| اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1917
|
||||
| 6 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا | asakpke (10-02-11), dxbgraphics (23-01-11), ھارون اعظم (16-01-11), ابن آدم (25-01-11), شمشاد احمد (09-02-11), عروج (22-01-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,748
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سورہ احزاب کے احکام حجاب کا انکار
سورہ احزاب میں سب سے پہلے پردے کے احکام نازل ہوئے جس پر صحابہ کرام سے لے کر اب تک تمام علماء کا اجماع ہے یہاں تک کہ امین احسن اصلاحی صاحب جن کو غامدی صاحب اپنا استاد مانتے ہیں وہ بھی سورہ احزاب کی آیات سے پردے کے قائل ہیں مگر غامدی صاحب نے اپنے استاد کی رائے سے بھی اتفاق نہیں کیا اور ایک دوسری ہی بات کی ہے وہ اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں پردے کے حوالے سے کہتے ہیں کہ سورہ احزاب میں جو پردے کے احکام اترے ہیں وہ ہنگامی حالات کے تحت اترے تھے وہ حالات یہ تھے کہ منافقین رات میں اہل ایمان عورتوں پر آوازیں کسا کرتے تھے جس کی وجہ سے سورہ احزاب کی یہ آیات اتریں: ترجمہ آیت:''اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج اوربیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے چادر کے پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں یہ بہتر ہے ان کے لئے پھر وہ پہچان لی جائیں گی اور ستائی نہ جائیں گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ احزاب آیت۵۹) جب وہ حالات ختم ہو گئے تو احکام بھی ختم ہو گئے اور سورہ نور میں جو پردے کے احکام ہیں وہ ابدی احکام ہیں۔ غامدی صاحب جو کہہ رہے ہیں اگر بالفرض وہ بات مان لی جائے کہ سورہ احزاب میں جو احکام اترے تھے وہ اس وقت کے لئے تھے تو جو حالات غامدی صاحب نے بتائے ہیں تو اس لحاظ سے تو آج کے حالات میں بھی ان پر عمل ضروری ہے آج بھی اوباش لوگ عورتوں پر آوازیں کستے ہیں اور ان سے بدتمیزی کرتے ہیں مگر غامدی صاحب جو کہہ رہے ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے جو حالات وہ بتا رہے ہیں اس کو طبقات ابن سعد نے نقل کیا ہے اور پانچ روایات اس کے تحت لائے ہیں مگر ان تمام روایات میں ایک راوی (محمدبن عمرواقدالواقدی )ہے جو تمام محدثین کے نزدیک متفقہ طور پر کذاب(جھوٹا) ہے(تھذیب التھذیب) (طبقات ابن سعد باب قبل نزول حجاب جلد ۸) یہ ہے وہ بنیاد جس کی ایماں پر غامدی صاحب یہ بات کر رہے ہیںاب ہم سورہ احزاب میں پردے سے مطلق آیات کا جائزہ لیتے ہیں ۔ (۱)آیت ترجمہ:۔''اور جب تمہیں ان (ام المومنات )سے کوئی چیز مانگنی ہو تو پردے کی اوٹ سے مانگا کرو'' (سورہ احزاب آیت۵۳) (۲)ترجمہ آیت:۔(عورتوں) پر گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں کے سامنے ہوں ،عورتوں اللہ سے ڈرتی رہو اللہ یقینا ہر چیز پر شاہد ہے۔(سورہ احزاب آیت۵۵) (۳)آیت ترجمہ:۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج اوربیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے چادر کے پلو اپنے اوپر سے لٹکا لیا کریں یہ بہتر ہے ان کے لئے پھر وہ پہچان لی جائیں گی اور ستائی نہ جائیں گی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(سورہ احزاب آیت۵۹) پہلی آیت میں پردے کے احکام نازل ہوئے ہیں جس میں بظاہر حکم ام المومنات سے ہے مگر یہ حکم تمام عورتوں کے لئے ہے اسی بات کو ام التفاسیر نے بھی بیان کیا ہے دیکھے (تفسیرطبری ،ابن کثیر ، قرطبی)اور یہ بات آگے کی دونوں آیات سے واضح ہوجائی گی اور اس کے شانِ نزول کے حوالے سے یہ بات واضح کر دیں کہ یہ کسی ہنگامی حالت میں نہیں اترے بلکہ یہ عمر فاروق کی خواہش پر نازل ہوئے تھے ۔ مفہوم حدیث:۔ عمر فاروق نے فرمایا تین باتیں میں نے کہیں جن کے مطابق رب العلمین نے احکام نازل کیے ، میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ہر کوئی آتا جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کے احکام نازل ہوئے۔(بخاری کتاب التفسیرالبقرہ جلد ۲،مسلم کتاب الفضائل باب فضیلت عمرفاروق جلد۶ (اور آیت۲ میں جب پردے کے احکام نازل ہوئے تو یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ محرمات کے بارے میں کیا احکام ہیں تو اس پر یہ آیت ۲ نازل ہوئی کہ عورتیں اپنے محرم کے سامنے جا سکتی ہیں اور یہ آیات تمام عورتوں کے لئے نازل ہوئی ہیں جس کو تفسیر طبری نے اور ابن کثیر نے اس طرح نقل کیا ہے۔''اوپر کی آیتوں میں اجنبیوں سے پردے کا حکم ہوا ہے اس لئے جن قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ تھا ان کا بیان اس میں کر دیا ''(تفسیر ابن کثیر)اور آیت۳ اور اس کے شانِ نزول میں جو حدیث آتی ہے اس سے بات پوری طرح واضح ہوجائی گی کہ ان آیات میں پردے کے احکام تمام عورتوں کے لئے نازل ہوئے ہیں: مفہوم حدیث:۔ امَ عائشہ سے روایت ہے کہ سودہ احکام حجاب کے بعد ضرورت کے تحت باہر نکلی تو عمر نے انھیں پہچان لیا اور کہا کہ اے سودہ میں نے آپکو پہچان لیا تو وہ اسی وقت واپس آگئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ عمر نے مجھ سے یہ کہا تو اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا اور تھوڑی دیر میں یہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو ضرورت سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے(بخاری کتاب التفسیرجلد ۲، مسلم کتاب السلام جلد۵,مسند احمدجلد۶ص۵۶)پس اب اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پہلی آیت میں پردے کا حکم نازل ہوا اوردوسری آیت میں محرمات کی فہرست اور اس کے بعد گھر سے باہر نکلنے اجازت دی گئی ہے پہلی دونوں آیات میں بظاہر خطاب ام المومنات سے ہے مگر تیسری آیت میں مسلمان عورتوں کو بھی گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی جارہی ہے جیسا ابن عباس نے اس آیت کے حوالے سے جو تشریح کی ہے جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے غور طلب بات یہ ہے کہ پردے کا حکم عورتوں کو کب دیا گیا ہے جو اب ان کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی جارہی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلی آیات میں جو حکم ام المومنات کہ لئے دیا گیا ہے وہ صرف ان کے لئے نہیں تھا بلکہ ام المومنات کے واسطہ سے تمام عورتوں کو پردے کی تاکید کی گئی ہے جس کے بعد دوسری اور تیسری آیات میں ان کے محرمات کی فہرست اور اس کے بعد ان کو گھر سے نکلنے کے آداب بتائے جارہے ہیں اور اس آیت میں اللہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمارہا ہے کہ مسلمان عورتوں کو بھی گھر سے باہر نکلنے کے آداب بتادیں۔اس تفصیل کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سورہ احزاب میں پردے کے احکام نہ کسی ہنگامی حالات میں اترے تھے نہ ہی یہ ام المومنات کے لئے خاص تھے۔اب اس کے بعد ہم سورہ نور سے مطلق پردے کے احکام کا جائزہ لیتے ہیں جس سے اکثر حضرات چہرہ کھلا رکھنے کی دلیل لیتے ہیں۔ جاری ہے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,748
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سورہ نورسے چہرہ کھلا رکھنے کا جواز
سورہ نور کی آیت ۳۰-۳۱ میں پردے سے مطلق احکام آئے ہیں جس سے بعض لوگ چہرہ کھلا رکھنے کا جواز نکالتے ہیں ہم ان آیات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان میں کیا بیان ہوا ہے: ترجمہ آیت:۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے جو کچھ لوگ کرتے ہیں اللہ کو اس کی خوب خبر ہے۔اور مومن عورتوںسے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جو اس میں سے کھلی چیز ہے اور اپنے دوپٹے اپنے گریبان پر ڈالے رہا کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ کے سامنے یااپنے شوہر کے باپ کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے سامنے یا اپنی باندیوں کے سامنے یا ان مردوں کے سامنے جو تابع ہوں (یعنی غلام) اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو یا ایسے لڑکوں کے سامنے جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے واقف نہ ہیں اور زمین پر اپنے پاؤں مارتی ہوئی نہ چلا کریں انکا پوشیدہ زیور معلوم ہو جائے اور اے ایمان والوسب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(سورہ نور آیت۳۰-۳۱) جو حضرات چہرہ کھلا رکھنے کی دلیل دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نگاہ نیچے رکھنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ چہرہ کھلا ہوتا ہے توہم وہی کہتے ہیں جو مودودی صاحب نے تفہیم قرآن میں اس آیت کی تشریح میں کہاہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلم عورتیں بھی ہوتی ہیں اور اللہ کی نافرمان عورتیں بھی ہوتی ہیں جیسا ہم آج کل مشاہدہ کررہے ہیں اس لئے نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ہے اور دوسرے جواز میںوہ ان آیات کا یہ حصہ پیش کرتے ہیں ''ولا یبد ین زینتھن الا ما ظھرمنھا'' ( اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جو اس میں سے کھلی چیز ہے)ہے اور اس کی تشریح میں ابن عباس سے قول نقل کرتے ہیں جس کو ہم آگے بیان کریں گے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں زینت سے کیا مراد ہے : ترجمہ آیت:۔اے اولادآدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنی زینت کا اہتمام کر لیا کرو،''(سورہ اعراف آیت ۳۱ )ترجمہ آیت:۔ہم ہی نے ستاروں سے آسمان دنیا کو زینت دی ہے''(سورہ الصفت آیت۶، سورہ الملک آیت ۵)ترجمہ آیت:۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں(سورہ الکھف آیت۴۶ ) (ان مقامات کے علاوہ بھی قرآن مجید نے زینت کا لفظ استعمال کیا ہے زینت سے قرآن مجید کی مراداس وجود کی ذات کا کوئی حصہ نہیں ہے بلکہ کسی باہر کی چیزسے لاکر اس کو زینت دی گئی ہو جیسا پہلی آیت میں ہے کہ مسجد میں زینت(لباس) اہتمام کر آؤ لباس انسانی وجود کا حصہ نہیں ہے وہ اس سے باہر کی چیز ہے جس سے انسان زینت حاصل کرتا ہے اس طرح ستارے آسمان کے وجود کا حصہ نہیں ہیں بلکہ اللہ نے ستارے آسمان کو زینت دینے کے لئے رکھ دیئے ستارے ایک الگ وجود رکھتے ہیں وہ آسمان کا حصہ نہیں ہیں اسی طرح سورہ نور میں زینت جو ظاہر ہو جائے سے مراد چہرہ نہیں ہو سکتا کیونکہ چہرہ انسانی وجود کا حصہ ہے وہ اس سے باہر کی چیز نہیں ہے اور سورہ نور کی اس آیت کی جو تشریح صحابہ کرام نے کی ہے اسی بات سے مطابقت رکھتی ہے مگرصحابہ کرام کے اقوال سے پہلے ایک بات نوٹ کرلیں وہ یہ کہ قرآن مجید نے الا ما اظھرن منھا (سوائے جو عورتیں خود ظاہر کریں)نہیں کہا ہے بلکہ الا ما ظھرمنھاکہا ہے یعنی جو از خود ظاہر ہے جیسے قد کاٹھ ،چادر،آنکھیں ،پاؤں وغیرہ اور چہرہ ظاہر کیاجاتا ہے نہ کہ از خود ظاہر ہوتا ہے جسے قد کاٹھ وغیرہ از خود ظاہر ہیں اور اب صحابہ کرام نے جو اس آیت کی تشریح کی ہے ہم اس کو بیان کرتے ہیں۔عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے الا ما ظھرمنھا سیمراد اوڑھنی ہے ،اور ابن عباس سے دو قول منقول ہیں: (١)ابن عباس سے منقول ہے کہ الا ما ظھرمنھاسی مراد آنکھوں کا سرمہ اور رخسارہ ہے،(۲)ابن عباس سے منقول ہے کہ الا ما ظھرمنھاسے مرادچہرہ ،آنکھوں کا سرمہ ،ہاتھ کی مہندی ہے پس ظاہر کرے گی اپنے گھر میں جس میں لوگ داخل ہوتے ہیں۔(تفسیر طبری ) یہی وہ قول ہے جس سے بعض حضرات چہرہ کھلا رکھنے کاجواز لیتے ہیں دراصل یہ قول ابن کثیر نے مختصراً نقل کیا ہے اسی وجہ سے بعض حضرات کو غلط فہمی ہوئی کہ اس آیت کی تشریح میں ابن عباس عورت کا چہرہ کھلا رکھنے کوگھر سے باہر صحیح سمجھتے ہیں مگر اس کا اصل مخرج تفسیر طبری میں ہے اور وہاں یہ قول پورا اسی طرح نقل ہوا ہے جیسا ہم نے اوپر بیان کیا ہے اور یہی وہ دلیل ہے جو اکثر حضرات چہرہ کھلا رکھنے کے بارے میں دیتے ہیں اب اس میں یہ بات بھی آتی ہے اس قول میں ابن عباس نے وہ کون سے لوگ بیان کئے ہیں جو گھر میں داخل ہوتے ہیں ظاہر سی بات ہے کہ وہ اس کے محرم ہیں کیونکہ سورہ نور کی آیت 2میں کسی دوسرے کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت لینی ضروری ہے اور اجازت نہ ملے تو لوٹ جانے کا حکم ہے اور اس کے برخلاف سورہ نور ہی کی آیت 6میں اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کا حکم ہے جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ابن عباس نے جن لوگوں کا ذکر کیا ہے وہ اس کے محرم ہیں جو بغیر اجازت گھر میں آ سکتے ہیں مگر دوسرے لوگوں کو بغیر اجازت کسی کے گھر میں جانا شریعت نے ممنوں قرار دیاہے پس اب یہ ثابت ہوتا ہے کہ سورہ نور کی آیت سے بھی کوئی ایسا حکم نہیں نکالتا کہ عورت گھر سے باہر چہرہ کھلا رکھ سکتی ہے بلکہ ابن عباس کے جس قول سے اکثر حضرات جو جواز پیش کرتے ہیں وہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اس قول میں بھی ابن عباس عورت کے گھر میں اس کا چہرہ کھلا رکھنے کے قائل ہیں تاکہ اس کو گھر کے کام کاج میں پریشانی نہ ہو اورمحرم کے سامنے عورت چہرہ کھلا رکھ سکتی ہے اب اس کے بعد ان احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں جن سے اکثر حضرات چہرہ کھلا رکھنے کا جواز نکالتے ہیں ۔ (١) مفہوم حدیث:ام المومنین سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ اسماء باریک کپڑے پہنے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک دوسری طرف پھیر لیا اور چہرہ اور ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :اے اسماء جب عورت بالغ ہوجائے تو جائز نہیں کہ اس کے چہرے اور ہاتھوں کے سوا کچھ نظر آئے(سنن ابوداؤد کتاب لباس جلد3،سنن بہقی) (٢) مفہوم حدیث:۔عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع میں ان کے بھائی فضل بن عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے اس دوران ایک عورت آئی تو فضل بن عباس اس کی طرف اور وہ فضل کی طرف دیکھنے لگی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کا چہرہ دوسری جانب کردیا۔(صحیح بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج و فضلہ جلد۱) (٣)۔مفہوم حدیث: جابر سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایااور پھر عورتوں کی طرف چل کر آئے اور فرمایا اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو کیونکہ جہنم کا ایندھن تم ہی ہو اس پر ایک عورت جس کے رخسار سیاہی مائل تھے درمیان سے اٹھی۔ (مسلم کتاب صلاةالعیدین جلد۲) پہلی حدیث امَ عائشہ سے جو روایت ہے یہ حدیث ضعیف ہے اس میں خالد بن دریک نے امَ عائشہ سے براہ راست نہیں سنا ہے اس کو امام ابوداؤد نے بھی سنن میں بیان کیا ہے اور اس کی سند میں سعید بن بشیر ہے جس کو اکثر محدثین نے ضعیف کہا ہے اس کے بعد جو فضل بن عباس والی روایت ہے تو اس میں حج کا موقعہ ہے جس میں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دیا ہے تو اس میں چہرہ کھلا رکھنا حج کے ساتھ خاص ہے اور اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کا چہرہ پھیر دیا تھااور اس کے بعد جابر والی روایت میں اگر اس عورت کا چہرہ کھلا نہ ہوتا تو جابر کو کیسے پتا چلتا کہ اس عورت کے رخسار سیاہی مائل تھے اس حدیث میں جو سیاہی مائل رخسار کا ذکر ہے حدیث میں اس کے عربی متن میں جو لفظ آیا ہے وہ(سفاء الخدین)کے ہیں جس کو رخسارہ کہا جاتا ہے رخسارہ آنکھ سے نیچے کی ہڈی کو کہتے ہیں اور یہ حصہ اکثر نقاب کرنے کے بعد بھی کھلا رہتا ہے تاکہ عورت کو راستہ دیکھنے میں پریشانی نہ ہو اور ابن عباس نے جو سورہ نور کی آیت کی تشریح کی ہے اس میں بھی اس حصے کو کھلارکھنے کا بیان کیا ہے اور جابر کو بھی یہ حصہ ہی نظر آیا ہے اور وہ سیاہی مائل تھا مطلب یہ کہ اس عورت کے آنکھ کے نیچے حلقے تھے جو جابر کو نظر آئے اور ہم یہ بات اس لئے کہ رہے ہیں کہ کبھی بھی کسی انسان کے صرف گال کارنگ اور ہو اور باقی چہرے کا رنگ دوسرا ہو ایسا نہیں ہوتا ہے مگر انسان کے آنکھ کے نیچے کی جگہ کمزوری کی وجہ سے اور یا دھوپ کی وجہ سے سیاہ یا سرخی مائل ہو جاتی ہے اور دوسری بات کہ جابر نے اس عورت کے چہرے کے رنگ کا تذکرہ نہیں کیا یا یوں نہیں کہا کہ اس عورت کا رنگ صاف تھا اور اس کے رخسارہ سیاہی مائل تھے اس کی وجہ یہ ہے اس عورت کا تمام چہرہ چھپا ہوا تھا اور اس لئے جابر کو اس عورت کے صرف رخسارہ ہی نظر آئے تھے اس لئے انھوں نے اس ہی کا ذکر کیا ہے پس اس حدیث سے بھی چہرہ کھلا رکھنے کا جواز نکالنا صحیح نہیں ہے جبکہ چہرے کے پردے کے بارے میں قرآن مجید کی آیات اور متعدد احادیث موجود ہوں، جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ چہرہ کا پردہ ام المومنات کے لئے خاص تھا اب ہم اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ جاری ہے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,748
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چہرے کا پردہ ازواج مطہرات کے لئے ہے
جو حضرات چہرے کا پردہ ام المومنات کے ساتھ خاص کرتے ہیں وہ سورہ احزاب کی آیت ۵۳اور ۳۲-۳۳ کا حوالہ دیتے ہیں آیت ۵۳پر ہم اوپر(سورہ احزاب میں احکام حجاب کا انکار) میں تفصیل سے بات کر چکے ہیں اور اب یہاں ہم آیت ۳۲-۳۳ کا مطالعہ کریں گے۔ترجمہ آیت:۔اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو اگر تم تقوی اختیار کرہ تو تم لہجہ میں نرمی اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو اوراپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو اور نماز قائم کرو اور زکوة دیتی رہو اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اللہ تو بس یہ چاہتا ہے اے اہل بیتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ تم سے آسودگی کو دور کر دے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔ اکثر حضرات ان آیات کے اس حصے سے دلیل لیتے ہیںکہ(اپنے گھروں میں ٹک کر رہو)اوراس کو ام المومنات کے لئے خاص کرتے ہیں مگر اگر ہم ان آیات پر ذرا غور کریں تو یہ بات بلکل واضح ہے کہ اس میں خطاب بظاہر ام المومنات سے اور ان کہ واسطے سے تمام عورتوں کے لئے ہے ان آیات میں جہاں تقوی کے بارے میں کہا گیا ہے وہاں پرعام عورتوں کی مثال دی گئی ہے جو ظاہر سی بات ہے کہ ام المومنات کے تقوی کا مقام عام عورتوں سے بلاشبہ اونچا ہے کہ تم (ام المومنات) عام عورتوں کی طرح نہیں ہو مگر جہاں پر گھر میں بیٹھنے کا حکم دیا جارہا ہے اس جگہ یہ نہیں کہا گیا کہ عام عورتوں کی طرح گھر سے نہ نکلو بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عام عورت بھی اس وقت بلا ضرورت گھر سے نہیں نکلتی تھی اس لئے اللہ نے زمانے جاہلیت کی عورت کی مثال دی ہے اگر ہم اور دیکھئے تو نماز اور زکوة کا حکم آرہا ہے تو یہ نماز کا حکم بھی کیا ام المومنات کے لئے تھا اور دوسری عورتوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا اور اس کے بعد زکوة کا حکم دیا جارہا ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں یہ بات عرض کروں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اتنا مال اپنے پاس جمع کیا کہ اس پر زکوة ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کبھی اپنے پاس کچھ نہ رکھاجو کچھ بھی ہوتا سب غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کر دیتے تھے تو یہ زکوة کا حکم کس کے لئے ہیں ظاہر سی بات ہے یہ عام عورتوں کے لئے ہے اور اس کے بعد بیا ن ہو رہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو تو یہ حکم بھی کیا ام المومنات کے لئے ہے اور دوسری عورتوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت لازم نہیں ہے اور اب آخر میں ابن کثیر کے حوالے سے بھی یہ بات نقل کر دیں تو بات واضح ہو جائی گی ابن کثیر اس آیت کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ ''اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں اس لئے یہ احکام سب مسلمان عورتوں کے لئے ہیں (تفسیر ابن کثیر،تفسیر طبری) اب اس بات میں ذرا بھی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ چہرے کا پردہ صرف ام المومنات کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ تمام عورتوں کے لئے ہے اور اب ہم اس بات کو قرآن مجید اور احادیث سے ثابت کریں گے ۔ کیاچہرے کا پردہ ضروری ہے اس تمام تفصیل کے بعد ہم صرف ایک آیت پیش کریں گے جس سے بات واضح ہو جائی گی کہ چہرے کا پردے ضروری ہے ۔ ترجمہ آیت: اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی تو وہ اگر چادر اتار دیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کا مظاہرہ نہ کرتی پھریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ سننے والا اورجاننے والاہے(سورہ نور آیت۶۰) اگر ہم اس آیت پر غور کریں تو اللہ نے فرمایا ہے کہ جو عورتیں نکاح سے مایوس ہوگئی ہیں (یعنی بوڑھی ہوں ) تو وہ اپنی چادر اتار دیں تو ان پر گناہ نہیں ہے اور اگر جو نکاح کی امیدرکھتی ہوں (یعنی جوان ہوں ) تو اگر وہ چارد اتار دیں گی تو کیا ہو گا لازم سی بات ہے کہ ان پر گناہ ہو گااب اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ چادر کون سی ہے عبداللہ بن مسعود اور ابن عباس سے تفسیر طبری میں جو اس آیت کی تشریح منقول ہے اس میں ابن عباس نے اسے (جلباب)کہا ہے اور جلباب وہی چارد ہے جس کا ہم نے ابن عباس کے حوالے سے سورہ احزاب کی آیت ۵۹ میں بیان کیا تھاکہ مسلمان عورتیں اپنا چہرہ ڈھک لیں اور عبداللہ بن مسعود نے اسے اوڑھنی کہا ہے جس کو ہم نے سورہ نور کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے اب اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت اگر پردہ نہ کرے گی تو گناہ گار ہوگی اور اب ہم احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جو متعدد روایات چہرے کے پردے کے بارے میں موجود ہیں ۔ (١)مفہوم حدیث:۔ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احرام کی حالت میں عورتیں نقاب نہ ڈالیں۔ (بخاری کتاب العمرة جلد ۱) اس حدیث میں احرام کی حالت میں نقاب کرنے سے منع کیا جارہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتیں عام حالت میں نقاب کرتی تھی جس کی وجہ سے انھیں منع کیا جارہا ہے۔ (٢)مفہوم حدیث:۔ ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا مستورات کے نکلنے کا عید کے روز(یعنی نماز کے لئے ) ایک عورت نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو اگر وہ نہ جائے تو کیا حرج ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی سہیلی کچھ چادر اس پر ڈال دے۔ (صحیح بخاری کتاب الصلوةجلد 1،سنن ابوداؤد کتاب الصلوةجلد۱) اس حدیث میں بھی چادر(جلباب) کا ذکر ہے جس کے بغیر عورتیں گھر سے باہر نہ نکلتی تھی۔ (٣)مفہوم حدیث: واقعہ افک(جس کے دوران عبداللہ بن ابی ملعون نے حضرت عائشہ پر بہتان لگایا تھا) کے متعلق امَ عائشہ فرماتی ہیں کہ جنگل سے واپس آکر جب میں نے دیکھا کہ قافلہ چلا گیا تو میں بیٹھ گئی اور سو گئی صبح صفوان بن معطل وہاں سے گزرے تو دورسے کسی کو پڑے دیکھ کر وہاں آگئے وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے کیونکہ حجاب کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے مجھے پہچان کر جب انہوں نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو ان کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے منہ ڈھانک لیا۔ (بخاری ومسلم) اس حدیث میں بھی جو چادر کے الفاظ آئے ہیں وہ جلباب ہے جس کا تذکرہ ہم متعدد بار کر چکے ہیں۔ (٤)مفہوم حدیث: ام َ عائشہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے پردے کی اوٹ سے اشارہ کیا اور اس کے ہاتھ میں وہ کتاب تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر تھی سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ مرد کا ہاتھ ہے کہ عورت کا تو اس عورت نے کہا کہ عورت کا ہاتھ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر عورت ہوتی تو اپنے ناخونوں کو مہندی سے رنگتی۔(سنن ابودااؤدکتاب الترجل جلد۳)اس حدیث سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے سورہ احزاب آیت۵۳میں جوحکم ام المومنات کو دیا ہے وہ ان کے واسطے سے تمام عورتوں کو حکم ہے (٥) مفہوم حدیث:۔ مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیاایک عورت کا کہ میں پیام دیتا ہوں اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا اسکو دیکھ لے اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے آخر میں ایک انصار عورت کے پاس آیا اور میں نے اس کو پیام دیا اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ ان سے بیان کر دیا لیکن ایسا معلوم ہوا جیسے ماں باپ نے اس کو پسند نہ کیا اس عورت نے پردے میں سے یہ بات سنی تو کہنے لگی اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے تو دیکھ لے ورنہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتی ہوں (گویا کہ اس نے دیکھنا بڑی بات سمجھا) ۔ (ابن ماجہ کتاب النکاح جلد٣) اگر عورت کا چہرے کا پردہ نہ ہوتا تو ان صحابی کو کیوں ان کو دیکھنے کے لئے ا س قدر پریشانی ہوتی وہ تو اس کو کہیں بھی آتے جاتے دیکھ سکتے تھے اور دوسری بات اس عورت نے بھی پردے کی اوٹ لی ہوئی تھی اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہ دیا ہو تا تو اس نے اس طرح دیکھنے کو بڑی بات سمجھاتھا۔ (٦) مفہوم حدیث:۔ام سلمہ سے روایت ہے جب یہ آیت اتری (یعنی نیچے لٹکالیں اپنے اوپر تھوڑی چادریں اپنی) تو انصار کی عورتیں اس طرح نکلتی تھیں جیسے ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہیں یعنی سیاہ کپڑے سروں پر ڈالتیں۔(سنن ابوداؤد کتاب لباس جلد ۳3،ابن کثیر)یعنی چارد سے اپنا چہرہ ڈھانک لیتی تھی جیسا ابن عباس نے سورہ احزاب کی آیت ۵۹کی تشریح میں کہا ہے۔ (٧)مفہوم حدیث:۔ام سلمہ نے کہاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے فرماتے تھے کہ جس مکاتب(غلام جو مالک سے معاہدہ کرتا ہے) ہو جس سے یہ شرط ہوگئی کہ اگر اتنا روپے دے تو آزاد پھر اس کے پاس اتنی رقم بھی جمع ہو گئی تو مالک کو چاہئے کہ اس سے پرد ہ کرے(مسند احمدجلد ۶حدیث ۲۸۹،سنن ابوداؤد کتاب العتق جلد۲) حرف آخر :اس تمام تفصیل کا اصل مقصد یہی ہے کہ خواتین میں پردے کی اہمیت اجاگر ہو سکے اور اللہ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اس کے احکام خوشدلی سے قبول کریں کیونکہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے اللہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین) ( وماعلینا الابلاغ) تحفظ حدیث فاؤنڈیشن |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
فاروق صاحب گستاخی معاف................آپ احآدیث والے تھریڈ میں کیوں رپلائے نہیں کر رہے؟؟؟
تاکہ اگلا ستیپ شروع کیا جاسکے.............. یہ میرا بطور ممبر سوال ہے!!! |
|
|
|
| عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا | dxbgraphics (17-01-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
عبداللہ آدم صاحب ۔ ہاد دہانی کا شکریہ۔ جو معلومات فراہم کی ہیں اس کے بعد بھی آپ کو کسی قسم کی معلومات درکار ہیں تو بھائی خود ڈھونڈھ لیں۔ میں بے کار کی بحث کے بجائے تعمیری کام کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | پاکستانی (11-02-11), عبداللہ آدم (17-01-11) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور بلا دلیل کسی چیز کا انکار کر دینا کتنا تعمیری ہے؟
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (23-01-11), عبداللہ آدم (17-01-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 125
کمائي: 3,640
شکریہ: 87
92 مراسلہ میں 300 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
موجودہ مادیت کے دور میں جہاں ہرطرف بےراہ راوی اور گمراہیت کا بازار گرم ہے وہیں میڈیا کے ذریعے بعض نام نہاد اسکالرز مسلمانوں میں فتنہ فساد اور انتشار پھیلارہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کوئی علمی مقام نہیں ہے۔ یہ لوگ چند قرانی ایات اور احادیث یاد کر کے ایک دو گھنٹے اپنی طرف سے ایسی گفتگو کرتے ہیں کہ سامعین کو یوں لگے کہ جیسے ان سے بڑا کوعالم شاہد ہی عالم اسلام میں کوئی ہوگا۔ جاوید غامدی میڈیا پر جس اسلام کو پیش کررہے ہیں وہ سرکارِاعظم صلی اللہ علیہ و سلم کا اسلام نہیں ہے بلکہ وہ نیچری اور پرویزفکر کی ترجمانی کررہا ہے جسکا صحابہ کرام و تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور کے اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حضرت ابوہریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت پرایک زمانہ ایسا ائیگا کہ ان میں قراء بہت ہونگے اور دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہونگے۔ علم اٹھالیا جائیگا اور ہرج بہت زیادہ ہوجائیگا۔ صحابہ نے پوچھا یہ ہرج کیا ہے؟ فرمایا تمہارے درمیان قتل۔ پھر اسکے بعد ایسا زمانہ ائیگا کہ لوگ قرآن پڑھینگے حالانکہ قرآن انکے حلق سے نہیں اتریگا، پھر ایسا زمانہ ائیگا کہ منافق، کافر اور مشرک مومن سے (دین کے بارے میں) میںجھگڑا کرینگے۔ (المستدرك على الصحيحين ج:4ص:504 ) تاریخ پر اگر نظر ڈالے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں نے میدان جنگ میں شکست بھی کھائی، مثال کے طور پر تاتاریوں کے ہاتھوں مسلمانوں نے جونقصان اٹھایا تھا اج بھی مسلم دنیا اس پر خون کے انسوں رورہی ہے۔ جسمانی غلامی کے باوجود مسلمانوں کے زہین ازاد تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ تاتاریوں کی وہ وقتی فتح شکست میں بدل گئی۔ موجودہ دور میں بدقسمتی سے مسلمان قوم جسمانی لحاظ سے تو ازاد ہے لیکن وہ مغرب کی بدترین زہنی غلامی سے دوچار ہے اور یہ غلامی جسمانی غلامی سے بہت زیادہ خطرنات اور مہلک ہے۔ زہنی غلامی کی سب سے بڑی نحوست یہ ہوتی ہے کہ زہنی طور پر غلام قوم اچھے کو برا اور برے کو اچھا، نقصان کو فائدہ اور فائدے کو نقصان، دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست سمجھ رہی ہوتی ہے۔ اسی زہنی غلامی نے مسلمانوں کو قران و حدیث کے مطابق سوچنے کی صلاحیت سے دور کر کے رکھدیا کہ وہ حالات کو قران و احدیث کی روشنی میں تجزیہ کرتے۔ موجودہ دور میں نام نہاد دانشور، مفکرین اور ادیب اپنے قلم کو انہی راستوں پر دوڑاتے ہوئے نظر اتے ہیں جو خود مغربی مفکرین نے اپنے ہاتھ سے بنائے ہوتے ہیں۔ ایسے دانشورں کے بارے میں یہودی پروٹوکولز میں لکھا ہے کہ یہ لوگ ھماری ہی زھن سے سوچتے ہیں جو رخ ھم ان کو دیتے ہیں یہ اسی پر سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب تک کسی قوم کا اپنے عقیدے اور نظریے، اپنے بنیادوں اور اصولوں سے گہرا تعلق رہےگا وہ قوم اس وقت تک کسی کی زہنی غلام نہیں بن سکتی۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اسی وقت تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے جب تک اسکا اپنے افکار و نظریات، عقیدے اور اصولوں کے ساتھ گہرا تعلق رہتا ہے۔ کسی نظریے اور عقیدے کے بغیر کوئی بھی قوم اس قافلے کی طرح ہوتی ہے جو ڈاکووں کے ہاتھوں لٹنے کے بعد صحراء میںحیران و پریشان بھٹکتا پھررہا ہو۔ اور ایسے قافلے کی بدنصیبی یہ ہوتی ہے کہ یہ ہر رہزن کو رہبر سمجھ کر اسکے پیچھے چلنا شروع کردیتا ہے۔ باربار دھوکہ کھانے کے بعد بھی انکا یہی خیال ہوتا ہے کہ اس بار انکا سفر صحیح سمت میں ہورہا ہے۔ اسطرح یہ قافلہ اسوقت تک بھٹکتا ہی رہتا ہے جب تک یہ قافلے والے اس راستے کا پتہ نہیں چلالیتے جہاں ان کو لوٹا گیا تھا۔ |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
جاوید غامدی ایک بہترین سکالر ہے۔ اس کے تمام نکات قرآن حکیم کے مطابق ہوتے ہیں۔ آپ کے پاس ایک بھی نکتہ نہیں جو اس کو غلط ثابت کرتا ہو۔
بہت شکریہ۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Member
اجنبی
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بھائی آپ نے جاوید احمد غامدی صاحب کو بہت بڑا سکالر کہا ہے لیکن آپ کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ یہ وہ آدمی ہے جو احادیث کا انکار کرتا ہے۔ اگر آپ کو اس بارے میں تفصیل چاہیے تو ماہنامہ محدث کا مطالعہ فرمائیں۔ اور اس میں چوہدری رفیق صاحب نے ان کا کھل کر مقابلہ کیا ہے اور ان کے وہ کلاس فیلو ہیں۔ تو آپ یہ نہ ۤدیکھیں کہ یہ میڈیا پر آرہا ہے اور کافی لوگ اس کو سن رہے ہیں بہر حال میرا جہاں تک مطالعہ ہے اور جہاں تک میں نے ریسرچ کی ہے وہ انکار حدیث کرنے والا آدمی ہے۔ اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا انکار کریں تو اس کی بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اور یہ پورا ایک گروپ ہے اور ان کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب ہیں اور ان کے استاد علامہ فراہی صاحب ہیں۔ یہ سارا گروپ ہے جو احادیث کا انکار کر نے والا ہے۔ میں ان شاء اللہ وہ آپ کو محدث کے مضامین بھی پیش کر دوں گا۔ اور آپ اس پر ریسرچ کریں اس کے بعد فیصلہ کرنا کہ یہ کیسا آدمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے انکار کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
بہت شکریہ ۔۔۔ آپ نے جاوید غامدی پر الزام لگایا ہے --- کہ وہ احادیث کا انکار کرتا ہے۔۔ احادیث کا انکار ۔۔ ارتداد ہے ،،،، جس کی سزا موت ہے۔۔۔۔ کسی شخص پر جھوٹا اور سنا سنایا الزام لگانے کی سزا 80 کوڑے ہیں۔
آپ اس کا کوئی ایسا مستند بیان پیش کریں جس میں یہ شخص تمام احادیث کو ماننے سے انکار کرتا ہو۔ تاکہ آپ کے الزام کی تصدیق ہوسکے۔ فرقوں کے درمیاں احادیث کے مختلف النوع معانی ہیں۔ کچھ کے نزدیک پردہ احادیث سے ثابت ہے اور کچھ کے نزدیک نہیں۔ کچھ پردے کو قران سے ثابت کرتے ہیں اور کچھ نہیں ۔۔۔ لیکن اس طرح کے الزام کے لئے ایک بڑے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا آپ کے پاس ایسی صاف اور واضح دلیل ہے جس کی مدد سے آپ یہ دعوی کررہے ہیں ۔ کہ یہ شخص مرتد ہے؟؟ رسول اکرم کی تمام اھحدیث کا انکار کرتا ہے؟؟؟؟ ملاء یا سیاسی بازیگروں کی اس شخص سے دشمنی کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ملاء اپنی اجارہ داری سمجھتا ہے ۔ دین پر۔۔ اور نہیںچاہتا کہ کوئی بھی دین کو پڑھے۔ جبکہ ملاء کے علمی درجے کا کیا حال ہے اس کے بارے میں بات کسی اور تھریڈ میں ہوگی۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#15 |
|
Member
اجنبی
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ ایک مضمون ہے اس کو آپ پڑھیں اور اس کے علاوہ باقی بھی آپ کے سینڈ کردوں گا۔ تحقيق و تنقيد محمد رفيق چودہرى اسلام اور ’غامديت‘… ايك تقابل ٹى وى كے دانشورجناب جاويد احمد غامدى صاحب (بى اے آنرز، فلسفہ) كے نظريات دين اسلام كے مسلمہ، متفقہ اور اجماعى عقائد و اَعمال سے كس قدر مختلف ہيں اور اُن كى راہ اُمت ِمسلمہ اور علماے اسلام سے كتنى الگ اور جداگانہ ہے، اسے اچهى طرح سمجهنے كے لئے ذيل ميں اُن كى تحريروں پر مبنى ايك تقابلى جائزہ پيش كيا جاتا ہے جس كے مطالعے سے آپ خود يہ فيصلہ فرما سكتے ہيں كہ علماے اسلام اور غامدى صاحب ميں سے كون حق پر ہوسكتا ہے؟ جائزہ ميں سب سے پہلے قرآنِ كريم، پهر سنت ِنبوى اور مصادرِ دين سے متعلقہ ديگر اُمور وغيرہ كى ترتيب پيش نظر ركهى گئى ہے : غامدى صاحب كے عقائد و نظريات متفقہ اسلامى عقائد و اعمال 1 قرآن كى صرف ايك ہى قراء ت درست ہے- باقى سب قراء تيں عجم كا فتنہ ہيں- 2 قرآن مجيد كى سات يا دس (سبعہ يا عشرہ) قراء تيں متواتر اور صحيح ہيں- 3قرآن كا ايك نام ’ميزان‘ بھى ہے- 4’ميزان‘ قرآن كے ناموں ميں سے كوئى نام نہيں ہے- 5قرآن كى متشابہ آيات كا بهى ايك واضح اور قطعى مفہوم سمجها جاسكتا ہے- 6قرآن كى متشابہ آيات كا واضح اور قطعى تفصيلى مفہوم متعين نہيں كيا جاسكتا- 7 سورہٴ نصر مكى ہے- 8سورہٴ نصر مدنى ہے- 9قرآن ميں ’اصحاب الاخدود‘ سے مراد دورِنبوى كے قريش كے فراعنہ ہيں- 10اصحاب الاخدود كاواقعہ بعثت ِنبوى سے بہت پہلے زمانے كا ہے- 11سورہٴ لہب ميں ابولہب سے مراد قريش كے عام سردار ہيں- 12ابولہب سے نبى كريم 1 كا كافر چچا مراد ہے- 13اصحاب الفيل كو پرندوں نے ہلاك نہيں كيا تها بلكہ وہ قريش كے پتهراؤ اور آندهى سے ہلاك ہوئے تهے- پرندے صرف ان كى لاشوں كو كهانے كے لئے آئے تهے- 14اللہ تعالىٰ نے اصحاب الفيل پر ايسے پرندے بهيجے جنہوں نے اُن كو تباہ و برباد كركے ركھ ديا تها- 15سنت قرآن سے مقدم ہے- 16قرآن سنت سے مقدم ہے- 17سنت صرف افعال كا نام ہے- اس كى ابتدا حضرت محمد1 سے نہيں بلكہ حضرت ابراہيم عليہ السلام سے ہوتى ہے- 18 سنت ميں نبى1 كے اقوال، افعال اور تقريرات (خاموش تائيديں) سب شامل ہيں اور وہ محمد1 سے شروع ہوتى ہے- 19سنت صرف ستائيس اعمال كا نام ہے- 20سنتيں سينكڑوں كى تعداد ميں ہيں- 21ثبوت كے اعتبار سے سنت اور قرآن ميں كوئى فرق نہيں-ان دونوں كا ثبوت اجماع اور عملى تواتر سے ہوتا ہے- 22ثبوت كے اعتبار سے سنت اور قرآن ميں واضح فرق ہے- سنت كے ثبوت كے لئے تواتر، اجماع شرط نہيں- 23حديث ِرسول سے كوئى اسلامى عقيدہ يا عمل ثابت نہيں ہوتا- 24حديث ِرسول سے بهى اسلامى عقائد اور اعمال ثابت ہوتے ہيں- 25حضور 1نے حديث كى حفاظت اور تبليغ و اشاعت كے لئے كوئى بهى اہتمام نہيں كيا- 26رسول اللہ1 نے حديث كى حفاظت اور تبليغ و اشاعت كيلئے بہت اہتمام كيا تها- 27ابن شہاب زہرى كى كوئى روايت بهى قبول نہيں كى جاسكتى،وہ ناقابل اعتبار راوى ہيں- 28امام ابن شہاب زہرى روايت حديث ميں ثقہ اور معتبر راوى ہيں اور ان كى روايات قابل قبول ہيں- 29دين كے مصادر قرآن كے علاوہ دين فطرت كے حقائق، سنت ِابراہيمى اور قديم صحائف بهى ہيں- 30دين و شريعت كے مصادر و مآخذ قرآن، سنت، اجماع اور اجتہاد ہيں- 31معروف اور منكر كا تعين انسانى فطرت كرتى ہے- 32معروف و منكر كا اصل تعين وحى الٰہى سے ہوتا ہے- 33نبى1 كى وفات كے بعد كسى شخص كو كافر قرار نہيں ديا جاسكتا- 34 جو شخص دين كے بنيادى اُمور يعنى ضرورياتِ دين ميں سے كسى ايك كا بهى انكار كرے اُسے كافر قرار ديا جاسكتا ہے- 35عورتيں بهى باجماعت نماز ميں امام كى غلطى پر بلند آواز سے ’سبحان اللہ‘ كہہ سكتى ہيں- 36امام كى غلطى پر عورتوں كے لئے بلند آواز سے ’سبحان اللہ‘ كہناجائز نہيں- 37زكوٰة كا نصاب منصوص اور مقرر نہيں ہے- 38زكوٰة كا نصاب منصوص اور مقرر شدہ ہے- 39رياست كسى بهى چيز كو زكوٰة سے مستثنىٰ كرسكتى ہے- 40اسلامى رياست كسى چيز يا شخص كوزكوٰة سے مستثنىٰ نہيں كرسكتى- 41 بنوہاشم كو زكوٰة دينا جائز ہے- 42بنوہاشم كو زكوٰة دينى جائز نہيں- 43اسلام ميں موت كى سزا صرف دو جرائم (قتل نفس، فساد فى الارض) پر دى جاسكتى ہے- 44اسلامى شريعت ميں موت كى سزا بہت سے جرائم پر دى جاسكتى ہے- 45ديت كا قانون وقتى اور عارضى تها- 46ديت كا حكم اور قانون ہميشہ كيلئے ہے- 47قتل خطا ميں ديت كى مقدار تبديل ہوسكتى ہے- 48قتل خطا ميں ديت كى مقدار تبديلى نہيں ہوسكتى- 49عورت اور مرد كى ديت برابر ہے- 50 عورت كى ديت، مرد كى ديت سے آدهى ہے- 51اب مرتد كى سزاے قتل باقى نہيں ہے- 52اسلام ميں مرتد كے لئے قتل كى سزا ہميشہ كے لئے ہے- 53زانى كنوارا ہو يا شادى شدہ دونوں كى سزا صرف سو كوڑے ہے- 54شادى شدہ زانى كى سزا از روئے سنت سنگسارى ہے- 55چور كا داياں ہاتھ كاٹنے كى بنياد قرآنِ كريم ميں ہے- 56چور كا داياں ہاتھ كاٹنا صرف سنت سے ثابت ہے- 57شراب نوشى پر كوئى شرعى سزانہيں ہے- 58شراب نوشى كى شرعى سزا ہے جو اجماع كى رو سے ٨٠ كوڑے مقرر ہے- 59عورت كى گواہى حدود كے جرائم ميں بهى معتبر ہے- 60حدود كے جرائم ميں عورت كى شہادت مرد كى طرح نہيں بلكہ قرائن ميں شامل ہے- 61صرف عہد نبوى كے عرب مشركين اور يہود و نصارىٰ مسلمانوں كے وارث نہيں ہوسكتے- 62كسى زمانہ كا كوئى كافر كسى مسلمان كا كبهى وارث نہيں ہوسكتا- 61اگر ميت كى اولاد ميں صرف بيٹياں وارث ہوں تو اُن كو والدين يا بيوى شوہر كے حصوں سے بچے ہوئے تركے كا دو تہائى حصہ ملے گا 64ميت كى اولاد ميں صرف بيٹياں ہى ہوں تو ان كو كل تركے كا دو تہائى حصہ ديا جائے گا- 65سور كى كهال اور چربى وغيرہ كى تجارت اور ان كا استعمال ممنوع نہيں- 66سور نجس العين ہے لہٰذا اس كى كهال اور اجزاے بدن كا استعمال اور تجارت جمہور كے نزديك حرام ہے- 67عورت كيلئے دو پٹہ پہننا شرعى حكم نہيں- 68عورت كيلئے دوپٹہ اور اوڑهنى پہننے كا حكم قرآن كى سورة النور:٣١ سے ثابت ہے- 69كهانے كى صرف چار چيزيں ہى حرام ہيں: خون، مردار، سور كا گوشت اور غير اللہ كے نام كا ذبيحہ- 70ان كے علاوہ كهانے كى بہت سى اور چيزيں بهى حرام ہيں جيسے كتے،درندوں،شكارى پرندوں اور پالتو گدهے كا گوشت وغيرہ 71 كئى انبيا قتل ہوئے ہيں مگر كوئى رسول كبهى قتل نہيں ہوا- 72از روئے قرآن بہت سے نبيوں اور رسولوں دونوں كو قتل كياگيا- 73عيسىٰ عليہ السلام وفات پاچكے ہيں- (غامدى اور قاديانى وغيرہ) حضرت عيسىٰ عليہ السلام آسمان پر زندہ اُٹها لئے گئے- وہ قيامت كے قريب دوبارہ دنيا ميں آئيں گے اور دجال كو قتل كريں گے- ياجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربى اقوام ہيں- ياجوج ماجوج اور دجال قرب ِقيامت كى دو الگ الگ نشانياں ہيں- احاديث كى رُو سے دجال ايك يہودى شخص ہوگا جو دائيں آنكھ سے كانا ہوگا- جہاد و قتال كے بارے ميں كوئى شرعى حكم نہيں ہے- جہاد و قتال ايك شرعى فريضہ ہے- كافروں كے خلاف جہاد كرنے كا حكم اب باقى نہيں رہا اور اب مفتوح كافروں سے جزيہ نہيں ليا جاسكتا- كفار كے خلاف جہاد كا حكم ہميشہ كے لئے ہے اور مفتوح كفار (ذميوں) سے جزيہ (ٹيكس) ليا جاسكتا ہے- غامدى صاحب كے چند مزيد اجتہادات 1 عورت مردوں كى امامت كرا سكتى ہے- (ديكهئے: ماہنامہ ’اشراق‘: مئى ٢٠٠٥، ص ٣٥ تا ٤٦) 2 عورت نكاح خوان بن سكتى ہے- جناب جاويد احمد غامدى نے، اس سوال كے جواب ميں كہ كيا كوئى عورت نكاح پڑها سكتى ہے؟فرمايا: ”جى ہاں! بالكل پڑها سكتى ہے…الخ“ (www.ghamidi.org) 3 مرد اور عورتيں برابر كهڑے ہوكر باجماعت يا انفرادى دونوں طرح سے نماز ادا كرسكتے ہيں- غامدى صاحب كے ايك شاگرد سكالر سے سوال كيا گيا،كيا مرد اور عورت اكٹهے كهڑے ہو كر باجماعت نماز ادا كرسكتے ہيں؟ تو اس كا يہ جواب ديا گيا: ”مرد اور عورت كهڑے ہو كر باجماعت يا انفرادى،دونوں طرح سے نماز ادا كر سكتے ہيں-اس سے دونوں كى نماز ميں كوئى نقص واقع نہيں ہوتا…الخ “ (www.urdu.understanding-islam.org) 4 اجنبى مردوں كے سامنے عورت بغير چادر اوڑهے يا بغير دوپٹہ يا اوڑهنى سر پر لئے آجاسكتى ہے- 5 رقص وسرود جائز ہے- ’اشراق‘ كے نائب مدير سيد منظور الحسن اپنے مضمون ’اسلام اور موسيقى‘ جو ’جاويد غامدى كے افادات‘ پر مبنى ہے، ميں لكهتے ہيں: ”موسيقى انسانى فطرت كا جائز اظہار ہے، اس لئے اس كے مباح ہونے ميں كوئى شبہ نہيں ہے-“ … ”ماہر فن مغنيہ نے آپ1 كى خدمت ميں حاضر ہوكر اپنا گانا سنانے كى خواہش ظاہر كى تو آپ نے سيدہ عائشہ كو اس كا گانا سنوايا، سيدہ عائشہ حضور كے شانے پر سرركھ كر بہت دير تك گانا سنتى اور رقص ديكهتى رہيں -“ (اشراق بابت مارچ ٢٠٠٤ء، ص ٨ و ١٩) 6 جاندار چيزوں كى تصويريں بنانا جائز ہے- اداره ’المورد‘ كے ريسرچ سكالر جناب محمد رفيع مفتى اپنى كتاب’تصوير كا مسئلہ‘ ميں لكهتے ہيں: ”…ليكن فى نفسہ تصوير كے بارے ميں كسى اعتراض كى كيونكر گنجائش ہو سكتى ہے،جب كہ خدا اور اس كے رسول نے اُنہيں جائز ركها ہو؟“ (’تصوير كا مسئلہ‘،ص٣٠) 7 مردوں كے لئے داڑهى ركهنا دين كى رُو سے ضرورى نہيں- جيسا كہ المورد كے ايك ريسرچ سكالر لكهتے ہيں: ”عام طور پر اہل علم داڑهى ركهنا دينى لحاظ سے ضرورى قرار ديتے ہيں، تاہم ہمارے نزديك داڑهى ركهنے كا حكم دين ميں كہيں بيان نہيں ہوا،لہٰذا دين كى رو سے داڑهى ركهنا ضرورى نہيں-“ (www.urdu.understanding-islam.org) 8 هندو مشرك نہيں ہيں- چنانچہ غامدى صاحب كے ايك شاگرد”كيا ہندومشرك ہيں؟“ كے عنوان كے تحت لكهتے ہيں: ”ہمارے نزديك مشرك وہ شخص ہے جس نے شرك كى حقيقت واضح ہو جانے كے بعد بهى شرك ہى كو بطور دين اپنا ركها ہو-چونكہ اب كسى ہندو كے بارے ميں يقين كے ساتھ نهيں كها جا سكتا كہ اس نے شرك كى حقيقت واضح ہو جانے كے بعد بهى شرك ہى كو بطور دين اپناركها ہے،لہٰذا اسے مشرك نہيں قرار ديا جا سكتا ہے…الخ“ (www.urdu.understanding-islam.org) 9 مسلمان لڑكى كى شادى غير مسلم لڑكے سے جائز ہے-حلقہ غامدى كے ايك صاحب لكهتے ہيں : ” ہمارى رائے ميں غير مسلم كے ساتھ شادى كو ممنوع يا حرام قرار نہيں ديا جا سكتا-“ (www.urdu.understanding-islam.org) 10 ہم جنس پرستى ايك فطرى چيز ہے، اس لئے جائز ہے-’المورد‘ كے انگريزى مجلہ رينى ساں كے شمارئہ اگست ٢٠٠٥ء ميں اس موضوع پر ايك مكمل مضمون شائع كيا گيا ہے- 11 اگر بغير سود كے قرضہ نہ ملتا ہو تو سود پر قرضہ لے كر گهر بنانا جائز اور حلال ہے- 12 قيامت كے قريب كوئى امام مہدى نہيں آئے گا- (ماہنامہ اشراق: جنورى ١٩٩٦ء، ص ٦٠) 13 افغانستان اور عراق پر امريكہ حملے جائز اور درست ہيں- 14 اسامہ بن لادن اور ملا عمر، دونوں انتہا پسند اور دہشت گرد ہيں- ان كا موقف شرعى طور پر درست نہيں ہے- 15 مسجد ِاقصىٰ پر مسلمانوں كا نہيں، يہوديوں كا حق ہے-جيسا كہ يہ بحث ’محدث‘ ميں تفصيل سے شائع ہو رہى ہے- 16 حضرت عيسىٰ كى آمد ثانى كا انكاروغيرہ وغيرہ (ماہنامہ اشراق: جنورى ١٩٩٦ء، ص ٦٠) |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عمر فاروقی کا شکریہ ادا کیا | ALI-OAD (23-01-11), dxbgraphics (23-01-11), ابوسعد (10-02-11), ابن آدم (25-01-11), شمشاد احمد (07-02-11), عبداللہ آدم (20-01-11) |
![]() |
| Tags |
| color, com, پہچان, ویب, قرآن, نماز, مجید, معلوم, آج, اللہ, اسلامی, تعارف, جواب, جلد, حکم, حدیث, خواتین, دل, عید, عورت, غامدی, صنفی, صاف, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|