| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1048
|
||||
| 17 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | rabab (28-04-10), sahj (29-04-10), shafresha (03-03-10), فیصل ناصر (29-04-10), ھارون اعظم (06-03-10), نصیرحیدر (21-04-10), منتظمین (03-03-10), مباح (06-03-10), محمد عاصم (16-05-10), مسٹر شیف (03-03-10), احمد بلال (01-05-10), سحر (05-03-10), شریف (04-03-10), ضِرار Derar (29-04-10), طارق راحیل (04-03-10), عادل سہیل (04-03-10), عبداللہ آدم (03-03-10) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کرین۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اور حال یہ ہے کہ
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے۔ میرے والد صاحب ایک دفعہ ایسی ہی کسی بات پر کھنے لگے کہ لوگ نیکی بھی وہ کرنا چاہتے ہیں جسکا فائدہ انکی اپنی ذات کو ہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ثواب بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
جی عبداللہ آدم بھائی، ہمارے رویوں کا اندازہ ایک اور واقعے سے بھی ہوتا ہے جو اسی مسجد میں پیش آیا تھا۔ اللہ کا ایک بندہ جو کسی عرب ملک سے وطن واپس آیا تھا، اس نے دیکھا کہ نمازی فرض نماز شروع ہونے تک فارغ بیٹھے رہتے ہیں یا بات چیت کرتے ہیں۔ اس نے زر کثیر صرف کر کے قرآن مجید کے بہت سے باترجمہ نسخے اور رحل مسجد میں لا کر رکھے اور نمازیوں سے عرض کی کہ فارغ بیٹھنے کی بجائے ترجمہ قرآن پڑھیں یا تلاوت کریں۔ بمشکل ایک ہفتے بعد اعتراض ہونے لگا کہ مصحف کی طرف پیٹھ کرنا جائز نہیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس واہیات خیال کے حامی تھے۔بہت سمجھایا کہ پیٹھ کرنے کا مطلب اس پر عمل نہ کرنا ہے لیکن Public Opinion بڑی چیز ہے۔ انتظامیہ نے چند باکس بنوا کر لٹکائے، مصحف ان میں رکھ کر اوپر سے ڈھکنا بند کر دیا اور اعلان کیا کہ جس نے پڑھنا ہو وہ باکس میں سے نکال کر پڑھ سکتا ہے۔ اب کون نکالتا ہے اور کون پڑھتا ہے۔ ممتاز مفتی سے اختلاف رکھنے کے باوجود مجھے ان کا ایک قول بڑا پسند ہے کہ "میری بیوی قرآن کا اتنا ادب کرتی ہے کہ اس کا ادب مجھے قرآن نہیں پڑھنے دیتا"۔
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ایسی معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی کرنا جو کہ دین کی راہ سے داخل ہوئی ہوں یقینا بڑی ہمت کا کام ہے ، اللہ تعالی آپ کو مزید ہمت دے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 456
کمائي: 10,007
شکریہ: 147
332 مراسلہ میں 834 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج کل تو بڑے بڑے اسپیکر مساجد کی شان بنے ہوئے ہیں ۔ جس مسجد کی آواز دور تک جائے وہ شاندار ۔ یہاں تک کہ نماز میں قران کی تلاوت بھی اسپیکر کے زریعے دور دور تک جاتی ہے۔ جس سے پڑھنے والا بھی گنہگار ہوتا ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شریف کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
آپ نےبڑی اہم بات کی ہے۔ تلاوت کرنے والے کو چاہیے کہ دوسروں کی مصروفیات میں خلل نہ ڈالے۔ امام ابن الجوزیؒ کے زمانے میں لاوڈ سپیکر نہیں تھے لیکن کچھ قراء نے مسجد کے میناروں پر چڑھ کر بآواز بلند تلاوت کرنے کا وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ انہوں نے اس پر اپنی کتاب "تلبیس ابلیس" میں لکھا ہے: وقد لبس إبليس على قوم من القراء فهم يقرأون القرآن في منارة المسجد بالليل بالأصوات المجتمعة المرتفعة الجزء والجزأين فيجتمعون بين أذى الناس في منعهم من النوم وبين التعرض للرياء "شیطان نے قراء میں سے کچھ لوگوں کو (اچھائی اور برائی کے معاملے میں) اس طرح دھوکے میں ڈال دیاہے کہ وہ لوگ (ایک غلط کام کواچھاسمجھ کر بجا لاتے ہیں یعنی) رات کو مسجد کے میناروں پر چڑھ جاتے ہیں اور ہم آواز ہو کر اور بلند آواز سے قرآن کا ایک یا دو پارےپڑھتے ہیں۔ اس طرح وہ دو (قباحتوں) کے مرتکب ہوتےہیں، لوگوں کی نیند میں خلل ڈال کر انہیں تکلیف دینا اور اپنے آپ کو ریا اور دکھاوے کے خطرے میں ڈالنا۔" ایسی ہی صورتحال آج بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے کبھی کوئی صاحب تلاوت شروع کر دیتے ہیں، کبھی نعت شروع ہو جاتی ہے، کبھی زبردستی کا وعظ سنایا جانے لگتا ہے اور کبھی "ذکر" کی محفل گرمائی جاتی ہے۔ جس سے لوگ تنگ ہوتے ہیں اور دین سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ عمومًا ایسی حرکات کرنے والے علماء نہیں بلکہ کم دینی علم رکھنے والے مخلص لوگ ہوتے ہیں جو اپنی دانست میں دین کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ انہیں حکمت اور محبت کےساتھ سمجھایا جایا تو بہت سوں کو اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی اصلاح فرمائے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 05-03-10 at 09:33 PM. |
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (29-04-10), فیصل ناصر (05-03-10), ھارون اعظم (06-03-10), مباح (06-03-10), محمد عاصم (16-05-10), احمد بلال (01-05-10), شریف (05-03-10), ضِرار Derar (29-04-10), عادل سہیل (05-03-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 456
کمائي: 10,007
شکریہ: 147
332 مراسلہ میں 834 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسپیکر کا استعمال ہو ضرور ہو بس جتنے مسجد میں لوگ ہو ان تک آواز پہنچانے کے لیئے۔ چاہے قراۃ ہو ۔حمد و نعت ہو ۔ یا صلوۃ ہو
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شریف کا شکریہ ادا کیا | sahj (29-04-10), عبداللہ حیدر (05-03-10) |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کیا آپ کو پتہ ہے کہ مسجدوں کے نزدیک گھروں کی قیمتیں گر جاتی ہیں؟
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، قیمتوں کا تو پتہ نہیں لیکن ایک عزیز کے گھر رات گزارنے کا اتفاق ہوا جن کے ہمسائے میں مسجد تھی۔ مولوی صاحب نے بے وقت تقریر شروع کر دی اور سپیکر پوری آواز سے کھلے تھے۔ کان پڑی سنائی نہ دیتی تھی۔
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے سوال کا جواب آپ نے فراہم کر دیا ہے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,347
کمائي: 154,197
شکریہ: 4,887
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہمارے گر سے دع چار قدم آگے ایک اور گھر ہے اور اس گھر ساتھ ہی
ایک مسجد ہے۔۔۔۔ اب گھر والوں نے مسجد میں لوڈ سپیکر کی آوازوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اپنا ہی گھر 10 لاکھ میں بھیج دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جس نے وی گھر خریدا ہے ۔۔۔ اس نے اپنی ہی پاوں پر کلہاڑی مار لی ہے۔۔۔ اب وہ گھر کوئی 9 لاکھ پر بھی خریدنے والا نہیں ہے ( وہ گھر جس نے خریدا ہے تجارت کہ عرض سے خریدا ہے )
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
معاشرے کے عمومی رویوں اور رجحانات کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ حقائق قبول کرنا واقعی مشکل ہے لیکن میرے بھائی ! ہمیں اپنے عقیدے اور عبادات سے متعلق چیزوں کو قرآن و سنت اور صحابہ کی جماعت کے فہم کے مطابق پرکھنا ہے۔ مساجد کو سجانے اور ان میں رنگ برنگ نقوش بنانے کی کراہت کے کچھ دلائل اوپر ذکر ہو چکے ہیں ان کا بغور اور ٹھنڈے دل سے مطالعہ کرتے رہیے۔ مزید یہ دیکھیے کہ مسجد کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ ہر وہ چیز جو نمازی کو اس مقصد سے ہٹا کر کسی دوسری شئے کی طرف متوجہ کر دے اسے مسجد میں نہ ہونا چاہیے۔ عبادت کی روح نقش و نگار، فانوس اور قالین وغیرہ نہیں بلکہ خشوع و خضوع ہے،یہ چیزیں تو اس روح کو ختم کرنے والی ہیں۔ مجھے ایک ایسی مسجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کی دیواروں پر شیشے کا کام کیا گیا تھا۔ روشنی کی کرنیں منعکس ہو کر ایسا مسحور کن سماں بنا دیتیں کہ نمازی اسی میں کھو کر رہ جاتا۔ کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟ استقبال رمضان کے سلسلے میں ہماری مسجد میں ایک قیمتی فانوس لٹکایا گیا تھا، نماز تراویح میں اکثر نمازیوں کا دھیان نماز سے زیادہ اس کی طرف رہا۔ اس کے مقابل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اسوہ کیا ہے؟امام بخاری اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ایک دفعہ منقش چادر اوڑھ کر نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر فرمایا: اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلَاتِي " میری یہ منقش چادر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی سادہ چادر میرے پاس لیے آؤ، کیونکہ اس (کے نقوش) نے مجھے نماز سے غیر متوجہ کر دیا تھا" (صحیح البخاری، کتاب الصلاۃ باب اذا صلی فی ثوب لہ أعلام و نظر الیہ علمھا) پہلے مراسلے میں عمر رضی اللہ عنہ کا قول پیش کیا گیا ہے جس میں انہوں نے معماروں کو مسجد میں سرخی اور زردی استعمال کرنے سے منع کیا تھا۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ حکم اسی حدیث سے اخذ کیا تھا۔ نماز پڑھنے کی جگہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہیے جو نماز سے دھیان بٹانے والی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کعبہ میں مینڈھے کے دو سینگ لٹکے ہوئے دیکھے تو انہیں اتارنے کا حکم دیا اور فرمایا: لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ "مناسب نہیں ہے کہ (اس) گھر (یعنی کعبہ) میں کوئی ایسی چیز ہو جو نمازی کو (نماز کی بجائے دوسری طرف) متوجہ کر دے" مساجد کو سجانے کا کام سب سے پہلے ولید بن عبدالملک کے زمانے میں شروع ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب تقریبًا سارے صحابہ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ بعد کے زمانوں میں کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ خوبصورت مسجد نمازیوں کو ترغیب دلانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دعویٰ اس لیے غلط ہے کہ عبادت کی غرض سے آنے والے کو تو نقوش و زیبائش کی کچھ پرواہ ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ چیزیں تو مقاصد عبادت کے خلاف ہیں اور نمازی کےانہماک میں خلل ڈالتی ہیں۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 06-03-10 at 01:38 PM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | sahj (29-04-10), ھارون اعظم (15-04-10), منتظمین (06-03-10), محمد عاصم (16-05-10), احمد بلال (01-05-10), ضِرار Derar (29-04-10), عدنان دانی (07-03-10) |
|
|
#15 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 5
کمائي: 174
شکریہ: 1
4 مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ حیدر سے مجھے اختلاف ہے مسجدوں کو سجانا منع ہے کبھی عبداللہ حیدر نے آپنے گھر کو دیکھا ہے وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے مکانوں کی طرح ہے یا کسی اور طرح کا ہے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, کہانی, قرآن, لوگ, نبوی, نظر, میناروں, مسجد, آج, اللہ, امیر, اسلام, بہترین, حکم, دنیا, دعا, سال, علماء, عبادت, عباس, غنیمت, غریب, صحیح, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| بیرونی ممالک میں پاکستانی تنظیمں ناکام کیوں؟ | زارا | عمومی بحث | 0 | 17-02-11 04:19 PM |
| بتائیں کیوں؟ | سیپ | گپ شپ | 12 | 31-01-11 08:00 PM |
| دین اور دُنیا : تعلیمی میدان میں الگ الگ کیوں؟ | فاروق سرورخان | اسلام اور عصر حاضر | 5 | 31-10-08 12:24 AM |
| کسی ڈرائیو پر ڈبل کلک کرو تو وہ ایک الگ ونڈو میں اوپن ھوتی ھے۔۔ ایسا کیوں؟ | چاند | Ask Experts ماہرین کی رائے | 16 | 02-07-08 05:21 PM |