| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1404
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-09-10), مرزا عامر (10-09-10), حسنین ایوب (10-09-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (10-09-10), طارق راحیل (03-12-08) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ
*****عید کی نماز کا طریقہ صحیح سُنت مبارکہ کے مُطابق***** : مسئلہ (١) ::::: عید کی نماز کے لیے نہ اذان ہوتی ہے اور نہ ہی اقامت ::::: ::::: دلیل ::::: (١) ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ( کان رسولُ اللَّہِ صَلی اللَّہُ عَلِیہِ وَسلمَ یَخرُجُ یوم الفِطرِ وَالاَضحَی اِلی المُصَلَّی فَاَوَّلُ شَیء ٍ یَبدَا بِہِ الصَّلَاۃُ ،،، ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فِطر (چھوٹی عید ) کے دِن اور اضحی (بڑی عید ) کے دِن مُصلّے کی طرف تشریف لے جاتے اور (وہاں پہنچ کر ) سب سے پہلے نماز کا آغاز فرماتے ،،، ) صحیح البُخاری ، حدیث ٩١٣ /کتاب العیدین /باب ٦ ، صحیح مُسلم ، حدیث ٨٨٩ / کتاب صلاۃ العیدین کی نویں حدیث۔ :::::دلیل ::::: (٢) جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ( میں نے ایک دو دفعہ نہیں ، کئی دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں عیدون کی نماز بغیر اذان اور اِقامت کے پڑہی ہے ) صحیح مُسلم ، حدیث ٨٨٧ /کتاب صلاۃ العیدین حدیث ٧ (دلیل ::::: (٣) عبداللہ ابن عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ( (عید)الفِطر اور(عید ) الاضحی کے دِن ( عیدوں کی نماز کے لیے )کوئی اذان نہ ہوتی تھی ) اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے ( (عید ) فِطر کے دِن (نمازِ عید کے لیے ) کوئی اذان نہیں ، اور جب اِمام( نماز کے لیے )نکلے اور نہ ہی جب (نماز کی جگہ ) پہنچ جائے ، اور نہ ہی کوئی اقامت ہے اور نہ ہی کوئی بھی آواز اور نہ ہی کوئی (اور) چیز ، اُس دِن کوئی آواز نہیں اور نہ ہی اقامت ) صحیح مُسلم ، حدیث ٨٨٦ /کتاب صلاۃ العیدین حدیث ٥ ، یعنی یہ کہنا کہ صلاۃ العید ، نمازِ عید ، یا گلہ وغیرہ کھنکھارنا ، یا کوئی بھی اور آواز پیدا کر کے لوگوں کو یہ خیال کروانا کہ نماز شروع ہو رہی ہے، وغیرہ ، سب کچھ خِلافِ سُنّت ہے ۔ : مسئلہ (٢) ::::: عید الفِطر کی نماز کی دو رکعتیں ہوتی ہیں ::::: :::::دلیل ::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے خلیفہ بلا فصل عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کا فرمان ہے کہ ( صَلاَۃُ السَّفَرِ رَکعَتَانِ وَصَلاَۃُ الاَضحَی رَکعَتَانِ وَصَلاَۃُ الفِطرِ رَکعَتَانِ وَ صَلاَۃُ الجُمُعَۃِ رَکعَتَانِ تَمَامٌ غَیرُ قَصرٍ علی لِسَانِ مُحَمَّدٍ صلّی اللَّہ عَلِیہ وسلم ::: سفر میں نماز دو رکعت ہے اور قُربانی والے دِن (بڑی عید )کی نماز دو رکعت ہے ، اور فِطر والے دِن (چھوٹی عید ) کی نماز دو رکعت ہے اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے اور اِن دو دو رکعتوں میں کوئی کمی نہیں (اور یہ حُکم) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبان سے ہے ) مُسند احمد /حدیث ٢٥٧ ، سنن النسائی / حدیث ١٤١٩/کتاب الجمعہ/ باب ٣٧، سنن البیھقی الکبریٰ / کتاب الجمعہ/ باب١٥، حدیث صحیح ہے ۔ : مسئلہ (٣) ::::: نماز کا آغاز کِسی بھی اور نماز کی طرح تکبیرِ تحریمہ سے ہو گا ، پہلی رکعت میں تلاوت سے پہلے سات تکبیریں کہی جائیں گی ، اور دوسری رکعت میں سجدے سے کھڑے ہو چکنے کے بعد پانچ تکبیریں ::::: ::::: دلیل ::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ( اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلی اللَّہُ عَلِیہِ وسَّلَم کَان یُکَبِّرُ فی الفِطرِ وَالاَضحَی فی الاولَی سَبعَ تَکبِیرَاتٍ وفی الثَّانِیَۃِ خَمسًا سِوَی تَکبِیرَتَي الرُّکُوعِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فِطراور قُربانی ( والے دِن کی نمازوں میں ) پہلی رکعت میں سات تکبیریں بلندکیا کرتے اور دوسری میں پانچ تکبیریں ، (دونوں رکعتوں کی یہ تکبیریں) رکوع کی تکبیروں کے عِلاوہ ہیں ((((( سنن ابو داؤد /حدیث ١١٤٤/باب ٢٥٠ التکبیر فی العیدین ، سنن ابن ماجہ /حدیث ١٢٨٠ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا/ باب ١٥٦، حدیث صحیح ، اِرواء الغلیل/حدیث ٦٣٩ : مسئلہ (٤) ::::: عید کی نماز میں اضافی تکبیروں کے ساتھ رفع الیدین کرنا ( دونوں ہاتھوں کو کانوں تک اُٹھانا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ::::: سنن البیہقی میں عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں جو روایت ہے کہ وہ نمازِ جنازہ اور نمازِ عید میں سب تکبیروں کے ساتھ رفع الیدین کیا کرتے تھے ، یہ روایت ضعیف یعنی کمزور ناقابلِ حُجت ہے، اِرواء الغلیل/حدیث ٦٤٠ ، : مسئلہ (٥) ::::: نمازِ عید کی اضافی تکبیروں کے درمیان کوئی خاص ذِکر کرنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ::::: لیکن عبداللہ ابن مسعود ر ضی اللہ عنہُ سے ثابت ہے کہ((((( وہ ہردو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمد و ثناء کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کرتے ))))) حدیث صحیح اِرواء الغلیل / حدیث ٦٤٢ ، : مسئلہ (٦) ::::: تکبیروں کے بعد سورت الفاتحہ اوراُسکے بعد مندرجہ ذیل سورتوں میں سے کوئی سورت پڑہی جائے گی::::: (١)سورت الاعلیٰ ( سَبِّحِ اسمَ رَبِّکَ الاَعلی)(٢) سورت الغاشیہ( وَھَل اَتَاکَ حَدِیثُ الغَاشِیَۃِ ) صحیح مُسلم ، حدیث ٨٧٨ /کتاب الجمعہ /باب١٦ ۔۔۔۔۔ (٣) سورت ق ( قۤ وَالقُرآنِ المَجِیدِ) (٤) سورت الانشقاق ( وَاقتَرَبَت السَّاعَۃُ وَانشَقَّ القَمَرُ ) صحیح مُسلم ، حدیث ٨٩١ /کتاب صلاۃ العیدین / باب ٣۔ : مسئلہ (٧) ::::: اِس کے عِلاوہ عیدکی نمازیں باقی نمازوں کی طرح ہی ہیں کوئی اور فرق نہیں::::: : مسئلہ (٨) ::::: اگر کِسی کی عید کی نماز رہ جائے ، خواہ کِسی وجہ سے یا جان بوجھ کر چھوڑی ہو تو وہ دو رکعت نماز پڑھے گا ::::: صحیح البخاری / کتاب العیدین / باب ٢٥ کا عنوان ، اور، فتح الباری شرح صحیح البُخاری ،اسی باب کی شرح۔ : مسئلہ (٩) ::::: شافعی مذھب کے مُطابق اگرکوئی اِمام کے ساتھ نمازِ عید نہیں پڑھ پایا تو وہ ( نماز عید کی نیت سے ) دو رکعت نماز پڑہے گا ، گو کہ وہ با جماعت نمازِ عید کی فضیلت حاصل نہیں کر سکا (لیکن وہ اکیلے ہی نمازِ عید پڑہے ) تا کہ اُس نمازِ عید کی فضیلت مل سکے ،،، اور حنفی مذھب کے مُطابق اگر کوئی اِمام کے ساتھ نمازِ عید نہیں پڑھ سکا تو اُسے خود نماز (قضاء کر کے) پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔ شرح تراجم ابوب البخاری / صفحہ ٨٠ ، : مسئلہ (١٠) ::::: اِمام مالک علیہ رحمۃُ اللہ کا فتویٰ ہے '''اگر کِسی کی نمازِ عید رہ گئی تو ضروری نہیں کہ وہ اُسے (خود سے ) پڑہے نہ ہی مصلیٰ ( نماز پڑہنے کی جگہ ) میں اور نہ ہی گھر میں، لیکن اگر کوئی خود (اپنی) نمازِ عید پڑہے عورت ہو یا مرد ، تو میں کہتا ہوں کہ وہ ( ثابت شدہ سُنّت کے مُطابق) پہلی رکعت میں تلاوت سے پہلے ساتھ تکبیریں کہے اور دوسری رکعت میں تلاوت سے پہلے پانچ تکبیریں ''' المؤطاء /کتاب العیدین / باب ٩ ، مطبوعہ دار الحدیث ، القاھرہ۔ : مسئلہ (١١) ::::: نماز عید سے پیچھے رہ جانے والا جتنی نماز سے رہ گیا اُسے نماز کی کیفیت کے مُطابق مکمل کرے گا ::::: المغنی ، اِمام ابو قدامہ المقدسی۔ : مسئلہ (١٢) ::::: نمازِ عید کی اضافی تکبیریں اور اُن کے درمیان ذِکر سُنّت ہے ، واجب نہیں ، اگر یہ تکبیریں رہ جائیں بھول سے یا جان بوجھ کر تو نماز باطل (ضائع) نہیں ہوگی ::::: المغنی ، اِمام ابو قدامہ المقدسی۔ لیکن جان بوجھ یہ اضافی تکبیریں چھوڑنے والا یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّتِ مُبارکہ کا مُخالف قرار پائے گا ۔ ::::: مضمون جاری ہے ::::: Last edited by عادل سہیل; 11-11-10 at 08:55 PM. وجہ: REFORMATTING |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-09-10), مرزا عامر (10-09-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (10-09-10), طارق راحیل (03-12-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ
*** عیدکی نماز کا وقت *** : مسئلہ (١) ::::: عید الفِطر(چھوٹی عید ) کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ (تقریباً تین میٹر ) بلند ہو چکنے پرہے ::::: :::::دلیل ::::: عبداللہ بن بُسر رضی اللہ عنہُ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ عید ( فِطر یا اضحی) کی نمازکے لیے گئے ، اِمام نے دیر کئی تو اُس کے اِس عمل پر انکار کرتے ہوئے فرمایا ( ہم لوگ اِس وقت تک فارغ ہو جایا کرتے تھے ) اور وہ تسبیح کا وقت تھا ::::: سنن ابو داؤد ، حدیث ١١٣٢ /کتاب الصلاۃ / باب ٢٤٥، سنن ابن ماجہ حدیث ١٣١٧ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ / باب ١٧٠، المستدرک الحاکم ، حدیث ١٠٩٢/کتاب صلاۃ العیدین کی حدیث ٥ ، سنن البیہقی الکبریٰ، حدیث ٥٩٣٤ / کتاب العیدین /باب ٣٣ ، تسبیح کے وقت سے مُراد نمازِ ضُحیٰ کا وقت ہے ، یعنی جب سورج طلوع ہوجانے کے بعد مکروہ وقت ختم ہوجاتا ہے ۔ شرح سنن ابن ماجہ ، اِمام ابی الحسن الحنفی السندی ۔ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ ، عید الفِطر(چھوٹی عید ) کی نماز کچھ دیر سے ، تاکہ لوگ مُناسب اور دُرُست طور پر فِطرانہ کی ادائیگی کر سکیں، اور عید الاضحی کی نماز جلد پڑہاہی جانی چاہیئے تا کہ لوگوں کو قُربانی کرنے اور بعد کے کاموں سے اچھے طور پر فارغ ہو سکنے کا مُناسب وقت مِل سکے : مسئلہ (٢) ::::: اگر ِ عید کے ہونے کا پتہ عید کے دِن کافی دیر سے لگے تو اُس دِن کا روزہ کھول دِیا جائے گا اور اگلے دِن عید کی نماز پڑہی جائے گی ::::: :::::دلیل ::::: ابی عمیر بن انس سے روایت ہے کہ ''''' اُن کے دادا خاندان والے جو کہ انصاری صحابہ تھے ، اُن میں سے کچھ نے اِنہیں بتایا کہ ::::: (ایک دفعہ )ہم لوگوں کے لیے شوال کا چاند واضح نہ ہوا پایا ( یعنی ہم لوگ متوقع رات میں شوال کا چاند نہ دیکھ پائے ) تو ہم نے اگلے دِن بھی روزہ رکھ لیا ، دِن کے آخری حصے میں کچھ سوار لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گواہی دِی کہ اُنہوں نے کل رات میں (شوال کا ) چاند دیکھا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اَنصار کو حُکم دِیا کہ((((( روزے کھول دیں اور اگلے دِن صُبح اپنی عید کی نماز ادا کرنے کے لیے اپنے مُصلیٰ جائیں ))))) ''''' حدیث صحیح ہے ، سنن ابن ماجہ ،حدیث ١٦٥٣ / کتاب الصیام / باب ٦ ، سنن ابو داؤد ، حدیث ١١٥٤ /کتاب الصلاۃ / باب ٢٥٤ ، سنن النسائی / کتاب صلاۃ العیدین / باب ٢ ، ترجمہ تینوں روایات کے الفاظ کو جمع کر کے کیا گیا ہے ، یہ حدیث اِس بات کی بھی ایک اور دلیل ہے کہ عید کی نماز مسجد میں نہیں بلکہ مُصلّے میں پڑہی جائے گی ، یہ مسئلہ اِنشاء اللہ آگے بیان کیا جائے گا۔ *** نمازِ عید سے پہلے کے مسائل *** : مسئلہ (١) ::::: صدقہِ الفِطر (فِطرانہ ) نمازِ عید سے پہلے پہلے ادا کر دیا جانا چاہیئے ::::: فِطرانہ کے احکام اور مسائل کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون الگ سے نشر کیا جا چکا ہے ::::: : مسئلہ (٢) ::::: عید کی نماز کے لیے نہانا ::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ وہ عید کی نماز کے لیے خصوصی طور پر نہایا کرتے تھے ، سنن ابن ماجہ ، حدیث١٣١٥، کتاب کتاب اِقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا/ باب١٦٩ کی روایت ضعیف یعنی کمزور اور ناقابل حُجت ہے ، کہ اِ سکی سند میں دو راوی (١) جبارۃ بن المُغلس اور (٢) حجاج بن تمیم ضعیف ہیں ، اِرواء الغلیل / حدیث ١٤٦۔ لیکن صحابہ اور تابعین کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ عید کی نماز کے لیے غُسل کیا کرتے تھے، لہذا ایسا کرنا پسندیدہ عمل ہے۔ : مسئلہ (٣) ::::: عید کی نماز کے لیے جائز حد میں رہتے ہوئے خوبصورتی (سجاوٹ )اختیار کرنا ::::: (دلیل ::::: عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ اُن کے والد عمر رضی اللہ عنہُ نے بازار سے اِستبرق ( کمخواب ) کا ایک جُبہ( عام لباس کے اُوپر پہننے والا سامنے سے کُھلا ہوا لمبا چوغہ) خریدا اور اُسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ::: اے اللہ کے رسول یہ لے لیجیے اور عید اور (مُلاقات کے لیے آنے والے ) وفود ( وفد کی جمع ) کے لیے سجاوٹ اختیار فرمایا کیجیے ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِنَّمَا ھَذہِ لِبَاسُ مَن لَا خَلَاق َ لَہ ُ ::: یہ تو اُس کا لباس ہے جِس کا آخرت (کی خیر) میں کوئی حصہ نہیں)پھرجب تک اللہ نے چاہا عمر( رضی اللہ عنہُ )رُکے رہے ، پھر اُس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عُمر (رضی اللہ عنہُ ) کو دیباج (ریشم کی تاروں سے بُنا ہوا کپڑا ) کا ایک جُبہ بھیجا ، تو عُمر (رضی اللہ عنہُ ) وہ جُبہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ::: اے اللہ کے رسول ، آپ نے فرمایا تھا کہ ((((( یہ تو اُس کا لباس ہے جِس کا آخرت (کی خیر) میں کوئی حصہ نہیں )))))اور پھر میری طرف یہ جبہ ارسال فرما دِیا ؟::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( یہ جبہ (میں نے ) اِس لیے بھیجا ہے کہ تُم اِسے بیچ لو یا اِس کے ذریعے اپنی کوئی ضرورت پوری کر لو ) صحیح البخاری ، حدیث٩٠٦ /کتاب العیدین / باب ١ ، صحیح مُسلم ، حدیث ٢٠٦٨، کتاب اللباس و الزینہ / باب٢۔ حدیث میں یہ دلیل ہے کہ عید کے لیے سجاوٹ اختیار کرنا تو جائز ہے لیکن شریعت کی حدود سے خارج ہو کر نہیں ، یعنی ایسا لباس پہننا جو ممنوع مواد یا ممنوع ڈھنگ کا ہو یا جِس پر فضول خرچی کی گئی ہو یا جِس میں کوئی بھی اور ممانعت والا کام شامل ہو ، مثلاً مَرد عورتوں کی نقالی نہ کریں جیسا کہ اب ہمارے ہاں نظر آتا ہے کہ مَرد رنگ برنگ کڑہائی اور گوٹے لپے والے کپڑے پہنتے ہیں اور گلے میں دوپٹہ نُما کپڑا بھی لٹکا رکھا ہوتا ہے ، اور عورتیں مَردوں کے ڈھب (سٹائل) کے کپڑے پہن رہی ہیں ، کیونکہ وسیع الخیال مُسلمانوں کی حکومت ہے ۔ : مسئلہ (٤) ::::: عید کی نماز کی ادائیگی مسجد میں نہیں بلکہ بیرونی مُصلیٰ میں کرنا سُنّت ہے ::::: (دلیل :::: ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ( کَانَ رسولُ اللَّہ صلی اللَّہ عَلِیہ وسلم یَخرُجُ یوم الفِطرِ وَالاَضحَی اِلی المُصَلَّی )( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فِطر اور اضحی کے دِن (کی نماز ) کے لیے مُصلّے کی طرف جایا کرتے تھے) صحیح البُخاری ، حدیث ٩١٣ /کتاب العیدین /باب ٦ ، صحیح مُسلم ، حدیث ٨٨٩ / کتاب صلاۃ العیدین کی نویں حدیث۔ امام ابن الحاج المالکی رحمۃُ اللہ علیہ کا کہنا ہے ''' دونوں عید کی نماز میں یقینی سُنّت یہ رہی کہ یہ نمازیں (مسجد میں نہیں بلکہ) مُصلیٰ میں ادا کی جائیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ((((( میری اِس مسجد میں ادا کی گئی نماز کِسی اور مسجد میں ادا کی گئی نماز سے ہزار درجہ بہتر ہے ، سوائے مسجدِ حرام ( مسجدِ کعبہ )کے))))) صحیح البخاری ، صحیح مسلم ، اور یہ فرمانے کے ساتھ اِس عظیم فضیلت کو چھوڑ کر عیدوں کی نماز اپنی مسجد میں نہیں ادا کی بلکہ باہر مُصلّے میں تشریف لے گئے ''' المدخل /جلد٢/صفحہ٢٨٣ ، تو یقینی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کِیا وہ اُس سے زیادہ افضل اور بہتر ہے جِسے چھوڑ دِیا ، لہذا عید کی نماز مسجد میں نہیں بلکہ مُصلّے میں ادا کی جانی چاہیئے ، اِس معاملے میں کچھ فلسفیانہ عذر پیش کیئے جاتے ہیں طوالت کے خوف سے اُن کا ذِکر نہیں کر رہا ہوں ۔ : مسئلہ (٥) ::::: مُصلّے کی طرف ایک راستے سے جایا جائے اور واپس آتے ہوئے دوسرے راستے سے آیا جائے ::::: ::::: دلیل ::::: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا کہنا کہ ((((( کان النبی صلی اللَّہ عَلِیہ وسلم اِذا کان یَومُ عِیدٍ خَالَفَ الطَّرِیقَ ::: عید کے دِن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( مُصلیٰ جانے آنے کا )راستہ بدل لیا کرتے تھے))))) صحیح البُخاری حدیث٩٤٣ /کتاب العیدین / باب ٢٤، ایسا کرنے کی حِکمت کے بارے میں اِماموں اور عُلماء کے کئی اقوال ہیں ، وقت کی کمی کے پیش نظر اُن کا ذِکر نہیں کِیا جا رہا ۔ : مسئلہ (٦) ::::: عید کی نماز کے لیے جاتے ہوئے تکبیر بلند کرنا چاہیئے اور نماز شروع ہونے تک بلند کرتے رہنا چاہیئے:::: ::::: دلیل ::::: ( کَان صَلی اللَّہُ عَلِیہِ وَسلمَ یَخرُجُ یَومُ الفِطرِ فَیُکَبِّرُ حَتَی یَاتِی المُصَّلَی وحَتَی یَقضِی الصَّلاۃَ فَاِذا قَضَی الصَّلاۃَ قَطعَ التَّکبِیر ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عید )فِطر کے دِن (نماز کے لیے) نکلتے تو تکبیر بلند کرتے یہاں تک (اسی حالت میں ) مُصلّے پہنچتے اور نماز ادا فرماتے اور اسکے بعد تکبیر روک دیتے ))))) سلسۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث ١٧١ ۔ افسوس کہ اب مسلمانوں میں سے اگر کوئی ایسا کرے تو اُسے ملامت بھری نگاہوںکا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جو شیطان کی آواز بلند کرتے یاسُنتے ہوئے چلے یعنی موسیقی بجاتے یا سُنتے اور گانے گاتے یا سنتے ہوا تو اُسے پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ، اِنَّا لِلَّہِ وَ اِنَّا اِلِیہِ رَاجَعُونَ ۔ اِس تکبیر کے کوئی الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتے ، لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں مندرجہ ذیل صحیح روایات ملتی ہیں ، اِن میں سے کِسی پر بھی عمل کِیا جا سکتا ہے ، (١) عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہُ یہ تکبیر بلند کِیا کرتے تھے ( اللّہُ اُکبر ، اللّہُ اُکبر ، لااِلَّہ اِلَّا اللَّہَ ، و اللَّہُ اُکبر ، اللّہُ اُکبرُ و لِلَّہِ الحَمد ) مُصنف ابن ابی شیبہ /حدیث ٥٦٣٣ / کتاب الصلوات / باب ١٣۔ (٢) عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ تکبیر بلند کِیا کرتے تھے ( اللَّہُ اُکبرُ اللّہُ اُکبرُ ، اللّہُ اُکبرُ و لِلَّہِ الحَمد، ، اللّہُ اُکبرُ و اجلُّ ، ، اللّہُ اُکبرُ عَلَی مَا ھَدَانَا ) سنن البیھقی/ حدیث ٦٠٧٤ / کتاب صلاۃ العیدین / باب ٦٦۔ (٣) سَلمان الفارسی رضی اللہ عنہُ یہ تکبیر بلند کِیا کرتے تھے ( کبِّرُوا اللَّہَ : اللَّہُ اُکبر،اللّہُ اُکبر،اللّہُ اُکبرُ کَبِیرا ) سنن البیھقی / حدیث ٦٠٧٦ / کتاب صلاۃ العیدین / باب ٦٦۔؛؛ ہر مُسلمان اپنی اپنی الگ تکبیر کہتا رہے گا ، اجتماعی تکبیر ، یعنی آواز سے آواز اور لے ملا ملا کر تکبیر کہنا بدعت ہے ، ایسا کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے کہیں کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ : مسئلہ (٧) ::::: دونوں عیدوں میں پہلا کھانا (ناشتہ ) کب کیا جائے ::::: ::::::: عید الفِطر ( چھوٹی عید ، رمضان کی عید ) کا پہلا کھانا ::::::: انس رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ( فِطر والے دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوریں کھائے بغیر صُبح کا آغاز نہیں فرمایا کرتے تھے ، اور وتر عدد(یعنی تین ، پانچ ، سات جیسا عدد) میں کھایا کرتے تھے) صحیح البُخاری ، کتاب العیدین ، باب ٤ ، ::::::: عید الاضحیٰ ( بڑی عید ، قُربانی والی عید ، بکر عید ، بقر عید ) کا پہلا کھانا ::::::: بُریدہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( عید ) فِطر کے دِن کھائے بغیر باہر تشریف نہ لاتے ، اور (عید ) اضحی کے دِن (نماز سے ) واپس تشریف لانے کے بعد اپنی قربانی ( کے جانور کے گوشت ) میں سے کھاتے ) حدیث صحیح ہے ، سنن ابن ماجہ ، حدیث ١٧٥٦/کتاب الصیام /باب ٤٩ ، سنن الترمذی ، حدیث ٥٤٢ ، سنن الدارمی ، حدیث ١٦٠٠/کتاب الصلاۃ / باب ٢١٧ ۔ (ترجمہ مجموعہ روایات میں سے ہے ) *** کیا عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی اور نماز نہیں پڑہی جائے گی؟ *** :::::دلیل ::::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ( اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلی اللَّہُ عَلِیہِ وَسَّلمَ خَرَجَ یوم اَضحَی او فِطرٍ فَصَلَّی رَکعَتَینِ لم یُصَلِّ قَبلَہَا ولا بَعدَہَا ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عید) الاضحی یا (عید )الفطر کے دِن(نماز کے لیے نکلے اور) دو رکعت نماز پڑہی اور اُس سے پہلے اور بعد میں اور کوئی نماز نہیں پڑہی )))))صحیح مُسلم ، حدیث ٨٨٤ /کتاب صلاۃ العیدین /باب ٢، صحیح البخاری ، حدیث ٩٨٩ /کتاب العیدین /باب ٨ ،سنن ابن ماجہ ، حدیث ١٢٩١ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ /باب ١٦٠ ، اِمام ابن القیم رحمہُ اللہ نے ''' زاد المعاد''' میں لکھا ''' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب (عید کی نماز کے لیے ) مُصلّے پہنچتے تو عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں کوئی اور نماز نہیں پڑہا کرتے تھے ''' اِمام ابن حجر العسقلانی نے ''' فتح الباری شرح صحیح البخاری/کتاب صلاۃ العیدین /باب ٢٦''' میں لکھا ''''' حاصلِ( بحث)یہ ہے کہ عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں کوئی اور نماز سُنّت سے ثابت نہیں ، اور یہ ( یعنی سُنّت کا معاملہ) اُن لوگوں کے خِلاف ہے جو نمازِ جمعہ پر قیاس کر تے ہیں '''''، یعنی وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ جیسے نمازِ جمعہ سے پہلے اور بعد سُنّت پڑہی جاتی ہے اِسی طرح عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں بھی پڑہی جانی چاہیئے اُن کا یہ قیاس باطل ہے کیونکہ خِلافِ سُنّت ہے ، اور یُوں بھی عقیدے اور عِبادات کے مسائل میں یا اجتھاد کی کوئی گُنجائش نہیں۔ ::::: مضمون جاری ہے ::::: Last edited by عادل سہیل; 11-11-10 at 09:12 PM. وجہ: REFORMATTING |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-09-10), فاروق سرورخان (29-08-11), مرزا عامر (10-09-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (10-09-10), طارق راحیل (03-12-08) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
گذشتہ سے پیوستہ
*** نمازِ عید کے بعد کے مسائل *** *** عید کے خُطبہ کے مسائل *** : مسئلہ (١) ::::: دونوں عید وں کے خُطبوں کا آغاز بھی دیگرعام خُطبوں کی طرح اللہ کی حمد و ثناء سے کی جائے گی، کیونکہ ، : مسئلہ (٢) ::::: عیدوں کے خُطبوں کا آغاز تکبیریا تکبیروں سے کرنا سُنّت سے ثابت نہیں ،اور، : مسئلہ (٣) ::::: یہ کہ نہ ہی اِن خُطبوں کے دوران یا درمیان میں تکبیریں کہنا سُنّت سے ثابت ہے ::::: عید کے خُطبوں کے درمیان ، دوران ، اور آغاز و اختتام میں تکبیریں بلند کرتے رہنے کی روایت ضعیف یعنی کمزور اور ناقابل حُجت ہے کیونکہ اِس کے راویوں میں سے عبدالرحمان بن سعد ضعیف ہے اور اُس کے والد اور دادا مجھول ہیں یعنی اُن کے حالاتِ زندگی کا پتہ نہیں ، یہ حدیث سنن ابن ماجہ ، حدیث ١٢٨٧، المُستدرک الحاکم ، حدیث ٦٥٥٤ ، سنن البیہقی الکبریٰ ، حدیث ٦٠٠٩ /کتاب صلاۃ العیدین /باب ٥١ ، میں ہے ۔ : مسئلہ (٤) ::::: عید کا خُطبہ ایک ہی حصے پر مُشتمل ہوتا ہے ، جمعہ کے خُطبہ کی طرح دو حصوں میں نہیں:::: عید کا خُطبہ دو حصوں میں ہونے کا ذِکر''' مُسند البزارمیں سے / مسند سعد / حدیث ٥٣ ''' ، کی روایت میں ہے ، اور یہ روایت بھی شدید ضعیف یعنی کمزور اور ناقابلِ حُجت ہے ، کیونکہ اِس کی سند کے مرکزی راوی عبداللہ بن شبیب کے بارے میں اِمام بُخاری کا کہنا ہے کہ ''' مُنکر الحدیث ''' یعنی اِس کی حدیث مُنکر ہوتی ہے ۔ لہذا عید کا خُطبہ ایک ہی حصے پر مُشتمل ہو گا ، جمعے کے خُطبے پر قیاس کرنا غلط ہے ۔ : مسئلہ (٥) ::::: عید کا خُطبہ نمازِ کے بعد ہوتا ہے نہ کہ پہلے ، اور، : مسئلہ (٦) ::::: عید کے خُطبے کے لیے منبر کا اِستعمال نہیں کِیا جائے گا ::::: دلیل ::::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ( شَہِدتُ العِیدَ مَع رَسولَ اللَّہِ صَلی اللَّہُ عَلِیہِ وَسلَّمَ وَاَبِی بَکرٍ وَعُمَرَ وَعُثمَانَ رَضی اللَّہُ عَنہُم فَکُلُّہُم کَانُوا یُصَلُّونَ قَبل الخُطبَۃِ ::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر، عُمر اور عُثمان (رضی اللہ عنہم ) کے ساتھ عید میں حاضر ہوا (اور دیکھا کہ ) سب کے سب خُطبہ سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے ))))) صحیح البُخاری ، حدیث ٩٦٢ /کتاب العیدین /باب٨، صحیح مُسلم ، حدیث ٨٨٤ /کتاب صلاۃ العیدین کی پہلی حدیث ۔ نماز ِ عید سے پہلے خُطبہ دینے اور اِس خُطبہ کے لیے منبر اِستعمال کرنے کی بدعت مروان بن عبدالملک امیر(گورنر) مدینہ نے شروع کی ، اُس کے لیے کثیر بن الصلت نے مٹی اور گارے کا منبر تیار کیا تھا ۔صحیح البخاری /کتاب العیدین /باب ٦ ، صحیح مُسلم ، حدیث ٨٨٩/ کتاب صلاۃ العیدین کی دسویں روایت ۔ : مسئلہ (٧) ::::: عید کی نماز کی طرح عید کے خُطبہ میں حاضر رہنا واجب نہیں ہے ::::: دلیل ::::: عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے :: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں حاضر ہوا ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو فرمایا ( اِنَّا نَخطُبُ فَمَن اَحَبَّ اَن یَجلِسَ لِلخُطبَۃِ فَلیَجلِس وَمَن اَحَبَّ اَن یَذہَبَ فَلیَذہَب ::: ہم اب خطاب کریں گے لہذا جو چاہے وہ خُطبہ (سُننے )کے لیے بیٹھے اور جو جانا چاہے وہ چلا جائے ))))) سنن ابو داؤد ، حدیث ١١٥٥/باب ٢٥٤ ، سننن ابن ماجہ ، حدیث ١٢٩١ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ/باب ١٦٠، المستدرک الحاکم ، حدیث١٠٩٣، حدیث صحیح ہے۔ :::::مضمون جاری ہے ::::: Last edited by عادل سہیل; 11-11-10 at 09:17 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-09-10), فاروق سرورخان (29-08-11), مرزا عامر (10-09-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (10-09-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
:::::گذشتہ سے پیوستہ ::::: آخری حصہ :::::
*** اگر عید جمعہ کے دِن ہو عید کی نماز پڑہنے کے بعدجمعہ کی نماز چھوڑی جا سکتی ہے *** ::::: دلائل ::::: (١) ::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قَد اجتَمَعَ فی یَومِکُم ہذا عِیدَانِ فَمَن شَاء َ اَجزَاَہُ مِن الجُمُعَۃِ وَاِنَّا مُجَمِّعُونَ ::: تُم لوگوں کے آج کے دِن میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں تو جو چاہے (عید کی نماز کے ذریعے ) جمعہ کو چھوڑے لیکن ہم دونوں نمازیں پڑہیں گے ))))) سنن ابو داؤد ، حدیث ١٠٦٩ / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب ٢١٥ ، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ۔ :::::دلیل ::::: (٢) ::::: اِیاس بن ابی رملۃ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے ''' میں معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہما کے پاس تھا ، اُنہوں نے زید بن الاَرقم رضی اللہ عنہُ سے پوچھا ::: کیا تُم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی دِن میں دو عیدیں دیکھی ہیں؟ (یعنی جمعہ کے دِن عید الفِطر یا عید الاَضحی ) زید رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: جی ہاں ::: معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کِیا تھا ؟ ::: زید رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑہی اور پھر جمعہ کی نماز میں رُخصت ( نہ پڑہنے کی اجازت) دیتے ہوئے فرمایا ((((( مَن شَاءَ اَن یُصَلِّی فَلیُصَلِّ::: جو (جمعہ کی نماز) پڑہنا چاہے وہ پڑھ لے ( یعنی جو نہ چاہے وہ نہ پڑہے))))) سنن ابو داؤد ، حدیث ١٠٦٦ / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب ٢١٥ ، سنن ابن ماجہ ، حدیث ١٣١٠ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ/ باب١٦٦، اِمام علی بن المدینی نے صحیح قرار دِیا ، بحوالہ ''' التلخیص الحبیر ''' اور اِمام الالبانی نے بھی صحیح قرار دِیا ، :::::دلیل ::::: (٣) ::::: ایک دفعہ عید جمعہ کے دِن ہو گئی تو علی رضی اللہ عنہُ نے فرمایا ((((( مَن اَرادَ اَن یُجَمِّعَ فَلیُجَمِّع ، ومَن اَرادَ اَن یَجلِسَ فَلیَجلِس::: جو دونوں نمازیں پڑہنا چاہے تو پڑہے اور جو بیٹھنا چاہے تو بیٹھے))))) اِمام سفیان الثوری نے کہا اِس کا مطلب ہے کہ ''' جو( جمعہ نہ پڑھنا چاہے اور) اپنے گھر میں بیٹھنا چاہے تو بیٹھے''' مصنف عبدالرزاق ،حدیث ٥٧٣١ / کتاب صلاۃ العیدین /باب ١٨ اجتماع العیدین ، مُصنف ابن ابی شیبہ ، حدیث ٥٨٣٩ / کتاب الصلوات /باب ٤٣٣ فی العِیدانِ یَجتَمِعانِ یَجزِیءُ اِحدُھما مِن الآخر ، حدیث صحیح ہے ۔ :::::دلیل :::: (٤) ::::: عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور میں عید جمعہ کے دِن ہوئی تو اُنہوں نے صرف عید کی نماز اور جمعہ کی نماز کو جمع کر لیا اور جمعہ کی نماز نہیں پڑہی بلکہ عید کی نماز پڑہنے کے بعد (عصرکے وقت ) عصرکی نماز پڑہی ::::: سنن ابو داؤد ، حدیث ١٠٦٨ / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب ٢١٥ ، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ۔ *** عید کی مُبارک باد *** صحابہ رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو عید کی مُبارک باد کے طور پر کہا کرتے تھے ::: ::: تَقَبَّلَ اللَّہ ُ مِنَّا و مِنکُم :::اللہ ہم سے اور تُم سے( ہمارے نیک عمل ) قُبُول فرمائے ::: ’’’ ماہ شوال اور ہم ‘‘‘ کے مضامین میں اِس موضوع پر تفصیلی بات کر چکا ہوں عید الاضحی ( قربانی والی عید) کے کچھ مسائل قربانی والے مضامین میں بیان کر چکا ہوں الحمد للہ ،۔ ان مضامین کو """ یہاں """ اور """ یہاں """ سے نازل کیا جا سکتا ہے ، اور آن لائن مطالعہ کے لیے دیکھیے """ قُربانی کے اہم مسائل """ ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سننے سمجھنے قُبُول کرنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ۔ طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر ۔ Last edited by عادل سہیل; 11-11-10 at 09:36 PM. وجہ: REFORMATTING |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-09-10), فاروق سرورخان (29-08-11), منتظمین (22-10-07), مرزا عامر (10-09-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (10-09-10), طارق راحیل (03-12-08) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
ان شاء اللہ عید الفطر کی آمد ہے ، عید سے متعلقہ اہم بنیادی مسإئل کی یاد دہانی کے لیے اس دھاگے کو تازہ کر رہا ہوں ، اور یہ درخواست بھی ہے کہ اپنی عید کی خوشیوں کو حقیقی لذت دینے کے لیے اپنے سیلاب زدگان بھائیوں بہنوں کو مت بھولیے گا ، جہاں تک ممکن ہو اپنی خوشیاں ان کے ساتھ بانٹیے گا ، ان شاء اللہ ایسا سُرور میسر ہو گا جو سابقہ عیدوں میں نہ ملا ہو گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | shafresha (10-09-10), فاروق سرورخان (29-08-11), کنعان (10-09-10), مرزا عامر (10-09-10), ضِرار Derar (23-11-10), طلحہ (10-09-10), عبداللہ آدم (10-09-10) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم::
چچا جان کیا حآل ہیں،آپ تو پاک نیٹ کے امام غآئب ہی ہو کر رہ گئے ہیں............... ![]() یہ بتائیں کہ لیا جو تکبیرات عیدین عام طور پر بڑے زور و شور اور ذوق و شوق سے پڑہی جاتی ہیں ان کے بارے میں کوئی حدیث ہے.میں ان خاص الفاظ کی بات کر رہا ہوں:: اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
یہ واقعی ایک مکمل اور لاجواب شئیرنگ ہے!
اللہ عزوجل آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جس شہر میں مسجد ہی نہ ہو وہ لوگ کیا کریں؟؟؟؟ کیا کوئی اس متعلق بتا سکے گا۔؟؟؟
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیراً بھتیجے ، اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے مجھے کسی غار میں غإئب قرار نہیں دے دیا ، اب یاد رکھیے گا کہ میں کچھ نئے دور میں ہوں اور ڈیجیٹائز ہوں ، ای سورسز پر """ ادرکنی """ کا نعرہ لگایے میں پہنچ جاؤں گا ، جیسے اب پہنچ گیا ہوں ، ![]() اب آتے ہیں آپ کے سوال کی طرف ، آپ نے تکبیر کی جو دو عبارات لکھی ہیں ، ان میں سے پہلی تو عید کی تکبیروں میں سے عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ سے ثابت شدہ ہے ، اور دوسری عبارت عید کی تکبیروں میں سے نہیں ، بلکہ نماز کی ادعیۃ الاستفتاح یعنی نماز کا آغاز کرنے والے اذکار میں سے ہے ، صحیح احادیث میں اس دُعا یا ذکر کا بیان اسی جگہ کے ذکر میں ہوا ہے ، اور عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ """"""" ایک دفعہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک شخص نے کہا ((((( اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ::: )))))، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((مَنْ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا ::: کس نے اس طرح اس طرح یہ بات کہی ہے )))))، تو قوم میں سے ایک شخص نے کہا """ میں نے اے اللہ کے رسول """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((عَجِبْتُ لَهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ::: میں اس کے لیے حیران ہوا کہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے[/B][/COLOR] ))))) اور عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ اس کے بعد میں نے یہ الفاظ کہنا کبھی ترک نہیں کیا """"""" صحیح مُسلم /حدیث 601/کتاب الصلاۃ و مواضیع /باب 27 بَاب ما یُقال بین تکبیرۃ الاحرام و القرأۃ ، یعنی باب اس بیان میں کہ پہلے تکبیر اور قرأت کے درمیان کیا کہا جائے گا، اسی طرح دیگر کتب میں بھی یہ حدیث نماز کے اسی حصے کی کیفیت کے بیان میں مذکور ہے ، یعنی ، یہ الفاظ عید کی تکبیروں میں استعمال کرنے کا کوٕئی ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ سے یا صحابہ رضی اللہ عنہم کی سُنّت سے میں نہیں جانتا، اور دِین میں سب سے زیادہ خیر والا اور درست اور قبولیت والا ظاہری اور باطنی قول اور عمل وہی ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کی ، اور اس کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کی موافقت رکھتا ہو، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے صدیقی بھائی ، اللہ تعالیٰ اپنے اس حقیر ، پُرتقصیر اورکمزور بندے سے کوئی نیک کام کروا لیتا ہے تو یہ محض اس کا کرم ہے ، دعا کیا کیجیے کہ اللہ ان کاموں کو قبول بھی فرما لے ، والسلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (29-08-11), ضِرار Derar (23-11-10) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مرزا بھائی ، کسی اختلاف اور نزاع کے بغیر ، سوائے مسجد الحرام یعنی کعبہ والی مسجد کےعید کی نماز تو مسجد سے باہر کسی کھلی جگہ میں ادا کرنا ہی افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ میں یہی تعلیم ہے ، ، صحابہ اور خلفاء الراشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کا اسی پر عمل رہا ہے اور صدیوں تک امت کا اسی پر عمل رہا ہے کہ اہتمام کر کے آبادیوں سے کچھ باہر کھل جگہوں پر عید کی نماز ادا کی جاتی تھی ، بلکہ اب بھی زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے ، لہذا اگر کچھ مسلمان ایسی آبادی میں ہوں جہاں مسجد نہیں تو وہ کسی بھی جگہ جمع ہو کر عید کی نماز ادا کر سکتے ہیں ، اور اگر سفر میں ہوں تو ان کے لیے عید کی نماز پڑھنا ضروری نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے کہیں یہ ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے دوران سفر عید کی نماز پڑھی ہو ، جیسا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یوم عرفات جو کہ جمعہ کا دِن تھا جمعہ کی نماز نہیں پڑھی بلکہ ظہر اور عصر جمع کر کے پڑھیں ، اور منیٰ میں عید کی نماز نہیں پڑھی ، امید ہے یہ معلومات آپ کے سوال کے جواب میں کفایت کرنے والی رہیں گے ، باذن اللہ و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
عیدکارڈوں کے سلسلے فراز
دوریوں کی گھٹن مٹا ئیں گے پیار کا یہ حقیر سا تحفہ یاد ماضی اٹھا کے لائے گا سات رنگوں کا خوبر و کاغز فا صلے سب مٹا کے آئے گا جب یہ کاغز حسین ٹکڑا تیر ے ہاتھوں کا لمس پا ئے گا اجنبی دیس میں اداسی کا سارا ماحول ٹوٹ جا ئے گا Attached Image
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ www.tariqraheel.blogspot.com |
|
|
|
| طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (29-08-11) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھائی محمد طارق راحیل صاحب ، آپ نے بہت اچھے انداز میں کافروں کی ایک رسم کی نشاندہی کر کے یہ بتایا کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے لیے عید کی نیک تمنائیں اس صورت میں نہیں پہنچانی چاہیں، شکریہ ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | ضِرار Derar (23-11-10) |
![]() |
| Tags |
| color, لوگ, نماز, مکہ, مکمل, محبت, مسائل, اللہ, اسلام, اسلامی, بھائی, تعلیم, جھوٹ, جواب, جلد, حدیث, خواتین, خوش, عید, عورت, عزت, عشق, صفحہ, صلاۃ, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایتھنز میں نماز عید ادا کرنے والے ہزاروں مسلمانوں پر گندے انڈوں کی بارش | ALI-OAD | خبریں | 7 | 19-11-10 12:33 AM |
| میری طرف سے تمام مسلمان بھائی بہنوں کو بقر عید مبارک | رضی | عید منائیں پاک ڈاٹ نیٹ کے سنگ | 2 | 29-11-09 11:01 AM |
| بالی وڈ فنکاروں کو ہزاروں کی تعداد میں عیداور کرسمس کارڈ ملے | عبدالقدوس | فن و فنکار | 0 | 25-12-07 01:49 PM |
| شعیب اختر پر پانچ انٹرنیشنل میچوں کی پابندی | محمدعدنان | کرکٹ | 16 | 11-09-07 05:29 PM |