واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


دین اور دُنیا : تعلیمی میدان میں الگ الگ کیوں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-10-08, 05:45 AM   #1
دین اور دُنیا : تعلیمی میدان میں الگ الگ کیوں؟
فاروق سرورخان فاروق سرورخان آف لائن ہے 27-10-08, 05:45 AM

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
1۔ سب سے پہلے تو "تنگ نظر ملا" اور "ترقی کے مخالف مُلا" کی سوچ معاشرے میں پیدا کی گئی تاکہ وہ لوگ جو دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی مکمل واقفیت نہیں رکھتے اُنہیں آہستہ آہستہ دین کی بنیادوں سے دور کیا جائے اپنے مرکز سے دور کیا جائے تاکہ باآسانی شکار ہو جائے۔
مؤدبانہ سوال، سوچئیے کہ

1۔ کیا ملا مدرسہ کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ دیگر مضامین بھی پڑھائے ۔ اسی طرح ملا کے لئے یہ کیوں‌مشکل ہے کہ وہ دینی علوم کے علاوہ وہ سب علوم بھی سیکھے جو پہلی سے بارہویں جماعت کا ہر طالب علم سیکھتا ہے۔

2۔ اگر مکمل قرآن، امامت اور اذان دینا پہلی سے بارہویں جماعت کے دوران پڑھایا جائے تو ملا مدرسہ کی اجارہ داری ختم ہونے کے علاوہ کیا کوئی نقصان ہوگا؟ اس کلاس کے لئے ابتداء‌میں‌ملا بھی رکھے جاسکتے ہیں۔

3۔ اعلی علوم احادیث، فقہ، قانون اعلی جماعتوں کے لئے مختص‌کئے جائیں کہ جو لوگ اس کی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہیں وہ اس کو انتخابی بنیاد پر پڑھ سکیں۔

والسلام

فاروق سرورخان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 345
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد (27-10-08)
پرانا 27-10-08, 11:38 AM   #2
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,182
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: جواب: جواب: تحفۂ غامدی ۔ ۔ ۔ ایک نئے فتنے کا احوال

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مؤدبانہ سوال، سوچئیے کہ

1۔ کیا ملا مدرسہ کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ دیگر مضامین بھی پڑھائے ۔ اسی طرح ملا کے لئے یہ کیوں‌مشکل ہے کہ وہ دینی علوم کے علاوہ وہ سب علوم بھی سیکھے جو پہلی سے بارہویں جماعت کا ہر طالب علم سیکھتا ہے۔
مؤدبانہ جوابی سوال

کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک موچی اور دودھ والا ضروری علم حاصل کر لے کہ بوقت ضرورت دل کی بیماریوں کے بارے میں نہ صرف اظہار خیال کرسکے بلکہ اس کی دی گئی تجویز کو عوام قبول بھی کرلیں اور اس پر خلوص دل سے عمل کر لیں؟

کیا یہ ممکن نہیں کہ کسی الیکٹریکل انجینئر کو لازم قرار دیا جائے کہ وہ دل کی بیماریوں اور اس کے سد باب کے ضروری علوم بھی حاصل کر لیا کرے کیونکہ یہ معاشرے کی ایک ضرورت ہے کسی بھی وقت بنی نوع انسان کو اسکی ضرورت پڑسکتی ہے؟

کیا یہ ممکن نہیں کہ کسی ماسٹرز آف کمپیوٹر سائنسز یا کسی جاوا ایکسپرٹ کے لئے لازم ہو کہ وہ کنسٹریکشن عرف سول انجینئرنگ اور آرکیٹیکچرنگ کے ضروری علوم بھی سیکھ لیا کرے ؟

میرا جواب:

اگر مذکورہ بالا باتیں ممکن ہیں تو یقین کریں کہ مُلا کے لئے اس بات میں کوئی دقت نہیں کہ وہ فزکس، کمیسٹری، بیالوجی، میتھ، کمپیوٹر سائنس یا دیگر علوم کو سیکھے اور معاشرے کی فلاح و بہبود میں اپنا کردار ادا کرے تاہم دوسری جانب اگر میرے سوالات کا جواب "انکار" کی صورت میں ہے تو میں انہتائی ادب سے یہ پوچھنا چاہوں گا "آخر غریب مُلا نے آپ کا یا کسی کا کیا بگاڑا ہے کہ صرف اُسی کو اضافی مضامین کا بوجھ اُٹھانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور دیگر افراد اس کلیہ سے مستثنیٰ قرار پاتے ہیں؟ آخر اس دو رنگی اور دہرے معیار کا کیا سبب ہے؟

اقتباس:
2۔ اگر مکمل قرآن، امامت اور اذان دینا پہلی سے بارہویں جماعت کے دوران پڑھایا جائے تو ملا مدرسہ کی اجارہ داری ختم ہونے کے علاوہ کیا کوئی نقصان ہوگا؟ اس کلاس کے لئے ابتداء‌میں‌ملا بھی رکھے جاسکتے ہیں۔
حضرت ! آپ مکمل قرآن پاک اور دیگر علوم کی بات کرتے ہیں اور یہاں تو جو چند آیات اور اسکا ترجمہ وغیرہ چل رہا تھا اسے بھی ختم کیا جارہا ہے، میں تو بذات خود اس کا مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ سلسلہ فی الفور شروع کیا جاءے اور جس طرح ہر شعبے کے لئے اُس شعبے کے ماہر افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تو اس شعبے کو بھی ماہر اور قابل افراد کے حوالے کیا جائے

اقتباس:
3۔ اعلی علوم احادیث، فقہ، قانون اعلی جماعتوں کے لئے مختص‌کئے جائیں کہ جو لوگ اس کی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہیں وہ اس کو انتخابی بنیاد پر پڑھ سکیں۔
جس طرح اسکول اور کالج کی انتظامیہ اپنا نصاب بنانے میں مدارس اور مساجد والوں کے احکامات کی پابند نہیں اسی طرح مدارس کا بھی ایک مکمل اور مؤثر نظام ہے جو کہ اپنا نصاب خود تجویز کرتا ہے تاہم اگر نکتہ نمبر 2 میں وسعت اور کشادگی پیدا کردی جائے اور دینی تعلیم کو ہر سطح پر عام کر دیا جائے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ کے اس نکتہ سے مکمل اتفاق تو ممکن نہیں تاہم کچھ نہ کچھ قابل قبول حل اس بات کا بھی نکالا جاسکتا ہے
__________________

Last edited by میاں شاہد; 27-10-08 at 11:45 AM.
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 28-10-08, 12:01 AM   #3
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: تحفۂ غامدی ۔ ۔ ۔ ایک نئے فتنے کا احوال

سر سیّد کے علی گڑھ تحریک کو وقت کے ملاّوں نے جدید تعلیم کو کفر اور خود سیّد احمد خان کو ابن الوقت قرار دے کر شدید مخالفت کا نشانہ بنایا تھا جبکہ اب انہی میں سے لوگ اپنے بچّوں کو طب، ھندسہ اور تعمیر وغیرہ کی تعلیم کے لئے باہر ملک بھیج رہے ہیں۔ غزوہء خندق میں خندق کھودنے کا مشورہ حضرت سلمان فارسی رض نے دیا تھا جنکو اس لائحہ عمل کا علم فارس سے حاصل تھا۔ پیغمبر (ص) کی حدیث 'علم حاصل کرو چاہے تمکو چین جانا پڑے' ایک نہایت وسیع اور قوی معنی رکھتی ہے۔ یقینا" دینی علوم کے ساتھ ساتھ ہر قسم کا جدید علم بھی سیکھتے رہنے چاہئے جس سے مسلمان ایک اجڈ شخص بن کر نہیں رہ جاتا۔
بنیادی دینی علوم اور ان دینی عوامل میں جن پر مذہب کی بنیاد قائم ہے کسی تحریف کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ان کے مسائل اور شرائط طے ہیں۔ کلمہ(یعنی خدا اور رسول پر ایمان)،نماز، روزہ، زکوات، حج اور جہاد کے بارے میں کوئی نیا راستہ نہیں نکالا جاسکتا اور اگر کوئی بنیادی تعلیمات میں کچھ ردّوبدل کرتا ہے تو اس پر مکمل روک ہونا چاہئے۔ جدید علوم سے بے زاری اور بے بہرہ ہوتے روایتی ملّا دین میں اختلافی مسائل کی طرف راغب رہتے ہیں اور اپنی اپنی دوکانداری چلاتے ہیں۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-10-08, 04:10 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,026
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: تحفۂ غامدی ۔ ۔ ۔ ایک نئے فتنے کا احوال

بھائی شاہد، آُپ نے سپیشیلائزیشن کی بات کی ہے۔ میں پہلی سے چوتھی جماعت کی بات کررہا ہوں۔ یہ صرف کاہلی ہے کہ پرائمزری اسکولوں میں صرف قرآن نہ پڑھایا جائے اور ملا ایسے بہانے کرکے اپنے قرآنی مدرسہ میں جدید علم کو جگہ نہ دے۔ دونوں علوم کو پہلی سے بارہویں تک ساتھ ملایا جاسکتا ہے تاکہ ایک بہتر سوچ پیدا ہو۔

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-10-08, 08:31 AM   #5
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,182
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: تحفۂ غامدی ۔ ۔ ۔ ایک نئے فتنے کا احوال

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی شاہد، آُپ نے سپیشیلائزیشن کی بات کی ہے۔ میں پہلی سے چوتھی جماعت کی بات کررہا ہوں۔ یہ صرف کاہلی ہے کہ پرائمزری اسکولوں میں صرف قرآن نہ پڑھایا جائے اور ملا ایسے بہانے کرکے اپنے قرآنی مدرسہ میں جدید علم کو جگہ نہ دے۔ دونوں علوم کو پہلی سے بارہویں تک ساتھ ملایا جاسکتا ہے تاکہ ایک بہتر سوچ پیدا ہو۔

والسلام
میں‌تو اس میں مذید توسیع کرکے کم از کم میٹرک تک دونوں‌نظام ہائے تعلیم کو ایک ساتھ پڑھانے کے حق میں‌ہوں تاکہ دین اور دنیا کے الگ الگ ہونے کا تصور ہی نہ رہے۔
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 31-10-08, 12:24 AM   #6
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: دین اور دُنیا : تعلیمی میدان میں الگ الگ کیوں؟

مدرسوں کے نصاب میں شیخ سعدی(رح) کی دو کتابیں بوستان اور گلستان دینی، اخلاقی اور معاشرتی اصولوں کی تعلیم کے طور پر صدیوں سے پڑھائی جاتی رہی ہیں۔ ان کتابوں کی اگر فارسی سے اردو میں زبان دانوں کے ذریعے نقل اور تشریح کی جائے تو یہ بہترین اخلاقی اور تہذیبی تعلیم پر مبنی ہیں۔ ان تعلیمات میں مشرق کے معاشرے کی صحیح روح بھی موجود ہے۔ ان کو نصاب اور دور کے مطابق مزید معیاری اسباق شامل کر کے مزید نکھارا جا سکتا ہے۔ انگریزی نصاب کے شروع ہونے سے پہلے ان کتابوں کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کمپیوٹر, کالج, کتابوں, پاک, لوگ, چین, مکمل, ممکن, مسائل, ایمان, انتظامیہ, انسان, اردو, بہترین, تعلیم, جواب, حدیث, خان, خدا, راستہ, شخص, علی, غامدی, صحیح, صدیوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بیرونی ممالک میں پاکستانی تنظیمں ناکام کیوں؟ زارا عمومی بحث 0 17-02-11 04:19 PM
بتائیں کیوں؟ سیپ گپ شپ 12 31-01-11 08:00 PM
مساجد کی آرائش میں مبالغہ کیوں؟ عبداللہ حیدر اسلامی نظریہ حیات 32 19-05-10 09:27 AM
کسی ڈرائیو پر ڈبل کلک کرو تو وہ ایک الگ ونڈو میں اوپن ھوتی ھے۔۔ ایسا کیوں؟ چاند Ask Experts ماہرین کی رائے 16 02-07-08 05:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger