واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


بسلسلہ میلادالنبی ص ’معراج کا اصل مدعا‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-02-11, 04:17 PM   #1
بسلسلہ میلادالنبی ص ’معراج کا اصل مدعا‘
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 07-02-11, 04:17 PM

انسانیت کیلئے چودہ نکاتی منشور کا اجراء

بعد مدت آخرکار آئی وہ وعدے کی رات
جب ندائے ربانی ''سبحان الذی اسریٰ'' سے گونجی کائنات

’’معراج‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ان واقعات میں سے ہے۔ جنہیں دْنیا میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے۔

عام روایت کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے 27رجب کی شام کو پیش آیا۔اس کاذ کر قرآن اور حدیث میں بھی موجودہے۔اس واقعہ کی تفصیلات 28ہمعصر راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچیں ہیں۔ سات راوی وہ ہیں جو خو دمعراج کے زمانے میں موجود تھے اور21وہ جنہوں نے بعد میں حضور ص کی اپنی زبان مبارک سے اس کا قصہ سنا۔
معراج کا واقعہ جس قدر مشہورہے اسی قدر محدود انسانی عقل کی تہیں اس پر چڑ ھ گئی ہیں۔

عام لوگ عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ ان کی عجائب پسندی کے جذبہ کو بس اپنی تسکین کاسامان چاہئے۔ اس لئے معراج کی اصل رو ح اور اس کی غرض اور اس کے فائدوں اور نتیجوں کو تو انہوں نے نظر انداز کردیا اور ساری گفتگو اس پر ہونے لگی کہ حضورص جسم کے ساتھ آسمان پر گئے تھے یا صرف روح گئی تھی ، براق کیا تھا ، جنت اور دوزخ کا حال آپ نے کیا تھا اورفرشتے کس شکل میں تھے۔
حالانکہ دراصل یہ واقعہ تاریخ انسانی کے ان بڑے واقعات میں سے ہے جنہوں نے زمانہ کی رفتار کو بدلا اور تاریخ پر اپنا مستقل اور دیر پا اثر چھوڑاہے
یعنی اس کی حقیقی اہمیت ، کیفیت معراج میں ہی نہیں بلکہ اس کی مقصدیت اور نتیجہ معراج میں ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ کرہ زمین جس پر ہم سب رہتے ہیں ،خدا کی عظیم الشان سلطنت کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے۔ اس صوبہ میں خدا کی طرف سے جو انبیاء اور رسول بھیجے گئے ہیں ، ان کی حیثیت کچھ اس طرح کی سمجھ لیجئے جیسے دنیا کی حکومتیں اپنے ماتحت ملکوں میں گورنر یا وائسرائے بھیجا کرتی ہیں۔
ایک لحاظ سے دونوں میں بڑا بھاری فرق ہے۔دنیوی حکومتوں کے وائسرائے محض انتظام ملکی کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں اور سلطان کائنات کے گورنر اور وائسرائے اس لئے مقرر ہوتے ہیں کہ انسان کی صحیح تہذیب پاکیزہ اخلاق اور سچے علم وعمل کے وہ اصول بتلائیں جو روشنی کے مینارے کی طرح انسانی زندگی کی شاہراہ پر کھڑے ہوئے صدیوں تک سیدھا راستہ دکھاتے رہیں۔

اس فرق کے باوجود دونوں میں ایک طرح کی مشابہت ہے۔ دنیا کی حکومتیں گورنری جیسے ذمہ داری کے منصب ان ہی لوگوں کو دیتے ہیں جو ان کے سب سے زیادہ قابل اعتماد ہوتے ہیں اور جب وہ انہیں اس عہدے پر مقرر کردیتی ہیں تو پھر انہیں یہ دیکھنے اور سمجھنے کا پورا موقع دیتی ہیں کہ حکومت کا اندرونی نظام کس طرح ، کس پالیسی پر چل رہاہے اور ان کے سامنے اپنے وہ راز بے نقاب کردیتی ہیں جو عام رعایا پر ظاہر نہیں کئے جاتے۔

ایسا ہی حال خدا کی سلطنت کا بھی ہے ،وہاں بھی انبیاء اور رسول جیسے ذمہ دار منصب پر وہی قدسیاں مقرر ہوئے ہیں جو سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے اور جب انہیں اس منصب پر مقرر کردیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کو اپنی سلطنت کے اندرونی نظام کا مشاہدہ کرایا اور ان پر کائنات کے وہ اسرار ورموزظاہر کئے جو عام انسانوں پر ظاہر نہیں کئے جاتے۔

مثال کے طور پر ...
حضرت ابراہیم علیہ سلام کو آسمان اور زمین کے ملکوت یعنی اندرونی انتظام کا مشاہدہ کرایا گیا۔(سورہ انعام)اور یہ بھی آنکھوں سے دکھایا گیا کہ خدا کس طرح مْردوں کو زندہ کرتاہے۔

حضرت موسی علیہ سلام کی یہ معراج ہی تھی جب ان کو وادی سینا میں بلاکر احکامِ عشرہ دیئے گئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ مصر جاکر فرعون کو منشائ خداوند ی کے مطابق نظام حکومت میں اصلاح کرنے کی دعوت دواور کوہِ طور پر رب نے اپنی تجلی کی اور نشانیاں دیکھائیں اورکبھی ایک خاص بندے حضرت خضر علیہ سلام کے ساتھ کچھ مدت تک گھمایا پھرایا گیا تاکہ اللہ کی مشیت کے تحت دنیا کا انتظام جس طرح ہوتاہے اس کو دیکھیں اور سمجھیں۔( سورہ کہف)۔

اسی طرح وہ حضرت عزیر علیہ سلام کی معراج تھی جب قدرت نےحضرت عزیر کو سو سال کے لیے موت دی اور مختلف کیفات و مشاہدات کا تعارف کروایا.

اسی طرح وہ حضرت عیسی علیہ سلام کی معراج تھی جب انہوں نے ساری رات پہاڑی پر گذاری اور پھر اٹھ کر بارہ رسول مقرر کئے اور وہ وعظ کہا جو ''پہاڑی کے وعظ'' کے نام سے مشہورہے۔ اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح اللہ کے حکم سے مردہ زندہ ہوتے ہیں اور اندھے شفایاب

اور بلکل ایسے ہی تجربات نبی آخرالزمان علیہ سلام کے لیے بھی تھے۔ کہیں آپ کسی کو انتہائی افق پر اعلانیہ دیکھتے ہیں۔ کبھی وہ آپ سے قریب آتاہے ، کبھی وہی آپ کو سدرة المنتہیٰ یعنی عالم مادی کی آخری سرحد پر ملتاہے اور وہاں آپ خدا کی عظیم الشان نشانیاں دیکھتے ہیں۔ (سورہ النجم)


ایسے بھی سمجھ سکتے ہیں
حضرت عزیر کو زمین سے زمین پر ہی ان کی معراج تھی
حضرت عیسی کو زمین سے پہاڑ پر معراج ملی.
حضرت موسی کو زمین سے پانی حضرت خضر تک رسائی اور پھر پہاڑ پر جلوہ ربانی کی تجلی ان کے لیے معراج تھی


بعض انبیاء کو بعض انبیاء پر فضلیت دی .معراج صرف سیر اور مشاہدہ کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایسے موقع پر ہوتی ہے جبکہ رسول کو کسی کارِ خاص پر مقرر کرنے کے لئے بلایا جاتاہے اور اہم ہدایات دی جاتی ہیں۔
اور پھراسی طرح نبی آخرالزامان علیہ سلام کو ایسے ہی ایک اہم موقع طلب کیا گیا اور چونکہ سب سے عظیم نبی ہیں اس لے سب سے افضل معراج ان ہی حصے میں آئی یعنی ان ہی کے لیے خدا نے رکھی .
یہ وہ وقت تھا جب آپ کو اپنے مشن کی تبلیغ کرتے ہوئے تقریباً بارہ سال گذر چکے تھے۔ حجاز کے اکثر قبائل میں اور قریب کے ملک حبش میں آپ کی آواز پہنچی چکی تھی اور آپ کی تحریک ایک مرحلہ سے گذر کر دوسرے مرحلے میں قدم رکھنے کو تھی۔ دوسرے مرحلے سے مراد یہ ہے کہ آپ مکہ کی ناموافق زمین کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف منتقل ہوجائیں جہاں آپ کی کامیابی کیلئے زمین تیار تھی۔ اس دوسرے مرحلے میں آپ کا مشن بہت پھیلنے والا تھا۔ صرف حجاز اور عرب ہی نہیں بلکہ گردو پیش کی دوسری قوموں سے بھی سابقہ پیش آنا تھااور اسلام کی تحریک ایک اسٹیٹ میں تبدیل ہونے کو تھی۔ اس لئے اس اہم موقع پر آپ کو ایک نیا پروانہ تقرر اور نئی ہدایات دینے کے لئے بادشاہ کائنات نے اپنے حضور میں طلب فرمایا۔ اسی پیشی وحضوری کا نام معراج ہے۔عالم بالا کا یہ حیرت انگیز سفر ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے پیش آیا تھا۔اس سفر کے ضمنی واقعات احادیث میں آئے ہیں۔ مثلاً بیت المقدس پہنچ کر نماز ادا کرنا،آسمان کے مختلف طبقات سے گذرنا ،پچھلے زمانے کے پیغمبروں سے ملنا اور پھر آخری منزل پر پہنچنا لیکن قرآن مجید ضمنی چیزوں کو چھوڑ کر ہمیشہ اصل مقصد تک اپنے بیان کو محدود رکھتاہے۔اس لئے اس نے کیفیت معراج کا کچھ ذکر نہیں کیا بلکہ وہ چیز تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے جس کے لئے حضور کو بلایا گیا تھا۔

قرآن کی سترہویں سورہ میں اس کی تفصیل درج ہے۔ اس کے دو حصے ہیں ، ایک حصے میں مکہ کے لوگوں کو آخری نوٹس دیا گیا کہ اگر تمہاری سختیوں کی وجہ سے خداکاپیغمبر جلاوطنی پر مجبور ہوا تو مکہ میں تم کو چند سال سے زیادہ رہنے کا موقع نہ مل سکے گا(سورة بنی اسرائیل) اور بنی اسرائیل کو جن سے عنقریب مدینہ میں پیغمبر صلعم سے براہ راست سابقہ پیش آنا تھا ، خبر دار کیا گیا کہ تم اپنی تاریخ میں وہ زبردست ٹھوکریں کھاچکے ہو اور دوقیمتی مواقع کھوچکے ہو،ا ب تم کو تیسرا موقع ملنے والا ہے اور آخری موقعہ ہے (سورہ بنی اسرائیل)۔ دوسرے حصے میں وہ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں ، جن پر انسانی تمدنی واخلاقی کی تعمیر ہونی چاہئے۔

یہ چودہ اصول ہیں جو سورہ بنی اسرائیل میں درج ہیں۔
(١)۔صرف اللہ کی بندگی کی جائے اور اقتدار اعلیٰ میں اس کے ساتھ کسی شرکت نہ تسلیم کی جائے۔
(٢) تمدن میں خاندان کی اہمیت ملحوظ رکھی جائے اور اولاد والدین کی فرمانبردار اور خدمت گذار ہو اور شتہ دار ایک دوسرے کے ہمدرد ہوں۔
(٣)۔ سوسائٹی میں جو لوگ غریب یا معذور ہوں یا اپنے وطن سے دور باہر مدد کے محتاج ہو ں وہ بے وسیلہ نہ چھوڑ دیئے جائیں۔
(٤)۔ دولت کو فضول ضائع نہ کیا جائے ، جو مالدار اپنے روپے کو برے طریقے سے خرچ کرتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں۔
(٥)۔ لوگ اپنے خرچ کو اعتدال پر رکھیں، نہ بخل کرکے دولت کو روکیں اور نہ فضول خرچی کرکے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کریں۔
(٦)۔رزق کی تقسیم کا قدرتی انتظام جوخدا نے کیا ہے ،انسان اس میں سے اپنے مصنوعی طریقوں سے ،خلل نہ ڈالے ، خدا اپنے انتظام کی مصلحتوں کو زیادہ بہتر جانتاہے۔
(٧) معاشی مشکلات کے خوف سے لوگ اپنی نسل کی افزائش نہ روکیں ، جس طرح موجودہ نسلو ں کے رزق کا انتظام خدا نے کیا تھا ، آنے والے نسلوں کے لئے بھی وہ انتظام کرے گا۔
(٨) خواہش نفس کو پورا کرنے کے لئے زنا کا راستہ بْرا راستہ ہے ، لہٰذا نہ صرف زنا سے پرہیز کیا جائے بلکہ اس کے قریب جانے والے اسباب کا دروازہ بھی بند ہوجانا چاہئے۔
(٩)۔ انسانی جان کی حرمت خدا کے قائم کی ہے لہٰذا خدا کے مقرر کردہ قانون کے سوا کسی دوسری بنیاد پر آدمی کا خون نہ بہایا جائے نہ کوئی اپنا جان دے اور نہ دوسروں کی جان لے۔
(٠١)۔ یتیموں کی مال کی حفاظت کی جائے جب تک وہ خود اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوں ، ان کے حقوق کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
(١١) عہد وپیمان کو پورا کیا جائے۔ انسان اپنے معاہدات کے لئے خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔
(٢١) تجارتی معاملات میں ناپ تول ٹھیک ٹھیک راستی پر ہونا چاہئے اور اوزان اور پیمانے صحیح رکھے جائیں۔
(٣١)۔جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کی پیروی نہ کرو ، وہم اور گمان پر نہ چلو کیونکہ آدمی کو اپنی تمام قوتوں کے متعلق خدا کے سامنے جواب دہی کرنی ہے کہ اس نے انہیں کس طرح استعمال کیا۔
(٤١)۔ نخوت اور تکبر کے ساتھ نہ چلو ،غرور کی چال سے نہ تم زمین پھاڑ سکتے ہو ، نہ پہاڑوں سے اونچے ہوسکتے ہو۔


یہ چودہ اصول جو معراج میں صاحب المعراج نبی جناب حضرت رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے تھے ان کی حیثیت صرف اخلاقی تعلیمات ہی کی نہ تھی بلکہ یہ پروگرام تھا جس پر آپ کو آئندہ سوسائٹی کی تعمیر کرنی تھی۔یہ ہدایات اس وقت دی گئی تھیں جب آپ کی تحریک عنقریب تبلیغ کے مرحلے سے گزر کر حکومت اور سیاسی اقتدار کے مرحلے میں قدم رکھنے والی تھی۔ لہٰذا یہ گویا ایک مینی فیسٹو تھا جس میں یہ بتایا گیا تھا خدا کے نبی ان اصولوں پر تمدن کا نظام قائم کرناہے ۔
اسی لئے معراج میں یہ چودہ نکات مقررکرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے تمام پیروان اسلام کے لئے پانچ وقت کی فرض نماز کی۔(سورة بنی اسرائیل)تاکہ جو لوگ اس پروگرام کو عمل کاجامہ پہنانے کے لئے انہیں ان میں اخلاق انضباط پیدا ہو اور وہ خدا سے غافل نہ ہونے پائیں۔ ہر روز پانچ مرتبہ ان کے ذہن میں یہ بات تازہ ہوتی رہے کہ و ہ خود مختار نہیں ہے بلک ان کا حاکم اعلیٰ خدا ہے جس کو انہیں اپنے کام کا حساب دیناہے۔


میلاد النبی صلی علیہ والہ وسلم کا اصل مقصد یہ ہے کہ نبی آخرالزامان علیہ سلام کی زندگی پر روشنی ڈالی جائے جس طرح خود قران میں کئی انبیاء علیہ سلام کا زکر بار بار ملتا ہے اور تعریف کی ہے تاکہ لوگوں کے لیے مشل راہ بنے اسی سلسلے میں یہ موضوع یا نظریہ ’حاجی غلام محمد شیخ‘ کا ہے میں نے کچھ رد و بدل کے ساتھ اسے پیش کیا ہے اگر کوئی تبدلی کرنا چاہے تو وہ بہتر ہے بات صرف یہ ہے کہ معراج کے اصل مقصد کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 189
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-02-11), مرزا عامر (07-02-11), اویسی (08-02-11)
پرانا 08-02-11, 09:42 AM   #2
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چودہ نکات پر ایک ایک کرکے روشنی ڈالی جاسکتی ہے تاکہ سمجھنے میں زیادہ آسانی رہے۔ ۔ ۔

(١)۔صرف اللہ کی بندگی کی جائے اور اقتدار اعلیٰ میں اس کے ساتھ کسی شرکت نہ تسلیم کی جائے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (08-02-11), اویسی (08-02-11)
جواب

Tags
فرض, گمان, پسند, واقعات, قدم, قرآن, قران, قصہ, لوگ, نماز, نظر, مکہ, موت, منتقل, منشور, مجید, آدمی, اللہ, اسلام, اعلیٰ, بھائی, بندگی, حدیث, راستہ, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger