واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


دل اور دماغ جیتنے والے لوگ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-03-11, 10:09 PM   #1
دل اور دماغ جیتنے والے لوگ
ALI-OAD ALI-OAD آف لائن ہے 21-03-11, 10:09 PM

کیسے کیسے سوال ہیں جو لوگوں کی اس رائے کے بعد پوچھے گئے جس میں اس ملک کی اکثریت نے اپنے مسائل کا حل خلافت میں بتایا۔ کسی نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا یہ قوم ترقی نہیں کر سکتی جو آج بھی چودہ سو سال پرانے خوابوں میں زندہ ہو۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ کتنی صدیاں گزر چکی ہیں، کوئی تاریخ کے قصے لے بیٹھا، دیکھو یہ لوگ کیسی بے خبری میں زندہ ہیں۔ انہیں علم ہی نہیں کہ یہ جس خلافت راشدہ کے خواب دیکھتے ہیں، اس میں صرف پہلا خلیفہ طبعی موت سے ہمکنار ہوا، دو کو مسجد میں شہید کیا گیا اور ایک کو اس کے گھر میں، آخری خلیفہ کے دور میں تو مسلمان آپس میں دست و گریبان ہو گئے تھے۔ کشت و خون کا بازار گرام ہو گیا تھا۔ دو جنگیں تو بہت شدید تھیں۔ ہزاروں مسلمان ایک دوسرے کے ہاتھوں جاں دے گئے۔ پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ خلافت میں ان کے مسائل کا حل ہے۔ انہیں علم ہی نہیں کہ دنیا کتنی ترقی کر چکی ہے۔ طرز حکمرانی کے نئے نئے طریقے ایجاد ہو چکے ہیں۔ انسانوں نے کیسے کیسے ادارے قائم کر لئے۔ حکومتوں کے وسیع سیکرٹریٹ ہوتے ہیں۔ ایک منظم بیورو کریسی ہوتی ہے۔ حکومت چلانے کے لئے مقامی سطح تک ڈھانچہ ہوتا ہے۔ معیشت کا ایک گورکھ دھندا ہے جس میں کرنسی، بینکاری، بجٹ، زرمبادلہ اور کئی ایسے معاملات ہیں جن میں خلافت کے زمانے کی سادگی نہیں چلتی بلکہ ایک مخصوص علم میں مہارت درکار ہوتی ہے۔ قانون کا علم بھی تو اب سائنس کا درجہ حاصل کر چکا ہے، عدالتیں ہیں، قوانین ہیں، ان قوانین کی بنیاد پر کیس لاء ہے جو ایک عالمی علم بن چکا ہے، فوج ہے، سرحدیں ہیں، دفاعی نظام ہے، تعلیم اور صحت کے پیشہ ورانہ ادارے ہیں۔ یہ سب ایک جدید ترین علم بن چکا ہے۔ اب کہاں وہ صدیوں پرانا سادہ سا معاشرہ اور کہاں آج کے الجھے ہوئے مسائل، کوئی ان لوگوں کو سمجھائے، ماضی میں الجھے رہنے سے ان کے مسائل حل نہیں ہوں گے، وقت کے ساتھ ترقی کرنا سیکھیں۔ کچھ دردمند ایسے بھی تھے جو خلافت راشدہ کے حق میں رائے دیکھ کر خوش ہوئے لیکن پھر تشکیک کا شکار ہوتے ہوئے سوال کرنے لگے کہ اس نظام کو آج کی دنیا میں کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟
میرے یہ عظیم دانشور اور پڑھے لکھے لوگ بھی عجیب ہیں۔ دنیا بھر کے نظاموں کا تذکرہ کریں گے تو اس کے سسٹم، قانون اور لوگوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ پیش کریں گے۔ شہری ریاستوں والے یونان کا ذکر ہو گا تو وہاں رائج جمہوری اقدار کو فخر سے بیان کریں گے لیکن سقراط کے زہر کے پیالے سے موت اور جرنیل لیڈر کے مظالم کا ذکر نہیں کریں گے۔ ریاستوں کی آپس میں جنگوں اور ایک عورت ہیلن کے بدلے ٹرائے کے قتل عام کو الگ رکھ دیں گے اور یونان کی جمہوریت کو دنیا بھر کی جمہوریتوں کی ماں بتائیں گے اور اسے ایک آئیڈیل کے طور پر پیش کریں گے۔ روم کے سینٹ اور اس میں جمہوری بحث و مباحثہ کو پارلیمنٹ کی بنیاد بتائیں گے لیکن نہ تو مفتوحہ علاقوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا تذکرہ کریں گے اور نہ رومن کھیلوں میں بھوکے درندوں کے سامنے مضبوط جسم والے غلاموں کو پھینکنے کی بات سامنے لائیں گے۔ نوشیرواں کے عدل کے قصے سنائیں گے لیکن کوئی گلا پھاڑ کر یہ نہیں کہے گا کہ کس نوشیرواں کی بات کرتے ہو جو اپنے سو کے قریب بھائیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر بادشاہ بنا تھا۔ اشوک کے نظام کی ایک ایک تفصیل کتابوں میں درج کریں گے۔ اس کے جانوروں پر ظلم کے خلاف بنائے گئے قوانین کو سراہیں گے، اس کے چٹانوں پر کنندہ عدل اور انصاف کے اصولوں کو رہنما اصول بتائیں گے لیکن کوئی یہ نہیں کہے گا کہ اس نے کلنگا کی جنگ میں دس لاکھ لوگوں کو قتل کیا تھا۔ امریکہ کے آئین، اس کی جمہوریت اور اس کے سات بابائے قوم کے اصولوں پر قائم حکومتی ڈھانچے کا ذکر کریں گے لیکن اس جمہوریت کے تحت جنوبی ریاستوں میں غلاموں سے بدترین سلوک اور پھر ابراہیم لنکن کی ان کے خلاف جنگ کو الگ رکھ دیں گے۔ یہ سب لوگ خلافت راشدہ میں دیئے گئے اصولوں اور طرز حکمرانی کا تذکرہ نہیں کرتے بلکہ انہیں خلفاء کی شہادت اور جنگ جمل اور جنگ صفیں کے چند مہینے یاد رہ جاتے ہیں اور وہ یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ یہ کوئی نافذ العمل نظام نہیں جس میں خونریزی ہی خونریزی ہو۔ اگر خونریزی ہی کسی نظام کی ناکامی کی وجہ ہے تو دنیا میں جمہوریت اپنی موجودہ شکل میں 1900ء کے بعد آئی جب ریاست سے مذہب کو علیحدہ کر دیا گیا۔ انہی جمہوری حکومتوں نے رنگ، نسل اور علاقے کی بنیاد پر دو عظیم جنگیں لڑیں اور کروڑوں لوگوں کا خون بہایا۔ ہٹلر، چرچل اور روزویلٹ تینوں اپنے ملکوں میں بھاری اکثریت سے جیتے تھے۔ لیکن کوئی ان درندہ صفت انسانوں کی وجہ سے جمہوری نظام کو گالی نہیں دیتا، کوئی اسے ناقابل عمل نہیں سمجھتا۔
خلافت راشدہ نے جو نظام اس دنیا کو عطا کیا وہ دراصل اللہ کی آخری الہامی کتاب قرآن پاک کے اصول حکمرانی کے مطابق تھا جسے ایک دستور کی حیثیت حاصل تھی۔ دنیا بھر کے ملکوں کے دستور اٹھا کر دیکھ لیجئے، ان میں اصول حکمرانی بتائے جاتے ہیں، حقوق کا تعین کیا جاتا ہے، ذمہ داریوں کی تفصیل بتائی جاتی ہے۔ لیکن ان تمام اصولوں پر ایک مفصل طرز حکمرانی اور طریق کار کا تعین وہ لوگ کرتے ہیں جو حکومت پر فائز ہوتے ہیں۔ آیئے اس کسوٹی پر خلافت راشدہ کو پرکھ کر دیکھیں۔ دنیا بھر میں ان سے پہلے بھی اور ان کے دور میں بھی بڑے ممالک میں ایک مضبوط بیورو کریسی اور افسران کی فوج ظفر موج جو حکومت چلاتی تھی چین، ایران اور روم کی حکومتوں سب میں ایک عظیم الشان انتظامیہ تھی۔ عام ضلعی حکمران سے لے کر وزرائے اعظم تک۔ لیکن دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں یہ خلفاء وہ واحد حکمران تھے جنہوں نے کسی بھی قسم کی بیورو کریسی، سیکرٹریٹ اور وزارتوں کے بغیر ایران اور روم کی دو بڑی سلطنتوں کو فتح کیا اور ان کا نظام بھی چلایا۔ یہ دنیا میں اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم (Devolution کا پہلا اور سب سے بڑا تجربہ تھا۔ اس لئے کہ بصرہ، یمن، مصر یا کسی اور جگہ کا حاکم ابو بکر یا عمر کو نہیں بلکہ اللہ کو جوابدہ ہوتا تھا۔ خلفائے راشدین سے پہلے تاریخ میں عدلیہ کی بالادستی کی کوئی بھی مثال نہیں ملتی۔ لوگ بادشاہوں ہی سے اپنے فیصلے کرواتے تھے لیکن خلفائے راشدین نے ہر علاقائی حاکم کے اوپر ایک قاضی مقرر کیا جو یہ دیکھے کہ یہ گورنر یا حاکم کہیں بے انصافی تو نہیں کر رہا۔ پھر مرکزی سطح پر قاضی القضاۃ جس کی عدالت میں حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ بھی پیش ہوئے تھے۔ اس خلافت سے پہلے دنیا نے کبھی بھی سوشل سکیورٹی کا یہ تصور نہیں دیکھا تھا کہ بچہ کے پیدا ہونے سے دودھ چھوڑنے تک وظیفہ مقرر کیا جائے۔ آج بھی مغرب میں اسے عمر لاء کے نام سے نافذ کیا گیا ہے۔ زمین کے بارے میں حق ملکیت اور اس پر مزارعت سے ممانعت کے قانون بھی پہلی دفعہ اسی دور میں آئے اور الارض للہ یعنی زمین اللہ کی ملکیت ہے، کا تصور پیش ہوا۔ اسی لئے دجلہ و فرات فتح ہونے کے باوجود کوئی جاگیردارنہ بنا اور نہ کسی فوجی جرنیل کو زمینیں الاٹ ہوئیں۔
میں ایک ایک تفصیل بیان کر سکتا ہوں، یہ ایک ایسا نظام تھا جس میں نہ کوئی سرخ فیتے والی بیوروکریسی تھی اور نہ وزیروں کی فوج ظفر موج۔ خلافت کے اس نظام کی یہ اصلاحات جو اس نے دنیا میں پہلی دفعہ متعارف کروائیں۔ آج دنیا بھر کی حکومتوں میں مشعل راہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں ان خلفاء کا کمال نہیں تھا بلکہ یہ سب میرے اللہ کے دیئے گئے اصول حکمرانی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں خلفائے راشدین نے نظام حکومت چلایا وہاں لوگ اپنی ثقافت، تہذیب، اقدار اور روایات حتیٰ کہ اپنی مادری زبان تک بھول کر اسلام کے رنگ میں رنگ گئے۔ عراق، شام، لبنان، اردن، مصر، لیبیا، تیونس، مراکش، سوڈان ان تمام ممالک میں کبھی عربی نہیں بولی جاتی تھی لیکن آج یہ سب عرب دنیا کہلاتے ہیں۔ ان سے پوچھو ان کے آبائواجداد کی زبان کیا تھی؟ ثقافت کیا تھی؟ تہذیب کیا تھی؟ انہیں یاد تک نہ ہو گا۔ وہ صرف عرب ہیں اور مسلمان ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی فاتح قوم ایسی مثال دے سکتی ہے جہاں زمینیں نہیں، دل بھی فتح ہو گئے ہوں۔
(بشکریہ، ایکسپریس 12-03-11)

کالم نگار ۔۔۔ اوریا مقبول جان
والسلام علی اوڈراجپوت
ali-oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1266
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
skjatala (08-07-11), فیصل ناصر (22-03-11), ھارون اعظم (21-03-11), نیلم خان (07-07-11), محمدمبشرعلی (22-03-11), مرزا عامر (29-04-11), آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (21-03-11), رضی (29-04-11), سحر (29-04-11), عبداللہ آدم (23-03-11), عدنان دانی (22-03-11)
پرانا 21-03-11, 11:59 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یار معذرت کے ساتھ ۔ ۔ ۔ لیکن خلافت کا کانسیپٹ مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکا۔ کہ خلافت کا نظام آنے کے بعد ہم کیسے تبدیل ہو جائیں گے۔
میں نے اس فورم پر بھی بہت سوں کو خلافت خلافت چلاتے اور اسکے فوائد بیان کرتے پڑھا ہے ، انکو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ ۔ ۔ لیکن میں نہیں سمجھ پایا کہ خلافت کا نظام پاکستان کے دل در کیسے دور کر دے گا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (29-04-11), آبی ٹوکول (29-04-11), رضی (29-04-11)
پرانا 22-03-11, 12:29 AM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ضروري تو نہيں كہ جو چيز ہماري سمجھ داني سے بڑي ہو تو وہ درست نہ ہو۔۔۔ كسي چيز كے درست ہونےكے لئے اس كاہماري سمجھ داني كے مطابق ہونا ضروري ہونےكا اصول مجھے آج تك دنيا ميں كہيں نظر نہيں آيا۔۔۔۔۔ جس طرح آپ كو خلافت سمجھ نہيں آئي يا سمجھائي نہيں‌گئي ٹھيك اسي طرح مجھے اكيسويں صدي كہ يہ سوہني جمہوريت حلق سے نہيں اترتي۔۔۔۔ بلكہ ميں۔۔۔۔ دل كي گہرائيوں سے ملي تباہي كا عنصر اس سہوہني جمہوريت اور اس كي ناجائز اولاد ميڈيا كو سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حيدر بھائي ہر شخص كسي نہ كسي چيز كے خلاف ہوتا ہے اور كسي نہ كسي چيز كا حامي ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ليكن ہمارے ايك استاد ايك نرالي چيز كے خلاف تھے۔۔۔۔ اور ہميں ان كي يہ مخالفت حلق سے نہ اترتي تھي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سڑك كےخلاف تھے۔۔۔۔۔۔ كہا كرتے تھے كہ يہ كو اپنے علاقے ميں‌پہنچنے سے روكو۔۔۔۔ اگر آ‌گئي ہے تو اس كو نكال دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يہ جہاں جہاں‌گئي ہے اپنے ساتھ خرافات لائي ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ليكن وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ ميں ان كي بات سے متفق ہوتا چلا گيا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعي سڑك كا ہماري تبديلي ميں بہت بڑا ہاتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔

اللہ سڑك سميت تمام فتنوں سےمحفوظ ركھے۔ آمين۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
skjatala (29-04-11), آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (22-03-11), سحر (29-04-11)
پرانا 22-03-11, 12:42 AM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
حيدر بھائي ہر شخص كسي نہ كسي چيز كے خلاف ہوتا ہے اور كسي نہ كسي چيز كا حامي ہوتا ہے
مزے کی بات ہے کہ میں خلافت کا حآمی ہوں ۔ ۔ ۔ پھر بھی مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ خلافت کس طرح ہمارے مسائل حل کرے گی۔
اگر آپ اس موضوع پر میرے مراسلے پڑھے ہوتے تو خوب جانتے کہ میں کہنا کیا چاہ رہا ہوں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (29-04-11), آبی ٹوکول (29-04-11), رضی (29-04-11), سحر (29-04-11)
پرانا 22-03-11, 01:01 AM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہيں بھائي ميں نے وہ مراسلات نہيں‌پڑھے ميں۔۔۔۔۔۔۔ليكن ميں سمجھ رہا ہوں كہ آپ كياكہنا چاہ رہے ہيں۔۔۔ اور يہ سوال ميرے خيال ميں صرف آپ كا ہي نہيں ہر اس فرد كے ذہن ميں آتا ہے جس كے ذہن ميں‌خلافت راشدہ كا مثالي دور حكومت كا خاكہ اور آج كے مسلمان كے گھمبير مسائل ہيں۔

ميں ايسے مواقع پر صرف اتنا ہي كہنا كافي سمجھتا ہوں كہ منزل كے راستے كے كانٹوں اور خطرات كے‌خوف سے منزل كي طرف سفر ہي شروع نہ كرنا ہوش مندي نہيں ہے۔۔۔۔ جب سفر شروع ہو گا تو رفتہ رفتہ اللہ نے چاہا تو روكاوٹيں بھي دور ہوتي چلي جائيں‌گي۔۔۔‌اور جس طرح يہ مسائل ہمارے ہاں ايك دم سے نہيں آئے ہيں اسي طرح يہ ايك دم رات كو خلافت كے اعلان كے ساتھ ختم بھي نہيں ہوں‌گے۔۔۔۔ اصلاح كي گنجائش بہر حال ہر وقت ہوتي ہے اور ہوني بھي چاہے۔۔۔۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (29-04-11), سحر (29-04-11)
پرانا 22-03-11, 10:56 AM   #6
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,847
کمائي: 277,996
شکریہ: 1,151
6,262 مراسلہ میں 14,130 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

اچھا ارٹیکل ہے محترم علی بھائی۔

صرف خلافت ہی مسئال کا حل نہیں ہے۔ اس کیلئے ایک بہترلائحہ عمل کی ضرورت ہو گی۔ کوئی تبدیلی راتوں رات رُونمانہیں ہوتی لہذٰا کسی بھی مسئلے کو راتوں رات ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسکے لئے خلافت کیساتھ عزم، حوصلے اورصبرو تحمل کی ضرورت ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خلافت کا فریضہ انجام کون دے؟ اگراسکا تعین ہو جائے تو باقی ماندہ کا تعین خودبخودہوجائے گا۔ اُمید پر دُنیا قائم ہے لہذٰا ہمیں ہر وقت بہتری کی اُمید رکھنی چاہئے۔ بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ شکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (29-04-11)
پرانا 23-03-11, 01:40 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خلافت بنیاد کو درست کرے گی............

حاکمیت کی بنیاد اور مرجع!!! اس کے بعد وہ باقی سب کچھ کو ویسا یہ نہیں چھوڑ دے گی بلکہ کرپشن اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اس کی فرائض میں اسی طرح شامل ہوں گے.............

کج سمجھ ائی کہ اگلی وی گئی؟؟
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (29-04-11), سحر (29-04-11)
پرانا 23-03-11, 02:54 PM   #8
Senior Member
 
موجو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 422
کمائي: 9,482
شکریہ: 1,624
312 مراسلہ میں 916 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
اللہ رب العزت ہمیں توفیق دیں ہم خلافت کی جدوجہد میں کامیاب ہوں میں مگر خلیفہ کیسے چنا جائے گا؟
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو(
موجو آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے موجو کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 12:04 AM   #9
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,887
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم!
کیا ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کل کے دور کے لئے خلافت کی کوئی پیش گوئی کی ہے ؟
اور اگر کی ہے تو ہمارا ایمان ہونا چاہئے کہ وہ ضرور پوری ہوگی۔ کیسے ہو گی؟ اللہ تعالی مسبب الاسباب ہے۔
اور خلافتِ راشدہ ؟ نہیں خلافت نبوّت، اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلافتِ نبوت کے آخری خلیفہ تھے۔ صحیح حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ میرے بعد خلافت نبوت 30 سال ہے، اس کے بعد اللہ اپنا ملک اپنی بادشاہی جس کو چاہے گا اس کو دے گا۔30 سال حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے 6 ماہ کی خلافت تک بنتے ہیں۔ مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات کیونکہ مولوی کی دوکانداری میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتی وہ اکثر گول کر جاتا ہے۔ اٹھائیے خود کوئی مستند تاریخ اسلام کی کتاب اور تھوڑا سا پاک نیٹ کے وقت سے وقت نکال کر اس کا مطالعہ کیجئے۔ انشاءاللہ حقیقت واضع ہو جائے گی۔ میں خود بھی اپنی 40، 45 سال کی عمر میں یہ پہلی دفعہ سن کر حیران ہو گیا تھا۔ جزاک اللہ خیرا
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

Last edited by skjatala; 29-04-11 at 12:07 AM.
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 10:44 AM   #10
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : skjatala مراسلہ دیکھیں
اسلام علیکم!
کیا ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج کل کے دور کے لئے خلافت کی کوئی پیش گوئی کی ہے ؟
اور اگر کی ہے تو ہمارا ایمان ہونا چاہئے کہ وہ ضرور پوری ہوگی۔ کیسے ہو گی؟ اللہ تعالی مسبب الاسباب ہے۔
اور خلافتِ راشدہ ؟ نہیں خلافت نبوّت، اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلافتِ نبوت کے آخری خلیفہ تھے۔ صحیح حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ میرے بعد خلافت نبوت 30 سال ہے، اس کے بعد اللہ اپنا ملک اپنی بادشاہی جس کو چاہے گا اس کو دے گا۔30 سال حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے 6 ماہ کی خلافت تک بنتے ہیں۔ مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات کیونکہ مولوی کی دوکانداری میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتی وہ اکثر گول کر جاتا ہے۔ اٹھائیے خود کوئی مستند تاریخ اسلام کی کتاب اور تھوڑا سا پاک نیٹ کے وقت سے وقت نکال کر اس کا مطالعہ کیجئے۔ انشاءاللہ حقیقت واضع ہو جائے گی۔ میں خود بھی اپنی 40، 45 سال کی عمر میں یہ پہلی دفعہ سن کر حیران ہو گیا تھا۔ جزاک اللہ خیرا
آپ نے پوری حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بیان نہیں کی ہے
یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم فورنم پر بیان ہوچکی ہے
اس کا مفہوم کچھ یوں ہے
خلافت علیٰ منہاج نبوۃ کے بعد ملوکیت کا دور ہوگا
آور آخر میں قیامت سے پہلے دوبارہ خلافت علیٰ منہاج نبوۃ کا دور آئے گا انشاءاللہ واللہ عالم
یہ حدیث کے بیچ کا حصہ مجھے یاد نہیں کوئی اور ممبر اس کو ریفرنس کے ساتھ یہاں لکھ دے ۔

اصل میں خلافت کی جدوجہد اسی حدیث کی وجہ سے ہمیں کرنی چاہیے ۔
کہ اللہ کے اذن سے اس فتنوں کے دور کے بعد خلافت علیٰ منہاج نبوۃ قائم ہوگی انشاءاللہ
ہمارا کام خلوص نیت کے ساتھ کوشش کرنا ہے ۔ہم کو راستہ دکھانا اور کامیاب کرنا اللہ کا کام ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (29-04-11), حیدر (29-04-11), راجہ اکرام (29-04-11), رضی (29-04-11), شمشاد احمد (29-04-11), عبداللہ حیدر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 02:16 PM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خلافۃ علی منہاج النبوۃ سے کیا مراد ہے؟
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (29-04-11), طاھر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 02:49 PM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
خلافت بنیاد کو درست کرے گی............

حاکمیت کی بنیاد اور مرجع!!! اس کے بعد وہ باقی سب کچھ کو ویسا یہ نہیں چھوڑ دے گی بلکہ کرپشن اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی اس کی فرائض میں اسی طرح شامل ہوں گے.............

کج سمجھ ائی کہ اگلی وی گئی؟؟
کاکے ۔۔۔یہی تو میرا ہر مرتبہ پوچھنا ہوتا ہے کہ "بنیاد" کو کس طرح درست کر دے گی۔ مجھے اب تک تشفی بخش جواب نہیں ملا۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 02:56 PM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

یہ آجکل نہیں ہونا قیامت سے پہلے کا لکھا ہوا ھے،
اس وقت یہ تمام ایٹمی طاقتیں سپر پاوریں بھی ختم ہونگی اور ویسا ہی دور آئے گا جیسا 14 سو سال پہلے تھا۔ کسی کا بیان سنا تھا۔

واللہ اعلم
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (29-04-11), حیدر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 03:07 PM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,600
کمائي: 172,487
شکریہ: 8,802
5,783 مراسلہ میں 21,386 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
کیا یاد دلادیا کنعان بھائی آپ نے بھی
سحر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (29-04-11), حیدر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 04:33 PM   #15
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,048
شکریہ: 4,379
1,823 مراسلہ میں 6,813 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : skjatala مراسلہ دیکھیں
۔30 سال حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے 6 ماہ کی خلافت تک بنتے ہیں۔ مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات کیونکہ مولوی کی دوکانداری میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتی وہ اکثر گول کر جاتا ہے۔
جملہ معترضہ !
خلافت راشدہ کی اصل معیاد کا حضرت حسن رضی اللہ عنہ پر منتج ہونے کی بات کو چھپانا مولوی کو کیا فائدہ دے سکتا ہے کہ وہ اس کو گول کرجاتا ہے یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی قبلہ؟
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (29-04-11)
جواب

Tags
کمال, کتابوں, پاک, لوگ, موت, موجودہ, ماں, متعارف, مسائل, مسائل،, مسجد, مشعل, معاشرہ, ایران, اللہ, انتظامیہ, امریکہ, اسلام, تعلیم, خون, دیکھو, سائنس, عورت, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اللہ پاک کی خوب و خُشیت۔ kutkutariyaan اپکے کالم 7 29-12-10 11:56 AM
نیلم کو بلا مقابلہ جیتنے پر مبارک ہو ایس اے نقوی آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 15 30-12-09 10:56 PM
تمام شہر کو اپنے خلاف کر لیتے The Great شعر و شاعری 0 08-08-08 03:07 PM
شاھ کا ایک بیت۔ عاشق چانگ شعر و شاعری 0 12-03-08 03:19 PM
مودریشن کی صلاحیت۔ ندیم رفیع Computer Certifications 3 28-12-07 06:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger