واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


شہادت حسین، شہادت بابری مسجد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-12-11, 08:22 AM   #1
شہادت حسین، شہادت بابری مسجد
موجو موجو آف لائن ہے 07-12-11, 08:22 AM

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اسکی حسین، ابتداء ہیں اسماعیل

آج کا دن یوم عاشور جس کے متعلق نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ کہ ہم تمہارے (یہودیوں) اعتبار سے زیادہ موسیٰ کے حقدار ہیں۔چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اب مسلمان عموما عاشورہ اور اس کے بعد یا پہلے دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ نبی ﷺ کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک سانحہ پیش آیا جس کی یاد میں آج تک مجلسیں پڑھیں جاتی ہیں، ماتم اور نوحے پڑھے جاتے ہیں سیاہ کپڑے پہن کر غم حسین اور کربلا کی یاد منائی جاتی ہے آج سے سینکڑوں سال پہلے رونما ہونے والے ایک سانحے کی یاد آج تک مناتے جانا غیر اہم اور معمولی معاملہ نہیں دنیا میں سینکڑوں ظلم و تشدد کے واقعات ہوئے ہیں مگر یہ سانحہ بڑے اہتمام سے محفوظ کیا گیا اور آج تک اس کے فریقوں کے درمیان پیش آنے والے مکالمے تک بیان کئے جاتے ہیں۔ یہ ساری علامات اس کی غیر معمولی اہمیت ظاہر کرتی ہیں دونوں طرف کی شخصیات پر بھی لکھا گیا ہے اور دونوں فریق ایک ہی نبی ﷺ کے ماننے والے ہیں۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ جن کے نانا پر ایمان لانا مسلمان کہلانے کا لازمی تقاضا ہے ۔ آخر کیا چیز ایسی تھی جس کے لئے حسین نے اپنا سب کچھ پیش کردیا وہ حسین رضی اللہ عنہ جس کے بارے میں نبی آخرالزمان ﷺ نے فرمایا: ائے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے (متفق علیہ)

اور جنت کے نوجوانوں کے سردار کو آخر کیا پڑی تھی کہ اپنے اہل و عیال حتی کے شیر خوار بچوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے کچھ عرصہ سے امت میں ایسے “نکتہ رس″ پیدا ہوگئے ہیں جو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ ساری اقتدار کی جنگ تھی کیا اقتدار کی جنگ میں حکومت کے مقابلے میں 70 لوگ لے کر جاتے ہیں؟

اس کے علاوہ تاریخ میں کتنی مثالیں ہیں جہاں حکومت کے حصول کے لئے اتنی قلیل تعداد جس میں خواتین اور بچے بھی ہوں گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہوں؟

یہ تو امام پر بہتان ہے اور بہت بڑی گستاخی ہے۔ حکومت کے حصول کے لئے نکلنے والوں کے تذکرے بھی تاریخ میں ملتے ہیں ان کی سیرت اور حضرت حسین کی سیرت کا تقابل تو دور ایسی سیرت کی جھلک بھی کسی میں نظر آتی ہے؟ حدیث اور سیرت کی کتابیں شاہد ہیں کہ اس عظیم واقعہ کی خبر اللہ رب العزت نے آپ علیہ السلام کے نانا ﷺ کو دے رکھی تھی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت مشہور ہے جس میں آقا ﷺ کو اس سرزمین کی مٹی دی گئی تھی۔

غور و فکر کی مزید جہات یہ بھی ہیں کہ

حضرت حسین علیہ السلام کے خاندان نے کبھی اس واقعے سے پہلے حکومت کے لئے جدوجہد کی تھی؟

اس کے بعد کبھی اس مقصد کے لئے جدوجہد کی ہو؟

کیا اسلام نے حکومت کے لئے کوئی اصول متعین کئے ہیں قرآن وسنت سے کوئی راہنمائی ملتی ہے؟

اگر یہ مسلمانوں کا حق ہے تو اس حق کو غصب کر لینے پر کوئی تعلیم موجود ہے؟

اس پر متعین فرد اگر اس اسلامی حکومت کے اصولوں سے روگردانی کرے تو اس کے تدارک کا کوئی انتظام یا مثال کوئی موجود ہے؟

میرا خیال ہے کہ شہادت امام کے مقاصد یہ تھے آپ بلاشبہ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں۔

اسلامی حکومت کو ملوکیت کے راستے سے واپس خلافت کی طرف لانا
مسلمانوں کے لئے اظہار رائے کی آزادی تاکہ وہ دور فاروقی کی طرح بلا خوف وطمع کے اپنی حکومت کی غلطیوں پر گرفت کرسکیں
تقویٰ اور خدا ترسی جو اسلامی حکومت کی روح ہے حکومت کا سربراہ اور عمال اس سے سرشار ہونے چاہییں اور پورے ملک میں اسی کلچر کو فروغ دیا جائے
ظلم اور لالچ کے کلچر کا خاتمہ کر کے عدل اورانصاف کے نظام کی بحالی
مجلس شوریٰ فعال ہو اور ان لوگوں پرمشتمل ہو جو نیک و متقی ہوں جن کے علم، تقویٰ اور اصابت رائے مسلمانوں کو اعتماد ہوجو بغیر کسی لالچ و خوف کے اپنی رائے کا بے لاگ اظہار کریں ۔اپنے پسندیدہ اور ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ مجلس شوریٰ میں نہ ہوں
حکومت اللہ کی طرف سے امانت ہے اور صالح ترین اور علم و عمل سے سرشار مؤمنین ہی اس کے اہل ہیں۔ جس طرح پہلے خلفا نے خوف خدا کو پیش نظر رکھتے ہوئے معاملات کرتے تھے انہی کی طرح اس امانت کو سنبھالا جائے۔
بیت المال اللہ اور مسلمانوں کی طرف سے عمال اور حکمران کے پاس امانت ہے جتنا اللہ اور اس رسول نے حکمران اور عمال کو حق دیا ہے اتنا ہی حاصل کریں اپنے اقربا اور پسندیدہ افراد کو اس سے نہ نوازیں
اللہ اور اس کے نبی ﷺ کے احکامات ہی اسلامی قانون ہے یہی ملک میں نافذ ہو اپنی ذاتی، خاندانی اغراض کو پس پشت ڈال انہی پر عمل پیراہوا جائے۔
مساوات اور اخوت کی بجائے اب اقربا پروری اور عمال حکومت پر نوازشات کا دور شروع ہوچکا تھا اس کا خاتمہ بھی ضروری تھا
آج ہی کی تاریخ میں ایک بہت ہی اہم واقعہ 19 سال پہلے پیش آیا یعنی بابر مسجد کی شہادت کا جس پر ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی پچھلے سال ستمبر میں آچکا ہے اس فیصلے کو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں نے بھی انصاف کا قتل اور ہندوستانی عدالتی نظام پر بدنما داغ قرار دیا ہے کچھ افراد اس خیال کے بھی حامل ہیں عدالت نے منطق ،قانون، شواہد اور حقائق کے بر عکس عقیدت کو فوقیت دی ہے۔ اور مسلمانوں نے سپریم کورٹ اس فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

اس کی شہادت کے موقع پر بہت کچھ لکھا گیا بڑی تقریریں ہوئیں شاعروں نے اس پر نظم کہیں لیکن اب کسی کی تقریر کا یہ موضوع ہی نہیں رہا ہے۔ کیا واقعی ہماری حساسیت میں کمی آچکی ہے؟ حیرت یہ ہے کہ اسلامی دنیا خصوصا پاکستان میں بھی کوئی ذکر ہی نہیں ہے اور یہاں پاکستان میں اس کاذکر کیا ہونا یہاں کی حکومت کا تو سب سے پسندیدہ ملک اب بھارت ہی ہے انہیں مسلمانوں یا عام لوگوں کی خواہشات کااحترام تو دور رہا اس کے اظہار کی آزادی بھی یہ سلب کئے ہوئے ہیں اپنے ہی ملک کے باشندوں پر توپ و تفنگ سے حملہ آور ہونا عوام کے جان و مال کو امریکی درندوں کے چرنوں میں پیش کرنا ایک مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام کو مضحکہ خیز بنا دینا ہی ان کا مقصد ہے۔

اگر توجہ کی جائے تو آج کے دوربگاڑ بہت ہی بڑھ چکا ہے نہ حکومت صالح بندوں کے پاس، مساوات، بیت المال، انصاف، اظہار رائے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات تو دور کی بات اللہ کو ہی نعوذ باللہ معاشرے سے نکالنے کی ساری جدوجہد کی جارہی ہے اور ہم ہیں کہ جلسے، ماتم، کالم، بلاگ اور محافلوں سے یاد حسین منا کر خوش ہو لیتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں پورے دین کا علم حاصل کرنے کی جدوجہد کے ساتھ اس پر عمل اور پورے معاشرے میں اسلام کی بحالی کی جدوجہد کرنی چاہیے۔

ذریعہ: میرا بلاگ (اچھی بات(
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو(

 
موجو's Avatar
موجو
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 422
شکریہ: 1,624
312 مراسلہ میں 916 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 198
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے موجو کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (10-01-12), ملک اظہر (07-12-11)
جواب

Tags
کورٹ, کربلا, پاکستان, پسندیدہ, واقعات, قرآن, نظر, محبت, مسجد, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, بچوں, تعلیم, حکم, حدیث, خواتین, خوش, خبر, خدا, روزہ, سپریم, سال, سردار


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
Kali Siradas System کے تحت سیلف ڈیفینس سیکھیں! shafresha کھیل اور کھلاڑی 1 16-06-11 12:43 PM
حامد کاظمی، سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری وزارت مذہبی امور کے اکاﺅنٹس منجمد، نام ای سی ایل میں شامل گلاب خان خبریں 0 15-12-10 04:52 AM
سینیٹر سیمیں صدیقی سے مغفر حسین کی ملاقات عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 01:01 PM
الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ کے پارلیمنٹیرین پبلک سیکریٹریٹ میں عوا می شکا عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:16 AM
اپوزیشن بد نظمی اور تقسیم در تقسیم کا شکار بینظیر اور نواز شر یف کے در میان گھنٹوں بات چیت، بے اعتماد ی ختم نہیں ہو ئی عبدالقدوس خبریں 0 22-11-07 08:07 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:15 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger