واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


کرسمس، چند شبھات کا ازالہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-12-11, 10:33 PM   #1
کرسمس، چند شبھات کا ازالہ
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آف لائن ہے 26-12-11, 10:33 PM

اب ایک ’دلیل‘ یہ سامنے لائی جانے لگی ہے کہ فی زمانہ کرسمس کوئی مذہبی تہوار نہیں رہ گیا بلکہ ایک سماجی تہوار بن چکا، جس میں شرکت یا تہنیت کی کوئی حرمت ہی دین کے اندر باقی نہیں رہ جاتی! سبحان اللہ کتنا سوچا گیا تو جاکر یہ ’دلیل‘ ملی ہوگی اور وہ بھی زیادہ تر یورپ اور آسٹریلیا میں رہنے سے ہی ذہن میں آسکی!

مگر ہم حیرت سے دنگ رہ جاتے ہیں، ابن تیمیہ نے اِس کا جوب دینے سے بھی نہیں چھوڑا! (کسی نے ابن تیمیہ کے علمی مقام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ ابن تیمیہ صرف اپنے عہد کا نہیں بلکہ آنے والے زمانوں کا امام تھا۔ ہمارے خیال میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ابن تیمیہ ”عہدِ گلوبلائزیشن“ کا امامِ سنت ہے)۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ ذرا اُس حدیث پر ہی غور کر لو جس میں (یثرب کے جاہلی تہواروں کو ختم فرماتے وقت) رسول اللہ ا اُن لوگوں سے دریافت فرماتے ہیں: مَا ہٰذانِ الیَومَانِ؟ (اِن دو تہواروں کی کیا حقیقت ہے؟) تو وہ جواب دیتے ہیں: کُنَّا نَلعَبُ فِیہِمَا فِی الَاہِلِیَّةِ (دورِ جاہلیت میں یہ ہماری کھیل تفریح کے دن تھے)(۱)۔ بتائیے ”سماجی تہوار“ اور کیا ہوتے ہیں؟ بلکہ ابن تیمیہ یہاں یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ حدیث میں عموماً ایسی کوئی دلالت نہیں ملتی کہ اہل مدینہ کے یہ تہوار کسی ”مذہبی پس منظر“ کے حامل تھے۔ یہ حدیثِ انسؓ کے حوالے سے ہے۔ پھر ثابت بن ضحاکؓ کی حدیث میں مسئلہ کی مذہبی اور سماجی جہت بیک وقت بیان کر دی جاتی ہے؛ یہاں آپ ا ایک نہیں دو سوال پوچھتے ہیں: ایک: وہاں جاہلیت کا کوئی بت تو نہیں پوجا جاتا تھا؟ ہَل کَانَ فِیہَا وَثَن مِن اوثَانِ الجَاہِلِیَّةِ یُعبَدُ؟ (جاہلی ’مذہب‘) دوسرا: کیا وہاں اہل جاہلیت کا کوئی میلہ تو نہیں لگتا تھا؟ فَہَل کَانَ فِیہَا عِید مِن اعیَادِہِم؟(۲) (جاہلی ’کلچر‘)۔ آج بھی آپ کلچر اور ٹورازم والوں سے دریافت فرما لیجئے کہ ’فوک میلے‘ ایک قوم کی (جاہلی) تاریخ اور شناخت اور جڑوں کو زندہ رکھنے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں.... پھر اُس نئی صبح کا نظارہ کریں جو رسول اللہ ا کے دم سے اللہ رب العزت نے جزیرۂ عرب میں طلوع کروائی اور جس کی آب و تاب درحقیقت پوری دنیا کے لیے ہے۔

اقوامِ دیگر کو اُن کے طور طریقوں اور تہواروں پر چھوڑ رکھنا یقینا ہمارے دین کی تعلیم ہے کہ وہ جیسے چاہیں اُنہیں منائیں (ان کو مجبور کرنے کے ہم مجاز نہیں کہ وہ اپنا دین اور طورطریقے اور تہوار چھوڑ کر ہمارے دین اور ہمارے شعائر کو قبول کریں)، لیکن ہم ان آثارِ جاہلیت پر کسی بھی انداز میں اُن کو سندِ موافقت دیں یا اپنے تیوروں سے کوئی تاثر دیں کہ وہ جن چیزوں پر ہیں وہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی نہیں، یہ البتہ ہمارے حق میں حرام ہے، وہ جاہلیت کا ’مذہبی عمل‘ ہے تب اور ’سماجی عمل‘ ہے تب۔

ہرگز دھوکہ نہیں کھانا چاہئے؛ کرسمس کا مذہبی سٹیٹس ختم کرکے اور اس کو سماجی تہوار قرار دے کر اِس راہ سے شرعی رکاوٹیں ہٹانے والے یہ ’اجتہادات‘ اپنی انتہائی صورتوں کے لحاظ سے ایک بھیانک روٹ ہے۔

یہ چوردروازہ جو عالم اسلام میں پہلے ”تقاربِ ادیان“ اور بالآخر ”وحدتِ ادیان“ کی واردات کو ممکن بنانے کے لیے کھلوایا جا رہا ہے، آگے اور بہت سے محلوں تک جاتا ہے۔ ’امن کی آشا‘ کو تو اِس اجتہاد کی بھنک پڑنے کی دیر ہے! ”کرسمس“ کے محلے تو یہاں زیادہ نہیں، ’سماجی‘ دلیل والا یہ پھاٹک اصل میں تو ہمارے پڑوس میں کھلتا ہے۔ ’امن کی بھاشا‘ کو کرسمس سے کہاں اتنی غرض ہوگی جتنی کہ ”دیوالی“ سے! یعنی.... ایک دلیل سے اَن گنت شکار!
کرسمس تا دیوالی
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 628
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
mama_shalla (10-01-12), rana ammar mazhar (09-01-12), skjatala (27-12-11), پاکستانی (28-12-11), ھارون اعظم (28-12-11), نورالدین (06-01-12), نبیل خان (10-01-12), مرزا عامر (27-12-11), احمد نذیر (27-12-11), حیدر (26-12-11), رضی (09-01-12), شکاری (27-12-11), شمشاد احمد (06-01-12), عبداللہ حیدر (27-12-11)
پرانا 26-12-11, 11:14 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کرسمس یعنی حضرت عیسی کا یوم پیدائش یعنی عید میلاد النبی وہ دن ہے جس پر سلام اللہ تعالی نے بھیجا ہے۔ لہذا یہ مسلمانوں‌کا مذۃبی تہوار ہے۔ چونکہ بہت سے عیسائی اس کو پہلے ہی سے مناتے ہیں لہذا ۔۔۔۔۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), کنعان (06-01-12), مرزا عامر (27-12-11), حیدر (27-12-11), حیدر Rehan (28-12-11)
پرانا 26-12-11, 11:23 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس تہوار کو بہت زیادہ سیریس نہیں لینا چاہیئے ،
مسیحی جب ہمیں رمضان اور عید وغیرہ کی مبارک باد دیتے ہیں تو یہ ان کا بھی حق ہے کہ انہیں کرسمس مبارک کہہ دیا جائے۔
کرسمس مبارک کہنے سے آپ مشرک نہیں بن جاتے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ خدا نے بیٹا نہیں جنا تھا بلکہ اپنی قدرت سے پیدا کیا تھا۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), فیصل ناصر (27-12-11), فاروق سرورخان (27-12-11), کنعان (26-12-11), حیدر (27-12-11), عبدالقدوس (27-12-11)
پرانا 27-12-11, 04:17 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چلیں یوں کہہ لیں کہ اگر ہم کسی عیسائی کو یہ کہہ کر "ہیپی کرسمس" کہیں کہ ہم تم کو اُس نبی کی پیدائش کی مبارک باد دے رہے ہیں جس کو اللہ نے اپنی قدرت خاص سے پیدا کیا اور پھر اس کو خاص طاقتیں دیں تاکہ وہ دنیا میں آفاقی مذہب کی تعلیمات کو عام کر سکے۔۔۔۔۔ تو کیا یہ ناجائز امر ہو گا؟
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), مرزا عامر (27-12-11), حیدر Rehan (28-12-11)
پرانا 27-12-11, 04:38 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس کے جائز ہونے میں کیا شبہ ہے۔
لیکن یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ جسے ہم کرسمس کی مبارک باد دے رہے ہیں وہ در حقیقت عیسائی ہے بھی یا نہیں ۔ کیونکہ فری میسنز کی کار گزاریوں نے مذہب کو مغرب سے تقریباً ختم ہی کر کے رکھ دیا ہے ۔
ایک بہت اہم بات ان تمام باتوں کے درمیان رہ ہی گئی ۔ جو کہ میرا نقطہ نظر ہے اور بہت سے بھائی ناراض بھی ہو سکتے ہیں ۔ وہ یہ کہ
کسی بھی نبی کے صحیح یوم پیدائش کا علم آج کے انسان کو نہیں ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), نورالدین (06-01-12), موجو (28-12-11), احمد نذیر (06-01-12), حیدر (27-12-11), حیدر Rehan (28-12-11), رضی (09-01-12), عبدالقدوس (27-12-11)
کمائي نے مرزا عامر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
09-01-12 rana ammar mazhar کسی بھی نبی کے صحیح یوم پیدائش کا علم آج کے انسان کو نہیں ۔ 150
06-01-12 نورالدین کسی بھی نبی کے صحیح یوم پیدائش کا علم آج کے انسان کو نہیں 100
پرانا 27-12-11, 04:43 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چلو یار۔۔۔ عیسائی نہ کہو۔۔۔فری میسنری کہہ لو۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔
یوں کہہ لو کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ کے یوم پیدائش کی خوشی (ان کو معاذ اللہ اللہ کا بیٹا سمجھ کر مناتے ہیں )، ہم انکو حقیقت بیان کرتے ہوئے مبارکباد دے سکتے ہیں یا نہیں؟
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), فیصل ناصر (28-12-11), مرزا عامر (28-12-11), حیدر Rehan (28-12-11)
پرانا 28-12-11, 03:02 PM   #7
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,878
کمائي: 51,146
شکریہ: 7,904
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہر نبی کا یوم ولادت اللہ کی نظر میں مبارک ہے بس امتیں اپنے اپنے نبی کے دن کو خوشی کے طور پر ہی مناتی ہیں۔

حضرت عیسی علیہ سلام کی ولادت کی مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہی ، مضائقہ ہے تو اس بات پر کہ صرف مبارک باد دے کر کوئی مسلمان واپس آجائے اور تبلیغ اسلام یعنی توحید و نبوت پر دو لفظ بھی نہ بول سکئے۔ در آصل مسلمانوں کی اپنی تعلیم و شعار اس قدر کمزور ہوگیا ہےکہ یہ اجازت دینا خود ایک مسلہ ہے کہ ایک مسلمان کسی کو کچھ تعلیم دے کر آتا ہے یا خود ہی سیکھ کر چلا آتا ہے۔

میں نے مختلف اداروں میں کام کرنے والے عیسائی ورکرز کو جب بھی مبارک دی اردو یا پنجابی میں ہی دی یعنی اس مخصوص جملہ کا استعمال ہی نا کیا جس جملہ میں مسلمانوں کو قباہتیں نظر آرہی ہیں یا واقعی اس میں قباہتیں ہیں۔
لیکن
ساتھ ساتھ ہمیشہ یہی کہا کہ قران میں ہے کہ حضرت عیسی علیہ سلام جب پیدا ہوئے تو انھونے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے اور مجھے کتاب عطا کی ہے بس جیسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے نبی ہیں ویسے ہی حضرت عیسی ع بھی ہیں لیکن چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اخری نبی تھے اس لیے شریعت و حکم اخری نبی کا ہی چلے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ حضرت عیسی علیہ سلام پر عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے مختلف عقائد ہیں اور ہمارے پاس یعنی مسلمانوں کے پاس اس عقیدے پر بات کرنے کے لیے صرف اور صرف ایک موقع ہے ۔
اور وہ ہے 25 دسمبر یعنی عیسائیوں سے ہی منصوب ولادت عیسی ع کا دن
تو بھی ہمیں اس دن کو نہی بھولنا چاہیے تاکہ ایک موقع جو باقی رہ گیا ہے وہ بھی ہاتھ سے نکل نہ جائے

اب جو لوگ یہ اعتراض کررہے ہیں کہ 25 دسمبر کا دن بھی حضرت عیسی ع کی ولادت کا دن نہی ہے تو وہ دراصل چاہتے ہیں کہ حضرت عیسی ع پر بات کرنے کے لیے لوگوں کے پاس 25 دسمبر کا دن بھی نہ رہے یعنی بچا ہوا ایک دن بھی نہ رہے ۔ بس یہ حملہ یہودیوں نے ہی عیسائیوں پر کروایا ہے اور اس کے لیے ایک بار پھر اسلام کے کندھے استعمال کیے ہیں اور نام نہاد مسلمانوں نے خود کو اسلام کا ٹھیکہ دار کہہ کر اسلام کی اورتمام مسلمانوں کی ہی عزت کو خطرہ میں ڈالا ہے یعنی یہودی 25 دسمبر کا دن بھی ختم کرنے جیسا الزام بھی مسلمانوں پر ڈالنا چا ہتے ہیں تاکہ عیسائی یہ سمجھیں کہ یہ کام اگر یہودی کرتے تو ہم یہ سمجھتے کیونکہ وہ ہمارے دشمن ہیں مگر یہ باتیں تو مسلمان کررہے ہیں ۔
یہودیوں نے حضرت عیسی ع کی ولادت 25 دسمبر یعنی آخری دن پر ضرب لگانے کے لیے نام نہاد مسلمانوں کو ہی چنا ہے تاکہ بات میں وزن رہے ۔

بس یہ بھی پتا چلا کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں زیادہ مظبوط فرقے زیادہ گمراہ ہیں کیونکہ وہ ایک نبی پر بات ہونے نہی دینا چاہتے یہ بات قابل تعجب ہے کہ 72 فرقے ہونے کے بعد بھی منانے کے لیے صرف ایک دن ہے اور وہ ایک دن بھی خطرہ میں ہے۔
حیدر Rehan آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), فاروق سرورخان (06-01-12), حیدر (28-12-11)
پرانا 28-12-11, 03:09 PM   #8
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں پھر یہی کہونگا کے کرسمس منا نا
اور اپنے عیسائی پڑوسی کو ان کے ایک تہوار پر مبارک دینا

یہ دو الگ عمل ہیں
ان کو جدا جدا ہی رکھیں

کوئی غیر مسلم کسی کو عید مبارک کہے تو کیا اسکا شمار مسلمانوں میں ہوجائے گا ؟؟
میرا بنیادی سوال یہ ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), فاروق سرورخان (06-01-12), مرزا عامر (28-12-11), حیدر (28-12-11), حیدر Rehan (28-12-11), شمشاد احمد (06-01-12)
پرانا 28-12-11, 08:31 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں

کوئی غیر مسلم کسی کو عید مبارک کہے تو کیا اسکا شمار مسلمانوں میں ہوجائے گا ؟؟
میرا بنیادی سوال یہ ہے
معذرت چاہتا ہوں کہ یہ بنیادی سوال نہیں ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسلمان کسی شرکیہ عمل کی مبارکباد دے سکتے ہیں۔ مثلا ً ایک صاحب ایک نام اِشنو کرشنو کو (معاذ اللہ) اللہ کا باپ قرار دے دے اور پھر باقاعدگی سے اس کی سالگرہ منائے تو کیا ہم اس کو اس کی سالگرہ پر مبارکباد دے سکتے ہیں؟
اگر حضرت عیسیٰ (کے بطور ابن اللہ) مبارکباد کو کئی وجوہات سے جائز امر قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر موخر الذکر میں کیا حرج ہو گا۔


ہاں اگر جُرات ہے تو پھر "میری کرسمس" ہی کیوں؟ جس طرح میں نے اور ریحان نے کہا ۔۔۔اس طرح مبارکباد دینے میں کیا حرج ہے؟ اُنکی ناراضگی کا خطرہ؟ِ




واضح طور پر شرکیہ اس لیے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں کہہ دیا کہ یہودی حضرت عزیر کو اور عیسائی حضرت عیسیٰ کو ابن اللہ کہتے ہیں۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), نبیل خان (10-01-12), مرزا عامر (28-12-11), احمد نذیر (06-01-12), حیدر Rehan (29-12-11), شمشاد احمد (06-01-12)
پرانا 28-12-11, 08:55 PM   #10
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,708
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,064 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
معذرت چاہتا ہوں کہ یہ بنیادی سوال نہیں ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسلمان کسی شرکیہ عمل کی مبارکباد دے سکتے ہیں
کیا کسی نبی کا پیدا ہو جانا شرکیہ عمل ہے ۔ جو لوگ مبارک دیتے ہیں وہ اس لیئے نہیں دیتے کہ اللہ نے بیٹا جنا بلکہ اس لیئے دیتے ہیں کہ آج اللہ کا نبی پیدا ہوا۔ اس بات کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہیں کہ حضرت عییسٰی 25 دسمبر کو پیدا ہوئے یا نہیں ۔

آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں کونسے عیسائی زیادہ اسلام کی طرف آ رہے ہیں ۔ وہ عیسائی جن کے درمیان مسلمان گھل مل کر رہتے ہیں ان کی تقاریب میں شرکت کرتے ہیں ان سے میل جول بڑھاتے ہیں اس کے بعد آہستہ آہستہ اپنا پیغام ان تک پہنچاتے ہیں ۔ انسان کے تمام عمل کا دارو مدار اس کی نیت پر ہوتا ہے ۔ آج کونسا مسلمان ہے جو اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ نے بیٹا جنا ؟؟ کوئی بھی نہیں اور جسے یہ مبارک دی جاتی ہے وہ بھی آپ کے عقیدے اور نیت کو اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا نہیں مانتے ۔
میں اس عرب شخص کا نام بھول گیا جس نے تبلیغ سے بہت سے لوگوں کو مسلمان کیا تھا اور آپ کو معلوم ہے وہ کن لوگوں سے ملتا تھا اور کہاں ملتا تھا ۔ جی ہاں نائٹ کلب میں جہاں ہر طرف شراب کی بو پھیلی ہوتی ہے نیم عریاں لڑکیاں نشے میں مست جھومتی ہیں ۔ تو یہ شخص وہاں جا کر دوستی بناتا تھا اور پھر انہیں اسلام کی تبلیغ سے مسلمان کرتا تھا ۔
اگر آپ ان لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیں اور خوشی کے کسی تہوار پر انہیں مبارک بھی نہ دیں تو آپ کیسے اپنے دین کا موقف ان تک پہنچا سکیں گے ۔
و ضاحت کے لیئے دوبارہ عرض کردوں۔
آپ مبارک دے رہے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ اللہ کا نبی پیدا ہوا
وہ مبارک قبول کر رہا ہے آپ کی نیت سے پوری طرح واقف ہو کر کہ آپ کی نظر میں حضرت عیسسٰی بیٹے نہیں بلکہ نبی ہیں ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), فیصل ناصر (29-12-11), فاروق سرورخان (06-01-12), کنعان (29-12-11), نورالدین (06-01-12), حیدر (29-12-11), حیدر Rehan (29-12-11), رضی (09-01-12), شمشاد احمد (06-01-12)
پرانا 29-12-11, 12:24 AM   #11
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ان کا نام شائد شیخ احمد دیدات ھے
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), مرزا عامر (29-12-11), رضی (09-01-12), شمشاد احمد (06-01-12)
پرانا 06-01-12, 03:47 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

احمد دیدات، عرب نہیں ۔۔۔ جناب ، ہندوستانی بولنے والے ساؤتھ افریقہ کے ایک امیگرینٹ‌کی اولاد سے تھے۔ خود بھی اردو بولتے تھے، گجراتی لہجےمیں۔ ساؤتھ افریقہ میں رہتے تھے۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), نورالدین (06-01-12), مرزا عامر (08-01-12), رضی (09-01-12), شمشاد احمد (06-01-12), عبداللہ آدم (07-01-12)
پرانا 06-01-12, 04:50 PM   #13
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default



انہوں نے میری کرسمس کا ترجمہ خود کے اندازے سے کیا تھا۔

اس کلپ اور ہونے والے گفتگو پر بھی توجہ فرمائیں۔



ایسے نہیں ویسے
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), نورالدین (06-01-12), مرزا عامر (08-01-12)
پرانا 08-01-12, 12:05 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,594
کمائي: 31,027
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اللہ کی بیوی ہی نہیں ‌ہے

6:01 بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
وہی آسمانوں اور زمینوں کا مُوجِد ہے، بھلا اس کی اولاد کیونکر ہو سکتی ہے حالانکہ اس کی بیوی (ہی) نہیں ہے، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے

لہذا یہ کہنا کہ مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام کے عید میلاد النبی کو مبارک قرار دینے یا اس پر سلام بھیجنے سے کافر ہوجائے گا۔ ایک بے کار کی بات ہے ۔۔۔ دنیا چاہے کچھ سوچتی رہے یا کسی بھی بات پر ایمان رکھے مسلمان کا ایمان اللہ تعالی کے واحد ہونے پر ہے ۔ اس لئے حضرت عیسی کا عید میلاد النبی کو مبارک قرار دینا عین قرآن کے صریح‌ بیان کے مطابق ہے

والسلام
فاروق سرورخان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (09-01-12), مرزا عامر (08-01-12), حیدر Rehan (09-01-12)
پرانا 09-01-12, 12:33 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 439
کمائي: 10,414
شکریہ: 340
435 مراسلہ میں 1,428 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اللہ کی بیوی ہی نہیں ‌ہے

لہذا یہ کہنا کہ مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام کے عید میلاد النبی کو مبارک قرار دینے یا اس پر سلام بھیجنے سے کافر ہوجائے گا۔ ایک بے کار کی بات ہے ۔۔۔ دنیا چاہے کچھ سوچتی رہے یا کسی بھی بات پر ایمان رکھے مسلمان کا ایمان اللہ تعالی کے واحد ہونے پر ہے ۔ اس لئے حضرت عیسی کا عید میلاد النبی کو مبارک قرار دینا عین قرآن کے صریح‌ بیان کے مطابق ہے
محترم،
قرآن نے ہمیں جگہ جگہ شرک سے ڈرایا ہے اور شرک کی جتنی اقسام ہو سکتی ہیں، ان کی ہر ممکن وضاحت کر کے اس کے قریب پھٹکنے سے بھی منع کر دیا ہے۔ شرک تو دور کی بات وہ تمام ذرائع جو شرک تک لے جانے کا موجب بن سکتے ہیں، ان ذرائع کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ جس بات کو میرے بھائی بہت ہلکے پھلکے انداز میں‌لے کر فتویٰ‌عائد کر رہے ہیں‌کہ کرسمس کی مبارکباد دینے میں‌کچھ حرج نہیں۔ انہیں یا تو شرک کی قباحت و شناعت سے واقفیت نہیں، اور یا پھر وہ شریعت کا مزاج پہچاننے سے قاصر ہیں۔ لاریب، مسلمان حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا بندہ اور اس کا نبی ہی تسلیم کرتے ہیں، لیکن جب آپ ایک کرسچن کو اس کے غلیظ ترین عقیدہ پر تنبیہ کرنے کے بجائے اس کی خوشیوں کو بانٹنا چاہتے ہیں، تو یہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مرادف ہے۔ قرآن میں‌اللہ تعالیٰ‌ارشاد فرماتے ہیں:

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا ﴿٨٨﴾ لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا ﴿٨٩﴾ تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا ﴿٩٠﴾ أَن دَعَوْا لِلرَّحْمَـٰنِ وَلَدًا ﴿٩١﴾ وَمَا يَنبَغِي لِلرَّحْمَـٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا ﴿٩٢﴾
""وہ کہتے ہیں رحمن نے کسی کو بیٹا بنایا ہے سخت بیہودہ بات ہے جو تم گھڑ لائے ہو قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں اس بات پر کہ لوگوں نے رحمن کے لئے اولاد ہونے کا دعوی کیا ہے۔""(سورہ مریم ،آیت نمبر 88تا91)

ان کے اس دعویٰ پر اللہ کا قہر و غضب اور جلال دیکھیں، اور پھر خود سے پوچھیں‌کہ آپ اپنے والد کو گالی دینے والے شخص کی خوشیوں کو بانٹنا پسند کریں گے؟ اللہ کو (نعوذباللہ) گالی دینے والوں کو عین اس رسم میں اظہار یکجہتی کے لئے مبارکباد دینا، جو اسی گالی کی یاد میں منائی جا رہی ہو، سخت بےہودہ، اور بدترین توہین کی بات ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ کسی کو میری کرسمس کہہ دینےسے کوئی کافر ہو جاتا ہے۔ لیکن میرے بھائیوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ شرک اللہ تعالیٰ کی بدترین توہین ہے، جیسے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے شخص کی کسی خوشی مثلاً شادی و اولاد کی پیدائش پر اس کو مبارکباد دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے، حالانکہ توہین اس نے کی ہے، ہم نے نہیں کی، اور شادی یا اولاد کی پیدائش عمومی معاملہ ہے نا کہ اس توہین سے متعلقہ کوئی رسم ہے، تو ہم کیسے اللہ تعالیٰ کی شان میں بدترین توہین کرنے والوں، کو عین اس رسم توہین کی خوشی کی مبارکباد دے سکتے ہیں؟

اس بات کا ہرگز اس سے تعلق نہیں کہ انسان کا اپنا نظریہ کیا ہے، لیکن الولاء والبراء کے عمومی قواعد یہاں بھی لاگو ہوتے ہیں کہ محبت بھی صرف اللہ کی خاطر اور نفرت بھی اللہ کی خاطر۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے، جسے پہلی پوسٹ میں عبداللہ آدم صاحب نے ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے پیش کر رکھا ہے۔ دور جاہلیت میں اگر کسی مقام پر شرکیہ کام ہوا ہے، تو اس شرک کی نجاست اور غلاظت اس قدر شدید ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر خالص اللہ کے لئے نذر پوری کرنے کو بھی منع فرما دیتے ہیں۔ اور یہاں معلوم نہیں ہمارے بھائی اللہ تعالیٰ کے لئے اس توہین، گستاخی، گالی کی رسم کو سماجی رسم قرار دے کر اس کی قباحت کو کم کرنے کی فکر میں کیوں مبتلا ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں شرک کی جانب لے جانے والے ذرائع اختیار کرنے سے بھی اپنی پناہ میں رکھے اور جب بھی موت دے تو اس حالت میں دے کہ ہم صاحب ایمان ہوں اور شرک کی آلودگی سے بالکل پاک ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔
__________________
نہیں، اے محمدؐ، تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔ [النساء: 65]
شکاری آف لائن ہے   Reply With Quote
شکاری کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (09-01-12)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جوک در جوک سے اقتباس، ڈاکٹر یونس بٹ زارا مزاحیہ ادب 1 02-02-11 08:41 PM
محبت ہے ہمارے پاس، زارا شاعری اور مصوری 4 12-01-11 09:46 PM
وائرس، اسپائی وئیر، ٹروجن ہارس، ایڈ وئیر سے متعلق مدد کے لیئے shafresha Ask Experts ماہرین کی رائے 23 07-09-10 04:08 AM
جعلی اینٹی وائرس، گوگل کی وارننگ عدنان دانی کمپیوٹر کی باتیں 0 08-05-10 10:25 AM
اسلامی بکس، ناولز، سفرناے افتخاراحمد کتاب گھر 11 11-04-08 08:42 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:25 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger