| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 451
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (10-08-09), wajee (27-08-09), خرم شہزاد خرم (10-08-09), راجہ اکرام (27-08-09), عبداللہ آدم (11-04-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,565
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
لگتا ہے کہ یہ مراسلہ کسی کی نظر سے نہیں گذرا یا شاید رمضان میں اس پر بحث سے گریزاں ہیںِ؟ اگر کوئی صاحب علم اس حدیث کے بارے میں کچھ کہہ سکے تو مہربانی۔۔۔۔۔ والسلام طاہر |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-08-09), راجہ اکرام (27-08-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، چچا عادل کو ذاتی پیغام کےذریعے توجہ دلا دیں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (27-08-09), راجہ اکرام (27-08-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، فیصل بھائی ، سب بھائیوں سے معذرت خواہ ہوں کہ مجھے نئے مراسلات کی بذریعہ ای میل خبر نہیں ملتی ، اور میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہوتا کہ میں نئے دھاگوں کو تلاش کر سکوں ، سب بھائیوں اور بہنوں سے غذارش کرتا ہوں کہ اپنے جواب طلب مراسلات کی مجھے ذاتی پیغام میں اطلاع کر دیا کریں یا میری ای میل پر پیغام ارسال کر دیا کریں ، جزاکم اللہ خیرا ، اب بھائی طاہر کے سوال کے جواب میں """ کفار کے ممالک میں رہائش پذیر ہونا """ کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کر ہوں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان معلومات اور احکام کی خیر عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
::::::: کفار کے ممالک میں رہائش اختیار کرنا ::::::: الحمد للہ وحدہ و الصلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ و علی اصحابہ و أزواجہ و ذریتہ و من تبع باحسان الی یوم الدین السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، بھائی طاہر کی طرف سے ایک سوال سامنے آیا جس میں انہوں نے کسی کے ایک مراسلے یا مضمون کی تصویر لگائی ہے جس کے آخر میں کسی حوالے کے بغیر ایک حدیث کا ذکر کیا گیا ہے ، اور سوال اسی حدیث کے بارے میں ہے ، اس مراسلے میں حدیث کے طور پر لکھا ہے کہ """"" جس نے معاش کی خاطر کسی مسلمان ملک کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی اس کا مجھ پر کوئی حق نہیں """"" اس حدیث کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا ، میرے علم میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے جو ان الفاظ کی حامل ہو ، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ رہنے سے منع فرمایا ہے اور بہت سختی سے منع فرمایا ہے ، ::::::: جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( أنا بَرِيءٌ من كل مُسْلِمٍ يُقِيمُ بين أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ::: میں ہر اس مسلمان سے بری (الذمہ) ہوں جو مشرکوں کے درمیان مقیم ہوا ))))) صحابہ نے عرض کی """ يا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ::: اے اللہ کے رسول ایسا کیوں ؟ """ تو ارشاد فرمایا ((((( لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا :::یہ دونوں (یعنی مسلم اور مشرک ) ایک دوسرے کی آگ بھی نہ دیکھیں ))))) سنن ابو داؤد ، کتاب الصوم ، باب ۱۰۵ ، سنن الترمذی/حدیث 1604 /کتاب السیر /باب 42 ، امام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ، الارواء الغلیل /حدیث ۱۲۰۷ ، ::::::: ایک اور روایت جو کہ سنن البھیقی میں ہے ، اور انہی سے امام الطبرانی نے اپنی معجم الکبیر میں بھی نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((((( مَن أقامَ مع المُشرِكِينَ فَقد بَرِئتُ مِنهُ الذِّمة ::: جو مشرکوں کے ساتھ مقیم ہوا یقینا میں اس سے بری الذمہ ہوں )))))) سنن البیھقی الکبُریٰ / حدیث 17528 / کتاب السیر / باب ۱۷ ، یہ حدیث بھی صحیح ہے ، الارواء الغلیل / حدیث ۱۲۰۷ کے ضمن میں ، اور السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث 768 ، یہ مذکورہ بالا روایت تو کسی مسلمان کو کسی کافر کے ساتھ ، اس کے قریب سکونت اختیار کرنے سے منع کرنے کے ایک عام حکم لیے ہوئے ہیں ، ان کے علاوہ ایک اور روایت یہ بھی واضح کرتی ہے کہ مشرکین کے ساتھ ان کے شہروں میں جا رہنا بھی ناجائز ہی ہے ::: ((((( برئت الذمة ممن أقام مع المشركين في بلادهم ::: میں اس سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے ساتھ ان کے ملکوں میں مقیم ہوا ))))) السلسلۃ الاحادیث الصحیحہ /حدیث 768، درجہ حدیث حسن ، ان احادیث مبارکہ پر معمولی سا غور کرنے والا بھی سمجھ پاتا ہے کہ مسلمان کا مشرکوں کے ساتھ ان کے درمیان میں مقیم ہونا کس قدر خطرناک معاملہ ہے خواہ وہ مسلمانوں کے ملکوں میں ہو یا کافروں کے ملکوں میں ، کہ ان کے ساتھ رہنے والے مسلمان کی آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کوئی مدد نہ فرمائیں گے کیونکہ وہ اُس کے اِس عمل کی وجہ سے پہلے ہی خود کو اس ملسمان سے بری الذمہ قرار دے چکے ہیں ، اور اس معاملے کی خوفناکی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم نے ایک بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ، کہ ((((( لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا :::یہ دونوں (یعنی مسلم اور مشرک ) ایک دوسرے کی آگ بھی نہ دیکھیں ))))) ذرا غور کیجیے ، اس فرمان پر ، اور غور کیجیے اس وقت کے عرب معاشرے اور اس معاشرے کی عادات کے مطابق ، اس وقت عربوں میں یہ عادت تھی کہ صحرا نشین لوگ رات کے وقت اپنے خیموں یا اپنی بستیوں سے کچھ دور آگ جلا دیا کرتے تھے ، اس کے دو سبب تھے (۱) جانوروں سے محفوظ رہنا (۲) صحرا میں بھولے بھٹکے مسافر کو رات میں کسی بستی کا پتہ دینا کہ وہ وہاں آکر رات گزار لے ، اب غور فرمایے کہ رات میں اگر صحرا میں آگ جل رہی ہو تو کتنی دور سے دکھائی دے ، یقینا کئی میل دور سے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یہ مثال دے کر واضح فرما رہے کہ مسلمان کو مشرکوں اور کافروں وغیرہ سے اس قدر دور رہنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی آگ بھی نہ دیکھ سکیں ، اور یہ معاملہ صرف ڈرانے کی صورت میں ممنوع نہیں ، انہی جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ::: """ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ بیعت لے رہے تھے ، میں نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول اپنا ہاتھ میری طرف کیجیے تا کہ میں آپ کی بیعت کروں اور جو شرط آپ چاہیں رکھیے کیونکہ آپ زیادہ جانتے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا ((((( أبايعك على أن تعبد الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتناصح المسلمين وتفارق المشركين :::میں تمہاری بیعت اس پر لیتا ہوں کہ تُم اللہ کی عبادت کرو گے اور نماز قائم کرو گے اور زکوۃ ادا کرو گے اور مسلمانوں کو نصیحت کرو گے اور مشرکوں سے الگ رہو گے ))))) سنن النسائی / کتاب البیعۃ / باب 20 ، جی مشرکوں سے الگ رہنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور اس شرط پر بیعت لی گئی ، اور یہ حکم صرف جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لیے نہیں تھا ، بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے قیامت تک ہے ، جیسا کہ اس حدیث سے پہلے بیان کی گئی احادیث میں وضاحت ہو چکی ہے ، اور اس کے علاوہ کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بھی بالکل ایسی ہی بیعت کا واقعہ ان کے بارے میں مروی ہے ، المستدرک الحاکم /کتاب معرفۃ الصحابہ /باب 199 كعب بن عمرو أبو اليسر الأنصاري رضي الله عنه ، اب جو مسلمان بغیر کسی شرعی عذر کے کافروں کے ہاں جا کر رہتے ہیں ، اور صرف آباد ہی نہیں ہوتے وہاں مستقل سکونت اختیار کر لیتے ہیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ان مذکورہ بالا احکام کی نافرمانی کا شکار ہوتے ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ان سے بری الذمہ ہیں ، یہاں ایک بات کا بیان ضروری ہے کہ ، کفار کے ملکوں ، یا کفار کے علاقوں میں جانے کے جائز اسباب میں تجارت ، علاج ، اچھی مثبت تعلیم جو مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہو اس کا حصول ، تبلیغ اسلام کے لیے جانا ہے ، اور تبلیغ دو طرح سے ہے ، (۱) سفارتی ذرائع سے (۲) جہادی ذرائع سے ، اور ان تمام اسباب میں کسی مسلمان کا ، کافروں مشرکوں کے ہاں مقیم ہونا ، رہائش ، سکونت وغیرہ اختیار کرنا نہیں ہوتا ، بلکہ ایک طے شدہ ھدف کے حصول کے لیے ایک سوچے سمجھے وقت کے لیے وہ وہاں جاتا ہے اور ھدف مکمل کر لینے پر یا مدت پوری ہوجانے پر فورا واپس ہوتا ہے ، چونکہ تجارت بھی حصول معاش کا ایک ذریعہ ہے ، لہذا تجارت کے ضمن میں ، تجارت کے حکم پر قیاس کرتے ہوئے ہم حصول معاش کے دوسرے ذرائع کو بھی لے سکتے ہیں ، پس ایسے کسی ذریعے کو اسی طرح اختیار کیا جانا چاہے جس طرح تجارتی سفر ہوتا ہے ، اور کفار کے ملکوں یا علاقوں میں کسی طور مستقل سکونت اختیار نہیں کی جانی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان احکامات کو سمجھنے اور ان کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان شا اللہ ، مستقبل میں اس مضمون میں مزید کچھ اضافے کے ساتھ ایک الگ موضوع کے طور پر ارسال کروں گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (28-08-09), چیتا چالباز (30-08-09), سحر (30-08-09), شکیل احمد (28-08-09), طاھر (28-08-09), عبداللہ آدم (11-04-10), عبداللہ حیدر (28-08-09) |
|
|
#7 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 38
کمائي: 568
شکریہ: 18
21 مراسلہ میں 46 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے۔ ۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 801
کمائي: 15,654
شکریہ: 1,491
503 مراسلہ میں 1,171 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ّعادل بھائ اللہ آپ کے علم اور عمر اور عزت میں برکت عطا فرمائے. آمین
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے چیتا چالباز کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (30-08-09), عبداللہ حیدر (30-08-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: karachi
مراسلات: 188
کمائي: 5,724
شکریہ: 980
145 مراسلہ میں 473 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ عادل سہیل صاحب رہنمائی فرمانے کا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| لوگ, نماز, نظر, مکمل, معذرت, اللہ, اسلام, بہترین, بھائی, تلاش, تعلیم, تصویر, جواب, حکم, حدیث, حسن, خبر, دعا, رمضان, سفر, علی, عادل, عبادت, عزت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|