واپس چلیں   پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


اسلام کا تصورِ علم حصہ اول

اس موضوع کے 2 جوابات دیےگئے ہیں اور اسے 309 مرتبہ دیکھا گیا ہے
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-08-07, 03:16 AM   #1
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,745
کمائي: 6,479
ميرا موڈ:
شکریہ: 0
453 مراسلہ میں 784 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Thumbs up اسلام کا تصورِ علم حصہ اول

اسلام کا تصورِ علم حصہ اول

بسم اللہ الرحمن الرحیم

علم کی تعریف


فنی اعتبار سے علم کا مادہ ’’ع ل م،، ہے جس کے معنی ’’جاننا،، کے ہیں گویا :

اَلْعِلْمُ اِدْرَاکُ الشَّيئِ بِحَقِيْقَتِہ.

’’علم کسی شے کو اس کی حقیقت کے حوالے سے جان لینے کا نام ہے۔،،

یعنی علم ایک ایسا ذہنی قضیہ اور تصور ہے جو عالم خارج میں موجود کسی حقیقت کو جان لینے سے عبارت ہے۔ علم کا اطلاق ایسے قضیے پر ہوتا ہے جو محکوم اور محکوم بہ پر مشتمل ہو اور جس کے متوازی خارج میں ایسی ہی حقیقت موجود ہو جیسی قضیے میں بیان ہوئی ہو، لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر قضیہ علم نہیں ہو سکتا، وہی قضیہ علم کہلائے گا جو کلی اور وجوبی ہو اور موجود خارج کے حوالے سے صحت کا مصداق ہو۔

ارکان علم
مندرجہ بالا تعریف کے مطابق علم کے ارکان کی تعداد چار ہے۔

1۔ ناظر (Observer)
جو شخص علم کے بارے میں جاننا چاہتا ہے وہ ناظر کہلاتا ہے۔ یہ امتیاز اور درجہ اشرف المخلوقات یعنی حضرت انسان کو حاصل ہے۔ اسے معروف اصطلاح میں طالب علم بھی کہتے ہیں، یعنی کچھ جاننے کی جستجو میں رہنے والا طالب علم کہلاتا ہے۔ علم ایک بحر بیکراں ہے۔ کوئی شخص کلی علم حاصل کر لینے کا دعویٰ نہیں کر سکتا البتہ علم کا طالب جب کچھ نہ کچھ جان لے تو اسے عالم کہا جا سکتا ہے۔

2۔ منظور (Object)[L : 3]
منظور وہ شے ہے جسے جانا جا رہا ہو۔ اس سے مراد کوئی حقیقت (Reality) ہوسکتی ہے، خواہ یہ عقلی وجود رکھتی ہو یا حسی۔ یہ کائنات رنگ و بو اور اس کے مادی اور غیر مادی موجودات و حقائق منظور کا درجہ رکھتے ہیں۔

3۔ استعداد نظر (Observing Capability)

اس سے مراد یہ ہے کہ ناظر جو مشاہدہ (Observation) کر رہا ہے اس میں کسی چیز کو جاننے کی صلاحیت اور اور استعداد کس قدر موجود ہے۔ علم کا یہ تیسرا رکن ہے۔ اگر منظور (وہ حقیقت جس کے بارے میں جانا جا رہا ہو) حسی نوعیت کی ہو تو ناظر کو حواس خمسہ کی استعداد حاصل ہونی چاہئے تاکہ وہ حواس خمسہ سے اس چیز کو اپنے حیطہ ادراک میں لے سکے۔ اس کے برعکس اگر منظور (Object) عقلی نوعیت کا ہو تو ناظر میں استعداد عقلی کا ہونا ضروری ہے۔ اس استعداد کے بغیر عقلی نوعیت کے Object کا حیطہ ادراک میں آنا ممکن نہیں۔ اگر منظور Object ایسا ہو کہ اس کے لئے وجدان ضروری ہے تو ناظر کو بھی ایسی ہی وجدانی استعداد کا حامل ہونا چاہئے۔ ان صلاحیتوں سے بالاتر بھی ایک استعداد وحی کی ہے جو صرف اور صرف انبیاء کا خاصہ ہے۔ عام آدمی کا اس استعداد سے بہرہ ور ہونا ممکن ہی نہیں یہ صلاحیت کلی طور پر عطائی (God Gifted) ہے جو اللہ رب العزت کے انبیاء اور رسولوں سے مختص ہے۔

4۔ منظوریت (Objectivity)

علم کے ارکان میں چوتھا اور آخری رکن منظوریت (Objectivity) ہے۔ اس سے مراد وہ اصلیت اور مقصدیت ہے جسے جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس حقیقت کے لئے لازم ہے کہ وہ اس قابل ہو کہ ناظر کی کسی بھی مخصوص استعداد سے معلوم ہو سکے۔

تصور علم سورہ علق کی روشنی میں

علم کی تعریف اور اس کے ارکان کی تشریح و توضیح کے بعد اب ہم سورہ علق کی پہلی پانچ آیات کی تفہیم کی روشنی میں اسلام کے تصور علم کو واضح کرتے ہیں۔

17 رمضان المبارک کو غار حرا کی خلوتوں میں جب جبرئیل امین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو وحی کے ذریعہ اللہ رب العزت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان الفاظ میں ہمکلام ہوا :

اقْرَاء بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO خَلَقَ الْاِنسَانَ مِنْ عَلَقٍO اقْرَاء وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُO الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِO عَلَّمَ الْاِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْO

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھئے جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایاo اس نے انسان کو (رحمِ مادر میں) جونک کی طرح معلّق وجود سے پیدا کیاo پڑھیئے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہےo جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایاo جس نے انسان کو (اس کے علاوہ بھی) وہ (کچھ) سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (یا:- جس نے (سب سے بلند رتبہ) انسان (محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (بغیر ذریعہ قلم کے) وہ سارا علم عطا فرما دیا جو وہ پہلے نہ جانتے تھے)o

(العلق، 96 : 1 - 5)

یہ وہ پانچ آیات مقدسہ ہیں جن میں علم کا پیغام دے کر نازل کیا گیا۔ گویا انسان کچھ نہیں جانتا تھا اسے علم عطا کیا گیا، وہ جاننے لگا، اسے اندھیروں سے اجالوں کے دامن میں لایا گیا۔ اسے روشنی عطا کی گئی، علم و آگہی روشنی کے سفر کا نام ہے۔ مذکورہ بالا آیات کے ذریعہ رب کائنات نے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے نسل آدم کو باقاعدہ ایک سلسلہ تعلیم سے منسلک کر دیا۔ ذہن انسانی میں شعور و آگہی کے ان گنت چراغ روشن کئے۔ گویا تاریخ اسلام میں سب سے پہلا سکول غار حرا کی خلوتوں میں قائم ہوا۔ اس سکول کے واحد طالب علم ہونے کا شرف سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیب ہوا اور استاد و مربی خود خالق کائنات ٹھہرے۔ مندرجہ بالا آیات مقدسہ کے مندرجات اور مشمولات کا جائزہ لیں اور ایک اجمالی سا خاکہ تیار کریں تو سائنسی اور اعتقادی اعتبار سے مندرجہ ذیل تین عنوانات مرتب ہوتے ہیں :

1۔ تصورِ تخلیق (Concept of Creation)
2۔ تخلیقِ انسانی (Human Creation)
3۔ عظمت ِربوبیت (The Grandeur of God)

مندرجہ بالا موضوعات چونکہ ہمارے زیر بحث نہیں ہیں، ہمارا چونکہ موضوع علم کے حوالے سے ہے لہذا ہم ان آیات مبارکہ میں اسلام کے تصور علم کے حوالے سے درج ذیل چھ موضوعات پر گفتگو کریں گے۔

تصور علم کے چھ عنوانات
موضوع کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ چھ عنوانات کے تحت لیا جائے گا۔

1۔ علم : دیکھنا یہ ہو گا کہ علم کیا شے ہے اور اس کی ماہیت کیا ہے؟

2۔ مقصد علم : علم حاصل کرنا کیوں ضروری ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟

3۔ نصاب علم : اسلام کے تصور علم کا نصاب کیا ہے اور اسلام کن حوالوں سے اس موضوع پر روشنی ڈالتا ہے۔

4۔ نتیجہ علم : حصول علم اور اکتساب شعور کے بعد نتیجہ علم کیا ہونا چاہیے؟

5۔ ذریعہ علم : علم کے حصول کا کیا ذریعہ ہو، علم کے ماخذات کی نشاندہی؟

6۔ حد علم یا وسعت علم : علم کی حد، وسعت یا منتہا کیا ہو؟

مندرجہ بالا عنوانات کا واضح تعین ان آیات مبارکہ میں کر دیا گیا ہے۔ ان کی تفصیلات ذیل میں درج کی جاتی ہیں :

تصور علم اور مقاصد علم
(Concept and Objects of Knowledge)

سورہ مبارکہ کی پہلی آیت پر اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وحی کا آغاز جس لفظ اور کلمہ سے ہو رہا ہے اس کا تعلق پڑھنے سے ہے۔ اس حرف آغاز کا مطلب یہ ہوا کہ خدائے ذوالجلال نے اپنی ہدایت کا آغاز ہی تحصیل علم کے حکم سے کیا ہے لہذا حصول علم ہی وہ پہلا قدم ہے جہاں سے مرتبہ نبوت کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی طرح جب ہم پانچویں آیت کے آخری الفاظ پر غور کرتے ہیں تو مرتبہ نبوت کی انتہا بھی حصول علم پر ہی ہوتی نظر آتی ہے۔ گویاہم ایک اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبوت کا آغاز بھی علم ہے اور منتہابھی علم ہی ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ بھی علم ہی کے دامن میں ہے، لہذا اس سے علم اور پڑھنے لکھنے کی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے، ہدایت آسمانی کے فروغ کے لئے حصول علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور جہالت کے اندھیروں کے خلاف مسلسل جہاد کی ترغیب ملتی ہے۔

اعتبار کی سند کس علم کو ملے گی؟

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ علم اور تعلیم محض خواندگی (Literacy) کا نام نہیں ہے، یعنی تھوڑا زیادہ پڑھ لکھ لینا یا مختلف پیشہ وارانہ پہلوؤں (Professional Aspects) پر تھوڑا زیادہ عبور حاصل کر لینا وغیرہ فی نفسہ مقصود بالذات نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا مقصد اور منصب ہے کہ علم کا ابرکرم پوری کائنات پر محیط ہے ہم کہہ سکتے ہیں اس کائنات پست و بالا میں دامن علم سے خارج کوئی شے نہیں۔ آسمانوں اور زمینوں کی ہر شے دائرہ علم میں ہے، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ پہلی آیت مقدسہ میں تحصیل علم کے حوالے سے بیان کیا جا رہا ہے کہ :

اقْرَاءْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیئے۔

(العلق، 96 : 1)

ارشاد خداوندی ہے کہ میرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پڑھنے لکھنے کا آغاز رب کائنات کے بابرکت نام سے کیجئے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی علم شرف قبولیت حاصل کرے گا جس کی تحصیل کا آغاز خدائے ذوالجلال کے بابرکت نام سے ہوا، یعنی ایسا علم جس کی بنیاد اللہ کے نام پر رکھی جائے اور جس میں اسلامی عقیدے اور نظریے کو مرکزی حیثیت (Central Status) حاصل ہو۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ علم حاصل کرنے سے مراد دینی اور روحانی علوم کا حصول ہی نہیں بلکہ تمام سائنسی علوم بھی اس کے دائرہ کار میں آ جاتے ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کا حصول بھی علم کے زمرے میں آتا ہے۔ تاریخ اسلام شاہد و عادل ہے کہ مسلمان سائنسدانوں نے سائنسی علوم کی بنیاد ڈال کر حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان پر پورا پورا عمل کیا کہ


اُطْلِبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ فَاِنَّ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ.

علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے۔ بے شک علم حاصل کرنا ہر مسلم پر فرض ہے۔

(جامع بيان العلم و فضله، 1 : 7)

اس کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم میں جابجا تسخیر کائنات کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ کائنات کا یہ سفر جدید علوم میں مہارت حاصل کئے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ علوم جدیدہ کا حصول بھی اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے اور اعتبار کی سند بھی اسی علم کو عطا ہو گی۔

علم اور معرفت الہی

جس علم کی تحصیل کا آغاز اللہ رب العزت کے پاک نام سے ہو گا اور اسلامی عقیدے و نظریے کو مرکزیت حاصل ہو گی اس علم کے ذریعے اللہ تعالی کی معرفت نصیب ہو گی۔ لہذا وہی علم صحیح معنوں میں علم کہلائے گا جو انسان کو اپنے مالک و خالق کے نزدیک کر دے، اللہ کی معرفت عطا کر دے، اس کی حقیقی بندگی اور اس تک رسائی عطا کر دے اور آخرکار اس کے حکم کی تعمیل میں اس کے حکم کے نفاذ تک لے آئے۔ اس کے برعکس ایسا علم جو بندے کو اپنے رب سے دور لے جاتا ہے وہ اللہ کے نزدیک علم نہیں۔ جدید ترین علوم اور جدید ترین سائنسی انکشافات اذہان کو علمی اور عملی دونوں حوالوں سے اپنے خالق حقیقی کے بہت قریب لے آتے ہیں۔ ایک سائنسدان جو کھلے دل و دماغ کا مالک ہو بنیادی طور پر توحید پرست ہوتا ہے۔ گو علم کی تعریف جاننا ہے لیکن وہی جاننا مرتبہ علم کو پہنچتا ہے جس کے حصول سے خدا شناسی کا گوہر میسر آئے اور جو قرب الٰہی کا باعث بنے۔

جہالت کیا ہے؟ (What is Ignorance)

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہالت کیا ہے؟ کیا کچھ نہ جاننے کا نام جہالت ہے؟ ہم نے دیکھا کہ وہی جاننا اسلام کی نظر میں علم ہے جو انسان کو اس کے رب کی معرفت کا پتہ دیتا ہے لہذا جو جاننا خدا سے دور کر دے اور جو علم خدا کے قرب، خدا سے آگاہی و شناسائی اور اس کی معرفت کا ذریعہ نہ بن سکے وہ علم نہیں حقیقت میں جہالت ہے۔ دنیوی اعتبار سے اگر کوئی شخص بے شمار ڈگریوں کا حامل ہو لیکن اس کا یہ علم اسے اللہ کی معرفت سے بیگانہ کر دے تو وہ شخص عالم ہو کر بھی جاہل ہی کہلائے گا اور اس کا وہ علم، علم نہیں بلکہ جہالت ہے۔ ابوجہل کو اس لئے ابوجہل نہیں کہتے کہ وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتا تھا بلکہ وہ اس وقت کے اعتبار سے پڑھا لکھا شخص کہلاتا تھا لیکن اسے ابوجہل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا جاننا معرفت الہی کا ذریعہ نہ بن سکا اس لئے کہ اسلام کے تصور علم میں حصول علم کا آغاز ہی اللہ کی معرفت سے ہوتا ہے۔

مقصد کے اعتبار سے علوم کی تقسیم

جب یہ بنیادی بات طے پاگئی کہ ہر وہ علم جس سے معرفت الہی میسر آئے، اور قرب الہی نصیب ہو صحیح معنوں میں وہی علم ہے تو اس اعتبار سے جب ہم علوم کی تقسیم کریں گے تو صرف علم القرآن، علم التفسیر، علم الحدیث، علم الفقہ، علم النحو، علم الصرف اورعلم التصوف وغیرہ ہی دینی علوم نہیں ٹھہریں گے بلکہ حیاتیات (Biology)، طبیعیات (Physics)، نفسیات (Psychology)، کیمیا (Chemistry)، سیاسیات (Politics)، عمرانیات (Sociolgy)، معاشیات (Economics)، تاریخ (History)، قانون (Law)، نیوکلئیرٹیکنالوجی (Nuclear Technology)، کمپیوٹر سائنسز (Computer Sciences)، انتظامیات (Management)، تجارت (Commerce) اور ابلاغیات (Mass Communication) کے علوم بھی دینی علوم کے زمرے میں شمار ہوں گے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ان علوم کے حصول سے مقصود اللہ کی رضا ہو اور یہ علوم معرفت الہیہ اور قرب الہی کا وسیلہ بنیں، لہذا ہر وہ شخص جو اپنے حصول علم کا آغاز اللہ کے نام سے کرے اور اس کا مقصد علم کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرنا ہو تو وہ دنیا کے کسی بھی خطے، کسی بھی شعبے میں علم حاصل کر رہا ہو وہ دین الہی کا طالب علم ہی کہلائے گا کیونکہ ان تمام علوم کا ہر ہر گوشہ کسی نہ کسی اعتبار سے اپنے دامن میں خدا کی معرفت کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور رکھتا ہے۔ حرف حق کی تلاش ہی کو خدا کی تلاش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی انسان عقل سلیم کی جملہ توانائیوں کے ساتھ دنیا کے دیگر علوم کی تحصیل میں آگے بڑھتا چلا جائے تو اس کے ہر سفر علم کی انتہا خدا کی معرفت پر منتج ہوتی نظر آئے گی۔ وہ اپنے سفر علم میں جوں جوں ادراک و شعور کے مراحل طے کرتا چلا جائے گا توں توں اس پر خدا کی وحدانیت، اس کی ربوبیت، اس کی الوہیت اور اس کی عظمت کے ان گنت گوشے آشکار ہوتے چلے جائیں گے۔ لہذا ہرمعلم اورمتعلم، ہر استاد اور شاگرد، ہر مربی اور مربوب، جو شغل علم سے وابستہ ہوتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ وہ تعلیم و تربیت کے میدان میں صرف اس لئے قدم رکھ رہا ہے کہ اس کی یہ چند روزہ زندگی اپنے خالق حقیقی کی معرفت، اس کے قرب اور اس ذات تک رسائی کا ذریعہ ثابت ہو۔

علم کا میدان کھلا ہے
علم ایک سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ علم روشنی کے مسلسل سفر کا نام ہے۔ اسے تفہیمات کے کسی محدود خانے میں مقید نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم پہلی آیت کے لفظ ’’خلق،، کے معنی و مفہوم پر غور کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ تحصیل علم کے لئے مخصوص علوم کا انتخاب نہیں کیا گیا بلکہ علم کا میدان کھلا رکھا گیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے :

اقْرَاءْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَO

(اے حبیب!) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیئے جس نے (ہرچیز کو) پیدا فرمایا۔

(العلق، 96 : 1)

آیت مذکورہ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اگر بتا دیا جاتا کہ کس کو پیدا کیا تو مضمون علم کی حدود متعین ہوجاتیں۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ اللہ رب العزت نے علم کا میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ آیہ کریمہ میں خلق کا لفظ مطلقاً آیا ہے اور تخلیق کو بیان کرنے کے حوالے سے یہ آیت خاموش ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدائے کائنات نے خلق اور تخلیق کا کوئی رخ متعین نہیں کیا، لہذا اس سے یہ مراد لی جائے گی کہ خالق کائنات نے سب کچھ پیدا کیا۔ لفظ اقراء سے یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے چونکہ پیدائش و خلق کا کوئی رخ یا کوئی سمت متعین نہیں کی گئی لہذا تحصیل علم کی بھی کوئی سمت مقرر نہیں۔ علم کا میدان کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کائنات پست و بالا میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ رب العزت کا تخلیق کردہ ہے، اس لئے انسان کو اپنے علم کے ذریعہ یہ جان لینا چاہئے کہ یہ کائنات رنگ و بو اللہ کے وجود سے قائم ہے، وہی نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی بادلوں کو بنجر زمینوں کی طرف اذن سفر دیتا ہے، وہی پتھر میں کیڑے کو رزق دیتا ہے، وہی ہر مشکل میں اپنے بندوں کی دستگیری کرتا ہے، وہ رب کائنات ہے، وہ وحدہ لا شریک ہے، اس کا علم کائنات کے ذرے ذرے پر محیط ہے، وہ ہر علم کا سرچشمہ ہے اور اے انسان! تیرا علم پوری کائنات میں تجھے اللہ کی راہ دکھاتا ہے۔ الذی خلق کے معنی یہ ہیں کہ جب تیری نظر زمین کی وسعتوں کا احاطہ کرے تو تجھے خدائے ذوالجلال کی ان رحمتوں اور برکتوں کا اندازہ ہو جو اس کی تمام مخلوقات پر ہوتی ہیں۔ اس کے فضل و کرم کا مینہ ساری زمینوں کی پیاس بجھاتا ہے۔ تو جب آسمان کی بلندیوں کو دیکھے تو تجھے مالک ارض و سماوات کی عظمت و رفعت کی راہ دکھائی دے۔ فلک پوش پہاڑوں کو دیکھے تو خدائی عظمت و جبروت یاد آئے اور جب تو شاداب فصلوں، گرتے آبشاروں، بہتے دریاؤں اور لہلہاتے ہوئے کھیتوں کا نظارہ کرے تو تجھے قدرت خداوندی کے ساتھ ان شفقتوں اور محبتوں کی یاد بھی آئے جو وہ اپنے بندوں سے روا رکھتا ہے۔ غرض تیری نگاہ اس کی کسی تخلیق پر بھی پڑے تجھے وہ چیز کسی نہ کسی مظہر (Exhibitor) کا شاہکار دکھائی دے۔

اب تک ہم نے پہلی آیت مبارکہ کی روشنی میں اسلام کے تصور علم اور مقصد علم کے تحت جو گفتگو کی ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ جب تک مقصد علم کو نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک کسی علم کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا اور نہ اس ضمن میں کوئی اندازہ لگایا جاسکتا ہے لہذا مقاصد علم ہی کسی علم کے دینی اور لا دینی ہونے کا تعین کرتے ہیں۔

3۔ نصاب علم
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہاں لفظ نصاب اپنے ان معروف معنوں میں استعمال نہیں ہور ہا جس کا مطلب سلیبس (Syllabuss) یا Courses of Reading وغیرہ ہوتا ہے بلکہ یہاں لفظ نصاب اپنے وسیع تر معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔

کائنات کی ہر شے کا تعلق تخلیق کی نسبت سے باری تعالیٰ کے ساتھ ہے اس لئے کہ وہ ہر شے کا خالق و مالک ہے لہذا ہمارے علم کا تعلق بھی ہر شے سے ہونا چاہئے۔ یہ زمین اور آسمان، یہ چاند اور سورج، یہ ستارے اور سیارے، یہ سمندروں کی وسعت، یہ دریاؤں کی روانی، موجوں کی طغیانی، آبشاروں کا ترنم، قُمریوں کا تکلم، کلیوں کا تبسم، شمس و قمر کا طلوع و غروب، یہ شجر و حجر کی شادابی، یہ برگ و ثمر کی رنگینی، الغرض پوری کائنات ہست و بود سب کچھ خلق ہے اور صرف رب کی ذات اس عظیم تخلیق کی خالق ہے۔ نہ کوئی اس کا شریک ہے اور نہ کوئی اس کا ساجھی، وہ یکتا و تنہا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کس چیز کا علم حاصل کرے کہ اسے معرفت الہی اور قرب الہی نصیب ہو؟

الذی خلق : کے اطلاق اور عمومیت میں نصاب علم کی وسعت کا ذکر ہے۔ واضح طور پر اشارہ کیا جارہا ہے کہ اپنے رب کے نام سے ہر اس شے کا علم حاصل کر جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔

ہر تخلیق نصاب علم ہے

اللہ رب العزت نے جو کچھ تخلیق کیا ہے یا کائنات میں خالق و مالک کی ذات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ہمارے علم کے دائرہ نصاب میں آتا ہے۔ اگر انسان اس کرہ ارضی کے بارے میں علم حاصل کرتا ہے تو اسے ارضیات کا نام دیا جائے گا اور زمین کے اندر اور اس کی سطح پر رونما ہونے والے تمام تغیرات، تمام معدنیات اور ا سکے وسائل زیر بحث آئیں گے۔ اگر نفس انسانی کے اندرونی احوال و کیفیات، شعور و لا شعور کی مباحث اور Conscious Process کو چھوتا ہے تو یہ علم، علم نفسیات کہلائے گا۔ اگر مادہ اور اس کے مظاہر طبیعی (Physical Phenomena) میں حرکت وغیرہ کا علم حاصل کرتا ہے تو یہ طبیعیات کا علم ہوگا۔ اگر انسان کی حقیقت کے مبداء و منتہا کا عقل کی بنیاد پر تجزیہ کرتا ہے اور کائنات کی ماہیت اصلی اور انسان کے مقام و منصب کے اعتبار سے اس کے طرز عمل کا مطالعہ کرتا ہے تو اس علم کو فلسفہ کہیں گے۔ اگر کائنات میں موجود مختلف اشیا کی کیمیائی ترکیب کا جائزہ لیتا ہے تو یہ علم علم کیمیا (Chemistory) بن جائے گا۔ اگر ان کی زندگی کے حیاتیاتی پہلوؤں کا تجزیہ کرتاہے اور مظاہر حیاتیات (Biological Phenomena) کا مطالعہ کرتا ہے تو یہ علم بیالوجی کہلاتا ہے۔ اس طرح جدید و قدیم علوم کی ایک طویل فہرست ہے جو کائنات کے کسی نہ کسی پہلو کے بارے میں انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے اور انکشافات کی نئی دنیا آباد کرتی ہے۔ مختصراً یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہر وہ شے جو خدائے بزرگ و برتر کی تخلیق کی مظہر ہے وہ علم کے نصاب میں شامل ہے، یعنی خالق و مالک کی ہر تخلیق نصاب علم ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ
اب تک کی بحث سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اسلام نے صرف قرآن مجید، تفسیر، احادیث، فقہ، تصوف وغیرہ تک ہی نصاب علم کو محدود نہیں کیا بلکہ اسلام سائنسی علوم اور اپنے عہد کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو بھی شامل نصاب کرتا ہے۔ لفظ علق کا استعمال بھی سائنسی علوم کے نصاب میں شامل ہونے کی دلیل ہے۔ علق کا معنی جما ہوا خون بھی کیا جاتا ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی اصول ہے جس کا عمل تخلیق کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہوا کہ اسلام کے تصور علم میں نصاب کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔

اگلا حصہ انشاءاللہ میں بعد میں پوسٹ کرتا ہوں
__________________
زبیر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-08-07, 12:47 PM   #2
ناظم اعلی

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 3,562
کمائي: 57,442
ميرا موڈ:
شکریہ: 2,129
996 مراسلہ میں 2,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

زبیر بھائی! میں کافی دنوں سے علم پر مواد اکٹھا کرنے میں لگا ہوا تھا۔ بحر حال اب مجھے اِس کا رُخ بدلنا پڑے گا۔ آپ نے بہت زبر دست لکھا ہے۔
__________________
1۔ دوسروں کی بات کو پہلے غور سے سُنو۔ اُس کے بعد اپنی رائے دو۔
2۔ اگر کسی مسلے پر بحث کرنا مقصود ہو تو اُس سے متعلق تمام معلومات اور مواد اکٹھا کر کے بحث میں پڑو تاکہ بحث کرنے والے کے ساتھ مقابلہ کر سکو۔
Zullu230 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 17-08-07, 01:08 PM   #3
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,745
کمائي: 6,479
ميرا موڈ:
شکریہ: 0
453 مراسلہ میں 784 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکری لیکن یہ طاہر القادری صاھب کا لکھا ہوا ہے میں نے یہ دوسرے حصہ لکھا ہے
زبیر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Bookmarks

Tags
courses, فرض, کمپیوٹر, پیارے, پوسٹ, پاک, قدم, قرآن, قرآن حکیم, چین, نظر, ممکن, معلوم, اللہ, اسلام, بندگی, توحید, تلاش, تعلیم, جاہل, روزہ, رمضان, ستارے, غار, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ویب 0۔2 کے جادوئی کرشمے : حصہ اول عبدالقدوس آئیں کمپیوٹر سیکھیں 3 25-07-08 11:35 AM
ترتیب (حصہ اول) بلال عباسی اپکے کالم 0 03-10-07 04:16 PM
اسلام کا تصورِ علم حصہ دوم زبیر اسلامی نظریہ حیات 0 17-08-07 03:18 AM
بانگ درا (حصہ اول) خرم شہزاد خرم شاعر مشرق علامہ اقبال 2 28-07-07 10:07 AM
دیوان ناصر کاظمی (حصہ اول) خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 20-07-07 12:39 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2010, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO 3.3.0
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2010,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger