واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


ماہ رجب المرجب کی بہاریں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-07-07, 08:26 PM   #1
ماہ رجب المرجب کی بہاریں
وجاہت ملک وجاہت ملک آف لائن ہے 18-07-07, 08:26 PM

السلام علیکم!
ماہ رجب شریف کے بارے میں جناب عادل سہیل صاحب کا مراسلہ نظر سے گزرا،
پڑھ کر انتہائی افسوس ہوا،کہ جناب عادل سہیل صاحب نے مسلمانوں کے صدیوں کے معمولات کو بغیر کسی تحقیق کے شرک و بدعت کا لبادہ پہنا دیا، اور ماہ رجب المرجب کے بارے میں اسلامی تصورات کو بہت زیادہ توڑ مروڑ کے پیش کیا ھے، خدا نا خواستہ میرا ارادہ اس انتہائی معتبر فورم پر فرقہ واریت یا انتہا پسندی پھیلانے کا نہیں بلکہ احقاق حق اور ابطال باطل کا مقدس فریضہ سرانجام دینا ھے،
امید ھے کہ معززقارئین غیر جانب دار ھو کر انصاف کی نظر سے کام لیتے ھوئے اپنے لیے صحیح سمت کا تعیین کرنے کی کوشش ضرور فرمائیں گے،
ماہ رجب المرجب المرجب کے بارے میں قران وحدیث کی روشنی میں مضامین،اصلاحی بیانات،اور اسلامک گریٹنگ کارڈ ملاحضہ فرمانے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، شکریہ!

لنک نکال دیا گیا ہے۔۔ منجانب منتظمین

وجاھت ملک۔

 
وجاہت ملک's Avatar
وجاہت ملک
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 26
مراسلات: 8
شکریہ: 0
3 مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 531
Reply With Quote
پرانا 18-07-07, 08:56 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں

سلام!
وجاہت صاحب ہمیں اپکے نقطہ نظر سے اتفاق ہے کہ قارئین کو اپنا ذہن خود سے بنانا چاہیے اور ان فورمز کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر اپ بھی سہیل عادل صاحب کی طرح اپنا نقطہ نظر اسی پوسٹ میں یا پھر اس پوسٹ میں بیان کرتے بجائے کے قارئین کو دوسری سائیٹس پر بیھجنے کے۔۔

فورمز کے قوانین کا احترام کرتے ہوئے یا تو اپ انہی کی پوسٹ میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں یا اپ اسی پوسٹ میں تمام تحقیقی مواد اور اسکی اسناد پیش کریں۔ اگر اپکی بحث یا تحقیقی مقالمہ پہلے ہی چل رہا ہو تو پھر اس کے ثبوت کے طور پر آپ کسی مستند سائٹ کا حوالہ دے سکتے ہیں مگر یہ صورتحال بھی زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔
فورمز کے قیام کا مقصد تحقیق اور حقائق کی درستگی کرنا ہے نہ کہ محتلف سائیٹس کے ایڈرس اکھٹے کرنا۔

امید ہے کہ اپ ہمارا نقطہ نظر سمجھ گے ہوں گے اور اپنا موقف انھی فورمز پر واضح کریں گے۔۔ یہ فورمز اپکے اور تمام دوسرے حضرات کے لیے ایک جیسے ہیں۔ ہمیں بے حد خوشی ہو گی اگر ہم دین کے معاملے میں کسی ایک بھی صح اور اچھی چیز تک پہنچ جائیں اور کسی ایک بھی برائی سے دین کو خالص کر سکیں اور میرا خیال ہے کہ اپ کا مطمع نظر بھی یہی ہو گا۔

والسلام

نوٹ: تمام ناظمین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں‌تمام کے تمام مضامین میں ویب سائٹس کے لنکس کے متعلقہ اس پالیسی کو مدنظر رکھا جائے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-07-07, 03:46 AM   #3
Member
اجنبی
 
فیصل شیخ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Pakistan(Shakargarh
عمر: 27
مراسلات: 51
کمائي: 444
شکریہ: 2
14 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں

ا س با رے میں میری پو سٹ پڑھ لیں اگر کسی کو ما ہ رجب کے روزوں سے مسلہ ہے تو مجھے ا مید ہے پڑھ کرسمجھ اجا ے گی شکر یہ
فیصل شیخ آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-07-07, 10:12 AM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں

اسکا لنک ہے۔۔
http://forums.com.pk/forums/index.php/topic,785.0.html
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-07-07, 12:38 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں

محترم وجاھت صاحب
السلام علیکم
گو کہ بھائی منتظمیں کی طرف سے دیا گیا جواب کافی ہے لیکن میں اُس میں صرف اتنا اضافہ کرتا ہوں کہ میرے لکھے مضمون میں کوئی بات جو قران اور صحیح حدیث کی دلیل کے بغیر ہو اُس کا علمی اور تحقیقی جواب دیجیئے ، نہ کہ صم بکم ہو کر سنی سنائی باتیں بیان فرمائیے جن کی صحت اور سچائی کا صرف گمان ہے اور وہ بھی صرف آپ کو ،
مجھے یقینا بہت خوشی ہو گی اگر میں آپ سے کوئی صحیح علمی سچی بات سیکھ سکوں او ریقینا یہ آپ کے لیے بھی آخرت میں بڑی خیر کا سبب ہو گا ۔
السلام علیکم
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-07-07, 11:53 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں


محترم وجاھت ملک صاحب ، میں آپ کو خاص طور پر الگ سے یہ مختصر سا مضمون ارسال کر رہا ہوں ، تا کہ آپ کو کچھ تو اندازہ ہو کہ بقول آپ کے “““ مسلمانوں کے صدیوں کے معمولات “““ کی بنیاد کیا ہے ؟

رجب کی کونسی بہاریں اور فضیلیتں
السلام علیکم ورحمۃُ اللہ ر برکاتہُ
جناب فیصل شیخ صاحب کی طرف سے ارسال کردہ مراسلہ یا یہ کہنا درست ہے کہ بطور مراسلہ ارسال کردہ ایک صفحہ
کی تصویر جِس میں تین حدیثیں ''' رجب ''' کی فضیلت کے بارے میں بیان کی ہیں اور اِن حدیثیوں کی بنا پر اپنے مراسلے کا
عنوان ''' رجب کی بہاریں اور فضلیتں ''' مقرر کیا ، نظر سے گذرا ، اُس میں نقل کردہ حدیثوں کو دیکھ کر واقعتا بہت دُکھ ہوا
کہ ہم لوگ اپنے دِین اور اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عِزت کے بارے میں کِس قدر لا پرواہی کا شکار ہو رہے ہیں
، کہ جو کچھ جہاں کہیں سے ملتا ہے اُس کی درستگی کی چھان پھٹک کیے بغیر اپنے اپنے حُسنِ ظن کی بنیاد پر نہ صرف اُسے
قُبُول کر لیتے ہیں بلکہ آگے بھی بڑھا تے جاتے ہیں،
اِس مراسلہ میں نقل کی گئی پہلی حدیث ''' اِمام السیوطی رحمۃُ اللہ علیہ ''' نے اپنی کتاب ''' الجامع الصغیر و زیادتہُ '''
میں نقل کی ہے ، نہ یہ اُن کی روایت ہے اور نہ ہی اُن کی خارج (دریافت ) کردہ ، بلکہ یہ حدیث ''' ابو محمد خلال ''' نے
''' فضائل رجب میں ''' عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ُ کی روایت کے طور پر خارج کی ، اور امام الالبانی نے اسے ضعیف یعنی کمزور ، ناقابل حجت قرار دِیا ہے ۔
دوسری حدیث جوفیصل شیخ صاحب کے مراسلے میں لکھی گئی ہے ، امام الطبرنی نے اپنی معجم الکبیر میں روایت کی ہے ،
اِس کی سند یہ ہے ''' حدثنا عَلِیُّ بن عبد العَزِیزِ ثنا مُعَلَّی بن مَہدِیٍّ المَوصِلِیُّ ثنا عُثمَانُ بن مَطَرٍ الشَّیْبَانِیُّ عن عبد الغَفُورِ
یَعنِی بن سَعِیدٍ عن عبد العَزِیزِ عن ابیہ قال عُثمَانُ وَکَانَت لاَبِیہِ صُحبَۃٌ قال :: قال رسول اللَّہِ صلی اللَّہُ علیہ وسلم ،،،،،،،،،،، '''
اِس سند میں عثمان بن مطر الشیبانی نامی راوی کے بارے میں ، امیر المؤمنین فی الحدیث ، امام محمد بن اسماعیل البخاری
نے فرمایا ''' اِس کی کنیت ابو الفضل تھی اور یہ منکر الحدیث ہے ، یعنی اِس کی حدیث نا قابل قبول ہے ''' التاریخ الکبیر ،
امام یحیی بن معین نے فرمایا ''' وہ کوئی چیز نہیں ہے ، یعنی اُس کی حدیث کی کوئی وقعت نہیں ہے ''' (١)
امام محمد بن الرازی نے فرمایا ''' منکر الحدیث ، ضعیف الحدیث ''' (٢)
امام ابو زرعہ نے فرمایا ''' ضعیف الحدیث ''' (٣)
(١) ،(٢)، (٣) بحوالہ ''' الجرح و التعدیل ''' عبدالرحمن بن امام محمد بن ادریس الرازی ، رقم الترجمۃ ٩٢٥،
امام النسائی نے اپنی کتاب ''' الضعفاء و المتروکین ''' میں فرمایا ''' ضعیف ''' ، رقم الترجمۃ ٤٢٠
امام ابن الجوزی نے اپنی کتاب ''' الضعفاء و المتروکین ''' میںاِس عثمان بن مطر ابو الفضل الشیبانی کے بارے فرمایا ''' یہ ثابت سے بھی روایات کرتا تھا اور(امام ) یحیی (بن معین )نے دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ''' اِس ( عثمان بن مطر ) کی حدیث نہ لکھی جائے ''' اور (امام) ابن المدینی نے ''' اسے بہت ہی زیادہ کمزور (یعنی نا قابل اعتبار) قرار دِیا ہے ''' اور (امام ) ابو داؤد ،(امام) النسائی ، (امام) ابو زرعہ ، اور (امام) الدار قطنی نے بھی ''' ضعیف یعنی کمزور ناقابل حجت ''' قرار دِیا ہے ، اور (امام) ابن حبان نے کہا ہے کہ ''' یہ (عثمان بن مطر ) با اعتماد راویوں کے نام پر حدیثیں گھڑ کر سناتا ہے ، اِس کی حدیث لینا ، نقل کرنا حلال نہیں ، سِوائے اِس کہ کہ اِس کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لیئے اِس کی روایت بتائی جائے '''
یہ بات مجھ جیسا طالب عِلم بھی جانتا ہے کہ امام ابن حبان روایات اور راویوں کو صحیح اور با اعتماد قرار دینے میں
نر می سے کام لیتے تھے ، اور اگر وہ اس راوی کے بارے میں اتنا شدید فیصلہ دیتے ہیں تو وہ راوی کِس قدر نا قابل اعتماد ہے
اور اُس کی روایت کی کیا وقعت اور حیثیت ہے ،
ایسے راوی کی روایت کو دیگر قوانین کی روشنی میں ''' موضوع ''' ''' منکر ''' یا ''' باطل ''' کہا جاتا ہے اور بہر صورت اُس کی روایت صحیح نہیں ہوتی اور قابل حجت نہیں ہوتی ،
وہ دِین اور عِبادت اللہ کے ہاں کیا درجہ رکھتے ہوں گے جِن کی بنیاد جھوٹی مَن گھڑت روایات پر ہو ؟؟؟
اِس حدیث کے دوسرے راوی جِس سے اِس ''' عثمان بن مطر الشیبانی ''' نے روایت کیا ہے وہ ہے ''' عبدالغفور ''' اِس کے بارے میں امام الرزای نے کہا ''' ضعیف ''' دیکھیے ''' الجرح و التعدیل ، ترجمہ ٢٩٣ ''' اور امام البخاری نے فرمایا ''' منکر الحدیث ، اس کو ترک کر دو ،،، یعنی اِس کی روایت کردہ حدیث منکر ہوتی ہے لہذا اِس کی حدیث مت لو ''' دیکھیے ''' التاریخ الکبیر ، ترجمہ ١٩٤٨ '''
علم الحدیث کے اماموں کے فیصلے آپ کے سامنے ہیں ، پھر بھی اگر آپ اِس قسم کی احادیث کو بنیاد بنا کر اپنا یا دوسرے
مسلمانوں کے عقیدے اور عِبادات کا راستہ مقرر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی لیکن یہ خیال فرما لیجیے گا کہ جھوٹ کا
انجام کیا ہوتا ہے ،
محترم کلمہ گو بھائیو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک سے کوئی کام یا بات منسوب کرنے سے پہلے بہت
اچھی طرح سے اُس کی صحت اور درستگی کا پتہ کرنا چاہیے ، محض سنی سنائی ، پڑہی پڑہائی بات کو آگے بڑھا دینے والا
اللہ کے ہاں جھوٹا قرارپاتا ہے
یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے [size=18pt]( کَفَی بِالمَرء ِ کَذِبًا اَن یُحَدِّث َ بِکُلِّ ما سِمِعَ ) ( کِسی کے ( اللہ کے ہاں ) جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اُسے آگے سنا دے )[/size] صحیح مسلم / حدیث ٥ ،
یہ تو کِسی بھی اور کِسی کے بھی متعلق بات کا معاملہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے بارے میں بات کرنے کے بارے میں فرمایا [color=blue]( مَن کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلیَتَبَوَّاْ مَقعَدَہُ من النَّارِ ) ( جِس نے جانتے بوجھتے ہوئے مجھ پر جھوٹ باندھا تو اُس شخص نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لیا )[/color] صحیح مسلم / حدیث ٣
جِس بات کی صحت اور درستگی کا عِلم نہ ہو وہ کِسی کی طرف منسوب کرنا جان بوجھ کر جھوٹ منسوب کرنانہیں تو اور
کیا ہے اور خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک سے ، کہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب بات
اور کام دِین سمجھ کر اپنایا جاتا ہے ، اور اگر وہ بات درست نہ ہو تو جو جو اُس پر عمل کرے گا اُس کے گناہ میں یہ
غلط بات پہنچانے والا بھی شامل ہو گا ، میں نے چند روز پہلے ایک مضمون بعنوان ''' بات ہی تو ہے ''' ارسال کِیا تھا
، فرصت ملے تو اُسے بھی پڑھ لیجیے گا اِنشاء اللہ فائدہ مند ہوگا ،
اب اگر کِسی کے دِل و دماغ میں ''' جانتے بوجھتے ہوئے ''' کی قید یا شرط کی وجہ سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو تو اُس کے لیے یہ دوسری روایت حاضر ہے ، اِس وضاحت کے ساتھ کہ ابھی بیان کی گئی روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ کی ہے اور یہ روایت سلمۃ رضی اللہ عنہ ُ ہے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ [size=18pt]( مَن یَقُل عَلَیَّ ما لم اَقُلْ فَلیَتَبَوَّاْ مَقعَدَہُ مِن النَّارِ) ( جِس نے مجھ سے وہ بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو اُس شخص نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لیا )[/size] صحیح البخاری / حدیث ١٠٩ ۔
فیصل شیخ صاحب کے مراسلے میں جو حدیث تیسرے نمبر پر نقل کی گئی ہے ، اُس کا کوئی حوالہ نہیں مل سکا ، اللہ جانے
عبدالحق صاحب جنہیں فیصل صاحب نے محقق علی الاطلاق لکھا ہے ، نے کہاں سے یہ حدیث نقل فرمائی ہے ،
میری فیصل شیخ صاحب سےدرخواست ہے کہ ابھی جو تین احادیث میں نے نقل کی ہیں اُن کو سامنے رکھتے ہوئے یہ وضاحت فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک سے منسوب اُن کے مراسلے میں درج شدہ تیسری حدیث اصلاً کون سی کتاب میں ہے اور اگر واقعتا یہ حدیث عبدالحق صاحب کی دریافت کردہ ہے تو اِس کی سند عنایت فرمائیں تا کہ اِس قول کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے سے پہلے اِس کی صحت کا پتہ چلایا جایا ، تا کہ ہم اُن میں سے نہ ہوں جائیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات منسوب کرتے ہیں جو اُن صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی ہوتی ۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دِلوں کو کِسی بھی ضد اور تعصب سے محفوظ رکھے اور واقعتا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت عطاء فرمائے جِس کی نتیجے میں ہم اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع کریں اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے کوئی بات یا کام منسوب کرنے سے پہلے اُس کی درستگی کا پتہ کر لیں اور اگر پتہ نہ چلے تو نہ ہی اُس کو اپنائیں اور نہ ہی اُس کو آگے بڑہائیں۔
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر ۔ ٢٠٠٧/٠٧/٢٢




عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-07-07, 12:03 AM   #7
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,784
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں

waaaaa
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-07-07, 12:11 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں

واہ ، کس کے لیے چچا ،
ڈر ہے بن پتےبن نہ جائے آہ
والسلام علیکم چاچا
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-07-07, 03:04 PM   #9
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,428
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: ماہ رجب المرجب کی بہاریں

ماشاء اللہ۔ تحقیقی مضمون ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, php, فورمز, گمان, پوسٹ, پسندیدہ, ویب, قران, لوگ, نظر, مکمل, ماہ رجب, محبت, بھائی, جھوٹ, جواب, حدیث, حضرات, دریافت, راستہ, صورتحال, صحیح, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger