| اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 813
|
||||
| 15 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا | asakpke (19-03-11), shafresha (18-03-11), فیصل ناصر (22-03-11), ھارون اعظم (18-03-11), ننھا بچہ (24-03-11), موجو (21-03-11), محمد عاصم (18-03-11), محمدمبشرعلی (18-03-11), مرزا عامر (18-03-11), ارشد کمبوہ (18-03-11), حیدر (18-03-11), راجہ اکرام (18-03-11), رضی (18-03-11), سحر (18-03-11), عبداللہ حیدر (18-03-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,781
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,295 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
جزاک اللہ خیرا |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے تو کل سے ببانگ دہل اس پر کام بھی شروع کر دیا ہے ۔اُٹھتے بیٹھتے ہر کسی کے سامنے اس ملک کی غریب عوام کو ہی اس ملک کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہوں کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے جھوٹے خداؤں یعنی برادری کے بڑے،سردار، چوہدری، سرپنچ، نمبر دار، کے کہنے پر زرداری، نواز، الطاف، ولی جیسوں کو ووٹ دے دیتے ہیں اور اسلام و پاکستان کو تباہ کرنے میں انکا ساتھ دیتے ہیں۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (18-03-11), موجو (21-03-11), محمد عاصم (18-03-11), مرزا عامر (18-03-11), سحر (18-03-11), عبداللہ آدم (18-03-11) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
برادرم عبداللہ آدم آپ نے بڑے سادہ انداز سے ایک اہم مسئلے کو بیان کیا اور ساتھ ہی اس کا حل بھی بتا دیا۔ اسلام اور دیگر مذاہب اور تہذیبوں میں ایک بنیادی فرق ہے دیگر میں سے کچھ نے صرف معاشرے پر توجہ دی اور فرد کو مکمل آزادی دے دی، جبکہ بعض فرد کی اصلاح پر سارا زور دیتے رہے ، کامیاب ترین وہ قرار پایا جو جنگلوں میں جا بسا اور معاشرے کو نظر انداز کر دیا۔ لیکن اسلام ان دونوں رویوں سے ہٹ کر بیک وقت فرد اور معاشرے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ بہترین افراد کار کی تیاری اور پھر بہترین معاشرے کی تیاری اس کا مقصد ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تعلیمات اسی کا ایک مظہر ہیں۔ اس لئے صرف نماز و روزہ ہی پر کاربند رہ کر یہ سمجھنا کہ ایمان کے تقاضے پورے کر دیئے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔ سورۃ العصر میں جو چار خصوصیات بتائی گئی ہیں وہ اولین اہمیت کی حامل ہیں، اور رب کائنات قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ ان چار کے حاملین کے سوا سب کے سب انسان خسارے میں ہیں۔ تو تبدیلی کے پہلے مرحلے کے طور ان چار کو اپنانا لازمی ہے ایمان ۔۔ جیسا کہ قرآن و حدیث کا حقیقی تقاضا ہے ۔ ایک اللہ کے سوا تمام خداؤں سے برات کا اعلان، چاہے وہ مرئی خدا ہوں یا غیر مرئی۔ عمل صالح ۔۔ قرآن و سنت کے مطابق اعمال ہوں، بدعات اور خرافات سے مکمل اجتناب ہو تواصوا بالحق ۔۔۔ خود ہی عمل کر کے اپنی کامیابی پر خوش نہیں ہونا بلکہ جو حق معلوم ہے اس کی تلقین و وصیت کرتے رہنا، ہر حال میں ، ہر جگہ۔۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل توصوا بالصبر۔۔ پھر تلقین حق اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی راہ میں جو مشکلات درپیش ہوں ان پر صبر ان شاء اللہ تبدیلی کا عمل شروع ہو جائے گا اور اس معاشرے کی تشکیل کی بنیاد پڑ جائے گی جو اسلام کو مطلوب ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (18-03-11), موجو (21-03-11), محمد عاصم (18-03-11), مرزا عامر (18-03-11), عبداللہ آدم (18-03-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
انسانی نظامِ زندگی کی اساس عقیدہ توحید پر رکھی گئی ہے لہٰذا بنیاد جتنی مستحکم ہوگی اتنی ہی اس پر اٹھنے والی عمارت مضبوط ہوگی اور بالفاظ ِ دیگر جتنا عقیدہ توحید کا تصور پختہ ہوگا اتنا ہی انسانی زندگی پر اسلامی تعلیمات کا رنگ گہرا ہوگا اور انسانی شخصیت پر ا س کے اثرات ہمہ گیر ہوں گے ۔
یہ تمام باتیں اس وقت ہی ممکن ہوں گی جب انسان اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو گا ۔اس کی عمدہ مثال صحابہ کرام رضوان اﷲعلیہم اجمعین کی زندگیاں ہیں ۔جنہوں نے راہِ حق میں استقامت اور جانثاری کو اپنا شعار بنایا ۔جس کے نتیجے میں وہ دنیا کی قوموں کے امام وقائد بنے اور اقوام عالم کو تہذیب وتمدن اور اخلاق عالیہ سے روشناس کرایا ۔تاریخ گواہ ہے کہ رفتہ رفتہ جب امت مسلمہ کے عقیدے میں لچک پیدا ہوئی تو توحید کے تصور میں جاہلانہ رسومات اور بدعات وخرافات پیدا ہوئیں کیونکہ امت مسلمہ نے اپنی زندگی کے معاملات کو الٰہی اور نبوی تعلیمات کے برعکس حل کرنے کی کوشش کی تو ان کے حسین طرز زندگی کی یہ ہیبت بد ہوتی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی تہذیب وثقافت اور اسلوب تمدن سے دور ہوتے چلے اور دنیا کی قیادت وامامت کے علمبردار ذلت کی عمیق اندھیری کھائیوں میں گرگئے ۔جس کا اثر یہ ہوا کہ توحید کے حقیقی تصور یعنی اﷲ وحدہ لاشریک کی بندگی واطاعت اور اس کی حاکمیت اعلیٰ کا نظریہ چھوڑ کر وہ عظیم امت مسلمہ تحاکم الی الطاغوت میں اپنا بھلا سمجھتے ہوئے اس عقیدہ پر سرگرداں ہوگئے ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ عوام الناس کے ساتھ ساتھ وہ اہل علم طبقہ بھی اس گرفت میں آگئے ‘جن کو عوام الناس کو دلدل سے نکالنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔افسوس! اب حالت زار یہ ہے کہ وہ بھی سر پر ہاتھ رکھے عوام الناس اور ملوک وقت کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں اور اپنے اصل منصب کو بھلا کر دنیا کے جاہ وجلال کے حصول میں سرگرداں وپریشاں ہیں ۔ اصل دشمن کی پہچان کیئے بغیر ہم اس دشمن کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکتے اور اس وقت اسلام اور اہلِ اسلام کا اصل دشمن طاغوت ہے جو اللہ کے قوانین کو چھوڑ کر انسان کے بنائے قوانین کو اللہ کی مخلوق پر نافذ کیئے ہوئے ہیں۔
__________________
![]() یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام
کسی بھی قوم کا مضبوط ترین دفاعی حصار اس کے نظریات ہوتے ہیں۔ نظریات کا حصار اگر مضبوط بنیادوں پر قائم ہواوراس کی دیواروں کی مسلسل دیکھ بھال کی جاتی رہے تو قومیں اپنے دفاع کو موثراور پائداربنا سکتی ہیں لیکن نظریات کے معیار کو قائم اورمضبوط رکھنے کیلئے خود اس حصار کی دیکھ بھال کرتے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر ممکن ہوا جس میں یہ بات واضح تھی کہ مسلمانوں کا رہن سہن ہندوؤں سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں قومیں پرامن طور پر اکھٹے نہیں رہ سکتیں۔ چنانچہ پاکستان کے نام پر علیحدہ مملکت اس لئے بنائی گئی کہ یہاں كر اسلامی اصول لاگو ہونگے، اسلامی طرز زندگی اپنایا جائے گا اور اسلامی ثقافت کو فروغ دیا جائے گا۔ مگر پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی یورپی ممالک کی ثقافت نے دھیرے دھیرے اس آزاد ملک میں اپنا اثر بڑھانا شروع کردیا اور اسلامی نظریے کے حصار کو کمزور کرنا شروع کیاجسکی مثال ہمارے سامنے ہے۔ امن قائم رکھناتو ہمارے دین کا حصہ ہے مگر دین اوردنیا دونوں لحاظ سے امن قائم ہونے کیلئے اپنے نظریات کا سودا کردینا کسی بھی صورت قابل تحسین نہیں۔ کسی مغربی مفکر کا قول ہے کہ "جنگ اور دشمنی کو ختم کردینے کا تیزترین اور یقینی راستہ شکست اپنا لینے کا ہے"۔ یعنی ہمارے حکمران جواپنا ذاتی مُفاددیکھتے ہیں اوروہ جو غلط کریں اورکہیں اُس پر سرخم تسلیم کر لیناشکست کے مترادف ہے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عبداللہ بھائی
میرے حساب میں خاموش قربانیوں کا phase ہوچکا ہے ۔ جن میں ڈاکٹر عافیہ اور گونتاناموبے کے سیکڑوں قیدی ، افغان طالبان کی خاموش قربانیاں شامل ہیں ۔ ان لوگوں کی خاموش قربانیوں نے ہم جیسے دنیا دار لوگوں کو داعی بنادیا ہے اب بھی ایسی ہی قربانیوں کی ضرورت ہے لیکن اب خاموش نہیں بلکہ باآواز بلند حق کی آواز بلند کرنے کا وقت ہے ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
میرے خیال میں دعوت سے بڑھ کر کوئی طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔ اپنے ہم وطن اگر اس بات کو سمجھ لیں تو بغیر کسی خون خرابے کے نظام کو بدلا جاسکتا ہے۔ بندوق کا اثر دیرپا نہیں ہوتا۔ ذہن بدلیں اور پھر دیکھیں اس معاشرے کی کایاپلٹ۔
کسی بھی باطل نظام کے خلاف آواز اٹھانا اسی صورت کارگر ہوسکتا ہے جب عوام آپ کی بات کو سمجھیں۔ اس کے بغیر انفرادی قربانی تو دی جاسکتی ہے، لیکن اجتماعی طور پر اس قربانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یقینا اصل انقلاب وہی ہے جو انقلاب نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح ہو۔ ہمہ پہلو انقلاب جس نے طرز زندگی، نظام حکومت و معاشرت الغرض ہر ہر چیز کو تہہ و بالا کر دیا۔ الغرض یہ کہا جانا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ انقلاب لفظ انقلاب کے لغوی و اصطلاحی ہر دو مفاہیم پر بعینہ صادق آتا ہے۔
تا ہم پاکستان کے حوالے سے اب تک میری رائے یہ ہے کہ یہاں دعوت کے ذریعے پر امن انقلاب شاید ایسا خواب ہے جس کو شرمندہ تعبیر ہونے میں صدیاں لگ سکتی ہیں۔ |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (18-03-11) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
لوگوں کو دعوت کے ذریعے قائل کئے بغیر انقلاب نہیں آتے۔ وہ دراصل آمریت کی دوسری شکل ہوتی ہے۔
|
|
|
|
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کر دو یکجا سب کو ایک جھنڈے تلے
گرآوازہماری دُور دُوراور دُورپہنچے پہلے "میں"، پھر "تو" اور پھر"ہم" بنیں اور اس "ہم" کو کوئی توڑ نہ سکے اگر ہمارا ایک مشرکہ "پرچم" بنے |
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بجافرمایامحترم بھائی کہ لوگوں کودعوت کے زریعے قائل کئے بغیرانقلاب نہیں آئے گا۔ مجھے نوازشریف کاایک جُملہ یادآرہاہے اُس نے کہاتھاکہ "جمہوریت گھوڑااورآمریت گدھا ہے"۔ اور عاصمہ جہانگیرکے مطابق "میں نے عدالتی آمریت دیکھی ہے ہم اس طرف جا رہے ہیں وہ ایسا سخت وقت ہوگا کہ عوام سیاسی آمریت کو بھول جائیں گے یہ رویہ رکھنا کہ ہمارے منہ سے جو بھی لفظ نکلے اور اسے فوری پورا کیا جائے ورنہ کالے کوٹ والے آپ کو ٹھیک کردیں گے یہ ایک آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ کو زیب نہیں دیتا"۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم کسطرح لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اُنکوقائل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر ایک انقلاب برپا کریں۔
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، ماشاء اللہ تبارک اللہ ، عبداللہ آدم نے بہت اچھی سوچ اجاگر کی ہے ، بنیادوں کو سمجھنے کی راہ کھولی ہے ، اللہ کرے کہ ہم سب ، اور ہر ایک مسلمان یہ باتیں سمجھ سکے ، سب کی ہی باتیں اچھی ہیں ، ان سب باتوں میں سے بنیادی معاملہ یہ ہے کہ "فرد" کی اصلاح ہو ، جب "افراد" کی اصلاح ہو گی تو ان شاء اللہ " صالح معاشرہ " وجود میں إٓئے ، یہ ہی اللہ کی سنت کے موافق عمل ہے ، اس اصلاح کی ابتداء ہر فرد اپنی ذات سے کرے ، اپنے رب کی ذات و صفات کی پہچان حاصل کرے ، اپنے رب کو پہچانے اور اس کی ربوبیت ، الوہیت اور ذات و صفات پر بالکل اسی طرح قلبی ، قولی اور عملی اِیمان رکھے جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے ، اور پھر اسی علم و علم کے ساتھ اپنے اہل خاندان اور اپنے ارد گرد والوں کی اصلاح کی ابتداء کرے کہ انہیں تسلسل کے ساتھ اللہ کی واحدانیت کی دعوت دیتا ہی رہے ، یہ ہی اللہ کا مقرر کردہ راستہ ہے ، اس کا حکم اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دیا ، اور ساری ہی اُمت کے لیے یہ راستہ مقرر فرمایا ہے ، (((((فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَoوَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ::: اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود مت پکاریے ورنہ آپ عذاب پانے والوں میں ہو جائیں گے o اور اپنے قریب والوں کو (بھی) ڈرایے))))) سورت الشعراء /آیات 213،314، اور سب ہی اِیمان والوں کو الگ سے بھی یہ حکم دِیا ، غور کیجیے کہ یہ حکم عام انسانوں کے لیے نہیں ، اُن لوگوں کے لیے ہے جو اِیمان قبول کر چکے ہیں ، خود کو مسلمان کہلواتے ہیں، انہیں یہ حکم دیا ہے ، (((((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا::: اے اِیمان لانے والو اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں آگ سے بچاؤ))))) سورت التحریم/آیت6، بھتیجے عبداللہ آدم نے جو کچھ کہا ، اور بھائی بدر الزمان نے سورت العصر کے حوالے سے جو کچھ کہا وہ بالکل درست ہے ، اور بھائی ہارون اعظم کی بات بھی ٹھیک ہے ، ان سب باتوں کی تائید اور اللہ کی طرف سے ان پر عمل کا طریقہ مذکورہ بالا آیات میں یہی سمجھایا گیا ہے، اور یقیناً انسانی معاشرے کی حقیقی نفع مند، مستقل و مستمر اصلاح اسی طریقے میں مضمر ہے کہ سب سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کا علم حاصل کر کے اس پر کسی سمجھوتے کے بغیر کے اِیمان لایا جائے ، اور پھر اس اِیمان کے تقاضوں کو پورے کرنے والے عمل کیے جائیں ، ان اعمال کے ابتدائی اعمال میں سے ایک مستمر عمل اللہ کی توحید اور اس کے سارے ہی دین کی اسی کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق دعوتء مسلسل دی جائے ، اور اس پر عمل پیرا رہنے کے لیے اپنی ذات کو اپنے ساتھیوں کو مستقل صبر کی قولی اور عملی تلقین کی جاتی رہے ، اس کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ((((( وَعَدَ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنکُم وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَستَخلِفَنَّہُم فِی الأَرضِ کَمَا استَخلَفَ الَّذِینَ مِن قَبلِہِم وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُم دِینَہُمُ الَّذِی ارتَضَی لَہُم وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعدِ خَوفِہِم أَمناً یَعبُدُونَنِی لَا یُشرِکُونَ بِی شَیأاً وَمَن کَفَرَ بَعدَ ذَلِکَ فَأُولَئِکَ ہُمُ الفَاسِقُونَ ::: اللہ اِیمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ اُنہیں ضرور زمین میں خلافت عطاء فرمائے گا جِس طرح اُن سے پہلے (اِیمان لانے ) والوں کو عطاء فرمائی اور یقینا اللہ نے اُنکے لیے جو دِین پسند فرمایا ہے وہ اُنکے لیے مضبوطی سے قائم فرما دے گا اور یقینا اُنکے خوف کو امن میں بدل دے گا (اور یہ سب حاصل کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ سب)میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ بنائیں اور اس (واضح بیان اور یقینی وعدے ) کے بعد (بھی) جو کوئی انکار کرے گا تو وہ ہی لوگ فاسق ہیں))))) سورت النور / آیت 55 ، پس اصل اصول یہ ہی ہے کہ اللہ کی توحید کو کسی سمجھوتے کے بغیر ایمان بنایا جائے اور سارے ہی اعمال اس توحید کے تقاضے پورے کرنے کے لیے روا رکھے جائیں ، اللہ کی مقرر کردہ اس راہ ہر چلنے سے ہی ہمارے ملکی اور بین الاقوامی تمام تر معاملات کا با عزت اور دیرپا حل میسر ہو سکتا ہے ، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کسی ملک یا قوم پر حاوی بد دیانت ، چور لٹیرے قسم کے حکمرانوں اور راہنماؤں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی تحریک محض ایک وقتی حل ہوتا ہے ، جب تک کسی خاص عقیدے کے مطابق ذہن سازی کر کے اپنے راہنماؤں اور حکمرانوں کو تبدیل نہیں کیا جاتا ، کوئی مثبت دیرپا حل نہیں ملتا ، اور کائنات کے اکیلے لا شریک خالق و مالک کی توحید کا عقیدہ ہی وہ واحد عقیدہ ہے جواس لا شریک خالق و مالک کی رضا مندی اور دنیاو آخرت کی کامیابی کی ضمانت رکھتا ہے ، اگر ہم اس عقیدے کے بغیر کسی وقتی تحریک کے ذریعے گندے لوگوں کو دُور کر بھی دیتے ہیں تو بھی اس کا امکان بہت قوی رہتا ہے کہ کچھ ہی عرصے کے بعد وہ لوگ یا ان جیسے یا ان سے بھی برے لوگ پھر سے ہم پر قابض ہو جائیں گے ، لیکن اگر ہم اپنے اور اپنے ارد گرد والوں کے ذہن اللہ کی توحید پر ایمان کے ساتھ تیار کریں گے اور دنیاوی اسباب کے حصول کو محض آخرت کی فلاح کا ذریعہ سمجھیں گے ، اور گندے راہنماؤں کو دور کرنے کا مقصد مادی اور معاشی سہولیات کا حصول بنانے کی بجائے اللہ کے دین کا نفاذ بنائیں گے تو ان شاء اللہ بہت مثبت اور دیرپا نتائج حاصل ہو سکتے ہیں، ایک دم سے ، یا تھوڑے ہی عرصے میں کسی معاشرے کی اصلاح نا ممکن ہے ، کسی ایک، یا کچھ دنیاوی مقاصد کے حصول کے لیے لوگ اکٹھے ہو کر کچھ قربانیاں دے کر ان مقاصد کو حاصل تو کر لیتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر اس کا اثر ایک نسل تک بھی بر قرار نہیں رہتا ، اس کے بر عکس جو مقصد کسی اُخروی عقیدے کے تحت پورا کیا جا تا ہے اس کا اثر دیر تک برقرار رہتا ہے ، اور اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر یہ کہ جومقصد یا مقاصد اللہ کی توحید کے عقیدے کے مطابق ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے ، اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کی حدود میں رہتے ہوئے پورے کیے جاتے ہیں ان کے اثرات تا قیامت برقرار رہتے ہیں ، اور آخرت میں بھی موجود ہوں گے ، پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اھداف کو درست کریں اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ، اس کے کلمہء توحید کی سر بلندی کے لیے ، اس کے دین کے نفاذ کے لیے ، اپنے اور اپنے ارد گرد ولواں کے دل و دماغ کو تیار کریں ، یوں چھوٹے چھوٹے سے گروہ ایک ہی عقیدے کے ساتھ ، ایک ہی ھدف حاصل کرنے کے لیے ، ایک ہی راہ پر ایک لشکر بن کر سامنے آجائیں گے ، یعنی ایک صالح معاشرہ تیار ہو جائے ، اور پھر اسی صالح معاشرے میں سے خود بخود صالح قیادت بھی ظاہر ہو گی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد سے اللہ کےکلمہ کی سر بلندی ہو گی اور اللہ کے دین کا نفاذ ہو گا ، اللہ کی سنت میں یہی طریقہ مقبول ہے ، اور جسے اللہ کے ہاں مقبولیت حاصل ہو اس کے فوائد کا اندازہ بھی محال ہے ، ایک عرصہ پہلے ایک پیغام """ یہاں """ ارسال کیا تھا ، اس کا مطالعہ بھی کیا جائے ، ان شاء اللہ فائدہ مند ہو گا ،
میری درخواست ہے کہ میرے اس پیغام کے ساتھ ساتھ اس پیغام کو بھی زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایے ، عین ممکن ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس دعوت کو ہمارے بہت سے بھائیوں اور بہنوں میں مثبت تبدیلی کا سبب بنا لے ، اور ہمیں وہ کچھ عطاء فرمانے کے اسباب میں بنا لے جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں ، جو ہمیں حاصل کرنا ہی چاہیے ، ان شاء اللہ ، اب اس میں مزید تاخیر نہیں کرنا چاہیے ، ہم بہت کچھ کھو چکے ہیں ، اور حق سے بہت دور ہو چکے ہیں ، مزید تاخیر مزید نقصانات اور دوری کا سبب ہی ہو گی ۔ اگر ہم لوگ کچھ دنیاوی مقاصد حاصل کرنے کے لیے """ انقلاب """ کے خواہاں ہیں تو اس سے کہیں سے زیادہ اللہ کا حق ہے کہ ہم اس کے کلمہ کی سر بلندی کے لیے ، اس کی توحید اور اس کے دین کے نفاذ کے لیے """ انقلاب """ بپا کریں ، کہ اس """ انقلاب """ کے نتائج میں دنیاوی فوائد اور سہولیات اللہ کی طرف سے اضافی کرم نوازی کے طور پر مل جاتے ہیں ۔ والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب Last edited by عادل سہیل; 18-03-11 at 08:36 PM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیرمحترم بھائی۔ بالکل درست فرمایاآپ نے اورجتنا ممکن ہوا اس پیغام کو آگے پہنچائیں گے انشااللہ تعالیٰ
سورۃ النحل میں ہے، "بے شک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کا"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والیہ وسلم نے بھی نوع انسان کواس حقیقت سے روشناس کرایا کہ دنیا میں امن و امان کا قیام اور ظلم و جبر کا خاتمہ عدل و احسان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سورۃ انفطارمیں ہے، "یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْأاً وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلَّهِ " ترجمہ: "جس روز کوئی نفس کسی دوسرے نفس کا بھلا نہ کر سکے گا، اس روز صرف اللہ کا حکم ہوگا"۔ اگرہم نے اس سنگ میل کو عبورکرناہے تو ہمیں بند مٹھی کی صورت منظم ہونا ہوگااوریہ سوچ کرقدم اُٹھاناہوگا کہ یہ حل وقتی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو بتا دیناہے کہ جب حکمران انصاف سے منہ موڑ لیں تو عوام کوانصاف لینا آتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والیہ وسلم نے فرمایا، " اے لوگو! تم سے پہلی قومیں اسی لئے ہلاک کر دی گئیں کہ ان میں جب کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو لوگ اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دیتے"۔ آگے ہم خود سمجھدار ہیں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ |
|
|
|
| زارا کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (18-03-11) |
![]() |
| Tags |
| color, ہے،, ہماری, کپڑے, کیلئے, کوئی, گا۔, پہلے, پہچان, وقت, ڈاکٹر, قیدی, قابل, مضبوط, افغان, ایسی, بھائی, حق, حساب, خاموشی, دنیا, ضرورت, طالبان, عافیہ, عبداللہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|