واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


امت مسلمہ کے زوال کے اسباب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-06-08, 11:32 PM   #1
امت مسلمہ کے زوال کے اسباب
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 19-06-08, 11:32 PM

امت ایک عقیدے کو تسلیم کرنے والے اس پر عمل کرنے والے اور اسی عقیدے پر جمع ہوکر اسی کی سربلندی کیلئے دعوت اور جہاد و قتال کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اگر صرف ایک شخص ہی حق کو جاننے والا ہو، اس پر یقین رکھنے والا ہو، عمل کرنے والا ہو، وہ اکیلا شخص ہی امت کہلانے کا حق دار ہے۔
امت مسلمہ سے مراد آج دنیا بھر میں اسلام کے نام لیواؤں کا نام ہے، جب ہم امت مسلمہ کے مسائل اور ان کی مشکلات کا نام لیتے ہیں تو ہمارے سامنے آنسوؤں، غموں، دکھوں، آلام و مصائب کا ایک طوفان ہے جو امڈ رہا ہے۔ مسلم امت کا حال جتنا آج بگاڑ کا شکار ہے کبھی بھی نہیں تھا۔
جب ہم اپنے چہار جانب نظر دوڑاتے اور عالمی جغرافیائی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو ہر طرف مسلمانوں کے آنسو ہی آنسو ہیں۔
فلسطین جو انبیاء علیھم السلام کی سرزمین تھی، آج دنیا اور آخرت کے راندہ درگاہ یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ 1948ء میں اسرائیل وجود میں آیا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک مسلمانوں کو چین نصیب نہیں۔ قبلہ اول ان سے چھن گیا۔ جمعہ کی نماز بھی ادا کرنے کیلئے نعشوں کے نذرانے دینے پڑتے ہیں۔ لاکھوں فلسطینی شہید کردیئے گئے، مسلم خواتین کی عظمت و عفت کو داغدار کردیا گیا معصوم بچے لہو میں نہلا دیئے گئے، بڑے بڑے لیڈر بموں کی آگ میں بھسم کردیئے گئے، لیکن فلسطین یہودیوں کے قبضے سے نہ چھڑایا جاسکا۔
انگریزی استعمار سے آزادی کے بعد جب پاکستان وجود میں آگیا تو مسلم اکثریت کی آبادی کا کشمیر انگریزوں اور ہندو لیڈروں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا شکار ہوگیا۔ ہند سامراج نے کشمیر پر قبضہ کرلیا جموں کے میدان میں تین لاکھ مسلم کشمیریوں کو تہہ تیغ کردیا گیا، کشمیر آزاد نہ ہوسکا۔ مجاہدین کی کوششوں سے کشمیر کے صرف پانچ اضلاع آزاد ہوسکے۔ سری نگر اور کشمیر جنت نظیر کی حسین وادیاں ہندو کفر کے قبضے میں چلے گئے۔ نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، کشمیر آزاد نہ ہوسکا، بلکہ 1991ء سے لے کر اب تک ایک لاکھ سے زیادہ جوانوں کو شہید کردیا گیا، ہزاروں بہنوں کے آنچل نوچ ڈالے گئے، عزتیں تار تار کردی گئیں، بوڑھوں کو جیلوں میں ڈال کر اذیتناک سزائیں دے کر مار ڈالا گیا، گھر برباد ہوگئے۔ فصلیں اجاڑ دی گئیں، کوئی ایک غم ہے، کوئی ایک دکھ ہے، کیا کیا بیان کریں۔ اخباروں میں چھپنے والے مظالم اور ان کی داستانیں اس کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔
فلپائن مشرق بعید کا ایک اور ملک ہے جہاں کے مورو مسلمان عیسائی تسلط سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آزادی سلب ہے، عزتیں برباد ہیں، ان کے جوان لاشیں بنادیئے گئے، پوری دنیا کے عیسائی حکومت کے ساتھ ہیں۔ عورتیں تعداد میں بڑھ گئیں، مردوں کو عیسائی بربریت کا شکار کردیا گیا
گھرسے چلے تھے بہاروں کی آرزو لے کر
غم اتنے ملے کہ جن کا کوئی شمار نہیں
غرض مسلم امت ہی ظلم و بربریت کی چکی میں پس رہی ہے جہاں دیکھو، تصویر خون میں ہی نہائی نظر آئے گی۔
برما میں اراکان کا علاقہ ایسا ہے جہاں اکثریت مسلم آبادی کی ہے، برما کی کمیونسٹ حکومت نے ان کی زمینیں، جائیدادیں سب پر قبضہ جمالیا اور محنت کسان کرے،برما کی حکومت ان کی فصلیں فوج اور پولیس کے ذریعے اٹھا کر لے جائے قریب قریب بیس پچیس لاکھ برمی مسلمان ہجرت پر مجبور ہیں، دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ان کی حالت زار پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
سری لنکا میں تامل کمیونسٹ جہاں اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں وہاں وہ مسلم آبادی پر بھی ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں غم کی طویل رات ہے جو ختم ہونے میں نہیں آرہی۔
آپ اچھی طرح جانتے ہیں روس کی تباہی اور زوال کے بعد پوری دنیا میں اللہ کی منکر دھریہ حکومتوں کا خاتمہ ہونا شروع ہوا۔ جہاں روس بکھر گیا وہاں یوگو سلاویہ کی کمیونسٹ حکومت کا بھی خاتمہ ہوگیا، اور بلقان کی ریاستوں نے آزادی کا اعلان کردیا۔ ان میں سربیا اور بوسنیا ہرز گوینا کی حکومتیں بھی ختم ہوگئیں۔ سربیا کے کٹر عیسائیوں نے بوسنیا پر چڑھائی کردی اور دنیا کے عیسائیوں نے ظالم عیسائی حکمرانوں کے ساتھ مل کر چار لاکھ مسلمانوں کو قتل کردیا۔ ہزاروں بچوں کو لے جاکر عیسائی عالمی تنظیموں کے سپرد کردیا آج وہ مسلمانوں کے بچے عیسائی رنگ میں رنگے جاچکے ہیں۔
زار کی حکومت کے بعد دھریت پر مبنی حکومت قائم کرکے دین کے خاتمے کیلئے کمربستہ ہوگئی۔ چیچن مسلمانوں نے آزادی کا اعلان کردیا، روس نے زبردستی قبضہ جما لیا جنگ میں ہزاروں مسلمان لہو میں نہا گئے۔ عورتیں اپنی عزتیں کھو بیٹھیں، مسائل اور مشکلات ہیں جو ختم ہونے کو نہیں آرہیں۔
انڈنیشیا کے ہزاروں جزائر ہیں بڑا اسلامی ملک ہے، جزیرہ میں عیسائی مشنریز بڑے عرصے سے کام کر رہی ہیں۔ مجبور اور غربت کے مارے مسلمانوں کو عیسائی مذہب اختیار کرنے کیلئے دنیا بھر کی عیسائی تنظیمیں سرگرم عمل رہیں۔ آبادی کو عیسائی بنادیا گیا۔ پھر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، امریکہ اور عالم نصرانیت، یو این او سب نے مکمل مالی، سیاسی قوت لگا کر جزیرہ کو انڈونیشیا سے آزاد کروالیا۔ دیکھا آپ نے معیارات کے تضاد، فلپائن میں مسلم آبادی کی اکثریت کو آزادی نہیں دی گئی، کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی آٹھ لاکھ ہندو فوج کے ظلم و بربریت کا شکار ہے آزادی کا خواب چکنا چور ہورہا ہے، انہی اصولوں پر انہیں آزادی نہیں دی جارہی انہیں یہ سزا مسلمان ہونے کی وجہ سے ہے۔
افغانستان میں روسی فوج نے 1979ء دسمبر میں یلغار کرکے ملک پر قبضہ کرلیا، پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ دس سال کی طویل جنگ میں سولہ لاکھ سے زیادہ افغانی شہید کردیئے گئے۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں روس کی فوج 35 ہزار فوجیوں کو جہنم واصل کروا کر خائب و خاسر ہوئی ملک سے نکلنا پڑا۔ ایسا نکلنا پڑا کہ وہ اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکا اور دنیا کی دوسری بڑی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ افغانیوں کو چین نہ مل سکا امریکہ کے تھنک ٹینک نے یہ سمجھ لیا کہ آزادی کے نتیجے میں اگر اسلام قائم ہوگیا تو روس کے بعد امریکہ بھی بالکل ختم ہوجائے گا۔ اسلام دشمنی کا ایک محارب امریکہ سامنے آگیا۔ افغانیوں کو آپس میں لڑادیا گیا۔ شمالی افغانستان کے فارسی بانوں کو پشتونوں کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ احمد شاہ مسعود ان کا کمانڈر ٹھہرا۔ بدخشانی بھی مقابلے میں آگئے۔ طالبان کی حکومت قائم ہوگئی کفر اور سامراج کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔ ایک لمبی پلاننگ کے نتیجے میں افغانستان کو پھر سے امریکہ نے خون میں نہلا دیا۔ تاحال امریکہ اور ناٹو کی فوجوں کا افغانستان پر قبضہ ہے۔ چار لاکھ افغانی پھر موت کی آغوش میں چلے گئے۔
عراق پر صدام حسین کی حکومت تھی اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کیخلاف ایک بے مقصد جنگ لڑی، عرب ملکوں کو اپنے ساتھ ملایا، بے نتیجہ جنگ کے بعد پھر کویت پرچڑھائی کردی، اہل کویت اپنی امت کے لیڈر کے ہاتھوں شکست و ریخت کا شکار ہوئے۔ جنگ کسی حاصل کے بغیر ختم ہوئی۔ امریکہ یہودیوں کے زیر اثر اسلام دشمنی کا ترجمان بن گیا ہے خلیج کے ملکوں میں مسلم امت کو کمزور رکھنے کیلئے یہودی مختلف قسم کی سازشوں میں لگے رہتے ہیں تیل سے مالا مال ملک بڑی عظیم الشان بلڈنگیں بنا رہے ہیں، اسلام کی سربلندی کیلئے کوئی مضبوط منصوبہ بندی نہیں ہورہی یورپین ملکوں اور امریکہ نے صدام سے جو کام لینا تھا لیا پھر اسی کو ختم کرنے کا سوچ لیا گیا، کہا گیا کہ صدام ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے اس نے کیمیائی ہتھیار جمع کرلئے ہیں صدام بھی سامنے ڈٹ گیا، وہی کل والا دوست آج دنیا میں سامراج کا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔ اس کے خلاف شدید ترین جنگی کارروائی شروع ہوگئی۔ دنوں ہی میں صدام اور فوجیں سب ملیا میٹ ہوگئیں۔ صدام پر مقدمہ چلا کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا، دنیا کے اسلام نے ایک اور بڑا زخم کھایا چار لاکھ سے زیادہ لوگ موت کی وادیوں میں دھکیل دیئے گئے۔ کوئی دن خالی نہیں جاتا کہ بم دھماکے بچوں کو یتیم نہ کر رہے ہوں۔ گھر کھنڈر بنادیئے گئے ہیں۔ عورتیں اپنی عصمتیں گنوا بیٹھی ہیں۔ بوڑھے ذلت کا شکار ہوگئے ہیں۔ دھاڑیں، آنسو، چیخیں ہر طرف قیامت کا سماں ہے۔ یہ ہے مسلم امت کا حال۔
چین پر ماؤزے تنگ کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد عیسائی مذہب کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ جتنا اسلام کو نقصان پہنچا۔ مسلمانوں کیلئے نماز، اذان، تلاوت قرآن خطبہ جمعہ حج سب کچھ ممنوع قرار دیدیا گیا۔ لاکھوں مسلمانوں کو انقلاب کی آڑ میں تہ تیغ کردیا گیا۔ بچوں کیلئے قرآن و سنت کی تعلیم ممنوع قرار دیدی گئی۔ یورپ اور امریکہ میں آزادی کے باوجود اسلام دشمنی اپنے عروج پرہے۔ نائن الیون کے بعد ان ملکوں کی حکومتوں نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے ہر روز تفتیش، گرفتاریاں، سزائیں یہ ہے مسلمانوں کی حالت زار۔
مسلم امت کے ساتھ ایسا کیوں ہوگیا۔ کبھی ہم نے سوچا؟ مسلم امت کی تاریخ تو بڑی روشن تاریخ بھی۔ تاریک یورپ میں علم کی شمع ہم نے جلائی تھی ان کو اندھیروں سے ہم نے نکالا تھا، ہسپانیہ پر آٹھ صدیاں حکومت کی، تاریخ، جغرافیہ، فزکس، کیمیا، طب، قانون، انجینئرنگ، تعمیر وغیرہ ہر میدان میں عظمت کے چراغ روشن کئے۔ عبدالرحمن داخل اکیلا سپین میں داخل ہوا اور صدیوں بنی امیہ نے دنیا کے اس خطے پر حکومت کی، ترکی، ایران، مصر، ہند، چین، ترکستان، روس، کرغیزستان، ترکمانستان، فلپائن، انڈونیشیا، افریقہ کا براعظم غرض دنیا کا غالب حصہ مسلمانوں کے زیر نگیں تھا۔ وہ فتوحات وہ عظمتیں کہاں چلی گئیں؟
کبھی ہم نے غور کیا؟ قیتبہ بن مسلم، خالد بن ولید، طارق بن زیاد، عمرو بن العاص، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے عظیم فاتحین، ماؤں نے ایسے جری جرنیل پیدا کرنے بند کردیئے، کبھی ہمارے ضمیرنے ہمیں جھنجوڑا؟
مسلم امت پر اچانک زوال نہیں آیا۔ صدیوں پر پھیلے ہوئے گناہوں، خطاؤں، بے عملی اور عقیدہ کی خرابیوں، تعلق بالشہ میں کمی یہ سب کچھ زوال کا سبب بنے ہیں۔
اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مسلمان تعداد میں کم ہیں، یکطرفہ ہیں، ایک ارب اور چالیس کروڑ کے قریب مسلمان ہیں، ستاون اسلامی ملک ہیں، تیل کی دولت سے مالا مال ہیں، پہاڑ، میدان، میدانی علاقوں کی فصلیں، سمندر، سونا، ستر لاکھ مسلمانوں کی فوج، کیا یہ ہماری پستی، غلامی اور قوت ہمارے پاس بہت کچھ موجود ہے۔ پھر ہمیں کیوں کفر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑ رہے ہیں۔ کیوں ہم شکست سے دو چار ہیں؟
یہ سب ایسے سوال ہیں جن کا جواب ضروری ہے ہم میں ہر شخص تلاش کرے۔
ہم نے ایک ہزار سال تک ہند پر حکومت کی تاریخ اور اس کی تفصیل بہت طویل ہے۔ میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلمانوں کو زوال وسائل کی کمی، اسباب کی کمی، اسلحہ کی کمی کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ ہمارے پاس تو ایٹم بم بھی موجود ہے۔ سب کچھ ہے، اسلام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کبھی بھی مسلمانوں کو شکست اسباب کی قلت کی وجہ سے نہیں آئی۔ مسلمانوں کے وسائل کی کمی کے باوجود ہمیشہ فتح و کامرانی ملی ہے۔ جنگ بدرسے لے کر جنگ حنین، جنگ خندق، رومیوں کے خلاف جنگوں میں، ایرانیوں، مصریوں، شامیوں، ہندیوں کے خلاف ہمیشہ فتح ملی، بے شک فوج، اسلحہ اسباب کم تھے پھر بھی کامرانیوں نے پاؤں چومے۔
آج جب عالمی جغرافیائی اور سیاسی پس منظر میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اسلحہ اور وسائل میں کمزور ہیں اس لئے کفار کا مقابلہ نہیں کرسکتے، مسلمان دانشور بھی اسی قسم کے تجربے کرتے ہیں تو دل ڈوبنے لگتا ہے مسلمانوں نے کیا ذہنی طور پر شکست کو قبول کرلیا ہے؟ اور کیا وہ ہمیشہ ذہنی اور جسمانی غلامی میں جکڑے رہیں گے؟ کیا ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کچھ بھی نہیں کریں گے؟
میں جب اسلام کی تاریخ کو اندر سے جھانکتا ہوں تو مجھے کچھ اور ہی سمجھ میں آتا ہے۔ قرآن مجید صاف صاف کہتا ہے۔
ترجمہ: ”تم ہی غالب ہو تم ہی سربلند ہو، اگر تم مومن ہو۔“
اگر تم مغلوب ہو، اگر تم پستی اور غلامی میں ہو، اگر ذلت میں پڑ چکے ہو، اگر تم کفر کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہو تو بات یہ کہے کہ تم ایمان میں کمزور ہو۔ تمہارے اندر وہ ایمانی قوت مفقود ہوگئی ہے جو تمہیں کفر کے خاتمے اس کے مقابلے، باطل کو مٹانے کیلئے کھڑا رکھتی رہی ہے۔
مسلم امت کی پستی اوز زوال کا سب سے بڑا سبب اللہ پر ایمان کا ماند پڑ جاتا ہے اس کی تفصیل ابھی ذکر کریں گے۔ میں چاہتا ہوں زوال کے تمام اسباب کو نکتہ نکتہ کرکے بیان کردیا جائے۔
1۔ توحید باری تعالیٰ کا ترک اور عقیدہ شرک کو باقاعدہ ایمان سمجھ لینا۔
2۔ سنت کے اہتمام میں کمزوری اور بدعات و خرافات کو زندگی میں بطور دین اختیار کرلینا۔
3۔ فرقہ واریت۔
4۔ جہالت: کتاب و سنت کے علم سے اعراض۔ جدید علوم و فنون میں دوسری امتوں سے پیچھے۔
5۔مغربی جمہوریت، سیکولرزم، سوشلزم کو اسلامی ملکوں کے دستور کا حصہ بنالینا۔
6۔ طاقتور ملکوں کا خوف، عالمی مالیاتی اداروں سے امداد، سود کی تجارت اور سودی قرضے۔
7۔ دین کو محض تصور سمجھنا ،عملی زندگی میں دوسرے نظاموں کی پیروی۔
8۔ مسجد کا نبوی کردار بدل دینا اور اسے غلامی کے اثرات کے تحت کلیسائی کردار دے دینا۔
9۔ اسلامی ملکوں میں قرآن و سنت کی جگہ غیر اسلامی دستور کا نافذ ہونا۔
10۔ جہاد اسلامی کے ادارہ کا معطل ہوجانا۔
11۔ اسلامی خلافت کا خاتمہ۔
(از پروفیسر ظفر اقبال)

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 411
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
میاں شاہد (20-06-08), رفیق طاہر (09-12-09)
جواب

Tags
ہندو, پولیس, پاکستان, یوگو سلاویہ, قرآن, لوگ, چین, چور, نماز, نظر, موت, مجید, مسجد, ایٹم بم, ایمان, ایران, امریکہ, بچوں, توحید, تلاوت قرآن, تلاش, تعلیم, خواتین, دوست, طالبان


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اخلاقی زوال۔۔۔ اور ہمارا فرض ARHAM اپکے کالم 3 07-02-10 10:17 AM
ایمان کا کمزور ترین درجہ sahj مطالعہ حدیث 0 14-12-09 04:32 PM
امریکہ : ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا حیدر خبریں 5 10-10-09 10:52 AM
کمزور ایمان میاں شاہد ایمان 4 30-06-08 10:56 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger