واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


شعلے اُٹھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آذادیٔ کشمیر کی داستان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-03-08, 06:03 AM   #1
شعلے اُٹھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آذادیٔ کشمیر کی داستان
میاں شاہد میاں شاہد آف لائن ہے 18-03-08, 06:03 AM

کشمیر پاکستان اور بھارت کے سنگم پر واقع ایک جنت نظیر خطہ ہے۔ یہ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے اس کا رقبہ 84471مربع میل ہے۔ یہاں کے سبزے سے ڈھکے پہاڑ ، شفاف نہروں کے جھرمٹ میں خوبصورت وادیاں، مثلِ آئینہ چمکدار چشموں کی آغوش میں چٹانیں ، پھلوں سے لدے دلکش درختوں کے دائرے میں کھیت اور قوس قزح کی رنگینیوں تلے سجے مکانات مسلمانوں کی ملکیت ہیں۔
ریاست جموں کشمیر کی تاریخ ہندوستاں کی تاریخ کی طرح بہت قدیم ہے۔ اس کے چار ہزار سالہ دور کے نشیب وفراز کا کچھ تذکرہ ''راج ترنگنی'' کی کلاسیکی سنسکرت میں موجود ہے۔ تحریک آزادیئ کشمیر کی اصل داستان 1925ء سے شروع ہو کر تاریخ کے صفحات پر خونی سفر طے کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ سفر تاحال منزل سے کوسوں دور محسوس ہو رہا ہے ۔
سفرِ آزادی کے ہر ہر موڑ کے اوپر ''راج ترنگنی'' سے زیادہ مستند اور مکمل سر گزشت تحریر کی جا سکتی ہے۔ آیئے اختصار کے ساتھ اس تاریخی سفر کا جائزہ لیتے ہوئے مسلمانانِ کشمیر کے مستقبل کے تعین کی سعی کرتے ہیں۔
یہ 16مارچ 1846ء کی بات ہے کہ انگریز نے معاہدہئ امرتسر کے ذریعے ریاست جموں کشمیر ڈوگرہ گلاب سنگھ کے ہاتھ 75لاکھ نانک شاہی روپے کے عوض فروخت کر دی۔ اس نرخ کی رو سے یہ سر زمیں ڈوگرہ راج کو 155روپے فی مربع میل میں پڑی۔ اس وقت کی آبادی کے لحاظ سے ایک انسان کی قیمت سات روپے ٹھہری۔ گلاب سنگھ کے بعد بالترتیب رنبیر اور پرتاب سنگھ ریاست کے حاکم بنے۔
ان کے بعد ہری سنگھ طویل سازشوں کے بعد 1925ء کو مسندِ اقتدار پر براجمان ہوا۔ یہ ایک عیاش حکمراں تھا، اس نے لہو ولعب ، عیش ونشاط اور سارنگی وساز میں بری طرح ڈوب کر ریاست کے اندرونی معاملات سے عملًا کنارہ کشی اختیار کر لی اس کی امورِ سلطنت سے مکمل غفلت کے باعث ڈوگرہ ملازمین کو اپنی من مانی کاروائیاں کرنے کے لئے سازگار ماحول دکھائی دینے لگا۔ مسلمان پہلے سے ظلم وستم کی چکی میں پس رہے تھے۔ اب ان کے مصائب میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ جب ظلم وستم نے حد سے تجاوز کیا تو نئی نسل میں سیاسی بیداری کی برقی لہریں دوڑنے لگیں۔
1929ء کو شیخ عبداﷲ نے ''ریڈنگ روم پارٹی'' کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ چوہدری غلام عباس اور اے ۔آر ساغر کی قیادت میں ''کرینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن ''منظم ہونا شروع ہوگئی۔ دونوں تنظیموں کے رہنماؤں نے گرد وپیش کے ماحول کا جائزہ لیا، مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف مؤثر صدائے احتجاج بلند کرنا شروع کر دی۔
اس دوران چند ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے مسلمانانِ برصغیر کے رگ وپے میں اضطراب کی لہریں دوڑا دیں۔ 1931ء کو دیاسی میں ایک مسجد شہید کر دی گئی کوٹلی میں مسلمانوں کے جمِ غفیر کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔ ایک ہندو کانسٹیبل نے جان بوجھ کر قرآن کریم کی بے حرمتی کر دی، عبدالقدیر ناڈا ایک شعلہ بیاں مقرر نے جب ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائی تو اسے پسِ دیوارِ زنداں دھکیل دیا گیا۔ 13 جولائی کے دن مسلمانوں کے ایک جمِ غفیر نے عبدالقدیر کے خلاف کاروائی کی سماعت کے سلسلہ میں جیل کا محاصرہ کیا تو پولیس نے ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے 27مسلمانوں کو شہید کردیا۔
ٹھیک تین روز بعد سری نگر میںنہتے مسلمانوں پر فائرنگ کی گئی، ان وحشیانہ مظالم کے بعد 25جولائی 1931ء کو شملہ میں'' فیئر ویو'' نامی ایک دو منزلہ عمارت میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس میٹنگ میں علامہ محمد اقبال، نواب سردار ذوالفقار علی، خواجہ حسن نظامی ،نواب آف کنج پورہ، نواب باغپت، سید محسن شاہ، خان بہادر ، شیخ رحیم بخش، عبدالرحیم دردؔ، سید حبیب، اسماعیل غزنوی، صاحبزادہ عبداللطیف اور اے۔ آر ساغر جیسی قد آور شخصیات موجود تھیں۔
بدقسمتی سے صدارت کا ہما مرزا بشیر الدین محمود کے سر پر بٹھا دیا گیا۔ اس نے ہر خاص وعام کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ مسلمان اکابرین نے اس کو صدر بنا کر قادیانیت کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اس شر انگیز پروپیگنڈے کی آڑ میں سینکڑوں قادیانی مبلغین وادیئ کشمیر کے طول وعرض میں پھیل گئے، ریاست کے سادہ لوح مسلمان خود ساختہ نبی کے حلقہ بگوش بننا شروع ہو گئے، یہ مہم بڑی تیزی سے کامیابی کی منازل طے کرنے لگی،'' شوپیاں'' سمیت متعدد مقامات پر مسلمانوں کی خاصی تعداد قادیانی ہو گئی، پونچھ کے شہر میں مسلمانوں کی اکثریت نے قادیانی مذہب اختیار کر لیا۔
یہ خبریں سنتے ہی امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒ تڑپ اٹھے، نامساعد حالات کے باوجود آپ بنفسِ نفیس پونچھ پہنچے، خطیبانہ آتش بیانی سے قادیانیوں کے ڈھول کا ایسا پول کھولا کہ سارے شہر کی آبادی پھر سے مشرف با سلام ہو گئی، علامہ محمد اقبال نے قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں دیکھ کر کشمیر کمیٹی سے علیحدگی اختیار کر لی، انہوں نے مجلسِ احرار کی اعانت اور سرپرستی شروع کر دی، احرار نے تحریکِ کشمیر اپنے بازو کی قوت سے جوش وخروش کے ساتھ شروع کر دی۔
14اگست 1931ء کو کشمیر ڈے منایا گیا، ریڈنسی روڈ پر انجمن اسلامیہ کے احاطے سے ایک جلوس شہر بھر میں گھمانے کا پروگرام طے ہوا، ڈوگرہ حکومت تک یہ خبر پہنچ گئی، ڈوگرہ افواج کیل وکانٹے سے لیس ہو کر پہنچ گئیں، منتظمین نے خفیہ پیغام رسانی کا سہارا لیتے ہوئے جامع مسجد میں جلوس اکٹھا کر لیا، ڈوگرہ حکومت صورتحال بھانپ گئی، ایک مجسٹریٹ مسجد کے باہر کھڑا کر دیا، مزید مسلمانوں کا داخلہ روک دیا گیا۔ اے۔ آر ساغر جلوس کے قائد تھے، وہ کامیاب حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے داخل ہوگئے، ان کی قیادت میں جلوس اﷲ اکبر کے نعرے لگاتا مسجد سے نکلا، ڈوگرہ فوج نیزوں سے مسلح ہو کر سامنے آگئی قیادت ایک مسلمان میجر کے ہاتھ میں تھی، اس نے نیزہ بازی سے منع کر کے ڈرا دھمکا کر جلوس منتشر کرنے کا آرڈر دے دیا، اس نرمی کے نتیجے میں جلوس کامیاب ہو گیا اس جرم کی پاداش میں میجر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
علامہ اقبال کی سرپرستی میں تحریک کشمیر کی رہنمائی مرزا بشیر الدین محمود کے ہاتھ سے نکل کر مجلس احرار کے ہاتھ میں آچکی تھی، 1931ء میں احرار کے مرکزی قائدین سری نگر آگئے انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ اور وزیر اعظم سے ملکر افہام وتفہیم کے ذریعے معاملات حل کرنے پر زور دیا، لیکن'' لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے'' کے مصداق یہاں بھی ایسا ہی ہوا، مایوس ہو کر لیڈرانِ احرار واپس آگئے۔ ان کی محنت سے پورے پنجاب میں ''کشمیر چلو، کشمیر چلو'' کے فلک شگاف نعرے گونجنے لگے، آزادیٔ کشمیر کے متوالے سروں پہ کفن باندھ کر سرحدیں عبور کرنے لگے۔ پہلی یورش کا آغاز سیالکوٹ شہر سے ہوا، اس شہر کے غیور مسلمانوں نے گھر گھر کو جذبہئ جہاد کی آگ سے پگھلا دیا، ماؤں نے بیٹوں، بہنوں نے بھائیوں، اور بیویوں نے شوہروں کو خوش خوش دعائیں دے کر ریاست میں داخلے کے لئے رخصت کر دیا۔ حکام کا اندازہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار رضا کار جموں آئیں گے جنہیں آسانی سے گرفتار کر لیا جائے گا۔
لیکن دیکھتے ہی دیکھتے دس ہزار سے زیادہ مجاہدین گرفتاریاں پیش کرنے کےلئے جموں پر چڑھ دوڑے اس ناگہانی صورتحال سے پولیس بے بس اور بد حواس ہوگئی۔
میر پور میں تحریک آزادی کے شعلے یکا یک بھڑک اٹھے، ان کی بنیاد ایک واقعہ تھا، ایک مسلمان سیاسی کارکن کو بر سر عام ڈوگرہ افسر نے سنگین کی نوک سے چھید کر شہید کر دیا، چاروں طرف غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی، پنجاب کے کونے کونے سے مسلمان نوجوانوں کے جتھے کلمہئ شہادت کا ورد کرتے ہوئے جہلم کے راستے کشمیر کی سرحدوں کی طرف پیدل روانہ ہونے لگے۔ جس طرف سے وہ گزرتے کشمیر چلو کی صدائے باز گشت کے گہرے نقوش مسلمانوں کے دلوں پر چھوڑ جاتے، راولپنڈی میں تحریک آزادی کے تیس متوالوں نے قرآن پر حلف اٹھایا کہ وہ جان کی بازی لگا کر دریائے جہلم پر کوہالہ پل بند کروائیں گے۔
تین دن کی سر توڑ کوشش کے بعد انہوں نے پل پر قبضہ کر لیا، کشمیر کے ساتھ تجارت کی واحد شاہراہ بند ہوگئی۔ آن کی آن میں دونوں جانب رکی ہوئی گاڑیوں، لاریوں اور ٹرکوں کا تانتا بندھ گیا۔ گجرات اور گورداسپور سے بھی یلغار کا آغاز ہو چکا تھا لیکن ہندو اکثریتی آبادی کی وجہ سے بڑی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
یہ کاروائیاں جاری تھیں کہ بزدل مہاراجہ نے برطانوی حکومت سے مدد کی درخواست کر کے اسے بھی میدان میں اتار دیا، رضا کاروں کا کشمیر میں داخلہ روکنے کے لئے صوبہ پنجاب میں گرفتاریاں شروع ہو گئیں، جیلیں کم پڑ گئیں، جگہ کی قلت کے باعث نوجوانوں کو احرار کے دفاتر میں تختیاں لگا کر چھوڑ دیا گیا۔ محتاط اندازے کے مطابق پنجاب اور دوسرے صوبوں کو ملاکر 5ہزار افراد نے گرفتاریاں پیش کر کے مسلمانانِ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ ریاست کے اندر اور باہر مسلمانوں کی منظم جدوجہد سے متاثر ہو کر 1931ء میں'' گلینسی کمیشن'' کا قیام عمل میں آیا، سربی۔ جے گلینسی صدر، غلام محمد عشائی، پنڈت پریم ناتھ بزار اور چوہدری غلام عباس اس کے ممبر بنے۔ کمیشن کے مقاصد میں ریاست کے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لے کر ان کے حقوق کی نشاندہی کرنا ، جولائی میں فائرنگ سے شہید ہونے والوں کے صحیح کوائف جمع کرناشامل تھا۔
بہت سے اقدامات کے ساتھ ساتھ کمیشن نے ایک قانون ساز اسمبلی قائم کرنے کی پر زور سفارش کر دی۔ انگریزوں کے پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے دباؤ سے مجبور ہو کر مہاراجہ کو یہ سفارش قبول کرنا پڑی۔ ایک بے اختیار، نام نہاد اور عضو معطل کی طرح کی ایک اسمبلی قائم کردی گئی۔ یہ 75اراکین پر مشتمل تھی صرف 34ممبران بذریعہ انتخاب لئے جاتے ان میں سے 21مسلمان اور باقی غیر مسلم ہوتے اس بے دست وپا اسمبلی میں بھی ریاست کے نامزد کردہ ممبران کی تعداد منتخب ممبران سے زیادہ تھی۔
1933ء میں سری نگر پتھر مسجد میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی۔ شیخ محمد عبداﷲ صدر اور چوہدری غلام عباس جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 1935ء میں پہلی دفعہ انتخاب ہوا ، شیخ عبداﷲ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر اسمبلی میں شامل ہوگئے سات برس تک شیخ عبداﷲ اور چوہدری غلام عباس کا گہرا ، پرخلوص اور برادرانہ تعاون جاری رہا، مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پیدل چل کر دونوں رہنماؤں نے کشمیر کے چپے چپے میں مسلمانوں کے اندر سیاسی بیداری کی روح پھونک ڈالی۔ شیخ عبداﷲ اپنی تقریر قرآن کریم کی تلاوت اس کے بعد نعت رسول مقبول ؐ سے شروع کرتے تھے۔ ان کی آواز لحن داؤدی کی یادیں تازہ کر دیتی تھی، ان کی تقریر آتش بیانی اور سیاسی فراست کا حسین امتزاج ہوتی تھی۔ چوہدری غلام عباس سادگی، خوش بیانی، سلاست اور جذبات کی فراوانی کا خوبصورت مرقع تھے۔ اے۔ آر ساغر کی شعلہ بیانی، فصاحت وبلاغت لاجواب فضا باندھ دیتی تھی۔ ان کی تقاریر لوگ سحر زدہ اور مبہوت ہو کر سنتے تھے، تڑپتے تھے، اور دھاڑیں مار کر روتے تھے۔
عوام کو منظم ہوتے دیکھ کر ہندؤوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو گئے انہوں نے ڈوگرہ حکام سے ساز باز کر کے راشٹریہ سیوک سنگھ (r-s-s)کو دعوت دے ڈالی، 1934ء میں آر۔ ایس۔ ایس نے اپنا کام شروع کر دیا۔ سری نگر، جموں، میر پور، کوٹلی اور دیگر مقامات پر ان کے اکھاڑے قائم ہونا شروع ہو گئے، ہندو اقلیت مسلمان اکثریت کو کچلنے کی نیت سے جنگی تربیت حاصل کرنے لگی۔
ان حالات میں کانگریس نے شیخ عبداﷲ پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیئے، گاندھی اور جواہر لال نہرو اس مہم میں پیش پیش تھے۔ شیخ عبداﷲ کو بہت سی پیشکشوں کے علاوہ دو کروڑ کے جنگلات کا ٹھیکہ دے دیا گیا۔ کانگریس کی ریشہ دوانیاں رنگ لانے لگیں اور شیخ عبداﷲ 1939ء میں اسلامی سیاست کی ہمالیہ کی چوٹی سے لڑھک کر کانگریس کی جھولی میں منہ کے بل گر پڑے۔ چہرے پر سجی خوبصورت اور دیدہ زیب داڑھی آنا فانا غائب ہو گئی۔ سر کی ترکی ٹوپی کانگریس کی گنگا میں ڈوب گئی، کانگریس کے اس روحانی فیضان کی برکتوں سے شیخ صاحب نے ''کشمیر نیشنل پارٹی'' کی بنیاد رکھی اور کانگریس کی غلامی میں چلے گئے۔ ان کے برعکس چوہدری غلام عباس کی قیادت میں جموں کشمیر مسلم کانفرنس نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کا اعلان کیا۔ بر صغیر میں حصول پاکستان کے مطالبے کے زور پکڑنے کے ساتھ ہی ریاست میں مسلم کانفرنس کا پلہ بھاری ہوتا گیا۔ 1945ء کے عام انتخابات میں مسلم کانفرنس نے مسلمانوں کی اسی فیصد نشستیں جیت لیں، ڈوگرہ حکومت نے بد حواس ہو کر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔ آر۔ ایس۔ ایس جلسے کرنے میں آزاد تھی۔
1946ء میں مسلم کانفرنس نے سیاسی پابندی کی خلاف ورزی شروع کر دی اس جرم کی پاداش میں تمام رہنما اور لا تعداد کارکن بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیج دیئے گئے۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
3جون 1947ء کو تقسیمِ ہند کا فارمولا منظور ہوا، برصغیر کی 562ریاستوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا۔ ان کو اختیار تھا کہ وہ اپنی جغرافیائی، معاشی اور آبادی جیسے حقائق کو پیشِ نظر رکھ کر بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیں۔ کشمیر کی اسّی فیصد آبادی مسلمان کی تھی، سرحدات کے چھ سو میل مغربی پاکستان کے ساتھ مشترک تھے۔ ریاست کی واحد ریلوے لائن سیالکوٹ سے گذرتی تھی، ڈاک اور تار کا نظام مغربی پاکستان کے ذریعے قائم تھا۔ پختہ سڑکیں راولپنڈی اور سیالکوٹ سے گذرتی تھیں،تمام درآمدات وبرآمدات کا راستہ پاکستان سے وابستہ تھا۔ ان حقائق کے پیش نظر جموں کشمیر کا پاکستان سے الحاق لا زمی امر تھا۔ لیکن مہاراجہ ہری سنگھ، کانگریسی لیڈروں اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مل کر سازشوں کے جال بنے اور مسلمانانِ کشمیر کی خواہش کے بر عکس اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی۔
ہری سنگھ نے جموں میں پوری مسلمان آبادی کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کر لیا، ڈوگرہ فوج، پولیس اور آر۔ ایس۔ ایس کے مسلح دستے خونخوار بھیڑیوں کی طرح مسلم رعایا پر چھوڑ دیئے گئے۔ مسلمانوں پر قیامتِ صغری ٹوٹ پڑی قتل وغارت، لوٹ مار،خواتین کی بے حرمتی اور نوجوان لڑکیوں کے اغواء کی ہولناک وارداتیں کرائی گئیں۔ مسلمانوں کو پناہ کا جھانسہ دے کر بسوں پر سوار کرایا جاتا، سیالکوٹ پہنچانے کا وعدہ کیا جاتا اور راستے میں آر۔ ایس ۔ ایس کے درندے انہیں بے دردی سے شہید کر دیتے۔ جموں کے بعد اگلا ہدف پونچھ تھا، یہاں کی 95فیصد مسلم آبادی میں سے اکثر ریٹائرڈ فوجی تھے۔ انہوں نے سردار عبدالقیوم کی سرکردگی میں ڈوگرہ فوج کے مقامی کیمپ کا صفایا کر دیا۔ دریائے جہلم کے لچھمن پل پر متعین ڈوگرہ افواج پر حسن خان اور دلیر خان نے گوریلا دستوں کے ساتھ حملہ کر کے شدید لڑائی کے بعد پل اپنے قبضے میں کر لیا۔ توی پور کے مقام پر ایک شدید معرکہ ہوا اور ڈوگرہ افواج کو عبرتناک شکست کا مزا چکھنا پڑا۔'' منگ'' میں میجر بوستان نے ڈوگرہ افواج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ کیپٹن فیروز خان نے مجاہدین کی مدد سے تراڑ خیل، دیوی گلی اور ہجیرا کو ڈوگرہ سامراج کی گرفت سے چھین کر پونچھ کا محاصرہ کر لیا۔ میجر نصر اﷲ نے ڈوگرہ افواج کی مضبوط چھاؤنی ''راولا کوٹ'' پر حملہ کر کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو جہنم واصل کر دیا۔ کفر واسلام کے ان معرکوں میں بھمبر، میر پور، مینڈھیر، راجوری اور نوشہرہ کو آزادی کی دولت نصیب ہو گئی۔
ڈوگروں کے روح فرسا مظالم کی تفصیلات نے پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقوں میں غم وغصہ کی آگ لگائی ہوئی تھی۔ قبائلیوں کے لشکر اپنے مظلوم بھائیوں کی امداد کے لئے ایبٹ آباد کے راستے بسوئے کشمیر روانہ ہو رہے تھے۔ 4اکتوبر 1947ء تک ایبٹ آباد اور مظفر آباد کے درمیان بڑاسی کے جنگل میں ہزاروں محسود، وزیری اور آفریدی قبائلیوں کا ایک عظیم الشان لشکر جمع ہو گیا۔ لشکر کی نگہداشت مردان کے خوشدل خان نے عرق ریزی او رفیاضی سے کی۔ فوج کی کمان میجر خورشید انور کے ہاتھ میں آئی، ڈوگرہ افواج میں موجود چند مسلمان افسران نے بھی میجر سے رابطہ قائم کرلیا، مظفر آباد سمیت دریائے کرشن گنگا، رومیل اور کوہالہ کے پلوں کو صحیح سالم فتح کرنے کی حکمت عملی طے پاگئی۔ 20اکتوبر کی شب مجاہدین نے تکبیر کے نعرے لگاتے ہوئے پیش قدمی شروع کر دی۔ وہ اپنی طوفانی یلغار کے ساتھ ڈوگرہ افواج کو لوہے کے چنے چبواتے کوہالہ، رومیل اور مظفر آباد کو فتح کرتے چلے گئے۔ اب بارہ مولا اور سری نگر کا راستہ صاف ہو چکا تھا۔ 24اکتوبر کو مجاہدین نے مہورہ پر قبضہ کر کے پاور ہاؤس اڑا دیا، رات کے نو بجے سارا سری نگر شہر تاریکی میں ڈوب گیا، آگے سری نگر صرف 35میل دور تھا، مزاحمت کا شائبہ بھی باقی نہیں رہا تھا، لشکر فتح ونصرت کے پھریرے لہراتا بارہ مولا تک پہنچ چکا تھا۔ فقط چند گھنٹوں میں سری نگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کا دھارا بدل سکتا تھا۔ مگر افسوس!!!
قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گئے
سری نگر کے تاریکی میں ڈوبتے ہی ڈوگرہ نسل کے بزدل مہاراجہ کو جان کے لالے پڑ چکے تھے، وہ اپنا قیمتی ساز وسامان اٹھا کر بانہال روڈ کے راستے جموں فرار ہو گیا، یہ علاقہ مسلمان آبادی سے خالی ہو چکا تھا۔ یہاں پہنچ کر بھگوڑے راجہ نے بھارت سے مدد کی درخواست کر دی، سردار لبھ بھائی پٹیل اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا منظور نظر مسٹر وی۔پی منین بذریعہ جہاز جموں پہنچ گیا۔ اس نے بھارتی حکومت کی جانب سے مہاراجہ کو دھمکی دی کہ اگر بھارت سے الحاق نہ کیا گیا تو مدد نہیں ہو سکے گی۔ بزدل مہاراجہ نے بلا چوں وچرا گھٹنے ٹیک کر بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست پر دستخط کر دیئے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔ ابھی دستخطوں کی سیاہی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ اس دن میں پچاس پروازیں برق رفتاری سے سری نگر کے ائر پورٹ پر فوجی اتارنے لگیں، گورداسپور کے راستے بھارتی افواج نے جموں کی طرف مارچ شروع کر دیا۔ سری نگر کے ہوائی اڈے پر بھارتی افواج، اسلحہ، ٹینک اور ائر فورس کے جہاز اترتے ہی جنگ کی کایا پلٹ گئی، بھارت جنگ کی تیاری پہلے سے کر چکا تھا، الحاق کی درخواست محض ایک بہانہ تھی۔اس کے ہاتھ آتے ہی بھارت اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل میں مصروف ہو گیا۔
مجاہدین کے لشکر کا زیادہ تر حصہ دوروز سے بارہ مولا میں اٹکاہوا تھا، اگر لشکر کا کچھ حصہ بھی یلغار کر کے سری نگر کے ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیتا تو بھارت کبھی کشمیر پر تسلط نہ جما سکتا تھا، نامعلوم وجوہات کی بنا پر مجاہدین کی ہمت ٹوٹ گئی اوران میں بھگدڑ مچ گئی، وہ نہایت منظم طریقے سے اپنے علاقوں کی طرف لوٹنے لگے ۔ یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی؟ یہ سوال تاحال تشنہئ جواب ہے۔
اس حوالے سے چند قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں ہم قارئین کی خدمت میں بلا تبصرہ پیش کردیتے ہیں۔
(١)میجر خورشید انور سری نگر پہنچنے سے پہلے سیاسی مستقبل میں اپنی پوزیشن مستحکم ، صاف اور واضح کرنے میں مصروف ہوگئے اور پیش قدمی معرض التواء میں پڑ گئی۔
(٢)شیخ عبداﷲ کی نیشنل پارٹی کے ایجنٹوںاور بھارتی جاسوسوں نے پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ بھارتی افواج عنقریب کیل کانٹے سے لیس ہو کر پہنچنے والی ہیں۔ انہوں نے بھاگنے کے راستے مسدود کر دیئے ہیں ۔چونکہ مجاہدین گوریلا جنگ کے غازی تھے لہذا وہ ان نفسیاتی حربوں سے دباؤ میں آکر بد نظمی کا شکار ہو گئے۔
(٣)مقبول شیروانی نام کے ایک کانگریسی سیاست دان نے بارہ مولا تک رہنمائی کی آڑ میں مجاہدین کو ایسے پیچداراور دشوار گزار راستوں میں پھنسا دیا کہ وہ انہی میں بھٹکتے رہے، باقی ماندہ لشکر ان کے انتظار میں بیٹھا رہا، غداری کے انکشاف کے بعد مجاہدین نے مقبول شیروانی کو تہہ تیغ کر دیا۔
(٤) قادیانیوں نے جب دیکھا کہ یہ جنت ِارضی ان کے ناپاک ہاتھوں سے نکل کر پاکستان میں شامل ہونے والی ہے تو وہ مختلف سازشوں کے ذریعے اس امکان کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہوگئے تب انہوں نے غداری کی راہ ہموار کر کے مجاہدین کو گمراہ کیا۔
شکست کا سبب خواہ کوئی بھی ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت کا کشمیر پر قبضہ مجرمانہ اور غیر قانونی تھا۔ دنیاپر اس کی حقیقت آشکار ہو چکی تھی۔ اس صورتحال کے ادراک کے بعد جواہر لال نہرو نے ایک اور چال چلی اس نے اعلان کیا کہ بھارت کے ساتھ ریاست کے الحاق کا فیصلہ عارضی، وقتی اور ہنگامی تھا، حتمی فیصلہ آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ بیان ایک بین الاقوامی فریب کے سوا کچھ نہ تھا۔ جوں جوں بھارت کا کشمیر پر قبضہ مستحکم ہوتا گیا اسی رفتار سے وہ اپنے مؤقف سے منحرف ہوتا گیا۔ اس کی الٹی قلابازیوں کی فہرست خاصی طویل ہے ۔
ہم ''مشتے از وارے'' کے مصداق چند ایک کا تذکرہ کرتے ہیں۔
مارچ 1949ء میں یو۔ این ۔ او کے کمیشن نے ایک میٹنگ کا انعقاد کیا تاکہ سلامتی کونسل کی قراداد کے مطابق پاکستانی اور بھارتی افواج کو کشمیر سے واپس بلانے کا پروگرام طے کیا جائے پاکستان نے پروگرام پیش کر دیا، ہندوستان فوجیں نکالنے سے صاف مکر گیا۔
اگست 1949ء میں کمیشن نے تجویز پیش کی کہ کشمیر کے مسلح افواج کے انخلاء کا فیصلہ ایک ثالث کے سپرد کر دیاجائے، ایڈمرل نمسٹر استصواب رائے کے ناظم مقرر ہوئے کمیشن کی تجویز تھی کہ ثالثی کا فرض بھی وہ ادا کریں۔ اس تجویز کی معقولیت کو دیکھ کر امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیراعظم ایٹلی نے اس کے حق میں اعلانیہ سفارش کر دی۔ پاکستان نے اسے قبول کر لیا،جب کہ بھارت نے انکار کر دیا۔
دسمبر 1949ء میں سلامتی کونسل کے مکمل اختیار ات کے ساتھ جنرل میکنائن نے اس حوالے سے کچھ تجاویز مرتب کیں، پاکستان نے انہیں قبول ، اور بھارت نے مسترد کر دیا۔
1951ء سے 1958ء تک ڈاکٹر گراہم مسئلے کے حل کے تمام ممکنہ فارمولے پیش کرتے رہے پاکستان انہیں منظور ، بھارت مسترد کرتا رہا۔
1965ء تک یہ مسئلہ 132بارزیر بحث آیا۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی موقف کی تائید کی، بھارت نے ہٹ دھرمی کی مظاہرہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی تمام قرادادوں کو مسترد کر دیا۔
1965ء سے لے کر آج 2007ء تک بیالےس برس کا طویل عرصہ بیت چکا ہے۔ پاکستان نے مذکرات کے تمام راستے اختیار کر لئے ہیں، ہر دفعہ بین الاقوامی برادری کے موقف کی تائید کی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری کے موقف کو مسترد کیا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرادادوں کو منظور کیا ہے، بھارت نے انہیں نا منظور کیا ہے۔ پاکستان نے مسئلے کے قانونی حل کے لئے تمام اقدامات اٹھائے لیکن بھارت نے بےجا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا۔
اس صورتحال سے یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ اب بھارت سے اس مسئلے پر خیر کی توقع عبث ہے۔ مذاکرات کا ڈھونگ رچانے سے یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی بلکہ جرأت، ہمت، حمیت اور غیرت کی راہوں پر عمل پیرا ہو کر جہاد ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔
آج مسلمانانِ کشمیر کے گھروں سے شعلے اٹھ رہے ہیں۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہیں۔ نوجوانوں کوبے گناہ قتل کیا جارہا ہے۔ ان حالات میں بھارت سے مذاکرات کا خواب سراب کے سوا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔
کشمیر، گول میز کانفرنسوں میں شرکت سے نہیں بلکہ جہاد کے میدان میں اتر کر آزاد ہوگا۔ اگر جنگِ آزادی کے شعلے بھڑکتے رہے تو بھارت کا ایک ایک فوجی ان میں جل کر خاکستر ہو جائے گا۔ اگر خدانخواستہ جنگِ آزادی کو نقصان پہنچا تو کشمیر کے مظلوم عوام سازشوں کی گہری دلدل کا شکار ہو جائیں گے۔
یاد رکھیئے!!!
بھارت مسئلہ کشمیر پر چانکیہ سیاست کر رہا ہے اس کا واحد علاج مزاحمت کا تیز دھار خنجر ہے۔

(بشکریہ: سہ ماہی مجلہ ندائے حرمین کراچی)
__________________

 
میاں شاہد's Avatar
میاں شاہد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 389
Reply With Quote
میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
فارم, فروخت, فرض, کراچی, پولیس, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, وزیراعظم, قرآن, نماز, نظر, موت, مسجد, آئینہ, احتجاج, جیل, جرم, داڑھی, راستہ, سیاست, صدائے, صدارت, صدر،


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار جاویداسد خبریں 1 24-10-10 06:52 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 08:36 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger