اساتذہ کاادب واحترام،ان کی خدمت،انہیں خوش رکھنا اوران کیلئے دعاگورہنا مشرقی تہذیب کا ایک جزو رہاہے اورمشرقی تہذیب ہی کیوں دنیا کی تمام قوموں کا وطیرہ اورہرتہذیب کاجزو رہاہے۔مغربی تہذیب کے سیلاب بلاخیز سے مشرق کی جن اقدار کو نقصان پہنچاہے اس میں سے زیر بحث جزو یعنی اساتذہ کاادب واحترام اوران کیلئے خدا کے حضور دعاگو رہناہے۔
استاد کے ادب واحترام کے بارے میں آج کی مجلس میں ائم کرام کے کچھ واقعات پیش کئے جائیں گے اس لئے کہ ہم جن ائمہ کرام کاادب واحترام کرتے ہیں اوران کے نام لیواہیں شاید یہ واقعات سن کر ہمیں بھی کچھ عبرت ونصیحت ہو۔
حضرت امام ابوحنیفہ کا مقام ومرتبہ محتاج تعارف نہیں۔وہ ائمہ اربعہ میں سے ایک ہیں اوران کی فقہ پر عمل کرنے والے پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہیں ۔
حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیاگیاہے ۔وہ فرماتے ہیں
روی عن ابی حنیفة انہ قال:مامددت رجلی نحو داراستاذی حماد اجلالالہ،وکان بین داری ودارہ سبع سکک،وماصلیت منذ مات حماد الااستغرت لہ مع والدی،وانی لاستغفر لمن تعلمت منہ اوعلمنی علماً
''میں نے کبھی بھی اپنے استاد حماد کے کی جانب ان کی عزت وتکریم کی وجہ سے ان کے گھر کی جانب پائوں نہیں پھیلایاجب کہ میرے اوران کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ تھااورجب سے حضرت حماد کا انتقال ہوا میں نے ہمیشہ ہرنماز میں اپنے والدین کے ساتھ ان کیلئے بھی دعائے مغفرت کی اورمیں ہر اس شخص کیلئے استغفار کرتاہوں جس سے میں نے کچھ سیکھا ہو ۔
امام ابویوسف رحمتہ اللہ اسلامی دنیا کے پہلے قاضی القضاة (چیف جسٹس)ہیں ۔امام ابوحنیفہ کے شاگرد خاص ہیں وہ فرماتے ہیں۔
وقال ابویوسف تلمیذ الامام ابوحنیفہ :انی لادعوالابی حنیفة قبل ابوی ،ولقد سمعت اباحنیفة یقول:ان لادعو لحماد مع ابوی
میں اپنے والدین سے قبل (امام)ابوحنیفہ کیلئے دعاکرتاہوں اورمیں نے امام ابوحنیفہ سے سناہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ حماد کیلئے بھی دعاکرتاہوں۔
مناقب الامام ابوحنیفہ للخوارزمی7/2)
امام شافعی کے مقام ومرتبہ کی بلندیوں پر ان کی کتاب الرسالہ شاہد عدل ہے جو ان کے قرآن وحدیث میں گہرے رسوخ اورتفقہ کاآئینہ دار ہے۔اسی کے ساتھ''الام''پڑھتے چلے جائیے اوران کے جودت طبع،ذہانت وفطانت اورقوت بحث وجدل کاشاندارنظارہ دیکھتے چلے جائیے۔
امام شافعی امام محمد بن الحسن جوامام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے ان کے بے حد مداح تھے۔امام شافعی کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد سے ایک اونٹ کے بوجھ کے بقدر علم حاصل کیااوریہ حقیقت ہے کہ امام شافعی کو امام بنانے میں امام محمد کی تعلیم وتربیت کا بڑاحصہ ہے۔اسی کے ساتھ جب ان کو مصر سے خلافت عباسی کے خلاف بغاوت کے الزام میں قید کرکے بغداد لایاگیاتھاتوان کی جان بچانے میںاورہارون رشید کی بدگمانی جو ان کو امام شافعی سے تھی دور کرنے میں اہم کردار اداکیا۔ ابن عبدالبر قرطبی کہتے ہیں کہ ہرشافعی کو امام محمد بن الحسن کا یہ احسان مانناچاہئے۔
امام شافعی جو امام مالک کے بھی شاگرد ہیں
وہ فرماتے ہیں
کنت اتصفح الورق بین یدی مالک برفق لئلایسمع وقعھا (فیض القدیر للمناوی3/253)
میں امام مالک کے سامنے ورق بھی نہایت آہستگی کے ساتھ الٹتاتھا مبادا ورق الٹے جانے کی آواز ان کے کانوں میں پڑے (اوران کو ناگوار خاطرہو)
امام احمد بن حنبل کا مقام ومرتبہ جو ہے وہ پوری دنیا میں سب کومعلوم ہے خاص طور سے فتنہ خلق قرآن میں انہوں نے جس عزیمت اورثابت قدمی کا ثبوت دیاوہ اپنی مثال آپ ہے۔ان کے استاذ گرامی امام شافعی جلیل القدر فقیہہ ہیں۔ اوریہ حیرت کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ علم حدیث میں امام احمد بن حنبل کا مقام ومرتبہ امام شافعی سے زیادہ تھا۔ احادیث سے واقفیت اوران پرنگاہ پر زیادہ تھی لیکن فقہ الحدیث کیلئے انہوں نے امام شافعی کی شاگردی کی اورامام شافعی کی فقہ الحدیث ،یعنی حدیث کا اصل معنی مطلب کیاہے اس سے کیااحکام مستنبط کئے جاسکتے ہیں اس سے کیانکات اورلطائف نکلتے ہیں ۔ اس سے کن اصولی اورفروعی مسئلوں پر روشنی پڑتی ہے۔اس کیلے انہوں نے امام شافعی کی شاگردی اختیار کی اوراپنے گرامی قدر استاذ سے تاثر کایہ عالم تھا کہ وہ فرماتے ہیں۔
''مابت منذ ثلاثین سنة الا واناادعو للشافعی واستغفرلہ ،قال عبداللہ بن احمد بن حنبل :قلت لابی :ای رجل کان الشافعی ،فانی سمعتک تکثر من الدعاء لہ ،فقال یابنی کان الشافعی کالشمس للدنیا وکالعافیة للناس (تاریخ بغداد ،خطیب بغدادی،2/62)
میں تیس سال سے برابر(امام)شافعی کیلئے دعااوراستغفار کرتاہوں ،عبداللہ بن احمد بن حنبل کہتے ہیں۔ میں نے اپنے والد سے کہا،شافعی کون تھے ؟میں دیکھتاہوں کہ آپ ان کیلئے بہت زیادہ دعائے خیر کرتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا میرے بیٹے امام شافعی دنیا کیلئے ایسے سورج کی طرح تھے اورلوگوں کیلئے وجہ عافیت تھے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اساتذہ کا ادب واحترام کرنے اوران کا حق اداکرنے کی توفیق دے۔والسلام