| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1763
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 856
کمائي: 1,505
شکریہ: 196
364 مراسلہ میں 603 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام غلیکم
میں اس بارے مزید جاننا چاہتا ہوں |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سلام دوستو اور بہنو
اس موضوع پر تا حال کچھ پڑھنے کو نہیں ملا اہل علم کی توجہ درکار ہے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
راجہ بھائی ، معذرت خواہ ہوں کہ آپ کے اس دھاگے کا کافی دیر سے پتہ چلا اور یوں بھی میں آج کل مسافر ہوں اور لوڈ شیڈنگ کا مزہ لے رہا ہوں ، امید ہے آپ تاخیر پر معاف فرمائیں گے ، اللہ مجھے آپ کے حسن ظن سے زیادہ بہتر بنائے ، آپ نے اپنے ابتدائی مراسلے جب تین چیزوں کا ذکر کیا اور پھر مراسلہ رقم ۔۔۔۔۔۔ میں ان کے بارے میں مزید وضاحت کی خواہش کی اس کا جواب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مبارک سے سنیے ، یہ جواب ہمیں دو جلیل القدر صحابہ کے ذریعے ملتا ہے ، ایک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ ، ایمان والوں کے ماموں جان ، امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اور دوسرا حافط حدیث ، ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے ، دونوں ایک ہی واقعے کو بیان کرتے ہیں اور تقریبا ایک ہی جیسے الفاظ ہیں ، ابو ھریرہ رضی اللہ عنہُ کی روایت متفق علیہ ہے یعنی اسے امام البخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اپنی اپنی صحیح میں خارج کی ہیں ، اور امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح مسلم میں ہے اور میں یہاں اسی روایت کو ذکر کر رہا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ ، ایمان والوں کے ماموں جان ، امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ """"""" بَينَمَا نَحنُ عِندَ رسول اللَّهِ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ذَاتَ يَومٍ إِذ طَلَعَ عَلَينَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ::: ایک دن جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس حاضر تھے تو ہمارے سامنے ایک ایسا شخص آیا جس کے کپڑے شدید سفید تھے اور جس کے بال شدید کالے تھے لَا يُرَى عليه أَثَرُ السَّفَرِ ولا يَعرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ ::: اس (کے لباس ، بالوں اور شخصیت) پر سفر کا کوئی اثر دکھائی نہ دیتا تھا ، اور اُسے ہم میں سے کوئی بھی نہ جانتا تھا ، (یعنی وہ مدینہ کا رہنے والا نہ تھا ) حتى جَلَسَ إلى النبي صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فَأَسنَدَ رُكبَتَيهِ إلى رُكبَتَيهِ وَوَضَعَ كَفَّيهِ على فَخِذَيهِ و قَال ::: یہاں تک وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس پہنچا اور ان کے سامنے دوزانو ہو کر اپنے دونوں گھٹنے اُن کے دونوں گھٹنوں کے ساتھ لگا کر اور اپنے دونوں ہاتھ ان کی دونوں رانوں پر رکھ کر بیٹھ گیا اور کہا ، سوال کیا يا محمد أَخبِرنِي عن الإِسلَامِ ؟ اے محمد ( صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) مجھے اسلام کے بارے میں بتایے ؟ فقال رسول اللَّهِ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم الإِسلَامُ أَن تَشهَدَ أَن لَا إِلَهَ إلا الله وَأَنَّ مُحَمَّدًا رسول اللَّهِ (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ البَيتَ إن استَطَعتَ إليه سَبِيلًا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تُم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہو تو حج کرو قال صَدَقتَ اُس شخص نے کہا ، آپ نے سچ فرمایا قال فَعَجِبنَا له يَسأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے ، ہم اس شخص کی بات پر حیران ہوئے کہ خود ہی سوال کر رہا اور خود ہی جوابات کی تصدیق بھی کر رہا ہے ، قال فَأَخبِرنِي عن الإِيمَانِ ؟ (پھر) اُس نے کہا مجھے اِیمان کے بارے میں خبر کیجیے ؟ قال أَن تُؤمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَاليَومِ الآخِرِ وَتُؤمِنَ بِالقَدَرِ خَيرِهِ وَشَرِّهِ (تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا (ایمان یہ ہے) کہ تم اللہ پر اور اللہ کے فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں پر اور اللہ کے رسولوں پر اور آخرت کے دِن پر ایمان رکھے اور اس پر ایمان رکھے کہ تقدیر خیر اور شر والی ہوتی ہے ، قال صَدَقتَ قال فَأَخبِرنِي عن الإِحسَانِ ؟ اس نے کہا ، آپ نے سچ فرمایا ، لہذا مجھے احسان کے بارے میں خبر دیجیے ؟ قال أَن تَعبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِن لم تَكُن تَرَاهُ فإنه يَرَاكَ (تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا (احسان یہ ہے ) کہ تُم اس طرح اللہ کی عبادت کرو کہ گویا تُم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو (کم از کم یہ کیفیت ضرور ہو کہ ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے قال فَأَخبِرنِي عن السَّاعَةِ ؟ (پھر ) اس نے کہا مجھے قیامت کے بارے میں خبر دیجیے؟ قال ما المَسئُولُ عنها بِأَعلَمَ من السَّائِلِ ( تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ، قال فَأَخبِرنِي عن إمارتها (پھر) اُس نے کہا ، مجھے قیامت کی نشانیوں کی خبر دیجیے قال أَن تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَن تَرَى الحُفَاةَ العُرَاةَ العَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ في البُنيَانِ (تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا (قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ) کہ باندی اپنے آقا کو جنم دے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پیروں والے ، کم لباس والے غریبت زدہ چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے قال ثُمَّ انطَلَقَ فَلَبِثتُ مَلِيًّا ثُمَّ قال لي عُمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، پھر وہ شخص چلا گیا اور میں اسی طرح حیرت زدہ رہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا يا عُمَرُ أَتَدرِي من السَّائِلُ ؟ اے عُمر کیا تُم جانتے ہو کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا ؟ قلت الله وَرَسُولُهُ أَعلَمُ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اسکے رسول زیادہ جانتے ہیں ، قال فإنه جِبرِيلُ أَتَاكُم يُعَلِّمُكُم دِينَكُم (تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا یہ جبرئیل تھے جو تُم لوگوں کو تُمہارا دِین سکھانے کے لیے تُم لوگوں کے پاس آئے تھے ، صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب ، صحیح مُسلم ، حدیث ۸ ، کتاب الایمان ، ، باب اول ، یہ روایت صحیح مُسلم کی ہے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمیں اسلام ، ایمان اور احسان ، کی تشریح بتا دی ، اور اللہ کے دوسرے رسول جبرئیل علیہ السلام کی تصدیق بھی ساتھ ہے ، اب اس سے بڑھ کر ، یا اس سے ہٹ کر کوئی ایسی تعریف یا تشریح کرے جس کی کوئی تصدیق قران یا صحیح سنّت میں میسر نہ ہو تو اسے کیسے قبول کیا جا سکتا ہے ؟ کچھ مزید بات ابھی ان شا ء اللہ پیش کروں گا ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (23-02-10), چیتا چالباز (11-07-09), مون لائیٹ آفریدی (12-07-09), ایکسٹو (01-12-10), راجہ اکرام (11-07-09), سحر (11-07-09), عبداللہ آدم (25-02-10), عبداللہ حیدر (11-07-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
گذشتہ سے پیوستہ ::: راجہ بھائی شریعت کا لفظی معنی ہے قانون ، اور اسلامی اصطلاحات میں اس کا مفہوم ہے اللہ کے نازل کردہ قوانین کا مجموعہ ، اور طریقت کے معنی ہیں راستہ ، انداز ، ڈھنگ ، یہ عربی میں جس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے اُسی مفہوم میں اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ، عربی میں بہت سے الفاظ اردو میں اپنے عربی مفہوم کے مطابق ہی استعمال ہوتے ہیں ، ایک عام سے قانون کے مطابق یہ سیکھ لیجیے کہ عربی کے تقریبا سارے ایسے الفاظ کے جن کے آخر میں عربی کی گول " ۃ " آتی ہے ، وہ الفاظ اردو میں " ت "کے ساتھ لکھے جاتے ہیں اور تقریبا عربی والے مفہوم میں ہی استعمال ہوتے ہیں ، اور انہی میں سے ہمارے زیر گفتگو یہ دو الفاظ شریعۃ اور طریقۃ ہیں ، شریعۃ سے شریعت ، اور طریقۃ سے طریقت ، اور اسی طریقۃ کو جب تجوید اور عام عربی بول چال کے قواعد کے مطابق اکیلے پڑھا یا بولا جائے گا یا اس پر رکا جائے گا تو اس کا تلفظ "" طریقہ "" ہو گا اور یہ """ طریقہ """ جوں کا توں اردو میں اپنے اصل عربی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ، اس کا ایک الگ مفہوم کہ یہ کچھ ایسے اقوال یا اعمال کا مجموعہ ہے جو معاذ اللہ شریعت کے متوازی ہے یا اس کی تکمیل کے لیے ضروری ہے ، یا اس کی اصل ہے ، یا اُس کی سجاوٹ ہے ، یا اُس کی باطن ہے وغیرہ وغیرہ ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی توحید ، اپنے سارے احکامات ، صاف صاف کھول کھول کر پانے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذریعے قیامت تک کے مکمل فرما کر ارسال کر دیے ، معاذ اللہ اس میں کہیں کچھ خفیہ یا باطنی نہیں ، تزکیہ نفس ہر مومن سے مطلوب ہے ، لیکن اس کے لیے وہی """ طریقہ """ استعمال ہو گا جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے مقرر ہے ، جس کو ان کی منظوری حاصل ہو گی ، نہ کہ اپنے خیالات ، خوابوں ، کہانیوں ، قصوں اور نام نہاد الہامات اور کشوف وغیرہ کی بنا پر اپنایا گیا کوئی """ طریقہ """ ، رہا معاملہ کچھ خود ساختہ عبادات اور """ طریقوں """ اور سلسلوں کو """ تصوف """ کے نام پر مسلمانوں میں مروج کرنے کا تو راجہ بھائی """ تصوف """ کی کوئی ایک تعریف ایسی نہیں جس پر امت کا اجماع تو کیا ، اکثریت کا اتفاق ہی ہو ، قصہ مختصر ، تصوف کے نام پر جو کچھ ہوتا رہا ، اور ہو رہا ہے بلا مبالغہ اس کی اکثریت قران اور صحیح سنت کی کوئی موافقت نہیں رکھتی ، و السلام علیکم ۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (11-07-09), چیتا چالباز (11-07-09), مون لائیٹ آفریدی (12-07-09), راجہ اکرام (11-07-09), سحر (11-07-09), عبداللہ آدم (01-12-10), عبداللہ حیدر (11-07-09) |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جنید بغدادی ایک دفعہ ہفتہ یا عشرہ کے لیے کسی سے ملاقات کرنے یا پھر میل جول سے گریزاں رہے بقول شخصے وہ تصوف کی کسی خاص کیفیت میں چلے گئے۔ جب ان کے استاد کو اس بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے ان کے حالات جاننے والے سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ کیا ان کی نماز زندہ ہے؟ یعنی کیا وہ نماز باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں تو حال جاننے والے نے اثبات میںجواب دیا تو ان کا کہنا تھا کہ کسی بات کی کوئی فکر نہیں۔
طریقت بس وہی ہے جو شریعت کے تابع ہے۔ باقی میںنہ مانوںوالی بات کا تو کوئی حل ہی نہیں ہے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (11-07-09), shafresha (12-07-09), Student (21-08-09), فیصل ناصر (11-07-09), ھارون اعظم (23-02-10), چیتا چالباز (11-07-09), آبی ٹوکول (21-08-09), ایکسٹو (01-12-10), خرم شہزاد خرم (12-07-09), راجہ اکرام (11-07-09) |
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مکرمی عادل سہیل بھائی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے تاخیر اگر ہوئی تو یقینا کچھ باعث تاخیر بھی ہو گا، اس لئے معذرت کی چنداں ضرورت نہیں۔ حدیث جبرئیل کی روشنی میں ان تین اصطلاحات کی تشریح واقعی تشفی کے لئے کافی ہے۔ اور سب سے اہم بات کہ مستند ہے۔ اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے آپ سے رابطہ رہے گا۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین عادل بھائی آپ کا شکریہ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
کچھ اختلاف محسوس کررہا ھوں اسلئیےاخلاق کے دائرےمیں رہ کرکچھ عرض کرنےکی کوشش کرونگامیرےخیال میں شریعت اور طریقت ایک ھی سکےکےدورخ ھیں کیونکہ شریعت احکام ھیں اورطریقت رستہ ھےجھاں تک نبی
کےدورِمبارک کی بات ھےتوبھت ساری چیزیں نہ تھی مگرھم اسکااستعمال دین میں ممنوع نھی سمجھتےمثلاًقرآن کی کتابت اعراب مثلاًزیر،زبر،پیش۔حضور کےدورکےکام یادکرنےوالےیہ کیوں نھیں سوچتےکہ انٹرنیٹ کے ذریعےدین کی تبلیغ کیااس مبارک دورمیں تھی اب کوئی یہ نہ سوچےکہ پھرتوموبائل اورانٹرنیٹ ھی حرام۔اسی طرح طریقت کامطلب کوئی یہ سمجھےکہ اس میں دین سےکوئی جداراستہ اختیارکیاجاتاھے۔مثلاً فی زمانہ میری معلومات کےمطابق پوری دنیامیں چارمسلک زیادہ رائج ھیں جنکےنام لیناضروری خیال نھیں کرتاالبتہ اشارہ ضروردونگامشرف دورمیں یہ چاروں فرقےیکجاھوئےتھےاورانکاانت خابی نشان "کتاب"تھاعرض یہ ھےکہ ان چاروں مسلکوں کا دین کا کام اورطریقہ دیکھیں ھرکسی کی مذھبی جماعتیں سیاسی جماعتیں طلباتنظیمیں پورےکاپورانیٹ ورک ملاحظہ فرمایئں تقریباًایک جیسا ھی نظرآیئگاسب اپنےاپنےبزرگوں اورلیڈروں کومانتےھیں بس بات اپنی اپنی سمجھ کی ھوتی ھے۔سب حدیث،قرآن کومانتےھیں۔فقہ کا اصول ھےدلیل وہ دےجوکسی عمل کوغلط و ناجائزسمجھتاھوجب تک دلیل سےثابت نھیں کیاجاتاھرچیزاباحت میں شمارھوگی۔اگرغلطی پرھوں تو اصلاح فرمادیں۔
__________________
شائد کہ تِرےدل میں اترجائےمِری بات! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شریعت اور طریقت ایک ھی سکےکےدورخ کسطرح ہیں
بھائی ویرانی صاحب ذرا کوئی مثال اس ضمن میں بتائیں اقتباس:
ان تمام اشیاء کے استعمال کی بنیاد پر ایک نئے دین کی ایجاد یا دین کے احکامات میں ہی تبدیلی قابل قبول نہیں کہلائے گی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (11-07-09), چیتا چالباز (12-07-09), ابن حسن (22-08-09), راجہ اکرام (12-07-09), سحر (12-07-09), عبداللہ آدم (01-12-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
طریقت سےکون سی شریعت میں تبدیلی کاوقوع ھوتاھےمیں نےپھلےبھی کھافیصل بھائی کہ دلیل اسکےذمےھوتی ھےجویہ کھتاھےکہ فلاں فعل سےدین میں خرابی پیداھوتی ھےاورطریقت سےکون سے نیادین پیداھوتاھےیا دین کے احکام میں تبدیلی آتی ھےطریقت توشریعت کا راستہ ھےیا پھر آپ ھی ذراروشنی ڈالیں طریقت کےاوپرتاکہ میری اصلاح کاذریعہ بنے۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے muhammad asif virani کا شکریہ ادا کیا | Student (21-08-09), خرم شہزاد خرم (12-07-09) |
|
|
#12 | |||
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی ویرانی صاحب کچھ غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے شاید
میں نے ایک سوال کیا تھا اور ایک آپکی بات کا جواب دیا تھا شاید ایک ہی جگہ کرنے سے کچھ گڈ مڈ ہوگئے سوال اقتباس:
دوسری بات میں آپ کی کچھ باتوں کا جواب دیا ہے اقتباس:
یہ تمام چیزیں جن کا آپ نے ذکر کیا وقت کے ساتھ ساتھ ایجادات ہیں جن سے دین کی ترویج کا کام لیا جارہا ہے لیکن ان چیزوں کے استعمال سے دین کے بنیادی احکامات پر کوئی فرق نہیں ہوا ان تمام اشیاء کے استعمال کی بنیاد پر ایک نئے دین کی ایجاد یا دین کے احکامات میں ہی تبدیلی قابل قبول نہیں کہلائے گی اس کی وجہ بھی آپ کا ہی اس پہلا جملہ ہے جس میں آپ خود ہی فرمارہے ہیں اقتباس:
پہلے اگر میں اپنا مفہوم واضح نہیں کرسکا تو اس کے معذرت چاہوں گا امید ہے اب بات آپ سمجھ گئے ہونگے جواب کا منتظر |
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,565
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
آپ حضرات کے ساتھ اس کتاب کو شئیر کرنا چاہ رہا ہوں۔ یاد رہے کہ یہ صرف آپ کے سامنے دوسرا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیئے ہے اور ضروری نہیں کہ میں اس نظریہ کا مکمل حامی ہوں۔ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,565
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
ایک خیال آج کل لوگوں میں عام پیدا ہوگیا ہے کہ طریقت، شریعت سے جدا کوئی چیز ہے۔ اس خیال کو پیدا کرنے میں جہاں طریقت کو بگاڑنے والے، کم علم اور دونمبری لوگوں کا سب سے بڑا ہاتھ ہے وہیں عوام الناس کی کم علمی بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ حقیقت میں طریقت اور سلوک اتباع شریعت کا ہی نام ہے۔تمام بڑے بزرگوں کا فرمانا بھی یہی ہے کہ وہی تصوف قابل قبول ہے جو کہ قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ اسی سلسلے میں حضرت شیخعبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "حکم یعنی شریعت اس حکمت و دانش کا پاؤں ہے۔ پس حکم کو مضبوط کیئے بغیر جو شخص اس علم باطنی کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے کیونکہ وہ حقیقت جس کی شہادت شریعت نہ دے زندیقیت یقنی گمراہی ہے"۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ "کتاب و سنت کے اتباع میں ہی سلامتی ہے۔ اور ان دونوں کے علاوہ کسی کی پیروی کرنا بربادی ہے۔ کتاب و سنت پر عمل کر کے ہی بندہ ولایت، ابدالیت اور غوثیت کے مقام تک ترقی کر سکتا ہے"۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ " اللہ کی طرف جانے والی ہر راہ بند ہے سوائے راہ سنت کے۔ تصوف پورا کا پورا اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر مبنی ہے۔ پس جو قرآن کا علم نہ رکھتا ہو اور حدیث سے واقف نہ ہوتو اس راہ تصوف میں اس کی اتباع نہ کی جائے" حضرت شیخعبدالقادی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ "ان لوگوں کی اتباع کرنا منع ہے جو شریعت کے پابند نہ ہوں کیونکہ پابندی شریعت ایک ایسی چیز ہے کہ جس کے سوا چارہ ہی نہیں اور وہی بنیاد ہے اس طریقت و سلوک کی" حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "اگر تم کسی کو کرامات والا دیکھو کہ ہوا میں اڑتا ہے، تو دھوکے میں نہ آجانا جب تک یہ نہ دیکھو کہ امرونہی، حفظ حدود اور پابندئی شریعت میں وہ کیسا ہے" ان واضح ہدایات کے باوجود ہم لوگ آج دیکھتے ہیں کہ لوگ ہر ایرے غیرے اور غیر شرعی کام کرنے والوں کے پیچھے پیر صاحب پیر صاحب کہہ کر بھاگ رہے ہوتے ہیں، جنہیں نہ تو نماز کے وقت کی فکر ہوتی ہے اور نہ محرم نا محرم کا احساس۔ یہ حال صرف جاہل لوگوں کا ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس کام مصروف ہیں۔ نیک اعمال اور شریعت کی پابندی کے بجائے آجکل آخرت کمانے کا شارٹ کٹ کسی پیر صاحب کی بیعت ہے۔ کسی پیر کی صحبت حاصل کرنے کے لیئے یہ نہ دیکھنا کہ شرعی احکام کے حساب سے وہ کیسا ہے، ایک غلط عمل ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کی کتاب ایک بار پھر آپ کی نظر ہے -- اس کو پڑھیں اور دیکھیں کہ انہوں نے طریقت کو کیسے واضح کیا ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (12-07-09), چیتا چالباز (12-07-09), خرم شہزاد خرم (12-07-09), سحر (12-07-09), عبداللہ آدم (01-12-10) |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
کمائي: 8,120,880,613,326
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ان واضح ہدایات کے باوجود ہم لوگ آج دیکھتے ہیں کہ لوگ ہر ایرے غیرے اور غیر شرعی کام کرنے والوں کے پیچھے پیر صاحب پیر صاحب کہہ کر بھاگ رہے ہوتے ہیں، جنہیں نہ تو نماز کے وقت کی فکر ہوتی ہے اور نہ محرم نا محرم کا احساس۔ یہ حال صرف جاہل لوگوں کا ہی نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس کام مصروف ہیں۔ نیک اعمال اور شریعت کی پابندی کے بجائے آجکل آخرت کمانے کا شارٹ کٹ کسی پیر صاحب کی بیعت ہے۔ کسی پیر کی صحبت حاصل کرنے کے لیئے یہ نہ دیکھنا کہ شرعی احکام کے حساب سے وہ کیسا ہے، ایک غلط عمل ہے۔
1500 فیصد سچ بات ہے شکریہ طاہر بھائی |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | Student (21-08-09), فیصل ناصر (12-07-09), چیتا چالباز (12-07-09), سحر (12-07-09), عبداللہ آدم (01-12-10) |
![]() |
| Tags |
| color, کتابوں, پوسٹ, قران, لوگ, نماز, مکمل, مسائل, آج, ایمان, اللہ, امیر, اسلام, استاد, بھائی, جاہل, حل, حال, حدیث, خرم, دیکھو, رمضان, عبادت, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| میری طبیعت بہت خراب ہے۔ | فرحان دانش | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 17 | 09-01-11 12:58 PM |
| رسمِ نکاح اور شریعت کی مخالفت | Hina4malik | کتاب گھر | 1 | 30-12-10 04:26 PM |
| رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت | ابن آدم | شادی / منگنی کی تقریبات اور انتظامات | 13 | 01-12-10 05:14 PM |
| بیعت الرضوان | طارق راحیل | سیاست | 0 | 02-01-09 09:39 PM |