واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-10-08, 03:07 AM   #1
اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 03-10-08, 03:07 AM

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی فکر کیجیے
ہفت روزہ غزوہ 26 ستمبر 2008
اساتذہ و طلبہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
سلام مسنون!
آپ کی اسلام پسندی، دینی حمیت و غیرت، خلوص و خود داری نظریہ پاکستان پر غیر متزلزل یقین، جذبہ حب الوطنی اور آپ کی جرات و بے باکی کے پیش نظر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے بارے میں ہم موجودہ چند تلخ حقائق کا ذکر کرنا چاہتے ہیں تاکہ آپ کو اور آپ کے ذریعے پوری قوم کو معلوم ہو سکے کہ یہ ملی و قومی ادارہ (زاغون کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن) کے مصداق ایک منظور نظر فرد واحد کی انانیت، ہٹ دھرمی اور اسلام بیزاری کے باعث معنوی و علمی طور پر تباہی کے دہانے پر لے جایا جا رہا ہے ریکٹر یونیورسٹی، صدر جامعہ اور نائب صدر کی مثلث ایک خصوصی لابی کا آلہ کار بنتے ہوئے یونیورسٹی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
اللہ شاہد ہے کہ یہ حقائق آپ کی خدمت میں جذبہ اصلاح کے تحت پیش کئے جا رہے ہیں، ہمیں کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے، اندرون جامعہ جو کوئی اصلاح کی بات کرتا ہے تو اسے راستہ سے ہٹایا جا رہاہے جبکہ اساتذہ طلبہ کی اکثریت بزدلی، کمزور ایمان نوکریوں کے تحفظ اور عدم اتحاد کی وجہ سے ڈنگ ٹپاؤ کی پالیسی پر عمل پیراہے، پانی سر سے گزر رہا ہے۔ اگر کچھ عرصہ یہی صورت حال رہی اسلامی روایات کا امین یہ ادارہ اپنی حقیقی شناخت کھودے گا اور آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کی بے حمیتی مداہنت پر ماتم کریں گی لہٰذا اللہ کی رضا کیلئے اس معاملہ میں آپ اپنی بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کریں شائد اللہ تعالیٰ آپ کی اس جرات رندانہ کو آپ کیلئے توشہ آخرت اور آنے والے لوگوں کیلئے مینارہ نور بنا دے۔
ہمارے جذبات و احساسات حکام بالا اور عوام تک پہنچا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پائیں۔
مندرجہ ذیل ان کی نام نہاد روشن خیال پالیسیوں کی فہرست ملاحظہ کر کے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عرصہ دو سال کے دوران ان لوگوں نے یونیورسٹی کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔
-1 یونیورسٹی کی ہائی لیول کمیٹی میں بین الاقوامی شہرت کے حاملین تعلیم و تربیت پر مشتمل ہے اور اس کمیٹی میں ان ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے جو یونیورسٹی کی تاسیس میں پیش پیش تھے۔ خصوصی سعودیہ، کویت، قطر مصر، اب یونیورسٹی کی پالیسی بنانے میں ان دوست ممالک اور محسنین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اسلام کے نام پران سے تاحال چندے بھی وصول کئے جا رہے ہیں بنیادی طور پر یہ ایک اسلامی فلاحی یونیورسٹی تھی مگر اب اسے کمرشل ادارہ بنایا جا رہا ہے پھر بھی طلبہ بہت سی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
-2 ریکٹر ڈاکٹر منظور احمد ایک ملحد، بے دین اور اسلامی تعلیمات سے ٹھٹھہ مذاق کرنے میں مشہور شخصیت ہے کئی مجلسوں میں اس شخص نے اسلامی اخلاق و آداب خصوصاً حجاب اور داڑھی کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا ہے کوئی پوچھنے والا ہے کہ کراچی سے ایک ماہ میں چند دن اسلام آباد آ کر لاکھوں روپے کس مد میں وصول کررہا ہے؟ 75 سال کی عمر میں دین دشمنی کی بجائے فکر آخرت ہونی چاہئے اس شخص نے اپنی گفتگو کا آغاز کبھی بھی بسم اللہ سے نہیں کیا اور اس کا یہ فرمودہ اخبارات میں چھپ چکا ہے کہ جو سرکاری نوکری اختیار کر لے وہ دانشور نہیں رہتا اور اپنی بیمار فکر کی نشرواشاعت یونیورسٹی کے وسائل سے بے دریغ ہو کر رہا ہے۔
-3 ڈاکٹر انوار حسین صدیقی کی شخصیت یونیورسٹی کے مزاج سے بالکل ہم آہنگ نہیں ہے تاریخ شاہد ہے کہ اس منصب پر شروع سے بین الاقوامی شہرت کی حامل علمی شخصیت فائز رہی ہے جو یونیورسٹی کی شان و شوکت بڑھانے کا باعث تھیں موجودہ صدر جامعہ کے (سنہری کارناموں) کی ایک جھلک ملاحظہ کریں۔
مخلوط محفلوں کا قیام، شعائر اسلام سے استہزاء، موسیقی کی محفلیں بپا کرنے کی حوصلہ افزائی۔ بلکہ فن موسیقی کو شعبہ اسلامیات میں داخل نصاب کرنے کی مذموم کوشش۔ اسلامی حمیت و غیرت سے سرشار اساتذہ طلبہ سے بدخلقی، عالم اسلام کی مسند علمی شخصیات کو دعوت دینے کی بجائے مستثرقین اور منحرف قسم کے مفکرین کو بلا کر ان کی حوصلہ افزائی، سینئر اساتذہ منتظمین کے مقابلے میں اپنے چیلے چانٹوں کو فوقیت دینا حدیث اور دعوة ڈیپارٹمنٹ ختم کر کے منکرین حدیث کی خوشنودی، فیکلٹی آف اصول الدین کا نام تبدیل کر کے فیکلٹی آف اسلامک اسٹیڈیز ٹائٹل دیکر اساسی علوم اسلام کی اہمیت کو کم کرنا علوم اسلامیہ (بی اے) سے تخصیص کے مضامین کا اخراج جو ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرے اس کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا اور مختلف انداز سے ان کو تھرڈ کرنا، سعودی جامعات کے فضلاء اساتذہ جو کہ سعودیہ کی طرف سے مبعوث ہیں ان کونکال کر پاک سعودی عرب دوستی کو نقصان پہنچانا۔نیز اساتذہ کی ترقی میں بے جا رکاوٹیں حدیث ڈیپارٹمنٹ کا چیئرمین ایک ایسے روشن خیال استاد کو بنایا گیا ہے کہ جس کی علمی موشگافیاں سن کر ان کے شاگرد ہنستے بھی ہیں، روتے بھی ہیں کوئی پوچھے تو سہی کہ عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیات جو یونیورسٹی کا جھومر تھیں وہ کہاں غائب کر دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمد غامدی، ڈاکٹر فضل الٰہی، ڈاکٹر اعجاز شفیع کیلانی، ڈاکٹر سہیل حسن، ڈاکٹر عبدالتواب، ڈاکٹر نافع، ڈاکٹر منشاوی عبدالرحمن، ڈاکٹر طاہر محمود وغیرہ کس جرم کی پاداش میں یونیورسٹی سے نکلے یا نکالے گئے؟ عربی کے مایہ ناز سکالر ڈاکٹر محمود شرف الدین کو کیوں کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے؟ ہم جنس پرست کی حامی ڈاکٹر غزالہ اور بے دین ترکی ڈاکٹر برایشق کا تعین کس اسلام پسندی کا مظہر ہے؟ مقام شکر ہے کہ غیور طلبہ کے زبردست احتجاج کے بعد ان دونوں نگینوں سے چھٹکارا مل چکا ہے۔
-4 شعبہ علوم اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی اور روشن خیالی لانے کیلئے ایسے افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے جواس کام کی اہل نہیں ہے بھلا سوشل سائنس کا مدرس تفسیر و حدیث کے حقائق کو کیا سمجھے گا، اساتذہ کے بھرپور اعتراض کے باوجود تاحال اس کمیٹی کو مسلط کیا ہوا ہے۔
-5 اکیڈمک کونسل میں ماہرین و تجربہ کار حضرات کو لینے کی بجائے منظور نظر جونیئر یا مخصوص ریٹائرڈ (بزرگوں) کو رکھا گیا ہے جو ڈبل ڈبل تنخواہ لے کر یونیورسٹی کا ستیاناس کر رہے ہیں۔ اسی سالہ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر عبدالخالق قاضی کو اس بڑھاپے میں کس کے اشارے پر نوازا جا رہا ہے کیا یہ بزرگ آرام کے قابل نہیں؟ کیا یہ حضرات اور اس قبیل کے دیگر بزرگ نوجوانوں کی ترقی میں سنگ گراں نہیں ہیں؟
-6 چند ماہ قبل یونیورسٹی میں آغا خانیوں اور اسماعیلیوں کا اثر و نفوذ رواج پانے لگا ہے، اسی کا ایک مظہر مرکز علامہ اقبال برائے مکالمہ و تحقیق کا قیام ہے۔ اس مرکز کے قیام کے پس منظر اور پیش منظر کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اس چینل کے تھرو اسلام دشمن اور وطن دشمن لابیوں کو یونیورسٹی کی پالیسیوں میں ایک مقام دیا جا رہا ہے۔
-7 یونیورسٹی میں غیر مسلم طالبات کو داخلہ دے کر انہیں کھلا چھوڑا ہوا ہے۔ ان کے عریاں اور بے ہنگم لباس میں آزادی دی ہوئی ہے۔ اس بے حیائی سے باحیاء مسلمان عورت زچ ہوتی ہیں اور کچھ کمزور ایمان لڑکیاں ان کا اثر بھی لے رہی ہیں۔ اگر مغربی ممالک میں مسلمان خواتین پر حجاب و اسکارف کی پابندی لگائی جا سکتی ہے تو کیا اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی اسلامی یونیورسٹی میں اسلامی اقدار کے منافی لباس زن پر پابندی نہیں لگ سکتی؟ اللہ کا واسطہ، مغرب کی خوشنودی کی خاطًر اپنے دین، اخلاق اور اقدار کو قربان نہ کرو۔
-8 حکام بالا سے ہماری آخری درخواست یہ ہے کہ ایک ایسا عدالتی کمیشن فوری طور پر عمل میں لایا جائے جو صدر جامعہ کی انتقامی کارروائیوں، بے ضابطگیوں اور ناانصافیوں کا محاسبہ کرے اور صدر مشرف کی شہ پر چھوٹا مشرف بننے والے اس شخص کا مواخذہ کرے جو یونیورسٹی میں آمریت کے مزاج کو فروغ دے رہا ہے اور اپنے آپ کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا اس ضمن میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم وزارت تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔
اگر ناعاقبت اندیش فیصلوں کا ایسا ہی سلسلہ رہا تو ہو سکتا ہے اساتذہ طلباء میں پائی جانے والی بے چینی اور پریشان کن کیفیت ایک لاوا بن کر پھٹ پڑے جس سے ملک امن وا مان کے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔
نوٹ: مذکورہ باقا حقائق جذبات و جھوٹ سے پاک ہیں، متذکرہ ہر بات کی دلیل پیش کی جا سکتی ہے نیز اندرون خانہ (انجمن ستائش باہمی) کے مصداق ایک دوسرے کو نوازنے کے احسانات اور مالی گھپلوں کی داستان ایک الگ موضوع ہے۔ (جو کسی دوسرے موقع پر بیان کی جا سکتی ہے)

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1431
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (05-01-09), وجدان (21-10-08), میاں شاہد (06-10-08), ابن جلال (19-10-08), باذوق (21-10-08), خالد احمد صدیقی (24-10-08), عُکاشہ (12-10-08)
پرانا 05-10-08, 10:38 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، کہنے کے لیے تو سب سے پہلے یہ کہ """ انا للہ و انا الیہ راجعون """ ، یہ ہمارے اپنے اعمال کی سزا میں اللہ کی ناراضگی ہے جس کا آغاز دنیا میں یوں ہو رہا ہے کہ جب ہم نے بحیثیت قوم اللہ کے دین کو ہلکا جانا ، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی فرامین و احکامات کو اس دور جدید میں ناقابل عمل جانا اور ان کو ہر ممکن چھپانے ، بدلنے اور مٹانے کی اجتماعی عمل کوششیں جاری رکھیں تو اللہ ہم پر ایسے لوگوں کو مسلط کر رہا ہے جن کے ذریعے ہم بوسنہ و ہرسک کے مسلمانوں جیسے صرف نام کے مسلمان بن جائیں اور اللہ کا کوئی بھی عذاب ہم پر وارد ہو جائے ،
اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ، اے اللہ ہم پر ہمارے گناہوں ، کوتاہیوں ،دین کے معاملے میں بزدلی اور دنیا کی خوف کی بنا پر گرفت نہ فرمانا ، بلکہ اپنی رحمت والا معاملہ فرماتے ہوئے ہماری دنیا اور آخرت کو اپنی رضا اور خوشی والا بنا دے ، اور ہمارے ملک اور ہمارے ہم وطنوں کو تیرے دین کے سربلندی کے اولین اسباب میں سے بنا دے ، اور ہمارے دلوں میں تیرے ماسوا کا خؤف نکال دے اور تیرے دین اور تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور ہمارے نیک اور صالح بزرگوں کے علاوہ کسی اور سے مرغوب ہونے کی ذلت سے بچا ۔
و السلام علیکم۔

::::: ایک حمد ، اعتراف کوتاہی ، دُعا :::::
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
وجدان (21-10-08), میاں شاہد (06-10-08), ابن جلال (08-10-08), عبداللہ حیدر (06-10-08)
پرانا 06-10-08, 08:21 AM   #3
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,182
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

میںسہیل بھائی کے الفاظ‌کی تائید کرتا ہوں

اللہ ہمارے حال پر رحم کرے
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (08-10-08)
پرانا 07-10-08, 11:26 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
میںسہیل بھائی کے الفاظ‌کی تائید کرتا ہوں

اللہ ہمارے حال پر رحم کرے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، جزاک اللہ خیرا بھائی میاں شاہد ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جلال (08-10-08)
پرانا 19-10-08, 04:51 AM   #5
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,258
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

سلام،

اللہ تو خیر رحم فرمائے گا، مگر ہم نے احتجاج کا کونسا راستہ اختیارکرنا ہے کیا اسکے بارے میں کوئی بتلائے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-10-08, 07:25 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

جب بھی اسلام مولویوں‌ کے ہاتھ سے نکلتا اور دانشوروں اور عالموں کے ہاتھ میں جاتا ہے، مولویوں‌کو اپنی فکر ہو جاتی ہے۔ اوپر کے مضمون میں شخصیتوں کی برائی کی گئی ہے اور جرم ہے صرف ڈپارٹمنٹ کے نام تبدیل کرنا یا موسیقی جیسے متنازعہ معاملہ کی توثیق یا تردید۔ اس کے علاوہ صرف اور صرف یہ مضمون کردار کشی کی ایک اعلی مثال ہے۔ بجائے اس کے کہ اسلام کے داعیوں ، عالموں‌ اور دانشوروں کا شکریہ ادا کیا جائے۔ کچھ لٹھ بند ادارے اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان لوگوں‌کے بہتریں کام پر غور فرمائیے۔ اتنی بڑی اور اعلی اسلامی درس گاہ کے قیام پر غور فرمائیے۔ بات صرف اتنی ہے کہ روایتی ملا کی جگہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ اور ایک تعلیم یافتہ مولوی اس کی جگہ لے گا۔ پاکستان کے سب مدرسوں‌میں مکمل علمی نصاب پڑھانے کی ضرورت ہے۔

آخر مٰں ایک سوال ، عبداللہ حیدر صاحب ، اس مضمون کا حوالہ تو عطا فرمائیے کہ یہ لکھا کس جماعت نے ہے؟
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-10-08, 08:56 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
آئیے اس عیارانہ اور تلخ مضمون کا تضزیہ کرتے ہیں کہ اس میں‌ معاملات کتنے ہیں اور شخصیات پر کتنی کیچڑ‌اچھالی گئی ہے؟ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہفت روزہ غزوہ ایک شیطانی اخبار ہے۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی فکر کیجیے
ہفت روزہ غزوہ 26 ستمبر 2008
اساتذہ و طلبہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
سلام مسنون!
آپ کی اسلام پسندی، دینی حمیت و غیرت، خلوص و خود داری نظریہ پاکستان پر غیر متزلزل یقین، جذبہ حب الوطنی اور آپ کی جرات و بے باکی کے پیش نظر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے بارے میں ہم موجودہ چند تلخ حقائق کا ذکر کرنا چاہتے ہیں تاکہ آپ کو اور آپ کے ذریعے پوری قوم کو معلوم ہو سکے کہ یہ ملی و قومی ادارہ (زاغون کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن) کے مصداق ایک منظور نظر فرد واحد کی انانیت، ہٹ دھرمی اور اسلام بیزاری کے باعث معنوی و علمی طور پر تباہی کے دہانے پر لے جایا جا رہا ہے ریکٹر یونیورسٹی، صدر جامعہ اور نائب صدر کی مثلث ایک خصوصی لابی کا آلہ کار بنتے ہوئے یونیورسٹی کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
یہاں‌صرف اور صرف تمہید باندھی گئی ہے جس میں کوئی معاملہ نہیں‌ہے ۔ ڈرامائی الفاظ کی مدد سے آُ کی توجہ موصول کرائی گئی ہے اور ایک سماں باندھا گیا ہے جس میں ایک عظیم اسلامی ادارہ کے اعلی ترین اور قابل ترین اساتذہ کرام کی شدید بے عزتی کی گئی ہے۔ جس کی کوئی وجہ اب تک سامنے نہیں ہے۔ اگے چلتے ہیں

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اللہ شاہد ہے کہ یہ حقائق آپ کی خدمت میں جذبہ اصلاح کے تحت پیش کئے جا رہے ہیں، ہمیں کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے، اندرون جامعہ جو کوئی اصلاح کی بات کرتا ہے تو اسے راستہ سے ہٹایا جا رہاہے جبکہ اساتذہ طلبہ کی اکثریت بزدلی، کمزور ایمان نوکریوں کے تحفظ اور عدم اتحاد کی وجہ سے ڈنگ ٹپاؤ کی پالیسی پر عمل پیراہے، پانی سر سے گزر رہا ہے۔ اگر کچھ عرصہ یہی صورت حال رہی اسلامی روایات کا امین یہ ادارہ اپنی حقیقی شناخت کھودے گا اور آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کی بے حمیتی مداہنت پر ماتم کریں گی لہٰذا اللہ کی رضا کیلئے اس معاملہ میں آپ اپنی بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کریں شائد اللہ تعالیٰ آپ کی اس جرات رندانہ کو آپ کیلئے توشہ آخرت اور آنے والے لوگوں کیلئے مینارہ نور بنا دے۔
ہمارے جذبات و احساسات حکام بالا اور عوام تک پہنچا کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پائیں۔
مندرجہ ذیل ان کی نام نہاد روشن خیال پالیسیوں کی فہرست ملاحظہ کر کے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عرصہ دو سال کے دوران ان لوگوں نے یونیورسٹی کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔
اب تک صرف اور صرف ڈرامائی اور جذباتی الفاظ کا سہارا لیا گیا ہے ، یونیورسٹی پر اور اس کے اساتذہ پر کیچڑ اچھالی گئی ہے۔ کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے ۔ سرف برائی کی گئی ہے وہ بھی بے معانی
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-1 یونیورسٹی کی ہائی لیول کمیٹی میں بین الاقوامی شہرت کے حاملین تعلیم و تربیت پر مشتمل ہے اور اس کمیٹی میں ان ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے جو یونیورسٹی کی تاسیس میں پیش پیش تھے۔ خصوصی سعودیہ، کویت، قطر مصر، اب یونیورسٹی کی پالیسی بنانے میں ان دوست ممالک اور محسنین کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اسلام کے نام پران سے تاحال چندے بھی وصول کئے جا رہے ہیں بنیادی طور پر یہ ایک اسلامی فلاحی یونیورسٹی تھی مگر اب اسے کمرشل ادارہ بنایا جا رہا ہے پھر بھی طلبہ بہت سی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
یہاں تک بھی کوئی الزام نہیں ۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ ان ممالک کو کس طرح نظر انداز کیا جارہا ہے یا ان ممالک نے کیا شکایت کی ہے۔ یونیورسٹی کی ترقی کے لئے چندے وصول کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ تمام تعلیمی ادارے یہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی تو کھالیں تک جمع کرتی ہے۔ ایسے تو یہ سب تعلیمی ادارے بہت ہی برے ہوئے۔

معاملہ نمبر ایک : چندہ جمع کرنا ، چندہ جمع کرنے کو برا کہا گیا ہے۔ گویا امداد باہمی ایک برا کام ہے ؟

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-2 ریکٹر ڈاکٹر منظور احمد ایک ملحد، بے دین اور اسلامی تعلیمات سے ٹھٹھہ مذاق کرنے میں مشہور شخصیت ہے کئی مجلسوں میں اس شخص نے اسلامی اخلاق و آداب خصوصاً حجاب اور داڑھی کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا ہے کوئی پوچھنے والا ہے کہ کراچی سے ایک ماہ میں چند دن اسلام آباد آ کر لاکھوں روپے کس مد میں وصول کررہا ہے؟ 75 سال کی عمر میں دین دشمنی کی بجائے فکر آخرت ہونی چاہئے اس شخص نے اپنی گفتگو کا آغاز کبھی بھی بسم اللہ سے نہیں کیا اور اس کا یہ فرمودہ اخبارات میں چھپ چکا ہے کہ جو سرکاری نوکری اختیار کر لے وہ دانشور نہیں رہتا اور اپنی بیمار فکر کی نشرواشاعت یونیورسٹی کے وسائل سے بے دریغ ہو کر رہا ہے۔
معاmلہ نمبر 2 : حجاب اور داڑھی کی بحث، حجاب اور داڑھی دونوں ہی متنازعہ معاملات ہیں۔ جنگلی داڑھی رکھنا، اسرائیلی ملاؤں کی روایت بھی ہے ۔ حجاب ایک فرقہ کے لوگوں‌کا بوسیدہ عورتوں‌کی تجارت کا شاخسانہ ہے۔ اللہ تعالی وضو کی آیات میں جسم کے کھلے رہنے والے جن حصوں کو دھونے کا حکم دیتا ہے وہ آٰیات گواہ ہیں کہ حجاب کی کوئی اسلامی حیثییت نہیں ہے یہ صرف اور صرف ایک علاقہ کا کلچر ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-3 ڈاکٹر انوار حسین صدیقی کی شخصیت یونیورسٹی کے مزاج سے بالکل ہم آہنگ نہیں ہے تاریخ شاہد ہے کہ اس منصب پر شروع سے بین الاقوامی شہرت کی حامل علمی شخصیت فائز رہی ہے جو یونیورسٹی کی شان و شوکت بڑھانے کا باعث تھیں موجودہ صدر جامعہ کے (سنہری کارناموں) کی ایک جھلک ملاحظہ کریں۔
مخلوط محفلوں کا قیام،
شعائر اسلام سے استہزاء، موسیقی کی محفلیں بپا کرنے کی حوصلہ افزائی۔ بلکہ فن موسیقی کو شعبہ اسلامیات میں داخل نصاب کرنے کی مذموم کوشش۔ اسلامی حمیت و غیرت سے سرشار اساتذہ طلبہ سے بدخلقی، عالم اسلام کی مسند علمی شخصیات کو دعوت دینے کی بجائے مستثرقین اور منحرف قسم کے مفکرین کو بلا کر ان کی حوصلہ افزائی، سینئر اساتذہ منتظمین کے مقابلے میں اپنے چیلے چانٹوں کو فوقیت دینا حدیث اور دعوة ڈیپارٹمنٹ ختم کر کے منکرین حدیث کی خوشنودی، فیکلٹی آف اصول الدین کا نام تبدیل کر کے فیکلٹی آف اسلامک اسٹیڈیز ٹائٹل دیکر اساسی علوم اسلام کی اہمیت کو کم کرنا علوم اسلامیہ (بی اے) سے تخصیص کے مضامین کا اخراج جو ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرے اس کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا اور مختلف انداز سے ان کو تھرڈ کرنا، سعودی جامعات کے فضلاء اساتذہ جو کہ سعودیہ کی طرف سے مبعوث ہیں ان کونکال کر پاک سعودی عرب دوستی کو نقصان پہنچانا۔نیز اساتذہ کی ترقی میں بے جا رکاوٹیں حدیث ڈیپارٹمنٹ کا چیئرمین ایک ایسے روشن خیال استاد کو بنایا گیا ہے کہ جس کی علمی موشگافیاں سن کر ان کے شاگرد ہنستے بھی ہیں، روتے بھی ہیں کوئی پوچھے تو سہی کہ عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیات جو یونیورسٹی کا جھومر تھیں وہ کہاں غائب کر دی گئی ہیں۔ ڈاکٹر محمود احمد غامدی، ڈاکٹر فضل الٰہی، ڈاکٹر اعجاز شفیع کیلانی، ڈاکٹر سہیل حسن، ڈاکٹر عبدالتواب، ڈاکٹر نافع، ڈاکٹر منشاوی عبدالرحمن، ڈاکٹر طاہر محمود وغیرہ کس جرم کی پاداش میں یونیورسٹی سے نکلے یا نکالے گئے؟ عربی کے مایہ ناز سکالر ڈاکٹر محمود شرف الدین کو کیوں کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے؟ ہم جنس پرست کی حامی ڈاکٹر غزالہ اور بے دین ترکی ڈاکٹر برایشق کا تعین کس اسلام پسندی کا مظہر ہے؟ مقام شکر ہے کہ غیور طلبہ کے زبردست احتجاج کے بعد ان دونوں نگینوں سے چھٹکارا مل چکا ہے۔
ان تمام متنازعہ معاملات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اسلام عورتوں اور مردوں کو الگ الگ کرنے کا نام نہیں ہے ۔ اساتذہ کرام تھوڑے عرصے کے لئے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کسی کو نکالے جانے کی کوئی شکایت کہاں‌ درج کرائی گئی پیش کریں ۔ یہ تمام کا تمام معاملہ کسی ثبوت کے بغیر پیش کیا گیا ہے اور اس میں سے بھی آدھے معاملات متنازعہ ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ کسی صاحب کی پسند کے خلاف کسی کو نکال دیا گیا ہے اور وہ اب احتجاج کررہے ہیں۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-4 شعبہ علوم اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی اور روشن خیالی لانے کیلئے ایسے افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے جواس کام کی اہل نہیں ہے بھلا سوشل سائنس کا مدرس تفسیر و حدیث کے حقائق کو کیا سمجھے گا، اساتذہ کے بھرپور اعتراض کے باوجود تاحال اس کمیٹی کو مسلط کیا ہوا ہے۔
اساتذہ کی ایک کمیٹی کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ اسلام ہمیشہ سے ایک جدید اور روشن خیال مذہب ہے۔ یہاں‌ بھی کوئی اسلامی معاملہ نظر نہیں آتا۔ ایک فرقہ کی تفسیر و حدیث دوسرے فرقہ کی تفسیر و حدیث سے اتنی فرق ہے کہ یہ تنازعہ لازمی ہے۔ اس کے باوجود کوئی معاملہ ہی نہیں‌ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-5 اکیڈمک کونسل میں ماہرین و تجربہ کار حضرات کو لینے کی بجائے منظور نظر جونیئر یا مخصوص ریٹائرڈ (بزرگوں) کو رکھا گیا ہے جو ڈبل ڈبل تنخواہ لے کر یونیورسٹی کا ستیاناس کر رہے ہیں۔ اسی سالہ ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر منظور احمد، ڈاکٹر عبدالخالق قاضی کو اس بڑھاپے میں کس کے اشارے پر نوازا جا رہا ہے کیا یہ بزرگ آرام کے قابل نہیں؟ کیا یہ حضرات اور اس قبیل کے دیگر بزرگ نوجوانوں کی ترقی میں سنگ گراں نہیں ہیں؟
بزرگ اور جونئیر۔ یہ پھر ماہر اور قابل عزت اساتذہ ک بے عزتی ہے اس پر ہفت روزہ غزوہ اور اس مضمون کے لکھنے ولاے کو معافی مانگنی چاہیئیے۔ کسی کے نظریات کا فرق کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ کسی کی بے عزتی کی جائے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-6 چند ماہ قبل یونیورسٹی میں آغا خانیوں اور اسماعیلیوں کا اثر و نفوذ رواج پانے لگا ہے، اسی کا ایک مظہر مرکز علامہ اقبال برائے مکالمہ و تحقیق کا قیام ہے۔ اس مرکز کے قیام کے پس منظر اور پیش منظر کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اس چینل کے تھرو اسلام دشمن اور وطن دشمن لابیوں کو یونیورسٹی کی پالیسیوں میں ایک مقام دیا جا رہا ہے۔
علامہ اقبال سے دشمنی ، پاکستان سے دشمنی ہے۔ یہ ایک پاکستان کے عظیم مفکر کی بے عزتی ہے اور اس عالم پر تحقیق کرنے والوں کی بے عزتی ہے۔ ہفت روزہ غزوہ اور اس مضمون کو یہاں‌لکھنے والے دونوں کو اس کی معافی مانگنی چاہئیے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-7 یونیورسٹی میں غیر مسلم طالبات کو داخلہ دے کر انہیں کھلا چھوڑا ہوا ہے۔ ان کے عریاں اور بے ہنگم لباس میں آزادی دی ہوئی ہے۔ اس بے حیائی سے باحیاء مسلمان عورت زچ ہوتی ہیں اور کچھ کمزور ایمان لڑکیاں ان کا اثر بھی لے رہی ہیں۔ اگر مغربی ممالک میں مسلمان خواتین پر حجاب و اسکارف کی پابندی لگائی جا سکتی ہے تو کیا اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی اسلامی یونیورسٹی میں اسلامی اقدار کے منافی لباس زن پر پابندی نہیں لگ سکتی؟ اللہ کا واسطہ، مغرب کی خوشنودی کی خاطًر اپنے دین، اخلاق اور اقدار کو قربان نہ کرو۔
اسلام کے معانی خواتین سے دشمنی نہیں۔ حجاب اور اسکارف متنازعہ امور ہیں۔ کوئی پسند کرتا ہے اور کوئی نہیں، کسی پر زبردستی کوئی خاص لباس نافذ‌نہیں کیا جاسکتا۔ آج مسلمان دنیا بھر میں طرح طرح کے مناسب لباس پہنتے ہیں۔ یہ ایک خاص مکتبہ فکر کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس لئے یہ کوئی معاملہ ہی نہیں
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
-8 حکام بالا سے ہماری آخری درخواست یہ ہے کہ ایک ایسا عدالتی کمیشن فوری طور پر عمل میں لایا جائے جو صدر جامعہ کی انتقامی کارروائیوں، بے ضابطگیوں اور ناانصافیوں کا محاسبہ کرے اور صدر مشرف کی شہ پر چھوٹا مشرف بننے والے اس شخص کا مواخذہ کرے جو یونیورسٹی میں آمریت کے مزاج کو فروغ دے رہا ہے اور اپنے آپ کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا اس ضمن میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم وزارت تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور۔ صاحب اس آرٹیکل کے لکھنے والے کو چاہئیے کہ کچھ علم حاصل کرے۔ ماسوائے اپنے ذاتی نظریات کے ان صاحب نے کوئی معاملہ پیش ہی نہیں کیا۔ ان کے پیش کردہ تمام معاملہ روایتی طور پر متنازعہ رہے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی قومی، مذہبی یا بین الاقوامی قانون نہیں پایا جاتا۔ ایسے کسی قانون سے لاپرواہی کی عدم موجودگی میں کسی مقدمے یا عدالتی کاروائی کا سوال ہی پیدا نہیں‌ ہوتا۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
اگر ناعاقبت اندیش فیصلوں کا ایسا ہی سلسلہ رہا تو ہو سکتا ہے اساتذہ طلباء میں پائی جانے والی بے چینی اور پریشان کن کیفیت ایک لاوا بن کر پھٹ پڑے جس سے ملک امن وا مان کے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔
لاوا بن کر پھٹ‌پڑے گا۔؟ اب یہ صاحب یونیورسٹی کوخود کش حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں؟
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
نوٹ: مذکورہ باقا حقائق جذبات و جھوٹ سے پاک ہیں، متذکرہ ہر بات کی دلیل پیش کی جا سکتی ہے نیز اندرون خانہ (انجمن ستائش باہمی) کے مصداق ایک دوسرے کو نوازنے کے احسانات اور مالی گھپلوں کی داستان ایک الگ موضوع ہے۔ (جو کسی دوسرے موقع پر بیان کی جا سکتی ہے)
یہ تمام کا تمام مضمون ایک جذباتی کاروائی ہے ۔ کسی قسم کے قانون کی خلاف ورزی نہیں‌نظر آئی۔ یہ ان کے اپنے نظریات کا پرچار ہے اور خومخواہ بات کا بتنگڑ متنازعہ معاملات سے بنایا جارہا ہے۔ اسلام کو عورت دشمنی قرآر دینے والوں سے سوال ہے کہ وہ سورۃ‌ طلاق کا مطالعہ کریں اور سب سے پہلے طلاق یافتہ عورتوں کو ان کے گھر میں رہائش پذیر رہنے کے حق کو حدود اللہ مان کر حدود آرڈینینس میں شامل کروائیں ۔ خواتین کو اللہ تعالی نے مردوں‌ کے شانہ بشانہ کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

9:71 وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 20-10-08 at 06:23 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-10-08, 05:47 PM   #8
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,428
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

محترم، داڑھی، موسیقی، حجاب، نوجوان بچوں اور بچیوں کا آزادانہ ملنا جلنا اور دوستیاں لگانا، لڑکیوں کا نیم عریاں لباس میں پھرنا وغیرہ آپ کے امریکی اسلام میں جذباتی باتیں ہوں گی لیکن محمد صلی اللہ علیہ علیہ و آلہ وسلم کے اسلام میں ان یہ یہ حیثیت نہیں ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (02-04-10), مسافر (27-10-08), ابن جلال (19-10-08), راجہ اکرام (15-04-09), سعود (09-04-09), عادل سہیل (20-10-08), عرفان حیدر (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 08:55 PM   #9
Senior Member
 
عرفان حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
عمر: 30
مراسلات: 2,046
کمائي: 8,258
شکریہ: 889
722 مراسلہ میں 1,442 بارشکریہ ادا کیا گیا
عرفان حیدر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عرفان حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
محترم، داڑھی، موسیقی، حجاب، نوجوان بچوں اور بچیوں کا آزادانہ ملنا جلنا اور دوستیاں لگانا، لڑکیوں کا نیم عریاں لباس میں پھرنا وغیرہ آپ کے امریکی اسلام میں جذباتی باتیں ہوں گی لیکن محمد صلی اللہ علیہ علیہ و آلہ وسلم کے اسلام میں ان یہ یہ حیثیت نہیں ہے۔
سلام،

بالکل سو فیصد درست،
میں اسی لیے خاموش رہا تاکہ عبداللہ بھائی جواب دے دیں۔

میرا ایک سادہ سا سوال۔
محترم فاروق صاحب کیا آپ فقط یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ حجاب ایک ثقافت ہے مذہبی اور واجب نہیں۔

وسلام
عرفان حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عرفان حیدر کا شکریہ ادا کیا
وجدان (21-10-08), میاں شاہد (21-10-08), ابن جلال (19-10-08), سعود (09-04-09), عادل سہیل (20-10-08), عبداللہ حیدر (19-10-08)
پرانا 19-10-08, 09:06 PM   #10
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,428
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
خواتین کو اللہ تعالی نے مردوں‌ کے شانہ بشانہ کام کرنے کا حکم دیا ہے۔
9:71 الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے
والسلام
کبھی خانہ تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے گا کہ واقعی اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ مرد اور عورت شانے سے شانہ ملا کر کام کریں؟
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
ابن جلال (19-10-08), سعود (09-04-09)
پرانا 20-10-08, 12:24 AM   #11
Senior Member
 
قیصرجی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Islamabad
عمر: 27
مراسلات: 326
کمائي: 6,193
شکریہ: 2
155 مراسلہ میں 373 بارشکریہ ادا کیا گیا
قیصرجی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں قیصرجی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے


اسلام وعلیکم !
یہ مضمون جس ادارے کے بارے میں لکھا گیا ہے میں اُسی ادرے کا طالب علم ہوں۔ اور یہ مضمون جو "ہفت روزہ غزوہ" میں 26 ستمبر 2008 کو شائع کیا گیا ہے اس میں کافی حد تک سچ لکھا گیا ہے۔

* لیکن اس میں جو کہا گیا ہے کہ کچھ لڑکیاں نیم عریاں لباس پہن کر گھومتی ہیں۔ تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ مجھے اس ادارع میں ایک سال بیت چکا ہے لیکن میں نے ایسا منظر نہیں دیکھا البتہ لڑکیاں بے پردہ ضرور گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں ہیں۔

* شعبہ علوم اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی کی جو بات کی گئی ہے تو ضروری نہیں کہ شبعہ علوم اسلامیہ میں صرف دینی مضامین پڑھائے جایئں۔ میرے خیال میں ریاضی اور کمپیوٹر جیسے مضامین پڑھنا بھی ضروری ہیں۔ اس کا ہماری زندگی میں بڑا عمل دخل ہے۔
لیکن اصول الدین کی فکیلٹی میں مخلوط تعلیم کا اجراء قابل مزمت ہے۔

* اکیڈمک کونسل کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ اس میں ماہرین و تجربہ کار حضرات کو لینے کی بجائے منظور نظر جونیئر یا مخصوص ریٹائرڈ (بزرگوں) کو رکھا گیا ہے، تو یہ بات بالکل درست ہے کہ منظور نظر جونیئر یا مخصوص ریٹائرڈ کو رکھنے کی بجائے ماہرین و تجربہ کار حضرات کو لینا چاہیے۔

* مرکز علامہ اقبال برائے مکالمہ و تحقیق کے قیام کے بارے میں مجھے زیادہ معلومات نہیں ہیں اس لیئے میں اس پر بات نہیں کروں گا۔

* اور باقی رہی بات چندے کی تو واقع یہ کوئی بُری بات نہیں۔ لیکن اس کا صیح استعمال بھی ہونا چاہیے۔ بنیادی طور پر یہ ایک اسلامی فلاحی یونیورسٹی تھی مگر اب اسے کمرشل ادارہ بنایا جا رہا ہے لیکن طلبہ بہت سی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جن میں سے کچھ چیدہ مسائل درج ذیل ہیں:

* سب سے پہلے اپ طلبہ کے ھوسٹل کا مسئلہ ہی لے لیں۔ طلبہ زیادہ ہیں اور ھوسٹل کم ہیں۔ اور نئے طلبہ کو پہلے سمیسڑ میں ھوسٹل الاٹ نہیں کیئے جاتے۔ بلکہ دوسرے سمیسٹر میں ھوسٹل الاٹ ہوتا ہے۔ اب یونیورسٹی کے صدر صاحب کی طرف سے نوٹس آیا ہے کہ سنگل والے روم میں دو، دو والے میں تین اور تین والے میں چار لوگوں کو الاٹ‌منٹ کی جایئں گی۔

آخر اتنا روپیہ کہا جا رہا ہے۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟

* کھیل کے لیے گراؤنڈز موجود نہیں ہیں۔ لڑکے ہوسٹل کی کار پارکنگ میں کرکٹ اور فٹ بال کیھلتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑھی انٹرنیشنل یونیورسٹی ہے اور یہاں جنریٹر کا انتظام تک نہیں ہے۔ نا کیمپس میں اور نا ھوسٹلز میں۔

آخر اتنا روپیہ کہا جا رہا ہے۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟

* امتحانات کے دنوں میں طلبہ کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
سٹوڈنٹس کے بار بار احتجاج کے باوجود انتظامیاں کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں امتحانات کے دنوں میں جو امتحانات دوپہر یا شام کے وقت ہوتے ہیں اس دوران اگر لائٹ بند ہو جائے تو موم بتیوں کی روشنی میں لڑکے پیپر دیتے ہیں۔

آخر اتنا روپیہ کہا جا رہا ہے۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟

* انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی میں صرف دو کتب خانے (Library) ہونے کی بجائے ایک ہی مرکزی لائیبریری ہے جس میں ایک دن لڑکوں کے لیئے اور ایک دن لڑکیوں کے لیئے ہوتا ہے۔

آخراتنی گرانٹ یا چندہ جو اس یونیورسٹی کو مل رہا ہے وہ کہاں جا رہا ہے۔؟؟؟؟
آخروہ سارا روپیہ کہا جا رہا ہے۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟

* اور فیسوں کا یہ عالم ہے کہ Computer Science, Management Sciences اور Engineering کی ایک سمیسڑ کی فیس پچاس سے ساٹھ ہزار ہے۔
اتنی فیس ادا کرنے کے باوجود طلبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟
آخر کیوں ؟؟؟؟؟ کیا انکو کوئی پوچھنے والا نہیں ؟؟؟؟

خدا ہی حافظ ہے اس ادارے کا !

Last edited by قیصرجی; 20-10-08 at 12:28 AM.
قیصرجی آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے قیصرجی کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (05-01-09), فاروق سرورخان (20-10-08), مسافر (27-10-08), ابن جلال (20-10-08), سعود (09-04-09), عادل سہیل (20-10-08), عبداللہ حیدر (20-10-08), عرفان حیدر (20-10-08)
پرانا 20-10-08, 01:08 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائیو میں آپ صاحبان کی گفتگو میں دخل انداز نہیں ہونا چاہتا تھا ، لیکن ، چند باتیں ایسی سامنے آئی ہیں جن کی وضاحت مجھ جیسے کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے ،
::: (1) بھائی فاروق سرور خان صاحب نے مراسلہ رقم 6 میں جن ’’’ دانشوروں اور عالموں ‘‘‘ کا ذکر فرمایا ہے ، وہ کون ہیں ، اور ان کی دانش و علم کی پرکھ کیا ہے ؟ شاید وہ دانشور ہیں اور عالم ہیں جو موسیقی یا اس جیسے بزعم خویش متنازعہ مسائل کو جائز قرار دے کر امت مسلمہ میں رائج کرنا چاہتے ہیں ، یا ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، معاف کیجیے گا میں تو سوال کر رہا تھا جواب نہیں دینا چاہتا ،،،،،
::: ( 2 ) روایت ملا تو سمجھ میں آ گیا یعنی وہ جو کسی مدرسہ سے قران حفظ کر کے حدیث و فقہ پڑھ کر آتا ہے ، لیکن یہ ’’’ تعلیم یافتہ مولوی ‘‘‘ کیا ہے ، جس کے سامنے ’’’ روایتی ملا ‘‘‘ جاھل ہو گا ؟
::: (3 ) پاکستان کے مدرسوں میں جو غیر علمی جاھلانہ نصاب پڑھایا جاتا ہے ، یہ بہت ظلم والی بات ہے ، صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ برصغیر کی ساری مسلم امت اپنا دین سی نصاب کے ذریعے سیکھتی چلی آ رہی ہے ، میں بھائی فاروق سرور صاحب سے درخواست خواہ ہوں کہ وہ ’’’ علمی نصاب ‘‘‘ ظاہر فرمائیں جس سے دینی مدرسوں کی جہالت دور ہو اور ’’’ روایتی ملا ‘‘‘ کی بجائے ’’’ تعلیم یافتہ ‘‘‘ مولوی سامنے آئیں ، میں اپنے طور پر بھی پوری کوشش کروں گا کہ وہ نصاب پاکستان بلکہ برصغیر کے معروف علما اور مدارس میں پہنچاوں اور اپنے فورمز کے سارے ساتھیوں سے بھی درخواست کروں گا کہ بھائی فاروق کا مقرر کردہ یا تجویز کردہ ’’’ علمی نصاب ‘‘‘ مدرسوں کے جاہلوں تک پہنچائیں ،خواہ وہ بریلوی ہوں ، دیو بندی ہوں ، اہل تشیع ہوں ، یا اہل حدیث ہوں ، بھائی فاورق سرور صاحب کی دانشوری میں سب جاہل ہیں کیونکہ وہ ’’’ علمی نصاب ‘‘‘ نہیں پڑھاتے ، سب مدارس جہالت کا شکار ہیں !!! اور بھائی فاروق سرور اس کا علاج بتائیں گے اور ’’’ علمی نصاب ‘‘“ ظاہر فرمائیں گے ،
::: ( 4 ) مراسلہ رقم سات میں لکھتے ہیں
"""""" آئیے اس عیارانہ اور تلخ مضمون کا تضزیہ کرتے ہیں کہ اس میں‌ معاملات کتنے ہیں اور شخصیات پر کتنی کیچڑ‌اچھالی گئی ہے؟ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہفت روزہ غزوہ ایک شیطانی اخبار ہے۔ """""
بھائی فاروق سرور صاحب ، کی اس بات پر میں کوئی جواب یا تبصرہ کرنے سے پہلے انتظامیہ کی توجہ اس کی طرف مبذول کرواتے ہوئے انتظامیہ سے اجازت طلب کرتا ہوں کہ مجھے شیطانی اور رحمانی کے بارے میں کچھ عرض کرنے دیا جائے ،
::: (5 ) مزید لکھتے ہیں کہ """""" معاmلہ نمبر 2 : حجاب اور داڑھی کی بحث، حجاب اور داڑھی دونوں ہی متنازعہ معاملات ہیں۔ جنگلی داڑھی رکھنا، اسرائیلی ملاؤں کی روایت بھی ہے ۔ حجاب ایک فرقہ کے لوگوں‌کا بوسیدہ عورتوں‌کی تجارت کا شاخسانہ ہے۔ اللہ تعالی وضو کی آیات میں جسم کے کھلے رہنے والے جن حصوں کو دھونے کا حکم دیتا ہے وہ آٰیات گواہ ہیں کہ حجاب کی کوئی اسلامی حیثییت نہیں ہے یہ صرف اور صرف ایک علاقہ کا کلچر ہے۔ """""
آیات کا معنی و مفہوم کیسے لیا جا رہا ہے ، کس طرح داڑھی کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے ، حجاب یعنی پردے کی اسلامی حیثیت کا انکار کسے کیا جا رہا ہے ، بلکہ اسے عورتوں کی تجارت کا شاخسانہ کہا جا رہا ہے ،اور اس ساری دانشوری کا نقاب ’’’ متنازعہ مسائل ‘‘‘ ہے ، فاروق سرور خاں صاحب واقعتا دانشور اور عالم ، اور تعلیم یافتہ مولویوں کے شاگرد ہیں جن کے پڑھائے ہوئے سبق یوں دہرا رہے ہیں ، اور جن کے سامنے آنے کی خواہش کا اظہار فرمایا ہے ،

فورمز کے ارباب اختیار ، اگر جوابا کچھ کہوں تو شکایت نہ کیجیے گا ،
::: (6 ) مزید ایک آیت کو نا مکمل پیسٹ کر کے اس کا مکمل ترجمہ پیسٹ کیا اور دوسروں پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ پوری آیت کیوں نہیں لکھتے ، چلیے خیر کاپی پیسٹ میں اور خاص طور پر بلا سمجھے کاپی پیسٹ میں ایسا ہو ہی جاتاہے ،
""""""""""""خواتین کو اللہ تعالی نے مردوں‌ کے شانہ بشانہ کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

9:71 الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے """"""""""""""
بھائی عبداللہ حیدر نے اس کا جواب لکھ دیا ، میں صرف یہ کہتا ہوں کہ بھائی فاروق سرور شاید جن دانشوروں اور عالموں اور تعلیم یافتہ مولویوں سے پڑھے ہیں ان کے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے ، عورت اور مرد کی برابری کے بارے میں میرے ایک مضمون میں بھی بھائی فاروق صاحب نے بقول ان کے ’’’ موضوع کی مناسبت سے ‘‘‘‘ کئی آیات پیسٹ کی جبکہ نہ وہ میرے مضمون کے موضوع کی مناسبت رکھتی ہیں ، اور نہ ہی اُس بات کی دلیل جس کی دلیل بھائی فاروق نے انہیں سمجھا ، جیسا کہ یہاں کیا ہے ،
سبحان اللہ ، اچھی بات کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں مدد گاری ، نماز پڑھنے ، زکوۃ ادا کرنے ، میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور حجاب و سکارف کا اختلاف ترک کرتے ہوئے ، جلوت و خلوت میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ، ایک ہی بات ہے !!!!!!!!!!!!!!!
بھائیو ، آپ اسے دنشورانہ تفسیر کہیے ، عالمانہ شرح کہیے ، یا تعلیم یافتہ مولوی کا فتوی ، یہ آپ پر چھوڑتا ہوں ، مجھے تو یہ اللہ سبحانہ و تعالی پر الزام نظر آ رہا ہے ، اللہ ایمان والے مردوں اور عورتوں کی صفات بیان فرما رہا ہے ، اور بھائی صاحب اسے عورتوں اور مردوں کا شانہ بشانہ کام کرنے کے لیے اللہ کا حکم قرار دے رہے ہیں ،
اخیرا ، انتطامیہ سے درخواست ہے کہ میرے الفاظ پر اگر کوئی اعتراض کرنا ہو تو اس سے پہلے دین کے شعائر کو بلا قران و صحیح حدیث کی کسی دلیل و حجت کے بغیر جو کچھ کہا گیا ہے ،اس پر غور فرمایا جائے ، اور اللہ سبحانہ و تعالی کے فرمان کا جو حال کیا گیا ہے اس پر غور فرمایا جائے ، و السلام علیکم۔

عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (05-01-09), مسافر (27-10-08), ابن جلال (20-10-08), راجہ اکرام (15-04-09), سعود (09-04-09), عُکاشہ (25-10-08), عبداللہ حیدر (20-10-08)
پرانا 20-10-08, 06:26 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

نصف آیت کٹ و پیسٹ‌کی خرابی تھی، درست کردی ہے۔ توجہ دلانے کا شکریہ۔ آپ کے سب سوالوں کے شافی جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں بہت جلد، انشاء اللہ۔ مجھے اندازہ تھا کہ تمام عتاب ذاتی ہی رہے گا اور جیسا کہ یقین تھا کہ کسی بھی دلیل سے پاک ہوگا۔ ایسا ہی ہوا۔ اپنی کم علی اور کم بصارت پر شرمندہ ہونے کے بجائے طرح طرح کی تاویلات سے وہ معاملات درست قرآر دے رہے ہیں جو صرف کچھ لوگوں کے مکتبہ فکر سے درست ہیں۔ جوابات انشاء اللہ جلد۔
والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 20-10-08 at 06:31 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-10-08, 08:42 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

ایک بار پھر سب صاحبان کو سلام ،
اس معاملہ کو اس مادر علمی کے طالب علم کی نظروں سے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کوئی عریانی نہیں اور لائبریری میں بھی ایک دن خواتیں اور ایک دن حضرات کا ہے۔ تو اسیے میں یونی ورسٹی کو الزام دینا بنا کسی ثبوت کے کہ ایک اسلامی مادر علمی عریانی کو فروغ دے رہی ہے ایک جرم ہے۔

ہمارے پیارے اس طالب علم بھائی نے لکھا ہے ( جس کے لئے ان کا بہت بہت شکریہ) کہ

لیکن اس میں جو کہا گیا ہے کہ کچھ لڑکیاں نیم عریاں لباس پہن کر گھومتی ہیں۔ تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ مجھے اس ادارع میں ایک سال بیت چکا ہے لیکن میں نے ایسا منظر نہیں دیکھا البتہ لڑکیاں بے پردہ ضرور گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں ہیں۔

بے پردہ سے ان بھائی کا مطلب شائد ہے بناء حجاب۔ اگر ہمیں کوئی بھائی یہاں قرآن کی ایک بھی آیت پیش کردیں جس میں صاف صاف لکھا ہو کہ منہہ اور سر کو ڈھکا جائے تو ہم یہ بات بناء کسی تنازعہ کے مان لیں گے۔ اس ضمن میں کچھ فرقہ یہ آیات پیش کرتے ہیں جس میں لباس کو اپنے اوپر پہننے اور سینے کو ڈھانپنے کے بارے میں کہا گیا ہے جو کہ بالکل مناسب بات ہے لیکن ان آیات میں قطعاً یہ نہیں کہا گیا کہ اپنے منہہ اور سر کو بھی ڈھانپ کر رکھو۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

7:26 يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اورتقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

اللہ تعالی حکم دے رہے ہیں کہ لباس کو مناسب طریقہ سے بدن ڈھانکنے کے لئے استعمال کرو، یہ آٰیت کس کے لئے ہے؟ مرد و عورت دونوں کے لئے۔ اب اسی ضمن کی اگلی آٰیت دیکھتے ہیں۔

24:31 وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اور کہو مومن عورتوں سے کہ نیچی رکھیں اپنی نظریں اور حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی اور نہ ظاہر کریں اپنا بناؤ سنگار مگر جو خود ظاہر ہوجائے اور مارے رکھیں بُکل اپنی اوڑھنیوں کے اپنے سینوں پر اور نہ ظاہر کریں اپنا بناؤ سنگار مگر سامنے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپوں کے یا شوہروں کے باپوں کے یا بیٹوں کے یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے یا (اُن کے سامنے) جو ان کی ملکِ یمین میں ہوں یا ان خادموں کے (سامنے) جنہیں خواہش نہ ہو (عورتوں کی) خواہ مرد ہی کیوں نہ ہوں یا ان بچّوں کے (سامنے) جو ابھی واقف نہ ہُوئے ہوں عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے۔ اور نہ مار کر چلیں (زمین پر) اپنے پاؤں اس طرح کہ ظاہر ہو وہ زینت جو اُنہوں نے چُھپارکھی ہے۔ اور توبہ کرو اللہ کے حضور سب مل کر اے مومنو! تاکہ تم فلاح پاجاؤ۔


اس آیت میں اللہ تعالی سینوں‌ کو ڈھانپنے کا حکم دیتے ہیں ، اور جو بناؤ سنگھار خود سے ظاہر ہوجائے اس پر کوئی زبردستی نہیں طاری کی گئی ہے۔ ان آیات سے یہ معانی اخذ‌ کرنا کہ منہہ اور سر بھی ڈھانپے جائیں گے کس طور ممکن ہے۔ اس آیت میں منہہ یا سر کا تذکرہ بھی نہیں ہے۔ مزید دیکھتے ہیں ۔

33:59 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

اے نبی کہو! اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہ وہ لٹکالیا کریں اپنے اوپر اپنی چادر کے پَلّو۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اور ہے اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا۔

اس آیت میں‌بھی چادر اوڑھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ نہ کہ سر اور مننہ چھپانے کے لئے۔ تو پھر عورتں کے سر یا منہہ کا تذکرہ کہیں ملتا ہےِ ؟ جی دیکھئے وضو کی آیات ، ہمارا خالق ، ہمارا اللہ تعالی جانتا ہے کہ مرد و عورت منہہ ، ہاتھ اور پیر کھلے رکھ کر گھومتے ہیں اور باقی جسم ڈھکا رہتا ہے لہذا ان حصوں کو دھونے کا حکم دیا اور سر کے مسح کا بھی حکم دیا کہ وہ کھلا ہی رہتا ہے کچھ اوڑھنے کے باوجود۔ دیکھئے کہ یہاں خاص‌طور پر سر اور منہہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کیا اللہ تعالی کے پاس نعوذ باللہ الفاظ کی کمی ہے کہ لباس اور بدن ڈھانپنے کے احکامات میں سر اور منہہ کا تذکرہ نہیں کیا ، کیا یہ ملا اللہ تعالی سے زیادہ حکیم ہیں جو صبح شام ہماری ماؤں اور بہنوں کو سر اور منہہ ڈھانپنے کے طعنے مارتے ہیں ؟

5:6 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُواْ بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَينِ وَإِن كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اے ایمان والو! جب (تمہارا) نماز کیلئے کھڑے (ہونے کا ارادہ) ہو تو (وضو کے لئے) اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں سمیت (دھو لو)، اور اگر تم حالتِ جنابت میں ہو تو (نہا کر) خوب پاک ہو جاؤ، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی رفعِ حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے قربت (مجامعت) کی ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو (اندریں صورت) پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس (تیمم یہ ہے کہ) اس (پاک مٹی) سے اپنے چہروں اور اپنے (پورے) ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اﷲ نہیں چاہتا کہ وہ تمہارے اوپر کسی قسم کی سختی کرے لیکن وہ (یہ) چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ

سبحان اللہ ، جسم کے کھلے حصوں ، سر اور منہہ کو پاک کرنے کے لئے کس طرح صاف صاف سر اور منہہ کا تذکرہ کیا ہے ۔

زمانہ ء‌جاہلیت میں عورتوں کی تجارت کے باعث ، ان کو چھپا کر رکھا جاتا تھا تاکہ عورتوں کی بلیک مارکیٹنگ کی جاسکے۔ عورتوں‌کے تاجروں نے ان روایات کو قائم رکھا اور آج بھی عورتوں کی تجارت جاری رکھی ہوئی ہے ۔ مہر جو عورتوں کا حق ہوتا ہے وہ یہ لوگ تجارت کے طور پر وصولتے ہیں اور کبھی بھی خواتیں کو ان کا جائز حق نہیں دیتے۔ اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کے حدود آرڈینینس ہیں کہ کسی ملا نے سورۃ طلاق میں‌اللہ کی طرف سے دیا جانے والی حدود اللہ کا تذکرہ بھی نہیں‌کیا۔ آج بھی پاکستان کے شرارتی لاء یعنی شرارتی شریعت لاء‌ میں طلاق یافتہ عورت کو بعد از طلاق اس کے اپنے گھر میں رہنے کا حق نہیں دیا گیا بلکہ اس امر کی بات بھی حدود لاء میں نہیں کی گئی۔ اس امر مٰن کوئی شبہ نہیں کہ ملا ان حقوق کی مخالفت کرتے ہیں جو عورتوں‌ کو اسلام نے عطا کیا ہے۔


قرآن کے واضح احکام کی روشنی میں یہ بات بہت واضح ہے کہ رسول اکرم صلعم نے کبھی خلاف قرآن تعلیم نہیں‌دی، یہ ملا اپنے پاس سے گھڑ گھڑ کر قوانین رسول اکرم صلعم سے منسوب کرتے رہے۔ جبکہ اللہ تعالی کے احکام بہت ہی واضح ہیں ، کہ اللہ تعالی کے پاس الفاظ کی کمی نہیں جو کہ اوپر فراہم کردہ آیات میں سر اور منہہ کے استعمال سے بہت ہی واضح ہے۔ اگر ہمارے ساتھی کیڑے نکالنے کے بجائے رسول اکرم کی پیش کی ہوئی اللہ تعالی کی آیات کو سمجھنے میں وقت لگائیں تو ان کی عربی خود ان کے اپنے کام آئے گی۔ لیکن ان کا افسوسناک مشغلہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کے احکامات کو ماننے کے بجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے اپنے عقائد قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر روایات اپنے پاس سے گھڑ کر نبی اکرم سے منسوب کر دیتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالی کا قرآن جو کہ نبی اکرم نے پیش کیا اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالی نے لیا ہوا ہے۔

کچھ لوگ روایت اور احادیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ سر اور منہہ ڈھانپنا ان احادیث میں آیا ہے۔ جبکہ ایسی درجنوں احادیث موجود ہیں ، جن سے اندازہ ہوتا ہےکہ امہات المومنین کو لوگوں نے شکل سے پہنچانا۔ یا نبی اکرم نے دوسری عورتوں کو پہچان کر بات چیت کی۔ ایس احادیث کی جو تائید و تنقید کرتی ہیں ان کی بحث آپ کو انٹرنیٹ پر بے تحاشا مل جائے گی۔ تنقیدی اور تائیدی روایات کی اس غلیل بازی کی ان واضح آیات کی روشنی میں کوئی گنجائش رہ نہیں جاتی۔ اس لئے کہ اللہ تعالی کی پیش کردہ احکامات سے کوئی کافر ہی انکار کر سکتا ہے۔

قرآن کہیں بھی یہ تعلیم نہیں دیتا کہ عورتوں کو نقاب میں چھپایا جائے یا ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے سر کو ڈھانپیں۔ بلکہ اللہ تعالی عورتوں کو معاشرہ میں ایک فعال حیثیت دیتے ہے ۔ اس پر مزید آئیندہ

عورتوں اور مردوں کو معاشرہ میں مساوی مقام اور آزادانہ نقل و حرکت اور تعلیم حاصل کرنے کے حق کے بارے میں آیات اور احکام الہی آئیندہ مراسلہ میں ۔ انشاء اللہ


والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 20-10-08 at 09:00 AM.
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-10-08, 10:17 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی فکر کیجیے

صاحبان ایسا علم کس کام کا جو کہ اللہ تعالی کے پیغام اور رسول اکرم کے پیش کردہ قرآن حکیم کی تردید کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ بھائی اس قرآن سے اللہ تعالی کے احکامات پیش ہیں ۔ ان کے وہی معنی ہے جو یہاں لکھے ہیں۔ کوئی معانی الگ ، پیچیدہ اور خفیہ نہیں ہیں۔ اللہ تعالی نے قرآن حکیم ہم سب کے لئے عطا فرمایا، رسول اکرم نے اسی کتاب کی تعلیم دی اور اسی کتاب کے مطابق فرمایا۔ زمانہ ء‌ جاہلیت میں عورتوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ اللہ تعالی نے رسول اکرم رحمت للعالمین کے ذریعے اپنے احکامات قرآن حکیم کے ذریعے عطا فرمائے۔ ان احکامات کو ذہن پاک و صاف کرکے پڑھئے اور دعا کیجئے کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں۔

کیا خواتین کو اللہ تعالی نے دوسرے درجے کا شہری بنایا ہے ؟ یا ان کو تجارت سے منع فرمایا ہے یا ان کو معاشرہ میں ہونے والی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے ۔ کونسی ایسی آیات کوئی صاحب پیش کرسکتے ہیں جو عورتوں کی معاشرہ مٰن حق تلفی کرتی ہوں؟

اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے معاشرہ میں عورتوں اور مردوں کو ایک مساوی درجہ دیا ہے۔ کچھ لوگ وراثت میں نصف حصہ سے عورتوں کو مکمل طور پر دوسرے درجہ کا شہری قرآر دہتے ہیں تو کچھ لوگ گواہی میں دو خواتین کی ضرورت سے خواتین کو دوسرے درجہ کا شہری قرار دیتے ہیں۔ یہ قطعاً غیر منطقی اور خلاف قرآن امر ہے کہ اس طرح ہماری ماؤں بہنوں ، بیویوں‌ کو معاشرہ مٰن دوسرے درجہ کا شہری ثابت کیا جائے اور اس کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

قرآن حکیم، عورتوں‌اور مردوں کو معاشرے میں مساوی درجہ دیتا ہے۔ اور آپس میں مل جل کر شان بہ شانہ رفیق و مدگار بن کر کام کرنے کا حکم دیتا ہے اور پیش گوئی کرتا ہے کہ ایسی رفاقت پر مبنی معاونت آخرت میں پر نور ثابت ہوگی۔ آئیے دیکھتے ہیں خواتیں و حضرات کا مساوی مقام۔

سورۃ الاحزاب:33 , آیت:35
إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، اور صدق والے مرد اور صدق والی عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لئے بخشِش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے

سبحان اللہ!
کیا آپ کو ایک عورت کے کئے ہوئے کام میں اور ایک مرد کے کئے ہوئے کام میں‌کیا بخشش اور اجر کا فرق نظر آتا ہے؟‌


سورۃ التوبۃ:9 , آیت:71
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

اس آیت پر تھوڑا سا غور فرمائیے۔ اللہ تعالی خواتین اور مردوں کو ایک دوسرے کا رفیق و مددگار قرار دے رہا ہے، کس کام میں ؟ جناب کہ وہ پسندیدہ کاموں‌ کو فروغ دیں‌ اور نا پسندیدہ کاموں‌ سے روکیں۔ یہ کام خواتیں و حضرات ایک دوسرے کے رفیق و مددگار بن کر کریں۔ جی؟ تو یہ کام ہے کیا؟ اس کام کی نوعیت، گلی محلے سے آگے بڑھ کر جب شہر اور ملک کی حد تک پہنچتی ہے تو اس کی کیا شکل ہوگی؟ آپ خود دیکھئے کہ آپ کی قانون ساز اسمبلی ہو یا بنکاری ہو ، تجارت ہو یا تعلیم ہو۔ ہر صورت میں اچھا اور پسندیدہ کام اور ناپسندیدہ اور برا کام ، زندگی کے ہر ڈپارٹمنٹ‌ میں موجود ہیں۔ اگر ہم خواتین کو ہر معاملہ سے نکال باہر کریں گے تو کیا خواتین کے حقوق کا تحفظ ممکن ہے؟ یقیناً نہیں ۔ اس کی ایک بڑی مثال پاکستان کے حدود آرڈیننس میں طلاق یافتہ خواتین کے حقوق کا نظر انداز کیا جانا ہے۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ خواتین و حضرات معاشرہ میں‌نیک کاموں کی ترویج کے لئے اور برے کاموں کے انسداد کے لئے ساتھ ساتھ کام کریں۔ جی؟


اب درج ذیل آیت کو دیکھئے۔ گو کہ اس آیت کا پس منظر کچھ اور ہے لیکن اللہ تعالی کی کوئی بات مصلحت سے خالی نہیں ۔ جو لوگ خواتین اور حضرات پر بلاوجہ بہتان لگاتے ہیں ان پر یہ آیت عمی طور پر بھی صادق آتی ہے۔

سورۃ الاحزاب:33 , آیت:58
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
اور جو لوگ مومِن مَردوں اور مومِن عورتوں کو اذیتّ دیتے ہیں بغیر اِس کے کہ انہوں نے کچھ (خطا) کی ہو تو بیشک انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ (اپنے سَر) لے لیا

یعنی آپ مومن عورتوں اور مومن مردوں کو بنا کسی خطا کے کوئی بہتان نہ لگائیں ۔ کہ یہ گناہ ہے۔ اگر مرد و عورت کا معاشرہ میں ساتھ ساتھ کام کاج کرنا ، تجارت کرنا ، تعلیم حاصل کرنا منع ہوتا تو کیا اس آیت کی کوئی ضرورت رہ جاتی تھی؟ یقیناً نہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالی اس خیال کو راسخ‌کرنے کے لئے دوبار یاد دہانی کراتے ہیں کہ

سورۃ النور:24 , آیت:12
لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ
ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس (بہتان) کو سنا تھا تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں کے بارے میں نیک گمان کر لیتے اور (یہ) کہہ دیتے کہ یہ کھلا (جھوٹ پر مبنی) بہتان ہے

گویا آپ ان مردوں اور عورتوں پر جو ساتھ ساتھ معاشرہ میں فعال ہیں ، بناء کسی ثبوت کے اپنے واہمہ کی بنیاد پر بہتان تراشی بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی سے بڑھ کر غیب کا حال جانتے ہیں ۔ جی؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر مسلمان مرد و عورت مل کو کام کریں گے تو برائیاں‌ پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ جی؟ لیکن اللہ تعالی ہم کو مومن مردوں اور عورتوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ اور خبر دیتے ہیں دیکھئے ۔

سورۃ الحديد:57 , آیت:12
يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
(اے حبیب!) جس دن آپ (اپنی امّت کے) مومن مَردوں اور مومن عورتوں کو دیکھیں گے کہ اُن کا نور اُن کے آگے اور اُن کی دائیں جانب تیزی سے چل رہا ہوگا (اور اُن سے کہا جائے گا) تمہیں بشارت ہو آج (تمہارے لئے) جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں رواں ہیں (تم) ہمیشہ ان میں رہو گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے

کیا ہوگا ان مومن عورتوں اور مردوں کا انجام جو امر بالمعرف کو پھیلانے اور نہی عن المنکر کے روکنے میں ساتھ ساتھ مدد و رفاقت سے کام کریں گے ۔ سورۃ الحدید کی یہ آیت اس امر کی گواہ ہے ، کیا عورتوں اور مردوں کی معاشرہ میں شرکت سے برائیان پھیلنے کا اندیشہ کرنے والے لوگ اللہ تعالی سے بڑھ کر عالم الغیب ہیں ؟


اللہ کسی کا کام ضائع نہ کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت:
سورۃ آل عمران:3 , آیت:195
پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی (اور فرمایا) یقیناً میں تم میں سے کسی محنت والے کی مزدوری ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے (ہی) ہو، پس جن لوگوں نے (اللہ کے لئے) وطن چھوڑ دیئے اور (اسی کے باعث) اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور (میری خاطر) لڑے اور مارے گئے تو میں ضرور ان کے گناہ ان (کے نامہ اعمال) سے مٹا دوں گا اور انہیں یقیناً ان جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ اللہ کے حضور سے اجر ہے، اور اللہ ہی کے پاس (اس سے بھی) بہتر اجر ہے

مرد و عورت کو نیکی کا بدلہ برابر عطا ہوگا۔
سورۃ غافر / المؤمن:40 , آیت:40
مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزَى إِلَّا مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ
جس نے برائی کی تو اسے بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر صرف اسی قدر، اور جس نے نیکی کی، خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو وہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے انہیں وہاں بے حساب رِزق دیا جائے گا

جنت میں بھی مرد و عورت مساوی حق سے داخل ہونگے کوئی حق تلـفی مرد یا عورت ہونے کے ناطے نہ ہوگی۔
سورۃ النسآء:4 , آیت:124
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنْثََى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَـئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلاَ يُظْلَمُونَ نَقِيرًا
اور جو کوئی نیک اعمال کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت درآنحالیکہ وہ مومن ہے پس وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اوران کی تِل برابر (بھی) حق تلفی نہیں کی جائے گی

سورۃ التوبۃ:9 , آیت:72
وَعَدَ اللّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کا وعدہ فرما لیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانات کا بھی (وعدہ فرمایا ہے) جوجنت کے خاص مقام پر سدا بہار باغات میں ہیں، اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہوگی)، یہی زبردست کامیابی ہے

قران حکیم اس طرح مساوی طور پر مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا رفیق مددگار بن کر کام کرنے کی ہدایت کرتا ہے، تاکہ معاشرے میں استحکام پیدا ہو۔ جب یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس سے اخلاقی برائیاں پھیلنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے، تو اللہ تعالی وعدہ فرماتے ہیں کے تم آخرت میں‌دیکھ لینا کہ ان کے کئے ہوئے کام اور نیکیوں کا نور انکے اگے، اور دائیں چل رہا ہوگا۔ ہم خود دیکھ چکے ہیں کہ خواتین کے میدان عمل میں آنے سے معاشرتی اور اخلاقی برائیوں کا خاتمہ ہوا اور ہوتا ہے۔

ایک تعلیم یافتہ عورت، معاشرہ میں ماں کا کردار ادا کرتی ہے اور اپنے بچوں کی بہترین تعلیم کا سبب بنتی ہے۔ مسلم معاشرہ اور اس کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والی فلاحی مملکت کی تشکیل تعلیم یافتہ ماؤں کے بغیر ناممکن ہے۔ آپ بہ آسانی معاشرے میں یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی تعلیم و تربیت میں ماں، کیا کردار ادا کرتی ہے۔ آپ آج خواتین کو تعلیم سے محروم کردیجئے، صرف 25 سال کے عرصے میں کوئی بھی معاشرہ، تعلیمی اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہو کر دور جاہلیت میں واپس چلا جائے گا۔

لہذا یہ اعتراض کہ اسلام نے معاشرہ میں عورتوں کی شمولیت کو منع کیا ہے ایک درست اعتراض‌نہیں ۔ جو لوگ عورتوں کو بیچنے کے مذموم کام میں مصروف رہے یہ ان لوگوں کا وطیرہ تھا کہ وہ عورتوں کو چھپا کر رکھتے تھے اور کسی کموڈیٹی کی طرح بیچتے تھے۔ آپ قرآن حکیم کی ایک آیت پیش کیجئے جس میں اللہ تعالی نے معاشرہ میں عورتوں کو الگ رکھنے کا حکم دیا ہو۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, کراچی, پاکستان, چینل, مواخذہ, موجودہ, معلوم, ایمان, احتجاج, اسلامی, استاد, تعلیم, جھوٹ, جواب, جرم, حال, حدیث, خواتین, دوست, داڑھی, درخواست, روزہ, راستہ, سائنس, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایوانِ وزیراعلیٰ پنجاب کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی بنادیا گیا عبدالقدوس خبریں 10 14-02-12 01:02 AM
ہاورڈ یونیورسٹی کے نمائندے کو معزول چیف جسٹس کو ایوارڈ دینے سے روک دیا گیا عبدالقدوس خبریں 1 01-03-11 07:30 PM
پنجاب یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ کا لوڈشیڈنگ کے خلاف PDآفس کا گھیراﺅ ابن جلال خبریں 1 25-10-08 11:56 AM
کولوراڈو یونیورسٹی کے اشتراک سےاسلام آباد میں ایک جدید میڈیا یونیورسٹی کا قیام پاکستانی طالب علموں کی بیٹھک 4 26-08-07 02:30 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:56 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger