واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلامی نظریہ حیات



اسلامی نظریہ حیات اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کو زندگی گزارنے ک پورا پورا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس سکشن میں اسلام کے مطابق زندگی گزرانے کے بارے میں‌لکھا جائے گا


’’اھل بیت ع‘‘ انسان کو خدا سے متصل کرنے والے:-

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-04-11, 02:48 PM   #1
’’اھل بیت ع‘‘ انسان کو خدا سے متصل کرنے والے:-
حیدر Rehan حیدر Rehan آن لائن ہے 05-04-11, 02:48 PM

انسان فطرت کی بنیاد پر کمال کی طرف کشش رکھتا ھے اور خداوندعالم کمال مطلق ھے، لہٰذا انسان فطری طور پر خدا کی نسبت کشش رکھتا ھے اور اس بات کی کوشش کرتا ھے کہ وہ خود کو کمال تک پہنچائے اور نقص و کمی سے نجات پائے، اس وجہ سے اگر حجاب و غفلت میں مبتلا نہ ھو تو اپنا دل خدا کے سپرد کردیتا ھے، کیونکہ کمال کا دلدادہ ھے اور خدا سے یہ دلدادگی اس بات کی سبب اور باعث ھوگی کہ خدا کی طرف قدم اٹھانے میں شوق اور اشتیاق پیدا ھوگا۔

<۔۔۔ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلَاقِیہ>[1]
۔۔۔تواپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ھے تو ایک دن اس کا سامناکرے گا۔“


اورچونکہ کمال مطلق تک پہنچنا اس کے درجوں کو طے کرتے ھوئے ممکن ھے، لہٰذا جب تک نیچے درجے کی منزلوں کو طے نہ کیا جائے بلند و بالا درجوں تک پہنچنا ممکن ھی نھیں ھے کیونکہ اس نظام کائنات میں کسی مرتبہ سے گزرے بغیر اس سے بلند مرتبہ پر نھیں پہنچا جاسکتا، درجوں کو طے کرنا ترقی ھو یا تنزلی،ایک ضروری اور لازمی چیز ھے۔

لہٰذا اگر کوئی بلند و بالا مراتب اور کمال کی چوٹی اور مطلق جمال تک پہنچنا چاھے تو سب سے پھلے نبوت محمدی (صلی الله علیه و آله و سلم) کی اقتدا کی منزل میں قدم رکھے جو کمال مطلق کا سب سے پھلا مظہر ھے ، اور اس منزل میں داخل ھونے سے پھلے ولایت علوی کی اقتدا کی منزل میں وارد ھو؛ کیونکہ صاحب ولایت علویہ باب پیغمبر (صلی الله علیه و آله و سلم) ھے:

”اٴنَا مَدِیْنَةُ الْعِلْمِ، وَعَلِیٌّ بَابُھَا۔“[2]
”میں شہر علم ھوں اور علی اس کا دروازہ“۔


انسان ولایت علوی سے تمسک کئے بغیر اور علم علوی کے موجیں مارتے ھوئے سمندر سے فیضیاب ھوئے بغیر، کمال مطلق کی حقیقت تک نھیں پہنچ سکتا۔

یہ دعویٰ کہ علی علیہ السلام کو چھوڑ کر پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) تک اور پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) سے خدا تک پہنچا جاسکتا ھے ، ایک شیطانی اور باطل دعویٰ ھے اور ایک ایسا مطلب ھے کہ جس کا متحقق ھونا غیر ممکن اور ایک لفظ میں محال ھے۔

پس جو شخص کمال مطلق کا دلدادہ ھے اور اس تک پہنچنا چاہتا ھے تو اس کو اپنے روحانی اور معنوی نیز عملی سفر شروع کرنے سے پھلے اپنے دل کی روحی اور قلبی فکری اور باطنی ظلمتوں اور کدورتوں کو اھل بیت علیھم السلام کے نور کی روشنی اور نبوت و ولایت کی اقتدا کے ذریعہ دور کرے، کیونکہ اھل بیت علیھم السلام کی ولایت اور ان کی اقتدا کے بغیر پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) تک نھیں پہنچا جاسکتا، اور نہ ھی لقائے حق تک پہنچا جاسکتا ھے اور نہ ا نسان کے اعمال درجہ مقبولیت تک پہنچ سکتے ھیں۔

حضرت رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) نے حضرت امیر الموٴمنین علیہ السلام سے فرمایا:
”مَنْ سَرِّہِ اٴنْ یَلْقیٰ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ آمِنَا مُطَھَّراً لا یَحْزُنُہُ الْفَزَعُ الاٴَکْبَرُ، فَلْیَتَوَلَّکَ وَلْیَتَولَّ ابْنَیْکَ الحَسَنَ وَالحُسَیْنَ، وَعَلي بنِ الحسینِ وَمُحَمَّدَ بنَ عليٍّ وَجَعْفَرَ بنَ مُحَمَّدٍ وَمُوسی بنَ جَعْفَر ، وعلي بنَ موسی، ومحمّداً و علیّاً وَالحسنَ، ثمَّ المھديّ وَھو خَاتَمُھمْ۔“[3]


”جو شخص اس بات پر خوش ھو کہ خدا کا امن و امان کے عالم میں اور پاکیزہ طور پر دیدار کرے اور قیامت کی عظیم وحشت اس کو غمگین نہ کرے تو اُسے چاہئے کہ تمہاری ، تمہارے دو فرزند حسن و حسین اور علی ابن الحسین و محمد بن علی و جعفر بن محمد و موسی بن جعفر و علی بن موسیٰ و محمد و علی و حسن اور آخر میں مہدی (علیھم السلام) جو خاتم امامت ھے ؛ کی ولایت و اقتدا کو دل و جان سے قبول رکھے“۔

نیز رسول خدا (صلی الله علیه و آله و سلم) نے ایک بہت اھم روایت میں فرمایا:
”مَابَالُ اٴقوامٍ اِٴذَا ذُکِرَ عِندَھُمْ آلُ اِبراہِیمَ فَرِحُوا وَاسْتَبشِرُوا، وَاِذَا ذُکِرَ عِندَھُمْ آلُ مُحَمَّدٍ اشْمَاٴزَّتْ قُلُوبُھُم؟!وَالَّذِي نَفَسُ بِیَدِہِ، لَو اٴنْ عَبْداً جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِعَمَلِ سَبْعِینَ نَبِیّاً، مَا قَبِلَ اللّٰہُ ذَلِکَ مِنہُ حَتّی یَلقاہ بِولایَتِي، وَوَلاَیَةِ اٴھلِ بَیْتِي۔“[4]


”کیا ھوگیا ھے ان قوموں کو کہ جب بھی ان کے سامنے خاندان ابراھیم کا تذکرہ آتا ھے تو وہ خوش و خرم ھوجاتے ھیں، لیکن جب بھی ان کے سامنے خاندان محمد (ص) کی بات آتی ھے تو وہ ناراحت اور پریشان ھوجاتے ھیں؟! قسم ھے اس خدا کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد(ص) کی جان ھے اگر (ایسا ) بندہ روز قیامت ستر (۷۰) انبیا کا عمل لے کر حاضر ھو تو بھی خداوندعالم اس کو قبول نھیں کرے گا مگر یہ کہ میری اور میرے اھل بیت کی ولایت کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے“۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام زیارت جامعہ میں فرماتے ھیں:
”وَاٴشْرَقَتْ الاٴَرْضُ بِنُورِکُمْ، وَفَازَ الفَائِزُونَ بِولایَتِکُمْ، بِکُمْ یْسُلَکُ اِلیٰ الرِّضْوَانُ وَعَلیٰ مَنْ جَحَدَ وِلاَیَتَکُمْ غَضَبُ الرحمنِ۔“


” اور زمین تمہارے (علم و امامت و رہبری اور ولایت) کے نور سے روشن ھے اور کامیاب ھونے والے تمہاری ولایت کے ذریعہ کامیاب ھیں، تمہاری وجہ سے رضوان الٰھی کی راہ کو طے کیا جاتا ھے اور تمہاری ولایت کے منکر پر غضب الٰھی نازل ھوتا ھے“۔

اس بنا پر جو شخص کمال مطلق تک پہنچنے کا دلدادہ ھواور اس تک پہنچنے کا بہت زیادہ شوق رکھتا ھو تو اُسے چاہئے کہ پھلی منزل میں (اھل بیت علیھم السلام کی شناخت کے بعد) اپنے پورے وجود سے ان حضرات کی پیروی کرے اور اس راستہ کے ذریعہ اپنے کو کمال مطلق اور وصال الٰھی تک پہنچائے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:

<۔۔۔إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمْ اللهُ ۔۔۔>[5]
”۔۔۔کہہ دیجئے کہ اگر تم لو گ اللہ سے محبت کرتے ھو تو میری پیروی کرو۔خدا بھی تم سے محبت کرے گا۔۔۔۔“


اگر تم کمال مطلق کے عاشق ھو اور کمال مطلق تمہارا محبوب ھے تو میری پیروی کرو کہ میں فیض مقدس، نور السموات و الارض، کمال اطلاقی اور اسم اعظم کا مظہر ھوں، تاکہ تم محبوب حق بن جاؤ۔

لہٰذا حقیقت میں اھل بیت علیھم السلام کی محبت انسان کے کمال مطلق کی محبت میں سرچشمہ رکھتی ھے۔ جو شخص کمال مطلق کو فطرت کی بنیاد پر تلاش کرے اور اس تک پہنچنا چاھے اور اس نے اپنے ہدف کو نھیں بھلایا ھے اور اسی راہ پر گامزن ھے تو ایسا شخص سمجھتا اور دیکھتا ھے کہ اس کمال مطلق تک پہنچنے کے لئے اس کمال تک پہنچے اور اپنے وجود اور معرفت کو تکمیل کرتے ھوئے بلند درجوںتک پہنچائے۔

اگر اسلام، محبوب شریعت ھے تو اس کی وجہ یہ ھے کہ ایک راہ ھے اور اگر فضائل اور اخلاق حسنہ محبوب ھیں تو اس کی وجہ راہ ھے اور اگر اھل بیت علیھم السلام محبوب ھیں تو اس کی وجہ یہ ھے کہ وصال حق تک پہنچنے کے لئے بہترین راہ ھے، جیسا کہ حضرت امام ہادی علیہ السلام نے زیارت ناحیہ میں اھل بیت علیھم السلام کو ”صراط اقوم“ سے تعبیر کیا ھے اور بعض روایات میں انھی حضرات نے اپنے کو صراط مستقیم کے عنوان سے یاد کیا ھے:

”نَحْنُ الصِّرَاطُ المُسْتَقِیْم۔“[6]
”ھم صراط مستقیم ھیں“۔

اھل بیت علیھم السلام نہ صرف یہ کہ راہ ھیں اور نہ صرف یہ کہ خود عالی کمال اور مطلق کمال ھیں بلکہ اللہ کی وہ رسی ھیں جو زمین و آسمان کے درمیان واسطہ ھے کہ ان حضرات سے تمسک کے ذریعہ خود کو کمال مطلق سے متصل کیا جاسکتا ھے۔

یہ حضرات مقام فیض منبسط اور فیض اقدس یعنی مظہر اول (جو حقیقت محمدی ھے) کی زمین کی سرحدوں تک پھیلا ھوا ھے۔

<اٴَلَمْ تَرَی إِلَی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ ۔۔۔>[7]
”کیا آپ نے (اپنے پروردگار کی قدرت و حکمت کو) نھیں دیکھا کہ اس نے کس طرح سایہ پھیلا دیا ھے۔۔۔۔“


تاکہ کمال مطلق کا ہر عاشق انسان اس سے متمسک ھوجائے اور اس معنوی اور حقیقی وسیلہ کے ذریعہ خود کو حضرت حق تک پہنچائے۔

<وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ ۔۔۔>[8]
”اور اس تک پہنچنے کا (ایمان، عمل صالح اور اس کی بارگاہ کے مقرب کی عزت و آبرو کے ذریعہ) وسیلہ تلاش کرو۔۔۔۔“


اور ھمیشہ کے لئے رضوان الٰھی میں کہ جس کی ایک صفت ظل ممدود (یعنی پھیلا ھوا سایہ) ھے اور اس میں قرار پانا اھل بیت علیھم السلام کی اطاعت کا نتیجہ ھے، جگہ پائے اور وہاں خداوندعالم کی مادی اور معنوی نعمتوں سے فیضیاب ھو۔

اھل بیت علیھم السلام وھی حبل اللہ متین اور مستحکم وسیلہ و ریسمان ھیں جو ذات مکنون سے سایہ تک، اور سایہ کے پھیلنے تک، نور تک، عقل تک، مثال و وھم تک، جسم و مادہ اور مٹی اور خاک تک پھیلا ھوا ھے اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمین میں پھیلا ھوا ھے، لہٰذا جو شخص غایت غایات اور کمال مطلق اور ذاتمکنون تک پہنچنا چاھے تو ان حضرات کے وسیلہ اور ریسمان سے فیضیاب ھو تاکہ ان سے متمسک ھوجائے اور خود کو اس بلندی تک پہنچا سکے کہ اس کے لئے شائستہ اور ضروری ھے۔

بلا شک و شبہ جو شخص اپنے محبوب (جو کمال مطلق ھے) تک پہنچنا چاھے اور معرفتی اور وجودی کمالات پیدا کرنے کے لئے کوشش کرتا ھے اور چاہتا ھے کہ عین اللہ، ید اللہ ، سمع اللہ، وجہ اللہ اور نور اللہ نیز ان دیگر حقائق کی طرح بننا چاہتا ھے اور وہ چاہتا ھے کہ اس کی ذات اس حد تک کامل ھوجائے کہ خدا کا محبوب بن جائے تو اسے چاہئے کہ زمین سے آسمان تک پھیلے ھوئے اسماء کے مراتب کو اھل بیت علیھم السلام کے ذریعہ طے کرے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
[1] سورہٴ انشقاق (۸۴)، آیت۶۔
[2] امالی، صدوق، ص۳۴۳، مجلس نمبر ۵۵، حدیث۱؛ الاشاد مفید، ج۱، ص۳۳؛ ارشاد القلوب، ج۲، ص۲۱۲؛ خصال، ج۲، ص۵۷۴، حدیث۱؛ عیون اخبار الرضا، ج۲، ص۶۶، باب۳۱، حدیث۲۹۸؛ وسائل الشیعة، ج۲۷، ص۳۴، باب۵، حدیث ۳۳۱۴۶؛ بحار الانوار، ج۴۰، ص۲۰۱، باب ۹۴، حدیث۴۔
[3] الغیبة، طوسی، ص۱۳۶؛ مناقب، ج۱، ص۲۹۳، (تھوڑ ے فرق کے ساتھ)؛ بحار الانوار، ج۳۶، ص۲۵۸، باب۴۱، حدیث۷۷۔
[4] امالی، طوسی، ص۱۴۰، مجلس نمبر ۵، حدیث۲۲۹؛ کشف الغمة، ج۱، ص۳۸۴؛ بحار الانوار، ج۲۷، ص۱۷۲، باب۷، حدیث۱۵۔
[5] سورہٴ آل عمران (۳)، آیت ۳۱۔
[6] معانی الاخبار، ص۳۵، باب معنی الصراط، حدیث۵؛ تفسیر صافی، ج۱، ص۵۴؛ بحار الانوار، ج۲۴، ص۱۲، باب۲۴، حدیث۵۔
[7] سورہٴ فرقان (۲۵)، آیت۴۵۔
[8] سورہٴ مائدہ (۵)، آیت ۳۵۔

 
حیدر Rehan's Avatar
حیدر Rehan
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 811
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (19-04-11), مرزا عامر (05-04-11), عارف اقبال (23-04-11)
پرانا 05-04-11, 04:33 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

جزاک اللہ خیر
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (06-04-11)
پرانا 19-04-11, 08:15 PM   #3
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
<۔۔۔إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی یُحْبِبْکُمْ اللهُ ۔۔۔>[5]
”۔۔۔کہہ دیجئے کہ اگر تم لو گ اللہ سے محبت کرتے ھو تو میری پیروی کرو۔خدا بھی تم سے محبت کرے گا۔۔۔۔“
بےشک اللہ کے نبیﷺ کی ہی پیروی وہی کرتے ہیں جو اللہ سے اور محمدﷺ سے محبت کرتے ہیں۔
جو ان محمدﷺ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کرتا ہے اس سے اللہ بھی محبت نہیں کرتا، اتباع و پیروی کے قابل وہی ہستی ہے جس پر قرآن نازل ہوا۔ انﷺ کے علاوہ نہ ہی کسی گزرے ہوئے کی پیروی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی حاضر کی۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (21-04-11)
پرانا 19-04-11, 09:53 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,833
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد عاصم مراسلہ دیکھیں
بےشک اللہ کے نبیﷺ کی ہی پیروی وہی کرتے ہیں جو اللہ سے اور محمدﷺ سے محبت کرتے ہیں۔
جو ان محمدﷺ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کرتا ہے اس سے اللہ بھی محبت نہیں کرتا، اتباع و پیروی کے قابل وہی ہستی ہے جس پر قرآن نازل ہوا۔ انﷺ کے علاوہ نہ ہی کسی گزرے ہوئے کی پیروی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی حاضر کی۔
بھائی کبھی بھی سمجھ نہیں سکو گے آپ ۔۔۔۔
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (20-04-11)
پرانا 20-04-11, 02:32 PM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جو شئے بھی اللہ کی طرف لے جاتی ہے اور اس سے ملاتی ہے اس شئے کی تعریف و محبت اللہ ہی کی تعریف و محبت کہلاتی ہے

چاہے وہ صلوات ہو یا صبر
نبی ص ہو یا رسول ص
قرآن ہو یا کعبہ

ان سب کی تعریف و محبت اللہ ہی کی تعریف وہ محبت کہلاتی ہے
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (20-04-11), مرزا عامر (23-04-11), آبی ٹوکول (20-04-11), عارف اقبال (23-04-11)
پرانا 22-04-11, 10:40 PM   #6
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
بھائی کبھی بھی سمجھ نہیں سکو گے آپ ۔۔۔۔
خلیل بھائی جان تو آپ سمجھا دیں ناں۔
آپ دلیل سے سمجھائیں اگر نہ مانا تو پھر آپ گلہ شکوہ کر سکتے ہیں۔
مگر اس تحریر میں جو آیات کو غلط معنی پہنائے گے ہیں اس کا رَد وقت ملنے پر ضرور پیش کرونگا ان شاءاللہ فی الحال ریحان صاحب کی دوسری پوسٹ کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہوں صرف وقت کی کمی کی وجہ سے ہر روز لکھ نہیں پاتا۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-04-11, 01:14 PM   #7
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
جو شئے بھی اللہ کی طرف لے جاتی ہے اور اس سے ملاتی ہے اس شئے کی تعریف و محبت اللہ ہی کی تعریف و محبت کہلاتی ہے

چاہے وہ صلوات ہو یا صبر
نبی ص ہو یا رسول ص
قرآن ہو یا کعبہ

ان سب کی تعریف و محبت اللہ ہی کی تعریف وہ محبت کہلاتی ہے
میں آپکی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں - یہاں تک کہ وہ استاد ہی کیوں نہ ہو جو اللہ کا سچا راستہ دکھائے اس استاد سے محبت بھی اللہ سے محبت ہوگی ۔ قران سے محبت اس کے علاوہ صفا و مروۃ جو اللہ کے شعائر ہیں ۔ منیٰ ، مژدلفہ ، مسجد نبوی اور اس طرح کوئی جگہ یا شخص جس سے اللہ کا قرب نصیب ہو اس کی محبت اللہ ہی کی محبت ہے ۔ لیکن صرف ایک احتیاط وہ یہ کہ اس اللہ کے محبوب بندے کی محبت ، صرف محبت عزت اور احترام تک ہی محدود رہے شخصیت پرستی نہ بن جائے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-04-11), کنعان (23-04-11), عارف اقبال (23-04-11)
جواب

Tags
کمال, قدم, قرآن, ممکن, مجید, محبت, اللہ, انسان, امیر, بہترین, تلاش, حضرات, خوش, خدا, خرم, دل, راستہ, سفر, شہر, شناخت, شخص, عقل, عمران, عزت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
موسیٰ خیل میں کوئلے کی کان کا تنازع ،آرمی چیف کی ہدایت پرتصفیہ کردیا گیا گلاب خان خبریں 0 02-03-11 04:33 AM
Hot مشہور مصنفین جن کی تصنیفات ضعیف اور موضوع حدیث کی حامل ہیں ابن جمال تاریخ حدیث 1 18-02-11 11:05 PM
بھارت سے کشمیر پر تصفیہ ہونے والا تھا:پرویز مشرف جاویداسد خبریں 3 10-10-10 06:35 AM
تصمیم میں‌اب نستعلیق اسپورٹ! arifkarim سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 0 18-04-09 02:52 AM
اجمیری مینشن سے متصل16 گھروں کے فرش بھی بیٹھ گئے عبدالقدوس خبریں 2 24-02-09 10:44 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger