عید کارڈیا کرسمس کارڈ
8دسمبر 2002 ء کو نوائے وقت کے رنگین صفحےپر ایک مضمون شائع ہوا۔ عید مبارک اور انٹر نیٹ۔
اس میں پیارے پاکستانی بھائیوں کی خوشی کے لیے مرقوم تھا ۔
"آج سے کچھ عرصہ قبل مبارکباد کے لیے طبع شدہ کارڈ استعمال کیے جاتے تھے۔اور کارڈ پرنٹ کرنے والوں کا کام ان دنوں عروج پر ہوتا تھا۔ شہروں میں جابجا کارڈوں کے سٹال نظر آتے تھے۔ جن پر خریداروں کا ہجوم ہوتا تھا۔ لیکن جب سے انٹر نیٹ کے ذریعے میلنگ کا کام شروع ہوا ہے۔ تب سے مبارکباد بھیجنے کے لیے بھی ایک نیا میڈیم استعمال ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ یہ میڈیم انٹرنیٹ ویب سائٹس ہیں۔"
مضمون میں یہ بھی درج تھا کہ کس طرح مسلم امہ کا فرد اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو انٹرنیٹ کے ذریعے کارڈ بھیج سکتا تھا۔ اس مقصد کے لیے چند ویب سائٹس کے ایڈریس لکھے ہوئے تھے۔ جن کے ذریعے رمضان کارڈ، عید کارڈ، اور چاند کارڈ حاصل ہوسکتے ہیں۔ اور کارڈ کے انتخاب اور اس کو روانہ کرنے کا طریقہ بھی درج تھا۔ عید کارڈ کے متعلق تو ہم سنتے آئے تھے عید کے قریب ایسے کارڈ خریدنے کے لیے سٹالوں پر مردوزن کا ہوشربا ہجوم بیکراں بھی دیکھا لیکن رمضان کارڈ، اور چاند کارڈ نے یقینا ہمارے علم میں اضافہ کیا اور تیزی سے بڑھتی ہوئی کارڈوں کی اقسام نے ہمیں عید کارڈ کے تاریخی اور شرعی حیثیت پر کچھ لکھنے پر مجبور کیا۔ اور عید کے مبارک موقعے پر عید کارڈ بھیجنے کی رسم آج کل اتنی عام ہوچکی ہے کہ نصف رمضان گزر جانے کے بعد تقریبا 80 فیصد دکاندار اسے نفع بخش کاروبار سمجھتے ہوئے ضرور اس کا شغل فرماتے ہیں۔
سٹالوں پر پڑے ہوئے کارڈوں کے آ پ کو کئی روپ نظر آ ئیں گے۔ مثلا مساجد، روضہ رسول ﷺ یا گنبدوں والے کارڈ، انتہاءی نفاست سے پھول جڑے کارڈ، فلمی ستاروں کی تصاویر سے مبنی کارڈ جن میں حسیناؤں کے نیم عریاں بدنوں کی نمائش ہوتی ہے۔ مختلف زاویے بناتی یہ تصاویر والے کارڈ سب سے زیادہ سستے ہوتے ہیں۔ بعض کارڈ قرآنی آیات سے مزین ہوتے ہیں۔ تو بعض عشقیہ اشعار سے، کچھ میں انگریزی افکار کی ترجمانی ہوتی ہے چونکہ عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے۔ اس لیے میں نے اسلامی تاریخ اور کتب احادیث کو کنگھال ڈالا۔ کہ شاید صحابہ کرام ؓ تابعین یا آئمہ دین سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہو۔ یا اس کے بارے میں کوئی حدیث مروی ہو لیکن میں حاصل مراد تک نہ پہنچ سکا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دین یا شریعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ ہاں حقائق کی روشنی میں اس کی ابتدا اور اصل تاریخ کیا ہے ملاحظہ فرمایے۔
عید کارڈ کی تاریخ اور شرعی حیثیت
عید کارڈ کا تعلق عیسائیوں کے کرسمس کارڈ کے ساتھ ہے۔ عیسائی 25 دسمبر کو عیسی ٰ ؑکی پیدائش پر بڑے جوش خروش سے کرسمس ڈے منایا کرتے تھے رومن کیلنڈر کے مطابق سب سے پہلے 25 دسمبر 336 ء کو منایا گیا ۔ عیسائی اس دن اچھے کھانے پکاتے گھروں کی تزئین آرائش کرتے اور گرجا میں جاکر مذہبی گیت گایا کرتے تھے۔ یہاں سے یہ دیگرممالک کے عیسائیوں میں پھیلا اور انہوں نے اپنے اپنے انداز میں منانا شروع کر دیا۔ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس دن کے منانے میں تبدیلیاں آتی رہیں۔
کسی نے سانتا کلاز کے تحائف کے تبادلے کی ابتداء کی تو کسی نے سبزے سے گھروں کو سجانے کی۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں کرسمس ڈے پر دو اور چیزوں کا اضافہ ہوا۔ ایک تو کرسمس ٹری (25 دسمبر کو درختوں کو روشنیوں سے سجانے کی رسم) اور دوسرا کرسمس کارڈ تھے جو 25 دسمبر کے قریب دکانوں پر فروخت ہوتے اور اپنے ملنے والوں کو بھیجے جاتے ۔ انیسویں صدی تک کرسمس کارڈ ایک باقاعدہ رسم اور تجارتی کمپنیوں کے لیے کاروبار کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انگریز اپنی مکاریوں سے برصغیر پر قابض ہوچکا تھا۔ مسلمان زبوں حالی کی زندگی گزار رہے تھے ۔
ایسے وقت میں فاتح قوم کے رسوم رواج مفتوح قوم میں داخل ہورہے تھے۔ برصغیر میں انگریز، ہندو، سکھ، اور مسلمان سبھی اپنی اپنی ثقافت کے لیے موجود تھے۔ سادہ دل مسلمان اگر ایک طرف ہندووں کی دیوالی اور بسنت جیسے تہواروں میں شامل ہوتے۔ تو دوسری طرف کئی مسلمان دانشور انگریزی لباس پہنے چہرے کو اسی وضع میں تراش رہے تھے چنانچہ اس دور میں جب عیسائی اپنے قومی تہوارمیں ایک دوسرے کو کرسمس کارڈ بھیجتے۔ تو ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی ایک دوسرے کو کارڈ بھیجنے شروع کر دیے۔ یہیں سے عید کارڈ کی رسم جاری ہوئی ۔
تقسیم ہند کے بعد یہ رسم بھی ہم اپنے ساتھ لے آئے۔ جو آہستہ آہستہ ہماری زندگی میں اسی طرح شامل ہوگءی۔ جس طرح بسنت ، سالگرہ یا برسی داخل ہوگئی ہیں۔ آج ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ عید کارڈ ، عید یا رمضان کے ساتھ خاص مذہبی تعلق رکھتے ہیں۔ اور یہ فریضہ ادا کیے بغیر شاید عید ہی مکمل نہیں ہوتی۔ حالانکہ یہ کرسمس کارڈ کا چربہ ہیں۔ اس میں کفار کی مشابہت ہے۔ کیا عید کارڈ بھیجنے والوں تک رحمت عالم ﷺ کا یہ فرمان نہیں پہنچ سکا۔
(( خالقوالیھود والنصاریٰ))
تم یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرو۔
اور یہ مخالفت کرنا ہی سنت نبوی ﷺ ہے۔ کتنے ہی معاملا ت میں نبی ﷺ نے خود ان کی مخالفت کی ۔ مثال کے طور پر مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا حکم، یہود 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے تو آ پ ﷺ نے 10 کے ساتھ 9 کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ عیسائی روزہ بغیر سحری کے رکھتے اور افطاری میں دیر کرتے۔ آپ ﷺ نے سحری کھانے اور افطاری میں جلدی کا حکم دیا۔ دوسری طرف ہم ان کے امتی ہوکر مخالفت کی بجائے موافقت کررہے ہیں۔ کیا اپنے عمل سے نبی ﷺ کے فرمان کی مخالفت کرنا نبی ﷺ کی مخالفت کے زمرے میں نہیں آتا۔
ہم میں سے کوئی بھی مسلمان اپنے آپ کو عیسائی کہلوانا پسند نہیں کرتا ۔ لیکن اپنی چال ڈھال ، وضع قطع، لباس افکار و خیالات سے نجانے کیوں عیسائی بننا پسند کرتا ہے۔ جبکہ رسول مکرم ﷺ کا فرمان ہے۔
(( من تشبہ بقوم فھو منہم))
جس نے جس قوم کی مشابہت کی ، وہ انہی میں سے ہے۔
تو پھر سن اے سچے مسلمان ۔۔۔۔ یہود و نصاریٰ کی ہر رسم ہماری تہذیب کے لیے خنجر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور ہم ان خنجروں سے اپنی تہذیب کا شفاف چہرہ داغدار کر رہے ہیں۔ اگر یہی حال رہا توتمہاری تہذیب اپنے ہی خنجر سے خود کشی کرے گی۔
شا خ نا ز ک پہ جو آ شیا نہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اقبال بھی ہماری ادائیں دیکھ کر تڑپ اٹھے تھے۔اور انہوں نے رلا دینے والے انداز میں کہا تھا۔
وضع میں تم نصا ر یٰ ہو تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں کہ جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
کتاب "غیر مسلم تہوار بے حیائی کا بازار" سے انتخاب
تحریرتفضیل احمد ضیغم