| اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | ||||
|
|||||
|
مناظر: 1221
|
|||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
یہ موضوع ایک سے ذائید مراسلات پر مبنی ہے۔ ان مراسلات میں ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو لوگوں نے قرآن حکیم پر کئے۔ الحمد للہ مجھے اللہ تعالی نے یہ سعادت عطا فرمائی کہ ان اعتراضات کا جواب دے سکوں جو قرآن حکیم کو متضاد بنا کر پیش کرنے میں ہے۔ بہت سے اعتراضات تو صرف ان مکمل آیات کو پڑھ کر ہی بھاپ بن کر اڑ جاتے ہیں۔ آپ خواتین و حضرات کی تائید و تنقید سر آنکھوں پر۔
والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 22-08-10 at 07:31 AM. |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
[ayah]7:54 [/ayah] [arabic] إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ[/arabic] بلاشُبہ تمہارا رب اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر جلوہ افروز ہوا اپنے تخت سلطنت پر۔ ڈھانک دیتا ہے وہ رات کو دن پر اور وہ چلی آتی ہے اس کے پیچھے پیچھے دوڑتی اور سورج اور چاند اور ستارے سب کام میں لگے ہوئے ہیں اس کے حکم کے مطابق، خبر دار ہو اسی کا کام ہے پیدا فرمانا اور (اُسی کو اختیار ہے) حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا بہت بابرکت ہے اللہ جو رب ہے سب جہانوں کا۔ چھ دن میں کیا بنایا گیا ؟ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ زمین و آسمان اب دوسرا سیٹ دیکھتے ہیں۔ [ayah]41:9[/ayah] [arabic]قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ[/arabic] [ayah]41:10[/ayah] [arabic]وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ[/arabic] [ayah] 41:11 [/ayah] [arabic]ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ[/arabic] [ayah]41:12[/ayah] [arabic] فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ[/arabic] 41:9 فرما دیجئے: کیا تم اس (اﷲ) کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دِن (یعنی دو مدّتوں) میں پیدا فرمایا اور تم اُس کے لئے ہمسر ٹھہراتے ہو، وہی سارے جہانوں کا پروردگار ہے [ayah]41:10 [/ayah] اور اُس کے اندر (سے) بھاری پہاڑ (نکال کر) اس کے اوپر رکھ دیئے اور اس کے اندر (معدنیات، آبی ذخائر، قدرتی وسائل اور دیگر قوتوں کی) برکت رکھی، اور اس میں (جملہ مخلوق کے لئے) غذائیں (اور سامانِ معیشت) مقرر فرمائے (یہ سب کچھ اس نے) چار دنوں (یعنی چار ارتقائی زمانوں) میں مکمل کیا، (یہ سارا رِزق اصلًا) تمام طلب گاروں (اور حاجت مندوں) کے لئے برابر ہے [ayah]41:11[/ayah] پھر وہ سماوی کائنات کی طرف متوجہ ہوا تو وہ (سب) دھواں تھا، سو اس نے اُسے (یعنی آسمانی کرّوں سے) اور زمین سے فرمایا: خواہ باہم کشش و رغبت سے یا گریزی و ناگواری سے (ہمارے نظام کے تابع) آجاؤ، دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں [ayah]41:12[/ayah] پھر دو دِنوں (یعنی دو مرحلوں) میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر سماوی کائنات میں اس کا نظام ودیعت کر دیا اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں (یعنی ستاروں اور سیّاروں) سے آراستہ کر دیا اور محفوظ بھی (تاکہ ایک کا نظام دوسرے میں مداخلت نہ کر سکے)، یہ زبر دست غلبہ (و قوت) والے، بڑے علم والے (رب) کا مقرر کردہ نظام ہے اب دیکھئے: 41:9صرف زمین کی تخلیق - دو دن میں 41:10 زمین کی تزئین - چار دن میں - یہ ہوئے 6 دن یا کل 4 دن کہ تزئین اور تخلیق ایک دوسرے پر اور لیپ (منطبق) ہوئی؟ 41:11 - آسمانی کرے موجود تھے جن کی شکل دھوئیں جیسی تھی۔ 41:12 پھر دو دِنوں میں سات آسمان بنا دیئے اور ہر سماوی کائنات میں اس کا نظام ودیعت کر دیا اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کر دیا اور محفوظ بھی - یہ دو دن کیا 4 دن کے بعد شروع ہوئے یا 6 دن کے بعد؟ ان دو دنوں میں آسمانی کروں کے علاوہ جو کام تھا مکمل ہوا۔ جس میں آسمان کی حفاظت اور تزئین کا کام ہے۔ سب سے پہلے تو آپ --- میں ---- نوٹ کیجئے۔ اللہ تعالی گنتی نہیںگن رہے بلکہ دورانیہ بتا رہے ہیں۔ یہ دورانیے ایک دوسر ے پر منطبق یعنی اوور لیپ بھی ہو سکتے ہیں۔ جدید پراجیکٹ مینیجمنٹ میں ایک پراجیکٹکا مطلق دورانیہ 6 دن ہو سکتا ہے جبکہ اس کے سب پراجیکٹس کے دورانیے ایک کے بعد ایک رکھ کر دیکھے جائیں تو ان کی طوالت 6 دن سے بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔ پہلی مثال: گویا چھ دنوں میں زمین اور اس کا آسمان تخلیق کیا گیا 7:54، واضح ہے کہ باقی کائنات بھی تخلیق ہو رہی تھی جس میںممکن ہے کہ مزید دو دن لگے جو کہ دوسری آیات میں بتا جارہا ہے۔ پہلی آیت 7:54 محضایک سمری ہے اور دوسری آیات 41:9 سے لے کر 41:12 تک مزید تخلیقی تفصیلات۔ اگر 41:9 سے 41:12 تک صرف زمین اور آسمان کا تذکرہ کیا جاتا جیسا کہ 7:54 میںکیا گیا ہے تو پھر ہم کہہ سکتے تھے کہ ایک ہی کام کے لئے دو مختلف دورانیے بتائے جارہے ہیں ۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان دونوں آیات کے سیٹ میں کام کی مقدار اور نوعیت دونوں ہی بہت مختلف ہے۔ گویا یہ ممکن ہے کہ زمین و آسمان 6 دن میں ---- اور --- زمین و آسمان کے علاوہ باقی کائنات 8 دن میں مکمل ہوئی ہو۔ اس طرح اس مفہوم میں کوئی بات اختلافی نہیں ہے کہ کام کی مقدار اور نوعیت کا فرق ہے۔ دوسری مثال : زمیں بنانے کے ساتھ ساتھ آسمانوں کا کام بھی چل رہا تھا، مکمل کائنات کا کام 6 دن میںمکمل ہوا۔ لیکن زمین پر جو تزئین کی گئی وہ پہلے دو دن کے بعد مزید 2 دن چلتی رہی یعنی کل 4 دن ۔ اس دوران آسمانوں کی تخلیق، زمین کی (2 دن کی ) تخلیق کے بعد مزید 4 دن جاری رہی اور کائنات اس طرح 6 دن تک تخلیق ہوتی رہی۔ گویا جس طرح سے بھی حساب کریں 6 دن میں زمین اور اسکے آسمان کی تخلیق ممکن ہے اور ایسے امکانات موجود ہیں کہ دونوں آیات کے سیٹ ایک دوسرے سے اختلاف نہ رکھتے ہوں۔ لہذا وہ ممکنہ معانی لینا جو پہلی آیت کے مخالف ہوں ، انصاف کے اصولوں سے بہت دور ہیں۔ تیسری مثال: اللہ تعالی نے زمین و آسمان و کائینات کو " کن فیکون" کے مصداق تخلیق کیا۔ اس میں کل وقت 6 دن لگا جو کہ پہلی آیت میں درج ہے اور یہ سب کائینات ایک ساتھ بن کر تیار ہوگئی۔ اب اللہ تعالی دوسری آیات کے سیٹ میں ان واقعات کی طرف اشارہ کررہے ہیں جو ہمارے لیے اہم ہیں کہ زمین دو دن میں بنی تھی، اس پر باقی ضروری اشیا میں دو دن اور لگ گئے گویا چار دن زمین پر لگے۔ اور آسمان یعنی تمام کائنات دو دن مزید میں کامل تخلیق ہوئی۔ یہ ایک بہت ہی سادہ سا ماڈل ہے جو ان آیات نے تخلیق کائنات کے بارے میں عام انسانوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ جس پر اسی سادگی سے دیکھنا چاہئے۔ جہاں یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے خیال کی کجی سے 6 اور 8 کے فرق کو نمایاں کریں وہان یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں جگہ 6 دن بنیں یا 2 مزید دن مزید کاموں میں صرف ہوں۔ ان آیات کے کئی پہلو ممکن ہیں ۔ اس لئے یہ اعتراض کہ ان آیات میں کوئی اختلاف ہے مناسب اعتراض قطعاً نہیںہے۔ نوٹ: یہاں دنوں سے کیا مراد ہے وہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہمارے شمسی دن ہوں - انکا شمسی دن ہونا ممکن بھی ہے اور ایس ابھی ممکن ہے کہ یہ مختلف قسم کے دن ہوں ۔ اس کےبارے میں کچھ آرٹیکلز کے بعد لکھوں گا۔ انشاء اللہ۔ ایک بار پھر عرض کردوں کہ باذوق ایسا نہیں کہنا چاہتے کہ قرآن میں اختلاف ہے بلکہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں ۔ جو کہ ان لوگوں کی معصومیت ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
اصل مباحثہ اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ کیا قرآن کی آیات خود دوسری آیات کی تنسیخ کرتی ہیں؟ یعنی ایک آیت کو مانئے تو دوسری آیت قابل قبول نہیںرہتی؟ اس کی تاریخبہت پرانی ہے ۔ بہت سے لوگوں نے اس پر خیال آرائی کی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے ایسی آیات کی تعداد 5 بتائی جو ایک دوسرے کی تنسیخ کرتی ہیں۔ ہم ان آیات کو بھی دیکھیں گے کہ کیا ایسا ہے کہ وہ آیات ایک دوسرے کی تردید یا تنسیخ کرتی ہیں ۔
بندہ نے قران کی تعلیم سے یہ سیکھا ہے کہ قرآن میں واضحشہادت پائی جاتی ہے کہ خود قرآن میں کوئی آیت کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں کی گئی۔ یعنی قران کی کوئی آیت کسی دوسری آیت کو منسوخ نہیں کرتی۔ کہیں ایک آیت کے فرمان کی مزید تفصیل بتائی گئی اور کہیں ایک آیت سے پیدا ہونے والی ممکنہ سختی کو نرم کیا گیا۔ اگر آپ کا اس سلسلے میں اعتراضہے تو گذارش یہ ہے آپ ایسی آیات پیش کیجئے اور ساتھ میں یہ بھی بتائیے کہ آپ کس آیت کو منسوخ قرار دیتے ہیں اور کیوں؟ اور کسی آیت کو قبول کرت ہیں اور کیوں۔ یہ اس وجہ سے کہ اگر آپ کا ایمان نہیں ہے اور سنی سنائی بات کررہے ہیں تو پھر ہم وقت کیوں ضائع کریں۔ آئیے اس کا مشاہدہ کرتے ہیں خالص قرآن سے۔ سب سے پہلے آپ اللہ تعالی کا یہ فرمان دیکھئے کہ قران میں بڑا سااختلاف نہیں پایا جاتا۔ [AYAH]4:82[/AYAH] تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے، اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے یہاں لفظ استعمال کیا گیا ہے اختلافاً کثیراً اس کی مماثل مثالیں عربی میںملتی ہیں عفواً کثیراًَ بہت سا شکریہ، یا بھر شکراً جزیلاً یا شکراً کثیراً یعنی بہت سارا شکریہ۔ یہاں پر اختلافاً کثیراً سے مطلب یہ نہیں ہے کہ کہیں کہیںتھوڑا تھوڑا اختلاف ہے ۔ بلکہ یہاں مقصد ہے کہ آپ کو بہت بڑا سا اختلاف مل جاتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آیات صرف قرآن میں عطا ہوئیں؟ یہ ان آیات کی ایک مثال ہے جو ہم کو بتائی ہیں کہ آیات قرآن سے پہلے بھی نازل ہوئیں۔ [AYAH]2:211[/AYAH] [ARABIC] سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُم مِّنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ [/ARABIC] Tahir ul Qadri آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں کہ ہم نے انہیں کتنی واضح نشانیاں عطا کی تھیں، اور جو شخص اﷲ کی نعمت کو اپنے پاس آجانے کے بعد بدل ڈالے تو بیشک اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے تو یہ ثابت ہوا۔ قرآن سے پہلے کتب بھی اللہ کی آیات پر مشتمل تھیں۔ ان آیات کے الفاظ میں- (فرمان میں نہیں) - تبدیلی کو اللہ نے ضروری سمجھا تاکہ مسلمانوں کو آسانی رہے ۔ لہذا ان سابقہ آیات کو تبدیل بھی کیا اور فراموش بھی۔ درج ذیل آیت اس ضمن میں دلیل کی جاتی ہے کہ قرآن میں کچھ آیات دوسری آیات کو منسوخ کرتی ہیں۔ یہ پچھلی کتب کی آیات کی بات ہورہی ہے ۔ اس آیت میں کسی طور پر بھی قرآن حکیم کا نام نہیں ہے اور نہ ہی یہ ہے کہ --- جو تم پر نازل کیا --- جو کہ عام طور پر اللہ تعالی اس وقت استعمال کرتے ہیں جب رسول اکرم پر نازل شدہ کو ممتاز کرنا مقصود ہو۔ [AYAH]2:106[/AYAH] ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں (تو بہرصورت) اس سے بہتر یا ویسی ہی (کوئی اور آیت) لے آتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر (کامل) قدرت رکھتا ہے جن سابقہ آیات کی منسوخی ہوئی اس کی وجہ بھی بیان کی گئی کہ رسول اللہ سے پہلے کوئی نبی اور رسول اللہ کا بھیجا ہوا ایسا نہیں تھا جس کی کی ہوئی تلاوت کو شیطان نے متاثر نہ کیا ہو۔ ان سابقہ کتب کی ان آیات کو جن سے شیطان نے کسی طور انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈال کر خلل ڈالا تو اللہ نے ان کو منسوخ کیا اور بہتر الفاظ کے ساتھ آیات نازل فرمائیں۔ دیکھئے کہ اللہ تعالی رسول اکرم کو اس سے مبرا قرآر دے رہے ہیں۔ ان آیات کے بارے میں ارشاد اللہ تعالی یہ ہے کہ : [AYAH]22:52[/AYAH] [ARABIC]وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ[/ARABIC] اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر (ایسا ہوتا رہا) کہ جب اس نے تلاوت کی تو خلل اندز ہوا شیطان اُس کی تلاوت میں۔ پھر مٹا دیتا رہا اللہ ([ARABIC]فَيَنسَخُ اللَّهُ[/ARABIC]ُ ) اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا رہا پھر پختہ کردیتا رہا اللہ اپنی آیات کو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ یہ سابقہ کتب کی آیات کو بدلنے کی بابت ہے ۔ کہ جب سابقہ آیات دوسرے الفاظ پر مشتمل تھیں اور رسول اللہ پر نئے الفاظ میں یہی آیات نازل ہوئی تو کفار۔ جو قران پر ایمان سرے سے رکھتے ہی نہیں تھے -- انہوں نے کہا کہ آپ اپنی طرف سے گھڑ رہے ہیں۔ [AYAH]16:101[/AYAH] [ARABIC]وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَّكَانَ آيَةٍ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُواْ إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ [/ARABIC] اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور اللہ (ہی) بہتر جانتا ہے جو (کچھ) وہ نازل فرماتا ہے (تو) کفار کہتے ہیں کہ آپ تو بس اپنی طرف سے گھڑنے والے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ (آیتوں کے اتارنے اور بدلنے کی حکمت) نہیں جانتے کفار قرآن کی آیات کو پرانی کتب کی آیات سے تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے تھے کہ اس قرآن کو اپنی ترمیم شدہ کتب کے مطابق بنالیں ۔ وہ قرآن کو مانتے ہیں نہیں تھے۔ [AYAH]10:15 [/AYAH] اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کے سوا کوئی اور قرآن لے آئیے یا اسے بدل دیجئے، (اے نبیِ مکرّم!) فرما دیں: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو فقط جو میری طرف وحی کی جاتی ہے (اس کی) پیروی کرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بیشک میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں اگر اللہ تعالی اپنی آیات قرآن میںبدلتا رہتا تو ہر مسلمان کے لئے مشکل ہوجاتا کہ وہ کونسی والی مانے اور کونسی کا انکار کرے ۔ اس صورت میں ایک نا ایک آیت کی تکفیر کرنی پڑتی ۔ اس صورت میں یہ آیت معنی کھودیتی۔ [AYAH]4:56[/AYAH] بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ہم عنقریب انہیں (دوزخ کی) آگ میں جھونک دیں گے، جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم انہیں دوسری کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ (مسلسل) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے اسی لئے اللہ تعالی نے بار بار قرآن میں واضح کیا کہ وہ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا ہے۔ یعنی اس کے احکامات تبدیل نہیں ہوتے ہیں ۔ الفاظ تبدیل ہونے سے فرمان کا مفہوم تبدیل نہیں ہوتا۔ لہذا قرآن کی کوئی آیت منسوخ شدہ نہیں ہے ورنہ اللہ تعالی واضح طور پر تفصیل سے فرماتے کہ ہم یہ آیت منسوخ کررہے ہیں ۔ [AYAH]50:29 [/AYAH][ARABIC]مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ[/ARABIC] میری بارگاہ میں فرمان بدلا نہیں جاتا اور نہ ہی میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں کیا اللہ کی سنت تبدیل ہوتی ہے ۔ نہیں۔ [AYAH]35:43[/AYAH] [ARABIC] اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [/ARABIC] (انہوں نے) زمین میں اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھنا اور بری چالیں چلنا (اختیار کیا)، اور برُی چالیں اُسی چال چلنے والے کو ہی گھیر لیتی ہیں، سو یہ اگلے لوگوں کی رَوِشِ (عذاب) کے سوا (کسی اور چیز کے) منتظر نہیں ہیں۔ سو آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، اور نہ ہی اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی پھرنا پائیں گے [AYAH]33:62[/AYAH] [ARABIC] سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [/ARABIC] اللہ کی (یہی) سنّت اُن لوگوں میں (بھی جاری رہی) ہے جو پہلے گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گے جب اللہ کا دستور تبدیل نہیں ہوتا۔ اس کی بارگاہ میں فرمان تبدیل نہیں ہوتا تو پھر اللہ تعالی کی ان آیات کے بعد آپ کے پاس کیا وجہ ہے کہ آپ کہیں کہ اللہ تعالی نے بذات خود قرآن میں آیات مع احکامات کے منسوخ کیں ۔ جب کہ اس کا ایک بھی ثبوت آپ کے پاس قرآن حکیم سے نہیں ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالی نے ان آیات کی تنسیخ کی جو سابقہ انبیاءکرام پر نازل کی گئی تھیں اور جن میں شیطان نے خلل ڈالا تھا۔ والسلام۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس
2) برائی شیطان کی طرف سے ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیات : 117 تا 120 )۔ برائی انسان کی اپنی طرف سے ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیت : 79 )۔ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیت : 78 )۔ سب سے پہلے مکمل آیات : 2) برائی شیطان کی طرف سے ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیات : 117 تا 120 )۔ [ayah]4:117[/ayah] نہیں عبادت کرتے یہ (مشرک) اللہ کے سوا مگر دیو یوں کی اور نہیں عبادت کرتے یہ (ان کی بھی) بلکہ شیطان کی جو باغی ہے۔ [ayah]4:118[/ayah] لعنت کی اس پر اللہ نے۔ اور کہا تھا اس نے کہ ضرور لے کر رہوں گا میں، تیرے بندوں میں سے (اپنا) مقّررہ حصّہ۔ [ayah]4:119[/ayah] اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور ضرور آرزؤو ں کے سبز باغ دکھاؤں گا میں ان کو اور ضرور حُکم دوں گا میں ان کو تو ضرور چیریں گے وہ کان مویشیوں کے اور ضرور حُکم دُوں گا میں اُن کو تو وہ ضرور ردوبدل کریں گے اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں اور جس نے بنایا شیطان کو اپنا ولی و سرپرست اللہ کو چھوڑ کر تو یقیناً اُٹھایا اس نے گھاٹا کھُلا۔ [ayah]4:120[/ayah] وعدے کرتا ہے شیطان اُن سے اور آرزؤوں کے سبز باغ دکھاتا ہے اُن کو اور نہیں وعدے کرتا اُن سے شیطان، مگر پر فریب۔ ان آیات میںیہ بتایا گیا ہے کہ لوگ شیطان کی عبادت کرتے ہیں، شیطان ان کو آرزؤں کے سبز باغ دکھات ہے۔ برائی انسان کی اپنی طرف سے ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیت : 79 )۔ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیت : 78 )۔ [ayah]4:75[/ayah] اور کیا ہوا ہے تم کو کہ نہیں جنگ کرتے تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں (کی خاطر) جو فریاد کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! نکال تو ہمیں اس بستی سے کہ ظالم ہیں، جس کے رہنے والے۔ اور بناتُو ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی حامی اور بنا تو ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی مدد گار۔ [ayah]4:76[/ayah] وہ لوگ جو ایمان والے ہیں، جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں وہ جنگ کرتے ہیں راہ میں، شیطان کی پس جنگ کرو تم شیطان کے ساتھیوں سے۔ بے شک چال شیطان کی ہے نہایت کمزور۔ [ayah]4:77[/ayah] کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو، کہا گیا تھا جن سے کہ روکے رکھو اپنے ہاتھ (جنگ سے) اور قائم کرو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ پھر جونہی حکم دیا گیا انہیں جنگ کا تو ایک گروہ ان میں سے ایسا جو جو ڈرتا ہے لوگوں سے ایسا جیسے ڈرنا چاہیے اللہ سے یا اس بھی زیادہ ڈر۔ اور کہتے ہیں یہ لوگ۔ اے رب ہمارے! کیوں فرض کیا تونے ہم پر جنگ کرنا؟ کیوں نہ مہلت دی تونے ہم کو تھوڑی مُدّت اور؟ کہو دو (اے نبی!) دُنیاوی فائدہ حقیر ہے اور آخرت بہت بہتر ہے، ان کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اور نہیں ظلم کیا جائے گا تم پر ذرّہ برابر۔ [ayah]4:78[/ayah] جہاں کہیں بھی ہوگے تم، آلے گی تم کو موت اگرچہ ہو تم مضبوط قلعوں کے اندر۔ اور اگر حاصل ہوتی ہے ان (موت سے ڈرنے والوں) کو کامیابی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر پہنچتا ہے ان کو کوئی نقصان تو کہتے ہیں کہ (اے محمد) یہ تمہاری وجہ سے ہے۔ کہو سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ آخر کیا ہوگیا ہے ان لوگوں کو کہ نہیں لگتے یہ کہ سمجھیں کوئی بات۔ [ayah]4:79[/ayah] جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بھلائی سو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بُرائی سو تمہارے نفس کی طرف سے ہے اور بھیجا ہے ہم نے تم کو (اے محمد) لوگوں کے لیے رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ (اس بات پر) گواہ۔ [ayah]4:80[/ayah] جس نے اطاعت کی رسول کی سو در حقیقت اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جو منہ موڑ گیا تو نہیں بھیجا ہے ہم نے تم کو ان پر پاسبان بناکر۔ [ayah]4:81[/ayah] اور کہتے ہیں ہم فرمانبردار ہیں مگر جب چلے جاتے ہیں تمہارے پاس سے تو راتوں کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان کا، خلاف اس کے جو تم کہتے ہو۔ اور اللہ لکھ رہا ہے جو مشورے یہ کرتے ہیں سو پرواہ نہ کرو ان کی اور بھروسہ کرو اللہ پر اور کافی ہے اللہ کار ساز۔ 4:78 میں بتایا گیا ہے کہ لوگ فائیدہ اللہ کی طرف سے قرآر دیتے ہیں اور نقصان رسول اللہ صلعم کے سر رکھتے ہیں۔ اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ نفع اور نقصان (جنگ)میںدونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ رسول اللہ اس سے بری ہیں۔ 4:79 میں بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالی بھلائی رحمت و فضل کا عطا کرنے والا ہے اور انسان کو اپنے نفس کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے۔ 4:78، 4:79 اور اس سے پیشتر دی ہوئی آیات کو مکمل طور پر ان سے پیشتر اور بعد کی آیات کے ساتھ دیکھا جائے تو ان آیات کا پیغام بہت ہی واضحہے۔ میں ان آیات میںکسی طور بھی کوئی ایسی بات نہیں نکال پایا جو آپس میں اختلاف رکھتی ہوں۔ عربی اور دیگر تراجم لنک کو کلک کرکے دیکھے جاسکتے ہیں کہ کوئی منطقی وجہ ایسی نہیںکہ ان آیات کو ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی آیات کہا جائے ، جبکہ یہ آیات ایک دوسرے کے قریب بھی ہیں کہ یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کہنے والا --- نعوذباللہ --- بھول جائے۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
3) یہ کتاب پہلی کتابوں کی تصدیق (confirm) کرتی ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 2 ، آیت : 97 )۔ ہم ایک آیت کسی دوسری کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔۔۔۔ (سورہ : 16 ، آیت : 101 )۔ سب سے پہلے مکمل آیات۔ [AYAH]2:97[/AYAH] [ARABIC]قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللّهِ مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ [/ARABIC] آپ فرما دیں: جو شخص جبریل کا دشمن ہے (وہ ظلم کر رہا ہے) کیونکہ اس نے (تو) اس (قرآن) کو آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے (جو) اپنے سے پہلے (کی کتابوں) کی تصدیق کرنے والا ہے اور مؤمنوں کے لئے (سراسر) ہدایت اور خوشخبری ہے اس میںکوئی شک نہیں کہ یہ قرآن سابقہ الہامی کتب کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اور ساتھ ساتھ قرآن الفرقان یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا بھی ہے۔ لہذا صرف وہ آیات جو سابقہ کتب میں پائی جاتی ہیں لیکن ان میں شیطـٰن نے تبدیلی کی تو رحمٰن نے اس کو تبدیل کرکے درست فرمایا۔ آئیے اس کا ثبوت قران میں دیکھتے ہیں۔ [AYAH]2:106 [/AYAH][ARABIC]مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [/ARABIC] ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں (تو بہرصورت) اس سے بہتر یا ویسی ہی (کوئی اور آیت) لے آتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر (کامل) قدرت رکھتا ہے اللہ تعالی کوئی آیت کیوں منسوخ یا تبدیل فرماتے ہیں؟ اسکی وجہ دیکھئے۔ [AYAH]22:52[/AYAH] [ARABIC]وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ [/ARABIC] اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر (ایسا ہوتا رہا) کہ جب اس نے تلاوت کی تو خلل اندز ہوا شیطان اُس کی تلاوت میں۔ پھر مٹا دیتا رہا اللہ اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا رہا پھر پختہ کردیتا رہا اللہ اپنی آیات کو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ تو وجہ صاف صاف ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور پیشتر ، شیطان آیات میں خلل ڈالتا رہا لہذا ضروری پایا کہ ---- [ARABIC]مَا يُلْقِي الشَّيْطَان[/ARABIC] ---- کی تنسیخ کی جائے اور اس کو تبدیل فرمایا جائے ۔ یہ کام قرآن ہی میں ممکن تھا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو انسان کونسی آیت پر ایمان رکھتا ؟ معذرت چاہتا ہوں کہ یہ وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے ، اس امر کے ثبوت میں کہ قرآن میں کوئی ناسخ و تنسیخ نہیںہے۔ چونکہ یہ نکتہ اس سوال میں موجود تھا لہذا دوبارہ سے اس بات کا جواب دیا ہے۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
4) ۔۔۔ تمام پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں ۔۔۔۔ (سورہ : 2 ، آیت : 285 )۔ ان (پیغمبروں) میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 2 ، آیت : 253 )۔ سب سے پہلے پوری آیات: [ayah]2:285 [/ayah] [arabic]آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ وَمَلَآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لاَ نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ[/arabic] (وہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں: ) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے بغور دیکھئے کہ یہ آیت ----- ایمان لانے والوں ---- کے بارے میں ہے کہ ایمان لانے والے کسی بھی نبی یا رسول پر جسے اللہ تعالی نے بھیجا ہے ایمان لانے میں کوئی فرق نہیںکرتے۔ [ayah]2:253[/ayah] [arabic]تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَلَوْ شَاءَ اللّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَـكِنِ اخْتَلَفُواْ فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ وَلَوْ شَاءَ اللّهُ مَا اقْتَتَلُواْ وَلَـكِنَّ اللّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ[/arabic] یہ سب رسول، فضیلت دی ہے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر، ان میں سے کوئی ایسا تھا جس سے ہم کلام ہوا اللہ اور بلند کیے بعض کے مرتبے۔ اور عطا کیں ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کُھلی نشانیاں اور مدد کی ہم نے اس کی رُوح القدس سے۔ اور اگر چاہتا اللہ تو نہ لڑتے آپس میں وہ لوگ جو ان رسولوں کے بعد ہوئے اس کے بعد کہ آچُکی تھیں ان کے پاس کھُلی نشانیاں لیکن انہوں نے باہم اختلاف کیا پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لے آیا اور کسی نے کفر اختیار کیا اور اگر چاہتا اللہ تو نہ لڑتے یہ لوگ آپس میں لیکن اللہ کرتا ہے وہی جو چاہتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کس طرح رسول پر فضل کیا گیا کہ کسی سے تو اللہ تعالی نے خود کلام کیا (مراد موسی علیہ السلام ) ہیں اور کسی کو معجزہ عطا فرمائے کہ لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی آیت تو ایمان لانے والوں کے بارے میںہے کہ وہ مساوی ایمان لاتے ہیں جبکہ دوسری آیت اللہ تعالی کے رسولوںپر فضل کے بارے میں ہے کے اللہ نے اپنے فضل سے ان نبیوں کو کیا عطا فرمایا۔ فضل الہی کیا ہے؟ جب اللہ تعالی اپنے پاس سے کچھ بھی عطا فرماتا ہے تو وہ فضل الہی ہوتا ہے۔ جیسے مال و دولت یا اولاد یا کھیتی باڑی یا تجارت یا خزائن الارض ، زمین سے دھاتیں، کوئلہ، تیل وغیرہ۔ یہ سب اللہ کا فضل کہلاتا ہے۔ مثال اس فضل کی دیکھئے۔ اللہ ہی فضل دینے والا ہے: [ayah]57:29 [/ayah] (یہ بیان اِس لئے ہے) کہ اہلِ کتاب جان لیں کہ وہ اللہ کے فضل پر کچھ قدرت نہیں رکھتے اور (یہ) کہ سارا فضل اللہ ہی کے دستِ قدرت میں ہے وہ جِسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ فضل والا عظمت والا ہے [ayah]2:198[/ayah] اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں اگر تم (زمانہء حج میں تجارت کے ذریعے) اپنے رب کا فضل (بھی) تلاش کرو، پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعرِ حرام (مُزدلفہ) کے پاس اﷲ کا ذکر کیا کرو اور اس کا ذکر اس طرح کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی، اور بیشک اس سے پہلے تم بھٹکے ہوئے تھے [ayah]3:170[/ayah] وہ (حیاتِ جاودانی کی) ان (نعمتوں) پر فرحاں و شاداں رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرما رکھی ہیں اور اپنے ان پچھلوں سے بھی جو (تاحال) ان سے نہیں مل سکے (انہیں ایمان اور طاعت کی راہ پر دیکھ کر) خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے اللہ تعالی کے فضل کا مطلب یہ ہے اللہ کی طرف سے کچھ عطا کیا گیا۔ چاہے وہ معجزہ ہوں یا نشانی ہو۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ اللہ تعالی کا فضل ہونے کو وجہ سے ایک نبی کو زیادہ بہتر سمجھیں اور دوسرے کو کم بہتر۔ یقییناً ایسا سمجھنا ایک نا مناسب معنی اخذ کرنا ہے۔ ایمان لانے والوں کے لحاظ سے سب نبی ایک دوسرے کے مساوی ایمان لانے کے حقدار ہیں۔ اللہ کا فضل کچھ نبیوں پر اس طرح رہا کہ ان کو معجزات اور نشانیاں زیادہ عطا کی گئیں۔ رسول اکرم پر یہ اعجاز کہ ان کو شبہ سے پاک ایک کتاب عطا کی گئی جو کہ ایک معجزہ جاریہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے فضل و کرم سے ہدایت عطا فرمائیں۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
5) زانی مسلمان عورت کی سزا عمر بھر کے لیے گھر میں نظر بندی ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیت : 15 )۔ زانی مسلمان عورت کی سزا سو کوڑے ۔۔۔۔ (سورہ : 24 ، آیت : 2 )۔ سب سے پہلے مکمل آیات [ayah]4:15[/ayah] [arabic]وَاللاَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُواْ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعةً مِّنكُمْ فَإِن شَهِدُواْ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً [/arabic] اور جو ارتکاب کریں بدکاری کا تمہاری عورتوں میں سے تو گواہی لاؤ اُن پر چار (مردوں) کی اپنوں میں سے۔ پھر اگر گواہی دے دیں وہ تو قید رکھو ان عورتوں کو گھروں میں حتّٰی کہ آجائے اُنہیں موت یا نکالے اللہ ان عورتوں کے لیے کوئی اور سبیل مندرجہ بالاء قرآن نے جرم کے لئے لفظ استعمال کیا ہے الفاحشۃ ۔ جبکہ درج ذیل آیت کو دیکھئے۔ اس میں فرد جرم ہے زنا۔ [ayah]24:2 [/ayah] [arabic]الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ [/arabic] زانی عورت اور زانی مرد، کوڑے مارو ہر ایک کو ان دونوں میں سے، سو سو کوڑے اور نہ دامن گیر ہو تم کو ان کے سلسلہ میں ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں اگر رکھتے ہو تم ایمان اللہ پر اور روزِ آخرت پر اور چاہیے کہ مشاہدہ کرے ان کی سزا کا ایک گروہ مومنوں کا جہاں بہت سے علماء الفاحشۃ اور زنا میں تمیز نہیں کرتے وہاں بہت سے علماء الفاحشۃ اور زنا میں تمیز کرتے ہیں۔ آپ کو دونوں طرح کی تفاسیر مل جائیں گی۔ اس بحث سے قطع نظر کہ ان دونوں الفاظ کے ایک ہی معانی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دو مختلف جرائم کو دو مختلف نام دئے گئے ہیں، اور اس کی سزا بھی الگ الگ بتائی گئی ہے۔ یہ قرآن کا اختلاف نہیں بلکہ ہماری تفسیر کا اختلاف ہے۔ اللہ تعالی نے تو صاف صاف دونوں جرائم کو الگ الگ نام سے پکارا اور دونوں کو سزا بھی الگ الگ مقرر کی۔ تو یہ قرآن کا اختلاف ہو یا ہمارے علماءکا اختلاف ہوا؟ تو پھر اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ جرم کیا ہے اور اس کی سزا کیا؟ یہ فیصلہ کرنا کسی فرد واحد کاکام نہیں ۔ ان جرائم کے الفاظ کے معانی نکالنے کے لئے فیصلہ ہوگا اس حکم ربانی کے مطابق: [ayah]42:37[/ayah] [arabic]وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ[/arabic] اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں [ayah]42:38[/ayah] [arabic]وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ [/arabic] اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں ان الفاظ کا مناسب ترجمہ باہمی مشورہ سے صرف ایک شورائی کونسل کرسکتی ہے۔ بنیادی امر یہ ہے کہ اختلاف ہمارے علماء کا الفاظ کے ترجمے اور مفہوم پر ہے نہ کہ اللہ تعالی کے جرائم کو نام دینے اور ان مختلف جرائم کی مختلف سزا قرار دہنے پر۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
) اللہ کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کی رو سے ہزار برس کے برابر ہے ۔۔۔۔ (سورہ : 22 ، آیت : 47 )۔ اور وہ عذاب اس روز نازل ہوگا جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا ۔۔۔۔ (سورہ : 70 ، آیت : 4 )۔ سب سے پہلے مکمل آیات: [AYAH]22:47[/AYAH] [ARABIC]وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ [/ARABIC] اور جلدی مچارہے ہیں یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے حالانکہ ہرگز نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدہ کے۔ اور دراصل ایک دن تیرے رب کے نزدیک ایک ہزار سال کے برابر ہے تمہارے حساب کی رُوسے۔ اسی کے مضمون کی یہ آیت بھی ہے ، جس کو اختلاف ظاہر کرنے والے شاید جلدی میں دیکھ نہ سکے۔ [AYAH]32:5[/AYAH] وہ آسمان سے زمین تک (نظامِ اقتدار) کی تدبیر فرماتا ہے پھر وہ امر اس کی طرف ایک دن میں چڑھتا ہے (اور چڑھے گا) جس کی مقدار ایک ہزار سال ہے اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو [AYAH]70:4[/AYAH][ARABIC] تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ[/ARABIC] چڑھ کرجاتے ہیں فرشتے اور روح اس کے حضور، ایک ایسے دن میں ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال۔ Literal The angels and the Soul/Spirit ascend/climb to Him in a day/time its value/estimation/ measure was/is fifty thousand years. پہلی آیت کو دیکھئے۔ اور دوسری آیت کو دیکھئے ، حساب و کتاب کا بہت ہی نمایاں فرق موجود ہے۔ اور ساتھ ساتھ ہی ایک فرق اور بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں کہا گیا ہے کہ تیرے رب کا ایک دن مساوی ہے تیرے حساب کے مطابق جو ایک ہزار سال بنتے ہیں۔ ہمارے حساب سے؟ یہ ہمارا حساب کیا ہوتا ہے اور اللہ تعالی کا حساب کیا ہوتا ہے؟ ہمارا حساب ہے چاند سے۔۔ اور جلدی مچارہے ہیں یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے حالانکہ ہرگز نہیں خلاف کرتا اللہ اپنے وعدہ کے۔ اور دراصل ایک دن تیرے رب کے نزدیک ایک ہزار سال کے برابر ہے تمہارے حساب کی رُوسے۔ ہمارے حساب سے؟ ہمارا حساب کیا ہے ؟ ہمارا حساب ہے چاند کے ایک ہزار سال یعنی چاند کے 12 ہزار چکر اور رب کا حساب ہے ایک دن؟ اب دوسری آیت دیکھئے 70:4 چڑھ کرجاتے ہیں فرشتے اور روح اس کے حضور، ایک ایسے دن میں ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال۔ یہ ایک ایسا دن ؟ جس کی مقدار 50 ہزار سال ہے یہاںہمارا حساب نہیں ہے۔ بلکہ وقت کا حساب وقت سے ہے۔ 1۔ پہلی آیت : کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک دن ایسا ہو جس کی مقدار ہمارے حساب سے ہزار برس ہوِ؟ یہاں دورانیہ کو ہمارے حساب سے کہہ کر چاند کے 1000 سال کہا گیا ہے۔ 2۔ دوسری آیت: کیا ایسا ممکن ہے کہ ایک دن ایسا ہو کہ فرشتہ یا روح کا ایک دن گذرے تو اس وقت کی مقدار وقت کی نسبت 50 ہزار سال ہو؟ یہاں روح اور فرشتہ کے وقت کا مقابلہ انسان کے وقت سے کیا گیا ہے۔ فاصلہ کے حساب سے نہیں گویا پہلی آیت میں وقت اور فاصلہ کی نسبت (ہمارے حساب سے کہہ کر ) بتائی گئی ہے ۔ جبکہ دوسری آیت میں وقت کا مقابلہ وقت سے کیا گیا ہے جہاں ایک آبجیکت زمین پر ہے اور ایک آبجیکٹاللہ کی طرف عروج کررہا ہے۔ آئیے اس کا حساب دیکھتے ہیں۔ درج ذیل تحقیق رائف فانوس صاحب کی ہے اور یہاں دیکھی جاسکتی ہے۔ Speed of Light Speed of Light یہ آیت بیان کرتی ہے ہے کہ اللہ کے یہاں کا ایک دن میںطے کیا ہوا فاصلہ برابر ہے = 12000 x چاند جو فاصلہ ایک مکمل مدار میں طے کرتا ہے۔ گویا C t = 12000 L جبکہ C = فرشتہ کی رفتار t = زمین کا ایک دن ، اس کی اپنی gravitational fields سے باہر 24 گھنٹے۔ 86400 سیکنڈ سورج کے حساب سے۔ اور 23 گھنٹے، 56 منٹ اور 4.0906 سیکنڈ = 86164.0906 سیکنڈ، ستاروں حساب سے L = چاند کے مدار کا فاصلہ اس کی اپنی gravitational fields سے باہر چاند کا ایک ماہ کا وقت 29.53059 دن سورج کے دنوں کے حساب سے اور 27.321661 دن اور 655.71986 گھنٹے، ستاروں کے حساب سے (Side Real) چاند کا ایک مدار: 2153025.3191666666666666666666667 چاند کا 12000 مدار کا فاصلہ، اوپر کے مدار کو 12000 سے ضرب کریں ۔۔ 25836303830 ک م روشنی زمیں کے ایک دن میں کتنی دور جاتی ہے؟ C t' = 299792.458 km/sec x 86170.46591 sec = 25833255780 km کشش ثقل کے باہر، Outside gravitational fields 12000 چاند کے مدار (ہمارے حساب سے ایک ہزار سال) / زمین کا ایک دن برابر ہے = روشنی کی رفتار کے دوسری آیت جو ایک یزار کی جگہ دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہوئے میں انسان کے 50 ہزار سال کو فرشتے کے ایک دن کےمساوی قرار دیتے ہیں/ [AYAH]70:4[/AYAH] اس (کے عرش) کی طرف فرشتے اور روح عروج کرتے ہیں ایک دن میں، جس کی مقدار ہے پچاس ہزار برس کا ہے اس مساوات کو دیکھئے، ی ہنطریہ آئین سٹائین کے مطابق وقت کا تناسب وقت سے بیان کرتی ہے : ![]() ∆to(1 day). فرشتہ کے پاس وقت = 1 دن ∆t انسانوں کا ناپ ہوا وقت زمین پر۔ = 50000 چاند کے سال ۔ x ۔ 12 چاند کے مہینے = 1 چاند کا سال x 27.321661 دن / چاند کا مہینہ). v ). فرشتے کی ویلاسٹی جو ہم کیلکولیٹ کرنے جارہے ہیں۔ c روشنی کی رفتار، خلا میں = 299792.458 . ![]() v = 299792.4579999994 km / s یہ اوقات کا فرق بتاتا ہے کہ فرشتہ یقیناَ "اضافی ویلاسٹی" تک ایکسلریٹ کرتے ہیں۔ یہ وہی رفتار ہے جو پچھلی دونوں آیات سے حاصل ہوئی۔ پہلی دو آیات فاصلے اور وقت کی مدد سے اور تیسری آیت وقت کے وقت سے فرق (نظریہ آین اسٹائین کے مطابق) سے روشنی کی ایک ہی رفتار ظاہر ہوتی ہے۔ قران کریم میںبیان کردہ یہ مساوات یا ایکویشن کا یہ رشتہ روشنی کی رفتار بالکل درست اور بہتر طریقہ سے بیان کرتا ہے۔ جو زمان و مکان اور کشش ثقل سے بے نیاز ہے۔ اور یہ فارمولہ سائنسی طور پر ہمیشہ درست رہے گا، چاہے چاند کا مدار بڑا ہو جائے، آج، آج سے پہلے اور آیندہ بھی۔ جب تک کے اس Equilibrium کو دھچکا نہ پہنچایا جائے۔ مزید تفصیلات کے لئے دیکھئے : Speed of Light ہم دیکھ رہے ہیں کہ دونوں آیات میں بالکل درست حساب بتایا گیا ہے وقت کا۔ ایک جگہ فاصلہ کی مدد سے کہ اللہ کا ایک دن ہمارے حساب کئے ہوئے 1 ہزار سال کے برابر ہے۔ اور دوسری جگہ فرشتہ کی ویلاسٹی سے یہی ریلیشن شپ ، مساوات یا رشتہ بتایا گیا ہے۔ کیا یہ دو آیات ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں؟ یا یہ کہ ہمارا علم کمزور تھا جب ہم نے ان آیات کو مختلف قرار دیا؟۔ سبحان اللہ۔ یہ آیات اس ہستی کی لکھی ہوئی ہیں جس کا علم کامل ہے۔ دونوں آیات جس مسقل کانسٹنٹکی طرف ااشارہ کرتی ہیں وہ ہے روشنی کی رفتار ، جس کو بیان کرنے کا ان دونوں آیات میں اس سے بہتر طریقہ اور درست طریقہ ممکن نہ تھا۔ یہ وہ آیات ہیں جن کو پڑھ کر علم رکھنے والے حضرات کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور رقت طاری ہوجاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آج سے 1400 سال سے بھی پہلے صحرائے عرب میں رہنے والے ایک امی شخص کو روشنی کی رفتار کا علم تھا اور اس طرح وقت اور فاصلے کی مساوات کا، چاند کے مدار کے سائز کا علم تھا؟ کیا اس کو نظریہ آئین سٹائین کے مطابق دو مختلف جہتوںاور رفتار پر وقت کے بہاؤ میں فرق کا علم تھا؟ جو بھائی/بہن اس پر مزید ریسرچ کرنا چاہیں وہ یہاںیہ کیلکولیٹر دیکھ سکتے ہیں۔ RELATIVITY CALCULATOR رایف فانوس کا ایک اور جواب http://iidb.infidels.org/vbb/showthread.php?t=141588 سبحان اللہ۔ [AYAH]2:22[/AYAH] جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی، پھر نکالا اس کے ذریعہ سے ہر طرح کی پیداوار کو بطور رزق تمہارے لیے، پس نہ ٹھہراؤ اللہ کا ہمسر (کسی کو) در آنحالیکہ تم (یہ باتیں) جانتے ہو۔ [AYAH]2:23[/AYAH] اور اگر ہے تم کو شک اس (کتاب) کے بارے میں جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر، تو بنالاؤ ایک ہی سورت اس کی مانند اور بلالو اپنے سب حمائیتیوں کو بھی اللہ کے سوا، اگر ہو تم سچے۔ [AYAH]2:24[/AYAH] لیکن اگر تم (ایسا) نہ کرسکو اور ہر گز نہ کرسکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن ہیں انسان اور پتّھر، جوتیّار کی گئی ہے منکرین حق کے لیے۔ یہ وہ آیات ہیں جن کو پڑھ کر علم رکھنے والے حضرات کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ رقت طاری ہوجاتی ہے۔ اور رونے لگ جاتے ہیں۔ کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں اور نہ ہی اس جیسا کلام ہم گھڑ سکتے ہیں۔ جو اس قدر درست ہو، ایک معمولی علم والے انسان کے لئے بھی اور ان سائنسدانوں کے لئے بھی جو زمین سے کیپسول پھینکتے ہیں تو ہفتے بعد سیدھا چاند پر جا کر اترتا ہے۔ والسلام والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 22-08-10 at 06:00 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
7) اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیت : 48 )۔ وہ بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے تو اس سے ہم نے درگزر کیا ۔۔۔۔ (سورہ : 4 ، آیت : 153 )۔ سب سے پہلے مکمل آیات: [AYAH]4:48 [/AYAH][ARABIC] إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا [/ARABIC] بے شک اللہ نہیں معاف کرتا یہ (گناہ) کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور معاف کردیتا ہے شرک کے علاوہ (باقی گناہ) جس کے لیے چاہے۔ اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا (کسی کو) اس نے بہتان باندھا اللہ پر (اور ارتکاب کیا) بہت بڑے گناہ کا۔ [AYAH]4:153 [/AYAH] [ARABIC]يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَقَدْ سَأَلُواْ مُوسَى أَكْبَرَ مِن ذَلِكَ فَقَالُواْ أَرِنَا اللّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ثُمَّ اتَّخَذُواْ الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَلِكَ وَآتَيْنَا مُوسَى سُلْطَانًا مُّبِينًا[/ARABIC] مطالبہ کرتے ہیں تم سے (اے پیغمبر!) اہلِ کتاب کہ نازل کراؤ ان پر کوئی کتاب آسمان سے (کچھ عجب نہیں) کہ مطالبہ کرچُکے ہیں یہ لوگ موسیٰ سے، اس سے بھی بڑا چنانچہ انہوں نے کہا تھا کہ دکھا تو ہم کو اللہ کُھلم کُھلا سا آلیا اُن کو بجلی نے اُن کے ظلم کے سبب۔ پھر پُوجنا شروع کردیا اُنہوںنے بچھڑے کو اس کے بعد بھی کہ آچُکی تھیں اُن کے پاس کھلی نشانیاں لیکن معاف کردیا ہم نے اس کو بھی اور عطا کیا ہم نے موسیٰ کو کُھلا غلبہ۔ پہلی آیت میں یہ واضحہے کہ اللہ تعالی شرک کو معاف نہیں کرتا،۔ دوسری آیت میں اللہ تعالی نے جس واقعہ کی سمری بیان فرمائی ہے۔ جس کی تفصیل ہم کو [AYAH]2:51[/AYAH] سے [AYAH]2:56 [/AYAH]میں ملتی ہے۔ کہ جن لوگوں نے شرک کیا تھا ان کو شرک نہ کرنے والوں نے قتل کردیا پھر اللہ تعالی نے باقی بچنے والوں کو معاف کیا۔ دیکھئے۔ [AYAH]2:51[/AYAH] اور جب وعدہ کیا ہم نے موسٰی سے چالیس رات کا پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو (معبود) موسیٰ کے بعد اور تم ظلم کر رہے تھے۔ [AYAH]2:52[/AYAH] پھر معاف کردیا ہم نے تم کو اس کے بعد بھی تاکہ تم شکر گزاربنو۔ [AYAH]2:53[/AYAH] اور جب دی ہم نے موسی کو کتاب اور فرقان تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔ [AYAH]2:54[/AYAH] اور جب کہا موسی نے اپنی قوم سے اے میری قوم، یقیناً تم نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، معبود ٹھہرا کر بچھڑے کو، پس توبہ کرو تم اپنے خالق کے حضور، لٰہذا قتل کرو تم اپنی جانوں کو یہی ہے بہتر تمہارے حق میں، تمہارے خالق کے نزدیک۔ سو توبہ قبول کرلی اللہ نے تمہاری۔ بیشک وہی تو ہے بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا۔ [AYAH]2:55[/AYAH] اور جب تم نے کہا: اے موسی! ہر گز نہ یقین کریں گے ہم تمہارا جب تک (نہ) دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ، تو آلیا تم کو ایک کڑکے نے تمہارے دیکھتے دیکھتے۔ [AYAH]2:56[/AYAH] پھر زندہ کیا ہم نے تم کو تمہاری موت کے بعد تاکہ تم شکر گزار بنو۔ دوسرے مترجمیں کا ترجمہ [AYAH]2:254 [/AYAH] طاہر القادری: اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بیشک تم نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا کر اپنی جانوں پر (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اب اپنے پیدا فرمانے والے (حقیقی رب) کے حضور توبہ کرو، پس (آپس میں) ایک دوسرے کو قتل کر ڈالو (اس طرح کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی اور اپنے دین پر قائم رہے ہیں وہ بچھڑے کی پرستش کر کے دین سے پھر جانے والوں کو سزا کے طور پر قتل کر دیں)، یہی (عمل) تمہارے لئے تمہارے خالق کے نزدیک بہترین (توبہ) ہے، پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرما لی، یقینا وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے احمد رضا خان: اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کردو یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان Yusuf Ali And remember Moses said to his people: "O my people! Ye have indeed wronged yourselves by your worship of the calf: So turn (in repentance) to your Maker, and slay yourselves (the wrong-doers); that will be better for you in the sight of your Maker." Then He turned towards you (in forgiveness): For He is Oft-Returning, Most Merciful. اپنوں میں سے غلط کاروں کو قتل کردو ، اللہ کے حضور توبہ کرنے کے لیئے۔Malik Remember when Moses returned with the Divine Book, he said to his people: "O my people! You have indeed grievously wronged yourselves by taking the calf for worship; so turn in repentance to your Creator and slay the culprits among you; that will be best for you in His sight." He accepted your repentance; surely He is the Forgiving, the Merciful یہ درگذر، حضرت عیسی کی دعا [AYAH]7:150 [/AYAH]تا [AYAH]7:156 [/AYAH]اور غلط کاروںکے قتل ( اوپر دیا گیا) کے بعد کی گئی۔ [AYAH]7:150[/AYAH] پھر جب لوٹے موسٰی طرف اپنی قوم کے غصے میں بھرے ہُوئے اور رنجیدہ ،فرمایا، بہت ہی بُری ہے جو جانشینی کی ہے تم نے میری ،میرے بعد ،کیا جلد بازی کی تم نے اپنے رب کے عذاب کے لیے ؟ اور پھینک دیں (تورات کی )تختیاں اور پکڑلیا سر کے بالوں سے اپنے بھائی کو، کھینچھتے ہُوئے اپنی طرف ،وہ بولے:اے میرے ماں جائے ! بے شک ان لوگوں نے مجھے دبالیااور قریب تھاکہ قتل کردیں مجھے۔ پس نہ ہنسنے کا موقع دیں آپ مجھ پر دشمنوں کو اور نہ کرو مجھے شامل ایسے لوگوں میں جو ظالم ہیں۔ [AYAH]7:151[/AYAH] موسٰی نے کہا: اے میرے مالک !معاف کردے مجھے اور میرے بھائی کو اور داخل فرماتو ہمیں اپنی رحمت میں اور تُو تو ہے ہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ۔ [AYAH]7:152[/AYAH] بے شک وہ لوگ جہنوں نے بنالیا تھا بچھڑے کو (معبود) عنقریب گرفتار ہوکر رہیں گے وہ غضب میں اپنے رب کے اور ذلیل ہوں گے دنیاوی زندگی میں اور ایسی ہی سزادیتے ہیں ہم جُھوٹی باتیں گھڑنے والوں کو۔ [AYAH]7:153[/AYAH] لیکن وہ لوگ جنہوں نے کیے بُرے کام پھر توبہ کرلی اس کے بعد اور ایمان لے آئے تو یقینا تیرارب تو بہ اور ایمان کے بعد ضرور معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ [AYAH]7:154[/AYAH] اور جب ٹھنڈا ہُوا موسٰی کا غصہ تو اُٹھالیں اُنہوں نے وہ تختیا ں اور اُن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ [AYAH]7:155[/AYAH] اور متخب کیا موسٰی نے اپنی قوم سے سَتّر آدمیوں کو ہمارے وقتِ مقرّرہ پر حاضرہونے کے لیے پھر جب آلیا اُنہیں ایک سخت زلزلہ نے تو عرض کیا موسٰی نے، اے میرے مالک! اگرتو چاہتا تو ہلاک کرسکتا تھا اُن کو اس سے پہلے بھی اور مجھے بھی۔ کیا تو ہلاک کرے گا ہمیں اس (قصور) میں جو کیا ہے (چند) نادانوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر ایک آزمائش تیری طرف سے۔ گمراہی میں مُبتلا کردیتا ہے تو اس کے ذریعہ سے جسے چاہے اور ہدایت بخش دیتا ہے تو جسے چاہے۔ تُوہی ہمارا سرپرست ہے پس معاف فرمادے ہمیں اور ہم پر رحم فرما، تُو سب سے بڑھ کر معاف کرنے والا ہے۔ [AYAH]7:156[/AYAH] اور لکھدے ہمارے لیے اس دُنیا میں بھی، بھلائی اور آخرت میں بھی۔ بے شک ہم نے رجوع کیا تیری طرف۔ ارشاد ہُوا: مَیں سزا دیتا ہُوں جس کو چاہوں لیکن میری رحمت چھائی ہے ہرچیزپر۔ سواُسے میں لکھّے دیتا ہُوں اُن لوگوں کے لیے جو ڈرتے رہیں گے اور ادا کریں گے ذکوٰۃ ان لوگوں کے لیے جو میری آیات پر ایمان لائیں گے۔ ان آیات سے مکمل تصویر سامنے آتی ہے کہ اس موقعہ پر یہ سارا واقعہ ایک دو جملوں میں نہیں مکمل ہوگیا تھا۔ بلکہ جب موسٰی علیہ السلام واپس آئے تو اپنی امت پر غیض و غضب کیا۔ ہارون علیہ السلام سے پرسش کی اور جن لوگوں نے زبردستی یہ کام کروایا تھا ان کا قتل ہوا ، زلزلہ آیا۔ اللہ کے رسول نے اللہ سے دعا مانگی اور پھر شرک نہ کرنے والوں کی توبہ قبول ہوئی ۔[AYAH] 4:153[/AYAH] اس واقعہ کی ایک سمری ہے جو قرآن کے ایک سرسری قاری کو دعوت فکر دیتی ہے کہ اگر ذہن میں سوال اٹھا ہے تو مزید قرآن کو دیکھئے اور عبرت پکڑئے کہ ۔ شرک اللہ کے نزدیک ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ ضرورت ہے صرف اللہ کی کتاب پر ایمان رکھنے کی۔ ضرورت ہے اپنے اعمال کو اللہ کی کتاب اور موافق القران سنت رسول کے مطابق کرنے کی۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
آخر میں ع
![]() اگر مقصدیت سے دیکھا جائے تو قرآن میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اللہ تعالی نے روزہ فرض کیا اور کوئی اپنی کسی کمزوری یا بیماری یا مجبوری سے اس سعادت سے محروم رہ گیا اور اللہ تعالی نے اس کو اس فرض کو معاف کرنے کے لئے مزید آسانی پیدا کردی کہ وہ بھوکوں کو کھانا کھلا دے تو یہ صرف آسانی پیدا کی گئی نہ کہ ایک فرض کو مکمل طور پر معطل کردیا گیا؟ اسی طرح جب ایک حکم کی تفصیل عطا ہوئی تو یہ سمجھنا کہ اصل حکم منسوخ ہو گیا انصاف نہیں۔ یا یہ کہ اللہ تعالی نے رسول اللہ کو بطور خاص کوئی حکم دیا اور پھر جب مقصد پورا ہوگیا تو روک دیا تو یہ اصل حکم کی منسوخی نہیں ہوئی بلکہ اصل حکم کا مقصد مکمل ہوگیا۔ اگر ایک فوجی کو اس کا کمانڈر موقع کے مناسبت سے کہتا ہے چل پڑ اور پھر موقع کی مناسبت سے کہتا ہے رک جا تو یہ دونوںحکم کسی مقصد کی تکمیل کے لئے ہیں۔ ان احکام میں گو کہ ایک حکم دوسرے کا مخالف ہے لیکن مقصد کی تکمیل کرنا ہی ان احکامات کی روح ہوگا۔ اس کی مثال دیکھئے [ayah]33:50 [/ayah]میں رسول اللہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کن خواتین سے نکاح کرسکتے ہیں ؟ [ayah]33:50 [/ayah] اے نبی! بے شک ہم نے حلال کردی ہیں تمہارے لیے تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کردیے ہوں اور وہ لونڈیاں بھی جو تمہاری ملک میں آئیں اس (مال غنیمت) میں سے جو عطا کیا ہے اللہ نے تمہیں اور (حلال کردی ہیں) تمہاری چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد (بہنیں) جنہوں نے ہجرت کی ہے تمہارے ساتھ اور کوئی مومن عورت اگر ہبہ کرے اپنے نفس کو نبی کے لیے اگر نبی بھی چاہے (تو حلال ہے) اس سے نکاح کرنا۔ (یہ رعایت) خالصتاً تمہارے لیے ہے دوسرے مومنوں کے لیے نہیں۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ کیا فرض کیا ہے ہم نے مومنوں پر اُن کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں؟ (تمہیں ان حدود سے متثنٰی کردیا ہے) تاکہ نہ رہے تم پر کوئی تنگی۔ اور ہے اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا۔ اور جب اللہ تعالی کا مقصد پورا ہوگیا تو اللہ تعالی نے یہ حکم دیا: [ayah]33:52[/ayah] نہیں حلال ہیں تمہارے لیے عورتیں اس کے بعد اور نہ یہ کہ تم بدلو ان کی جگہ اور بیویاں اگرچہ تمہیں بہت ہی پسند ہو ان کا حسن سوائے ان کے جن پر تمہارا حق ہے، ہے اللہ ہرچیز پر نگران تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ --- نعوذ باللہ --- اللہ تعالی نے ایک حکم دیا اور اس کو کینسل کردیا؟ یقیناً نہیں۔۔۔ ایک حکم دیا، جب مقصد پورا ہوگیا تو پہلے حکم پر عمل کرنے سے روک دیا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ سب زندگی سے اور قرآن سے بھی ایسی مزید مثالیں فراہم کرسکتے ہیں۔ اصل مقصد ہے بنیادی نکات پر اور ٹائم لائین پر نظر رہے نہ کہ یہ بحث چھیڑی جائے کہ کونسا حکم کس حکم کو روک رہا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو بہترین ہدایت عطا فرمائیں۔ تاکہ یہ دنیا عدل و انصاف اور امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔ جب ہم قرآن پڑھیں تو ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کو "پاک صاف" ہو کر پڑھیں ۔ کیا یہ پاکی صرف ہاتھوں اور جسم تک محدود ہے یا ذہن کی پاکی بھی مقصود ہے؟ تھوڑا سا خلوص دل چاہئیے دوستو ! والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |||||||
|
Senior Member
![]() |
صاحبو اور احبابو۔ سلام علیکم۔
ہمارے ایک محترم برادر نے قرآن کی آیات کی تنسیخ قرآن کی ہی آیات سے کئے جانے کی کچھ مثالیں پیش کی ہیں۔ یہاں میں ان آیات کی وضاحت کررہا ہوں یہ دیکھنے کے لئے کہ آٰیا کہ یہ آیات کیا حقیقت میں ایک دوسرے کی تنسیخکرتی ہیں یا پھر یہ ایک واہمہ یا شائبہ ہے جو شیطان نے انسانوںکے بہکانے کے لئے دلوں میںڈالا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھئے کہ ایک حکم کی تنسیخ یا منسوخ ہونا یا کینسل ہونا کیا ہے؟ بہت ہی سادہ الفاظ میں اگر آپ کو حکم دیا جارہا ہے کہ نماز قائم کیجئے تو اس کو کینسل کرنے کا حکم ہوگا نماز قائم کرنا بند کردیجئے۔ اقتباس:
پہلی آیت میں اللہ تعالی مردوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی بیگمات کے لئے ایک سال کے خرچہ کی وصیت کرجائیں اور ان بیواؤں کو ان کے گھروں سے نہ نکالا جائے۔ ساتھ ساتھ ان بیواؤں کو حق حاصل ہے کہ وہ اگر چاہیں تو خود سے نکل کر جاسکتی ہیں۔ جبکہ دوسری آیت ان بیواؤن کو مخاطب کرکے حق دیتی ہے کہ وہ چار ماہ دس دن کے بعد شادی کرسکتی ہیں ۔ یہ دونوں آیات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتی ہیں۔ بلکہ فوت ہونے والے کو وصیت کا حکم دیتی ہیں کہ پیچھے رہ جانے والی بیوہ کو گھر میںرکھنے اور ایک سال تک کا خرچہ برداشت کرنے کی وصیت کرے۔ اللہ تعالی مرجانے والے کی بیوہ کو مرجانے والے کے ساتھ مرجانے کا حکم نہیںدیتے بلکہ ایک عورت کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ چار ماہ اور دس دن کے بعد نئی شادی کرنے کا حق رکھتی ہے ۔ اس طرح وہ پہلی آیت میں دئے گئے خود سے نکل جانے کے حق کو استعمال کرتے ہوئے نئے گھر میں جا کر اپنی خانگی زندگی نئے خاوند کے ساتھ گزار سکتی ہے ۔ اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ایسا کرے۔ ملاء کو سب سے زیادہ تکلیف خواتین سے ہے ؛) ملاء کو یہ برداشت نہیں کہ ایک بیوہ عورت بیک وقت ایک سال کا خرچہ بھی پائے اور گھر سے بھی نہ نکالی جائے اور صاحب وہ چار ماۃ دس دن کے بعد شادی کرکے ایک نارمل زندگی گذارنے کا حق بھی رکھتی ہو۔۔ اس لئے کہ اس بیوہ عورت کو کچھ بھی نہ دینا پڑے۔ ان ملاؤں نے اللہ تعالی کا یہ عظیم حکم منسوخ کردیا۔ آپ ان آیات کو بار بار پڑھئیے اور بتائیے کہ کیا ان میں سے ایک آیت دوسری آیت کو در حقیقت منسوخ کرتی ہے؟ ہم کو کسی قسم کا ثبوت ان آیات کے متن سے نہیں ملتا کہ ان میں سے ایک آیت دوسری آیت کو منسوخکرتی ہے۔ ہم کو کوئی منطقی دلیل نہیں ملتی کہ یہ آیات ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ خدانخوستہ جب آپ 14 سال کے تھے اور آپ کے والد انتقال فرماجاتے تو کیا آپ پسند کرے کے آُپ کی والدہ کو گھر سے نکال کر باہر کھڑا کردیا جائے؟ یا ان سے کھانے پینے کا ھق چھین لیا جائے؟ یا ان معزز خاتون سے دوبارہ شادی کا حق چھین لیا جائے۔ اگر ہم بحیثیت قوم مرحوم افراد کی بیواؤں کو سڑک پر نکال کھڑ ا کریں تو ہر سال صرف پاکستان میں ہر سال لگ بھگ دو لاکھ بیوائیں سرکوں پر آجائیں ، جس سے چوری، زنا، طوائف زدگی جیسے قبیح جرائم پیدا ہوں۔ مزید یہ کہ ان کے بچوں کی تربیت کرنے والا کوئی نہ ہو؟؟؟؟ اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا کہ عملی زندگی میں ان آیات پر عمل ہوتا ہے؟ کیا خواتین کو ان کے گھروں میں ایک سال یا زائید رہنے دیا جاتا ہے یا نکال کھڑا کیا جاتا ہے، کیا بیوہ خواتین کا بوجھ اس کے شوہر کے اثاثے سے اٹھایا جاتا ہے یا یہ غیر قانونی ہے؟ کیا خواتین کو 4 ماہ دس دن بعد شادی کرنے کی اجازت ہے؟ یا ہندوؤں کی طرح ستی کردیا جاتا ہے۔ بھائی جس کسی نے ان آیات کو ایک دوسرے کا مخالف قرآر دیا ہے وہ درست نہیں۔ ہر طرح کے دلائل سے یہ بات ثبت ہے یہ اور بات ہے کہ ہر آدمی کو اپنے نظریہ کا حق ہے لیکن ضروری نہیں کے اس کا نظریہ دنیا کے لئے یا اللہ تعالی کی آیات کی روشنی میں سچ ثابت ہو۔ اقتباس:
اب جب رسول اللہ حیات نہیں ہیں تو ہم ان سے تنہائی میں نہیںمل سکتے لیکن صدقہ دینا اب بھی جاری ہے ۔ لگ بھگ سو سال بعد رسول اکرم سے جو احادیث منسوب کی گئیں وہ بھی صدقہ دئے جانے کے بارے میں حکم دیتی ہیں ۔ صدقہ دینے سے روکتی نہیں ہیں۔ سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کوئی ایسی آیت موجود نہیں ہے جو یہ حکم دیتی ہو کہ رسول اللہ سے تنہائی میں رازدارنہ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ دینا منع یا حرام ہے۔ اقتباس:
دوسری آیت میں ہدایت دی گئی کہ چونکہ مسلمانوں میںابھی کمزوری ہے لہذا مندرجہ بالاء آیت کی وجہ سے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوا جائے بلکہ صورت حال دیکھ کر لڑا جائے۔ اس کے باوجود یہ خوش خبری سنادی گئی کہ مومن اپنے سے دگنے دشمن پر غالب آئے گا۔ ایسا بارہا ہوا ہے کہ مسلمان فوج اپنے سے دگنے یا چار گنے دشمن سے لڑی ہے اور جیتی ہے۔ پھر آج یہ ممکن ہے کہ آج اپنے ماؤس سے کمپیوٹر کی سکرین پر کھیلتے کھیلتے ایک یا د و آدمی ، 10 کیا 100 آدمیوں کا تیا پانچہ کردیں۔ ان دو آیات کو کوئی اپنی معلومات کی کمی کی وجہ سے تو غلط سمجھ سکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ دونوں آیات اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ اقتباس:
پہلی آیت صرف کچھ لوگوںکی شکایت ظاہر کرتی ہے کہ ----- مسلمانوں کو اس قبلہ (بیت المقدس) سے کس نے پھیر دیا ---- اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ مشرق و مغرب اللہ کے لئے ہی ہیں۔ جبکہ دوسری آیت صرف یہ حکم دیتی ہے اپنے منہہ مسجد الحرام کی طرف کیا کیجئے۔ قرآن حکیم میں کوئی آیت ایسی نہیںہے جو ---- قبلہ اول یعنی بیت المقدس کی طرف منہہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیتی ہو۔ کہ جس کی تردید یا تنسیخ اللہ تعالی نے فرمائی ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ جناب ہم کو توراۃ زبور یا انجیل میں بھی کوئی آیت ایسی نہیں ملتی جو کہ حکم دیتی ہوکہ بیت المقدس کی طرف منہہ کرکے نماز پڑھی جائے۔ جی؟ صرف بائیبل میں اذاخیل 21:2 میں درج ذیل حکم ہے جو کہ نماز پڑھنے کے بارے میںنہیں ہے: Ezekiel 21:2 "Son of man, turn to Jerusalem, preach against the holy places. Prophesy against the land of Israel. ایک طرف تو ہم کو یروشلم کی طرف منہہ کرکے نماز پڑھنے کوئی حکم قرآن میں نہیں ملتا اور اب ذرا آپ قرآن حکیم کی درج ذیل آیت بہت ہی پڑھئے تاکہ اندازہ ہو کہ آیا کہ کسی سابقہ حکم کی تنسیخ کی گئی تھی یا نہیں؟ [AYAH]2:143 [/AYAH][ARABIC]وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلاَّ عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللّهُ وَمَا كَانَ اللّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللّهَ بِالنَّاسِ لَرَؤُوفٌ رَّحِيمٌ[/ARABIC] اور اس طرح بنادیا ہے ہم نے تم کو ایک اُمّتِ مُعتدل تاکہ بنو تم گواہ لوگوں پر اور ہو رسول تم پر گواہی دینے والا اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ کہ تھے تم (پہلے) جس پر مگر اس غرض سے کہ دیکھیں ہم کہ کون پیروی کرتا ہے رسول کی اور کون پھرجاتا ہے اپنے الٹے پاؤں۔ اور بے شک تھا یہ (قبلہ بدلنا) بہت گراں سوائے ان لوگوں کے جنہیں ہدایت دی اللہ نے۔ اور نہیں ہے اللہ ایسا کہ ضائع کر دے تمہارا ایمان۔ بیشک اللہ انسانوں پر بہت ہی شفیق اور رحم کرنے والا ہے۔ قبلہ کی تبدیلی کسی سابقہ قرآنی حکم کی تبدیلی نہیں ہے۔ نہ ہی یہ کسی سابقہ حکم کی تنسیخہے۔ اقتباس:
ہم جب کوئی آیت منسوخ کر دیتے ہیں یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں (تو) اس سے بہتر یا ویسی ہی (کوئی اور آیت) لے آتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر (کامل) قدرت رکھتا ہے آپ کو درج ذیل کمجھنے کے لئے صرف خلوص دل ضروری ہے۔ میں پہلے کچھ آیات پیش کرتا ہوں اور اس کے بعد ان آیات سے املنے والے نکات کی وضاحت کرتا ہوں۔ 1۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے آیات صرف قرآن میں ہی نازل نہیں کی ہیں۔ بلکہ آیات اللہ تعالی کی کتابوں تورات، زبور، انجیل اور قرآن حکیم میں نازل ہوئیں ۔ [ayah]3:3[/ayah][arabic]نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ [/arabic] اسی نے نازل کی ہے تم پر یہ کتاب حق کے ساتھ، تصدیق کرتی ہوئی ان کتابوں کی جو اس سے پہلے موجود تھیں اور اسی نے نازل کی تورات اور انجیل۔ [ayah]17:55[/ayah] [arabic]وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا[/arabic] اور آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں (آباد) ہیں، اور بیشک ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا کی 2۔ قرآن مجید میں جو آیات نازل ہوئی ہیں ان میں سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہوئی اور نا ہی اس کو فراموش کیا گیا۔ اللہ تعالی کا دستور، اللہ تعالی کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ الفاظ اور جملے بدل دئے جاتے ہیں لیکن حکم نہیں تبدیل ہوتا۔ [ayah]33:62 [/ayah][arabic]سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [/arabic] یہی سنت ہے اللہ کی ایسے لوگوں کے معاملے میں جو گزرچکے ہیں پہلے اور نہ پاؤ گے تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی۔ 3۔ توراۃ، زبور اور انجیل کی آیات کو منسوخ کیا گیا اور اس کی جگہ بہتر آیات قرآن مجید میں نازل کی گئیں اس کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ شیطان سابقہ انبیاءکی تلاوت میں خلل انداز ہوا ۔ جو آیت بھی منسوخ کی گئی ہیں ان میں موجود حکم اور نئی آیت میں موجود حکم کبھی تبدیل نہیں ہوئے۔ صرف آیت کے الفاظ تبدیل ہوئے ، اس لئے کہ اللہ تعالی کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ [ayah]22:52 [/ayah][arabic]وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ[/arabic] اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر (ایسا ہوتا رہا) کہ جب اس نے تلاوت کی تو خلل اندز ہوا شیطان اُس کی تلاوت میں۔ پھر مٹا دیتا رہا اللہ اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا رہا پھر پختہ کردیتا رہا اللہ اپنی آیات کو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ آیات کا متن بدلنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان سابقہ کتب میں بہت تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ [ayah]2:75 [/ayah][ayah]أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُّؤْمِنُواْ لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلاَمَ اللّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ[/ayah] کیا تم اب بھی توقّع رکھتے ہو کہ ایمان لے آئیں گے یہ لوگ تمہاری دعوت پر؟ حالانکہ ہے ایک گروہ ان میں (ایسا بھی) جو سنتا ہے اللہ کا کلام پھر ردّ و بدل کردیتا ہے اس میں، بعد خُوب سمجھ لینے کے، جانتے بوجھتے۔ وضاحت: ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے آیات صرف قرآن میں ہی نازل نہیں کی ہیں۔ بلکہ آیات اللہ تعالی کی کتابوں تورات، زبور، انجیل اور قرآن حکیم میں نازل ہوئیں ۔ قرآن مجید میں جو آیات نازل ہوئی ہیں ان میں سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہوئی اور نا ہی اس کو فراموش کیا گیا۔ اللہ تعالی کا دستور، اللہ تعالی کی سنت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ سابقہ کتنب کی آیات یعنی احکامات کے الفاظ اور جملے بدل دئے جاتے ہیں لیکن حکم نہیں تبدیل ہوتا۔ اس طرح قرآن میں فراہم کردہ یہ آیات ایک بہتر شکل میںموجود ہیں۔ اس کی وجہ: آیات کا متن بدلنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان سابقہ کتب میں بہت تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ اور دوسری یہ کہ توراۃ، زبور اور انجیل کی آیات کو منسوخ کیا گیا اور اس کی جگہ بہتر آیات قرآن مجید میں نازل کی گئیں اس کی وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ شیطان سابقہ انبیاءکی تلاوت میں خلل انداز ہوا ۔ اللہ تعالی قرآن حکیم میں کہیں بھی یہ نہیں فرماتے کہ قرآن حکیم کی آیات تبدیل یا منسوخ ہوتی رہی ہیں؟ لیکن یہ ضرور وضاحت کرتا ہے کہ سابقہ کتب میں تحریف کی گئی اور ساتھ ساتھ شیطان بھی سابقہ انبیاء کرام کی تلاوت وحی میں خلل انداز ہوا۔ یہ وجہ ہے کہ سابقہ کتب کے احکامات تبدیل کرکے قرآن میں اس سے بہتر آیات فراہم کی گئیں۔ اقتباس:
جہاں تک اللہ تعالی کی آیات کا تعلق ہے ، اللہ تعالی کی آیات سابقہ کتب میںبھی موجود تھیں ، ان آیات کی تبدیلی کی گواہی قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے دی کہ اس میں ایک تو انسانوں نے تحریف کی اور دوسرے ان سابقہ کتب آیات کی تلاوت کے دوران شیطان نے خلل ڈالا۔ ان دو وجوہات کی بناء اللہ تعالی نے قرآن نازل کیا اور اس کو سابقہ کتب کی توثیق کرنے والی کتاب قرار دیا۔ اس کتاب قرآن حکیم میں بہت سے آیات ہیں جو سابقہ کتب کی آیات کی تصحیح کرتی ہیں۔ اس میں سب سے بڑی تصحیحہے ابراہیم علیہ السلام کے اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی۔ جو کہ سابقہ کتب میں ---- ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے اسحاق علیہ السلام کی قربانی کے طور --- درج ہے۔ اس پر کفار نے شور مچایا کہ اللہ تعالی اپنی آیات تبدیل کررہا ہے۔ ۔ یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے وضاحت فرمائی کے سابقہ کتب کی آیات کی درستگی قرآن حکیم میں ضروری تھی۔ لیکن یہ آیت قطعاً یہ نہیں بتاتی ہے کہ قرآن حکیم کے احکام کو تبدیل یا منسوخ کیا گیا۔ اقتباس:
آپ اس دھاگہ کو بغور پڑھئے اور اگر ان کے علاوہ بھی کوئی آیات آپ کے علم میںہیں تو ان کو بھی یہاں لکھئے۔ الحمد للہ اب تک پیش کردہ اعتراضات کی وضاحت، منطقی دلائل، عمل طرز عمل اور قرآن کی آیات کے مناسب معانوں سے فراہم کردیا گیا ہے۔ اگر کہیں تشنگی ہے تو سوال کیجئے۔ بہت خوشی ہوگی کہ ان افواہوںکی تصحیح کی جاسکے۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 22-08-10 at 07:32 AM. |
|||||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | ||
|
Senior Member
![]() |
سلام علیکم
یہ بالکل درست ہے کہ قرآن میں کوئی حکم کینسل نہیں ہوا۔ لیکن شاید الفاظ (ناسخ و منسوخ) کا انتخاب اتنا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالی کے کسی بھی حکم کو منسوخ شدہ سمجھنا اس حکم سے انکار ہے۔ جو [ayah]2:99[/ayah] کے مطابق اللہ تعالی کی نافرمانی ہے۔ آپ سکون سے درج ذیل معلومات کو دیکھئے۔ میں نے اللہ کے فرمان ، قرآن حکیم کو ایک ترتیب سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ رسول اکرم کی زندگی سے جس مثال کو میں نے ایک حکم کی تکمیل کے ضمن میں فراہم کیا تھا وہ کسی حکم کے منسوخ ہونے کی مثال نہیںہے۔ بلکہ حکم کے تکمیل کی مثال ہے۔ مسلمانوں کے لئے قرآن حکیم کے فراہم کردہ احکامات میں کوئی حکم منسوخنہیں ہوا۔ ایک کام کرنے کا حکم دینا اور کام مکمل ہونے پر یہ بتا دینا کہ اب یہ کام مکمل ہوگیا ہے مزید اس پر کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کسی طور بھی ایک حکم کی تنسیخ یا اس کا منسوخ ہونا تصور نہیںکیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ناسخ و تنسیخ کی کتب میں یہ دو آیات جن کی میںنے مثال دی نہیں ملتی ہیں۔ ناسخ و تنسیخ کا فلسفہ خصوصی طور پر اس لئے ایجاد کیا کہ یہ بتایا جاسکے کہ اللہ تعالی کے فرمان، قرآن کی آیات کے احکامات ایک دوسرے کی تنسیخکرتے ہیں۔ اس تنسیخ کے مصنوعی عمل میں جس میں آیات و روایات دونوں میں اشتباہ پیدا کرکے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن حکیم کی آیات ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں۔ ا س کا واحد مقصد اللہ تعالی کو نعوذ باللہ ایک انسان جیسی عقل والا ثابت کرنا ہے کہ یا تو اللہ تعالی سے (نعوذ باللہ ) غلطی ہوتی رہی (معاذ اللہ) یا پھر اللہ تعالی ایک آیت نازل کرکے بھول گیا اور پھر ایک مختلف قسم کا حکم نازل کردیا (نعوذ باللہ) اس کی مثال آپ کو دین سے اور دنیا سے دیتا ہوں: دین سے: اللہ تعالی نے رسول اللہ کو حکم دیا کہ اللہ تعالی کا پیغام، قرآن مجید دنیا کے ہر بندے تک پہنچادیجئے۔ آیت کے ریفرنس کے لئے یہاںکلک کیجئے: [ayah]5:67[/ayah] اقتباس:
مکمل آیت کا لنک : [ayah]5:3[/ayah] اقتباس:
دین کی تکمیل کے حکم کے بعد کیا دین کو انسانوں کو پہنچانے کا سلسلہ ختم ہوگیا؟ یقیناً نہیں۔ گویا کسی عمل کی تکمیل کا حکم قطعاً اس حکم کی منسوخی کی دلیل نہیں ہے۔ اس کے لئے ناسخ و منسوخ کے الفاظ استعمال کرنا، (کینسل اور کینسل کرنے والا حکم) یقینی طور پر ایک ناگوار فلسفہ ہے۔ دنیا سے مثال: زید تیل کے کنویں کھدواتا ہے۔ بکر کے پاس رگ ہے وہ کنویں کھودتا ہے۔ زید بکر کو حکم دیتا ہے کہ اس معاہدے کے مطابق اور اس رقم کے عوضتم اس جگہ 6000 فٹ تک یا تیل نکل آنے تک کنواں کھودو، بکر 5600 فیٹ پر تیل پالیتا ہے۔ زید کہتا ہے کہ تم اب رک جاؤ، کیا یہ رک جانا اصل حکم اور معاہدے کی تنسیخہے یا پھر یہ نیا حکم اس اصل حکم یا معاہدے کی تکمیل ہے۔ کسی عمل کا مکمل ہوجانا ، اس کے احکامات کی تنسیخنہیںکرتا۔ لہذا قرآن کے احکامات کے لئے ناسخ و منسوخ کی اصطلاح ایجاد کرکے پھر روایات سے یہ ثابت کرکے کہ صاحب پوری ایک سورۃ اللہ تعالی نے بھلادی تھی یا یہ حکم اب نافذ نہیں ہوگا کہ اس کی تنسیخ ہوچکی ہے ایک درست طرز عمل یا درست سوچ نہیں ہے۔ جس مثال کو اجاگر کرکے، ناسخ و تنسیخ کے فلسفہ کو درست قرار دئے جانے کی کوشش کی ہے وہ ایک حکم رسول اکرم کے لئے تھا، دیگر مسلمیں کے لئے نہیںتھا۔ اس عمل کی تکمیل پر رسول اکرم کو رک جانے کا حکم دیا گیا۔ ناسخ و تنسیخ (کینسل ہونے والا اور کینسل کرنے والے ) قسم کے احکامات قرآن میں موجود نہیں ہے۔ [ayah]2:2[/ayah] [arabic]ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ [/arabic] (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے جس کتاب میں شک موجود نہیں، اس خود اللہ تعالی کے احکامات کو منسوخ کرنے والے احکامات کہاں سے آسکتے ہیں؟ جس منسوخی اور بھلا دینے کا ذکر اللہ تعالی [arabic]2:106 [/arabic] میںکرتا ہے وہ ان آیات کے کی منسوخی اور بھلا دینے کے بارے میں ہے جن میں جعل سازی کی گئی۔ دیکھئے۔ [ayah]16:101 [/ayah][arabic]وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَّكَانَ آيَةٍ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُواْ إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ[/arabic] اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ حالانکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازِل کرے؟ تو یہ کہتے ہیں کہ بس تم خود ہی گھڑلیتے ہو (یہ کلام)۔ دراصل اکثر لوگ ان میں سے (حقیقت سے) بے خبر ہیں۔ ہم کو باوجود ہزار کوشش کے ایک بھی آیت ایسی نہیں ملتی جو قرآن حکیم کے ایک حکم کی تردید یا منسوخی کرتی ہو۔ جبکہ اس آیت سے واضح ہے کہ کفار رسول اکرم پر یہ الزام رکھتے تھے کہ -- سابقہ کتب میں موجود آیات میں درج معلومات کی منسوخی قرآن حکیم کی آیات سے ہوتی ہے۔ ورنہ پھر آپس میں مقابلہ (کمپیئر) کرنے کے لئے مواد کیا تھا؟؟ اب مزید دیکھئے اس معلومات کی مزید وضاحت کہ یہ تنسیخ سابقہ کتب کی آیات کے لئے ہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ان دو آیات کو پڑھنے کے بعد یقینی طور پر مطمئن ہوجائیں گے۔ [ayah]13:38[/ayah] [arabic]وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّهِ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ[/arabic] اور بے شک بھیجے ہیں ہم نے بہت سے رسُول تم سے پہلے اور بنایا تھا ہم نے اُنہیں بیوی بچّوں (والا) اور نہیں ہے طاقت کسی رسُول کی کہ لا دکھائے کوئی نشانی (از خود) بغیر اللہ کے اِذن کے۔ ہر دور کے لیے ہے ایک کتاب۔ [ayah]13:39[/ayah] [arabic]يَمْحُو اللّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ[/arabic] اور مٹا دیتا ہے اللہ جو کچھ چاہتا ہے اور قائم رکھتا ہے (جو چاہتا ہے) اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب ( ام الکتاب)۔ ان دو آیات سے ہم کو جو واضح نکات ملتے ہیںوہ یہ ہیں۔ 1۔ کوئی رسول اپنی طرف سے آیت نہیںبنا کر پیش کرتا۔ یعنی کوئی نیا حکم کوئی نبی نہیںلاتا۔ تمام احکامات اللہ تعالی کی طرف سے ہیں۔ 2۔ ام الکتاب، یعنی اصل کتاب اللہ تعالی کے پاس ہے، جس میں سے اللہ تعالی ہر دور میں اس دور کے لئے مناسب و ضروری احکامات فراہم کرتا رہا۔ 3۔ یہ اللہ ہی کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہتا ہے وہ قائم رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے۔ ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالی پرانی کتب میں تبدیلی فرما کر نئی کتا عطا فرماتے ہیں۔ 4۔ یقینی طور پر یہ کام قرآن حکیم کے نزول کے وقت ہوا۔ جس کا تذکرہ[ayah] 2:106 [/ayah] اور اس کی وضاحت [ayah]13:38 [/ayah]اور [ayah]13:39[/ayah] بنیادی طور پر کسی بھی آیت کی تنسیخپر یقین رکھنا، منسوخ شدہ آیت کے حکم سے انکار کرنا ہے۔ کیا ہم کسی آیت کا انکار کر سکتے ہیں؟ یقینی طور پر نہیں۔ دیکھئے: [ayah]2:99[/ayah] [arabic]وَلَقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلاَّ الْفَاسِقُونَ [/arabic] اور بیشک ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں اور ان (نشانیوں) کا سوائے نافرمانوں کے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیا ہم ان آیت میں سے کسی کا بھی انکار کرکے اپنا شمار ، اللہ تعالی کے الفاظ میں ---- فاسقوں یعنی نافرمانوں ---- میں کروانا پسند کریں گے۔ ہم سے غلطی جب ہوتی ہے جب ہم ایک ہی آیت پر اپنا فوکس (ارتکاز) کرکے اس آیت سے ہی معانی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور روایات یعنی -- پرکھوں کی معلومات --- کو حجت بنا لیتے ہیں۔ بھائی یہ بزرگ بھی ہماری طرح انسان تھے اس سے زیادہ میں کچھ نہیںکہوںگا کہ ہم سب کو اپنے اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ میں بھی انسان ہوں اور اپنی تمام تر احتیاط کے باجود غلطی کا پتلا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ اللہ تعالی کی آیات درست سیاق و سباق میں پیش کروں۔ آیات آپ کے سامنے ہیں۔ اس پر غور فرمائیے اور اگر مجھ سے کہیں غلطی ہوگئی ہو تو سامنے لائیے۔ یہ ہار جیت کا مقابلہ نہیں۔ ایک دوسرے کے عقائد کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں۔ یہ کوشش ہے قرآن حکیم میں موجود چمکتی دمکتی نشانیوں میں موجود معلومات کو سامنے لانے کی تاکہ ان آیات پر جو گرد پڑ گئی ہے وہ دور ہو اور ہم قرآن حکیم کے احکامات کے مطابق سوچ اور سمجھ سکیں۔ والسلام |
||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
سابقہ مراسلہ لمبا ہوگیا تھا میں دو مزید آیات آپ سے شئیر کرنا چاہتا تھا۔
ہم یہ تو بخوبی جانتے ہیں کہ سابقہ کتب میں تحریف ہوئی، ان کی آیات سے انکار ہوا اور ان کتب کی آیات میں تبدیلی ہوتی رہی۔ اس جرم کا ثبوت سب سے پہلے تو قرآن حکیم ہے اور اس کے بعد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی معلومات۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان کتب میں موجود --- تحریفات -- کسی طور بھی قرآن حکیم میں پیچھے سے داخل ہوسکتی تھیں۔ پیچھے سے مطلب ہے --- پرکھوںکی روایت --- سے۔۔۔؟؟؟ اس کا جواب اللہ تعالی ان آیات میں دیتے ہیں۔ [ayah]41:41[/ayah][arabic] إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ[/arabic] بلاشبہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے کلامِ نصیحت کو جبکہ وہ ان کے پاس آیا حالانکہ وہ ایک زبردست کتاب ہے۔ [ayah]41:42 [/ayah] [arabic]لاَّ يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ[/arabic] نہیں آسکتا ہے اس کے پاس باطل نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے۔ یہ نازل کردہ ہے اس ہستی کی طرف سے جو ہے بڑی حکمت والی اور قابلِ تعریف۔ والسلام |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
سلام علیکم،
سب سے اچھی تفسیر کونسی ہے؟ بندوں کی تفسیر یا پھر اللہ تعالی کی تفسیر، ہم کو کس کو قبول کرنا چاہئیے؟ تفسیروں میں سب سےاحسن تفسیر اللہ کی ہے۔ یہ اللہ تعالی خود فرماتے ہیں۔ سورۃ الفرقان:25 , آیت:33 وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب (احسن و بہتر تفسیر) بھیج دیتے ہیں کوئی شبہ ہے کسی کو؟ اب ہم اللہ تعالی کی تفسیر دیکھتے ہیں۔ فرمان الہی دیکھئے: جو لوگ ایمان لائے سورۃ الحج:22 , آیت:50 فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے مغفرت ہے اور (مزید) بزرگی والی عطا ہے ایمان لانے والوںکے برعکس ہیں وہ جہنمی لوگ جو کوشش کرتے رہے کہ آیات میں عاجز کرنے والی باتیں نکالیں جیسے نسخ و تنسیخ: سورۃ الحج:22 , آیت:51 وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ اور جو لوگ ہماری آیتوں (کی تردید) میں کوشاں رہتے ہیں اس خیال سے کہ (ہمیں) عاجز کردیں گے وہی لوگ اہلِ دوزخ ہیں اللہ تعالی تنسیخ کرتا ہےشیطان کے القا شدہ بیان کی جو اس نے سابقہ انبیاء کی تلاوت میں کی۔ ۔ سورۃ الحج:22 , آیت:52 وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ اور نہیں بھیجا ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نہ کوئی نبی مگر (ایسا ہوتا رہا) کہ جب اس نے تلاوت کی تو خلل اندز ہوا شیطان اُس کی تلاوت میں۔ پھر مٹا دیتا رہا اللہ اس خلل اندازی کو جو شیطان کرتا رہا پھر پختہ کردیتا رہا اللہ اپنی آیات کو اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ے شیطان کے خلل کو اللہ نے بامر دل لوگوں کے لئے آزمائش بنایا، یہ مخالفت میںبہت آگے ہیں سورۃ الحج:22 , آیت:53 لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ [COLOR="darkgreenیہ اس لیے کرتا ہے کہ بنادے اللہ شیطان کے ڈالے ہُوئے خلل کو فتنہ و آزمائش ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور سخت ہیں جن کے دل اور بے شک یہ ظالم مخالفت میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔[/COLOR] سورۃ الحج:22 , آیت:54 وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اللہ کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہےے یہ لوگ کافر ہیں جو قرآن پر شک کرتے ہیں۔ یہ شک قیامت تک جاری رہے گا۔ سورۃ الحج:22 , آیت:55 وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ اور ہمیشہ پڑے رہیں گے وہ لوگ جو کافر ہیں شک میں اس کے بارے میں حتیٰ کہ آجائے گی اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک یا آجائے گا اُن پر عذاب نامبارک دن کا۔ں قرآن میں قرآن کی آیات کی تنسیخ کا فیصلہ اللہ تعالی قیامت کے دن فرما دے گا۔ سورۃ الحج:22 , آیت:56 الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ حکمرانی اس دن صرف اﷲ ہی کی ہوگی۔ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے (وہ) نعمت کے باغات میں (قیام پذیر) ہوں گے سورۃ الحج:22 , آیت:57 وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأُوْلَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو انہی لوگوں کے لئے ذلت آمیز عذاب ہوگا میرا خیال ہے کہ آپ کو مندرجہ بالاء آیات میں اللہ تعالی کا صاف اور واضح بیان نظر آ گیا ہوگا کہ۔ 1۔ ایمان لانے والوں سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ 2۔ قرآن میں ناسخ و تنسیخ کی مدد سے شک ڈالنے والے اللہ تعالی کی الفاظ میں جہنمی ہیں۔ 3۔ شیطان کے القاء کئے کی اللہ تعالی نے تنسیخ کی۔ 4۔ وہ لوگ جو قرآن کی آیات کے بارے میں کسی بھی شک میں مبتلا ہیں وہ جہنمی ہیں۔ 5۔ قرآں حکیم میں شک ڈالنے کا یہ ناسخ و تنسیخ کا فلسفہ قیامت جاری رہے گا۔ 6۔ اللہ تعالی قیامت میں یہ فیصلہ فرمادیں گے کہ ناسخ و تنسیخ سے اللہ تعالی کی مراد شیطان کا کیا ہوا القاء تھا جو سابقہ انبیاء کی تلاوت کے دوران شیطان نے خلل ڈال کر پیدا کیا۔ 7۔ نبی اکرم کی تلاوت میں شیطان نے خلل نہیں ڈالا لہذا کسی آیت کی منسوخی کی ضرورت نہیں۔ 8۔ جو لوگ اس قرآن کے مکمل ہونے اور اس میں کسی بھی آیت کے مشکوک نہ ہونے پر ایمان لائے ، ان کا انعام جنت ہوگا۔ اب آپ دیکھئے اسی امر کا دوبارہ اشارتی تذکرہ: سورۃ البقرۃ:2 , آیت:106 مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ہم جس آیت کو منسوخ کر تے یا اسے فراموش کرا تے ہیں تو پھر اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر بات پر قادر ہے یہ تنسیخ اور بھلوا دینے سے متعلق، سورۃ البقرہ کی آیت 106، در حقیقت، سورۃ الحج کی مندرجہ بالاء آیات کی طرف صرف اشارہ ہے جہاں اللہ تعالی نے ان لوگوں کو جہنمی کہا گیا ہے جو قرآن کی آیات میں شکوک پیدا کرنے لئے، ناسخ و تنسیخ کا شوشہ چھوڑتے ہیں۔ میں کسی کو جہنمی قرآر نہیں دے سکتا، میں صرف آیات شئیر کرتا ہوں۔ اگر آپ ناسخ و تنسیخ کے ذریعے قرآن حکیم میں شکوک پید کرنے والے جہنمی لوگوں کے نام یہاں لکھنا چاہتے ہیں تو بھائی یہ آپ کا فعل ہے ، میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں کروں گا۔ میری استدعا یہ ہے کہ جس طرح میں اپنے طور پر قرآن حکیم کے حوالے دیتا ہوں اور اس کا دفاع قرآن حکیم کے آیات سے ہی دیتا ہوں، لہذا ،خود سے لکھئے۔ "پرکھوں" کے پردے میں نہیں چھپئے۔ بات تو سخت ہے لیکن عرض یہ کروں گا کہ پرکھوں اور بزرگوں کی وکالت کرنے کے بجائے ان کو یہاں لے آئیے تاکہ بالمشافہ بات چیت ہوسکے۔ یہ کیا کہ "پرکھوں" کے پردے میں چھپا جائے۔ اگر پھر بھی اصرار ہے کہ "پرکھوں" کے پردے میں ہی چھپنا ہے تو پھر اس دن کا انتظار کیجئے جب اللہ تعالی ان "پرکھوں" کا اور قرآن حکیم کی گواہی کے درمیان فیصلہ فرمادے گا۔ اپنی بات کیجئے، اپنے دلائل و نکات پیش کیجئے۔ الحمد للہ مرحوم "پرکھوں" کا حساب اللہ اور ان کے درمیان ہے۔ ہم ان کے لئے کچھ نہیں کہہ سکتے اار نہ ہی کچھ کرسکتے ہیں۔ "پرکھوں" میں سے اگر کوئی صاحب یہاں آئیں تو انشاء اللہ ان پرکھوں کو ہم قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ سے مناسب حوالہ پیش کرسکتے ہیں جن کو یہ سب "پرکھ" قابل قبول پائیں گے۔ اگر آپ نے اللہ تعالی کی آیات کو پڑھ کر قبول کرنا ہے تو صد بسم اللہ۔ اور اگر آپ کا جواب ہے کہ پہلے ان " مرحوم پرکھوں " کو مطمئن کیا جائے تو بھائی یہ "مرحوم پرکھوں" کے پردے میں چھپ کر آیات ربانی کا صاف انکار کرنے کی ایک ایسی کوشش ہے جس کو اللہ تعالی نے شیطانی خلل قرار دیا ہے۔ صبر و تحمل سے اس بارے میں سوچئے اور غصہ نہ کیجئے۔ آپ نے اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانا ہے اور میں نے اپنے اعمال کا۔ "پرکھوں " کے اعمال نامہ قیامت تک منجمد کردئے گئے ہیں۔ اگر اس کے باوجود کچھ لوگ --- پرکھوں یعنی اباء و اجداد ---- کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالی کا یہ فرمان ذہن میں رکھئے۔ سورۃ البقرۃ:2 , آیت:170 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّهُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لاَ يَعْقِلُونَ شَيْئاً وَلاَ يَهْتَدُونَ اور جب کہا جاتا ہے اِن سے کہ پیروی کرو ان (احکام) کی جو نازل کیے ہیں اللہ نے تو کہتے ہیں نہیں بلکہ ہم تو پیروی کریں گے ان (طور طریقوں) کی جن پر پایا ہے ہم نے اپنے آباأ اجداد کو۔ کیا پھر بھی کہ ہوں ان کے باپ دادا ایسے جو نہ سمجھتے ہوں کچھ اور نہ سیدھے راستے پر ہوں؟۔ والسلام |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| php, فورم, کتابوں, پوسٹ, قرآن, قرآنی, قران, لوگ, نفرت, نظر, موت, معلوم, آج, اللہ, الزام, انسان, تعلیم, جواب, حکم, حدیث, زندگی, طلاق, عورت, صحابہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لہو نہ ہو تو قلم ترجمان نہیں ہوتا | عائشہ | شعر و شاعری | 5 | 06-02-10 02:53 PM |
| ایکس ایل اور ایس، الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا | لاسلکی | گپ شپ | 7 | 30-05-08 04:48 PM |
| نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں غیر ملکی کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دفتر | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 17-04-08 08:19 AM |
| الیکشن میں حصہ لینا صدر پرویز کے غیرآئینی اقدامات کوتحفظ دینا ہوگا‘ مجلس عمل | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 04-12-07 10:01 AM |
| اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ․․․․․,,,,مشتاق احمد قریشی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 29-10-07 10:27 AM |