| اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میںلکھا جائے گا |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 310
|
||||
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
مسئلہ ٧۔ بڑی چھپکلی جس میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے اس کا حکم بھی یہی ہے کہ اگر مر جاوے اور پھولے پھٹے نہیں تو بیس ڈول نکالنا چاہیے اور تیس ڈول نکالنا بہتر ہے اور جس میں بہتا ہوا خون نہ ہوتا اس کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔
مسئلہ ٨۔ اگر کبوتر ، مرغی یا بلی یا اسی کے برابر کوئی چیز گر کر مر جاوے اور پھولے نہیں تو چالیس ڈول نکالنا واجب ہے اور ساٹھ ڈول نکال دینا بہتر ہے۔ مسئلہ ٩۔ جس کنوئیں میں جو ڈول پڑا رہتا ہے اس ہی کے حساب سے نکالنا چاہیے اور اگر اتنے بڑے ڈول سے نکا لا جائے جس میں بہت پانی سما سکتا ہے اس کا حسا ب لگا لینا چاہیےاگر اس میں دو ڈول پانی سماتا ہے تو اس کو دو ڈول سمجھیں اور چار ڈول سماتا ہو تو چار ڈول سمجھنا چاہیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس میں جتنا پانی آتا ہو اسی کے حساب سے کھنچے جاوےگا۔ مسئلہ ١٠۔اگر کنوئیں میں اتنا بڑا سوت ہے سب پانی نہیں نکل سکتا جیسے جیسے پانی نکالتے ہیں ویسے ویسے اس میں اور نکل آتا ہے تو جتنا پانی اس میں اس وقت موجود ہے اندازہ کر کے اس قدر پانی نکال ڈالیں۔ <فائدہ>پانی کا اندازہ کرنے کی کئی صورتیں ہیں ایک یہ کہ مثلاً پانچ ہاتھ پانی ہےتو ایک دم لگاتار سو ڈول پانی نکال کر دیکھو کہ کتنا پانی کم ہوا اگر ایک ہاتھ کم ہوا ہو جب اسی ہی سے حساب لگا لو کہ سو ڈول میں ایک ہاتھ ٹوٹا تو پانچ ہاتھ میں پانچسوں ڈول نکل جاوے گا دوسرے یہ کہ جن لوگوں کو پانی کی پہچان ہو اور اس کا اندازہ آتا ہو ایسے دو دیندار مسلمانوں سے اندازہ کرالو جتنا وہ کہیں نکلوا دواور جہاں یہ دونوں باتیں مشکل معلوم ہوں تین سو ڈول نکلوا لیں۔ مسئلہ ١١۔ کنوئیں میں مرا ہوا چوہا اور کوئی جانور نکلا اور یہ معلوم نہیں کہ کب گرا ہے اور ابھی پھولا یا پھٹا بھی نہیں ہے تو جن لوگوں نے اس سے وضو کیاہے ایک رات اور ایک دن کی نمازیں دہرائیں اور اس پانی سے جو کپڑے دھوئے ہوں ان کو پھر دھونا چاہیے اور اگر پھول گیا یا پھٹ گیا ہے تو تین دن تین رات کی نماز یں دہرانا چاہیے البتہ جن لوگوں نے اس سے وضو نہیں کیا ہے وہ نہ دہرائیں یہ بات تو احتیاط کی ہے ورنہ بعضے علموں نےکہا ہے کہ جس وقت کنوئیں کا پانی ناپاک ہونا معلوم ہو ا ہواسی وقت سے ناپاک سمجھیں گے۔ اس سے پہلے کی تمام نمازیں اور وضو درست ہیں اگر کوئی اس پر عمل کرے تب بھی درست ہے۔ مسئلہ ١٣۔جس کو نہانے کی ضرورت ہے وہ ڈول ڈھونڈنے کے واسطہ کنوئیں میں اترا اور اس کے بدن یا کپڑوں پر آلودگی نجاست نہ ہو تو تب بھی کنواں پاک ہے البتہ نجاست لگی ہوئی ہو تو ناپاک ہو جائے گااور سب پانی نکالنا پڑے گا۔ اور شک ہو کہ معلوم نہیں کپڑا پاک ہے یا ناپاک تب بھی کنواں پاک سمجھا جائے گالیکن اگر دل کی تسلی کے لئے بیس یا تیس ڈول نکلوادیں تب بھی کچھ حرج نہیں۔ مسئلہ ١٣۔ کنوئیں میں بکری یا چوہا گر گیا اور زندہ نکل آیا تو پانی پاک ہے کچھ نہ نکالا جاوے۔ مسئلہ ١٤۔چوہے کو بلی نے پکڑا اور اس کے دانت لگنے سے زخمی ہو گیا پھر اس سے چھوٹ کر اس خون سے بھرے ہوا کنوئیں میں گر پڑا تو سارا پانی نکالا جاوے۔ مسئلہ ١٥۔چوہا تابدان سے نکل کر بھاگا اور اس کے بدن میں نجاست بھر گئی اور پھر کنوئیں میں گر پڑا تو سارا پانی نکالا جائے چاہے چوہا کنوئیں میں مر جاوے یا زندہ نکلے۔ مسئلہ ١٦۔ چوہے کی دم کٹ کر گر پڑے تو سارا پانی نکلاجاوے اسی طرح وہ چھپکلی جس میں میں بہتا ہوا خون بہتا ہو اس کی دم گرنے سے بھی سب پانی نکالا جاوے گا۔ مسئلہ ١٧ ۔جس کے گرنے سے کنواں ناپاک ہوا اگر وہ چیز باوجود کوشش کے نکل نہ سکے تو دیکھنا چاہیے وہ چیز کیسی ہے اگر وہ چیز خود تو پاک ہے اور ناپاکی لگنے سے ناپاک ہوگئی ہے جیسے ناپاک کپڑا، ناپاک گیند، ناپاک جوتاتب اس کا نکالنا معاف ہے ویسے ہی پانی ڈالیں اگر وہ چیز ایسی ہے کہ خود ناپاک ہے جیسے مردہ جانور چوہا وغیرہ تو جب تک یقین نہ ہو جائے کہ یہ گل سڑ کر مٹی ہو گیا ہے اس وقت تک کنواں پاک نہیں ہو سکتااور جب یہ یقین ہو جائے اس وقت سارا پانی نکال دیویں کنواں پاک ہو جاوے گا۔ مسئلہ ١٨۔جتنا پانی کنوئیں سے نکالنا ضروری ہو چاہے ایک دم نکالیں چاہے تھوڑا تھوڑا کر کئی دفعہ نکالیں ہر طرح پاک ہو جاوے گا۔ |
|
|
|