتحال پر بھی طریقے سے قابو پالیا گیا۔
اس عالمی صہیونی تنظیم بلڈ ربرج کے ابتدائی اجلاس میں ہی فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ اس اجلاس ہمیشہ کسی نہ کسی یورپی ملک میں ہی کیا جائے گا اس کے اجلاس میں عا م طور پر 115مستقل ارکان ہوتے ہیں بسا اوقات یہ تعداد 120تک پہنچ جاتی ہے ۔ یورپی ممالک کے ارکان کی تعداد اس میں 80کے قریب ہے باقی 35ارکان شمالی امریکہ یعنی ریاست ہائے متحدہامریکہ اور کینیڈا سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مجموعی ارکان کے اگر تین حصے کئے جائیں تو ایک حصو عالمی سطح پر سیاسی شخصیات پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ باقی دو حصے بینالاقوامی سطح پر اقتصادی ، تعلیمی اور صنعتی شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اس کے ارکان کی دوقسمیں ہیں پہلی قسم مستقل ارکان کی ہے جسمیں امریکہ کے سابق وزیرخارجہ اور مشہور صہیونی ہنر کسنجر شامل ہے جبکہ دوسری قسم غیر مستقل ارکان کی ہے جنہیں یہ تنظیم ہر سال اپنے خفیہ اجلاس میں مدعو کرتی ہے۔ 2000ء میں اس عالمی صہیونی تنظیم بلڈ برج کے سربراہ نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل لارڈ گیرنگٹن تھے۔ اس کے سالانہ اجلاس سے پہلے چند بڑے مستقل ارکان کے درمیان ایجنڈا تیا رکیا جاتا ہے کسی بھی رکن کو اس سے اختلاف یا ترمیم کی اجازت نہیں ہوتی اس کے اجلاس کو عام نگاہوں سے دور عالی شان ہوٹل بک کیا جاتا ہے۔ جہاں اس کا اجلاس تین روز تک جاری رہتا ہے اس دوران کوئی رکن ہوٹلسے باہر نہیں جاسکتا سکیورٹی کے انتظامات امریکی سی آئی اے کے علاوہ بعض اہم یورپی ممالک کے خفیہ اداروںکے سپرد ہوتا ہے جہاں تک کے ہوٹل کی جانب جانے والے راستے میں بسااوقات بند کر دیئے جاتے ہیں ۔ بلڈ ربرج کا اجلاس ہر سال کے نصف یا پانچویں مہینے کے آخر میں منعقد کیا جاتا ہے۔
اسلامی دینا میں ترکی کی واحد ملک ہے جس میںاس تنظیم کا سالانہ اجلاس 1959ء میں ہو چکا ہے یہ اجلاس استنبول کے ہوٹل ’’ ’’ ’’جنار‘‘ میں ہوا تھا جبکہ د وسرا ترکی کے سیاحتی علاقے ’’ جشمہ‘‘ میں ’’ التن یونس ‘‘ کے خوبصورت قربہ میں 1975ء کو ہوا تھااس اجلاس میںترکی کی معروف سیاسی و اقتصادی شخصیات نے شرکت کی تھی جن میں مشہور صنعتکار صلاح الدین بایزید نے شرکت کی تھی یہ تر کی جانب سے بلڈربرج کے مستقل رکن تھے اس کے علاوہ ترکی کی بڑی اخباری ائمپائر اور ٹی وی چینل AVTکے مالک ’’نج بیلکن‘‘ ترکی سنٹرل بینک کے صدر خازی ارجل ، سابق وزیر اور اقتصادی شعبے کے پروفیسر امرہ کو نانصوی، ترک پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر حکمت جبیتن اور سابق ترک وزیر خاجہ اسماعیل جم شامل تھے۔ شروع میں جب دنیا کے کان میں اس صہیونی تنظیم کی بھنک پر کی تو کئی قسم کے سوالات نے سر اٹھایا تھا کہ آخر کون اس تنظیم کے بے پناہ اخراجات برداشت کرتا ہے؟ تو اس سلسلے میں سب سے پہلے امریکہ میں یہودیوں کی سب سے بڑی مالیاتی ائمپائرراک فیلر کا نام آیا اس کے بعد کھرپ پتی یہودی بینکر روتھ شیلڈ کے بینک کا پتا ملت اہے اس کے علاوہ بلڈ برج سے وابستہ شخصیات میسونی تحریک کے حوالے سے جانی جاتی ہیں مثلاً خود جوزف ریٹینگر جس کا انتقال 1960ء میں ہوا تھا اپنے حلقہ احباب میں مصروف میسونی کے طور پر جاناجاتا تھا۔
بلڈ ربرج کی تشکیل کے تقریباً بیس سال بعد اس کی کچھ ذیلی شاخیں تشکیل دی گئیں تاکہ اس تنظیم سے متعلق مستقل ارکان کے مفادات کو مد نظ رکھتے ہوئے عالمی امور پر اثر انداز ہوا جائے کیونکہ اس کے بہت سے ارکان دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر وہاں کے عوام اور قومی مصلحتوںکی بھی پرواہ نہیں کرنا چاہتے تھے اگر ایسی جگہ پر جمہوریت ، عوامی رائے عامہ اور دانشوروں کی فکر ان کے ارادوں کے سامنے حائل ہوتی تو یہ آمریت پر اتر آتے اور دہشت گردی کی بنیاد پر عوام اور حکومتوں کو خوفزدہ کر کے مقاصد حاصل کرتے۔
اس تناظر میں سب سے زیادہ حیرت انگیز امریہ ہے کہ گزشتہ 25[L: 44]20برسوں میں امریکہ اور برطانیہ میں سیاسی طور پر کامیابی کے لئے اس خفیہ تنظیم سے وابستگی لازم ہو چکی ہے ۔ امریکہ کے کئی صدر اس تنظیم سے وابستگی کے بعد ہی وائٹ ہاؤس تک پہنچ سکے ہیں ان میں رونالڈ ریگن، جمی کارٹر، جارج بش، بل کلنٹن اور جونئر بش شامل ہیں !! برطانیہ کی سابق وزیر اعظم مارگریت تھیچر نے 1975ء میں ’’بلڈربرج‘‘ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی تھی ۔ چند سالوں بعدانہیں وزیر اعظم بنادیا گیا اس طرح اشتراکی نظریات کا حامل نوجوان برطانوی سیاستدان ٹونی بلیئر گمنامی کے اسفل ترین درجات میں پڑا تھا برطانیہ جیسے سرمیہ دارملک میں اشتراکی نظریات کو اپنانا سیاسی موت کے مترادف ہے مگر جلد ہی یہ نوجوان اس فکر سے تائب ہو کر عالمی صہیونی سرمایہ داروں کی خفیہ تنظیم ’’بلڈربرج‘‘ سے وابستہ کرادیا گیا جس کے چار سال بعدا سے برطانیہ کا وزیراعظم بنا دیا گیا اس کے بعداسے کافی شہرت نصیب ہو گئی اپنے سابقہ بطریات سے متصادم بظریات رکھنے والے ملک کا وزیراعظم بن کر ٹونی بلئیر نے پہلے افغانستان اور پھر عراق کے معاملے میں صہیونیت کی چاکری کرتے ہوئے اپنی وزارت عظمیٰ بھی داؤپر لگا دی۔
ایک ترک صحافی ’’ حکمت بیلا‘‘ نے بلڈ برج کے بارے میں تحریر کیا کہ ’’بلڈربرج عالمی سطح پر مقاصد حاصل کرنے کے لیے دنیا کے حالات طاقت سے بدل دیتی ہے اور ہر اس چیز کو ختم کرنے کی صلاحیت رکتی ہے جس کے نفاذ میں وہ کوئی رغبت محسوس نہ کرتے۔‘‘ سابق ترک سفیر’’اسماعیل برودک‘‘ کے مطابق ’’ میں اس خفیہ صہیونی تنظیم کے بارے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ ان دہشت گرد تنظیموں کا منبع ہے جنہوں نے پچاس کی دہائی کے بعد تمام یورپ میں سرمایہ داری نظام کے تحفظ کی خاطر دہشت گردی کا بازار گرم کیا۔اٹلی سے تعلق رکنھے والی دہشت گردی تنظیم ’’گلاڈیو‘‘ کا قیام بھی ’’بلڈربرج‘‘ کا بھی کارنامہ لگتا ہے اس لئے میں اس خفیہ تنظیم کو دنیا کی پر اسرار ترین تنظیم کہہ سکتا ہوں جس کے بارے میں بھی ٹھیک طرح دعویٰ نہیں کیا جاسکتا اس سے متعلق اب تک جو معلومات دنیا کے سامنے آچکی ہیں اس میں بھی ذرائع چند افراد سے زیادہ نہیں ہیں ۔‘‘
عرب ذرائع مطابق سرد جنگ کے دوران سابق سوویت یونین کے خلاف اصل زیرزمین جنگ بلڈ برج نے لڑی مگراس کی ابتداء اس نے مغربی یورپ میں سوشلسٹ نطریات کے سامنے بند باندھنے سے کی جس کا پہلا معرکہ اٹلی اور اس کے بعد فرانس میں لڑا گیا۔ مغربی یورپ میں سرمایہ داری نظام کے تحفظ کے لئے بلڈ ربرج دہشت کی علامت ایک دہشت گرد تنظیم ’’ گلاڈیو‘‘ کر قائم کیا جس کے ذریعے مغربی یورپ خاص طور پر اٹلی میں دہشت گرد ی کی وارداتیں کرائی گیئں کیونکہ فرانس کے بعد جب ملک کی سوشلسٹ پارٹی عوام پر اث ورسوخ رکھتی تھی وہ اٹلی کی سوشلسٹ پارٹی تھی اس کے سد باب کے لئے اٹلی میں بڑے پیمانے کی قتل و غارت کرائی گئی۔1976 ء میں بلڈربرج کا اجلاس سوئٹزر لینڈ کے شہر برن میں ہوا جس کا ایجنڈا سرمایہ داری نظام کے تحفظ کے لئے زیر زمین کارروائیوں کے لئے نیٹو کو براہ راست ملوث کرناتھا ۔ یوں بعد میں اٹلی اور فرانس کے کمیونسٹ کے خلاف کارروائی کے لئے دہشت گردوں کو تربیت کے لئے اٹلی کے جزیرے ’’کیگلیو‘‘میں نیٹو کے اڈے پر بھیجا جانے لگا۔۔۔۔۔۔
یورپ میں عرب صحافتی ذرائع کے مطابق مئی 2003ء میں پیرس کے اجلاس میں عراق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اس کے ساتھ ساتھ اجغانستانکی قابو سے باہر صورتحال کے لئے لائحہ عمل تیا ر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کویت سے شائع ہونے والے ہفت روزہ’’ المجتمع‘‘ کے مطابق ’’ عالمی صہیونی تنظیم بلڈ ر برج نے پیرس اجلاس میں اسلامی دنیا میں آمریت کی توسیع کی ہے جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک کو جمہوریت کے نعرے کے نفاذ سے الگ ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے کیونکہ جمہوری عمل سے اسلامی تحریک ان مغرب نواز عناصر خصوصاًحکومتوں پر قابض آمروں پر غلبہ حاصل کر سکتیں ہیں جو اقتدار کو طول دین کی خاطر امریکہ کو ہرقسم کی ’’قیمت ‘‘ ادا کرنے پر تیار ہیں ‘‘ عرب جریدے کے اس تجزیئے سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ دنیا کے سردگرم پر حاوی یہ صہیونی تنظیم مسلم دنیا کے حساس علاقوں پر آگے چل کر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔
(بحوالہ : ’’ اسلام اور صہیو نی نیٹ ورک‘‘ محمد انیس )

جاوید
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 184
شکریہ: 0
23 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 474
Reply With Quote
پرانا 06-08-07, 01:18 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: اسلام اورصیہونی نیٹ ورک

اللہ اپکو جزائے خیر دے۔ اپ نے ایک بہت ہی اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, ویب, وزیراعظم, چینل, نظر, موت, موجودہ, منصوبہ, ممکن, اللہ, الزام, انتظامیہ, امریکہ, اسلام, اسلامی, تعلیم, جواب, دوست, سیاست, سودا, شمالی کوریا, علی, صحافت, صدارت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فصیلِ اسلام آباد! فیصل ناصر سیاست 11 04-09-11 01:38 AM
اس پر تفصیل چاہیئے رضی عمومی بحث 9 15-06-11 03:08 PM
مسجد اقصیٰ پر تازہ حملہ عبداللہ آدم خبریں 0 28-02-10 04:49 PM
صدر زرداری کے مقدمے کی تفصیلات طلب محمدعمر خبریں 0 09-12-09 06:46 PM
وائرس: بینک تفصیلات چوری وجدان خبریں 0 05-11-08 12:51 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:51 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger