واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


::: ماہ صفر اور ہم ::: ماہ صفر منحوس !!!؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-02-08, 06:08 PM   #1
::: ماہ صفر اور ہم ::: ماہ صفر منحوس !!!؟؟؟
عادل سہیل عادل سہیل آن لائن ہے 03-02-08, 06:08 PM

:::::: ماہِ صفر اور ہم :::::::ماہِ صفر منحوس ہے ؟؟؟
ماہِ صفر ، اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے مہینوں میں سے ایک مہینہ ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اِس مہینے کی نہ کوئی فضلیت بیان نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جِس کی وجہ سے اِس مہینے میں کِسی بھی حلال اور جائز کام کو کرنے سے رُکا جائے ، ، جو مہینے فضلیت اور حُرمت والے ہیں اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اِنَّ الزَّمَانَ قَد استدَارَ کَھیئتِہِ یَومَ خَلَق َ اللَّہ ُ السَّمَوَاتِ وَ الارضَ السَّنَۃُ اثنا عَشَرَ شَھراً مِنھَا اربعَۃَ حُرُمٌ ، ثَلاثٌ مُتَوالیاتٌ ، ذو القعدہ ذوالحجۃِ و المُحرَّم و رجبُ مُضر الَّذِی بین جُمادی و شَعبان ) (سا ل اپنی اُسی حالت میں پلٹ گیا ہے جِس میں اُس دِن تھا جب اللہ نے زمنیں اور آسمان بنائے تھے ، سال بار ہ مہینے کا ہے جِن میں سے چار حُرمت والے ہیں ، تین ایک ساتھ ہیں ، ذی القعدہ ، ذی الحج ، اور مُحرم اور مُضر والا رجب جو جمادی اور شعبا ن کے درمیان ہے ) صحیح البُخاری /حدیث ٧٩١٣ ، ٢٦٦٤ ،
دو جہانوں کے سردار ہمارے محبوب مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سال کی بارہ مہہینوں میں سے چار کے بارے میں یہ بتایا کہ وہ چار مہینے حُرمت والے ہیں یعنی اُن چار مہینوں میں لڑائی اور قتال نہیں کرنا چاہئیے ، اِس کے عِلاوہ کِسی بھی اور ماہ کی کوئی اور خصوصیت بیان نہیں ہوئی نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے !!!! حیرانگی کی بات ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی خبر نہ ہونے کے باوجود کچھ مہینوں کو با برکت مانا جاتا ہے اور من گھڑت رسموں اور عِبادت کے لیئے خاص کیا جاتا ہے اور کُچھ کے بارے میں یہ خیال کِیا جاتا کہ اُن میں کوئی خوشی والا کام ، کاروبار کا آغاز ، رشتہ ، شادی بیاہ ، یا سفر وغیرہ نہیں کرنا چاہیئے ، حیرانگی اِس بات کی نہیں کہ ایسے خیالات کہاں سے آئے ، یہ تو معلوم ہے جِس کا ذِکر اِنشاء اللہ ابھی کروں گا ، حیرانگی اِس بات کی ہے کہ جو باتیں اور عقیدے کِسی ثبوت اور سچی دلیل کے بغیر کانوں ، دِلوں اور دِماغوں میں ڈالے جاتے ہیں اُنہیں تو فوراً قُبُول کر لِیا جاتا ہے لیکن جو بات اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بتائی جاتی ہے اور پوری تحقیق کے ساتھ سچے اور ثابت شُدہ حوالہ جات کے ساتھ بتائی جاتی ہے اُسے مانتے ہوئے طرح طرح کے حیلے بہانے ، منطق و فلسفہ ، دِل و عقل کی کسوٹیاں اِستعمال کر کر کے راہ فرار تلاش کرنے کی بھر پُور کوشش کی جاتی ہے اور کچھ اِس طرح کہا لکھا جاتا ہے کہ ::: اجی یہ بات دِل کو بھاتی نہیں ::: کچھ ایسا ہے کہ عقل میں آتی نہیں !!!!
افسوس اُمتِ مُسلّمہ روایات میں کھو گئی ::::: مُسلّم تھی جو بات خُرافات میں کھو گئی
اِن ہی خُرافات میں سے ماہ ِ صفر کو منحوس جاننا ہے ، پہلے تو یہ سُن لیجیئے کہ اللہ تعالیٰ نے کِسی چیز کو منحوس نہیں بنایا ، ہاں یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور حِکمت ہے کہ وہ کِس چیزمیں کِس کے لیئے بر کت دے اور کِس کے لیئے نہ دے ، آئیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان آپ کو سُناؤں ، جو ہمارے اِس موضوع کے لیئے فیصلہ کُن ہے ، عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا ذِکر کِیا گیا تو فرمایا ( اِن کانَ الشؤم فَفِی الثَّلاثۃِ ، المَراء ۃِ و الفُرسِ الدارِ ) ( اگر نحوست( کِسی چیز میں) ہوتی تو اِن تین میں ہوتی،عورت ، گھر اور گھوڑا ) صحیح البُخاری / کتاب النکاح / باب ١٨ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٢٥ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ( اگر نحوست کِسی چیز میں ہوتی ) صاف بیان فرماتا ہے کہ کوئی چیز منحوس نہیں ہوتی اور یہ بات بھی ہر کوئی سمجھتا ہے کہ جب ''' کوئی چیز ''' کہا جائے گا تو اُس میں مادی غیر مادی ہر چیز شامل ہو گی یعنی وقت اور اُس کے پیمانے بھی شامل ہوں گے، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس فرمان مُبارک سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ نحوست کِسی چیز کا ذاتی جُز نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جِس چیز کو جِس کے لیئے چاہے برکت والا بنائے اور جِس کے لیئے چاہے بے برکتی والا بنائے ، یہ سب اللہ کی حکمت اور مشیئت سے ہوتا ہے نہ کہ کِسی بھی چیز کی اپنی صفت سے ، دیکھ لیجیئے کوئی دو شخص جو ایک ہی مرض کا شِکار ہوں ایک ہی دوا اِستعمال کرتے ہیں ایک کو شِفاء ہو جاتی ہے اور دوسرے کو اُسی دوا سے کوئی آرام نہیں آتا بلکہ بسا اوقات مرض بڑھ جاتا ہے ، کئی لوگ ایک ہی جگہ میں ایک ہی جیسا کارابار کرتے ہیں کِسی کوئی فائدہ ہوتا ہے کِسی کو نُقصان اور کوئی درمیانی حالت میں رہتا ہے ، کئی لوگ ایک ہی جیسی سواری اِستعمال کرتے ہیںکِسی کا سفر خیر و عافیت سے تمام ہوتا ہے اور کِسی کا نہیں ، اِسی طرح ہر ایک چیز کا معاملہ ہے ، یہاں یہ بات بھی اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کی ہے کہ برکت اور اضافے میں بہت فرق ہوتا ہے ، کِسی کے لیئے کِسی چیز میں اضافہ ہونا یا کِسی پاس کِسی چیز کا زیادہ ہونا اِس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ اُسے برکت دی گئی ہے ، عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ کافروں ، اور بدکاروں کو مسلمانوں اور نیک لوگوں کی نسبت مال و دولت ، اولاد ، حکومت اور دُنیاوہ طاقت وغیرہ زیادہ ملتی ہے ، تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اُنہیں برکت دی گئی ہے ، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے اُن پر آخرت کا مزید عذاب تیار کرنے کا سامان ہوتا ہے ، کہ ، لو اور خُوب آخرت کا عذاب کماؤ ، یہ ہمارا اِس وقت کا موضوع نہیں ہے لہذا اِس کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جا رہی ،
بات صفر کے مہینے کی ہو رہی تھی کہ نہ تو اِس کی کوئی فضلیت قُران و سُنّت میں ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جِس کی وجہ سے اِس مہینے کو بے برکت یا بُرا سمجھا جائے ، جی ہاں ، اِسلام سے پہلے عرب کے کافر اِس مہینے کومنحوس اور باعثِ نُقصان سمجھتے تھے ، اور یہ سمجھتے تھے کہ صفر ایک کیڑا یا سانپ ہے جو پیٹ میں ہوتا ہے اور جِس کے پیٹ میں ہوتا ہے اُس کو قتل کر دیتا ہے اور دوسروں کے پیٹ میں بھی مُنتقل ہو جاتا ہے ، یعنی چُھوت کی بیماری کی طرح اِس کے جراثیم مُنتقل ہوتے ہیں ، اور اِسی لیئے اپنے طور پر ایک سال چھوڑ کر ایک سال میں اِس مہینے کو محرم سے تبدیل کر لیتے اورمحرم کی حُرمت اِس پر لاگو کرتے کہ شایدحُرمت کی وجہ سے صفر کی نحوست کم یا ختم ہو جائے،اور دوسرا سبب یہ ہوتا کہ محرم کی حُرمت صفرپر لاگو کرکے محرم کو دوسرے عام مہینوں کی طرح قرار دے کر اُسمیں وہ تمام کام کرتے جو حُرمت کی بنا پر ممنوع ہوتے ، ( تفصیلات کے لیئے دیکھیئے ، فتح الباری شرح صحیح البُخاری / الاِمام الحافظ ابن حَجر العسقلانی ، عُمدۃ القاری شرح صحیح البُخاری / عِلامہ بدر الدین العینی، شرح اِمام النووی علیٰ صحیح مُسلم ، عَونُ المَعبُود شرح سُنن ابی داؤد /علامہ شمس الحق العظیم آبادی ،الدیباج علیٰ صحیح مُسلم /امام السیوطی ، فیض القدیر شرح جامع الصغیر / عبدالرؤف المناوی )
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا اِن سب اور اِن جیسے دوسرے عقیدوں کو غلط قرار فرمایا ،
ابو ھُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لا عِدوِی و لاھامۃَ و لا طیرۃَ و لا صفر )( نہ ( کوئی ) چُھوت ( کی بیماری )ہے ، نہ ھامہ ہے ، نہ پرندوں ( یا کِسی بھی چیز )سے شگون لینا (کوئی حقیقت رکھتا) ہے ، نہ صفر ( کوئی بیماری یا نحوست والا مہنیہ ہے اور نہ اِس کی کِسی اور مہینہ کے ساتھ تبدیلی )ہے ) صحیح البُخاری / کتاب الطب / باب ٤٤ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٢٠ (اِلفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یہ حدیث دیگر صحابہ سے بھی روایت کی گئی ہے اور تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں موجود ہے ، میں نے حوالے کے لیئے صِرف صحیح البُخاری اور صحیح مُسلم پر اِکتفاء کِیا ہے کہ اِن کے حوالے کے بعد کِسی اور حوالے کی ضرورت نہیں رہتی ، اور قوسین () کے درمیان جو اِلفاظ لکھے گئے ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں لیکن سب کے سب اِن احادیث کی شرح سے اور جِن کتابوں کا حدیث کے ساتھ حوالہ دِیا گیا ہے اُن میں سے لیئے گئے ہیں اپنی طرف سے نہیں لکھے گئے )
تو عرب صفر کے مہینے کے بار ے میں منحوس ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے ، افسوس کہ اِسی قِسم کے خیالات آج بھی مُسلمانوں میں پائے جاتے ہیں ، اور وہ اپنے کئی کام اِس مہینے میں نہیں کرتے ، آپ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس مہینے کے بارے میں پائے جانے والے ہر غلط عقیدے کو ایک حرفِ میں بند کر کے مُسترد فرما دِیا ، سال کے دیگر مہینوں کی طرح اِس مہینے کی تاریخ میں بھی ہمیں کئی اچھے کام ملتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی مشیئت سے اُسکے بندوں نے کیئے ، مثلاً ،
::::: ہجرت کے بعد جہاد کی آیات اللہ تعالیٰ نے اِسی مہینے میں نازل فرمائیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حُکم پر عمل کرتے ہوئے پہلا غزوہ اِسی مہینے میں کِیا ، جِسے غزوہ '' الابوا '' بھی کہا جاتا ہے اور '' ودّان '' بھی ،
::::: اِیمان والوں کی والدہ مُحترمہ خدییجہ بنت الخولید رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی مُبارک اِسی مہینے میں ہوئی ،
::::: خیبر کی فتح خیبر اِسی مہینے میں ہوئی ،
یہ سب جاننے کے بعد بھلا کون مُسلمان ایسا ہو گا جو اِس مہینے کو یا کِسی بھی مہینے کو منحوس جانے اور کوئی نیک کام کرنے سے خود کو روکے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اور اُس پر عمل کرتے ہوئے ہمارے خاتمے فرمائے ،
ابھی جو حدیث نقل کی گئی اُس میں ''' ھامہ ''' کا ذِکر تھا ، بہت اختصار کے ساتھ اُس کا معنی بیان کرتا چلوں ، یہ بھی عربوں کے غلط جھوٹے عقائد میں سے ایک تھا ، کہ جِسے قتل کیا جاتا ہے اس کی روح اُلّو بن جاتی ہے اور اپنا انتقام لینے کے لیئے رات کو نکلتی ہے ، اور جب تک اُس کا اِنتقام پورا نہیں ہوتا وہ اُلّو بن کر راتوں کو گھومتی رہتی ہے ، اور سانپوں کے بارے میں بھی ایسا ہی عقیدہ پایا جاتا تھا ، اور کُچھ اور معاشروں میں اِسی قِسم کا عقیدہ چمگادڑ وغیرہ کے بارے میں پایا جاتا ہے ، عرب اپنے اِس باطل عقیدے کی وجہ سے اُلّو کی آواز کو بھی منحوس جانتے اور اُس کو دیکھنا بھی بدشگونی مانتے ، سانپوں کے انتقام ، چمگادڑوں اور اُلوؤں کے عجیب و غریب کاموں اور قوتوں اور اثرات کے بارے میں بے بُنیاد جھوٹے قصے آج بھی مروج ہیں اور اُسی طرح کے جھوٹے عقائد بھی لوگوں کے دِلوں و دِماغوں میں گھر بنائے ہوئے ہیں ،
جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن تمام عقائد کو باطل قرار دِیا ہے جیسا کہ ابھی بیان کِیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ اِن مختصر معلومات کو پڑھنے والوں کی ہدایت کا سبب بنائے اور میری یہ کوشش قُبُول فرمائے اور میری لیئے آخرت میں آسانی اور مہربانی اور مغفرت کا سبب بنائے ۔طلبگارِ دُعا ، عادِل سُہیل ظفر ۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by عادل سہیل; 06-01-11 at 08:21 PM..

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1672
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
J.S (26-01-10), Miss Khan (29-12-11), sahj (26-01-10), فیصل ناصر (01-02-09), محمد یاسرعلی (06-01-11), مرزا عامر (29-12-11), waseemsv (04-02-09), امہ احمد (27-01-10), خالد احمد صدیقی (15-04-08), راجہ اکرام (24-01-10), رضی (06-02-12), شکاری (05-02-12), طاھر (23-01-10), عارف اقبال (28-01-10), عبداللہ حیدر (01-02-09)
پرانا 15-04-08, 05:21 AM   #2
Senior Member
مقبول
 
خالد احمد صدیقی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 174
کمائي: 815
شکریہ: 664
50 مراسلہ میں 112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ::: ماہ صفر اور ہم ::: ماہ صفر منحوس !!!؟؟؟

مفید تحریر ہے
خالد احمد صدیقی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے خالد احمد صدیقی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-02-09), عبداللہ حیدر (01-02-09)
پرانا 31-01-09, 11:33 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ::: ماہ صفر اور ہم ::: ماہ صفر منحوس !!!؟؟؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
مندرجہ بالا مضمون کا نیا برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-02-09), عبداللہ حیدر (01-02-09)
پرانا 23-01-10, 11:32 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
1431 ہجری کے ماہ صفر کا آغاز ہو چکا ہے ،ماہ صفر سے متعلق ان معلومات کی یاد دہانی کے لیے یہ سلام پیش کیا ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (24-01-10), رضی (06-02-12)
پرانا 23-01-10, 11:46 PM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ عادل بھائی یادہانی کا
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
ام طلحہ (28-01-10)
پرانا 24-01-10, 11:14 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
شکریہ عادل بھائی یادہانی کا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، فیصل بھائی ، آپ کے شکریے سے زیادہ خوشی آپ کو اپنے پاس دیکھ کر ہوئی ، تشریف آوری پر شکریہ والسلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (26-01-10), فیصل ناصر (24-01-10)
پرانا 25-01-10, 12:00 AM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جزاک اللہ خیر مکرمی عادل سہیل بھائی
اللہ ہمیں عقل صحیح کو استعمال کرنے اور نقل صحیح پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (26-01-10), عبداللہ حیدر (26-01-10)
پرانا 25-01-10, 02:21 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
پہلی بات :- آپ نےجس کو نحوست سے تعبیر کرکے ایک لمبا سا مراسلہ لکھ دیا ہے وہ نحوست نہی بلکہ پریشانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(اگر اپ نے دونوں کانوں سے سنا ہو؟ )
دوسری بات :- یہ عقیدہ نہی ہے۔ بلکہ احتیاط ہے
تیسری بات :- اپ نے کہانی سنائی ہے کہ عرب میں لوگ اس ماہ کو ایسا جانتے تھے ویسا جانتے تھے ۔ اگر ایسا ہے تو کیا وجہ ہے کہ جو لوگ فارس میں رہتے ہیں وہ ایسا کیوں مانتے ہیں کہ یہ ماہ صفر زیادہ پریشان کن ہے ؟؟ وہ کیوں عربیوں کی رسمیں نبھانے لگے ؟؟
ہندستاں مٰیں اگر مان بھی لیں کہ یہاں جہالت زیادہ تھی تب بھی عرب کے رسم و رواج کو اتنی کیوں اہمیت دیں گئے کہ اس پاس کو لوگوں سے ہی دشمنی کر بیٹھیں یا قرآن و حدیث کو جھٹلانے لگیں
۔
یہ ماہ صفر پریشانی سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اس کو وجہ کتابوں میں کہی نہی لکھیں کہ میں کہوں کہ یہ لو دلیل وہ لو دلیل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اپ خود بلکہ جو بھی اپ کے ساتھ ہے اس سے کہیں کہ اس ماہ صفر کے پہلے عشرے کی پریشانیاں نوٹ کرنا شروع کردیں ۔ ۔ ۔ آخر ماہ ہمیں لکھ دیں کہ بھی تم نے جو کہا تھا وہ جھوٹ تھا ۔ ۔ اور اب اپ یعنی (رئحان حیدر) اس بات کو لکھیں کہ یہ ماہ پریشانیوں کا نہی تھا اور مہینوں کی نسبت ۔
(وجہ کیا ہے اس ماہ کے ایسے ہونے کی وہ یہ ہے کہ جناب سکینہ (ع) بنت امام حیسن (ع) قید میں اخری وقت گزار رہیں تھیں ۔ اور ان کا انتقال بہت ہی پر آشوب طریقے سے ہوا ۔ اس ماہ میں زیادہ ہسنا ، زیادہ تفریح کرنا وغیرہ اس لیے منع کیا جاتا ہے )
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (28-01-10)
پرانا 25-01-10, 02:21 PM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by حیدر Rehan; 25-01-10 at 02:27 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 25-01-10, 07:09 PM   #10
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ریحان حیدر سے سوال محمد نے کس ماہ میں دنیا سے پردہ فرمایا ِ؟
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
sahj (26-01-10), مرزا عامر (29-12-11), مسٹر شیف (26-01-10), ام طلحہ (28-01-10), عادل سہیل (27-01-10)
پرانا 26-01-10, 09:12 AM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
ریحان حیدر سے سوال محمد نے کس ماہ میں دنیا سے پردہ فرمایا ِ؟
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
نبی آخرزمان حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم نے ماہ صفر کے آخری دنوں میں 27 صفر کو اس دنیا سے پردہ فرمایا ۔
کیونکہ مدینہ میں ایک انتشار سا پھیل گیا تھا یہ خبر آگ کی طرح پھیل رہی تھی اور ہر سمت سے لوگ انے لگے عرب کے تمام علاقوں سے قافلے چلنے لگے تو اس خبر کو دبانا پڑا کہ ایسا نہی ہوا ان کی صحت چونکہ خراب ہورہی تھی اب وہ سہی ہوگی ہے اور یہ خبر دور دراز علاقوں میں بھیجوائی گی ۔قافلے جو نہی چلے تھے رک گئے ۔
کچھ لوگوں نے تو باقائدہ گلیوں میں علان کیا کہ اگر کسی نے کہا کہ حضرت محمد (ص) انتقال کرگئے ہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) بس یہ سب اسی بات کا نتیجہ و ثبوت ہے ۔
جن لوگوں کو صحتیابی کی خبریں پہچادی گی ان علاقوں اور شہروں میں باقاعدہ خوشی منائئ گی ان کی صحتیابی کی جو کہ اج اپ بھی دیکھ سکتے ہیں کچھ شہروں اور ملکوں میں آخری بدھ کے نام سے مٹھایاں تقسیم ہوتی ہیں ۔
پھر جب حالات کنٹرول ہوگئے تو باقاعدہ علان کیا گیا کہ نبی آخر حضرت محمد (ص) کا انتقال ہوگیا ہے جو کہ تقریبا دو ہفتہ کے بعد تھا ۔ اور یوں 12 ربیع الاول تہہ پائی لیکن چونکہ اہلیبت سہی بات جانتے تھے اس لے انھونے اپنے چاہنے والوں تک خبر پہچائی اور وہ 27 صفر ہے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-01-10, 11:42 AM   #12
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
لیکن چونکہ اہلیبت سہی بات جانتے تھے اس لے انھونے اپنے چاہنے والوں تک خبر پہچائی اور وہ 27 صفر ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت
اہل بیت کے چاھنے والے کتنے تھے؟ کیا آپ بتانا پسند کریں گے؟ چار تھے یا پانچ؟
اور باقی کے بارے میں کیا سمجھتے ھو؟
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-01-10, 12:21 PM   #13
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : sahj مراسلہ دیکھیں
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت
اہل بیت کے چاھنے والے کتنے تھے؟ کیا آپ بتانا پسند کریں گے؟ چار تھے یا پانچ؟
اور باقی کے بارے میں کیا سمجھتے ھو؟
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے اسی حالت میں کہ دل نہی چاہتا اسی بات لکھنے کو ۔مگر جب اپ نے پوچھا ہی ہے تو بس اندازہ کرلیں باقئ میں کچھ نہی لکھوں گا ثبوت بہت مل جائیں گئے اگر اللہ کے ہی بندے بنا چاہتے ہیں تو اور اگر کلمہ پڑھتے ہیں تو :۔-
نبی آخر زمان حضرت محمد صلی علیہ والہ وسلم کے جنازے میں کل نو ( 9 ) افراد شامل تھے ۔
باقی کے بارے میں :-
(صرف دو مہینے پہلے یعنی حجتہ الودع (حج سے واپسی پر ) تقریبا سوا لاکھ مسلمان رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھے۔

اپنی توانائیاں اسلام کے لے، اللہ کے لیے رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم کے لئے خرچ کریں ۔ کن خرافات میں رہنے لگے ہیں اور الٹے سیدھے مراسلے لکھتے ہیں الٹے سیدھے سوالات کرتے ہیں اپنا اور ہمارا وقت اور توانائی برباد کررہے ہیں ) جانتا ہوں کہ کئی لاکھ کتابیں ہیں اپنی اپنی سوچ ہے ، اچھے برے لوگ گزرے اور ہم کیا کیا پڑھیں کس کو سہی سمجھیں کس کو غلط سمجھیں ، بہت مشکل کام ہے ۔ بہت مشکل کام ہے ۔
اس لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ بس توبہ کریں اور لوگوں سے بھی یہی کہیں کہ توبہ ہی سب سے بہتر نجات کا راستہ ہے ۔ اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تویہاں سے شروع کریں قرآن سے منافق لوگوں کے بارے میں جتنی بھی آیات ہیں جمع کریں۔ (یہ کام اپ کبھی نہی کریں گئے ) پھر بھی کوشش کریں اگر مسلمان ہیں اور منافق نہی ہیں تو تاکہ سب پتہ چل جاے گا۔۔۔ اپ کا فرض بنتا ہے ۔ اپنے سے چھوٹوں کو سیدھا راستہ دکھانے کا ۔

Last edited by حیدر Rehan; 26-01-10 at 12:24 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-01-10, 01:34 PM   #14
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس کلام اللہ میں اللہ کی طرف سے ایمان والوں کے لئے خوشخبری کافی ھے،
رہے جلنے والے اور جھوٹی تاریخ کو حجت ماننے والے قرآن و حدیث چھوڑ کر، ان ظالموں سے اللہ خوب نمٹ لے گا،

110:1 إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ
جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)

110:2 وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں

110:3 فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے

اب کوئی قرآن کو بھی نہ مانے تو کیا کرسکتے ہیں؟
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-01-10, 01:35 PM   #15
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,981
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,629 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس کلام اللہ میں اللہ کی طرف سے ایمان والوں کے لئے خوشخبری کافی ھے،
رہے جلنے والے اور جھوٹی تاریخ کو حجت ماننے والے قرآن و حدیث چھوڑ کر، ان ظالموں سے اللہ خوب نمٹ لے گا،

110:1 إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ
جب خدا کی مدد آ پہنچی اور فتح (حاصل ہو گئی)

110:2 وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا
اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں

110:3 فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ معاف کرنے والا ہے

اب کوئی قرآن کو بھی نہ مانے تو کیا کرسکتے ہیں؟
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
color, com, کتابوں, لوگ, معلوم, آبادی, آج, اللہ, بھائی, تلاش, تحریر, حدیث, خبر, دُعا, رات, سفر, سال, سردار, شخص, عقل, صفت, صفر, صاف, صحیح, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بوس تو پھر بوس ہوتا ہے۔ احمد بلال دلچسپ اور عجیب 4 05-01-11 04:23 PM
انصاف کیا ہے ؟؟؟ خرم شہزاد خرم عمومی بحث 20 15-05-10 02:23 PM
قدوس بھائی کی خبر؟؟؟ اکرم آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 10 29-06-09 01:50 PM
کنجوس کون......!!!؟؟؟ اسد لطیف قہقہے ہی قہقے 1 22-04-09 04:23 PM
وہ لمحہ جب عبدالقدوس ، قلاباز عبدالقدوس بن گیا۔۔۔۔مگرکیوں لاسلکی گپ شپ 59 09-08-08 06:46 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger