| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 46
مراسلات: 3,017
کمائي: 43,995
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,300
2,179 مراسلہ میں 5,568 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
:: گذشتہ سے پیوستہ ::: جہاد ، تعریف اور اِقسام ::: دوسری( آخری ) قِسط ::: [/COLOR] : جِہاد کی چار اِقسام (قِسمیں ) ہیں ، (١) نفس کے خِلاف جِہاد ::: اور اِسکے چار درجات (درجے) ہیں ::: ( ١ ) دِین اور ھدایت کا عِلم اور کام سیکھنے کے لیئے نفس کے خِلاف جِہاد ۔ ( ٢ ) عِلم حاصل کرنے کے بعد اُس پر عمل کرنے کےلیئے نفس کے خِلاف جِہاد ۔ ( ٣ ) عِلم حاصل کرنے کے بعد اُسکی طرف لوگوں کو بلانے ، اور وہ عِلم لوگوں کو سِکھانے کے لیے نفس کے خِلاف جِہاد ۔ ( ٤ ) اللہ کے دِین کی دعوت میں پیش آنے والی مصیبتوں اور پریشانیوں پر صبر کرنے کے لیئے نفس کے خِلاف جِہاد ۔ (٢) شیطان کے خِلاف جِہاد ::: اِس کے دو درجات ہیں ::: ( ١ ) اِیمان اور عقیدے میںجو شکوک و شبہات ، اور وسواس شیطان کی طرف سے ڈالے جاتے ہیں اُن کو دور کرنے کے لیئے اور خود کو اُن سے محفوظ رکھنے کے لیئے شیطان کے خِلاف جِہاد ۔ ( ٢ ) بُرے کاموں کا لالچ ، اور گُناہوں کی رغبت ، جو شیطان کی طرف سے اِنسان کے دِل و دِماغ میں پیدا کی جاتی ہے اُسکو دور کرنے اور خود کو اُس سے محفوظ رکھنے کے لیئے شیطان کے خِلاف جِہاد ۔ (٣) کافروں اور مُشرکوں کے خِلاف جِہاد ::: اِسکے بھی چار درجات ہیں ::: ( ١ ) دِِل کے ذریعے جِہاد ۔ ( ٢ ) زُبان کے ذریعے جِہاد ۔ (٣) مال کے ذریعے جِہاد ۔ ( ٤ ) ہاتھ کے ذریعے جِہاد ۔ (٤) ظلم کرنے والوں ، بدعت ، اور مُنکرات پر عمل کرنے اور کروانے والوں کے خِلاف جِہاد ::: اِسکے تین درجات ہیں ::: ( ١ ) ہاتھ کے ذریعے جِہاد ، یعنی مُسلمان اِن کاموں کو ہاتھ سے روکا جائے ، لیکن اگر ایسا نہ کر سکتا ہو تو ، ( ٢ ) زُبان کے ذریعے جِہاد ، یعنی زُبان سے اِن چیزوں پر اِنکار کِیا جائے لوگوں کو اِن کے غلط ہونے کے بارے میں قُران و سُنّت کی دلیل کے ساتھ بتایا جائے ، لیکن اگر اِسکی قُدرت بھی نہ رکھتا ہو تو ، ( ٣ ) دِل کے ذریعے جِہاد ۔ ::: حاصلِ کلام::: جِہاد کے کُل تیرہ درجات ہیں ،اور جِہاد بحیثیتِ جِنس فرضِ عین ہے ، یعنی ہر مُسلمان پر فرض ہے کہ مندرجہ بالا تیرہ درجات میں سے کِسی بھی درجے میں اللہ کی را ہ میں جِہاد کرے ، جہاد کی تمام تر اِقسام اور اُن میں سے صرف چوتھی قِسم ایسی ہے جِس میں ایک مُسلمان دوسرے مسلمان کے خِلاف جہاد کرے گا ، آئیے ذرا اِس معاملے کی تفصیل کو سمجھیں ، کیونکہ اِس میں غلط فہمی اور کم عِلمی یا لا عِلمی کی وجہ سے ہمارے کئی مُسلمان بھائی بہن وہ کام کرتے اور اُن کی دعوت دیتے ہیں جو حرام ہیں ، چوتھی قِسم کا جہاد ، ظُلم کرنے والوں ، بدعت ، اور مُنکرات پر عمل کرنے اور کروانے والوں کے خِلاف جِہاد ہے ، اور جیسا کہ اُوپر بیان کیا گیا اِ س جِہاد کے تین درجات ہیں ، اِس میں پہلی قِسم کے مسلمان وہ ہیں جو ظالِم ہیں ،یاد رہے کہ کِسی پر بھی ظُلم کرنے والا پہلے خود اپنے اوپر ظلم کر رہا ہوتا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظُلم کرنے والے مسلمان کو روکنے کا حُکم دیتے ہوئے فرمایا ((( انْْصُرْْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَو مَظْْلُومًا ::: اپنے (مُسلمان ) بھائی کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم ))) صحابہ نے عرض کِیا ::: یا رَسُولَ اللَّہِ ہذا نَنْْصُرُہُ مَظْْلُومًا فَکَیْْفَ نَنْْصُرُہُ ظَالِمًا ::: اے اللہ کے رسول مظلوم کی مدد کریں (تو سمجھ میں آ گیا ) لیکن ظاِلم کی مدد کیسے کریں ( سمجھ نہیں آیا ) ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ((( تَاَْْخُذُ فَوْْقَ یَدَیْْہِ ::: اُسکے ہا تھ کو پکڑ لو ))) صحیح البخاری /کتاب المظالم /باب ، ٥ او ٤ دوسری روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( انْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَو مَظْلُومًا ::: اپنے (مُسلمان ) بھائی کی مدد کرو ظالم ہو یا مظلوم ))) ایک صحابی نے عرض کِیا ::::::یا رَسُولَ اللَّہِ اَنْصُرُہُ اذا کان مَظْلُومًا اَفَرَاَیْتَ اذا کان ظَالِمًا کَیْفَ اَنْصُرُہُ ::: اے اللہ کے رسول اگر وہ مظلوم ہو تو میں اُسکی مدد کروں گا لیکن اگر وہ ظالِم ہو تو میں اُسکی مدد کیسے کروں؟ تو فرمایا ((( تَحْجُزُہُ اَو تَمْنَعُہُ من الظُّلْمِ فان ذلک نَصْرُہُ ::: اُسے ظُلم کرنے سے عاجز کر دو یا منع کرو ، بے شک یہ ہی اُسکی مدد ہے ))) صحیح البخاری / کتاب الاکراہ قول اللہ تعالیٰ اِلّا مِن اکراہ /باب ٧ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت پر رحم کرتے ہوئے ہمیشہ مکمل راہنمائی فرمائی ، اور اِس موضوع کو بھی مکمل وضاحت سے سمجھایا کہ ، کوئی مُسلمان اپنے مُسلمان بھائی کو ظُلم سے روک کر درحقیقت اُس ظالِم کو اللہ کے عذاب سے بچنے میں مدد کرتا ہے ، اور اُس کو روکنے کے دو طریقے ہیں ، اگر ہمت ہو تو اُس کا ہاتھ تھام کر اُسے ظُلم سے روکا جائے ، اور اگر ایسا نہیں تو اُسے زُبان سے منع کِیا جائے ، سمجھایا جائے کہ اُس کا عمل اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے اور خُود اُس کی اپنی جان پر آخرت کا ظُلم ہے جو وہ خُود کر رہا ہے ، لیکن کِسی مسلمان بھائی ، بہن کو کِسی ظُلم ، یعنی گناہ زیادتی غلطی سے روکنے کا یہ طریقہ ہر گِز نہیں کہ اُس کی جان مال یا عِزت پر حملہ کِیا جائے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجۃ الوداع کے موقع پر صاف صاف یہ حُکم صادر فرمایا تھا ، ہونا تو یہ چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجۃ الوداع کا خطبہ ہر مسلمان کو یاد ہو ، بہر حال اُس کی مختلف روایات کا مجموعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ::: ((( یہ دِن کونسا ہے ؟))) صحابہ نے فرمایا ::: اللہ اور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں ::: جب کہ صحابہ بھی جانتے تھے کہ اِس سوال کا جواب کیا ہے ، لیکن یہ اُن کا اِیمان ، محبت اور ادب تھا کہ خاموش رہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے جواب کے انتظار میں کافی دیر تک خاموش رہے ، صحابہ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسکو کوئی اور نام دے دیں گے ، کافی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( کیا یہ قُربانی کرنے کا دِن نہیں ہے ؟ ))) صحابہ نے عرض کیا ::: جی ہاں بے شک ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ((( یہ مہینہ کون سا ہے ؟ ))) صحابہ نے فرمایا ::: اللہ اور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے جواب کے انتظار میں کافی دیر تک خاموش رہے ، صحابہ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کو کوئی اور نام دے دیں گے ، کافی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( کیا یہ حج کا مہینہ نہیں ہے ؟ ))) صحابہ نے عرض کیا ::: جی ہاں بے شک ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((( یہ شہر کون سا ہے ؟ ))) صحابہ نے فرمایا ::: اللہ اور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہی بہتر جانتے ہیں ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلماُن کے جواب کے انتظار میں کافی دیر تک خاموش رہے ، صحابہ یہ خیال کرنے لگے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس کو کوئی اور نام دے دیں گے ، کافی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( کیا یہ حُرمت والا شہر (مکہ المرمہ )نہیں ہے ؟ ))) صحابہ نے عرض کیا ::: جی ہاں بے شک ::: یہ سوال کرنے کا مقصد صحابہ کے ذہنوں اور دِلوں میں اِن تینوں چیزوں کی حُرمت اور تقدس کی تاکید اجاگر کرتے ہوئے اپنے اگلے فرمان کی اہمیت کا احساس دِلانا تھا ، ورنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اور صحابہ بھی یہ سب باتیں جانتے تھے ، صحابہ کی طرف سے جواب اور با تاکید جواب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ::: ((( فان دِمَاء َکُمْ وَاَمْوَالَکُمْ وَ اَعرَاضُکُم عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہذا فی شَہْرِکُمْ ہذا فی بَلَدِکُمْ ہذا الی یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ اَلا ہل بَلَّغْتُ ، وَ اَنتْم تْساَلْونَ عَنِی فَمَا اَنتْم قَائِلْونَ ؟ ::: ( تو پھر بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عِزتیں ایک دوسرے پر اسوقت تک جب تم اپنے رب سے ملو گے ، حرام ہیں ، بالکل تمہارے اِس شہر میں ، تمہارے اِس مہینے میں تمہارے آج کے دِن کی طرح (حرام ہیں ، اور اب یہ بتاؤ کہ ) کیا میں نے ( اللہ کا ) پیغام پہنچا دِیا (کیونکہ ) تُم لوگوں سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تُم لوگ کیا جواب دو گے ))) قالْوا ؛نَشھَدْ اِنَکَ قَد بَلّغتَ رِساَلاتِ رَبِکَ اَدِیتَ ، و نَصَحَتَ لِاْمتَکَ ، و قَضِیتَ اَلَّذِی عَلِیکَ ::: سب صحابہ نے کہا ::: ہم گواہی دیں گے کہ آپنے اپنے رب کے پیغامات کی تبلیغ کر دی اور (اپنے فرض کی )اَدا ئیگی کر دی ، اوراپنی اُمت کو نصیحت کر دی ، اور جو آپ پر فرض تھا وہ آپ نے پورا کر دِیا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی اُنگلی آسمان کی طرف اُٹھا کر اور پھر صحابہ کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا ((( اللَّھْم فَاَشھِد ، اللَّھْم فَاَشھِد ، اللَّھْم فَاَشھِد فَلْیُبَلِّغْ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ اَوْعَی من سَامِعٍ فلا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ::: اے اللہ گواہ رہ ، اے اللہ گواہ رہ ، اے اللہ گواہ رہ ( لوگو ) جو یہاں موجود ہے وہ ( یہ باتیں ) اُن تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہیں ، ہو سکتا ہے جِس تک بات پہنچے وہ یہاں سننے والے سے زیادہ (اُس بات کی ) حفاظت کرنے والا ہو ، پس (میں نے جو کہا ہے وہ یاد رکھا جائے اور ) میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ کر واپس کافر نہ بن جانا ))) صحیح البخاری حدیث ١٦٥٤ / کتاب الحج /باب ١٣١ باب الخطبۃ ایام منی ، کتاب العِلم /باب ٩ ، کتاب الاَضاحی / باب ٥ ، کتاب الاَذان / باب ٤٣ ، کتاب الحدود / باب ٩ ، صحیح مُسلم حدیث ،١٦٥٩ /کتاب القسامۃ و المحاربین والقصاص والدیۃ / باب ٩ ، حدیث ١٢١٨کتاب الحج / باب ١٩ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات ، اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ( اللہ کی قسم جِس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن کی اُمت کے لیے وصیت ہے ) صحیح البخاری ، کتاب الحج /باب ١٣١ اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ وصیت بھول چکی ہے یا یہ کہیئے کہ جنہیں یاد تھی وہ بھی آج کے اُمتیوں کے لیے بھولی بسری بات ہیں تو وصیت کیا یاد ہو گی ، اور یہ بنیادی ترین اسباب میں سے ایک ہے کہ ہم آج وہاں ہیں جہاں نہیں ہونا چاہیئے تھا اور وہاں نہیں ہیں جہاں ہونا چاہیے تھا ، بات ہو رہی تھی ، کہ کِسی ظالِم کو ظُلم سے روکنا بھی جِہاد ہے ، مُسلمانوں میں سے مُنکرات پر عمل کرنے اور کروانے والے یعنی مُسلمان مُشرک اور بدعتی کو شرک و بدعت سے روکنا بھی جِہاد ہے ، اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُکموں کے خِلاف کام کرنے اور کروانے والے حاکموں اور محکوموں کو روکنا بھی جِہاد ہے ، لیکن اِس جِہاد میں کِسی مُسلمان کی جان مال عِزت پر ہاتھ ڈالنا حرام ہے ، اور کوئی حلال کام کرتے ہوئے کوئی حرام حلال نہیں ہو جاتا ، کوئی بھی مُسلمان جو کِسی بھی مُنکر یعنی ناجائز و حرام کام میں ملوث ہے تو وہ اپنی جان پر ظُلم کرنے والا ہے ،اور اپنے اِس ظالِم مُسلمان بھائی یا بہن کو روکنے کے لیئے ہمیں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرنا ہے جِس کا ذِکر گذر چکا ہے ، نہ کہ اپنی عقل اور فلسفے کی بنیاد پر کِسی کلمہ گو کو کافر ارار دے کر اُس کی جان مال و عِزت پر حملہ آور ہونا ہے ، یہ جِہاد نہیں فساد ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اُس دِین کو جو اُس نے تمام تر مخلوق سے الگ اور بُلندی پر رہتے ہوئے ، وہاں سے اپنے رسول مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا ، اور جِس طرح نازل فرمایا ، کِسی کمی یا زیادتی کے بغیر اپنی یا کِسی کی عقل و فلسفے یا رائے اور سوچ کے عمل دخل کے بغیر سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اور اُسی عمل ہمارا خاتمہ فرمائے اور اُس عمل کو قُبُول فرمائے ۔ مزید تفصیلات پھر اِنشاء اللہ تعالیٰ ، السلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلباگارِ دُعا ، آپکا بھائی ، عادِل سُہیل ظفر ۔[/size] Last edited by عبداللہ حیدر; 07-08-08 at 02:11 AM. |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| color, وصیت, مکہ, مکمل, موقع, محبت, آج, اللہ, بھائی, تعلیم, جواب, حال, حدیث, خون, دُعا, شہر, ظالم, عقل, صاف, صبر, صحیح, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| مونا لزا اور ٹماٹر (دوسری اور آخری قسط),,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 29-10-07 10:31 AM |
| جہاد ::: تعریف اور اقسام پہلی قسط | عادل سہیل | اپکے کالم | 3 | 30-08-07 11:46 AM |
| جہاد تعریف اور اقسام ::: دوسری اور آخری قسط | عادل سہیل | جہاد | 0 | 11-08-07 02:12 AM |
| جہاد ::: تعریف اور اقسام پہلی قسط | عادل سہیل | اسلامی نظریہ حیات | 0 | 08-08-07 01:40 AM |
| جہاد ، تعریف اور اقسام پہلی قسط | عادل سہیل | جہاد | 0 | 08-08-07 01:13 AM |