واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


بیمہ زندگی یا لائف انشورنس فقہ کی نظر میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-04-10, 12:16 AM   #1
بیمہ زندگی یا لائف انشورنس فقہ کی نظر میں
حیدر حیدر آف لائن ہے 26-04-10, 12:16 AM

میں جاننا چاہتا ہوں کہ لائف انشورنس کے متعلق اسلامی فقہ کے بارے میں کیا کیا آرا پائی جاتی ہیں اور کون کون اس کو حرام اور کس بنیاد پر حرام جبکہ کون کون اسکو جائز اور کس بنیاد پر جائز ٹھہراتے ہیں؟
اگر کسی بھائی کو علم ہو ادھر شئیر کرے میں مشکور رہوں گا۔ یاد رہے کہ ذاتی رائے کی نسبت میرے لیے کسی عالم کی رائے بمعہ دلیل زیادہ معتبر رہے گی۔ شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مضمون نظر سے گزرا اسکے مندرجات مختصراً بیان کیے دیتا ہوں
1۔یہ ایک بالکل نیا قسم کا معاہدہ ہے اس لیے ماضی کے کسی معاہدہ پر اس کا انطباق کر کے اس کے جائز و ناجائز کا فیصلہ کرنا غلط ہے۔
2۔مستقبل کے نقصانات سے بچاو کی کوشش و تدابیر کرنا نہ تو انسانی فطرت کے خلاف ہے اور نہ ہی اسلام کی منشا کے خلاف۔
3۔ شریعت کا ایک اہم اصول "ضرر" کو دور کرنا ہے بیمہ کے ذریعے کسی نقصان کی تلافی اس طرح کی جاتی ہے کہ تلافی کرنے والا بھی نقصان میں نہیں رہتا اور متضرر کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کا نعم البدل بھی مل جاتا ہے۔
4۔شریعت اجتماعی زندگی میں تعاون ع تکافل کو بہت اہمیت دیتی ہے اور بیمہ اسکی قانونی و جدید شکل ہے۔
5۔ بیمہ جوا کئی وجوہات کی بنا پر نہیں مثلاً
ٌجوا میں یا تو ہار ہوتی ہے یا پھر جیت کوئی تیسرا آپشن نہیں ہوتاجبکہ بیمہ جیت-جیت کے اصول کے تحت کام کرتا ہے
ٌجوا ایک کھیل ہے جبکہ بیمہ کھیل نہیں ہے اور نہ کبھی اسے بطور کھیل استعمال کیا گیا۔
ٌجوا میں ہارنے کی صورت میں اپنا مال سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ جیتنے کی صورت میں اگلے کو نقصان دیتے ہیں اس میں ایسا نہیں ہے
ٌجوا پیسے کے حصول کے مقصد کے لیے کھیلا جاتا ہے جبکہ بیمہ مستقبل کے کسی ممکنہ ضرر سے بچنے کے لیے بطور تدبیر اختیار کیا جاتا ہے۔
ٌجوا تصنیع اعقات کا سبب جبکہ بیمہ میں ایسا کوئی معاملہ نہیں
ٌجوا میں ہارنے والے فریق کے نقصان کی تلافی کا کوئی آپشن نہیں جبکہ اس میں ایسا کوئی معاملہ ہی نہیں
ٌجوے میں نقصان کا خطرہ فریقین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جبکہ بیمہ میں فریقین کی وجہ سے کسی قسم کا نقصان کا اندیشہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ خطرہ پہلے سے موجود ہوتا ہے اور فریقین مل کر اس خطرے سے نمبٹنے کی تدبیر کرتے ہیں
ٌجوے کے عمل میں تعاون و تکافل کا شائبہ تک نہیں ہوتا بلکہ اس میں فریقین ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوتے ہیں جبکہ بیمہ میں تعاون و تکافل کا عمل ہوتا ہے۔
ٌجوے کا معاہدہ ایک دوسرے کو نقصان سے بچانے کا نہیں بلکہ نقصان پہنچانے کا ہوتا ہے جبکہ اس میں ایسا کوئی معاملہ نہیں۔
ٌ معاہدہ بیمہ میں زندگی محفوط نہیں کی جاتی بلکہ زندگی کا مفاد یعنی آمدنی محفوط کرنے کا معاہدہ کیا جاتا ہے
ٌبیمہ میں رقم بیمہ ہر حال میں ضرور ملتی ہے جب کہ جوے میں ایسا نہیں ہوتا
ٌبیمہ کے بارے میں یہ کہنا کہ غیر یقینی واقعہ کی بنیاد پر بیمہ کیا جاتا ہے اس لیے یہ جوا ہے یہ نقطہ نظر مغالطہ بلکہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے (تفصیلی بیان)
ٌقرآن میں قمار یا جوے کی تین خصوصیات بتائی گئی ہیں یعنی لوگوں میں بغض وعداوت پیدا کرتا ہے، اللہ کی یاد سے روکتا ہے، نماز سے روکتا ہے جبکہ بیمہ میں ایسی کوئی عادت نہیں پائی جاتی
6۔بیمہ میں غیر یقینیت پائی جاتی ہے جو کہ غلط ہے۔ مثلاً معاہدہ میں معاہدہ کے موقع پر بیمہ دار اور کمپنی کو مندرجہ ذیل امور کا یقینی طور پر علم ہوتا ہے
ْقسط کی رقم
ْکل رقم بیمہ
ْبیمہ دار کے لیے نقصان کی صورت میں تحفظ یا امان
7۔یہ کہنا کہ بیمہ کسی غیر یقینی واقعہ کے ظہور پذیر ہونے پر واجب الدا ہوتا ہے اور یہ غر ہے یہ درست نہیں۔ غرر یہ ہے کہ آپکو subject of Saleکا علم نہ ہو لیکن بیمہ میں اصل چیز قابل مفاد بیمہ ہے جو ہر صورت میں فریقین کے علم میں ہوتا ہے
8-بیمہ بیع مسلم سے مشابہت رکھتا ہے
9۔بیمہ کی رقم سود میں انوسٹ نہیں کی جاتی بلکہ جائز کاروبار میں لگائی جاتی ہے
10۔بیمہ دار اور بیمہ کمپنی کا معاہدہ سود نہیں ہے کیونکہ
ٌبیمہ دار کو approximateیا اندازہً بتایا جاتا ہے کہ آپکے نقصان کو کس حد تک تحفظ دیا جا سکتا ہے
ٌبیمہ دار کو اسکی اقساط سے ادا کردہ زائد تحفظ جو ادا کیا جاتا ہے وہ بطور معاوضہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ فنڈ سے تعاون و تکافل اور تبرع کے طور پر دیا جاتا ہے
ٌاحکام نبی کے ارشاد کے بموجب سود صرف قرض کے معاملہ میں داخل ہو سکتا ہے کب کہ بیمہ کا معاہدہ قرض کا معاہدہ نہیں اس لیے اس میں سود کا عنصر شامل نہیں ہو گا
11۔ بیمہ ایمان اور توکل کے منافی نہیں ہے کیونکہ اس میں نقصان یا ضرر کے نہ ہونے کا وعدہ نہیں کیا جاتا کہ فلانا واقعہ نہیں ہوگا یا فلانا حادچہ نہیں ہوگا یا فلانے شخص کی موت نہیں ہوگی بلکہ یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر نقصان (موت کی صورت میں) کی صورت میں فائدہ(آمدنی )سے محرومی جوہوئی ہے تو اسکی مدد کی جائے گی۔ تقدیر الہیٰ پر ایمان مستقبل کے خطرات کی پیش بندی یا منصوبہ بندی سے نہیں روکتا ۔

 
حیدر's Avatar
حیدر
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 788
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-04-10), ھارون اعظم (27-04-10), نورالدین (26-04-10), احمد بلال (23-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), راجہ اکرام (26-04-10), رضی (26-06-11), شمشاد احمد (23-06-11)
پرانا 26-04-10, 12:19 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا اس ٹاپک کا مقصد مندرجہ بالا مضمون پر تبصرہ کرنا نہیں بلکہ انشورنس سے متعلق اسلامی دنیا میں پائے جانے والے نظریات سے آگاہی حآصل کرنا ہے کہ علما دین کس نہج پر سوچ رہے ہیں۔ یعنی مجھے اس سلسلے میں دو قبیل کی مفصل آرا چاہیں۔ فیصلہ تو پڑھنے والے کو خود ہی کرنا ہے کہ کس کی دلیل کس حد تک اسلام سے مطابقت رکھتی ہے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-04-10), نورالدین (26-04-10), احمد بلال (23-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), راجہ اکرام (26-04-10), شمشاد احمد (23-06-11)
پرانا 26-04-10, 10:07 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 2,038
کمائي: 55,090
شکریہ: 11,755
1,557 مراسلہ میں 4,844 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کچھ عرصہ پہلے اندازاً دو تین مہینے پہلے جنگ سنڈے میگزین میں مفتی ارشاد احمد ( شاید یہی نام ہے ) کا اس موضوع پر بہترین مضمون آیا تھا جس میں بیمہ کی تیرہ سو سال پہلے عالم اسلام میں موجودگی کو ثابت کیا گیا تھا ۔۔
اور موجودہ شکل پر بھی بحث کی گئی تھی ۔۔
آپ اس کو ڈھونڈ لیں
ورنہ میں کوشش کرتا ہوں
اس کے علاوہ ایک پرانا سا کتابچہ بھی تھا وہ بھی شیئر کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں بہت قابل ذکر معلومات ہیں بیمہ کے متعلق ۔۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ عشر کی موجودہ شکل ہے ۔۔۔

مختصراً میرے ذہن میں جو بیمہ کے متعلق جو مخالفانہ خاکہ ہے وہ یہ ہے کہ اس میں پیسہ معاشرے میں موجود ایک غاصب طبقے کے ہاتھ میں سمٹتا جاتا ہے ۔۔۔
اور ثانیاً سود کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔

مزید معلومات کے ساتھ حاضر ہوں گا
تب تک آپ لوگ معلومت فراہم کریں

انشاء اللہ
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
احمد بلال (23-06-11), ارشد کمبوہ (23-06-11), حیدر (27-04-10), شمشاد احمد (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 03:32 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بیمہ بیع مسلم سے مشابہت رکھتا ہے
اس کی وضاحت درکار ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (23-06-11), شمشاد احمد (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 03:41 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بَیع عربی زبان کا لفظ ھے جس کا مطلب اردو میں "بیچنا، بکری، فروخت کا عمل"

"وہ یہ کہتے تھے کہ بیع اور سود کا معاملہ ایک ہی ہے۔" ( سیرۃ النبی، 142:2 )

واللہ اعلم
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (23-06-11)
پرانا 23-06-11, 03:46 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بیع مسلم ؟؟
اس کی وضاحت درکار ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-06-11, 03:00 AM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائي كے‌پيش كردہ سوالات كے جوابات ۔۔۔ تكافل انشورنس كا جائز اور حلال متبادل۔۔ نامي ميرے دھاگے كے مراسلہ نمبر 46 ميں دے ديے‌گئے ہيں۔۔۔

شكريہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کوشش, کس, یا, نماز, نظر, موقع, موت, مقصد, منصوبہ, ایمان, اللہ, اسلامی, بھائی, جیت, جوا, حال, خلاف, زندگی, شخص, علم, عنصر, عالم, عادت, غلط, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:03 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger