| اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 407
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | Real_Light (25-01-09), عبداللہ آدم (23-08-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: Germany
مراسلات: 247
کمائي: 5,375
شکریہ: 243
177 مراسلہ میں 390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عصر حاضر میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ اتفاق کی ضرورت ہے ۔ ورنہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقتدار کس کو ملے اور نظام کونسا ہو ۔ اور ان چیزوں کا فیصلہ کون کرے ، وغیرہ وغیرہ
|
|
|
|
| ماسٹر مقسود کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (26-01-09) |
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
راجہ بھائی ، بڑا فکر انگیز سوال سامنے لائے ہیں ، جزاک اللہ خیرا ، اپنے اپنے خیالات نے ہی تو اس قسم کی تقسیم پیدا کی ہے ، آئیے اللہ کے فرامین میں اس بات کا جواب دیکھتے ہیں کہ پہلا گروہ درست سوچ کا حامل ہے یا دوسرا ، راجہ بھائی ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ((( و لن تجد لِسُنۃ اللہ تبدیلا ::: اور (اے رسول) آپ ہر گز اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پائیں گے ))) اور اللہ کی سنت مقرر ہو چکی کہ ((( یا ایھا الزین امنوا قوا انفسکم و اھلیکم نارا ::: اے ایمان لانے والو اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاو ))) ،اور جب ایسا کیا جائے گا اور اللہ کے دین کا نفاذ کسی اور سے پہلے خود اپنے آپ پر کیا جائے گا تو ((( یا ایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم و یثبت اقدامکم ::: اے ایمان لانے والو اگر تم لوگ اللہ کی مدد کرو گے ( یعنی اس کے دین کو اپنا کر خود پر نافذ کرو گے ) تو اللہ تم لوگوں کی مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم کرے گا ))) ، پس یہ راہ اللہ کی مقرر کردہ ہے کہ فردا فردا اصلاح جاری رکھی جائے ، یہی تمام تر انبیا اور رسولوں کا منہج رہا ، جب جب اللہ نے چاہا اور جیسا چاہا وقت و حکومت دیتا رہا ، نہ کہ قوت و حکومت کے حصول کے بعد نفاذ دین ، اقامت دین یا اصلاح معاشرہ کا کام ہوا ، یہ اللہ کی سنت میں نہیں ، اور اللہ کی سنت کبھی تبدیل ہونے والی نہیں ، اور میرےبھائی عصر حاضر ہو یا ماضی ، یا مستقبل مسلمان کی توجہ کا مرکز و محور ہمیشہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بلا چوں و چراں اتباع رہنا چاہیے ، اور خالص اللہ کی رضا کے لیے رہنا چاہیے ، اسی میں مسلمان کے دین ، دنیا اور آخرت کی ہر خیر ، کامیابی اور تمکین مضمر ہے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,792
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
| تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (28-01-09) |
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
برادرم سہیل عادل سلام مسنون آپ نے بالکل صحیح نشاندہی کہ ہے ۔ لیکن قرآن کی ایک آیت میں اللہ تعالی نے بعثت رسول کا ایک مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ (ھُوَ الَّذِي ارْسَلَ رَسُولَہُ بِاالھدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْھِرَہ عَلَى الدِّينِ كُلِّہ وَلَوْ كَرِہ الْمُشْرِكُونَ) وہ ذات جس نے بھیجا اپنے رسول کوہدایت اور دین حق کے ساتھ، تاکہ غالب کرے اسے تمام ادیان پر، چاہے یہ بات مشرکوں کو ناپسند ہو (بری لگے)۔۔۔ یہاں"" یظہر ""سے مراد صرف دعوت اور اصلاح فرد ہے یا کچھ اور مراد بھی لی جا سکتی ہے ؟ اس حوالے سے معلومات میں اضافہ کر دیںگے تو ممنون رہوں گا۔ Last edited by راجہ اکرام; 26-01-09 at 08:51 AM. |
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تائید کا شکریہ راجہ بھائی ، اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ، آپ کے مندرجہ بالا سوال کا جواب ((((( و لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ::: اور یقینا تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات مبارک ) میں سب سے بہترین اور مکمل (عملی) نمونہ ہے ))) یا اللہ یہ نمونہ کس کے کام آئے گا ؟؟؟ ((((( لمن کان یرجو اللہ و الیوم الآخر و ذکر اللہ کثیرا::: اس کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کا خوب ذکر کرتا ہے ))))) راجہ بھائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اسوہ مبارکہ میں فرد فرد کو دعوت دینا ، اصلاح کرنا ، اور جب جہاں ضرورت ہوئی اپنا سب کچھ اللہ کے دین کی سربلندی کے میدان جہاد میں خرچ کرنا ہے ، حکومتوں یا اقتدار کے حصول کی تگ و دو نہیں ، حکومت و اقتدار اور دنیا میں تمکین عطا کرنے کا تو اللہ کی طرف سے ایمان لانے والوں اور ایمان کو عملی طور پر """ ظاہر """ کرنے والوں کے لیے وعدہ ہے، پس ہمیں وہ ظاہر کرنا ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ظاہر کیا اور اسی طرح جس طرح انہوں نے ظاہر فرمایا ، چند دن پہلے میں نے ایک مضمون """ میرا پاکستان """" میں ارسال کیا تھا ،اس کا مطالعہبھی فرمایے ، ان شا اللہ کچھ فائدہ مند معلومات میسر ہوں گئی ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#7 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
برادرم علمی گفتگو پر شکریہ قبول کیجئے۔ آپ نے بجا فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات ہمارے لئے اسوہ ہے۔ آپ نے فردا فردا دعوت دی، لوگوں کو دین کی طرف بلایا۔ لیکن جب مکہ میں 13 سالہ دعوتی پروگرام کے باوجود دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا مشکل کر دیا گیا تو آپ نے اللہ کے حکم سے مدینہ ہجرت کی۔ مدینہ جا کر آپ نے بلا شبہ دعوت جاری رکھی لیکن اس پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اسلامی حکومت قائم کی۔ قبائل کے ساتھ معاہدے کیے۔ اسی پر بس نہیں کیا بلکہ غزوات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اور آپ بہتر جانتے ہیںکہ ان میں سے دفاعی کتنے تھے اور اقدامی کتنے؟؟ اس کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ علیھم اجمعین کا دور زریں جنگوں اور معرکوں سے بھرپور ہے۔ بطور خاص سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور۔ کیوں کہ اسلام کی فطرت ہی ایسی ہے کہ "یعلو و لا یعلی علیہ" یہ غالب رہتا ہے اور کسی اور کا غلبہ اس پر نہیں ہوتا۔ اور اگر ہو جائے تو اسلام کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو سکتا۔ امت مسلمہ کے فرائض منصبی میںسے ایک فرض امر بالمعروف اور نھی عن المنکر ہے، اور یہ فرض اس وقت تک کما حقہ ادا ہی نہیںہو سکتا جب تک غلبہ حاصل نہ ہو، لیکن اگر حالات سازگار نہ ہوںاور مسلمان وسائل کے اعتبار سے کم ہوں تو "وقفہ امن" کے لئے معاہدے بھی کیئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کی مثال ہے۔ لیکن اس معاہدے کو حتمی تصور نہیں کیا گیا بلکہ فتح مکہ کا واقعہ بھی پیش آیا اور پورے عرب پر اسلام کا غلبہ ہو گیا۔ لیکن آپ یہیں نہیں رکے، حنین کا رخ کیا۔ میرے خیال میں پہلی امتوں کے انبیاء علیھم السلام دعوت پر اکتفا کرتے تھے لیکن، اسلام مغلوب ہونے نہیںبلکہ غلبہ حاصل کرنے آیا ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں |
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ،
راجہ بھائی ، آپ کے مکتوبہ بالا مراسلہ رقم 7 میں سب کچھ درست ہے بھائی ،کسی بات سے انکار تو کیا اس کی تاویل کی بھی گنجائش نہیں ، سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جب تک دنیا میں کوجود تھے ، خود اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے اپنی جان اور مال سے جہاد کرتے رہے ، دفاعی بہت کم اور اقدامی زیادہ ، ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد ان کے خلفا راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے پہلے دو خلفا رضی اللہ عنہما کے دور میں یہ کام مسلسل جاری رہا، اور پھر جب جب جہاں جہاں اللہ کو منظور ہوا ہوتا رہا ، اب بھی جہاد کا حکم وہی ہے ، اقدامی جہاد کے لیے خلیفہ علی منہج النبوۃ کا وجود ضروری ہے ، فرد فرد یہ کام نہیں کر سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کرنا اس کےلیے جائز ہے ، اور نہ ہی کوئی ایک جماعت یہ کام کر سکتی ہے ، اس کے لیے پہلا مرحلہ جو اب مفقود ہے اس کی پھر سے تکمیل چاہیے ، اور وہ ہے خلافت علی منہج النبوۃ ، اور یہ اللہ کے مقرر کردہ راستے ، اللہ کی سنت کے مطابق فردی فردی دعوت اور اصلاح سے ہی ہو پورا ہو سکتا ہے ، اللہ اگر چاہے تو اسے بھی """ کن """ سے مکمل کر سکتا ہے ، لیکن یہ اللہ کی سنت میں نظر نہیں آتا ، میری سابقہ گذارشات کا مقصد یہ ہی کہنا تھا کہ حصول حکومت کو ھدف بنا کر اپنی قوتیں اس کے صرف کرنا بے معنی ہے ، جب ہم اللہ کا دین اپنی ذاتوں پر نافذ کر لیں گے تو یقین جانیے اللہ اپنے وعدے کے مطابق ہمارا دین ہماری زمینوں پر نافذ اور مستحکم کر دے گا ، اپنی جانوں پرنفاذ میں ایک دوسرے کے لیےامر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ہے ، اور جب اللہ ہمارے لیے ہمارے دین کو مستحکم فرما دے گا تو ہمارے ماضی کی طرح پھر سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ، اور اقدامی ، اور دعوتی جہاد کے سارے راستے کھل جائیں گے ان شا اللہ ، رہامعاملہ دفاعی جہاد کا تو وہ اپنے موقع محل کے مطابق کیا ہی جائے گا اور کسی خلیفہ علی منہج النبوۃ کا انتظار نہیں کیا جائے گا ، جہاد کے بارے میں دو تفصیلی مضامین میں پہلے ارسال کر چکا ہوں ، ان شا اللہ ان کے مطالعے سے یہ موضوع کچھ مزید واضح ہو جائے گا ، ان مضامین کا ربط فورمز """ جہاد """ میں آپکے سوال کے جواب دیا تھا ، اور یہ مضامین بھی وہیں """ جہاد """ میں ہیں ، و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (05-02-09) |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
---------------------- |
|
|
|
|
| فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا | ماسٹر مقسود (06-02-09) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ،بھائی فیصل ناصر ، ماشا اللہ مختصر ترین اور بہترین جواب ہے ، جی ہاں اس دور کی اور ہر دور کی سب سے اہم ترین قابل توجہ ضرورت اللہ تعالیٰ پر اس کی ذات اور صفات پر اس کی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کی دی ہوئی خبر کے مطابق ایمان رکھنا ہے ، ایک دفعہ پھر جزاک اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (05-02-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فورمز, فرض, پاکستان, قدم, قرآن, لوگ, نظر, مکہ, مکمل, موقع, معاشرہ, ایمان, اللہ, بہترین, بھائی, جواب, حکم, خبر, زندگی, سال, صفات, صورتحال, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دھاگوں تک رسائی کیسے ممکن ہو | بزم خیال | تجاویز اور شکایات | 15 | 25-11-11 08:40 PM |
| جہیز بچا۔نہ ڈگری۔ غرییبوں کے توخواب بھی سیلاب بہا کرلے گیا | جاویداسد | خبریں | 0 | 18-08-10 10:36 PM |
| کیا بُرائی، اچھائی سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے؟ | خرم شہزاد خرم | نئے تخلیق کار | 6 | 07-05-10 01:19 AM |
| بچے قوم کا مستقبل ہیں۔۔ اس لئے زیادہ توجہ کے حق دار ہیں | راجہ اکرام | بچوں کی تعلیم و تربیت | 16 | 05-11-09 12:07 PM |
| آئی پی ایل کے میچز پاک بنگلہ دیش سیریز سے زیادہ دلچسپ ہیں | محمدعدنان | کرکٹ | 0 | 25-04-08 01:01 PM |