واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


خود کش حملے، ایک رخ یہ بھی ہے۔

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-08-08, 04:22 PM   #1
خود کش حملے، ایک رخ یہ بھی ہے۔
عبداللہ حیدر عبداللہ حیدر آف لائن ہے 27-08-08, 04:22 PM

مشرف ابھی نہیں گیا ,,,,قلم کمان …حامد میر روزنامہ جنگ 27 اگست 2008
مردان کے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول نمبر ایک کے کلاس روموں میں پناہ گزین باجوڑ کے مہاجرین یہ نہیں جانتے کہ آصف علی زرداری پاکستان کے آئندہ صدر مملکت ہوں گے۔ باجوڑ میں فوجی آپریشن کے بعد اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے والے ان معصوم اور بے گناہ قبائلیوں کو صرف یہ معلوم ہے کہ یکم ستمبر کو تعلیمی اداروں میں چھٹیاں ختم ہو جائیں گی اور جب چھٹیاں ختم ہوں گی تو یہ اسکول دوبارہ کھل جائے گا اور جب اسکول کھلے گا تو ان گیارہ مہاجرین کو کوئی نئی پناہ گاہ تلاش کرنی ہوگی۔ مردان کی انتظامیہ اور عام شہری ایک نہیں بلکہ دو مہاجر کیمپوں میں کم از کم تین ہزار مہاجر کی دیکھ بھال کر رہے ہیں اور کم از کم بیس ہزار مہاجرین کو مردان کے مختلف علاقوں میں مقامی آبادی نے اپنے طور پر عارضی پناہ دی ہے۔ باجوڑ سے ہجرت کرنے والوں کی کل تعداد تین لاکھ نفوس سے زیادہ ہے۔ اکثر مہاجرین نے لوئر دیر کے مہاجر کیمپوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ان مہاجرین کے مسائل جاننے کے لئے میں اسلام آباد سے روانہ ہوا تو پشاور میں مجھے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ ظفراللہ صاحب نے روک دیا اور بتایا کہ لوئر دیر تک پہنچنے کیلئے مجھے سوات کے علاقوں سے گزرنا ہوگا اور وہاں کرفیو ہے لہٰذا وہاں پہنچنا مشکل ہے۔ اس مشکل کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ چارسدہ، مردان اور نوشہرہ میں باجوڑ کے مہاجرین کیلئے قائم کیمپوں تک پہنچا جائے۔ چارسدہ کے ایک ایلیمنٹری کالج کی عمارت میں قائم مہاجر کیمپ میں مجھے چار معصوم بچے ملے۔ ان بچوں کے والدین بمباری میں مارے جا چکے تھے اور یہ رات کے اندھیرے میں اپنے ایک رشتہ دار کی مدد سے بمباری سے بچ نکلے۔ باجوڑ کے مہاجر کیمپوں میں ایسے درجنوں یتیم بچے پناہ گزین ہیں جن کی خاموش آنکھیں یہ سوال کرتی ہیں کہ ان کے والدین کو کس جرم کی پاداش میں موت کی نیند سلا دیا گیا؟
مردان کے ایک وسیع و عریض میدان میں مہاجرین کیلئے قائم خیمہ بستی میں مجھے چار لیڈی ہیلتھ ورکرز نظر آئیں جو بچوں اور خواتین کو مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے لگا رہی تھیں۔ ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے روتی آنکھوں اور بھرائی آواز میں مجھے کہا کہ اس مہاجر کیمپ میں چھ حاملہ خواتین ہیں جنہیں لیڈی ڈاکٹر کی ضرورت ہے، ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ خیموں میں پڑی ان نڈھال عورتوں کا کیا کریں کیونکہ ہمارے پاس تو صرف سر درد اور ملیریا کی گولیاں ہیں یا پھر ہیضے سے بچاؤ کے ٹیکے ہیں۔ نوشہرہ کے علاقے پیرپیائی میں بھی باجوڑ کے متاثرین کیلئے جی ٹی روڈ کے کنارے ایک خیمہ بستی قائم کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت اور مقامی آبادی اپنے ان بے گھر بھائی بہنوں کی دیکھ بھال کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن یہاں وسائل کی شدید کمی نظر آ رہی تھی۔ ان سب کیمپوں میں دن کو شدید گرمی اور حبس ہوتی ہے اور رات کو مچھروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ پھر بھوک، پیاس اور بے گھری کا غم ان مہاجرین کی تکلیف میں مزید اضافہ کردیتا ہے اور جب مجھ جیسا کوئی ان کی خبر گیری کیلئے ان مہاجر کیمپوں میں پہنچتا ہے تو یہ ایک ہی سوال کرتے ہیں کہ حکومت اور طالبان کی لڑائی میں ان کی قربانی کیوں دی جا رہی ہے پیر پیائی کے کیمپ میں ایک نوجوان مجھے کھینچ کر اپنے خیمے میں لے گیا۔ شام چار بجے کا وقت تھا لیکن خیمے میں گرمی اور حبس کے باعث صرف چند منٹوں میں میرا برا حال ہوگیا اور میں سوچنے لگا کہ صرف چند دنوں کے بعد رمضان المبارک شروع ہونے والا ہے اور باجوڑ کے تین لاکھ متاثرین یہ رمضان کیسے گزاریں گے؟
نوشہرہ، مردان اور چارسدہ میں باجوڑ کے بہت سے متاثرین کے ساتھ میری کھل کر بحث ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے مصائب کا ذمہ دار طالبان کو نہیں سمجھتے؟ بہت کم مہاجرین طالبان کے خلاف بولنے کیلئے تیار تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے انہیں پولیٹیکل انتظامیہ کے ظلم و ستم سے نجات دلا کر فوری ازالے کی سہولت فراہم کی۔ کچھ مہاجرین نے طالبان اور سیکورٹی فورسز دونوں پر تنقید کی اور ایک باریش نوجوان نے بڑے غصے سے کہا کہ باجوڑ میں آپریشن ایک دھوکا ہے، حکومت کا نشانہ طالبان نہیں بلکہ بے گناہ مقامی آبادی ہے اور طالبان کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ باجوڑ کے ایک مدرسے کے استاد سے میں نے پوچھا کہ طالبان کی طرف سے خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی جا رہی ہے تو آپ ان کی مذمت کیوں نہیں کرتے، استاد نے فوراً پاکستان کے اندر خودکش حملوں کی مذمت کی لیکن دوسرے ہی لمحے سوال کیا کہ تین چار سال پہلے خودکش حملے نہیں ہوتے تھے اب کیوں ہوتے ہیں؟ اس نے پوچھا کہ ہمارے علاقوں میں پرویز مشرف کے دور میں آپریشن شروع ہوئے لیکن آج تک طالبان اور القاعدہ کا کوئی لیڈر قبائلی علاقوں سے کیوں نہ پکڑا گیا؟ خالد شیخ محمد راولپنڈی، ابوزبیدہ فیصل آباد، رمزی بن الشبیہہ کراچی اور ابو فراج البی مردان سے پکڑا گیا۔ ان شہروں میں آپریشن کیوں نہیں ہوا؟ استاد نے پوچھا کہ پرویز مشرف صدارت کے عہدے سے ہٹ چکا ہے لیکن ہمارے علاقوں پر بمباری بدستور جاری ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف ایک چہرہ بدلا گیا ہے لیکن پالیسی نہیں بدلی گئی میرے پاس استاد کے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔
پیر پیائی کے کیمپ سے نکلتے ہوئے باجوڑ کے علاقے سالار زئی کے ایک طالب علم نے مجھے روک لیا۔ اس نے کہا کہ ہمارے علاقے پر بمباری اس لئے ہوتی ہے کہ طالبان ملک کا قانون توڑتے ہیں، ٹھیک ہے بمباری جاری رکھو لیکن پرویز مشرف نے اس ملک کا آئین توڑا اسے سزا کیوں نہیں دیتے؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا لہٰذا میں نے بچ نکلنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ لیا اور کہا کہ میں دسویں جماعت میں پڑھتا ہوں، اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہوں لیکن نظر یہی آتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، پھر میرے پاس طالبان میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا اور پھر مجھے بھی دہشت گرد کہا جائے گا، میں حکومت کو دہشت گرد کہوں گا اور ظاہر ہے پھر ہم دونوں میں سے کوئی ایک رہے گا، اس سے پہلے کہ میں بھی دہشت گرد بن جاؤں میرے علاقے میں امن قائم کردو تاکہ میں اسکول جاؤں، طالبان کے پاس نہ جاؤں۔ اس نوجوان سے جان چھڑا کر میں اپنی گاڑی تک پہنچا تو ایک بزرگ نے روک لیا۔ یہ بزرگ باجوڑ اسکاؤٹس کا ریٹائرڈ صوبیدار تھا۔ اس نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے اس کا بیٹا اور دو پوتیاں بمباری میں مارے گئے، بہو زخمی ہوگئی اور ایک رشتہ دار اسے ٹریکٹر پر بٹھا کر اس کیمپ میں لے آیا۔ وہ 16 اگست کو اس کیمپ میں آیا اور 18 اگست کو اسے پتہ چلا کہ پرویز مشرف کی حکومت ختم ہوگئی۔ اسے یقین تھا کہ پرویز مشرف کے جانے کے بعد اس کے علاقے میں امن قائم ہو جائے گا اور وہ اپنے بیٹے اور پوتیوں کی قبروں پر فاتحہ پڑھ سکے گا لیکن ابھی تک امن قائم نہیں ہوا۔ بزرگ نے مجھے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ ”بیٹا لگتا ہے کہ مشرف ابھی نہیں گیا وہ کب جائے گا

 
عبداللہ حیدر's Avatar
عبداللہ حیدر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 392
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-03-10), پیاسا (27-08-08), تفسیر حیدر (27-08-08), عارف اقبال (26-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10)
پرانا 27-08-08, 05:27 PM   #2
Senior Member
 
تفسیر حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,792
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: خود کش حملے، ایک رخ یہ بھی ہے۔

کافی دیر سے اخبار میرے سامنے پڑا ہے اور میں اسے پڑھنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔ ابھی پڑھتا ہوں یہ کالم ، یہاں پڑھنے کا وہ مزا تو نہیں نا۔
تفسیر حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-03-10, 06:01 PM   #3
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,336
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مشرف گیا نہیں، صرف چہرہ بدلا ہے۔ پالیسیاں وہی پرانی ہیں۔
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-03-10, 11:12 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بدلنا ہے تو مے بدلو نظام مے کشی بدلو
وگرنہ ساگر و مینا بدل جانے سے کیا ہوگا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, کراچی, پاکستان, نیند, نظر, موت, ملیریا, مسائل, معلوم, آپریشن, آبادی, آج, انتظامیہ, اسلام, بچوں, تلاش, جرم, خواتین, خودکش, رمضان, راستہ, زرداری, طالبان, علی, صدارت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
پی پی پی اب زرداری پارٹی ہے اسے بھٹو کا نام استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں فیصل ناصر خبریں 2 01-12-10 08:35 AM
جعلی ڈگری ریس میں ن لیگ اول۔ پی پی پی دوسرے۔ق لیگ تیسرے نمبر پر جاویداسد خبریں 1 18-07-10 04:59 PM
جیکب آباد : پی ایس 15 سے پی پی پی کے میر حسن کھوسہ کامیاب عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:03 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger