واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


کرسمس، چند شبھات کا ازالہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-12-11, 10:33 PM  
کرسمس، چند شبھات کا ازالہ
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آف لائن ہے 26-12-11, 10:33 PM

اب ایک ’دلیل‘ یہ سامنے لائی جانے لگی ہے کہ فی زمانہ کرسمس کوئی مذہبی تہوار نہیں رہ گیا بلکہ ایک سماجی تہوار بن چکا، جس میں شرکت یا تہنیت کی کوئی حرمت ہی دین کے اندر باقی نہیں رہ جاتی! سبحان اللہ کتنا سوچا گیا تو جاکر یہ ’دلیل‘ ملی ہوگی اور وہ بھی زیادہ تر یورپ اور آسٹریلیا میں رہنے سے ہی ذہن میں آسکی!

مگر ہم حیرت سے دنگ رہ جاتے ہیں، ابن تیمیہ نے اِس کا جوب دینے سے بھی نہیں چھوڑا! (کسی نے ابن تیمیہ کے علمی مقام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ ابن تیمیہ صرف اپنے عہد کا نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کا امام تھا۔ ہمارے خیال میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ابن تیمیہ ”عہدِ گلوبلائزیشن“ کا امامِ سنت ہے)۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ ذرا اُس حدیث پر ہی غور کر لو جس میں (یثرب کے جاہلی تہواروں کو ختم فرماتے وقت) رسول اللہ ا اُن لوگوں سے دریافت فرماتے ہیں: مَا ہٰذانِ الیَومَانِ؟ (اِن دو تہواروں کی کیا حقیقت ہے؟) تو وہ جواب دیتے ہیں: کُنَّا نَلعَبُ فِیہِمَا فِی الَاہِلِیَّةِ (دورِ جاہلیت میں یہ ہماری کھیل تفریح کے دن تھے)(۱)۔ بتائیے ”سماجی تہوار“ اور کیا ہوتے ہیں؟ بلکہ ابن تیمیہ یہاں یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ حدیث میں عموماً ایسی کوئی دلالت نہیں ملتی کہ اہل مدینہ کے یہ تہوار کسی ”مذہبی پس منظر“ کے حامل تھے۔ یہ حدیثِ انسؓ کے حوالے سے ہے۔ پھر ثابت بن ضحاکؓ کی حدیث میں مسئلہ کی مذہبی اور سماجی جہت بیک وقت بیان کر دی جاتی ہے؛ یہاں آپ ا ایک نہیں دو سوال پوچھتے ہیں: ایک: وہاں جاہلیت کا کوئی بت تو نہیں پوجا جاتا تھا؟ ہَل کَانَ فِیہَا وَثَن مِن اوثَانِ الجَاہِلِیَّةِ یُعبَدُ؟ (جاہلی ’مذہب‘) دوسرا: کیا وہاں اہل جاہلیت کا کوئی میلہ تو نہیں لگتا تھا؟ فَہَل کَانَ فِیہَا عِید مِن اعیَادِہِم؟(۲) (جاہلی ’کلچر‘)۔ آج بھی آپ کلچر اور ٹورازم والوں سے دریافت فرما لیجئے کہ ’فوک میلے‘ ایک قوم کی (جاہلی) تاریخ اور شناخت اور جڑوں کو زندہ رکھنے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں.... پھر اُس نئی صبح کا نظارہ کریں جو رسول اللہ ا کے دم سے اللہ رب العزت نے جزیرۂ عرب میں طلوع کروائی اور جس کی آب و تاب درحقیقت پوری دنیا کے لیے ہے۔

اقوامِ دیگر کو اُن کے طور طریقوں اور تہواروں پر چھوڑ رکھنا یقینا ہمارے دین کی تعلیم ہے کہ وہ جیسے چاہیں اُنہیں منائیں (ان کو مجبور کرنے کے ہم مجاز نہیں کہ وہ اپنا دین اور طورطریقے اور تہوار چھوڑ کر ہمارے دین اور ہمارے شعائر کو قبول کریں)، لیکن ہم ان آثارِ جاہلیت پر کسی بھی انداز میں اُن کو سندِ موافقت دیں یا اپنے تیوروں سے کوئی تاثر دیں کہ وہ جن چیزوں پر ہیں وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی نہیں، یہ البتہ ہمارے حق میں حرام ہے، وہ جاہلیت کا ’مذہبی عمل‘ ہے تب اور ’سماجی عمل‘ ہے تب۔

ہرگز دھوکہ نہیں کھانا چاہئے؛ کرسمس کا مذہبی سٹیٹس ختم کرکے اور اس کو سماجی تہوار قرار دے کر اِس راہ سے شرعی رکاوٹیں ہٹانے والے یہ ’اجتہادات‘ اپنی انتہائی صورتوں کے لحاظ سے ایک بھیانک روٹ ہے۔

یہ چوردروازہ جو عالم اسلام میں پہلے ”تقاربِ ادیان“ اور بالآخر ”وحدتِ ادیان“ کی واردات کو ممکن بنانے کے لیے کھلوایا جا رہا ہے، آگے اور بہت سے محلوں تک جاتا ہے۔ ’امن کی آشا‘ کو تو اِس اجتہاد کی بھنک پڑنے کی دیر ہے! ”کرسمس“ کے محلے تو یہاں زیادہ نہیں، ’سماجی‘ دلیل والا یہ پھاٹک اصل میں تو ہمارے پڑوس میں کھلتا ہے۔ ’امن کی بھاشا‘ کو کرسمس سے کہاں اتنی غرض ہوگی جتنی کہ ”دیوالی“ سے! یعنی.... ایک دلیل سے اَن گنت شکار!
کرسمس تا دیوالی
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 627
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (10-01-12), rana ammar mazhar (09-01-12), skjatala (27-12-11), پاکستانی (28-12-11), ھارون اعظم (28-12-11), نورالدین (06-01-12), نبیل خان (10-01-12), مرزا عامر (27-12-11), احمد نذیر (27-12-11), حیدر (26-12-11), رضی (09-01-12), شکاری (27-12-11), شمشاد احمد (06-01-12), عبداللہ حیدر (27-12-11)
پرانا 09-01-12, 12:41 PM   #16
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اہ شکاری بھائی یہاں کوئی شرک نہیں کر رہا یار چند الفاظ میں دوبارہ سمجھا دوں
جب آپ کرسمس کی مبارک دیتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ خدا نے بیٹا نہیں جنا۔ جسے آپ مبارک دیتے ہیں وہ بھی یہ جانتا ہے کہ آپ اس عقیدے کے حامی ہو کہ خدا نے بیٹا نہیں جنا۔ بات دونوں طرف واضح ہے۔ پریشانی کس بات کی ؟
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), کنعان (09-01-12), حیدر Rehan (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 02:27 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
اہ شکاری بھائی یہاں کوئی شرک نہیں کر رہا یار چند الفاظ میں دوبارہ سمجھا دوں
جب آپ کرسمس کی مبارک دیتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ خدا نے بیٹا نہیں جنا۔ جسے آپ مبارک دیتے ہیں وہ بھی یہ جانتا ہے کہ آپ اس عقیدے کے حامی ہو کہ خدا نے بیٹا نہیں جنا۔ بات دونوں طرف واضح ہے۔ پریشانی کس بات کی ؟
عزیز بھائی،
میں نے ہرگز یہ نہیں‌کہا کہ جو کسی عیسائی کو کرسمس کی مبارکباد دیتا ہے، وہ شرک کرتا ہے یا کافر ہو جاتا ہے۔ اس لئے ازراہ کرم پوسٹ کا دوبارہ مطالعہ کر لیجئے۔ میں‌نے کچھ مثالیں‌بتائی ہیں کہ باپ کو گالی دینے والے کی خوشی میں‌ہم شریک نہیں‌ہوتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے شخص‌کو ایک عمومی خوشی کی رسم پر مبارکباد نہیں دیتے، تو کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ‌کی شدید توہین کرنے والوں‌کو ایک ایسی رسم پر مبارکباد پیش کرتے پھریں جو اسی توہین کی یاد میں‌منائی جا رہی ہے؟؟

ہم مسلمانوں کے درمیان لاکھ اختلافات ہوں، لیکن اللہ کا بیٹا کوئی نہیں بناتا، اس کی ذات کے ساتھ شرک کو ہر غیور مسلمان اللہ کی توہین اور اللہ کو گالی دینے کے مترادف ہی مانتا ہے۔ جب یہاں‌تک ہمارا اتفاق ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کے ساتھ سماجی بائیکاٹ پر بھی اتفاق ہے، تو اللہ تعالیٰ‌کی توہین کرنے والے کے ساتھ عمومی نہ سہی، خاص‌اس رسم میں جو کہ اس توہین کی یاد دہانی کے لئے ایجاد کی گئی ہے، شرکت نہ کرنے، بائیکاٹ کرنے اور مبارکباد نہ دینے پر بھلا اختلاف کی کیا گنجائش بنتی ہے۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم شرعی مسائل کے حل کے لئے مستند علمائے کرام کی جانب رجوع کو ضروری نہیں‌سمجھتے۔ جو شخص دین پر چند کتابیں‌پڑھ لے وہ خود مسند افتاء سنبھال لیتا ہے۔ اور کسی بھی چیز کے جائز ناجائز کا تعین عقل کی روشنی میں‌متعین کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ رویہ ہرگز درست نہیں۔

کرسمس کی مبارکباد کے موضوع پر عرب کے کبار علمائے کرام کے فتاویٰ‌جات بمعہ آن لائن لنکس کے لئے یہ دھاگا ملاحظہ کیجئے۔

اہل سنت کے چاروں‌مشہور ائمہ کے نزدیک کرسمس کی مبارکباد دینا حرام ہے۔ تفصیلات کے لئے یہ دھاگا ملاحظہ کیجئے۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), نبیل خان (10-01-12)
پرانا 09-01-12, 02:50 PM   #18
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے شخص‌کو ایک عمومی خوشی کی رسم پر مبارکباد نہیں دیتے، تو کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ‌کی شدید توہین کرنے والوں‌کو ایک ایسی رسم پر مبارکباد پیش کرتے پھریں جو اسی توہین کی یاد میں‌منائی جا رہی ہے؟؟
تعلقات بڑھا کر ان میں شامل ہوا جاتا ہے اور اسی طرح اسلام پھیلتا ہے۔
گزارش آپ سے ہے کہ ازراہ کرم پچھلے مراسلات کا مطالعہ کر لیجیئے
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), کنعان (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 03:28 PM   #19
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
تعلقات بڑھا کر ان میں شامل ہوا جاتا ہے اور اسی طرح اسلام پھیلتا ہے۔
گزارش آپ سے ہے کہ ازراہ کرم پچھلے مراسلات کا مطالعہ کر لیجیئے
معذرت، میں‌واقعی گزشتہ تمام مراسلات کا مطالعہ نہ کر سکا تھا۔ آپ کے توجہ دلانے پر سارے مراسلہ جات ایک ایک کر کے پڑھ ڈالے ہیں۔ لیکن معافی چاہتا ہوں اس بات کی کوئی شرعی دلیل کہیں‌نہیں‌دی گئی کہ تعلقات بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ‌اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں‌ کے ساتھ گھل مل کر رہا جا سکتا ہے اور انہیں عین ان کی توہین کی محفلوں اور رسموں کی خوشیوں کی مبارکبادیاں‌دی جا سکتی ہیں۔ ازراہ کرم اس کی کوئی شرعی دلیل عنایت فرما دیں جیسے کہ عبداللہ آدم صاحب نے شرعی دلیل سے ثابت کیا ہے کہ شرکیہ محفلوں میں‌شرکت یا ان پر مبارکباد دینا تو کجا جس جگہ شرک کا کام کبھی ماضی میں بھی کیا گیا ہو، وہاں خالص اللہ کے لئے نذر ماننا بھی حرام ہے، نیز،

اللہ تعالیٰ اپنی مقدس کتاب میں فرماتا ہے:
والذین لا یشھدون الزور واذا مروا باللغو مروا کراما
ایمان والے وہ ہیں جو باطل مجلسوں میں حاضر نہیں ہوتے اور جب لغویات پر سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وہ عزت اور شرافت کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔
یعنی وہ اس باطل میں شرکت نہیں کرتے ۔
(الزور ) کے مفہوم میں عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مشرکین کے مذہبی تہوار مراد ہیں ۔ جیساکہ تفسیرِ قرطبی میں ہے(ج ۱۳، ص۷۹) اور بدائع التفسیر (ج۳،ص۳۱۶)میں امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں :
المعنیٰ لایحضرون مجالس الباطل و اذا مروا بکل ما یلغی من قول او عمل اکرموا انفسھم ان یقفوا علیہ أو یمیلوا إلیہ،ویدخل فی ھذا اعیاد المشرکین کما فسرھا بہ السلف والغناء انواع الباطل کلہا۔

اور آپ نے گزشتہ مراسلہ میں‌جو یہ فرمایا:

اقتباس:
مسیحی جب ہمیں رمضان اور عید وغیرہ کی مبارک باد دیتے ہیں تو یہ ان کا بھی حق ہے کہ انہیں کرسمس مبارک کہہ دیا جائے۔
یہ بہت ہی غلط طرز استدلال ہے۔ ایک تو وہ لوگ ویسے ہی مذہب سے دور ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کا مذہب اگر انہیں ہمارے تہواروں‌میں مبارکباد دینے سے نہیں‌روکتا، تو اس کا یہ معنی تو نہیں کہ ان کی محبت میں‌اللہ تعالیٰ‌کے فرامین ہم بھی بھلا بیٹھیں۔ گزشتہ پوسٹ میں سورہ مریم کی جو آیات شیئر کی گئی ہیں، ان میں‌اللہ تعالیٰ‌کے قہر و جلال کے کلمات ایسے ہیں کہ خوف آنا چاہئے ہمیں‌کہ کسی بھی طرح‌ سے ایسی محفلوں کے نزدیک بھی جائیں۔

نیز یہ بھی نوٹ‌کیجئے کہ آپ کا کسی کو یہ کہنا کہ ’’مبارک ہو‘‘ دراصل دعائیہ کلمات ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ’’خدا کرے اس میں برکت آئے‘‘۔ اب چاہے اس تہنیت کے پیغام کو آپ میری کرسمس کہہ کر ادا کریں، یا اردو میں‌آپ کو کرسمس مبارک ہو کہیں، مطلب ہمیشہ غلط ہی آئے گا۔

ضمنا یہ بھی عرض کر دوں‌کہ یہ سخت ترین بات ہے جو آپ نے اوپر مراسلہ میں‌ پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں‌کے ساتھ آپ گھل مل کر رہیں‌گے تاکہ دین اسلام کو پھیلایا جا سکے۔ محترم، ہمیں‌دین پھیلانے کے لئے اپنی اسٹریٹجی اس طرح سے ڈیفائن کرنی ہے جو مبادیات اسلام کے مخالف نہ ہو۔ بہت زیادہ لچک اور جھکاؤ ایمانی غیرت کے مردہ ہونے کا سبب بن جاتا ہے ۔

پھر ائمہ اربعہ اور موجودہ دور میں‌بھی علمائے عرب اور علمائے برصغیر کی اکثریت عیسائیوں کو کرسمس کی مبارکباد دینے کے حرام ہونے پر متفق ہے۔امت کے اکثر علمإ کے اتفاق کے مقابلے میں‌ہما شما کی کیا حیثیت ہے کہ ان کی عقلی تک بندیوں‌ پر ایمان لے آیا جائے۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ جب یہ علمائے کرام آپس میں‌باہم مختلف ہوتے ہیں‌، تو ہم ہی ان علمإ کو کوستے رہتے ہیں‌ کہ دین اتنا مشکل کر دیا ہے اور جن معاملات میں‌ ان کی اکثریت کسی مسئلہ پر متفق ہوتی ہے تو ہم ہی اختلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کی شرک اور اس کے اسباب و ذرائع سے حفاظت فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 03:50 PM   #20
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
لیکن معافی چاہتا ہوں اس بات کی کوئی شرعی دلیل کہیں‌نہیں‌دی گئی کہ تعلقات بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ‌اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں‌ کے ساتھ گھل مل کر رہا جا سکتا ہے اور انہیں عین ان کی توہین کی محفلوں اور رسموں کی خوشیوں کی مبارکبادیاں‌دی جا سکتی ہیں۔ ازراہ کرم اس کی کوئی شرعی دلیل عنایت فرما دیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائی بادشاہ کا کھڑے ہو کر استقبال کیا تھا جبکہ وہ اپنے عقیدہ پر قائم تھا۔
مسلمانوں کی پہلی ہجرت حبشہ کی جانب ہوئی تھی جہاں کا بادشاہ عیسائی تھا اور اس کی پناہ میں مسلمان رہے تھے۔ اور وہاں وہ ان کے ساتھ گھل مل کر ہی رہے ہوں گے۔
اور رہی یہ بات کہ رسول اللہ کی توہین کرنے والوں کے ساتھ مل کر کیوں رہا جا سکتا ہے ؟ تو اس کے لیئے یہ عرض ہے کہ آپ پاکستانی معاشرے میں رہ رہے ہیں ۔ پاکستانی مولویوں کی باتیں سن رہے ہیں۔ جو میڈیا آپ کو پلا رہا ہے آپ وہ پی رہے ہیں۔
آپ شیعہ ، دیوبندی ، بریلوی ، وہابی عام طور پراس لیئے نہیں ہوتے کہ آپ نے علم حاصل کرنے کے بعد کوئی فرقہ اپنایا ہے بلکہ اس لیئے ہوتے ہیں کہ جو گھٹی آپ کو پلائی گئی ہے آپ وہی ہیں۔
اسی طرح کا معاملہ عیسائیوں کا بھی ہے ۔ انہیں جو بچپن میں بتایا گیا یہ وہی کریں گے۔ جو ان کی گھٹی میں شامل ہے ۔ یہاں عام لوگوں میں قوت برداشت اور دوسروں کو سننے کا حوصلہ بہت ہوتا ہے ۔ اگر ان کے ساتھ تھوڑا سا گھل مل کر رہا جائے تو اپنا موقف سنانے میں کافی مدد ملتی ہے۔
اور ہاں ہر شخص توہین رسالت نہیں کرتا۔ بلکہ زیادہ تر لوگ کسی قسم کی توہین رسالت نہیں کرتے۔ یہاں دوسروں کے مذہب کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اور اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 04:01 PM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائی بادشاہ کا کھڑے ہو کر استقبال کیا تھا جبکہ وہ اپنے عقیدہ پر قائم تھا۔
مسلمانوں کی پہلی ہجرت حبشہ کی جانب ہوئی تھی جہاں کا بادشاہ عیسائی تھا اور اس کی پناہ میں مسلمان رہے تھے۔ اور وہاں وہ ان کے ساتھ گھل مل کر ہی رہے ہوں گے۔
اور رہی یہ بات کہ رسول اللہ کی توہین کرنے والوں کے ساتھ مل کر کیوں رہا جا سکتا ہے ؟ تو اس کے لیئے یہ عرض ہے کہ آپ پاکستانی معاشرے میں رہ رہے ہیں ۔ پاکستانی مولویوں کی باتیں سن رہے ہیں۔ جو میڈیا آپ کو پلا رہا ہے آپ وہ پی رہے ہیں۔
آپ شیعہ ، دیوبندی ، بریلوی ، وہابی عام طور پراس لیئے نہیں ہوتے کہ آپ نے علم حاصل کرنے کے بعد کوئی فرقہ اپنایا ہے بلکہ اس لیئے ہوتے ہیں کہ جو گھٹی آپ کو پلائی گئی ہے آپ وہی ہیں۔
اسی طرح کا معاملہ عیسائیوں کا بھی ہے ۔ انہیں جو بچپن میں بتایا گیا یہ وہی کریں گے۔ جو ان کی گھٹی میں شامل ہے ۔ یہاں عام لوگوں میں قوت برداشت اور دوسروں کو سننے کا حوصلہ بہت ہوتا ہے ۔ اگر ان کے ساتھ تھوڑا سا گھل مل کر رہا جائے تو اپنا موقف سنانے میں کافی مدد ملتی ہے۔
اور ہاں ہر شخص توہین رسالت نہیں کرتا۔ بلکہ زیادہ تر لوگ کسی قسم کی توہین رسالت نہیں کرتے۔ یہاں دوسروں کے مذہب کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اور اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔
آپ کی پوسٹ کافی سخت الفاظ‌پر مشتمل ہے۔ جبکہ میں نے ایسی کوئی کوشش نہیں‌کی ہے کہ اپنا نظریہ کسی پر تھوپا جائے۔ میں نے فقط علمائے کرام کا موقف پیش کیا ہے۔ اگر آپ کے پاس اس مسئلے کے لئے کوئی شرعی دلیل ہے تو ضرور پیش کیجئے۔ ہم نے یہ کہیں نہیں کہا کہ عیسائیوں‌ کا ہی بائیکاٹ کیا جائے کہ جس کے لئے عیسائی بادشاہ کے پاس مسلمانوں کا پناہ گزیں ہونا آپ دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ نہ ہم نے یہ کہا ہے کہ ہم عیسائیوں‌سے گھل مل کر رہ نہیں‌سکتے۔ صرف اتنی گزارش کی ہے کہ جس رسم کے بارے میں بالیقین معلوم ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ‌کی سخت ترین توہین اور اللہ تعالیٰ‌کی ذات کے ساتھ بدترین شرک سے منسوب ہے، اس رسم کا بائیکاٹ کیا جائے اور کم سے کم انہیں مبارکباد دینے سے تو اجتناب کیا جائے جبکہ اس مسئلے پر موجودہ و گزشتہ دور کے علمائے کرام کی اکثریت متفق ہے تو ہمیں‌ایک نیا اختلاف پیدا کرنے کے بجائے اسی متفقہ موقف کو ہی قبول کرنا چاہئے۔ جبکہ یہ معاملہ بھی کوئی عام سا نہیں ہے بلکہ شرک جیسا سنگین مسئلہ ہے کہ جس کے تعلق سے کوئی بھی بات ہو، ہمیں‌ بالکل چوکنا ہو جانا چاہئے اور ہر فریق کی بات کو بغور سننا چاہئے تاکہ کہیں اپنی کم علمی کی وجہ سے ہم ناک پر مکھی اڑانے جیسا معمولی معاملہ سمجھیں اور وہ بروز آخرت ہمارے لئے وبال جان بن جائے۔ اللہ ہم سب بھائیوں کو اس دن کی سختیوں سے اپنی پناہ میں‌رکھے۔ آمین۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 04:06 PM   #22
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہ تم بے وفا ہو نہ ہم بے وفا ہیں
مگر کیا کریں اپنی راہیں جدا ہیں
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 05:35 PM   #23
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اللہ تعالیٰ‌ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں‌ کے ساتھ گھل مل کر رہا جا سکتا ہے

اللہ تعالیٰ ‌کی سخت ترین توہین اور اللہ تعالیٰ‌ کی ذات کے ساتھ بدترین شرک سے منسوب ہے،
السلام علیکم!

معذرت کے آپ اپنی بات منوانے یا مضبوطی کے لئے کبھی کبھی ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جو ایک مسلمان کو نہیں کہنے چاہئیں، اللہ سبحان تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ریڈ کلر والا لفظ کسی بھی مسلمان کو لکھنا زیب نہیں دیتا۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), مرزا عامر (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 07:01 PM   #24
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم!

معذرت کے آپ اپنی بات منوانے یا مضبوطی کے لئے کبھی کبھی ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جو ایک مسلمان کو نہیں کہنے چاہئیں، اللہ سبحان تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ریڈ کلر والا لفظ کسی بھی مسلمان کو لکھنا زیب نہیں دیتا۔

والسلام
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،
معذرت چاہتا ہوں بھائی، میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں‌ تھی کہ جس میں یہ لفظ‌دوسروں کی طرف منسوب کر کے بھی نہ لکھا جا سکتا ہو۔ کیونکہ ایسی صورت میں‌تو مدعا بیان کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ نیز کتب احادیث‌میں‌ بھی باقاعدہ ابواب موجود ہیں مثلاً سنن ابو داؤد میں ایک باب ہے۔
باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔

حال ہی میں‌توہین کے جو کیسز ہوئے ہیں، ان میں‌ہر مسلک کے علمائے کرام نے اس لفظ‌کو استعمال کیا ہے، شاید یہ میری کم علمی ہی ہو۔ پھر بھی میں‌آئندہ احتیاط کروں‌گا ان شإءاللہ۔
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شکاری کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), کنعان (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 08:10 PM   #25
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,556
کمائي: 16,190
شکریہ: 6,821
922 مراسلہ میں 1,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مسلمانوں اور تمام غیر مسلمانوں میں داعی اور مدعو کا رشتہ ہے ناکہ حریف کا !!!

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
نہ تم بے وفا ہو نہ ہم بے وفا ہیں
مگر کیا کریں اپنی راہیں جدا ہیں

مسلمانوں اور تمام غیر مسلمانوں میں داعی اور مدعو کا رشتہ ہے ناکہ حریف کا !!!
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
rana ammar mazhar کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 08:58 PM   #26
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2011
مقام: PAKISTAN
مراسلات: 1,556
کمائي: 16,190
شکریہ: 6,821
922 مراسلہ میں 1,521 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اللہ کی بیوی ہی نہیں ‌ہے

ولادت عیسیٰ کس طرح ؟
rana ammar mazhar آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 10-01-12, 12:51 AM   #27
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,455
شکریہ: 8,476
1,585 مراسلہ میں 3,504 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ کریم ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے آمین
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (10-01-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جوک در جوک سے اقتباس، ڈاکٹر یونس بٹ زارا مزاحیہ ادب 1 02-02-11 08:41 PM
محبت ہے ہمارے پاس، زارا شاعری اور مصوری 4 12-01-11 09:46 PM
وائرس، اسپائی وئیر، ٹروجن ہارس، ایڈ وئیر سے متعلق مدد کے لیئے shafresha Ask Experts ماہرین کی رائے 23 07-09-10 04:08 AM
جعلی اینٹی وائرس، گوگل کی وارننگ عدنان دانی کمپیوٹر کی باتیں 0 08-05-10 10:25 AM
اسلامی بکس، ناولز، سفرناے افتخاراحمد کتاب گھر 11 11-04-08 08:42 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger