| اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 2269
|
||||
| 9 قاری/قارئین نے طارق اقبال کا شکریہ ادا کیا | shafresha (07-10-10), فاروق سرورخان (12-10-10), کنعان (11-10-10), ھارون اعظم (09-10-10), محمد عاصم (22-10-10), مرزا عامر (07-10-10), راجہ اکرام (09-10-10), شمشاد احمد (09-10-10), عبداللہ آدم (09-04-11) |
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
|
قرآن اور سائنس کے درمیان مطابقت کے حوالے سے تین گروہ یا آراء بدقسمتی سے سائنس اور قرآن کے درمیان مطابقت کے حوالے سے تین گروہ پائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک گروہ یا جماعت کا موقف یہ ہے کہ سائنس کی بنیاد عقل انسانی پر ہے اوریہ قوانین تبدیل بھی ہوتے رہتے ہیں لہذا کسی طور پر بھی قرآن کا سائنس سے مطابقت دکھانا غلط ہے ۔اس سے قرآن سائنس کا محتاج نظرآتا ہے۔ جبکہ دوسرہ گروہ ہر چیز کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ درحقیت یہ دونوں موقف افراط وتفریط کا شکار ہیں ۔اس سلسلے میں تیسراموقف ایک حقیقی اور منصفانہ لگتا ہے اور اس کوپیش کرنے والوں میں ڈاکڑ زاکر نائیک پیش پیش ہیں۔ اسی موقف کو میں نے اپنی کتاب کے آغاز میںکچھ اس طرح پیش کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ درحقیقت آج کے اس سائنسی اور مشینی دور میں قرآن مجید اور جدید سائنس کے درمیان مطابقت یا عدم مطابقت کوبطوردعوت پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ دلائل کی زبان سمجھنے والوں کو قائل کیا جاسکے۔ موجودہ دور میں جدید سائنس نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم عام طرزِ دعوت کے ساتھ جدید طرز دعوت کو بھی اپنائیں اور اسے منظم انداز سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔اس بات کا اعتراف کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ دعوت کی یہ طرز انتہائی کٹھن اور مشکل ہے اور ہمیں اپنے قدم احتیا ط کے ساتھ اٹھانا ہوں گے۔میرے خیال میں اس کے لیے درج ذیل باتوں پر توجہ مرکوز رہنی چاہیے : قرآن اور سائنس کے درمیان مطابقت کو پش کرتے ہوئے درج زیل چند اصولوںکو مدنظر نظر رکھنا ہوگا۔ 1) یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرآن سائنس کی کتا ب نہیں بلکہ یہ نشانیوں یعنی آیات کی کتاب ہے۔قرآن مجید کی ایک ہزار سے زاید آیات کا تعلق سائنس اور سائنسی اُمور سے ہے۔ (1)جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بے مثال قدرت اوراسرار و رموز کے متعلق انکشافات کیے ہیں۔ان کو بعض جگہ مفصل اور بعض جگہ اشارة ً بیان کرنے کے بعد انسان کو دعوت ِ فکر دی ہے۔ 2)ہمیں سائنس کو بطور کسوٹی قرآن مجید کو سچا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ قرآن سائنس کی دلیلوں کا محتاج نہیں بلکہ سائنسی نظریات کی حقانیت یا ابطال کو پرکھنے کے لیے قرآن کریم سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے۔ سائنسی نظریات انسان کی جانب سے کی جانے والی مادی تحقیق پر مبنی ہیں جن کا کسی ممکنہ نقص سے پاک ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ جن میں سائنسی بنیادوں پر پیش کیے جانے والے نظریات کو سائنس نے ہی باطل قرار دے دیا ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ مسلمان کے لیے کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے اور پرکھنے کے لیے اصل کسوٹی ''قرآن مجید '' ہی ہے، سائنس نہیں۔ چنانچہ ہمیں صرف انہی سائنسی دریافتوں کا ذکر کرناچاہیے جوواقعی دلائل اور ثبوت رکھتی ہیں ،جبکہ سائنسی مفروضوں کے ذکر سے اجتناب کیا جائے۔ 3) اس سوال کا جواب دینا بھی ضروری ہے جو قرآن اور سائنس کے مضمون کو پڑھتے ہوئے کسی کے ذہن میں پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ قرآن مجید میں پہلے سے ہی موجود تھاتو تفاسیر میں ان کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا اور آج سائنس کے بتانے کے بعد یہ کیوں کہا جارہاہے کہ یہ باتیں تو 14سو سال پہلے ہی قرآن مجید میں موجود تھیں۔ درحقیقت عربی زبان بڑی جامع اور وسیع زبان ہے۔ ایک لفظ کے کئی کئی معانی ہیں نیز کائنات کے اسرارورموز سے اس وقت کے مسلمان ناواقف تھے۔ علاوہ ازیں کسی بھی انوکھی چیز کو سمجھنے یا سمجھانے کے لیے کسی قرینے یا علم کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ قرینہ یا علم جو آج ہمیں سائنس کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ سابقہ ادوار کے مفسرین کرام اس سے محروم تھے چنانچہ ہر مفسر نے اپنے دورکے علم اور حالات کے حساب سے قرآنی آیات کی تشریح کی۔ قرآن مجید ایک لفظ کے کئی معانی بتاتا اوراستعمال کرتاہے۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم فرمان مبارک ہے کہ : (( فُضِّلْتُ عَلَی الاَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ، اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ)) ''مجھے دوسرے انبیاء پر جو چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے ان میں سے ایک میرا جوامع الکلم ہونا ہے۔ '' (2) اس مفہوم کی دوسری حدیث ہے: (( واوتیت جوامع الکلم )) ''اورمجھے جوامع الکلم دیے گئے ''(3) ہند بن ابی ہالہ کی روایت ہے کہ: (( کان یتکلم بجوامع الکلم)) یعنی ''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو بہت سی خصوصیات کا جامع بنایا گیا ہے'' ۔ (4) جوامع، جامع کی جمع ہے۔ اس کے اندر چیزوں کو اکٹھاکر نے او رسمیٹنے کامفہوم پایا جاتاہے۔ کلم ،کلمہ کی جمع ہے۔ اس کے معنی ''بات ''ہیں، یعنی ایسے اقوال جن کے معنی زیادہ اورالفاظ کم ہوں،یعنی کثیر المعانی الفاظ۔ (5) لہذا اگر کسی واقعہ یا نظریہ میں ہمیں قرآن کریم یا کسی صحیح حدیث کی رُو سے تضاد یا تعارض نظر آ رہا ہو تو اس کی دو ہی وجوہ ہو سکتی ہیں ایک یہ کہ قرآنی آیت یا صحیح حدیث کے الفاظ میں ایسی تاویل کی گنجائش موجودہو جس کی اس سے پیشتر ضرورت ہی پیش نہ آئی ہو اور جب اس سے متعلق کوئی واقعہ رونما ہوتو تب ہی ان الفاظ کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ نظریہ بذات ِ خود تجرباتی دور سے گزر رہا ہو اوراپنے مشکوک ہونے کی بنأ پر ابھی تک نظریہ کی حد سے آگے نہ بڑھ سکا ہو۔یا جو کچھ بیان کیا جارہا ہو اس کی بنیاد محض ظنون وقیاسات ہوں جبکہ وحی یقینی علم مہیّا کرتی ہے اور انسان کی بھٹکتی ہوئی عقل کے مدتوں کے سفر کو قریب کر دیتی ہے ۔چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے ۔ (( بَلْ کَذَّبُوْا بِمَالَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہ وَلَمَّا یَاْتِہِمْ تَاْ وِیْلُہ )) بلکہ انہوں نے ہر اس بات کو جھٹلا دیا جس کا وہ اس چیز کے حقیقی علم سے احاطہ نہ کرسکے حالانکہ اس کی حقیقت ابھی ان پر کھلی ہی نہیں تھی ۔(6) اوریہ ہے بھی حقیقت کہ کسی چیز کے متعلق انسان کا علم خواہ کتنا ہی ترقی کر جائے وہ محدود ہی ہوگااور اس کے بعد بھی اس چیز کے متعلق مزید انکشافات ہوتے رہیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم لا محدود ہے اور وہ اس چیز کا خالق ہے ۔جو کچھ وہ جانتا ہے دوسرا کوئی جان نہیں سکتا۔چناچہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک نہایت جامع اوربلیغ خطبہ ارشاد فرمایا ،جس سے سامعین بہت متاثر ہوئے ۔ا ن سامعین میں سے کسی نے حضرت موسیٰ سے پوچھا ، '' کیا اس دنیا میں آ پ سے بڑھ کربھی کوئی عالم ہے ؟''حضرت موسیٰ نے جواب دیا ۔''نہیں ''۔اللہ تعالیٰ کو موسیٰ کا یہ جواب پسند نہ آیا ،لہٰذا انہیں حکم دیا کہ وہ ہمارے فلاں بندے (حضرت حضر ) کو جا کر ملیں۔ حضرت موسیٰ نے ایک ہمسفر اپنے ساتھ لیا اور بہت مشقت کے بعد حضرت حضر کو ملنے میں کامیاب ہوئے ۔ابتدائی گفتگو کے بعد ان کے ساتھ سفر کا آغاز کیا ۔دوران سفر تین ایسے واقعات پیش آئے جو صریحاً خلافِ عقل تھے،لہٰذا حضرت موسیٰ نے فوراً ان پر اعتراضات کر دیئے جن کی تفصیل کا یہ مو قع نہیں۔بعدہ حضرت خضر نے ان واقعات کی تاویل سے مطلع کرنے کے بعد فرمایا :''موسیٰ ! میرا علم اورتمہارا علم دونوں مل کر اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں ایسے ہی ہیں جیسے اس سمندر کے مقابلہ میں پانی کا ایک قطرہ''۔ یہ واقعہ قرآن کریم اورکتب ِ احادیث میں تفصیل سے مذکور ہے اور اسے بیان کرنے سے غرض یہ ہے کہ جب انسان کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں اتنا کم ہے تو پھر کم از کم ایک مسلمان کو کیا حق ہے کہ وہ کتاب اللہ یا کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں اپنے یا دوسرے لوگوں کے علم اورنظریات پر انحصار کرے ۔ دور حاظر میں اس کی مثال یہودیوں کی سلطنت اسرائیل کا قیام ہے ۔ مدّتوں یہی سمجھا جاتا رہا کہ یہودی چونکہ ایک مغضوب علیہ قوم ہے اور ذلّت و مسکنت اس کے مقدر کر دی گئی ہے لہٰذا یہ کبھی حکمران نہیں بن سکتے اورجب ان کی سلطنت قائم ہوگئی تو بہت سے اہل علم کے بھی چھکّے چھوٹ گئے کہ یہ بن گیا ؟یہ بات تو قرآن کے خلا ف ہے حالانکہ قرآن ہی میں آیت مبارکہ کے اگلے الفاظ کچھ اس طرح ہیں : (( اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہ ِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ )) اِلّا یہ کہ اللہ کی یا لوگوں کی پناہ میں آجائیں۔ (7) ان الفاظ کی رو سے دو صورتوں میں یہودی سلطنت وجود میں آسکتی ہے ایک یہ کہ وہ اللہ کے دین پر کاربند ہو جائیں اور کم از کم اپنی طرف سے منز ل من اللہ کتاب پر پوری طرح عمل پیر ا ہوں ۔ا ور دوسرے یہ کہ دوسرے لوگوں کی حکومتوں کی شہ پر ان کی سلطنت قائم ہو سکتی ہے ،اور حقیقتاً ایسا ہی ہے کہ یہ سلطنت برطانیہ ،فرانس اورامریکہ کی شہ پر قائم ہوئی ۔پھر روس بھی ان کاہمنوابن گیا اور تما م اسلام دشمن طاقتوں نے مل کر اسلامی ممالک کے وسط میں اسرائیل قائم کرکے مسلمانوں پر خطرناک وار کردیا ۔ غور فرمائیے آیت کے مندرجہ بالا الفاظ نازل تو دور نبوی میں ہوئے تھے جنہیں مسلمان ہر دور میں پڑھتے رہے لیکن ان کے معانی کی طرف کسی نے کم ہی غور کیا ہو گا پھر جب یہود کی سلطنت قائم ہوگئی تو یہ الفاظ بھی سامنے آگئے ۔ یہ ہے ولما یاتہم تاویلہ کا مطلب۔ اسی طرح جب موجودہ دور میں انسان چاند پر پہنچ گیا تو کئی لوگ اس سے سخت حیران وپریشان ہو گئے اور ا س حقیقت کا ہی انکا ر کرنے لگے ۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان زمینی حدود سے آگے نہیں جا سکتا ۔ان کی وجہ استدلا ل یہ آیت تھی :۔ (( یٰمَعْشَرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ )) اے جنّون اور انسانوں کی جماعت ! اگر تم اس بات کی طاقت رکھتے ہوکہ آسمانوں اورزمین کے کناروں سے آرپار نکل جاؤ ،تو نکل جاؤ،مگر زبردست قوت کے بغیر تم نہیں نکل سکتے ۔( ![]() غور فرمائیے اس آیت میں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کو زمین کی حدودہی تک محدود رہنے کی پابند بناتی ہو اور اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے تو یہ اس کی اپنی کم فہمی ہے کیونکہ آیت بالا میں اورآسمانوں اورزمین کے اقطار کا ذکر ہے صرف زمین نہیں۔لہٰذا اگر کوئی شخص چاند یا کسی دوسرے سیارے تک پہنچ جائے تو اقطار السمٰوات والارض سے باہر نہیں گیا ۔دوسرے اس آیت میں یہ بھی مذکور ہے کہ سلطان (قوت ،زور ،غلبہ)سے تم اقطار السمٰوات والارض سے آگے بھی جاسکتے ہو ۔اسی دور میں علامہ اقبال نے یہ شعر کہا تھا۔ سبق مِلا ہے یہ معراج مصطفٰے سے مجھے کہ عالِم بشریّت کی زد میں ہے گردوں اندریں صورت یہ بات پوری طرح سمجھ لینا چاہیے کہ جب کوئی ایسا واقعہ یا نظریہ درپیش آئے جو بظاہر اسلام کے خلاف معلوم ہوتاہو تو اسے فی الواقعہ اسلام کے خلاف نہ سمجھ لینا چاہیے بلکہ اسی کی تاویل پر غورکرناچاہیے یا تاویل کا انتظار کرناچاہیے اورا یسی صورت حال کو اپنی کم علمی اورکم فہمی پر محمول کرناچاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قول وفعل میں کبھی تضاد واقع نہیں ہو سکتا اور اگر وہ فی الواقعہ اسلام کے خلاف ثابت ہوجائے تو دلائل کے ساتھ ایسے نظریہ کی پر زور تردید کرناچاہیے ۔(9) 4(قرآن مجید میں بیان کردہ سائنسی علم کے متعلق آیا ت کے ترجمہ ا ور تشریح کے لیے سائنس دانوں کی معاونت حاصل کی جائے۔ علاوہ ازیں یہ معلومات اور تحقیق کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن مجید کو اپنا ضابطہ حیات قرار دیتے ہیں، ان کا ایمان مزیدپختہ ہوجائے کہ سائنس نے جن حقیقتوں کو آج دریافت کیا ہے ان میں سے کئی ایک کا ذکر قرآن مجید میں کسی نہ کسی شکل میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ وہ غیر مسلم جو سائنس پر یقین رکھتے ہیں اور جن کے نزدیک کسی بھی چیز کو پرکھنے کے لیے اصل کسوٹی سائنس ہی ہے، کے لیے حق کوجاننا'سمجھنا اور پرکھنا آسان ہو جائے کیونکہ انہی کی مبینہ کسوٹی کو استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید برحق اور سچاہے ،گوکہ اس کی ضرورت مسلمانوں کو نہیں۔ یعنی ایک مسلمان کے نزدیک قرآن سائنس کی گواہی کا محتاج نہیںہے۔ حواشی (1)۔ The Quran and Modern Science by Dr.Zakir Naik,Page: 05 (2)۔ صحیح مسلم از امام مسلم بن حجاج القشیری جلد 5صفحہ 5 (3)۔ البیان والتبیین ازجاحظ جلد 4صفحہ 29 (4)۔ صحیح بخاری کتاب التعبیر (5)۔ القاموس الوحید از مولانا وحید الزمان قاسمی کیرانوی (6)۔10/39 (7)۔3/112 ( ۔55/33(9)۔ الشمس والقمر ۔ص 80-83 |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے طارق اقبال کا شکریہ ادا کیا | shafresha (07-10-10), فاروق سرورخان (12-10-10), منتظمین (09-10-10), محمد عاصم (22-10-10), مرزا عامر (07-10-10), راجہ اکرام (09-10-10), شمشاد احمد (09-10-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپکا یہ لمبا مضمون نہ تو میں پڑھا ہے اور نہ ہی ارادہ ہے کیونکہ میرے خیال میں سائنس اور مذہب کو مکس نہیں کرنا چاہیے، یہ دونوں الگ الگ فیلڈ ہیں۔
مذہب کو سائنس کے معیار سے ناپا یا تولا نہیں جا سکتا کیونکہ اسمیں کسی چیز پر بغیر ثبوت کے یقین نہیں کیا جاتا جبکہ مذہب میں جو کچھ مذہبی رہنما یا مقدس کتابیں بتاتے ہیں اسپر بغیر ثبوت طلب کیے یقن کیا جاتا ہے۔
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#5 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مذہب ایک مکمل ضابطہ حیات ہوتا۔ زندگی کے دیگر شعبے اس ضابطے کے تحت ہوتے ہیں۔ علم کا حصول بھی مذہب کی تعلیمات میں سے ہے۔۔ اور سائنس بھی ایک علم ہے اس لئے بطور علم اس کا مذہب سے متضاد ہونا خلاف عقل ہے۔ لیکن مذہب میں ہر چیز کی حدود و قیود ہیں ان سے تجاوز کی ممانعت ہے۔۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان میں ان سے آگے جانے کی اہلیت نہیں بلکہ باوجود اہلیت و صلاحیت کے روک دیا جاتا ہے تا کہ پتہ چلے کون رب کے حکم پر سر تسلیم کر دیتا ہے اور کون سرکشی کرتے ہوئے حدود کو پھلانگتا ہے۔ سائنسی مذہب کے خلاف کوئی نیا نظریہ حیات نہیں ہے جو دیگر مذاہب کی طرح ایک دوسرے سے متضاد ہو ۔ البتہ جن سائنسدانوں نے سائنس کی بنیاد پر مذہب یا خدا کا انکار کیا وہ ایک الگ بحث ہے۔ تاہم ایک نئے فلسفے سائنٹالوجی Scientology جو کہ ایک مذہب کی صورت ابھرا ہے وہ قابل مطالعہ ہے اور اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (09-10-10), فاروق سرورخان (12-10-10), ھارون اعظم (09-10-10), محمد عاصم (22-10-10), مرزا عامر (09-10-10) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اقتباس:
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُّخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سائنس میں کتنے مولویوں یا پادریوں نے نوبل پرائز جیتے ہیں۔
مجھے تو سائنس کی نمایاں ریسرچ میں کہیں مولوی نظر نہیں آتے اگر آپ کو آتے ہیں تو بتا دیں؟ چونکہ سائنس ایک الگ فیلڈ ہے اسلیے مولوی اس سے دور ہی رہتے ہیں یا رکھے جاتے ہیں اور بہتر بھی یہی ہے کیونکہ مذہب سائنس سے الگ رہ کر ہی زندہ رہ سکتا ہے۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مولویوں کی قید والی بات سمجھ نہیں آئی
اسلام میں کوئی پاپائیت نہیںکہ کسی جگہ مولویت کا وجود ہی اس کے مذہبی یا اسلامی ہونے کی دلیل ہو۔ |
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | محمد عاصم (22-10-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سائنس کو مذہب میں لایا جائے تو مذہب ختم ہوسکتا ہے اور اسی طرح اگر مذہب کو سائنس میں لایا جائے تو یہ پھر سائنس نہیں رہتی۔
کیا اب آپ کو سمجھ آئی؟ |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ ایک مفروضہ ہے جس کا تائید حقیقت نہیں کرتی۔ اور ““لایا جائے”” سے کیا مراد ۔۔۔ یہ کوئی خارجی چیز نہیں ہے میرے بھائی جو اس کو مذہب میں لایا جائے گا۔ اسے آپ بطور مذہب یا نظریہ حیات نہ لیں بلکہ اسے بطور علم ہی لیں جو کہ اس کی حقیقت ہے۔ کوئی اشکال نہیں رہے گا انشاء اللہ ہر مسلمان سائنس کا علم حاصل کر سکتا ہے اور مسلمان کرتے رہے ہیں ظہور اسلام سے لے کر آج تک۔ اور مسلمانوں کا اس کو بطور علم اپنانا اور کسی اہل علم کا اس کے خلاف کلام نہ کرنا بذات خود کافی دلیل ہے اس بات کی کہ یہ کوئی شجر ممنوعہ یا دین سے متضاد چیز نہیں۔ |
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | طارق اقبال (10-10-10) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سائنس مذہب سے الگ ہے !
کیا دلائل دے سکتے ہیں آپ ؟ اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سائنس میں خدا کی ہستی کو تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ اسکیلیے سائنسی معیار پر پورا اترنے والا ابھی تک کوئی ثبوت موجود نہیں ہے (بحیثت مسلمان میرا اسپر یقن نہیں) ۔ مذہب /اسلام میں خدا کی ہستی کو بلا کسی شک شبہ کے ماننا ایک بنیادی یقین ہے۔
ایک فیلڈ میں خدا کو نہیں مانا جاتا اور دوسرے میں مانا جاتا ہے تو کیا یہ دونوں الگ الگ فیلڈ نہیں ہیں؟ آپ مجھے بتائیں کہ اسلام کے مطابق زمین سورج کے اردگرد گھومتی ہے یا سورج اسکے ارد گرد؟ |
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,670
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: Cyberland
مراسلات: 1,884
کمائي: 44,989
شکریہ: 1,916
1,665 مراسلہ میں 5,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان میں کئی سیاستدان اور مزہبی گروپوں کے لیڈارن بار بار یہ کہتے ہیں کہ اسلام اور سائنس میں کوئی تضاد نہیں۔
پاکستان میں تو سائنس اور اسلام کے درمیان ابھی تک کلیش سامنے آیا ہی نہیں۔ آپ نے اگر اس قسم کے کلیش اور اسکےنتائیج دیکھنے ہیں تو مغربی ممالک میں دیکھیں جہاں ان دونوں فیلڈز کے درمیان دشمنی اس دن شروع ہوئی تھی جب گیلیلیو نے اپنی دوربین اٹھاکر اسکا رخ آسمان کی طرف کیا تھا۔ کئی سو سال کی اس دشمنی میں مغربی ممالک کے اندر اب اس دور میں سائنس نے مذہب پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ پاکستان میں جب سائنس اور اسلام کے درمیان کلیش سامنے آیا تو تب پتہ چلے گا کہ ان دونوں میں تضاد ہے یا نہیں! |
|
|
|
|
|
#15 | |||
|
Member
اجنبی
|
اقتباس:
اقتباس:
باقی یہ آپ نے بڑا فضول سوال کیا ہے کہ کون کس کے گرد گھومتا ہے؟ محترم قرآن نہ تو سائنس کی کتاب ہے اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتانے کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی اسلامی ضرورت تھی۔ ہاںقرآن یہ ضرور بتاتا ہے کہ کل فی فلک یسبحون۔ کائنات میںہرچیز اپنے مدار میںگھوم رہی ہے۔ اور اس میںسورج اور زمین سب شامل ہیں۔ جبکہ سائنسدانوں میںیہ اختلاف کئ ہزار سال سے چل رہا تھا ۔کبھی کہا گیا کہ زمین ساکن ہے اور سورج گھوم رہا ہے اور کبھی الٹ۔ اقتباس:
|
|||
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے طارق اقبال کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (22-10-10), راجہ اکرام (10-10-10) |
![]() |
| Tags |
| فرض, کمال, کارنامے, کتابوں, پہچان, واشنگٹن, قدم, قران, لوگ, نظر, موجودہ, مجید, معجزہ, ایمان, امریکہ, توحید, تعلیم, جرم, دریافت, سائنس, عیسیٰ, عورت, عقل, عبادت, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|