واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


خدا کی معرفت اور اس پر ایمان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-04-10, 07:24 PM   #1
خدا کی معرفت اور اس پر ایمان
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آف لائن ہے 09-04-10, 07:24 PM

ماخوذ از رسالہ: اصول الایمان

مولفہ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ تعالٰی


ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

”خدا فرماتا ہے میں سب سانجھیوں سے بڑھ کر سانجھ سے بے نیاز ہو رہنے والا ہوں، کوئی شخص اگر ایک عمل کرتا ہے اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کا حصہ رکھتا ہے تو میں اس کو تمام حصہ سمیت چھوڑ دیتا ہوں“۔ (روایت صحیح مسلم) ۔

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ جملوں کا خطاب کیا، فرمایا:

”اﷲ تعالیٰ کبھی نہیں سویا۔ نہ سونا اس کے لائق ہے۔ (جب چاہتا ہے) پیمانہ بلند کر دیتا ہے اور (جب چاہتا ہے) پست کر دیتا ہے۔ رات کا عمل اس کے حضور دن سے پہلے بلند ہوتا ہے اور دن کا عمل رات سے پہلے۔ اس کا حجاب نور ہے جسے وہ اگر ہٹا دے تو اس کے رخ کی تجلی اس کی مدنگاہ تک ہر مخلوق کو بھسم کردے“۔ (روایت صحیح مسلم)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ(رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے) مرفوعاً روایت کرتے ہیں:

”اللہ تعالیٰ کا دست راست (خیر سے) پر ہے۔ کوئی خرچ اس میں کمی نہیں کر پاتا۔ وہ صبح شام لٹاتا ہے۔ دیکھو تو سہی جب سے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تب سے کتنا کچھ لٹا چکا؟ مگر وہ اپنے دست راست میں جو رکھتا ہے اس میں اس سے ذرہ بھر کمی نہ آئی۔ اس کا دوسرا ہاتھ پیمانہ تھامے ہوئے ہے جس کو (جیسے چاہتا ہے) بلند کرتا ہے اور (جیسے چاہتا ہے) پست کرتا ہے“۔ (روایت متفق علیہ)

ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بکریوں پر نظر پڑی جو آپس میں سینگ زنی کرتی تھیں۔ فرمایا: ابوذر جانتے ہو ان کے بھڑنے کا سبب کیا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں تو! فرمایا: مگر خدا جانتا ہے اور وہ ان دونوں کا فیصلہ بھی کرے گا“۔ (روایت مسند احمد) ۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ نے (سورہ نساءکی) اس آیت کی تلاوت فرمائی اِنَّ اﷲ یامرکم ان تؤدوا الامانات الی اھلھا ”اﷲ تمہیں حکم فرماتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے حقداروں کو پہنچایا کرو“ تاآنکہ آپ (آیت کے آخری حصہ ان اﷲ کان سمیعا بصیراً ”یقیناً اﷲ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے“) تک پہنچے تو (سمیعا بصیراً کہتے ہوئے) آپ نے اپنے انگوٹھے کانوں پر اور شہادت کی انگلیاں آنکھوں پہ رکھی ہوئی تھیں“۔ (روایت ابوداؤد، ابن حبان، ابن ابی حاتم)

ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جن کا خدا کے سوا کسی کو علم نہیں: کسی کو معلوم نہیں کل کیا ہوگا، سوائے ایک اﷲ کے۔ کوئی نہیں جانتا کہ رحموں کے اندر کیا کیا کمی (بیشی) ہوتی ہے، سوائے ایک اﷲ کے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب برسے سوائے ایک خدا کی ذات کے۔ کوئی نفس نہیں جانتی کہ کس زمین میں اس کو موت آنی ہے، سوائے ایک اﷲ وحدہ لاشریک کے۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب برپا ہو، سوائے ایک اﷲ تبارک وتعالیٰ کے“۔ (روایت بخاری ومسلم) ۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

”اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ سے خوش ہونا، جبکہ بندہ تائب ہو کر اس کی طرف لوٹ آئے، اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہوتا ہے جتنا کہ تم میں سے جب کوئی بیابان میں (تن تنہا) سوار سفر کرتا ہے اور کسی وقت سواری اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ نکلتی ہے جبکہ اس کا اپنا سارا سامان خوردونوش بھی اسی پر لدا ہوتا ہے۔ آخرکار جب وہ پوری طرح ناامید ہو رہتا ہے اور تھک ہار کر کسی درخت کے سائے میں جا لیٹتا ہے تو اس حال میں یکایک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے بالکل پاس آکھڑی ہوئی ہے۔ تب وہ وفور خوشی میں یکدم بولتا ہے خدایا تو میرا بندہ اور میں تیرا مالک!! فرط جذبات میں غلطی سے یہ بول اٹھتا ہے“۔ (روایت متفق علیہ) ۔

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اﷲ تعالیٰ رات کے وقت اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تاکہ دن کا خطاکار اس کی جانب لوٹ آئے۔ دن کے وقت اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تاکہ رات کا خطاکار اس کی جانب پلٹ آئے .... تاآنکہ سورج اپنے غروب کی جگہ سے طلوع نہ ہو پڑے“۔ (روایت صحیح مسلم) ۔

عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، کہا: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ھوازن کے لونڈی اور غلام بنا لئے گئے (قیدی) لائے گئے۔ کیا دیکھتے ہیں قیدیوں میں کی ایک عورت پریشان بھاگتی پھرتی ہے تاآنکہ اس کو قیدیوں کے ہجوم میں ایک شیر خوار بچہ مل جاتا ہے۔ تب وہ اس کو سینے سے لگا لیتی ہے اور پھر اس کو دودھ پلانے لگتی ہے۔ (یہ دیکھ کر) رسول اﷲ گویا ہوئے: ”کیا خیال ہے یہ عورت کبھی اپنے بچے کو آگ میں پھینک آئے گی؟“ ہم نے عرض کی: نہیں، اﷲ کی قسم! تب رسول اﷲ نے فرمایا: ”تو اﷲ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی کہ یہ اپنے بچے پر“۔ (بخاری ومسلم) ۔

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

”اﷲ تعالیٰ نے جس وقت مخلوق پیدا کی تو ایک نوشتہ میں، جو کہ عرش پر اس کے پاس رکھا ہے، لکھ دیا: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہوئی“۔ (بخاری) ۔

بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اﷲ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کئے۔ ننانوے اپنے پاس رکھے اور زمین پر اس کا صرف ایک حصہ نازل فرمایا۔ یہ (رحمت کا) وہی (سو میں سے) ایک حصہ ہے جس کی بدولت سب کی سب مخلوقات یہاں ایک دوسرے پر ترس کھاتی ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی جانور بھی جو اپنے نوزائد کو کچل دینے کے ڈر سے پیر پرے کر لیتا ہے (تو وہ اسی میں سے ہے)“۔ جبکہ مسلم کی حدیث میں بروایت سلمان بہ لفظ آتے ہیں: ”ہر رحمت کی اتنی بڑی تہہ ہے جتنا کہ آسمان اور زمین کا فاصلہ۔ پھر جب قیامت کا روز ہوگا تو وہ اس رحمت کے ساتھ اس کو مکمل کردے گا“۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

”کافر جب کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کو دنیا ہی میں اس کے عوض کھلا پلا دیا جاتا ہے۔ البتہ مومن کی نیکیوں کو اﷲ تعالیٰ آخرت کیلئے بچا رکھتا ہے (اگرچہ) دنیا میں بھی اس کی اطاعت کے سبب اس کو رزق بہم پہنچاتا ہے۔(صحیح مسلم) ۔

مسلم ہی کی انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے:

”اللہ کو بندے کی یہ بات خوش کر جاتی ہے کہ وہ ایک وقت کا کھانا کھائے تو اس پر اس کی تعریف کرنے لگے۔ اور کچھ پئے تو تب اس کی تعریف کرنے لگے“۔

ابوذر سے رضی اللہ عنہ روایت ہے، کہا، فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

”آسمان چرچراتا ہے اور اس کو چرچرانا ہی چاہیے۔ پورے آسمان پر کوئی ایک چپہ ایسا نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ خدا کے حضور سجدے میں نہ پڑا ہو۔ اگر کہیں تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤو اور بستروں پر اپنی عورتوں کے ساتھ کبھی لطف اندوز نہ ہو پاؤ اور گریہ زاری کرتے ہوئے بیابانوں کی جانب نکل کھڑے ہو“۔ (روایت کیا ترمذی نے اور کہا حدیث حسن ہے) ۔

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ”اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤو“ صحیحین میں بھی بروایت انس وارد ہوا ہے۔

صحیح مسلم میں بروایت جندب رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت ہوا ہے:

”ایک آدمی نے کہہ دیا: ”اﷲ کی قسم اﷲ فلاں شخص کو ہرگز معاف نہ کرے گا“ تب اﷲ رب العزت نے فرمایا: ”یہ کون ہوتا ہے جو میرے اوپر یوں دھڑلے کے ساتھ بات کرے اور کہے کہ میں فلاں کو معاف نہ کروں گا۔ ہاں تو میں نے اس کو معاف کردیا البتہ تیرے عمل غارت کر دیے“۔

مسلم میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے:

”مومن اگر جان لے کہ خدا کے ہاں کیسا کیسا عذاب ہے تو کسی کو اس کی جنت کی طمع نہ رہے۔ کافر اگر جان لے کہ خدا کے ہاں کیسی رحمت پائی جاتی ہے تو کوئی اس کی رحمت سے کبھی مایوس ہی نہ ہو“۔

بخاری میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”جنت تم میں کے ہر کسی سے، اس کے اپنے جوتے کے تسمے سے بھی، زیادہ قریب ہے۔ اور دوزخ بھی اس سے اتنی ہی قریب ہے“۔

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:

”ایک عورت نے، کہ عصمت فروشی کر لیتی تھی، سخت گرمی کے دن ایک کتے کو دیکھا جو پیاس سے بلکتا کنویں کے گرد چکر کاٹتا ہے۔ عورت نے اپنے پیر کا موزہ اتارا اور اس سے پانی نکال کر کتے کو پلایا۔ خدا نے اس کے عوض اس کی مغفرت کردی“ اور فرمایا: ”ایک عورت ایک بلی کے باعث دوزخ میں گئی جس کو اس نے باندھ دیا تھا۔ نہ خود اس کو کھلایا اور نہ اس کو جانے ہی دیا کہ وہ زمین کے حشرات وغیرہ سے اپنا پیٹ بھرتی“۔

زھری کہتے ہیں: ”یہ اس لئے کہ واضح ہو کوئی شخص نہ تو تکیہ کر بیٹھے اور نہ اُمید ہی چھوڑ بیٹھے“۔ (بخاری ومسلم)

ابوھریرہ سے ہی مرفوعاً روایت ہے:

”ہمارا رب تعجب کرتا ہے کچھ لوگوں پر جن کو کہ زنجیروں میں باندھ کر جنت کی جانب لایا جاتا ہے“!! (بخاری ومسند احمد)

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا، فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

”اذیت سن کر صبر کئے رہنے میں کوئی شخص خدا سے بڑھ کر نہیں۔ لوگ اس کو اولاد والا بتاتے ہیںاور وہ پھر بھی ان کو عافیت میں رکھتا اور رزق دیے جاتا ہے“!! (صحیح بخاری) ۔

بخاری میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت آتی ہے، کہا: رسول اﷲ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:

”اﷲ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو ندا کرتا ہے: خدا کو فلاں شخص سے محبت ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ تب جبریل اس سے محبت کرتا ہے۔ پھر جبریل آسمان میں منادی کرتا ہے: خدا کو فلاں بندے سے محبت ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ تب اہل آسمان اس سے محبت کرتے ہیں اور زمین میں اس کیلئے پذیرائی کروا دی جاتی ہے“۔

جریر بن عبداﷲ البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نشست کئے ہوئے تھے کہ آپ نے چاند کو تاکا۔ یہ چودھویں کا چاند تھا۔ تب فرمایا: ۔

”سنو تم اپنے پروردگار کو دیکھو گے، اسی طرح جس طرح یہ چاند دیکھ رہے ہو۔ اُس کے دیدار میں تمہیں ذرہ بھر دقت پیش نہ آئے گی۔ پس اگر تم یہ کر سکو کہ طلوع آفتاب سے پہلی والی نماز اور غروب آفتاب سے پہلے والی نماز کے معاملہ میں کسی چیز سے مات نہ کھاؤ تو ایسا ضرور کرلو۔ تب آپ نے (سورہ طہ کی یہ آیت) پڑھی وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا ”اور اپنے رب کی تسبیح کرو اور ساتھ حمد، طلوع شمس سے پہلے، اور غروب شمس سے پہلے“ (رواہ الجماعہ) ۔

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”خدا تعالی فرماتا ہے:

”جو میرے کسی دوست سے دشمنی روا کرلے تو میں اس کے خلاف اعلان جنگ کر دیتا ہوں۔ میرا بندہ میری قربت پانے کیلئے کوئی ذریعہ نہ پائے گا جو مجھے ان فرائض سے زیادہ عزیز ہو جو کہ میں نے خود ہی اس پر عائد کر رکھے ہیں۔ میرا بندہ نفل عبادات کے ذریعے میرے قریب ہوتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس کو محبوب کر لیتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ سنتا ہے۔ میں اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ دیکھتا ہے۔ میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ پکڑتا ہے۔ میں اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے پھر وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دوں۔ اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں ضرور اس کو پناہ دوں۔ میں کسی چیز کے کرنے میں اتنا تردد نہیں برتتا جتنا تردد اپنے مومن بندے کی جان قبض کرنے میں برتتا ہوں۔ اس کو موت ناپسند ہے اورمجھے اس کو رنجیدہ کرنا ناپسند“۔ (صحیح بخاری) ۔

ابوھریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”ہمارا پروردگار ہر رات، جب رات کی آخری تہائی باقی رہ جاتی ہے، آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور پھر گویا ہوتا ہے: کون ہے جومجھے پکارے اور میں اس کی سنوں؟! کون ہے جو مجھ سے مانگے اورمیں اس کو دوں!؟ کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے اور میں اس کو معاف کر دوں؟!“ (متفق علیہ) ۔

ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے:

”دو جنتیں ہیں جن میں پائے جانے والے ظروف اور سب سامان سونے کا ہے۔ دو جنتیں ہیں جن میں پائے جانے والے ظروف اور سب سامان چاندی کا ہے۔ یہاں جو رہیں گے ان کے اور دیدار پروردگار کے مابین کچھ حائل نہ ہوگا سوائے اس ردائے کبریائی کے جو اس کے رخ انور پر ہے۔ یہ جنت عدن میں ہوگا“۔ (بخاری)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
بشکریہ سہ ماہی ایقاظ

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 104
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (17-05-10), راجہ اکرام (10-04-10)
پرانا 17-05-10, 10:00 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 448
کمائي: 7,749
شکریہ: 1,120
345 مراسلہ میں 974 بارشکریہ ادا کیا گیا
Thumbs up

السلام علیکم
عبداللہ آدم صاحب
آپ کہتے ہو خدا
آپ کا چچا کہتا ہے خدا کہنا غلط ہے
میں کسی کی مانوں
ضِرار Derar آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ضِرار Derar کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (17-05-10), اویسی (17-05-10)
جواب

Tags
نماز, نظر, مکمل, موت, محبت, معلوم, آدمی, ایمان, اللہ, حکم, حال, حدیث, حسن, خوش, خلاف, خدا, دیکھو, دوست, رات, سفر, شام, شخص, عورت, عزیز, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:02 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger