واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


تیمم کا بیان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-08-07, 11:48 AM   #1
تیمم کا بیان
عبدالقدوس عبدالقدوس آف لائن ہے 19-08-07, 11:48 AM

تیمم کا بیان

مسئلہ ١۔ اگر کوئی جنگل میں ہے اور بالکل معلوم نہیں کہ پانی کہاں ہے نہ وہاں کوئی آدمی ایسا ہے جس سے دریافت کرے توایسے وقت تیمم کرلیوے اور اگر کوئی آدمی مل گیا اور اس نے ایک میل شرعی کے اندر اندر پانی کا پتہ بتا دیا اور گمان غالب ہوا کہ سچاہے لیکن آدمی تو نہیں ملا لیکن کسی نشانی سے اس کا دل خود کہتا ہے کہ یہاں ایک میل شرعی کے اندر اندر پانی کہیں ضرورہےتو پانی کا اس قدر تلاش کرنا کہ اس کو اور اسکے ساتھیوں کو کسی قسم کی تکلیف اور حرج نہ ہو ضروری ہے۔ بے ڈھونڈے تیمم کرنا درست نہیں ہے اور اگر خوب یقین ہے کہ پانی ایک میل شرعی کے اندر ہے تو پانی لانا واجب ہے۔

<فائدہ> میل شرعی انگریزی میل سے ذرا زیادہ ہو تا ہے یعنی انگریزی ایک میل پورا اور اس کا اٹھواں حصہ یہ سب ملکر ایک شرعی میل ہوتا ہے۔

مسئلہ ٢۔ اگر پانی کا پتہ چل گیا لیکن پانی ایک میل سے دور ہے تو اتنی دور جاکر پانی لانا واجب نہیں ہے بلکہ تیمم کرلینا درست ہے۔

مسئلہ ٣۔ اگر کوئی آبادی سے ایک میل کے فاصلے پر ہو اور ایک میل سے قریب کہیں پانی نہ ملے توبھی تیمم کرلینا درست ہے۔ چاہے مسافر ہو یا نہ ہو۔ تھوڑی دور جانے کے لئے نکلی ہو۔

مسئلہ ٤۔ اگر راہ میں کنواں تو مل گیا مگر لوٹا ڈورا پاس نہیں اس لئے کنوئیں سے پانی نکال نہیں سکتی اور نہ کسی اور سے مانگےمل سکتا ہے تو بھی تیمم درست ہے۔

مسئلہ ٥۔اگر کہیں سے پانی مل گیا مگر بہت تھوڑا ہے۔ اگر اتنا ہو کہ ایک ایک دفعہ منہ اور دونوں ہاتھ اور دونوں پیر دھو سکے تو تیمم کرنا درست نہیں بلکہ ایک ایک دفعہ ان چیزوں کو دھووے اور سر کا مسح کر لیوے اور کلی وغیرہ کرنا یعنی وضو کی سنتیں چھوڑدے اور اگر اتنا بھی نہ ہو تو تیمم کرلیوے۔

مسئلہ ٦۔ اگر بیماری کی وجہ سے پانی نقصان کرتا ہو کہ اگر وضو کرے گی تو بیماری بڑھ جاوے گی یا دیر میں اچھی ہو گی تب بھی تیمم درست ہے لیکن اگر ٹھنڈا پانی نقصان کرتا ہو اور گرم پانی نقصان نہ کرے تو گرم پانی سے غسل کرنا واجب ہے البتہ ایسی جگہ ہے کہ گرم پانی نہیں مل سکتا تو تیمم کرنا درست ہے۔

مسئلہ ٧۔ اگر پانی قریب ہے کہ یقیناً ایک میل سے کم دور ہے تو تیمم کرنا درست نہیں،جاکر پانی لانا اور وضو کرنا واجب ہے مردوں سے شرم کی وجہ سے یا پردہ کی وجہ سے پانی کو نہ لینے جانااور تیمم کرلینا درست نہیں۔ ایسا پردہ جس میں شرعیت کا کوئی حکم چھوٹ جاوے ناجائز اور حرام ہے۔ برقع اوڑھ کر اور سارے جسم پر چادر لپیٹ کر جانا واجب ہے،البتہ لوگوں کے سامنے بیٹھ کر وضو نہ کرے اور ان کے سامنے منہ اور ہاتھ نہ کھولے۔

مسئلہ ٨۔جب تک پانی سے وضو نہ کر سکے برابر تیمم کرتی رہے چاہے جتنے دن گذر جاوے کچھ خیال اور وسوسہ نہ لاوے جتنی پاکی وضو اور غسل سے ہوتی ہے اتنی ہی پاکی تیمم سے بھی ہو جاتی ہے یہ نہ سمجھے تیمم سے اچھی طرح پاکی نہیں ہوتی۔

مسئلہ ٩۔اگر پانی مول بکتا ہے تو اگر اس کے پاس دام نہ ہوں تو تیمم کرلینا درست ہےاور اگر دام پاس ہوں اور راستہ میں کرایہ بھاڑے کی جتنی ضرورت پڑے گی اس سے زیادہ بھی خریدناواجب ہے اور اگر اتنا گراں بیچے کہ اتنے دام کوئی لگاہی نہیں سکتا تو خریدنا واجب نہیں تیمم کرلینا درست ہے اور اگر کرایہ وغیرہ رستہ کے خرچ سے زیادہ دام نہیں ہیں توبھی خریدنا واجب نہیں تیمم کرلینا درست ہے۔

مسئلہ ١٠۔اگر کہیں اتنی سردی پڑتی ہو کہ برف کٹتی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا خوف ہو اور رضائی لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ نہا کر اس میں گرم ہو جاوے تو ایسی مجبوری کے وقت تیمم کر لینا درست ہے۔

مسئلہ ١١۔اگر کسی کے آدھے سے زیادہ جسم پرزخم ہوں یا چیچک کے نکلی ہوتو نہانا واجب نہیں بلکہ تیمم کر لیوے۔

مسئلہ ١٢۔اگر کسی میدان میں تیمم کر کے نماز پڑھ لی اور پانی وہاں سے قریب ہی تھا لیکن اس کو خبر نہ تھی تو تیمم اور نماز دونوں درست ہیں۔ جب معلوم ہو دہرانا ضروری نہیں۔

مسئلہ ١٣۔اگر سفر میں کسی اور کے پاس پانی ہو تو اپنے جی میں دیکھےاگر اندر سے کہتا ہو کہ پانی مانگوں گی تو مل جاوے تو بے مانگے ہوئے تیمم کرنا درست نہیں اور اگر اندر سے دل کہتا ہو کہ مانگے سے وہ شخص پانی نہیں دے گا تو بے مانگےبھی تیمم کر کے نماز پڑھ لینا درست ہے لیکن نماز کے بعد اس سے پانی مانگا اور اس نے دے دیا تو نمازکو دہرانا پڑے گا

<مسئلہ١٤> اگر زمزم کا پانی زمزمی میں بھرا ہو اہے توتیمم کرنا درست نہیں زمزمیوں کو کھول کراس پانی سے نہانا اور اس وضو کرناواجب ہے۔
مسئلہ١٤ ۔ کسی کے پاس پانی تو ہے لیکن راستہ ایسا خراب ہے کہ کہیں پانی نہیں مل سکتا اس لئے راہ میں پاس کے مارے تکلیف یا ہلاکت کا خوف ہو تو وضو نہ کرے تیمم کرلینا درست ہے۔

مسئلہ ١٥۔ اگر غسل کرنانقصان کرتا ہے اور وضو نقصان نہ کرے تو غسل کی جگہ تیمم کر لے پھر اگر تیمم غسل کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو وضو کے لئے تیمم نہ کرے بلکہ وضو کی جگہ وضو کرنا چاہیے اور اگر تیمم وضوسے پہلے کوئی بات وضو والی پائی گئی ہو اور پھر غسل کا تیمم کیا ہوتوبھی غسل یا وضو دونوں کے لئے کافی ہے۔

مسئلہ ١٦۔ تیمم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ پاک زمین پر مارے اور سارے منہ پر مل لیوے پھر دوسری دفعہ زمین پر دونوں ہاتھ مارے اور دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت ملے چوڑیوں، کنگنوں وغیرہ کے درمیان اچھی طرح ملے اگر اس کے گمان میں بال برابرکوئی چیزچھوٹ جاوےگی تو تیمم نہ ہوگا۔ انگوٹھی، چھلے اتا ر ڈالےکہ کوئی جگہ چھوٹ نہ جاوے۔ انگلیوں میں خلال کر لیوے جب یہ دونوں چیزيں ہو جاوے تو تیمم ہو گیا۔

مسئلہ ١٧۔ مٹی پر ہاتھ مار کر ہاتھ جھاڑ ڈالے تاکہ باہوں اور منہ پر بھبھوت نہ لگ جائے اور صورت نہ بگڑے۔

مسئلہ ١٨۔زمین کے سوا اور جو بھی چیز مٹی کی قسم سے ہو اس پر بھی تیمم درست ہے جیسے مٹی ، ریت، گچ، چونا، ہڑتال، سرمہ، گیرو وغیرہ اور جو چیز مٹی کی قسم سے نہ ہو اس سے تیمم درست نہیں جیسے سونا، چاندی، رانگا، گیہوں، لکڑی، کپڑا اور اناج وغیرہ،ہاں اگر ان چیزوں پر گرد اور مٹی لگی ہو اس وقت البتہ تیمم درست ہے۔

مسئلہ ١٩۔ جو چیز جو نہ تو آگ میں جلے اور نہ گلے وہ مٹی کی قسم سے ہے اس پر تیمم درست ہے اور جو چیز جل کر راکھ ہو جائے یا گل جائے اس پر تیمم درست نہیں اس طرح راکھ پر تیمم درست نہیں۔

مسئلہ ٢٠۔ تانبے کے برتن اور تکیہ اور گدے وغیرہ کپڑے پر تیمم کرنا درست نہیں البتہ اس پر اتنی گرد ہے کہ ہاتھ مارنے سےخوب اڑتی ہے اور ہتھیلیوں پرخوب اچھی طرح لگ جاتی ہے تو تیمم درست ہے اور ہاتھ مارنے سے ذرا ذرا اڑتی ہو تو اس پر تیمم درست نہیں ہے اور مٹی کے گھڑے بدپنے پر تیمم درست ہے چاہے اس میں پانی بھرا ہوا ہو یا پانی نہ ہو لیکن اگر اس پر روغن پھرا ہواہو تو تیمم درست نہیں۔

مسئلہ ٢١۔اگر پتھر پر بالکل گردنہ ہو تب بھی تیمم درست ہے بلکہ پانی سے خوب دھلا ہوا ہو تب بھی درست ہے ہاتھ پر گرد کا لگنا کچھ ضروری نہیں اس طرح پکی اینٹ پر تیمم کرنا بھی درست ہے چاہے اس پر گرد ہو چاہے نہ ہو۔

مسئلہ ٢٢۔ کیچڑ سے تیمم کرنا گو درست ہے مگر مناسب نہیں اگر کہیں کیچڑ کے سوا اور کوئی چیزنہ ملے تو یہ ترکیب کرے کہ اپنا کپڑا کیچڑ سے بھر لیوے جب وہ سوکھ جاوے تو اس سے تیمم کرے، البتہ نماز کا وقت ہی نکل جا تا ہو تو اس وقت جس طرح بن پڑے تر سے یا خشک سے تیمم کر لے نماز قضا نہ ہو نے دے۔

مسئلہ ٢٣۔ اگر زمین پر پیشاب وغیرہ کوئی نجاست پڑ گئی اور دھوپ سے سوکھ گئی اور بدبو بھی جاتی رہی تو زمین پاک ہو گئی نماز اس پر درست ہے لیکن اس پر تیمم کرنا درست نہیں جبکہ معلوم ہو کہ زمین ایسی تھی اور نہ معلوم ہو تو وہم نہ کرے۔

مسئلہ ٢٤۔جس طرح وضو کی جگہ تیمم درست ہے اسی طرح غسل کی جگہ مجبو ری کےوقت تیمم درست ہے اور ایسے ہی جو عورت حیض اور نفاس سے پاک ہوئی مجبوری کے وقت اس کو بھی تیمم درست ہے وضو اور غسل کے تیمم میں کوئی فرق نہیں دونوں کا ایک ہی طریقہ ہے۔

مسئلہ ٢٥۔ تیمم کرتے وقت اپنے دل میں یہ ارادہ کر لے کہ میں پاک ہونے کے لئے تیمم کرتی ہوں یا نماز پڑھنے کے لئے تیمم کرتی ہوں تو تیمم ہوجائے گا اور یہ ارادہ کرنا کہ غسل کا تیمم کرتی ہوں یا وضو کا کچھ ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ ٢٦۔اگر قرآن مجید کے چھو نے کے لئے تیمم کیا تو اس سے نماز پڑھنا درست نہیں ہے اور نماز کے لئے تیمم کیا ہے تو اس سے دوسرے وقت کی نماز پڑھنا درست ہے اور قرآن مجید کا ہاتھ سے چھونا بھی درست ہے۔

مسئلہ ٢٧۔ کسی کو نہانے کی ضرورت ہے اور وضو بھی نہیں ہے تو ایک ہی تیمم کرے دونوں کے لئے الگ الگ تیمم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ ٢٨۔ کسی نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر پانی مل گیا اور وقت ابھی باقی ہے تو نماز کا دہرانا واجب نہیں ہے وہی نماز تیمم سے درست ہو گئی۔

مسئلہ ٢٩۔ اگر پانی ایک شرعی میل سے دور نہیں اور وقت بہت تنگ ہے اگر پانی لینے جاوے گی تو نماز کا وقت جاتا رہے گا توبھی درست نہیں پانی لاوے اور نماز قضا پڑھے۔

مسئلہ ٣٠۔ پانی موجود ہوتے وقت قرآن مجید کو چھونے کے لئے تیمم کرنا درست نہیں۔

مسئلہ ٣١۔ اگر آگے چل کرپانی ملنے کی امیدہوتو بہترہے کہ اول وقت نماز نہ پڑھے بلکہ پانی کا انتظارکرےلیکن اتنی دیر نہ لگا وے کہ وقت مکروہ ہو جائے اور پانی کا انتظار نہ کیا اور اول وقت میں نماز پڑھ لی تب بھی درست ہے۔

مسئلہ ٣٢۔ اگر پانی پاس ہے اور ڈر ہے کہ ریل پر سے اترے گی تو ریل چل دیوے گی تب بھی تیمم درست ہے یا سانپ وغیرہ کوئی جانور پانی کے پاس ہے جس سے پانی نہیں مل سکتا تو بھی تیمم درست ہے۔

مسئلہ ٣٣۔ اسباب کے ساتھ پانی بند رہا تھا لیکن یاد نہیں رہا اور تیمم کر کے نماز پڑھ لی پھر یا د آیا کہ میرے اسباب میں تو پانی بندھا ہوا ہے تو اب نماز کا دہرانا واجب نہیں۔

مسئلہ ٣٤۔ جتنی چیزوں سے وضو ٹوٹ جا تا ہے ان سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پانی مل جانے سے تیمم ٹوٹ جاتا ہے اس طرح تیمم کر کے آگے چلی اور پانی ایک میل شرعی کے فاصلے پر رہ گیا تو بھی تیمم ٹوٹ گیا۔

مسئلہ ٣٥۔ اگر وضو کا تیمم ہے تو وضو کے موافق پانی کے ملنے سے تیمم ٹوٹے گا اور غسل کا تیمم ہے تو غسل کے موافق پانی ملےتو تیمم ٹوٹے گا اور پانی کم ملا تو تیمم نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ ٣٦۔ اگر راستہ میں پانی ملا لیکن اس کو پانی کی کچھ خبر نہ ہوئی اور معلوم نہ ہوا کہ یہاں پانی ہے تو بھی تیمم نہیں ٹوٹا۔ اس طرح اگر راستہ میں پانی نہ ملا اور معلوم بھی ہو گیا لیکن ریل پر سے نہ اتر سکی تو بھی تیمم نہیں ٹوٹا۔

مسئلہ ٣٧۔ اگر بیماری کی وجہ سے تیمم کیا تو جب بیماری جاتی رہی کہ وضو اور غسل نہ کرے تو تیمم ٹوٹ جاوے گا اب وضو کرنا اور غسل کرنا واجب ہے۔

مسئلہ ٣٨۔ پانی نہیں ملا اور اس کی وجہ سے تیمم کرلیا۔ پھر ایسی بیماری ہوگئی جس سے پانی نقصان کرتا ہے پھر بیماری کے بعد پانی مل گیا تو اب تیمم باقی نہیں رہا جو پانی نہ ملنے کی وجہ سے کیا تھاپھر سے تیمم کرے۔

مسئلہ ٣٩۔ اگر نہانے کی ضرورت تھی اس لئے غسل کیا لیکن ذرا سا بدن سوکھا رہ گیااور پانی ختم ہو گیا تو وہ ابھی پاک نہیں ہوئی اس لئے اس کو تیمم کرلینا چاہیے جب کہیں پانی ملے تو اتنی سوکھی جگہ کو دھو لیوے پھر سے نہانے کی ضرورت نہیں ہے۔

مسئلہ ٤٠۔ اگر ایسے وقت پانی ملا کہ وضوبھی ٹوٹ گیا تو اس سوکھی جگہ کو پہلے دھولیوےاور وضو کے لئے تیمم کرے اور اگر پانی اتنا کم ہے کہ وضو ہو سکتا ہے لیکن وہ سوکھی جگہ اتنے پانی میں نہیں دھل سکتی تو وضو کرلے اور اس سوکھی جگہ کے واسطے غسل کا تیمم کرلے۔ ہاں اگر اس غسل کا تیمم پہلے کر چکی ہو تو اب پھر تیمم کرنے کی ضرورت نہیں وہی پہلا تیمم باقی ہے۔

مسئلہ ٤١۔ کسی کا کپڑا یا بدن بھی نجس ہے اور وضو کی بھی ضرورت ہے اور پانی تھوڑا ہے تو بد ن اور کپڑا دھولیوے اور وضو کے عوض تیمم کرلے۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.

 
عبدالقدوس's Avatar
عبدالقدوس
Administrator

تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 301
Reply With Quote
جواب

Tags
گمان, قرآن, نماز, مجید, معلوم, آبادی, آدمی, تلاش, حکم, خبر, دل, دریافت, راستہ, سفر, شخص, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وزیرصحت کی مشیر کے گھر سے تین خواتین با زیاب جاویداسد خبریں 2 23-12-10 11:39 AM
باراتیو ں سے بھری بس جھیل میں گر گئی، 24 خواتین، تین بچے اور ایک مرد ڈوب کر ہلاک جاویداسد خبریں 0 15-12-10 06:41 PM
عالمی منڈی میں‌خم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میں‌روپے کی قدر میں‌اضافہ زین۔zf خبریں 0 10-10-08 12:37 PM
خواتین کا عالمی دن عبدالقدوس قہقہے ہی قہقے 1 23-04-08 03:51 PM
تارکین وطن خواتین مقامی خواتین کی بری عادات اپنالیتی ہیں عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger