واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


خدا کے چہیتے کرکٹرز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-05-11, 11:36 AM   #1
خدا کے چہیتے کرکٹرز
یاسر عمران مرزا یاسر عمران مرزا آن لائن ہے 01-05-11, 11:36 AM

نوٹ‌:‌اگرچہ یہ تحریر کچھ دن پہلے پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ کپ سیمی فائنل کے موضوع پر ہے ۔ اور اب یہ معاملہ قدرے ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ تاہم میں اس تحریر میں موجود نقاط ضرور آپ تک پہنچانا چاہوں گا۔یہ تحریر پروفیسر محمد عقیل صاحب کے تزکیہ نفس پروگرام کا حصہ ہے۔

-------------------------------------------------------------------------------------

30 مارچ 2011 کو موہالی میں کرکٹ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا ۔ میچ سے قبل پوری پاکستانی قوم نے خوب دعائیں مانگیں۔ کچھ لوگ اسے کفر و اسلام کا مسئلہ سمجھنے لگے، کچھ یہ دعوٰی کرتے نظر آئے کہ کالی کے پجاریوں پر ایک تنہا خدا کے ماننے والوں کو فتح یقینی ہے۔ کہیں آیت کریمہ کا ورد ہوا تو کہیں کسی اور صورت میں کامیابی کی تمنا کی گئی۔لیکن ان تمام کےباوجود نتیجہ بتوں کو پوجنے والی قوم کے حق میں نکلا اور تنہا خدا کو ماننے والی قوم ہار گئی۔ اس شکست پر کئی سوالات نے جنم لیا۔ کیا خدا ہم سے ناراض ہے؟ کیا ہماری دعائوں میں اثر نہیں؟ کیا خدا کو ہمارے جذبات کا کوئی احساس نہیں؟شکست سے متعلق یہ تجزیہ غلط فہمی اورمفروضات کا نتیجہ ہے۔ان سب باتوں کے درست جواب کے لئے اللہ کے قوانین کو سمجھنا ضروری ہے۔


اس دنیا کے قوانین اللہ تعالیٰ نے اسباب و علل کے تحت بنائے ہیں مثال کے طور پر آگ کی تاثیر جلانا ہے ،زہر خوری ہلاکت کا باعث ہے وغیرہ۔ چونکہ یہ اسبا ب خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں لہٰذا وہ لوگوں کو ان قوانین کا پابند بناتا اور انکی عمومی خلاف ورزی پر انہیں سزا دیتا ہے۔البتہ اللہ ان اسباب کا پابند نہیں اور وہ جب چاہے آگ کو گلزار بنادیتا اور زہر خوری کے نتیجے کو روک سکتا ہے۔ لیکن وہ اختیار کے باوجود عام طور پر ایسا نہیں کرتا اور معاملات کو اسباب و علل کے تحت ہی ہونے دیتا اور لوگوں کو انکے مطابق عمل کی تاکید کرتا ہے۔


دوسری جانب دعا اور توکل کی حقیقت یہ ہے کہ تمام مہیا اسباب اور تدابیر پوری کرلینے کے بعداسی پر بھروسہ کیا جائے اور اسی سے مدد مانگی جائے تاکہ انسانی کوتاہی اور لغزش کو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے مکمل کردیں۔توکل کی ابتدا عمل سے ہوتی ہے بے عملی سے نہیں ۔ اسی فلسفے کی تعلیم نے ہمیشہ پیغمبروں نےدی ۔ مثال کے طور پر بدر میں جنگ لڑنے سے پہلے مشاورت کی گئی، میدان کا جائزہ لیا گیا، صف بندی کی گئی اور پھر ۳۱۳ مجاہدین کے ساتھ تمام ممکنہ اسباب مہیا کرنے کے بعد یہ دعا کی گئی کہ جو ہم کرسکتے تھے کرلیا ،اب آگے تو سنبھال لے۔اس کے بعد خدا کی نصرت فرشتوں کی صورت میں آپہنچی۔ دوسری جانب جب جنگ احد میں تیر اندازوں کے گروہ نے کمزوری دکھائی تو اس کا نتیجہ وقتی ہزیمت کی صورت میں نمودار ہوا۔ اسی طرح جنگ حنین میں بھی جب کچھ مسلمانوں میں تکبر آگیا تو صفوں میں ابتری پھیلنے لگی۔یہی صورتحال حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں جنگ جمل اور جنگ صفین کی صورت میں نمودار ہوئی جس کا سبب مسلمانوں کے داخلی انتشارتھا۔


بدقسمتی سے مسلمانوں کی قیادت نسیم حجازی اور اس طرح کے جذباتی ناول نویسوں اور لیڈروں کے ہاتھ آگئی جنہوں نے پوری قوم کا رشتہ اسباب اور حقیقت کی دنیا سے منقطع کرکے معجزوں اور جھوٹی امیدوں سے جوڑ دیا۔ کبھی انہوں نے بے تیغ لڑنے کی دعوت دی تو کبھی کشتیاں جلانے کو موضوع بنایا۔
کرکٹ میں ہماری شکست ایک بہت ہی معمولی موضوع سہی لیکن ہمارے قومی روئیے کو سمجھنے میں بہت معاون ہے۔ چھ کیچز چھوڑنے اور خراب بیٹنگ کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ جیت جائیں۔ بالکل اسی طرح ہم میں سے کچھ جذباتی لوگ کرپشن کے باوجود ترقی کرنا چاہتے،نااہل حکمرانی کے باوجود دنیا پر حکومت کے متمنی اور تعلیم و اخلاق میں پیچھے ہونے کے علی الرغم دنیا کو اخلاقیات کا درس دینے پر مصر ہیں ۔
کوئی شخص اگر جانتے بوجھتے زہر کھائے اور پھر خدا سے دعا کرے تو وہ درحققیت آزما رہا ہے کہ خدا کے بنائے ہوئے زہر میں زیادہ تاثیر ہے یا اسکی دعا میں۔ اسی طرح کوئی قوم اسباب و علل سے ماورا ہوکر فتح کی خواہش مندہے تو وہ چاہتی ہے کہ خدا میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئےاسے نواز دے۔خود کو خدا کا چہیتا سمجھنا خوش فہمی ہے اور خوش فہمی کی بنیاد پر فتح کی خواہش غلط فہمی۔ (پروفیسر محمد عقیل)


غور فرمائیے!

۱۔ توکل کے معاملے میں ہم لوگ اکثر کیا غلطی کرتے ہیں؟

۲۔ ہمارے ہاں کرکٹ کو جنگ کا میدان کیوں بنا دیا جاتا ہے اور اس معاملے میں اللہ تعالی سے یہ توقع کیوں رکھی جاتی ہے کہ وہ ہماری مدد کرے؟ ہم کھیل کو کھیل کیوں نہیں سمجھتے اور اس معاملے میں جذباتی کیوں ہو جاتے ہیں؟

۳۔ کرکٹ کے میدان میں شکست سے ہمیں عملی زندگی میں فتح حاصل کرنے کے لیے کیا سبق ملتا ہے؟
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com

 
یاسر عمران مرزا's Avatar
یاسر عمران مرزا
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,639
شکریہ: 9,608
4,225 مراسلہ میں 12,042 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 410
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (01-05-11), مرزا عامر (01-05-11), آبی ٹوکول (01-05-11), احمد نذیر (02-05-11)
پرانا 01-05-11, 12:16 PM   #2
Senior Member
مقبول
 
حنا خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مقام: Burewala
مراسلات: 183
کمائي: 3,517
شکریہ: 1
148 مراسلہ میں 415 بارشکریہ ادا کیا گیا
حنا خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی شئیرنگ ہے یاسر بھائی شکریہ
حنا خان آف لائن ہے   Reply With Quote
حنا خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 01-05-11, 12:34 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یا سر بھائی اگر اسباب کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ دعا کی بدولت اسباب بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں ۔ چاہے اسباب ہوں یا نا ہوں دعا ہر حال میں ضروری ہے ۔
لیکن جب امت مسلہ کی حالت ابتر ہو وہاں کرکٹ کی کامیابی کے لیئے ہاتھ اٹھانا بہت عجیب سا فعل ہے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
پرانا 01-05-11, 12:37 PM   #4
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,490
کمائي: 52,033
شکریہ: 5,850
3,212 مراسلہ میں 6,913 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
یا سر بھائی اگر اسباب کی ضرورت ہو تو اللہ تعالیٰ دعا کی بدولت اسباب بھی پیدا کر دیا کرتے ہیں ۔ چاہے اسباب ہوں یا نا ہوں دعا ہر حال میں ضروری ہے ۔
لیکن جب امت مسلہ کی حالت ابتر ہو وہاں کرکٹ کی کامیابی کے لیئے ہاتھ اٹھانا بہت عجیب سا فعل ہے ۔
گو کہ یہ پرانی بات ہوگئی ہے مگر۔۔۔ دل کو لگتی ہے
مکمل متفق ہوں آپ کی بات سے اس وت ہمارا دُکھ کُچھ اور تھا،، یہ کھیل کود ایک ثانوی چیز ہے۔
__________________
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
color, پاکستان, پاکستانی, لوگ, نظر, مکمل, ماورا, اللہ, اسلام, تحریر, تعلیم, جیت, جواب, خوش, خلاف, خدا, دعائیں, زندگی, شخص, عمومی, غور, غلط, غلطی, صف, صورتحال


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دل اور دماغ جیتنے والے لوگ ALI-OAD اسلام اور عصر حاضر 20 07-07-11 09:03 PM
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا خرم شہزاد خرم میر تقی میر 1 08-09-09 07:07 PM
ٌلوک گیت۔۔۔۔۔! شیراز احمد گپ شپ 2 24-02-09 08:05 AM
تمام شہر کو اپنے خلاف کر لیتے The Great شعر و شاعری 0 08-08-08 03:07 PM
مودریشن کی صلاحیت۔ ندیم رفیع Computer Certifications 3 28-12-07 06:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger