| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 359
|
||||
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-12-10), ھارون اعظم (04-12-10), یاسر عمران مرزا (04-12-10), محمدخلیل (05-12-10), شمشاد احمد (04-12-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
لیکن کلمہ پڑھنے کے بعد اسلامی شعائر اور قانون کو اختیار کرنے میں چوائس ہونی چاہیئے کیا؟
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لا اکراہ فی الدین
نظام حیات چلانے کے لیئے اللہ نے کوئی ایسا قانون نہیں رکھا جس میں کراہت یعنی مشکل ہو۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (05-12-10) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
دين اسلام قبول كرنے يا نہ كرنے پر اسلام كاجبر نہيں۔ جس كادل چاہے اطمينان حاصل كر كے قبول كر لے۔ جو دين اسلام قبول نہيں كرتا وہ اگر دار الكفر ميں رہتا ہے تو جيسے مرضي ہے رہتا رہے۔ زندگي گزارے مسلمانوں كا اس سے كوئي تعلق نہيں۔ اور اگر وہ اسلامي مملكت ميں اسلامي حكومت كے ماتحت رہتا ہے تو دل نہيں مانتا تو مت قبول كرے اسلام اس پر كوئي جبر نہيں۔ بلكہ جزيہ دے كر اسلامي حكومت ميں رہے اس كے مذہبي اور معاشرتي حقوق كے ساتھ ساتھ جان مال عزت آبر كي حفاظت كي ضامن اسلامي حكومت ہے۔ ليكن اگر كوئي اسلام قبول كر ليتا ہے تو اب اس پر بعض قانوني امور ميں جبر ہے اور بعض ميں جبر نہيں ہے۔۔۔ ۔۔۔ جيسا كہ پاك فوج ميں شامل ہونا ساري قوم كےلئے لازم نہيں كسي پرجبر نہيں۔ جس كا دل چاہتا ہے شامل ہو جائے۔۔۔۔ جس كا دل كرتا ہے شامل نہ ہو۔۔۔ ليكن جو شامل ہو جاتا ہے اس پر بعض وہ پابندياں عائد ہوتي ہيں جو دوسرے پاكستانيوںپر نہيں ہوتي۔ لہذا بحث ہوني چاہے ليكن خلط مبحث نہيں ہوني چاہے۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), فیصل ناصر (05-12-10), کنعان (06-12-10), ھارون اعظم (04-12-10), مرزا عامر (06-12-10), آبی ٹوکول (04-12-10), سحر (04-12-10), طاھر (04-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10), عبداللہ حیدر (05-12-10) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اوپر مختصر وضاحت كر چكا ہوں۔۔۔۔ لہذا يہ جملہ استعمال كرنا۔۔۔كہ دين اسلام ميںكوئي جبر نہيں۔۔۔۔۔۔ اور اس كا يہ نتيجہ نكالنا كہ ايك مسلمان كہلانے والا مرد يا عورت جو مرضي ہے كرے اس كوئي پوچھنے والا يا منع كرنےوالا نہيں۔ غلط تصور دين ہے۔ اگر كسي كا ہےتو۔۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (05-12-10), کنعان (05-12-10), ھارون اعظم (04-12-10), مرزا عامر (06-12-10), آبی ٹوکول (04-12-10), عبداللہ آدم (04-12-10) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بہر حال لگتا ہےکچھ لوگ ویڈیو دیکھے بغیر صرف موضوع دیکھ کر ہی رائے دے رہے ہیں اس سوال کو دوسری طرح کرلیتے ہیں کیا غامدی صاحب نے لا اکراہ فی الدین کا جو مفہوم بیان کیا ہے اس میں کوئی غلطی یا کمی و زیادتی آپ کو محسوس ہوتی ہے ؟ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
میں جناب غامدی صاحب سے متفق ہوں!!!!
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہد بھائی کیا کسی اور کے نظرئے سے بھی اس میں کوئی قابل اعتراض پہلو نکل سکتا ہے ؟
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
غامدی صاحب نے سیدھی سی بات کی ہے اس پر میں نہیں سمجھتا کہ کسی قسم کا کوئی نا اتفاقی کا پہلو نکلے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ڐ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۔۔۔۔
زبردستی نہيں دین کے معاملہ مںِ بشکِ جدا ہو چکی ہے ہدایت گمراہی سے جبر اور دعوت اسلام یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کر، اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہو چکی اس کے دلائل و براہین بیان ہو چکے ہیں پھر کسی اور جبر اور زبردستی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جسے اللہ رب العزت ہدایت دے گا، جس کا سینہ کھلا ہوا دِل روشن اور آنکھیں بینا ہوں گی وہ تو خود بخود اس کا والہ و شیدا ہو جائے گا، ہاں اندھے دِل والے بہرے کانوں والے پھوٹی آنکھوں والے اس سے دور رہیں گے پھر انہیں اگر جبراً اسلام میں داخل بھی کیا تو کیا فائدہ؟ کسی پر اسلام کے قبول کرانے کیلئے جبر اور زبردستی نہ کرو۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مدینہ کی مشرکہ عورتیں جب انہیں اولاد نہ ہوتی تھی تو نذر مانتی تھیں کہ اگر ہمارے ہاں اولاد ہوئی تو ہم اسے یہود بنا دیں گے، یہودیوں کے سپرد کر دیں گے، اسی طرح ان کے بہت سے بچے یہودیوں کے پاس تھے، جب یہ لوگ مسلمان ہوئے اور اللہ کے دین كےانصار بنے، یہودیوں سے جنگ ہوئی اور ان کی اندرونی سازشوں اور فریب کاریوں سے نجات پانے کیلئے سرور رسل علیہ السلام نے یہ حکم جاری فرمایا کہ بنی نضیر کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا جائے، اس وقت انصاریوں نے اپنے بچے جو ان کے پاس تھے ان سے طلب کئے تاکہ انہیں اپنے اثر سے مسلمان بنالیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جبر اور زبردستی نہ کرو، ایک روایت یہ بھی ہے کہ انصار کے قبیلے بنوسالم بن عوف کا ایک شخص حصینی نامی تھا جس کے دو لڑکے نصرانی تھے اور خود مسلمان تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بار عرض کیا کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں ان لڑکوں کو جبراً مسلمان بنا لوں، ویسے تو وہ عیسائیت سے ہٹتے نہیں، اس پر یہ آیت اتری اور ممانعت کر دی، اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ نصرانیوں کا ایک قافلہ ملک شام سے تجارت کیلئے کشمش لے کر آیا تھا جن کے ہاتھوں پر دونوں لڑکے نصرانی ہوگئے تھے جب وہ قافلہ جانے لگا تو یہ بھی جانے پر تیار ہوگئے، ان کے باپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذِکر کیا اور کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں اسلام لانے کیلئے کچھ تکلیف دوں اور جبراً مسلمان بنالوں، ورنہ پھر آپ کو انہیں واپس لانے کیلئے اپنے آدمی بھیجنے پڑیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، حضرت عمر کا غلام اسبق نصرانی تھا، آپ اس پر اسلام پیش کرتے وہ انکار کرتا، آپ کہہ دیتے کہ خیر تیری مرضی اسلام جبر سے روکتا ہے، علماء کی ایک بڑی جماعت کا یہ خیال ہے کہ یہ آیت ان اہل کتاب کے حق میں ہے جو فسخ و تبدیل توراۃ و انجیل کے پہلے دین مسیحی اختیار کر چکے تھے اور اب وہ جزیہ پر رضامند ہو جائیں، بعض اور کہتے ہیں آیت قتال نے اسے منسوخ کر دیا، تمام انسانوں کو اس پاک دین کی دعوت دینا ضروری ہے، اگر کوئی انکار کرے تو بیشک مسلمان اس سے جہاد کریں، جیسے اور جگہ ہے (آیت ستدعون الی الی قوم الخ) عنقریب تمہیں اس قوم کی طرف بلایا جائے گا جو بڑی لڑاکا ہے یا تو تم اس سے لڑو گے یا وہ اسلام لائیں گے، اور جگہ ہے اے نبی کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر، اور جگہ ہے ایماندارو! اپنے آس پاس کے کفار سے جہاد کرو، تم میں وہ گھر جائیں اور یقین رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے، صحیح حدیث میں ہے، تیرے رب کو ان لوگوں پر تعجب آتا ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں، یعنی وہ کفار جو میدان جنگ میں قیدی ہو کر طوق و سلاسل پہنا کر یہاں لائے جاتے ہیں پھر وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں اور ان کا ظاہر باطن اچھا ہو جاتا ہے اور وہ جنت کے لائق بن جاتے ہیں مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ایک شخص سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا مسلمان ہو جاؤ، اس نے کہا حضرت میرا دِل نہیں مانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گو دِل نہ چاہتا ہو، یہ حدیث ثلاثی ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اس میں تین راوی ہیں لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ آپ نے اسے مجبور کیا، مطلب یہ ہے کہ تو کلمہ پڑھ لے، پھر ایک دن وہ بھی آئے گا اللہ تیرے دِل کو کھول دے اور تو دِل سے بھی اسلام کا دلدادہ ہو جائے گا، حسن نیت اور اخلاص عمل تجھے نصیب ہو، (تفسير ابن كثير) |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, quote, ہونی, کیا؟, کوئی, کلمہ, پڑھنے, ویڈیو, قانون, لیکن, لیئے, چاہیئے, موضوع, معاشرے, اللہ, اختیار, اسلامی, جبر, حیات, دیکھے, دیں, دین, شعائر, عورت, غامدی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| سیاسی دروازے بند نہیں ہوتے ، مل کر جمہوریت مستحکم کریں گے : بابر ، پرویز ملاقات میں اتفاق | جاویداسد | خبریں | 0 | 25-10-10 10:24 PM |
| کمپیوٹر میں یو ایس بی پورٹس کبھی کم نہیں پڑیں گے | محمدعمر | خبریں | 5 | 28-06-10 11:02 PM |
| بھارت میں " بعض " کھلاڑی کنٹر ول میں نہیں تھے،ڈسپلن توڑنے والوں کو آئندہ قو می ٹیم میں جگہ نہیں ملے گی،نسیم اشر ف | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 17-12-07 02:50 PM |
| ڈرا کیلئے نہیں صرف جیت کیلئے میدان میں اتریں گے،یونس خان،کپتانی سے بھاگتا ہوں یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 08-12-07 08:13 AM |
| انڈین لیگ کھیلنے والوں پرتاحیات پابندی کا فیصلہ نہیں کیا،نسیم اشرف،قومی ٹیم میں کبھی منتخب نہیں کرینگے،شفقت نغمی | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 9 | 23-08-07 04:47 PM |