واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


مسلمانو! اپنے مقدّسات کے تحفظ کی خاطر اٹھو !

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-08, 01:56 PM   #1
مسلمانو! اپنے مقدّسات کے تحفظ کی خاطر اٹھو !
پیاسا پیاسا آف لائن ہے 26-08-08, 01:56 PM

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسلمانو!
اپنے مقدّسات
کے تحفظ کی خاطر اٹھو !
شیخ اسامہ بن محمد بن لادن حفظہ اللّٰہ
کا عید الفطرکے اجتماع سے خطاب
( شو ال ۰۲۴۱ ھ ۔ جنوری ۰۰۰۲ء قندھار، افغانستان )
مترجم : حافظ عمّار صدّیقی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسلمانو!…اس شخص کی بات غور سے سنو …
جس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمہارے ہی فائدے کی بات کر رہا ہے
اس کے دعوے کو اس کے دلائل پر پرکھو
اگر یہ غلط ہوں تو تمہیںیہ حق ہے کہ اسے غلط کہو
لیکن اگر یہ دلائل درست ہوں تو پھر یہ اُس کا حق ہے کہ تم اس کا ساتھ دو!
اگر تم اس کے دوستوں کو نہیں جانتے تودیکھو کہ اس کا دشمن کون ہے؟کیونکہ چیزیں اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں!
کیا تم یہ جانتے ہو کہ امت کے بارے میں یہ شخص کیا سوچتا ہے؟
کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس شخص کے دشمن کے عزا ئم خود تمہارے بارے میں کیا ہیں؟
کیا تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ صلیبی صیہونی حملوں کے خلاف تمہاری طرف کے مورچے کس نے سنبھال رکھے ہیں؟ باطل کے تیروں کا رخ کس طرف ہے؟
جو لوگ تمہیں باطل سے مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں … جو باطل کواپنے بے ضرر ہونے کی سند دے چکے ہیں،اُن سے پوچھو کہ ’’ا مت کو ذلت سے نکالنے کے لئے تمہارے پاس کیا لائحہ ء عمل ہے؟ … یہود و نصاریٰ کی گولیوں کا تمہا رے پاس کیا جواب ہے؟‘‘ … ان سے شرعی دلیل مانگو!
مسلمانو!
اللہ کی کتاب کھولو…اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوے ا ور سلفِ صالحین کے منہج کوسمجھو… حق کو پہچانو…حق والوں کو خود ہی پہچان جائو گے !
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خطبہء اُولیٰ
یقیناً تمام تعریف کی مستحق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ہم اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے مغفرت و ہدایت طلب کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفسوں کے شراور اپنے اعمالِ بد کے برے نتائج سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔اور میںگواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا ا تَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوتُنَّ اِلَّا وَ اَنتُم مُّسلِمُونَ (اٰل عمران:۲۰۱)
»اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو«
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُم مِّن نَّفسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنھَا زَوجَھَا وَ بَثَّ مِنھُمَا رِجَا لًا کَثِیرًا وَّ نِسَآئً وَا تَّقُوا اللّٰہَ الَّذِی تَسَآئَلُونَ بِہٖ وَالاَرحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیکُم رَقِیبًا (النسآء :۱)
»لوگو!اپنے ربّ سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتوں اور قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے«
یٰٓاَیُّھَاالَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُولُوا قَولًا سَدِیدًا یُّصلِح لَکُم اَعمَالَکُم وَ یَغفِر لَکُم ذُنُوبَکُم وَمَن یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُولَہ فَقَد فَازَ فَوزًا عَظِیمًا (الاحزاب:۱۷۔۰۷)
»اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کیا کرو۔ (اس کے صلے میں)وہ تمہارے سب اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی پا گیا«
ا مّا بعد!آج ا مّتِ مسلمہ پر عیدایک بار پھر لوٹ آئی ہے۔ عید کا یہ مبارک دن ہم پربھی اپنی تمام تر خوشیوںسمیت طلوع ہوا ہے۔ حق تو یہ تھا کہ ا مّت کا ہر فرد اس خوشی میں برابر کا شریک ہوتا،مگر افسوس کہ یہ عیداپنے دامن میں بہت سی خوشیوں کے ساتھ ساتھ بے پناہ غم بھی سمیٹے ہوئے ہے۔امّت ِ مسلمہ آج سنگین مسائل سے دوچار ہے۔
یہ عید ماہِ جہاد کے بعد آئی ہے… ماہِ قرآن کے بعد آئی ہے… رمضان کے مبارک مہینے… ماہِ ِصیام و قیام اور ماہِ تقویٰ کے بعد آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا کُتِبَ عَلَیکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبلِکُم لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ (البقرۃ: ۳۸۱)
»اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کےے گئے جیسا کہ تم سے پچھلے لوگوں پر فرض کےے گئے تھے، توقع ہے کہ اس سے تم میں تقویٰ پیدا ہو گا«
اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ مبارک مہینہ عطا کیا تاکہ ہم تقوے میں آگے سے آگے بڑھ سکیں۔
تقویٰ ہمیں شریعت کے احکام کی پابندی اور اس عظیم دین کے حقوق ادا کرنے کی طاقت عطا کرتا ہے۔ تقوے کے بغیرہمارے لےے سیدھی راہ پر قائم رہنا ہر گزممکن نہیں۔ اس دین کے احکامات بڑے زبردست اور بھاری ہیں، مگر اللہ جس سے محبت رکھے اس کے لےے ان احکامات پر عمل کرناآسان بنا دیتا ہے…اور اس دین کے بعض احکامات تو ایسے ہیں جو انسانی طبیعت پر انتہائی شاق گزرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
کُتِبَ عَلَیکُمُ القِتَالُ وَ ھُوَ کُرہٌ لَّکُم وَ عَسٰٓی اَن تَکرَھُوا شَیئًا وَّ ھُوَ خَیرٌ لَّکُم وَعَسٰٓی اَن تُحِبُّوا شَیئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُم وَ اللّٰہُ یَعلَمُ وَ اَ نتُم لَا تَعلَمُونَ (البقرۃ: ۶۱۲)
»تم پر قتال فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار گزرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تمہیں ایک چیز ناگوارہو اور وہی تمہارے لےے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تمہیں ایک چیز پسند ہو اور وہی تمہارے لےے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے«
جہاداسلام کا افضل ترین عمل ہے،جس کے لئے (حدیث میں) ذِروَۃُ سِنَامِ کے الفاظ آئے ہیں …اور یہ عمل وہی شخص کر سکتا ہے جسے اللہ توفیق بخشے اور تقویٰ کے مراتب پہ فائز کرے، اسی لےے ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی متقین میں شامل فرمائے!
آج ،جب ہم یہاں بیٹھے عید منا رہے ہیں تو ہمارے ہی بہت سے مسلمان بھائی مقبوضہ فلسطین میں اپنی عید گزار رہے ہیں۔ اسی طرح عید کا یہ دن لبنان، عراق، سوڈان اور صومالیہ کے رہنے والوں پر بھی طلوع ہوا ہے۔ یہ عید بوسنیا اور شیشان میں بھی منائی جا رہی ہے… اورآپ کو کیا معلوم کہ ہمارے شیشانی بھائیوں کی عید کن حالات میں گزر رہی ہے ؟! وہ ایک ایسی سرزمین پر عید منا رہے ہیں جو گولہ بارودکے دھماکوںسے بری طرح لرز رہی ہے… جہاں صبح و شام معصوم لوگوں پر ہوائی جہازوں سے آگ برسائی جا رہی ہے …ایسے کمزور اور بے بس لوگوں پر جن کا اللہ کے سوا کوئی سہارا اور کوئی دفاع نہیں… جہاں تمام عالمِ کفر، اسلام اور ا ہلِ اسلام کو مٹانے کے لےے کمر کس چکا ہے …شہر اور قصبے تباہ اور گھر مسمار کےے جا رہے ہیں…معصوموں کا لہو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے… عزتیں لوٹی جا رہی ہیں… آہ… کہ آج دنیا میںمسلمانوں کے خون سے ارزاں کوئی شے نہیں، لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ! مسلمانوں کے زخم گہرے ہیں … بہت گہرے !یہ زخم امّت کے جسم پر جابجا لگے ہوئے ہیں …
لیکن آج امّت کا سب سے گہرا گھائو وہ ہے جو د شمنوں نے اس کے مقدس ترین مقام، اللہ کے گھر… بیتِ عتیق…خانہ ء کعبہ کی سرزمین پہ لگایا ہے… اس سرزمین پہ جہاں ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے۔اس سے پہلے ہماری ہی غفلتوں اور اغیار کی سازشوں نے ہم سے ہمارا قبلۂ اول اور واقعۂ معراج کی یادگار، مسجدِ اقصیٰ چھنوائی۔آج صلیبی صیہونی اتحاد ہمارے دوسرے مقدس مقام، سرچشمہء اسلام، سرزمینِ حجاز میں اپنے ناپاک پنجے گاڑ چکا ہے۔ اور یقینا ہمارے پاس ا للہ بزرگ و برتر کے سوا کوئی بچائو اور قوت نہیں۔ بلاشبہ ہمارے باقی زخم بھی رس رہے ہیں، لیکن سرزمینِ مکہ و مدینہ پر لگنے والا یہ گھائو سب سے زیادہ تکلیف دہ ،اور سب سے زیادہ ہیبت ناک ہے۔
yاس سرزمین کی عظمت سے کون واقف نہیں؟یہاں خانہ ء کعبہ ہے، دنیا کی سب سے پہلی عبادت گاہ،جو لوگوں کے لئے بنائی گئی ! اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس مبارک گھر کی تعمیر کے لےے ایک صاحبِ عزم ہستی ابوالانبیاء ؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کوچنا … کیوں؟ اس لئے کہ ربّ العزت اپنے اس گھر کی عزت و توقیرکو ظاہرفرمانا چاہتا تھا، چنانچہ اس گھر کی تعمیرمعماروں اور مزدوروںکے بجائے دو معزز ترین نبیوں سے کروائی۔ اس گھر کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری پنجگانہ نمازیں اس وقت تک قبول نہیں ہوتیں جب تک اس کی طرف رخ نہ کر لیا جائے۔
نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر آج تک …اس امّت کی پوری تاریخ میں، ہم پر کبھی اتنی بڑی مصیبت نہیں ٹوٹی۔کفار کو کبھی بھی یہ جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ اللہ کے گھر کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائیں۔البتہ نبی ٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عیسائیوں نے ایک بار ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔ تب کفر کا سرغنہ ابرہہ،ساٹھ(۰۶ )ہزار کا لشکر لے کر نکلا تھا تاکہ اللہ کے گھرکو(نعوذبا للہ من ذٰلک) تباہ کیا جا سکے۔ اہلِ عرب جاہلیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں تھے مگر کعبہ شریف کی تعظیم ان چند چیزوں میں سے تھی جو دینِ ابراہیمی ؑ کی یادگار کے طور پر ابھی تک اُن کے ہاں باقی تھیں۔ چنانچہ جب عیسائیوں کے لشکر نے پیش قدمی کی تو کئی عرب قبائل ،باوجود اس کے کہ وہ خود جاہلیت کے پیرو کار تھے ،ان فوجوں کا راستہ روکنے کے لےے میدان میں آگئے۔ ان قبائل نے اپنے وجود کو محض خانہ ء کعبہ کے دفاع کی خاطر خطرے میں ڈالا، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ ابرہہ کے لشکرنے ان قبائل کو کچل ڈالااور آگے بڑھتا گیا ، یہاں تک کہ طائف تک پہنچ گیا۔
اب ابرہہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو اسے کعبہ تک کا رستہ دکھائے ، وہاں اسے ملا بھی توکون؟… زمانے کا ایک بد بخت ترین آدمی ،جس نے غاصبوں کو بیت اللہ تک پہنچانے کے لےے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس شخص کا نام ابو رغال تھا۔ اس نے اللہ کے گھر کے خلاف ناپاک عزائم لے کر آنے والوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا۔ کتنا برا تھایہ رہنما … جس نے ایسی ذلّت کمائی ۔ اللہ عزو جل نے مکہ اور طائف کے درمیان ہی ا س ظالم پہ موت مسلط کر دی… لیکن مرنے کے بعد بھی لوگوں کی نفرت سے اس ملعو ن کی جان کہاں چھوٹنے والی تھی… چنانچہ انہوں نے ابو رغال کی قبر پر پتھر برسانے کی رسم جاری کر دی تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور آئندہ کوئی بھی شخص کعبۃ اللہ کے خلاف کسی سازش میں شریک ہونے کی جرأت نہ کر ے ۔ جاہلیت زدہ ہونے کے باوجود لوگوں نے اس طرح کعبے کی پاسبانی کی۔
-ابھی ا برہہ ملعون کا لشکر آگے بڑھنے کی کوششوں میں تھا کہ ہمارے قہار و جبار ربّ نے ایک معجزہ دکھانے کا فیصلہ کیا۔ لشکر کے ہاتھیوں نے اپنے طرزِعمل سے دنیا والوں کے سامنے اس امر کی شہادت دی کہ یہ گھر اللہ کا گھر ہے… اور اس گھر کی تعظیم کرنا واجب ہے ، چنانچہ اپنے ربّ کی عظمت اور جلال کے باعث ہاتھی زمین پر بیٹھ گئے۔یہ بے زبان جانور بھی جانتے تھے کہ اس گھر کی حرمت کس قدر ہے۔ انہیں مارا گیا، نیزوں سے کچوکے دیے گئے ،مگر وہ کسی بھی طرح اللہ کے گھر کی طرف …ایک قدم تک بڑھانے کے لئے تیار نہ ہوئے، کیونکہ وہ اس گھر والے کی عظمت سے واقف تھے۔
عبدالمطلب نے خانہ ء کعبہ کے دفاع کی ٹھانی، مگر دفاع کیسے ممکن ہوتا جب کہ ایک طرف ساٹھ ( ۰۶) ہزار کا لشکر تھا اور دوسری طرف ا ہلِ مکہ کی کل آبادی ہی اس وقت چند سو تھی ۔ چنانچہ وہ بیت اللہ سے چمٹ گئے اورلگے اللہ کے دربار میں آہ و زاری کرنے۔ رو رو کر دعائیں مانگیں کہ اے اللہ!تو ہی اپنے گھر کی حفاظت فرما!اس کے بعد یہ سب قریش والے اپنے چھوٹوں بڑوں کو لے کے حرم کی قریبی پہاڑیوں پہ چڑھ گئے…یہ دیکھنے کے لئے کہ اب ہوتا کیا ہے؟
عزت و جلال والے ربّ نے ا س موقع پراپنی ایک اور عظیم نشانی نازل فرمائی۔ اللہ نے پرندوں کے جھنڈ اس گھر کے دفاع کے لیے بھیجے۔ مقابلہ اہلِ ایمان اور کفار کا نہیں ، مشرکینِ قریش اوراہلِ کتاب عیسائیوں کا تھا،مگر خانہء کعبہ ایسی عظمت والا مقام ہے کہ اللہ نے پھر بھی ابابیلوں کو بھیج کراس گھر کا دفاع کیا اورساٹھ ( ۰۶) ہزار عیسائیوں کے لشکر کو چند پرندوں کے ہاتھوں مروا ڈالا۔ ان میں سے ہر ایک ظالم چن چن کر مارا گیا ، اللہ ایسوں کے لئے پروا بھی نہیں فرماتا کہ وہ کس وادی میں گر کر ہلاک ہوتے ہیں۔
ربِّ کعبہ نے سات آسمانوں کے اوپر سے اسی متعلق ایک سورۃ نازل فرمائی جس کی تلاوت قیامت تک کی جاتی رہے گی اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی جسے اپنے سینوں میں محفوظ رکھیں گے۔ اس مبارک سورۃ، یعنی سورۃ الفیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ربّ ِ ذو لجلال اپنے گھر کے بارے میں کتنا غیرت مند ہے۔ یہ سور ئہ مبارکہ ہمیں پیغام دیتی ہے کہ اللہ کے گھر کے خلاف سازش کرنے والوں کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اَلَم تَرَ کَیفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصحٰبِ الفِیلِ اَلَم یَجعَل کَیدَھُم فِی تَضلِیلٍ o ( الفیل: ۲۔۱ )
»کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اس نے اُن کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟«
یقیناً ایسا ہی ہوا! اللہ نے ان کی ساری چالیںناکام کر دیں اور بیت اللہ کو خراش تک نہ آئی۔
یہ ایسی عظمت والا گھر ہے کہ اس کی خاطر اللہ تعالیٰ شوکت و قوت والی ایک پوری فوج تباہ کرڈالے گا ، جیسا کہ صحیح ا حا دیث میںوارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یَغزُو جَیشٌ الکَعبَۃَ…یُخسَفُ بِاَوَّلِھِم وَ اٰخِرِھِم
(( قیا مت کے قریب اللہ کے گھرکو گرانے کے لئے)ایک لشکرکعبے پر چڑھ آئے گا … اوّل سے آخر تک یہ سب لوگ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے)
( پوچھا گیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !)
…فِیھِم اَسوَاقُھُم وَ مَن لَیسَ مِنھُم
(…اُن میں تو ان کے بازار(اور بازاروالے یاراہ چلتے لوگ )بھی ہوں گے اور وہ بھی جو اُن میں سے نہیں ہوں گے(یا جنہیں زبردستی نکلنے پر مجبور کیا گیا ہو گا))
قَالَ: یُخسَفُ بِاَوَّلِھِم وَ اٰخِرِھِم ثُمَّ یُبعَثُونَ عَلٰی نِیَّاتِھِم
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، پھر قیامت کے دن یہ سب اپنی اپنی نیتوں پراٹھائے جائےں گے)
( بخاری: کتاب البیوع ،باب ما ذکر فی الأسواق۔مسلم :کتاب الفتن و أشراط الساعۃ )
دیکھ لیجئے اس گھر کے خلاف سازش کرنے والوں کی ہم نشینی کا انجام! دیکھ لیجئے اس گھر کے دفاع سے ہاتھ کھینچنے کا انجام!اگر آپ کومجبور کیا جا رہا ہو تب بھی ایسوں کا ساتھ دینے کا نتیجہ یہی ہو گا۔بے شک اس محترم گھر کے دشمنوں کے ساتھ چلنے والا زمین میں دھنسا دیے جانے کا مستحق ہے۔ ہم ایسی رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
الغرض ہاتھی والوں کے عبرت ناک انجام کے بعد امّت ِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چودہ سو( ۰۰۴۱) سالہ تاریخ میں دوبارہ کوئی ا بو رغال پیدا نہیں ہوا … لیکن آج ایک مرتبہ پھر اللہ کو ہمارا امتحان مقصود ہے …وہ ہمارے ایمان کو آزمانا چاہتا ہے… یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اس کے گھر کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کون بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے ؟
7…چنانچہ آج ا مّت کو ایک بارپھرابورغال اور اولاد ِ ابو رغال کا سامنا ہے۔ یہ لوگ مکہ و مدینہ کی سرزمین کو اُجاڑنے کے درپے ہیں…یہ اس لیے اٹھے ہیں کہ یہاں ہر طرف امریکی ا ڈّوں کا جال بچھ جائے… یہ پاک مٹی ان کے ٹینکوں تلے روندی جا سکے۔ آج یہ مقدس زمین ا مریکی فوجیوں کی چراگاہ اور یہود و نصاریٰ کی صاحبزادیوں کی تفریح گاہ بن چکی ہے…یہ ناپاک وجود اُس زمین کو اپنے پیروں تلے روند رہے ہیں ،جو ہمارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش ہے، جہاں جبریلِ ؑامین آ سمان سے وحی لے کر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتے تھے۔
اس سرزمین کی شان اتنی بلند ہے کہ اللہ کے نزدیک دنیا کاسب سے محبوب علاقہ بھی یہی ہے ،جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے…اورآپ کیا جانیںکہ یہاں واقع بیت اللہ، اللہ کے نزدیک کتنی عظمت کا حامل ہے؟اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں ہمیں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے ، مگر کئی حکمتوں کی بنا پرسورۃ القریش میں یہ حکم بیت اللہ العتیق کے ذکرکے ساتھ دیاگیا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
فَلیَعبُدُوا رَبَّ ھٰذَا البَیتِ الَّذِی اَطعَمَھُم مِّن جُوعٍ وَّ اٰمَنَھُم مِّن خَوفٍ o (القریش :۳۔۴)
» پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے ربّ کی عبادت کریں،جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو عطا کیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا«
اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی عزت و عظمت کے اظہار کے لیے اس کی نسبت اپنی طرف فرمائی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
بِوَادٍ غَیرِ ذِی زَرعٍ عِندَ بَیتِکَ المُحَرَّمِ (ابراہیم: ۷۳)
»(میں نے اپنی کچھ اولاد ) اس بے کھیتی کے جنگل میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس ( بسائی ہے)«
یہ تو ممکن نہیں کہ اس مختصرسے خطبے میں اس گھر کے تمام فضائل کا احاطہ کیا جاسکے،بس اجمالاً یہ کہ اس گھر کی شان، اہمیت اور عظمت کو ذہنوں میں راسخ اور دلوں میں پیوست کر لینا چاہیے۔ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بد نصیبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
اَبغَضُ النَّاسِ اِلَی اللّٰہِ ثَلاَ ثَۃٌ: مُلحِدٌ فِی الحَرَمِ…
(بخاری: کتاب الدیّات)
( اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ترین آدمی تین ہیںپہلا ان میں) وہ شخص (ہے )جوحرم میں الحاد ( ز یا د تی ) کا مرتکب ہو…)
حرم میں (معمولی سا ) گناہ (یا اس کا ارادہ)کرنے کو بھی ’’الحاد‘‘ کہا گیاہے،حالانکہ ’’الحاد‘‘ کتنی سخت چیز ہے۔ بیت اللہ العتیق میں…اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حرم میں … گناہ اور نافرمانی کے ارتکاب پر کئی گنا سخت پکڑ ہوتی ہے ،کیونکہ جس طرح حرم میں نیکیوں کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جیسے ایک رکعت ایک لاکھ رکعات کے برابر ہو جاتی ہے،اسی طرح یہاں ایک معمولی سا گناہ بھی کئی گنا شدت وسنگینی کا حامل بن جاتا ہے ۔
یہاںیہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک مسلمان اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نصرت اوراس کے گھرکے دفاع سے غافل ہو کر بیٹھے رہیں گے؟ دنیا بھر کے اہلِ ایمان آخر کب اُٹھیں گے ؟ …کب صلیبیوں اور صیہونیوں کی نجاست سے اس مقدّس زمیں کو پاک کریں گے؟ یہ تو اللہ ربّ العزت کا حکم ہے :
یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اِنَّمَا المُشرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقرَبُوا المَسجِدَ الحَرَامَ بَعدَ عَامِھِم ھٰذَا (التوبۃ: ۸۲)
»اے ایمان والو! مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں! پس وہ اس سال کے بعد مسجد ِ حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں«

کیا مسلمان یہ بھول گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے مرض الموت میں ایسا ہی حکم صادرفرمایا تھا ۔ ایک حدیث میںمروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا :
یَومُ الخَمِیسِ وَ مَا یَومُ الخَمِیسِ!
(جمعرات کا دن ،ہائے جمعرات کا دن !)
پھرآپؓ اتنا روئے کہ آپ ؓکے آنسوؤں سے زمین کی کنکریاں بھیگ گئیں…پھر آپؓ نے فرمایا :
اِ شتَدَّ بِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَجَعُہ
(اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تھی)
اور اسی بیماری کے عالم میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وصیت فرمائی کہ:
اَخرِجُوا المُشرِکِینَ مِن جَزِیرَۃِ العَرَب
(مشرکوں کو جزیرئہ عرب سے نکال دو) (بخاری:کتاب الجھاد و السیر)

قیامت کے دن جب ان احکامات کے بارے میں پوچھا جائے گا تو ہم کیا جواب دیںگے؟ یومِ حساب میں اللہ کا سامنا کرنے کے لیے ہم نے کیا تیاری کی ہے؟ کیا ہم یہ بہانہ بنائیں گے کہ ہم مستضعفین تھے؟…بے بس تھے؟ اللہ تو ہمارے دلوں تک کے احوال سے باخبر ہے!یہ امّت آج تباہی و بربادی کی تاریک اور گہری کھائی کے کنارے کھڑی ہے!
امریکی افواج کو سرزمینِ مکہ ومدینہ میںداخل ہوئے دس (۰۱)سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہء اسرا و معراج کی یادگار، قبلہ ء اوّل پر یہود کا قبضہ ہوئے تقریباً ستّر (۰۷) سال ہونے کو ہیں…ہم اس ذلت و غلامی کے دور میں جی رہے ہیں! اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم کتاب اللہ کی طرف واپس لوٹیں،اسی سے اپنی بربادی کے اسباب اور اپنے امراض سمجھیں ،اسی سے راہ نجات معلوم کریں ۔اس کتاب سے پوچھیں کہ کیوں ہم اس حال کو پہنچے کہ اللہ کے گھر… اس عظمت والے گھر، جس کا پروانہ وار طواف کےے بغیر ارکانِ اسلام کا ایک بنیادی رکن مکمل نہیں ہوتا…کیوں ہم اس کی حفاظت میں ناکام رہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن پر غوروفکر شروع کریں ،کیونکہ یہی وہ جامع ہدایت نامہ ہے جو ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

 
پیاسا's Avatar
پیاسا
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 481
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پیاسا کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (06-06-11), عروج (16-10-11)
پرانا 26-08-08, 02:00 PM   #2
Senior Member
 
پیاسا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,856
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسلمانو! اپنے مقدّسات کے تحفظ کی خاطر اٹ

اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں :
مَا فَرَّطنَا فِی الکِتٰبِ مِن شَیئٍ (الانعام:۸۳)
» ہم نے کوئی چیز نہیں چھوڑی (جس کا تذکرہ) اس کتاب میں نہ ہو«
یہ کتاب بڑی وضاحت سے ہمیں بتاتی ہے کہ قتال سے منہ پھیرنا اور دنیا کی محبت میں غرق ہوناہی ہماری مشکلات اور ہماری ذلت و خواری کا بنیادی سبب ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی پاک کتاب میں فرماتے ہیں :
Hاَ لَم تَرَ اِلَی الَّذِینَ قِیلَ لَھُم کُفُّوا اَیدِیَکُم وَ اَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰ تُواالزَّکٰوۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیھِمُ القِتَالُ اِذَا فَرِیقٌ مِّنھُم یَخشَونَ النَّاسَ کَخَشیَۃِ اللّٰہِ اَو اَشَدَّ خَشیَۃً وَ قَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبتَ عَلَینَا القِتَالَ لَو لَآ اَخَّرتَنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیبٍ قُل مَتَاعُ الدُّنیَا قَلِیلٌ وَ الاٰخِرَۃُ خَیرٌ لِّمَنِ اتَّقٰی وَ لَا تُظلَمُونَ فَتِیلاً اَ ینَ مَا تَکُونُوا یُدرِککُّمُ ا لمَوتُ وَ لَو کُنتُم فِی بُرُوجٍ مُّشَیَّدَۃٍ (النسآئ:۷۷۔۸۷)
»کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھواور نمازیں پڑھتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔پھر جب انہیں قتال کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے، بلکہ اس بھی زیادہ، اور وہ کہنے لگے: اے ہمارے ربّ! تو نے ہم پر قتال کیوں فرض کردیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی اور مہلت دی؟ان سے کہو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور پرہیزگار وں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا۔رہی موت، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو«
اللہ اکبر…کتنا عظیم ہے وہ ربّ جس نے یہ مکمل اور ہمہ گیر منہج ہمیں عطا فرمایا!ذرا غورکیجئے ان آیات پر۔ اللہ فرماتے ہیں :
قَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبتَ عَلَینَا القِتَالَ لَو لَآ اَخَّرتَنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیبٍ
»کہنے لگے : اے ہمارے ربّ! تو نے ہم پرقتال کیوں فرض کر دیا؟ کیوں نہ ہمیں کچھ اور مہلت دی؟«
یہ مہلت مانگنے والے، قتال کو مؤخر کرنے کی باتیں کرنے والے ہمیشہ سے یوں ہی بہانے بناتے چلے آئے ہیں،ان کی مانگی ہوئی مہلت کبھی ختم نہیں ہوتی ،بہانے بازی کایہ سلسلہ یونہی چلتا جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان کے بہانوںکی تفصیل بیان نہیں فرمائی بلکہ جواباً ان بہانوںکی تہہ میں چھپے اصل مرض پر سے پردہ اٹھا دیا اور فرمایا:
قُل مَتَاعُ الدُّنیَا قَلِیلٌ
»ان سے کہو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے«
یہ ہے بہانوں کی جڑ…دنیا اور اس کی زندگی سے لگائو! اللہ ربّ العزت ہمیں، ہم سے بہتر جانتے ہیں اور ہمارے سینوں میں چھپے ’’حبُّ ا لدُّنیا‘‘کے مرض کے علاج کے لئے ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ دنیا کی زندگی اور اس کی نعمتیں بس ایک مختصر سی مدت کے لیے ہیں۔لیکن اس کے باوجود ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہم اُس جان کو اللہ کی راہ میں کھپانے سے گریز کرتے ہیںجواللہ ہی نے ہمیں دی ہے!…اور اپنا یہ مال اس کی راہ میں لگاتے ہوئے کنجوسی کرتے ہیں جو محض اللہ کی عطا ہے؟
قُل مَتَاعُ الدُّنیَا قَلِیلٌ وَ الاٰخِرَۃُ خَیرٌ لِّمَنِ ا تَّقٰی وَ لَا تُظلَمُونَ فَتِیلاً
»ان سے کہو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا«
دنیا کی محبت اور موت کاخو ف دونوں باہم لازم و ملزوم ہیں،چنانچہ اگلی آیت اس تعلق کو واضح کرتے ہوئے ،دنیا سے محبت رکھنے والوں کو مخاطب کرکے، بڑی صراحت سے کہتی ہے کہ :
اَینَ مَا تَکُونُوا یُدرِککُّمُ ا لمَوتُ وَ لَو کُنتُم فِی بُرُوجٍ مُّشَیَّدَۃٍ
»تم جہاں بھی ہو گے موت تمہیں آن پکڑے گے خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو«
پس اللہ تعالیٰ جس کسی کی بصیرت کو ایمان کے نور سے منور کردے ،وہ ان آیات کا پیغام سمجھ کر اپنی جان اس ربّ کی راہ میں پیش کردیتا ہے جو اس کا خا لقِ حقیقی ہے۔
اے آدم کے بیٹے ! تعجب ہے تیرے رویے پر ! تو وہ چیز خرچ کرنے میں کنجوسی کرتا ہے جس کا مالک تو خود نہیں۔ تیرے جان و مال تو اللہ ربّ العزت کی ملکیت ہیں ، پھر یہ بخل کیسا؟اپنے مالک کے اس فرمان پر غور کر :
اِنَّ اللّٰہَ اشتَرٰی مِنَ المُؤمِنِینَ اَنفُسَھُم وَاَموَالَھُم بِاَنَّ لَھُمُ الجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَیَقتُلُونَ وَ یُقتَلُونَ وَعدًا عَلَیہِ حَقًّا فِی التَّورٰ ۃِ وَالاِنجِیلِ وَالقُراٰنِ وَ مَن اَوفٰی بِعَھدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاستَبشِرُوا بِبَیعِکُمُ الَّذِی بَایَعتُم بِہٖ (التوبۃ: ۱۱۱)
» یقینا اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لےے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میںقتال کرتے ہیں ،جس میں قتل کرتے بھی ہیں او ر قتل کیے بھی جاتے ہیں۔ تورات ، انجیل اور قرآن میںیہ سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنااسے ضرور ہے ۔او ر کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں منائو اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے«
سبحان اللہ! یہ کیسا زبردست سودا ہے جس کا ذکر تورات ، انجیل اور قرآن میں ہے … یہ درحقیقت زمین و آسمان کے ربّ اور اِس کمزور مخلوق کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔ یہ اللہ کی کتنی بڑی نعمت ہے ،مگر جس کا دل ایمان کی دولت سے محروم ہو وہ کیا جانے کہ اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لےے کیا انعامات تیار کر رکھے ہیں؟ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے مزین کر دے اور کفر و فسق اور نافرمانی کی کراہت ہمارے دلوں میں بٹھا دے۔
قرآنِ کریم کی کئی دیگر آیات بھی اسی معنی اور مفہوم کی حامل ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اہلِ ایمان پر… بعض صحابہ کرام ؓ پر…گرفت کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ’’مَالَکُم؟‘‘… ’’تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘
یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا مَا لَکُم اِذَا قِیلَ لَکُمُ انفِرُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ اثَّاقَلتُم اِلَی الاَرضِ اَرَضِیتُم بِالحَیٰوۃِ الدُّنیَا مِنَ الاٰخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الحَیٰوۃِ الدُّنیَا فِی الاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیلٌ ( التوبۃ : ۸۳)
»اے ایمان والو !تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟سنو! دنیا کی زندگی کا ساز و سامان تو آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے«
قتال سے منہ پھیرنے والو…تم جتنے مرضی بہانے بنا ئو، عبادات اور نیکی کے کاموں میں مشغولیت کے عذر پیش کرو، لیکن یاد رکھنا… صحا بۂ کرامؓ ہر اعتبار سے ہم سے افضل تھے … جن عبادات وطاعات میںآج ہم مشغول ہیں،وہ ہم سے کہیں بڑھ کر ان میں مشغول رہتے تھے …لیکن اس سب کچھ کے باوجودجب بھی ان کو پکارا جاتا کہ ’’یا خَیلَ اللّٰہ ! اِرکَبِی ‘‘… اے اللہ کے شہسوارو ! کود پڑو ... تووہ ہر چیز چھوڑ کر میدانِ جہاد کا رخ کرتے … ہلکے ہوتے یا بوجھل، بہر حال اللہ کے حکم پر لبیک کہتے…اوراگر اُنؓ میں سے کوئی جہاد سے پیچھے رہ جاتا توا س پر گرفت کرنے کے لیے آسمانِ بالا سے آیات نازل ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ اس آیتِ مبارکہ میں فرماتے ہیں :
یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا مَا لَکُم اِذَا قِیلَ لَکُمُ انفِرُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ اثَّاقَلتُم اِلَی الاَرضِ اَرَضِیتُم بِالحَیٰوۃِ الدُّنیَا مِنَ الاٰخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الحَیٰوۃِ الدُّنیَا فِی الاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیلٌ (التوبۃ : ۸۳)
»اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے؟ کیا تم آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟سنو! دنیا کی زندگی کا ساز و سامان تو آخرت کے مقابلے میں بہت تھوڑا ہے«
یہ مسئلہ بالکل واضح ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ۔
اب کسی تردد، تذبذب، سوچ وبچارا ور مزیدانتظار کا موقع نہیں … کیونکہ اگلی آیات میںاللہ تعالیٰ جہاد سے فرار اختیار کرنے والوں کے لئے دو ٹوک فیصلہ سنا رہے ہیں :
اِلَّا تَنفِرُوا یُعَذِّبکُم عَذَابًا اَلِیمًا وَّ یَستَبدِل قَومًا غَیرَکُم وََلَا تَضُرُّوہُ شَیئًا (التوبۃ :۹۳)
»اگر تم نہ نکلے تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو لے آئے گااور تم اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے«
اے اللہ! ہم تجھ سے تیری اعلیٰ صفات اور تیرے پاکیزہ ناموں کے واسطے سے سوال کرتے ہیں کہ جس طرح تو نے ہمیں یہ توفیق دی کہ ہم افغانستان میں جہاد کریں… وہ افغانستان جس میں ہم آج جمع ہیں… اور جس طرح تو نے ہمیں امریکہ، اس کے حواریوں اور اس کے معاونین کے خلاف جہاد کی توفیق دی… ایسے ہی ہم تجھ سے یہ توفیق بھی طلب کرتے ہیں کہ ہم اس راہ پر استقامت سے جمے رہیں، یہاں تک کہ تجھ سے ملاقات کا دن آ ن پہنچے اور تو ہم سے راضی ہو۔ ( آمین)
خطبہء ثانیۃ
آیات ِ مبارکہ کی روشنی میں ہم یہ بات اچھی طرح سمجھ چکے ہیںکہ جہاد چھوڑ بیٹھنے کا اصل سبب دنیا کی محبت اور موت کا خوف ہوتا ہے۔ یہی بات حضرت ثوبانؓ کی روایت میں بھی ہے (جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ’’قریب ہے کہ کفر کی امتیں تمہارے خلاف جنگ کرنے کے لیے ایک دوسرے کو اس طرح دعوت دے کر بلائیں گی جس طرح بھوکے ایک دوسرے کو دسترخوان پر دعوت دے کر بلاتے ہیں۔ اس پر ایک پوچھنے والے نے پوچھا کہ کیا اس وقت ایسا ہماری قلتِ تعداد کی وجہ سے ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(نہیں) بلکہ اس وقت تو تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تم سیلابی پانی کے میل کچیل (اور جھاگ) کی طرح ہوگے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے ضرور ہی تمہارا رعب ختم کردیںگے …) اس حدیث میںرسول اللہ نے ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ :
… یُلقٰی فِی قُلُوبِکُمُ الوَھنَ
(… تمہاے دلوں میں و ھن(یعنی ضعف) ڈال دیا جا ئے گا)
قَالُوا وَ مَا الوَھنُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟
(صحابہؓ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!یہ وھن (ضعف) کیا ہو گا؟)
قَالَ حُبُّ الدُّنیَا وَ کَرَاھِیَۃُ المَوتِ
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دنیا کی محبت اورموت سے نفرت)
جب کہ ایک اور روایت میںیہ الفاظ ملتے ہیں :
حُبُّکُمُ الدُّنیَا وَ کَرَاھِیَتُکُمُ القِتَال
( دنیا سے تمہاری محبت اور قتال سے تمہاری نفرت)
(مسند أحمد:مسند أبی ھریرۃؓ ، سنن أبی داود:باب فی تداعی الأمم علی الاسلام)
مسلمان آج جس ذلت و درماندگی کا شکار ہیںاوررسوا ہو رہے ہیں، اس کی و جہ ہمارایہی طرزِ عمل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کھول کر یہ اصول بیان فرما دیا ہے کہ وہ کب کسی قوم کو در بدر کر دیتا ہے ،بھٹکتا ہواچھوڑ دیتا ہے؟ اُس وقت… جب وہ ا للہ کی نصرت اور اپنے مقدسات کی حفاظت سے ہاتھ کھینچ لیتی ہے۔ یہ ’’ ِتیہ ‘‘ ( دربدری) اللہ تبارک وتعالیٰ کی طے شدہ اور اٹل سنت ہے…اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے دین کو بے یار و مدد گار چھوڑنے کا یہی انجام ہوتا ہے… ذلت، تباہی،آپس کی لڑائیاں اور دربدری ان کا مقدر بن جاتی ہے… آج ا مّتِ مسلمہ کو جن مصائب و آلام کا سامنا ہے، وہ اللہ کے دین اور جہاد کو چھوڑ دینے کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا:
اِذَا تَبَایَعتُم بِالعِینَۃِ وَ اَخَذتُم اَذنَابَ البَقَرِ وَ رَضِیتُم بِالزَّرعِ وَ تَرَکتُمُ الجِھَادَ سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیکُم ذُلًّا لَا یَنزِعُہ حَتّٰی تَرجِعُوا اِلٰی دِینِکُم
( سنن أبی داود: باب فی النھی عن العینۃ)
(جب تم سودی تجارت(عینہ ) کرنے لگوگے اورگائے بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، اور کھیتی باڑی (کی زندگی)میں( مگن ہو کر)مطمئن ہو جائو گے اورجہاد چھوڑ بیٹھو گے تواللہ تمہارے اوپر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جو وہ اس وقت تک نہیںہٹائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہ لوٹ آئو)
یہ حدیث بالکل واضح ہے، اور ہم سب پر حجت تمام کر دیتی ہے، خصوصاً عربی زبان سمجھنے والوں کے لئے تو اس میں کوئی ابہام نہیں… اللہ نے ذلت کی یہ چادرانہی وجوہات کی بناپر ہمارے اوپر تانی ہے … اور یہ اس وقت تک نہیں اٹھائی جائے گی جب تک ہم اپنے دین کی طرف واپس پلٹ نہیںآتے۔لہٰذا میرے مسلمان بھائیو! یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ دین کی طرف رجوع ، کبیرہ گناہوں سے اجتناب اور جہاد فی سبیل اللہ کی راہ اختیار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں!
جہاں تک امت کے یوںدربدرہونے کا تعلق ہے، تواسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والے مکالمہ میں واضح فرمایا دیا ہے … جب انہیں جہاد کا حکم ملا لیکن و ہ بیٹھے رہے …اور ظاہر ہے کہ یہ واقعہ ہماری ہی ہدایت کے لئے نازل فرمایا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یٰقَومِ ا دخُلُوا الاَرضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِی کَتَبَ اللّٰہُ لَکُم وَلَا تَرتَدُّوا عَلٰٓی اَدبَارِکُم فَتَنقَلِبُوا خٰسِرِینَ o قَالُوا یٰمُوسٰٓی اِنَّ فِیھَا قَومًا جَبَّارِینَ وَاِنَّا لَن نَّدخُلَھَاحَتّٰی یَخرُجُوا مِنھَا فَاِن یَّخرُجُوا مِنھَا فَاِنَّا دٰخِلُونَ o قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِینَ یَخَافُونَ اَنعَمَ اللّٰہُ عَلَیھِمَا… (ا لمائدۃ: ۱۲۔۳۲)
» اے میری قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے۔ انہوں نے جواب دیا: اے موسیٰ ؑ! وہاں تو بڑے زور آور سرکش لوگ رہتے ہیں ، ہم ہرگز وہاں نہیں جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ ڈرنے والے لو گوں میں سے دو ایسے شخص جن پر اللہ نے اپنا انعام فرمایا تھا بولے…«
اللہ اکبر! اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اُس وسیع و عریض امّت میں سے صرف دوآدمیوں کو یہ توفیق بخشی… دو ایسے آدمیوں کو جو اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ چنانچہ اسی آیت سے یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ خوف اور جہاد کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
خوف اور خشیت کا جہاد سے بڑا گہرا تعلق ہے… جو شخص جہاد چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے وہ دراصل لوگوں سے خوف کھاتا ہے، اور جو اپنا سر ہتھیلی پہ لے کر میدان میں نکل آتا ہے وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے خوف کھاتا ہے۔ میں نے ابتدا ء میں آپ کے سامنے یہ آیت پڑھی تھی کہ :
…اِذَا فَرِیقٌ مِّنھُم یَخشَونَ النَّاسَ کَخَشیَۃِ اللّٰہِ اَو اَشَدَّ خَشیَۃً (النسآئ: ۷۷)
» …تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے یوں ڈرتا ہے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے ، یا اس سے بھی بڑھ کر«
جو شخص لوگوں سے اتنا ڈرے ،اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اسے قتال نہ کرنا پڑے، چنانچہ وہ کہتا ہے:
لَو لَا ٓاَخَّرتَنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیبٍ (النسآئ: ۷۷)
» ( اے اللہ!) تو نے ہمیں تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دے دی؟«
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں بھی دو ایسے لوگوں کا تذکرہ ہے جو’’ ڈرتے تھے‘‘ …مگر لوگوں سے نہیں…بلکہ اللہ بزرگ و برتر سے ۔
…لہٰذا جس شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ، یومِ آخرت اور حساب کتاب کا خوف ہو وہ سب کچھ چھوڑ کرجہاد کے لےے نکلتا ہے…کسی چیز کے چھن جانے کا غم نہیں کرتا… اسی راہ پرآگے بڑھتا جاتا ہے… یہاں تک کہ اپنے ربّ سے جا ملتا ہے اوراس کا ربّ اس سے راضی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں افراد کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا :
رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِینَ یَخَافُونَ اَنعَمَ اللّٰہُ عَلَیھِمَا (المائدۃ: ۳۲)
» (اللہ سے) ڈرنے والے لوگوں میں سے دو ایسے شخص جن پر اللہ نے اپنا انعام فرمایا تھا«
ا بنِ کثیرؒ اس آیت کی تفسیرمیں لکھتے ہیں کہ ان دونوں افرادپر اللہ کا جو انعام تھا وہ بہت بڑا تھا، ایک عظیم نعمت تھی جو انہیں ملی تھی…اَنعَمَ اللّٰہُ عَلَیھِمَا!… اللہ نے ان د ونوں پر اپنا انعام فرمایا!
کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کا شماربھی ان لوگوں میں ہوجن پر اللہ نے اپنا انعام فرمایا؟ تو پھر دیکھئے کہ انعام یافتہ لوگ ا یسے موقع پر کیا کہتے ہیں:
…اُدخُلُوا عَلَیھِمُ البَابَ فَاِذَا دَخَلتُمُوہُ فَاِنَّکُم غٰلِبُونَ وَ عَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوا اِن کُنتُم مُّؤمِنِینَ ( المائدۃ: ۳۲)
»… ان( جباروں) کے مقابلے میں حملہ کر کے دروازے کے اندر گھس جائو، جب تم اندر پہنچ جائو گے تو تم ہی غالب ہو کر رہو گے۔ اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو«
لیکن ایسی ایمان افروز گفتگو سن کر بھی وہاں کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کیونکہ جو فرار چاہے ،اُسے کوئی میدان میں لا نہیں سکتااوربزدل کو آگے بڑھانا کسی کے بس میں نہیں ہوتا ۔
کیا آج کے بزدلوں کو یہ نظر نہیں آتا کہ… محض اللہ ہی کے احسان اور رحمت سے …ہمیں میدانِ جہاد کا رخ کیے بیس( ۰۲ )سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے …دس ( ۰۱) سال سے زائد ہم نے روسی ٹینکوں اور طیاروںکی بمباری کا سامنا کیا اور اب تقریباً پھر دس(۰۱) سال ہونے کو ہیں کہ امریکی کروز میزائیل ہمارا تعاقب کر رہے ہیں…لیکن الحمدللہ ہم بدستور اس راہ پر قائم ہیں۔
اہلِ ایمان یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے جس میں لمحہ بھر کی تاخیر و تقدیم بھی ممکن نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
اَینَ مَا تَکُونُوا یُدرِککُّمُ المَوتُ وَ لَو کُنتُم فِی بُرُوجٍ مُّشَیَّدَۃٍ
( النسآئ:۸۷)
» تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں آن دبوچے گی، خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں کیوں نہ ہو«
مومن یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کو اُس وقت تک موت نہیں آسکتی جب تک اس کا رزق اور عمل کی مہلت باقی ہو۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے۔ بہر حال، ان دو انعام یافتہ افراد کی نصیحت کے باوجودقوم نے پھر سے بحث شروع کر دی :
قَالُوا یٰمُوسٰٓی اِنَّا لَن نَّدخُلَھَآ اَبَدًا مَّا دَامُوا فِیھَا فَاذھَب اَنتَ وَ رَبُّکَ فَقَا تِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُونَ (ا لمائدۃ:۴۲)
»وہ بولے : اے موسیٰ ؑ! ہم کبھی بھی وہاں نہ داخل ہوں گے جب تک وہ (زورآور) لوگ وہاں موجود ہیں۔ پس تم اور تمہارا ربّ دونوں جائو اور لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں«
لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ! ایسی زبردست بے وفائی! اسی لیے جواباً حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم سے رخ پھیر کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے :
قَالَ رَبِّ اِنِّی لَآ اَملِکُ اِلَّا نَفسِی وَ اَخِی فَافرُق بَینََنَا وَ بَینَ القَومِ الفٰسِقِینَ (المائدۃ: ۵۲)
»موسیٰ نے کہا: الٰہی! مجھے تو بجز اپنے اوراپنے بھائی کے کسی اور پر کوئی اختیار نہیں۔ پس تو ہم میں اور ان فاسقو ں میں فاصلہ پیداکر دے«
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو فاسق قرار دیااورساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین کا ساتھ چھوڑنے والوں کی سزا کا اعلان ہو گیا:
قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیھِم اَربَعِینَ سَنَۃً یَّتِیھُونَ فِی الاَرضِ فَلاَ تَاسَ عَلَی القَومِ الفٰسِقِینَ (المائدۃ: ۶۲)
»اللہ نے جواب دیا: اچھا، تو یہ ملک چالیس سال تک ان کے ہاتھ نہ لگے گا،یونہی زمین میںسر مارتے پھرتے رہیں گے۔ اس لیے تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہ ہو«
دربدری ا ورٹھوکریں کھاتے پھرنا… یہی اللہ کی طے کردہ سزا ہے جو دین کی نصرت سے منہ موڑنے والوں کو گھیر لیتی ہے…ا مّتِ مسلمہ آج اسی انجام سے دوچار ہے … دربدر ہے… سرگرداں پھر رہی ہیں۔ یہ در اصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وا قعۂ اسراء و معراج کی یادگار، مسجدِ اقصیٰ سے بے وفائی کرنے کی سزا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو نعوذ باللہ اس سے بھی بڑا عذاب اور دربدری ہم پر مسلط کی جا سکتی ہے! اور اللہ کی مددکے سواتو نہ بھلائی کی طاقت ہے اور نہ برائی سے بچائو ۔
اس سزا سے چھٹکارا پانے کی واحد راہ ،ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ دین صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو ہمیںرہنمائی اور منہج قرآن و سنّت ہی سے لیناہوںگے اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمیںواضح طور پر سمجھا دی گئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں اس طرح جہاد کیا کہ جہاد کا حق ادا کر دیا، دین کی بھرپور تبلیغ کی اور اس بارِ امانت سے سبکدوش ہو کردنیا سے رخصت ہوئے۔ اللہ انہیں وہ بہترین جزا دے جو کسی بھی امّت کی طرف بھیجے گئے نبی کو دی جا سکتی ہے۔(آمین)
علومِ نبوت کے وارثوں کے لئے بھی آج یہی راستہ ہے کہ وہ حق کو لے کر اُٹھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوے کی پیروی کریں۔ ایسی حالت میں دین ٹھیک سے کیسے قائم ہو سکتا ہے جب علمائے ا مّت ملحدوں، فاجروں، ظالموں اور دشمنانِ دین کے نرغے میں زندگی گزار رہے ہوں … جہاں وہ کلمہ ء ِ حق بھی نہ کہہ سکیں ؟ دوسری طرف یہ دیکھئے…کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے… وحی ٔالٰہی کی تائید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی… رُوئے زمین پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بہتر گفتگو کرنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا … آپ صلی اللہ علیہ و سلم مسلسل دعوت دیتے رہے… پھر بھی پورے مکی دور میں محض چند سو لوگ ایمان لائے۔ مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خوشنودی کی خاطر اُس کی راہ میں ہجرت فرمائی تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے اور ایک اسلامی حکومت قائم ہوگئی ۔
د ین کے پھیلا ئو اور غلبے میں ہجرت کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے، یہی و جہ ہے کہ ا ہلِ اسلام اپنی تاریخ سنِ ہجری سے شمار کرتے ہیں۔ آج اس عظیم واقعے کو گزرے چودہ سو بیس (۰۲۴۱) سال ہو چکے ہیں اور ہم اس سال کی عید الفطر کے پہلے دن میں یہاں جمع ہیں۔غاصب صلیبیوں کوسرزمینِ مکّہ و مدینہ میں داخل ہوئے …اپنے پنجے گاڑے… دس سال ہو گئے۔ اور یقیناً اگر اللہ ہماری مدد نہ کرے تو اس کے سوا ہمارے پاس کوئی طاقت و قوت نہیں۔ لہٰذا اپنے مرض کو جان لینے کے بعد ہمیںا للہ ہی کی کتاب میں دیکھنا ہے کہ اس کا علاج کیا ہے؟
بھائیو!ہمارے مرض کا علاج ہجرت و جہاد ِ فی سبیل اللہ ہے۔وہ ا علیٰ ترین صفات جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے وہ یہی ہیں،یعنی:
o ایمان
o ہجرت اور
o جہاد
اللہ تعالیٰ اپنی عظیم کتاب میں انبیاء علیہم السلام کے بعد دنیا کے بہترین لوگوں ،یعنی صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف فرماتے ہیں توانہی تین خوبیوں کو بطورِ خاص گنواتے ہیں… اللہ کی بات ذرا غور سے سنیے…اس کی آیات میں تدبر کیجیے۔ سورۃ الانفال کے آخر میں اللہ تعا لیٰ صحابہؓ کے بارے میں ان صفات کی گواہی دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَالَّذِینَ اٰمَنُوا وَھَاجَرُوا وَ جٰھَدُوا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَالَّذِینَ اٰوَوا وَّنَصَرُوا اُولٰٓءِکَ ھُمُ المُؤمِنُونَ حَقًّا لَھُم مَّغفِرَۃٌ وَّ رِزقٌ کَرِیمٌ (الانفال: ۴۷)
»اور جو لوگ ایمان لائے ، ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ جنہوں نے پناہ دی اور مدد پہنچائی، یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور عزت کی روزی ہے«
ایمان لا کرہجرت اور جہاد کرنے والوں کے سچے ایمان کی گواہی خود اللہ دیتا ہے۔ امرِدین کا ٹھیک ٹھیک قیام ناممکن ہے جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو اس دین کی خاطر اسی انداز میں ہجرت نہ کریں…اور پھرحق کا کھلم کھلا اظہار نہ کریں…جیسا کہ صحابہ کرام ؓ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی،او ر یوں حق کی نصرت ہوئی ۔ اس دین کے معاملے میں اللہ کی سنت یہی ہے۔
پہلی وحی کے نزول کے فوراً بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ورقہ بن نوفل کے درمیان پیش آنے والی گفتگو کا قصہ(جو،ہجرت اور ابتلاء کے بارے میں اللہ کی اس سنت کو واضح کرتا ہے)صحیح بخاری میںامّ المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔ ورقہ بن نوفل دورِ جاہلیت میں(بت پرستی چھوڑ کر) نصرانی ہو گئے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے سامنے وحی کی کیفیت بیان کی تو آپ بے اختیار بول اٹھے :
ھٰذَا النَّامُوسُ الَّذِی نَزَّلَ اللّٰہُ عَلٰی مُوسٰی یَا لَیتَنِی فِیھَا جَذَعٌ، لَیتَنِی اَکُونُ حَیًّا اِذ یُخرِجُکَ قَومُکَ
(یہ تو وہی( اللہ کا) رازدار فرشتہ ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ ؑپر اتارا تھا ۔اے کاش میں اس وقت جوان ہوتا! کاش میں اُس وقت تک زندہ رہتا جب تمہیں تمہاری قوم ( اپنے شہر سے) باہر نکال دے گی!)
اللہ کے بندو!…غور کرو اس حدیث پر!
قَالَ : اَ وَ مُخرِجِیَّ ھُم؟
(رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسچ؟)کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟)
قَالَ نَعَم لَم یَاتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثلِ مَا جِئتَ بِہٖ اِلَّا عُودِیَ وَ اِن یُّدرِکنِی یَومُکَ اَنصُرکَ نَصرًا مُّؤَزَّرًا (بخاری: کتاب بدءِ الوحي)
( ورقہ نے کہا:ہاں! (بے شک نکال دیں گے)کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بندہ وہ پیغام لے کر آئے جو تم لائے ہو اور لوگ اس کے دشمن نہ ہوئے ہوں۔ اگر میں اس دن تک جیتا رہا تو تمہاری بھرپُورمدد کروں گا)
جو شخص بھی حق کی دعوت لے کر اٹھے گا، اس سے ضرور دشمنی کی جائے گی! لیکن اگرکفار کے مدد گار اور اللہ کی شریعت سے ہٹ کر فیصلے کرنے والے کسی شخص سے دشمنی نہیں کر رہے … تو یقیناً ایساشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج اور طریقے پر گامزن نہیں ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسولوں کے منہج کے مطابق آپ بات کریں تو آپ سے دشمنی نہ کی جائے… اللہ کے دشمن تواہلِ حق سے تبھی راضی ہوتے ہیں جب وہ مداہنت و مصالحت کرنے پر تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَدُّوا لَو تُدھِنُ فَیُدھِنُونَ (القلم: ۹)
» یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مدا ہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں«
اگرآپ یہ چاہیںکہ ان ظالموں کے ساتھ آپ کی قربتیںبھی برقرار رہےں اور ساتھ ہی ساتھ آپ کی ذاتی عبادات بھی جاری رہیں، جو ان کے باطل طور طریقوں سے نہ ٹکرائیں، پھر تویہ واقعتاًآپ کو نہیں چھیڑیں گے۔ البتہ اگر آپ کی خواہش یہ ہو کہ دین سارے کاسارا اللہ کے لئے خالص ہو جائے ،تو اس کا واحد راستہ ہجرت اور جہاد ہی ہے… خیر البشر محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہی راستہ اختیار کیا …اور صحابہ ؓ نے بھی،جب اُن پر بدترین مظالم توڑے گئے ،یہی راہ اپنائی …یہ وہی راستہ ہے جسے حضرت ابو بکرؓ نے اختیار کیاجب کہ آپ ؓ خود سردارانِ قریش میں سے تھے۔جب آپ ؓ حبشہ کی طرف ہجرت کو نکلے تومکہ سے کچھ باہر آپ کو ابن الدغنہ ملا اور اس نے پوچھا:
’ ’ ابو بکرؓ! کدھر کا ارادہ ہے؟‘‘
آپؓ نے فرمایا:’’مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے،اب میں چاہتا ہوں کہ زمین میں نکل جائوں اور اللہ کی عبادت کروں۔‘ ‘
یہ شخص(ابن الدغنہ) ’’جاہلی ‘‘تھا،مسلمان نہ تھا، مگر اس گئے گزرے معاشرے میں بھی کچھ نہ کچھ ا خلاق و اقدار اور اچھی روایات و معیارات باقی تھے۔چنانچہ اس نے کہا:
’’ابو بکرؓ!آپؓ جیسے لوگ تویوںنہیں نکلتے، نہ ایسوں کو نکالاہی جاتا ہے!آپ تو نادار کے لئے کمائی کرتے ہیں،رشتہ داروں سے تعلق جوڑتے ہیں،دوسروںکا بوجھ (قرضہ،کفالت وغیرہ)اٹھاتے ہیں،مہمان کی خاطر داری کرتے ہیںاورحقیقی آفتوں میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں ، میں آپ کو اپنی پناہ میں لیتا ہوں،آپ مکہ واپس چلئے… (بخاری: کتاب المناقب)
آپؓ واپس لوٹ توگئے ، مگرعلانیہ کلمۂ حق کہنے سے باز نہ آئے، کفار پھر آپؓ پر ٹوٹ پڑے، یہاں تک کہ وہ موقع آیا جب اللہ نے آپؓ کو افضل البشر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ ہجرت کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔اسی منظر کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ سورۃ التوبہ میںیوں بیان فرماتے ہیں:
اِلَّا تَنصُرُوہُ فَقَد نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذ اَخرَجَہُ الَّذِینَ کَفَرُوا ثَانِیَ اثنَینِ اِذھُمَا فِی الغَارِ اِذ یَقُولُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحزَن اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبۃ: ۰۴)
»اگر تم اس کی مدد نہ کرو گے تو(یاد رکھو کہ )وہ اللہ ہی تو تھا جس نے پہلے بھی اس کی مدد کی تھی جب کہ اسے کافروں نے دیس سے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں سے دوسراتھا، وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے
پیاسا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پیاسا کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (06-06-11), عروج (16-10-11)
پرانا 26-08-08, 02:02 PM   #3
Senior Member
 
پیاسا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مقام: IN THE SHADOW OF SWORD
عمر: 29
مراسلات: 1,824
کمائي: 3,856
شکریہ: 1,712
863 مراسلہ میں 1,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسلمانو! اپنے مقدّسات کے تحفظ کی خاطر اٹ

صحابہ کرامؓ نے جب حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ان ہجر ت کر نے والوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی بھی اپنے شوہر حضرت عثمان ؓ کے ہمراہ موجود تھیں۔ یہ ہجرت اللہ کے دین کی سرفرازی اور کلمۂ حق کے بھر پور اظہار کا ذریعہ بنی ،اس کے ذریعے سچائی کا سرِ عام اعلان ہوااور اللہ نے باطل کو پست کیا۔ یہ گروہِ شرفاء جب حبشہ کی طرف نکلنے لگا تو ایک واقعہ پیش آیا۔ ابنِ ہشامؒ اپنی سیرت کی کتاب میں اُ مِّ عبداللہ(بنتِ ابی حثمہؓ ) کا یہ قول نقل کرتے ہیںکہ :
’’ ہم ہجرت کے لیے حبشہ کی سمت روانہ ہوئے تو عامرؓ، یعنی ابو عبد اللہ، ہماری ضرورت کی بعض اشیاء لینے چلے گئے۔ اتنے میں ہمیں عمر بن خطابؓ ٹکرا گئے۔‘‘
…اورآپ کیا جانیںکہ جاہلیت میں عمرؓ کیسے تھے؟ انتہائی سخت طبیعت کے حامل… مشرکینِ قریش کے بنیادی ستونوں میں سے ایک… جنہوں نے مسلمانوں پر بڑے سخت مظالم توڑے۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ عمرؓ نے مجھ سے پوچھا:
’’اُمِّ عبداللہ ! کیا تم یہاں سے کوچ کر رہی ہو؟‘‘
میںنے جواب دیا :
’’ہاں! واللہ …تم لوگوں نے ہمیں بہت اذیت پہنچائی، بہت ستم توڑے، اب مزید برداشت ممکن نہیں۔‘‘
عمر بن خطابؓ اس منظر کی تاب نہ لا سکے اور ان کا دل پسیج گیا ۔ اس جاہلیت اور شقاوتِ قلبی کے باوجود، عمر بن خطابؓاُن کمزورو بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کو اس بےچارگی کے عالم میں اپنے گھروں سے نکلتا نہ دیکھ سکے ۔ آپؓ میںیہ ہمت نہ تھی کہ ان مجبوراور بے کس لوگوں کو اپنے خاندان، والدین اور اولاد سے جدا ہوتے ہوئے دیکھیں ۔ آپؓ کے سینے میں اس وقت ایک زبردست کشمکش بپا تھی …ایک طرف انکارِ حق اور مسلمانوں پہ مظالم توڑنے پر اصرار تھا تو دوسری جانب کلیجے کے ٹکڑے اُڑانے والا یہ منظر! آپؓ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ یہ لوگ کیسے جائیں گے؟ یہ کشتیوں میں سوار ہونے چلے ہیں حالانکہ انہیںبحری سفر کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں ! اَ ینَ یَذ ہَبُون؟…کہاں جا رہے ہیں؟ ایک ایسے دور دراز علاقے میں جہاں کوئی اپنا نہیں …! جہاں کے لوگوں سے کوئی واقفیت ہے نہ نسبی رشتہ…اور نہ ہی دینی اخوت کا کوئی تعلق !…بالآخر آپؓ کے اندر موجود خیر کی قوت ،شر کی طاقت کو پچھاڑنے میں کامیاب رہی اور آپؓ یہ ہمدردانہ الفاظ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ :
’’صَحِبَکُمُ اللّٰہ ! ‘‘
’’اللہ تمہارے ساتھ ہو!‘‘
اللہ اکبر!… اللہ اکبر! جاہلیت والے شقی القلب عمرؓ کا دل بھی چھوٹے چھوٹے بچوں، کمزور و بے بس مردوں، عورتوں کے ہجرت پر مجبور ہونے کا منظر نہ سہار سکا۔ یہ وہ ستم رسیدہ لوگ تھے جنہوں نے محض اللہ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اپنا وطن چھوڑا… اپنی جاگیر چھوڑی… عزیز و اقارب کا ساتھ چھوڑا، چنانچہ عمر ؓ بھی اس منظر کی تاب نہ لا سکے اور بے اختیار بول اُٹھے :
’’ اللہ تمہارے ساتھ ہو!‘‘
حضرت عامر ؓ واپس آئے تو حضرت امِ عبداللہؓ نے ان سے فرمایا:
’’ کاش تم آج عمرکو دیکھ لیتے!‘‘
اور پھر آپؓ نے پورا واقعہ بیان فرما دیا۔حضرت عامر ؓ نے پوچھا:
’’ کیا تمہیں امید ہے کہ عمر اسلام قبول کر لے گا؟‘‘
آپ ؓ نے فرمایا:
’’ہاں‘‘
حضرت عامرؓ بولے:
’’ یہ شخص تب تک اسلام نہیں لا سکتا جب تک خطّاب کا گدھا مسلمان نہ ہو جائے!‘‘
جس شخص کی یہ شہرت تھی… جو اپنی شدید قومی حمیت کی وجہ سے جانا جاتا تھا… وہ بھی مہاجرین کی بے بسی کے یہ مناظر دیکھ کر تڑپ گیا…اَ ینَ یَذ ہَبُون؟ … یہ کہاں جائیں گے ؟ … اور پھر وہ دن بھی آیا کہ اللہ اُس عمرؓ سے راضی ہو گیا…اور عمرؓ بھی اللہ سے راضی ہو گئے! لیکن افسوس!کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثوں کی حا لتِ زار، آج کے پتھر دل قریش کو نہیں پگھلا سکی…
اللہ کی قسم ! آج محمد ِ عربی صلی اللہ علیہ وسلمکے امّتی جزیرۂ عرب کے قید خانوں میں بند ہیں جب کہ امریکیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سر زمین میںدندنانے کی … عیش اُڑانے کی کھلی چھٹی ہے ! …کیا لوگوں کے سینوں میں ایمان کی کوئی رمق باقی نہیں بچی؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے لئے لوگوں کی غیرت ختم ہو گئی ؟
اے اللہ !
میںتیرے حضور میں آج کے ابورغال اور اس کے ساتھیوںکی تمام حرکتوں سے بیزاری اور برأت کااظہارکرتا ہوں۔
اے اللہ !
میں تیرے دربار میں ان سب مسلمانوں کی طرف سے معذرت پیش کرتا ہوں جنہوں نے تیرے عظمت والے گھر کی نصرت میں کوتاہی کی…جو بیٹھے رہ گئے!
اے اللہ !
ہمیں بہترین طور پر اپنے دین کی طرف لوٹنے کی توفیق دے!
اے اللہ !
تواس امّت کی قسمت میں ہدایت کا ایک ایسا دور لکھ دے جس میں تیرے اطاعت گزار باعزت اور تیرے نا فرمان ذلیل ٹھہریں، جس میں نیکی کا حکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے!
اے اللہ !
مسلم نوجوانوں کے دلوں کو ایمان سے مزین فرما!
اے اللہ !
ان کے دلوں میں کفر و فسق اور نافرمانی کی کراہت بٹھا دے!
اے اللہ !
ہم تجھ سے عہد کرتے ہیں کہ ہم اس راستے پر …تیرے کلمے کی سربلندی کے راستے پر… قائم رہیں گے یہاں تک کہ یا تو تیرا دین غالب آ جائے، یا ہم اس راہ میں شہید کر دیے جا ئیں۔
اے اللہ !
اے ہمارے ربّ! تو ہماری ان کوششوںکو قبول فرما لے ! یقیناً، تو سب سے بڑھ کر دعائیں سننے والا ہے۔
میرے بھائیو! یہی راہِ نجات ہے… ایمان، ہجرت اور جہاد کی راہ! یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے۔
کاش آپ جانتے کہ ہجرت اور جہاد کتنے اجر و ثواب والے اعمال ہیں!ہم تو درحقیقت اللہ ہی سے تمام تر اجر کے طالب ہیں…اسی پہ ہمارا بھروسہ ہے …وہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔ ایک صحیح حدیث میں روایت ہے کہ جب حضرت عمروبن العاص ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ا ور اسلام پر بیعت کرنے کے لیے ایک شرط پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَمَا عَلِمتَ اَنَّ الاِِسلَامَ یَھدِمُ مَا کَانَ قَبلَہ وَ اَنَّ الھِجرَۃَ تَھدِمُ ماَ کَانَ قَبلَھَا… (مسلم: کتاب الایمان)
(…کیا تمہیں معلوم نہیںکہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو ڈھا دیتا ہے، اور ہجرت اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو ڈھا دیتی ہے)
پس خوشخبری ہو ہجرت کرنے والوں کے لیے! ہجرت انسان کے تمام سابقہ گناہوں کو مٹا ڈالتی ہے اور اس کا نامۂ اعمال بالکل صاف شفاف ہو جاتا ہے، جس میں نئے سرے سے جو چاہے درج کر لیا جائے۔ اور آپ کیا جانیں کہ ہجرت کے بعد ایک مہاجراپنے اس نامۂ اعمال میں کیا کچھ درج کروا سکتا ہے؟ …آئیے اسے ایک صحیح حدیث سے معلوم کرتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قِیَا مُ سَاعَۃٍ فِی الصَّفِّ لِلقِتَالِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ خَیرٌ مِّن قِیَا مِ سِتِّینَ سَنَۃً (صحیح،رواہ ابن عدي و ابن عساکر عن أبي ہریرۃؓ (۴ ۵۶۱۶ ) وھو فی صحیح الجامع برقم (۵۰۳۴))
(قتال فی سبیل اللہ کے لیے صف میںگھڑی بھر کھڑے ہونا ،( عبادت کے لئے) ساٹھ (۰۶) سال قیام کرنے سے افضل ہے)
اللہ اکبر! کتنا بلند مقام ہے! ایک گھڑی میدانِ قتال میں گزارنا ساٹھ (۰۶) سال کی عبادت سے افضل ہے! آج کل کے لوگوں کی تواوسط عمر ہی تقریباً ساٹھ ستر سال ہوتی ہے۔اس کے برعکس یہ بھی دیکھئے کہ جولوگ بے دینی کی زندگی گزارتے ہیںاور دنیا سے ناکام و نامراد چلے جاتے ہیں توروزِ قیامت ان کا انجام کیا ہو گا:
وَ یَومَ تَقُومُ السَّاعَۃُ یُقسِمُ المُجرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیرَ سَاعَۃٍ کَذٰلِکَ کَانُوا یُؤفَکُونَ ( الروم: ۵۵)
»اور جس دن قیامت قائم ہو گی تو مجرم قسمیں کھائےں گے کہ وہ( دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ٹھہرے، اسی طرح وہ (دنیا میں) دھوکہ کھایا کرتے تھے«
قیامت کے دن مجرموں کو یہ ساٹھ سالہ زندگی محض گھڑی بھر کی محسوس ہو گی، جب کہ مجاہدین کا معاملہ اس کے برعکس ہو گا۔ ان کا گھڑی بھر قتال کرنا بھی ساٹھ سال کی عبادت پر بھاری ہو گا۔ اللہ اکبر! اے ہمارے ربّ! یقیناً اس عظیم انعام و عطاء پر تو ہی تعریف و شکر کا مستحق ہے۔
ایک مرتبہ ایک صحابی حضرت ابو فاطمہ ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور پوچھنے لگے کہ مجھے کوئی ایسا حکم بتائیے جس پرمیں عمل کروں اورپھر اس پر استقامت سے قائم رہوں ( تو وہ میری نجات کے لیے کافی ہو)…صحیح حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا:
عَلَیکَ بِا لھِجرَۃِ فَاِنَّہ لَا مِثلَ لَھَا (سنن النسائی: کتاب البیعۃ،باب الحث علی الہجرۃ)
(تم پر لازم ہے کہ تم ہجرت کرو کیونکہ بے شک اس جیسا عمل کوئی اور نہیں)
اگر آپ یہ چاہیں کہ آپ باطل سے مقابلہ بھی کریں اور رہ آپ باطل کے تحت رہے ہوں… تو یہ بات سنتِ الٰہی کے خلاف ہے۔ صرف مہاجر ہی اس کیفیت کو حاصل کر سکتا ہے کہ ہر لمحے… تنہائی کی ہر گھڑی میں اس کے دل کی گہرایئوں میں یہ خیال پیوست ہو کہ وہ بیت اللہ العتیق کو پنجہء کفر سے چھڑانے کے لیے نکلا ہے…ہر لحظہ اس کے دل اور اس کے کانوں میں یہ آواز گونجتی رہے کہ’اے مومن …خبردار! اللہ کے گھر کو نہ بھولنا!‘ …اور وہ اس وقت تک بطور مہاجر رہے جب تک سرزمینِ مکہ و مدینہ میں توحید کا پرچمِ حق سربلند نہ ہو جائے۔
9اورکاش آپ جانتے کہ جہاد کی کتنی فضیلت ہے؟ کسی مجاہد کو راہ جہاد پر چلانے اور قائم رکھنے کے لیے یہی بات کافی ہونی چاہیے کہ سردارِ بنی آدم… قیامت کے دن سب سے بڑا حقِ شفاعت رکھنے والے … اُس دن جب کسی میں یہ جرأت نہ ہو گی کہ وہ دربارِ الٰہی میں حرف تک منہ سے نکالے … اُس دن جب انبیاء علیہم السلام کی زبان پر بھی یہی کلمات ہوں گے کہ’’رَبِّ سَلِّم سَلِّم‘‘… ’’ میرے ربّ ! مجھے بچا لے، مجھے بچا لے!‘‘…وہ عظیم ہستی جس کے اگلے پچھلے تمام قصور معاف کر دےے گئے… اُس صادق و مصدوق ذات صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان صحیحین میں روایت کیا گیا ہے کہ :
وَالَّذِی نَفسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَوَدِدتُ اَنِّی اَغزُو فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَاُقتَلُ ثُمَّ اَغزُوفَاُقتَلُ ثُمَّ اَغزُو فَاُقتَلُ (صحیح مسلم : کتاب الامارۃ)
(قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! مجھے یہ بہت محبوب ہے کہ میں اللہ کی راہ میں لڑوں اور مارا جائوں، پھرلڑوں اورمارا جائوں، پھرلڑوں اور مارا جائوں)
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکارو! یہی اصل راستہ ہے۔ بہت کچھ جمع کرنے کے چکر میں نہ پڑو…عمل کرنے والے بنو، وہ عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
یہ کوشش مت کرو کہ تم بہت سے ایسے کام کر ڈالو جو آج تم پر فرض نہیں، اگرچہ وہ فی نفسہٖ نیک کام ہی کیوں نہ ہوں۔یاد رکھنا کہ اگر مسلم سرزمین پر حملہ ہو جائے اور جہاد کی پکار بلند ہو جائے، تو ایسے وقت کا اہم ترین فرض جہاد ہی ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں،جب عیسائیوں نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ تبوک کے لئے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں کسی فقیہ، کسی حافظ اور کسی استاد کو پیچھے نہیں رہنے دیا، بلکہ سب کو جہاد کے لیے پکارا۔ مسلمانوں میںسے صرف تین آدمی پیچھے رہے، باقی سب نے میدان کا رخ کیا۔ یہی اللہ کی سنت ہے۔اور جو تین پیچھے رہے، ان کو ملنے والی سزا سے بھی آپ واقف ہیں ۔اس کا تفصیلی ذکر صحیحین میں درج حدیثِ کعبؓ میں آتا ہے۔ ان تینوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے تمام مسلمانوں نے قطع تعلق کر لیا۔ حدیث کی طوالت کے پیشِ نظر اس مختصر وقت میں اس کی تشریح آپ کے سامنے پیش کرنا ممکن نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی فضیلت کو بھی کئی صحیح ا حادیث میںبیان فرمایا ہے، جیسا کہ صحیح الجامع میں نقل کی گئی ایک حدیث میںآتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اَفضَلُ الشُّھَدَآءِ)…اَلَّذِینَ اِن یُّلقَوا فِی الصَّفِّ لَا یَلفِتُونَ وُجُوھَھُم حَتّٰی یُقتَلُوا اُولٰٓءِکَ یَنطَلِقُونَ فِی الغُرَفِ العُلٰی مِنَ الجَنَّۃِ وَ یَضحَکُ اِلَیھِم رَبُّھُم وَ اِذَا ضَحِکَ رَبُّکَ اِلٰی عَبدٍ فِی الدُّنیَافَلاَ حِسَابَ عَلَیہِ (مسند أحمد:باقي مسند الأنصار )
(( سب سے افضل شہدائ) …وہ ہیں جنہیں اگر(ایک مرتبہ) صف میں ڈال دیا جائے تو(دوبارہ) پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے ،( اور لڑتے جاتے ہیں)یہاں تک کہ شہید ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ جنت کے سب سے اونچے محلات میں چلیں پھریں گے ،اور ان کا ربّ ان کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے، اور جب تیرا ربّ دنیا میںاپنے کسی بندے کو دیکھ کر ہنس لے تو اس سے (قیامت کے دن)حساب کتاب نہیں لیا جائے گا)
ہم اور کیا چاہتے ہیں؟ اس سے بڑ ھ کر ہم کس چیز کے طالب ہیں؟ کیا ہمارا مقصود اللہ کی رضا کے سوا بھی کچھ ہے؟ کیا ہم جنت ہی کے طلب گار نہیں؟ کہیں ہم اس دنیاوی مال و اسباب کے خواہشمند تو نہیںجو الٹا ہماری پکڑ کا باعث بنے گا …اگر ہم اللہ کے دین کی نصرت کے لےے نہ اٹھے؟…
چنانچہ ہم اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ :
وہ ہمیںاپنے دین کی طرف بہترین طور پر لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے!
ہمیںاس ذلت اور دربدری سے نکالے جو اللہ کے دین اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت سے ہا تھ کھینچنے کی وجہ سے ہم پر مسلط کی گئی ہے !
ا للہ ہمیں جہاد کرنے اور اس پر قائم رہنے کی نعمت عطا فرمائے!
ا پنے فضل و احسان سے ہمیں اپنی نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے!
اپنی راہ میں ہجرت کی سعادت عطا فرمائے !
ہمیں شہادت عطا فرمائے،ایسے کہ ہم آگے بڑھنے والے ہوں نہ کہ پیٹھ دکھانے والے …یہاں تک کہ ہم اس سے جا ملیں اور وہ ہم سے راضی ہو!( آمین)
میرے بھائی! علم کی جو بھی فضیلت قرآن و سنت میںبیان ہوئی ہے … اہلِ علم کہتے ہیں کہ… وہ اُس علم سے متعلق ہے جس پر عمل کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث میں روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک جنگ کے موقع پر فرمایا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
اِنَّ اَبوَابَ الجَنَّۃِ تَحتَ ظِلاَ لِ السُّیُوفِ
(جنت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہےں)
اب ذرا دیکھئے کہ سلف کس نہج پر سوچتے تھے …
اتنی بات سن کر ایک غریب،بوسیدہ حال شخص اٹھا اور کہنے لگا:
’’اے ابو موسیٰ ؓ! کیا تم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟‘‘
آپؓ نے فرمایا:
’’ہاں!‘‘
بس یہ سن کر وہ آدمی اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹا اور ان سے کہا کہ میں توتمہیں (الوداعی) سلام کرتا ہوں۔پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ ڈالی اور تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھا اور( دشمنوں کو) مارتا گیا یہاں تک کہ خود شہید ہو گیا۔
( صحیح مسلم: کتاب الامارۃ، باب: ثبوت الجنۃ للشہید)
اس شخص نے جو علم حاصل کیا اس پر فوری عمل پیرا ہوا۔ پہلے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ واقعتاً یہ حدیث صحیح ہے، پھر اس پر فوری عمل کر ڈالا۔ بجائے اس کے کہ ہزاروں حدیثوں کا علم سینے میں جمع کر کے ان میں سے کسی ایک پر بھی نہ عمل کرتا…بس ایک سوال پوچھا: ’’ اے ابو موسیٰ! کیا تم نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟‘‘ انہوںؓ نے کہا ، ’’ہاں‘‘ اور سارا مسئلہ ختم ہو گیا۔مزید انتظار اور تحقیق میں وقت ضائع نہیں کیا۔
جہاد اور اس کی فضیلت کے حوالے سے کتنی ہی احادیث ہمارے علم میں ہیں… قتال پر ابھارنے والی کتنی ہی آیات، جو ہمیں اس کی فرضیت کا بتاتی ہیں،ہم پڑھتے ہیں… کیا کبھی ہم نے ان پر عمل بھی کیا ؟
آئیے ہم اللہ سے دعاکریں کہ وہ ہماری خطائیں اور لغزشیں معاف
فرما ئے !اور اس امّت کے لئے ایک ایسا دورِ ہدایت مقدر فرما ئے جس میں اس کے اطاعت گزار باعزت اور نافرمان ذلیل ٹھہریں… جہاں نیکی کاحکم دیا جائے اور برائی سے روکا جائے!
اے اللہ !
اے ہمارے ربّ! ہمیں صبر دے اور کافروں پر فتح عطا فرما!
اے اللہ !
ہمارے علمائ… ہر جگہ بسنے والے علمائ… پر ٹوٹنے والی سختیاں ہٹا دے!
اے اللہ !
امریکی قید میں پڑے شیخ عمر عبدالرحمان کو رہائی عطا فرما!
اے اللہ !
ان کے بڑھاپے اور کمزوری پر رحم فرما!
اے اللہ !
جزیرئہ عرب اور دیگر علاقوں میں قید علماء کی رہائی کا بندوبست فرما!
اے اللہ !
سر زمینِ مکہ و مدینہ میں قید شیخ سعیدبن زعیر اور ان کے بھائیوں کو رہائی عطا فرما!
اے اللہ !
اہلِ ایمان نوجوان، جہاں بھی قید ہوں، ان کو رہائی عطا فرما! یقیناً تو ہی اس کام کی طاقت اور قدرت رکھتا ہے!
اے اللہ !
ہمارے شیشانی مجاہد بھائیوں کے نشانے انکے اہداف پر ٹھیک ٹھیک بٹھا!
اے اللہ !
ان کے قدم جما!ان کی مدد فرما!
اے اللہ !
ا ن کے دشمنوں کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لے!
اے اللہ !
ہمارے افغان بھائیوں کو سیدھی راہ پرچلنے کی توفیق دے!
اے اللہ !
طالبان کو راہِ راست پر قائم رکھ، جنہوں نے تیری شریعت کو اس زمین پر قائم کیا!
اے اللہ !
یہ طاغوتی حکومتیں جن میں تیری نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہیں ہوتے …ان کے شکنجے سے مجاہدین کے نکل کر آنے، اور ایک طویل عرصے بعدیہاں پھر سے جمع ہونے کو آسان فرمادے !
آ خر میں ہم اللہ کے دربار میں یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اور آ پ کے روزے، قیام، اورزکوٰۃ،سب قبول فرمائے! وہی حقدار ہے کہ اس سے دعا مانگی جائے اور وہی اسے قبول کرنے پر قادر ہے۔ و آخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین۔
وصل اللّٰہم و بارک علی محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین۔
و السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ۔
پیاسا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پیاسا کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (06-06-11), عروج (16-10-11)
پرانا 27-08-08, 12:46 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسلمانو! اپنے مقدّسات کے تحفظ کی خاطر اٹ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، جزاک اللہ خیرا ، پیاسا بھائی ، اللہ آپ کی محنت قبول فرمائے ، اور ہمیں اپنے دین کی حفاظت و کامیابی کے اسباب میں قبول فرمائے ، والسلام علیکم
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے   Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
پیاسا (27-08-08)
پرانا 05-06-11, 09:31 AM   #5
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 861
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پیاسا بھائی! آپکا یہ مراسلہ آج ہی دیکھا ہے ، میں نے ابھی تھوڑا سا پڑھا ہے ، اللہ آپ کی محنت قبول فرمائے جزاک اللہ
__________________
اے ایمان والو اللّٰہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو (جس کی بدولت تمہیں اس کا قُرب حاصل ہو ) اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (المائدہ 35)
ندامت میں جھکے ہوئے سر سے اطاعت میں جھُکا ہوا سر بہتر ہے
مہتاب آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 05-06-11, 10:04 AM   #6
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,974
کمائي: 48,833
شکریہ: 7,285
5,955 مراسلہ میں 15,115 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اتنا لمبا ہے بعد میں پڑھ لونگا شاید۔
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کمر, پیاسا, پسند, وصیت, قرآن, لوگ, نفرت, مکہ, موت, مسائل, مسجد, معجزہ, معراج, آج, ایمان, اللہ, بھائی, تلاش, حدیث, دعا, رمضان, راستہ, عورت, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اپنےمونہہ میاں مِٹھو muhammad asif virani تعارف 12 29-08-11 01:45 PM
کوااورمٹھو زارا بچوں کا پاک نیٹ 1 12-02-11 11:54 AM
سقوط ڈھاکہ اور بٹھو کا کردار naeemuddin میرا پاکستان 7 22-12-09 09:59 PM
اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگادو میاں شاہد شاعر مشرق علامہ اقبال 2 04-04-08 10:01 AM
اٹھو کہ منزل بلا رہی ہے,,,,کوثر علی صدیقی خرم شہزاد خرم اپکے کالم 1 19-12-07 09:05 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:22 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger