واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اسلام اور عصر حاضر



اسلام اور عصر حاضر اسلام اور عصر حاضر


”کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے ’ تکفیری‘ او ر’خارجی ‘ہیں ؟“

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-04-11, 12:27 PM   #1
”کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے ’ تکفیری‘ او ر’خارجی ‘ہیں ؟“
عبداللہ آدم عبداللہ آدم آف لائن ہے 25-04-11, 12:27 PM

”کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے
’تکفیری‘ او ر’خارجی ‘ہیں ؟“


سعودی علماءکے ایک اہم فتویٰ کے ضمن میں کچھ فکر انگیز اور غور طلب نکات

حامد كمال الدين

عالم اسلام کے اطراف و اکناف میں روز بروز یہ مسئلہ الحمد اﷲ مسلمانوں خصوصا نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بنتا جارہا ہے کہ آج کے حکمرانوں کا شریعت میں کیا حکم ہے ؟ مسلمان ان کو کیا سمجھیں اور انکے ساتھ کیا برتاؤ کریں؟ شریعت میں جہاں اور حقوق و فرائض کی تفصیل ملتی ہے والدین ، زوجین ، پڑوسی ، رشتہ دار وغیرہ سب کے حقوق اور فرائض شریعت نے کھول کھول کر واضح کردیئے ہیں وہاں شریعت نے یہ رہنمائی کرنے میں بھی کمی نہیں چھوڑی کہ حکمران اور رعایا میں تعلق کی نوعیت کیا ہو اور ان دونوں کے حقوق اور فرائض کیا ہوں۔ مگر چونکہ فتوی دینے کے لیے صرف قرآن کی آیا ت اور سنت سے احادیث نکال لانا ہی کافی نہیں زمان او ر مکان کا صحیح علم و ادارک ہونا ضروری ہے اس لیے آج کے مسلمانوں کو انکے معاشرتی حقوق و فرائض بتانے میں اور انکے کرنے کا کام سمجھانے میں بہت سارے مخلص حضرات قرآن اور حدیث کے حوالے لے آنے کے باوجود کچھ غلطی ہائے مضامین کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ موجود ہ دور کے ان اہم مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ وقت کے حکمرانوں کا بھی ہے کہ موجودہ دور کے حکمرانوں کا شریعت میں کیاحکم ہے۔

یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ شریعت نے جوحقوق اور فرائض بتائے ہیں وہ مطلق نہیں ۔ پڑوسی یا رشتہ دار کافر ہوں تو بھی شریعت میں ان کے حقوق ضرو ر ہونگے مگر ظاہر ہے وہی حقوق نہیں جو ایک مسلمان ہمسایہ یا رشتہ دارکے ہوسکتے ہیں۔ کوئی صاحب اگر حقوق زوجین پر طویل وعریض تقریر کریں اور قران و حدیث سے مسلمان خاوند بیوی کے حقوق و فرائض پرسیر حاصل بحث کریں مگر بیچ سے ایک بات نظر انداز کرجائیں کہ جس واقعہ میں وہ فتوی صادر فرمارہے ہیں وہاں شوہر یا بیوی میںسے کوئی ایک کفر کا ارتکاب کرچکا ہے تو ان کی عزارت علم کے باوجود آ پ انکی فقاھت کے باریے میں کیا رائے رکھیں گے ؟

چنانچہ ایک عرصہ سے عالم اسلام میں جو سوال بار بار اٹھ رہا ہے اور عموما دین کی غیرت رکھنے والے نوجوانوں کی زبان پر رہتا ہے وہ یہ کہ موجودہ حکمرانوں کا شریعت میں کیا حکم ہے اور مسلمانوں سے انکے تعامل کی نوعیت کیا ہونا چاہیے؟ جسکا جواب ہمارے ہاں علما ءکی جانب سے عموما یہ آتا رہا ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے حقوق و فرائض یہ یہ ہوا کرتے ہیں اور شریعت کی رو سے رعایا کے ان سے تعلقات ایسے اور ایسے ہونے چاہئیں !یعنی سوال کچھ ہے تو جواب کچھ اور ! یہی وجہ ہے کہ بار بار یہی سوال اٹھنے کے باوجود اور علماء کرام کی جانب سے بار بار اسکا جواب آنے کے باوجود کسی کی تشفی نہیں ہوپارہی کیونکہ اس مسئلہ سے جتنی بھی آنکھیں چرائی جاتی رہیں یہ اپنی جگہ برقرار ہے اور علماءدین اور زعما ئے امت سے جرات گفتار اور افضل الجہاد کا بدستور تقاضا کررہا ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں کو کھل کر بتائیں کہ موجود ہ حکمران جو جانتے بوجھتے اور ہوش و حواس رکھتے ہوئے رب العالمین کی شریعت کو ایوان اقتدار سے بے دخل کرکے لاکھوں مربع میل کے اند ر اور کروڑوں انسانوں کی گردنوں پر صریحاً غیر اﷲ کا حکم اور قانون چلاتے ہیں آیا مسلمان ہیں یا کافر؟ موحد ہیں یا مشرک؟ اور کیا مسلمانوں کو انکی وفادار رعایا بن کر رہنا چاہیے اور(الدین النصیحتہ والی حدیث کے مطابق) انکی خیر خواہی اور اعانت کرنی چاہیے (جوکہ اس حدیث کی روسے ائمہ المسلمین کا حق ہے ) یا انکے کے لیے شریعت کا کوئی اور حکم ہے ؟ اور کیا شرک کے ارتکاب کے باوجود بلکہ بار بار سمجھائے جانے پر بھی شرک کرتے رہنے کے باوجود کلمہ گو ہونا انکے کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے ؟ ملک کے طول و عرض میں شرک کی تہذیب و ثقافت ، کفر کا قانون اور استعمار کا دین پورے منظم اور باقاعدہ انداز میں رائج کرنے کے بعد بھی ان حکمرانوں کی کلمہ گوئی کا ڈھنڈورا پیٹا جانا شریعت میں کیا وقعت رکھتا ہے ؟ اخباروں میں ان کے حج و عمر ہ کرنے کی تصویریں چھپنے اور سیر ت کانفرنسوں کے افتتاح کرنے کا امت کی صحت پر کیا اثر ہوسکتا ہے ؟؟

یہ ہے وہ اصل سوال جس پر مراکش سے انڈونیشیا تک پھیلا ہو ا اور برس ہا بر س سے تہذیب کفار کے پنجوں میں گرفتار عالم اسلام چیخ چیخ کر زعمائے دین کو دعوت سخن دے رہا ہے ۔ حالات کی تیزی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح اس سوال کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف جس انداز سے ابنائے اسلام میں دین کا شعور بھی بڑھ رہا ہے ، لگتا ہے بہت دیر تک اس سوال کو سر د خانے میں پڑا رہنے دینا اب کسی کے بس میں نہ ہوگا۔

سوال کا صحیح تعین ہوجائے تو شریعت میں اس کا جواب پانا کچھ مشکل نہیں۔ جو آدمی اﷲ کی مخلوق پر اﷲ کے حکم اور قانون کی بجائے اپنا حکم اور قانون چلائے وہ اﷲ کا شریک اور ہم سر ہے ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس کو طاغوت کہا جاتا ہے۔ ایک طاغوت اور ایک مسلم حکمران میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ اگرچہ مسلم حکمران ظالم اور فاسق ہی کیوں نہ ہو ۔ ان دونوں کا حکم ایک کردینا کسی ظلم عظیم سے کم نہیں۔

مگر چونکہ پاکستان میں لفظ طاغوت کا استعمال بڑی حد تک شرعی سے زیادہ سیاسی رہا ہے اس لیے باوجود یہ کہ یہ لفظ زبان زد عام ہے اس کا صحیح ادراک اور درست اطلاق بہت کم لوگ کرتے ہیں ۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو کسی حکمران کو نا انصافی یا بد عنوانی یا عوامی آزادیاں سلب کرنے کی وجہ سے ناپسندیدہ قرار دینے کے لیے یا اس پر اپنا احتجاج واضح کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ حالانکہ ایسی حرکت کسی ظالم یا فاسق مسلم حکمران سے بھی ہوسکتی ہے مذہب خوارج کے برعکس جبکہ دوسری جانب ایسے نکتہ ور حضرات ہیں جو حکمرا ن کو جھٹ سے طاغوت تو کہہ دیتے مگر اسے دائر اسلام میں بدستور داخل بھی سمجھتے ہیں اور اس پر کفر یا شرک کا اطلاق کرنا خلا ف ادب جانتے ہیں یہ حضرات طاغوت اور مسلم کے الفاظ کو قطعی متضاد نہیں سمجھتے حالانکہ شریعت کی اصطلاح میں طاغوت کسی شخص کے کافر یا مشرک ہونے کی بد ترین شکل ہے ۔ ایک آدمی غیر اﷲ کی بندگی کرکے بھی مشرک تو کہلا سکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ طاغوت کے درجے کو بھی پہنچتا ہو ۔

طاغوت وہ اس صورت میں قرار پائے گا جب وہ مخلوق سے خود اپنی ہی بندگی کرائے اور اس پر اپنا حکم چلانے لگے شرک کے اس آخر ی درجے کو پہنچنے کے بعد ہی اس پر اس گھناؤنے لفظ کا اطلاق ہوگا چنانچہ جب آپ نے کسی کو طاغوت کہہ دیا تو اسے کافر اور مشرک کہنے میں آپ نے کوئی کسر ہی نہ چھوڑی ۔ بلکہ ایسا ویسا مشرک ہی نہیں آپ نے اسکو بدترین مشرک کہہ دیا ہے ۔ بشرطیکہ آپ اس لفظ کا مطلب جانتے ہوں ۔ بلکہ تو یہ کہنا بہتر ہوگا کہ آپ نے یہ لفظ بول کر اس پر اﷲ کا شریک اور باطل خدا ہونے کا فتوی لگایا ہے جب ایسا ہے تو پھر اسکو تاحال مسلمان ہی قرار دینا چہ معنی دارد ؟

 
عبداللہ آدم's Avatar
عبداللہ آدم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1399
Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (25-04-11)
پرانا 25-04-11, 12:32 PM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

امت اسلام پر وقت کے باطل نظاموں اور مشرکانہ تہذیب وتمدن کی صورت میں لگ بھگ ایک ڈیڑھ صدی سے جو بدترین آفت مسلط ہے وہ امت کی پوری تاریخ میں اس برے انداز سے اور اس بڑی سطح پر کبھی نہیں دیکھی گئی ۔ ایسے میں امت کے مخلص اور سنجیدہ ذہنوں میں بار بار یہ سوال اٹھنا ایک طبعی امر تھا کہ ان نظاموں کا شریعت میں کیا حکم ہے اوریہاں ارباب اختیار کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جس نے بھی دقت نظر سے شریعت میں اس سوال کا جواب تلا ش کرنے کی کوشش کی اسے ایک ہی واضح جواب ملا ۔۔ طاغوت !نتیجتاً وقت کے حکمرانوں کا یہ شرعی لقب رفتہ رفتہ معروف ہوتا گیا ۔ چونکہ امت کی تاریخ میں یہ مسئلہ ہی بالکل نیا تھا اس سے پہلے غیر اﷲ کے حکم کو ملک کے طول و عرض میں باقاعدہ رسمی اور آئینی طور پر قانون عام کی حیثیت کبھی دی ہی نہیں گئی اور نہ کبھی تہذیب اور ثقافت میں

کفا ر کی ایسی حرف بہ حرف اتباع کروائی گئی [ واضح رہے گفتگو امت کی مجموعی سطح پر ہو رہی ہے۔ تاریخ میں کہیں کہیں اور اکا دکا انداز میں اس سے پہلے بھی ایسا ہوا ہو تو اس کا یہاں انکار مقصود نہیں۔ جیسے کلمہ پڑھ لینے کے بعد بعض تاتاری حکومتوں کا قانون یا سق چلانا یا مثلاً برصغیر میں مغل حکمران جلال الدین اکبر کا کفر و زندقہ] اس لیے حکمرانوں کا یہ لقب طاغوت بھی ظاہر ہے نیا ہی ہوسکتا تھا اور شریعت کی رو سے حکام وقت کی حیثیت بھی نئی ہی ہونی چاہیے تھی مگر یہ نئی بات ہوجانے پر کچھ لوگوں کے کان کھڑے ہونا بھی ضروری تھے ہوتا بھی کیوں نہ جہاں عربی پڑھانے کے لیے ابھی تک فارسی کا ذریعہ استعمال ہوتا ہو(حالانکہ برصغیر میں سوسال سے اس کی ضرورت مائل بہ زوال ہے) وہاں اس اتنی بڑی بات کو طرز کہن سے خروج کیوں نہ سمجھا جاتا ! ان حضرات کو اس بات سے تو کچھ خاص غرض نہیں تھی کہ امت میں یہ مسئلہ ہی سرے سے نیا ہے اور یہ کہ جب سے ہمارے حکمران فرنگ سے درآمد ہونے لگے ہیں یہ سوال ہی تب سے اٹھا ہے - البتہ احتجاج صرف اس بات پر ضروری جانا گیا کہ اس مسئلہ کا حل نیا کیوں ہے؟ یعنی اسکا اب بھی وہ پہلے والا حل کیوں نہیں بتایا جاتا جو آج تک امت کے اندر رائج رہا! اور یہ کہ اس سوال کا آخر عین وہی جواب کیوں نہیں دیا جاتا جو سلف کے دور میں رائج رہا اور بنو امیہ و بنو عباس سے لے کر سلاطین دہلی کے زمانے تک اور نیل سے لے کر کاشغر تک بھلے وقتوں میں مشاہیر اسلام کی زبان سے دیا جاتا رہا!!!

رفتہ رفتہ ان معترضین نے یہ باقاعدہ مذہب اختیار کر لیا کہ وقت کے حکمرانوں کو طاغوت یا مشرک کہنا- حتیٰ کہ بعض کے نزدیک تو ان حکمرانوں کی خالی مخالفت کرنا اور اﷲ کے عباد اور بلاد پر انکی طاقت کا سکہ چلنے نہ دینے کی بات کرنا ہی- ’سلف کے منہج کے خلاف ہے‘!!! اور یہ کہ سلف کے منہج پر چلنے والے صرف وہی لوگ ہیں جوان حکمرانوں کے جنود میں شامل نظر آئیں!! یا کم از کم بھی وہ لوگ ہیں جو اپنے ملک کے نظام سے کوئی سروکار نہ رکھیں! ان میں سے ’تحقیق‘ میں آگے گزرنے والے اصحاب نے تو ان غیور مسلمانوں کے تانے‘ جو باطل نظاموں اور حکمرانوں کی وفادار رعایا بن کر رہنے کےلئے تیار نہیں، سیدھے خوارج سے جا ملائے اور عوام الناس میں انکے لیے ’تکفیری‘ اور ’خارجی‘ کے الفاظ عام کیے۔

[I"][ ہمیں تسلیم ہے کہ کئی ملکوں میں ایسے چھوٹے چھوٹے گروپ بھی پائے گئے ہیں جو واقعی تکفیری تھے اور جنہوں نے حکمرانوں کی تکفیر پر ہی بس نہ کی مسلمان ملکوں میں پوری کی پوری فوج، پولیس، سرکاری ملازمین حتی کہ عوام الناس اور علماءو مشائخ تک پر بلا تفریق و امتیاز تکفیر کی مشین چلائی۔ اس فتنہ کی ابتداءمصر میں ’جماعت التکفیر والھجرہ‘ سے ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بہت سارے ملکوں میں اسکے چربے تیار ہوئے۔ مگر ایسے گمراہوں کی تعداد کہیں بھی الحمد ﷲ درجنوں سے تجاوز نہ کر پائی۔ جبکہ مروجہ نظاموں اور حکمرانوں سے براءت کی بات کرنے والی اصولی تحریکوں کے لوگ ہزاروں میں رہے ہیں۔پھر یہ بات بھی معلوم ہے کہ ان تکفیری گروہوں کی سب سے زیادہ مذمت ان اصولی تحریکوں کی جانب سے ہی ہوئی ۔ یہ صرف میڈیا اور سرکار کے وظیفہ خوار مولویوں کی کرشمہ سازی تھی کہ ایسے چند گمراہوں کی کالک ہر ایسی تحریک اور شخصیت کے چہرے پر مل دینے کی کوشش ہوتی رہی جو کسی بھی مسلمان خطے میں حقیقی اصلاح کا علم لے کر اٹھی یا آئیندہ اٹھے گی۔

پھر یہ بات تو شاید بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ تکفیریوں کے یہ ٹولے بھی درون خانہ سرکار ہی کے پروردہ تھے اور انکی خفیہ پشت پناہی کا کام کچھ ہی دیر کے اندر مصر سے سعودی انٹیلی جنس کے سپرد ہو گیا۔ اس کے پیچھے جو مقصد کار فرما تھا وہ یہ کہ خالص عقیدہ کی ترجمان اسلامی تحریکوں کو بد نام کیا جائے اور انکے نا پختہ اور جذباتی نوجوانوں کو معاشروں کی تکفیر کی ڈالی پر لگا کر انکی صلاحیتیں ضائع کروائی جائیں، پھر ہو سکے تو قبل از وقت کارروائیوں میں الجھا کر بھی انکو خراب کیا جائے اور انکی قوت پر امن طور پر بڑھنے سے روک دی جائے۔ واقفان حال تو یہ بھی جانتے ہیں کہ آج سے بیس سال پہلے سعودی عرب میں ’حرم پر قبضہ کروانے کا مشہور واقعہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی جس کا مقصد وہاں اصلاح کے عمل کو سبوتاژ کرنا اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانا تھا۔ اور اس طرح اصلاح اور تبدیلی کے عمل کو کئی عشروں تک کےلئے پیچھے دھکیل دینے میں بالفعل کامیابی حاصل کر بھی لی گئی۔ ومکروا مکرھم و عند اﷲ مکرھم وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال][/FONT][/I]

Last edited by منتظمین; 25-04-11 at 02:10 PM.
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (25-04-11)
پرانا 25-04-11, 12:34 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اب بھلا ’سلف کے منہج کے خلاف‘ چلنے کی جرات کون کرے! آخر ایمان بچانے کی فکر کسے نہ ہو! پھر ایمان کے ساتھ جان بھی بچتی ہو تو حکمرانوں سے وفا داری سے انکار کی کیادلیل ہو سکتی ہے!! یوں توحید کی فطرت پہ چلنے والے غیور مسلمانوں کو علم کی مار دینے کی ایک اسکیم تیار کر لی گئی جو کہ حکمرانوں کی ایک اہم ضرورت تھی۔ گو اغلب یہی ہے کہ یہ ’دریافت‘ پہلے پہل حکمرانوں کی فرمائش کے بغیر وجود میں آئی البتہ ظہور میں آجانے کے بعد تو اسے پزیرائی دلانے میں کسی کومضائقہ بھی کیا ہو سکتا تھا! یوں بھی بڑے بڑے منصوبے حکومتی سر پرستی کے بغےر چلنے کے نہیں ہوتے۔ چنانچہ عالم عرب کے اندر مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے کہ منہج سلف کے ’سرکاری ترجمانوں‘ نے اصلاح کےلئے میدان میں اترنے والی ہر تحریک اور ہر شخصیت کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اور اسے باغی، بدعتی، ایمان کےلئے خطرہ، قابل قید و مشقت اور گردن زدنی قرار دے رکھا ہے۔

یہاں ہمارے ان قارئین کو، جو صرف اردو جرائد کا مطالعہ کرتے ہیں صورتحال کا اندازہ کرنے میں شاید کچھ مشکل پیش آرہی ہو ۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں حاکمیت کی بحثوں نے ابھی وہ زور نہیں پکڑا جو عرب ملکوں میں ایک عرصہ سے دیکھنے میں آرہا ہے۔ خصوصاً وہ معرکہ آرائی جو پچھلے کئی سالوں سے سعودی عرب میں برپا ہے اور شیخ سفر الحوالی اور شیخ سلمان العودہ کی تقریرو تحریر کی محنت اور پھر آخر میں انکی گرفتاریوں نے جو اس فضا میں مزید ارتعاش پیدا کر دیا ہے اس کے تناظر میں علمی حلقوں کے اندر اس مسئلہ پر لے دے بہت بڑھ گئی ہے اور اس کی بازگشت اب پورے عالم عرب بلکہ عالم اسلام میں سنی جانے لگی ہے۔

اﷲ کی شریعت کو پس پشت ڈال کر مخلوق کی شریعت کو قانون عام کا درجہ دینے والے یہ حکمران کفر کے مرتکب کہلانے سے صرف ایک صورت میں بچ سکتے تھے۔۔۔ یا بچائے جا سکتے تھے! اور وہ یہ کہ ’ارجاء‘ کے عقیدے کو امت میں عام کر دیا جائے، جبکہ وہ پہلے ہی بہت عام ہے اور اﷲ کے دشمنوں کا اب تک برسر اقتدار رہنا اسی کا مرہون منت ہے۔ یہ ’ارجاء‘ کیا ہے؟ امت کی تاریخ میں ایک مشہور بدعت ہو گزری ہے۔ بلکہ گزری بھی کیا مختلف شکلوں اور صورتوں میں اب تک چل رہی ہے۔ اس کی رو سے آدمی عملاً شرک کرتے رہنے سے مشرک نہیں ہوتا صرف اسکا اعتقاد رکھنے سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک کلمہ گو شرک اور کفر کا خواہ کوئی کام کرے بس دل میں اسکو صحیح نہ سمجھے اور زبان سے اس کو حلال کہنے کی حماقت نہ کرے تو وہ مسلمان اور موحد ہی گنا جائے گا! یعنی کفر اور شرک کے افعال بھی عام گناہوں کی طرح ایک گناہ ہیں اور محض انکے عملی ارتکاب سے کوئی شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ خوارج جہاں ایک انتہا پر گئے اور عام گناہ کے کاموں کو بھی افعال شرک کے ساتھ ملا دیا وہاں یہ مرجئہ دوسری انتہا پر گئے جنہوں نے افعال شرک و کفر کو بھی عام گناہوں کے ساتھ یکجا کر دیا۔۔

اصولی طور پر یہ دونوں گمراہیاں اس مسئلہ پر ایک ہو جاتی ہےں کہ کفریہ اعمال اور عام گناہوں میں کوئی فرق نہیں! جبکہ اہلسنت کے نزدیک ان میں واضح فرق ہے؛ جن افعال کو شریعت میں صرف گناہ اور فسق کہا گیا ہے ان پر اصرار سے آدمی فاسق ہو گا اور جن افعال کو اﷲ اور رسول کفر یا شرک کہیں ان پر اصرار کرنے سے وہ کافر اور مشرک ہو سکتا ہے۔۔ اور یہ تو واضح ہے کہ اﷲ کے قانون کی بجائے کوئی دوسرا قانون چلانے کو اﷲ اور رسول نے کفر کہا ہے۔
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (25-04-11)
پرانا 25-04-11, 12:39 PM   #4
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چنانچہ طاغوتوں کو ’اولی الامر‘ کا درجہ دلانے کےلئے ارجاءکے اس عقیدہ کا ایک نئے زور شور سے ڈول ڈالا گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف اس کا یوں غلغلہ کر دیا گیا کہ آدمی اس سے واقعی سمجھ لے کہ شاید سلف اور اہلسنت کا یہی عقیدہ ہے اور حاکم بغیر ما انزل اﷲ کو کافر کہنا بالفعل خوارج ہی کا مذہب ہے۔

پاکستان میں بھی دھیمے سروں پر یہ نغمہ سننے کو مل جاتا رہا ہے تاہم عرب میں تو اس کاآھنگ اتنا اونچا رہا ہے کہ کان پھٹنے کو آنے لگے۔ تصنیفات اور تالیفات کی بھر مار ہوئی اور ان کی اشاعت کا تو کوئی حد و حساب ہی نہ رہا۔

کچھ عرصہ پیشتر اس سلسلہ کی ایک اہم تصنیف ”الحکم بغیر ما انزل اﷲ و اصول تکفیر“ سعودی عرب میں بطور خاص مقبول کروائی گئی اور حکام کے ’پکا مسلمان‘ ہونے کے مسئلہ میں سلف اور اہلسنت کے منہج پر اتھارٹی قرار دی گئی۔ خالد بن علی العنبری نامی ایک صاحب کی یہ کتاب، جو حکمرانوں کےلئے نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتی تھی، لازمی تھا کہ علمی حلقوں میں بھی موضوع بحث بنتی کیونکہ اس میں بہت بڑی بڑی باتیں سلف سے زبردستی منسوب کر دی گئی تھیں۔ اس کتاب پر بھی تفصیلی روشنی تو کسی اور مضمون میں ڈالی جا سکتی ہے یہاں ہمارے لیے صرف اس کے مرکزی خیال کا ذکر کرنا ہی ممکن ہو گا اور وہ بھی اس لیے کہ مضمون کے اختتام پر اس کتاب کے بارے میں سعودی علماءکاجو فتویٰ دیا جا رہا ہے قارئین کو اسے سمجھنے میں آسانی رہے۔ چنانچہ اس کتاب کے بنیادی نکات یہ تھے۔

١- حکم بغیر ما انزل اﷲ کا فعل کفر نہیں، الا یہ کہ حکمران اس کو جائز اور حلال کہے۔ یعنی اس فعل کی فی نفسہ نوعیت باقی گناہوں جیسے ایک گناہ کی ہو گی۔

٢- اتنا ہی نہیں بلکہ مصنف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کی اس بات پر تمام اہل سنت کا اجماع ہے!

٣- پھر اس کی اس بات سے اختلاف رکھنا اسکے خیال میں خوارج کا عقیدہ ہے۔

٤- چونکہ قاضی کا کسی ایک قضیہ میں بد دیانتی یا بد عنوانی کے باعث خلاف شریعت فیصلہ دینا سلف کے ہاں کفر دون کفر(وہ چھوٹا کفر جس سے آدمی ملت سے خارج نہیں ہوتا) شمار ہوتا ہے اس لیے مصنف کے نزدیک تشریع عام بھی ویسا ہی ایک گناہ ہے۔ یعنی مصنف کے نزدیک فہم سلف کی رو سے:

اس بات میں کہ اسلامی نظام کے اندر کوئی قاضی یا حاکم کسی ایک آدھ قضیے میں کسی ایک آدھ بار بد دیانتی سے شریعت کے خلاف فیصلہ دیدےاور اس بات میں کہ ملک میں ایک خلاف شریعت امر کو باقاعدہ رسمی طور پر قانون عام (پبلک لائ) کا درجہ حاصل ہو اور عدالتوں میں اسے مرجع اور سند کی حیثیت دےدی جائےکوئی فرق نہیں۔ ہر دو صورت میں حکمران بدستور مسلمان رہے گا!!


اتنے بڑے بڑے اور بے بنیاد دعوے ظاہر ہے کہ دن کی روشنی میں کام نہیں دے سکتے تھے۔ گو مصنف نے اپنے دعویٰ کے اثبات میں شرعی نصوص کے مفہومات اور علمائے سلف کے اقوال کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی (جیساکہ فتویٰ کی عبارت میں بھی اس کی اس حرکت کی نشاندہی کی گئی ہے) مگر یہ کوشش اس کو فائدہ تو کیا دیتی الٹا اسکے لیے گلے کا پھندہ بن گئی۔ سمجھ دار لوگوں نے اس کے مدلل جواب تو لکھے ہی مگر انہوں نے اس کتاب کو سعودی کبار علماءکے سامنے رکھ کر ان سے اس پر فتویٰ کا تقاضہ بھی کیا۔ سعودی علماءکی کمیٹی برائے افتاءنے اس پر جو فتویٰ دیا وہ اردو ترجمہ سمیت یہاں دیا جا رہا ہے۔

سعودی بادشاہت کے کثیر معاملات میں اسلام سے انحراف کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ وہاں کے علمی حلقوں میں بڑی حد تک شیخ الاسلام محمد بن عبد الوھاب کی دعوت کے علمی اصول اور قواعد ابھی تک مسلم ہیں۔ مذکورہ فتویٰ دینے والے علماءگو وہاں کی حکومت سے کسی نہ کسی انداز میں تعاون کرتے ہیں اور اس کےلئے جو وجوہات وہ اپنے پاس رکھتے ہونگے وہ ہمیں معلوم نہیں تاہم اس فتویٰ سے یہ ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ نظریاتی سطح پر ابھی تک وہاں شیخ محمد بن عبدالوھاب کے پڑھائے ہوئے اصولوں کی دھاک سب پر کس طرح بیٹھی ہوئی ہے اور عملی سطح پر وہاں جو بھی صورتحال ہو کم از کم علمی سطح پر ان اصولوں سے انحراف کا چلن عام ہو جانا ہر گز اتنا آسان نہیں۔ بہر حال اﷲ تعالی

ان علماءکو اس فتویٰ پر جزائے خیر عطا فرمائے۔

علاوہ ازیں ہمارا اس فتویٰ کو شائع اور عام کرنے کا ایک اور اہم سبب بھی ہے۔

برصغیر میں ایک وقت تھا کہ علماءنجد کی دعوت و فکر شدید تنقید اور مخالفت کا نشانہ بنی رہی۔ گو ایک طبقہ ابھی تک اس سے دشمنی پر قائم ہے مگر محمد بن عبد الوھاب کی کتابوں کی یہاں نشر و اشاعت ہو جانے کے بعد اور پھر احناف اور اہلحدیث مدارس کے طلبہ کی ایک معتدبہ تعداد کے عرب جامعات میں پڑھ آنے سے صورتحال میں اب بہت فرق آچکا ہے۔ اور اب نہ صرف اس کے خلاف وہ پہلے والا تعصب کم ہو گیا ہے بلکہ طلبہ اور علماءو مشائخ کا ایک قابل لحاظ طبقہ مشائخ نجد کے علمی ورثے کو وزن بھی دینے لگا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے اس صالح ترین طبقہ میں عقیدہ کے جدید معاشرتی پہلوؤں نے تا حال وہ مطلوبہ اہمیت حاصل نہیں کی جو کہ انکا حق تھا۔

پھر یہاں کچھ لوگ ایسے بھی پائے جانے لگے جو حاکمیت کے مسئلہ کو بڑی حد تک غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ کم از کم اس کو عقیدہ کا مسئلہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ اور چند ایک حضرات تو لا علمی یا بے توجہی کے باعث اس بات کو خارجیت گردانتے ہیں کہ کوئی غیر اﷲ کا قانون چلانے والے حکمرانوں کوطاغوت کہہ دے۔ اور جو ایسا کہے اسے یہ قابل قدر حضرات ’تکفیری‘ کا خطاب دیتے ہیں۔ غرض انہی باتوں کے تقریباً سوچے سمجھے بغیر قائل ہیں جو خالد العنبری کی کتاب میں سوچ سمجھ کر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بہر حال اس صالح اور موحد طبقہ میں گو ایسے حضرات بہت زیادہ نہیں اور جو ہیں بھی تو وہ ہمارے خیال میں کسی بد دیانتی کی بنا پر ایسا نہیں کرتے بلکہ اس کا سبب شاید انکی بے توجہی اور اس مسئلہ پر پوری طرح غور و خوض نہ کیا ہونا ہے۔

پھر اس طبقہ میں ایسے لوگ بھی کثیر تعداد میں ہیں جو حکم و قانون کے باب میں توحید کے زبردست پرچار کے قائل ہیں مگر پہلے نوجوانوں میں علمی وثوق پیدا کرنے کو ضروری سمجھتے ہےں، جو کہ ایک صالح سوچ ہے۔

غرض اس پورے طبقے کےلئے ہی سعودی علماءکا یہ فتویٰ یقیناً فکر انگیز ہو گا جو کہ اس مسئلہ میں اصولی طور پر بہت واضح ہے کہ حکم بغیر ما انز ل اﷲ پر حکمران کی تکفیر کرنا دراصل خوارج کا نہیں بلکہ سلف اور اہلسنت کا منہج ہے اور یہ کہ اسے کافر قرار دینے کےلئے یہ ہرگز شرط نہیں کہ وہ اپنے فعل کو زبان سے جائز اور حلال بھی کہتا ہو بلکہ یہ شرط لگانا اہلسنت کے مذہب کے خلاف ہے۔۔ بہر حال

اپنے ان سب قابل احترام اساتذہ کرام، علماءو مشائخ اور طلبہ علم کے خصوصی استفادہ کےلئے بھی ہم نے یہ فتویٰ شائع کیا ہے۔

عوام الناس کی سہولت کےلئے اس کا اردو ترجمہ بھی دے دیا گیا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ علماءمیں اسے زیادہ سے زیادہ عام کریں اور ان سے اس پر رائے طلب کریں۔

اﷲ تعالیٰ جلد وہ وقت لائے کہ دین توحید کو ان ملکوں اور خطوں میں ایک بار پھر عزت و سر بلندی نصیب ہو۔

اللّٰھم ابرم لھذہ الامہ امر رشد یعزفیہ اھل طاعتک، ویزل فیہ اھل معصیتک، ویومر فیہ با لمعروف و ینھی فیہ عن المنکر، انک علی ما تشاءقدیر۔

وصلی اﷲ علی نبیہ محمد و آلہ۔

مملکت سعودی عرب (فتویٰ نمبر)21154

سربراہی برائے علمی تحقیقات و افتاء مورخہ 24 شوال1420ھ

جنرل سیکریٹریٹ‘ کمیٹی برائے اکابر علماء



دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات و افتاء(اللجنہ الدائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء)

کا بیان بابت خالد علی العنبری کی تصنیف کردہ ایک کتاب بعنوان

”الحکم بغیر ما انزل اﷲ و اصول التکفیر“

الحمد ﷲ وحدہ والصلوہ والسلام علی من لا نبی بعدہ، و علی آلہ و صحبہ، و بعد

دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات و افتاءنے خالد العنبری کی تصنیف ”الحکم بغیر ما انزل اﷲ و اصول التکفیر“ کا جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد واضح ہوا ہے کہ اس کتاب میں اہلسنت و جماعت کے علماءکے جو حوالے دیے گئے ہیں ان( کے نقل کرنے) میں علمی دیانت سے کام نہیں لیا گیا اور دلائل کے اس مفہوم میں تحریف کی گئی ہے جس کا عربی زبان اور مقاصد شریعت دراصل تقاضا کرتے ہیں۔ ذیل میں اس کی کچھ تفصیل ہے۔

١۔ مصنف نے شرعی دلائل کے مفہوم اور معانی میں تحریف کی ہے۔ اہل علم کی بعض تحریروں میں تصرف سے کام لیا ہے۔ عبارت کہیں یوں حذف کر دی ہے اور کہیں اس انداز سے تبدیل کر دی ہے کہ جس سے عبارت کی سرے سے مراد ہی اور نظر آئے۔

٢۔ اہل علم کے بعض اقوال کی ایسی تفسیر کی ہے جو ان کا مقصود اور مراد ہی نہیں۔

٣۔ مصنف نے اہل علم پر جھوٹ بھی باندھا ہے جیسا کہ اس نے علامہ شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اﷲ سے وہ قول منسوب کر دیا ہے جو انہوں نے کہیں نہیں کہا۔

٤۔ مصنف نے دعویٰ کیا ہے کہ اہلسنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسا آدمی کافر نہیں جو قانون عام میں اﷲ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر حکم چلائے الا یہ کہ وہ اس عمل کو دل سے جائز سمجھتا ہو، یعنی یہ ان باقی گناہوں جیسا ایک گناہ ہے جو کفر تک نہیں پہنچتے۔ حالانکہ یہ مذہب اہلسنت پر نرا بہتان ہے جو یا تو جہالت کا شاخسانہ ہے یا بد نیتی کا۔ اﷲ تعالیٰ اپنی عافیت میں رکھے۔

مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر کمیٹی یہ رائے اختیار کرتی ہے کہ مذکورہ کتاب کی طباعت، تقسیم اور فروخت ممنوعہ قرار دی جائے۔ مصنف کو نصیحت کرتی ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے توبہ کرے اور معتمد اہل علم سے رجوع کرے تاکہ ان سے علم حاصل کرے اور وہ اس کی غلطیوں کی اس کو نشان دہی کر کے دیں۔

اﷲ سے دعا ہے کہ وہ سبھی کو اسلام اور مذہب سنت پر چلنے کی ہدایت اور توفیق عطا فرمائے اور اس پر ثابت قدم رکھے۔ وصلی اﷲ وسلم علی نبینا و آلہ وصحبہ

دائمی کمیٹی برائے علمی تحقیقات و افتاء

دستخط صدر کمیٹی دستخط رکن کمیٹی

عبد العزیز بن عبد اﷲ بن محمد آل شیخ

عبد اﷲ بن عبد الرحمٰن الغدیان

بکر بن عبد اﷲ ابو زید

صالح بن فوزان الفوزان
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (25-04-11), مرزا عامر (25-04-11), آبی ٹوکول (26-04-11), عبداللہ حیدر (25-04-11)
پرانا 25-04-11, 02:16 PM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ فتوی اج سے کم و بیش پندرہ سال پہلے ایک مخصوص‌ ضرورت کے تحت لکھا گیا تھا، کیا اج بھی سعودی حکومت اور فتوی باز کمیٹی اس پر قائم ہے؟

بلاشبہ موجودہ جمہوری نظام کو طاغؤت کہنے والے خارجی اور تکفیری ہیں اور ان کےساتھ فساد فی الارض کہنے والا کا شرعی حکم ہی لاگو ہونا چاہیے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-04-11), کنعان (25-04-11), حیدر (25-04-11)
پرانا 25-04-11, 03:30 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر "کوئی بھی" اللہ کی حدود سے سرکشی (طغیانی) دکھائے تو بلا شبہ وہ طاغوت ہی کہلائے گا۔ خواہ وہ وزیر اعظم ہو یا بادشاہ ہو یا کوئی سو کالڈ خلیفۃ ۔
چونکہ موجودہ جمہوری نظام میں ان سر کشیوں کی حد ہی "مُکا" دی گئی ہے تو اس قسم کے دور حکومت کو طاغوتی کہنا کوئی ایسا غلط بھی نہیں ہے۔

واللہ اعلم
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (27-04-11), ھارون اعظم (26-04-11), محمد عاصم (25-04-11), مرزا عامر (26-04-11), عبداللہ آدم (26-04-11), عبداللہ حیدر (25-04-11)
پرانا 25-04-11, 05:07 PM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر شائد اپ اس فتوی کے پیچھے چھپے فتنے کو پہچان نہیں‌پا رہے۔ یہ فتوی نہیں ایک بہت بڑا فتنہ ہے اور اس کی حکومتی سرپرست پر بھی میں یقین نہیں کرتا ہوں، یہ فتوئ مسلمان ممالک میں قتل و غارت کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ اگر اپ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ یہ نظام "طاغوت" ہے تو پھر اس نظام کے خلاف لڑنا جائز اور اس لڑائی میں قتل ہونے والے لوگوں کا خون بھی مباح ہے۔ یہ القائدہ اور اس طرح‌کی دوسری فتنہ پرور جماعتوں کا طریقہ واردات ہے۔ یہ پہلے اپنے اقدامات کو جواز فراہم کرتے ہیں۔۔۔ اور اس کے بعد قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔۔۔
سرسری طور پر اس طرح‌ کے فتوے نماں‌ فتنوں کی سمجھ کم ہی آتی ہے۔ یہ اس قسم کے فتنوی کا ہی کمال ہے کہ صیح حدیث کو جھٹلا کر مسلمان ممالک میں خود کش دھماکوں‌ کا جواز پیدا کیا گیا ہے کہ خودکش دھماکہ کرنے والا اور اس میں مرنے والوں‌ دونوں‌ کو جنت دی جاتی ہے۔۔۔ ملا کا ہی کمال ہے کہ جس کو چاہے جنت دے اور جس سے چاہے یہ چھین لے۔۔۔ ویسے اسلامی طور پر جنت کا اخیتار اللہ کے پاس تھا۔


والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-04-11), کنعان (25-04-11), ابن آدم (07-09-11), حیدر (27-04-11)
پرانا 25-04-11, 05:29 PM   #8
Member
اجنبی
 
jasmin rana's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: australia
مراسلات: 41
کمائي: 833
شکریہ: 35
28 مراسلہ میں 83 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

sorry guys i cannot read long text
jasmin rana آف لائن ہے   Reply With Quote
jasmin rana کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 12:46 AM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بصد ادب گزارش کروں گا کہ اگر جناب اجنبی صآحب "طاغوت" کی بنیادی تعریف اور اس کے بعد "جمہوریت" کی بنیادی تعریفات و دائرہ عمل پر ایک نظر فرما لیں گے تو یہ غلط فہمی دور ہونا کوئی دیر کی بات ہے::

طاغوت:: "" ہر وہ چیز جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہو اور وہ اس پر راضی ہو""

جمہوریت:: ""عوام کی حاکمیت،عوام کے ذریعے عوام پر"" .

اب یہ "حاکمیت" عبادت میں داخل ہے اور اس کا ایک جزء ہے............... جب "حکم" اللہ کے علاوہ غیر اللہ کا چلے گا.... خواہ وہ کسی بھی نظام، فرد، یا گروہ کا حکم ہو..... تو یہ اس فرد، نظام، گروہ کی عبادت شمار ہو گی.......!!!

دلیل:: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا

کیا آپ نے اِن (منافقوں) کو نہیں دیکھا جو (زبان سے) دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ اس (کتاب یعنی قرآن) پر ایمان لائے جوآپ کی طرف اتارا گیا اور ان (آسمانی کتابوں) پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئیں (مگر) چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات (فیصلے کے لئے) شیطان (یعنی احکامِ الٰہی سے سرکشی پر مبنی قانون) کی طرف لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ اس کا (کھلا) انکار کر دیں، اور شیطان تویہی چاہتا ہے کہ انہیں دور دراز گمراہی میں بھٹکاتا رہے


راس المفسرین امام ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں::

"" هذا إنكار من الله عز وجل على من يدعي الإيمان بما أنزل الله على رسوله، وعلى الأنبياء الأقدمين، وهو مع ذلك يريد أن يتحاكم في فصل الخصومات إلى غير كتاب الله وسنة رسوله، كما ذكر في سبب نزول هذه الآية أنها في رجل من الأنصار ورجل من اليهود تخاصما، فجعل اليهودي يقول: بيني وبينك محمد، وذاك يقول: بيني وبينك كعب بن الأشرف. وقيل: في جماعة من المنافقين ممن أظهروا الإسلام، أرادوا أن يتحاكموا إلى حكام الجاهلية. وقيل غير ذلك، والآية أعم من ذلك كله، فإنها ذا مة لمن عدل عن الكتاب والسنة، وتحاكموا إلى ما سواهما من الباطل، وهو المراد بالطاغوت ههنا، ولهذا قال: { يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوۤاْ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ } إلى آخرها. وقوله: { يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُوداً } أي: يعرضون عنك إعراضاً كالمستكبرين عن ذلك""
ترجمہ::
"" یہاں اللہ تعاٰلی اس شخص کا رد فر ما رہے ہیں جو اللہ و رسول اور پہلے انبیاء پر یمان کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ نزاعات کے فیصلے اللہ کی کتاب اور سنت کو چھوڑ کر غیروں سے کرواتے پھرتے ہیں. جیسا کہ اس آیت کے سبب نزول میں اس بات کا ذکر ہے کہ انصار میں سے ایک شخص تھا جس کا یہود کے ایک آدمی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا،تو یہودی نے کہا کہ ::"میرے تمہارے درمیان محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں(یعنی وہ ہمارا فیصلہ کریں گے(" لیکن انصاری نے کہا کہ" میرے اور تمہارے درمیان کعب بن اشرف(یہودی سردار( ہو گا". اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آیت منافقین کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن اپنے فیصلے جاہلیت کے فیصلہ سازوں سے کروانا چاہتے تھے، اور اسی طرح دوسروں کے بارے میں بھی آتا ہے، لیکن آیت عام ہے اور اس کے ضمن میں سب داخل ہیں ، اور آیت ہر اس شخص کے بارے میں ہے جو کتاب و سنت کو چھوڑ کر ان کے علاوہ باطل سے فیصلے کرے، اور یہاں "طاغوت" سے مراد یہی ہے اور اسی لیے ارشاد ہوا کہ:(یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوتٌ. ترجمہ:: وہ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت سے کروائیں""
تفسیر ابن کثیر::سورۃ النساء آیت 60.

اگلی آیت کریمہ میں فرمایا::
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَا أَنزَلَ اللّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کی طرف اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف آجاؤ تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ (کی طرف رجوع کرنے) سے گریزاں رہتے ہیں


اسلام کی گزری 14 صدیوں کے تمام اہم سکالرز مسئلہ حاکمیت کو اور بالخصوص جمہوریت کے بطور نطام سامنے آجانے کے بعد بے شمار علماء اس کی طاغوتی حیثیت کو بیان کر چکے ہیں.... سید مودودی، سید قطب کا تو نام ویسے ہی آج کل بدنام کیا جاتا ہے، ان کے علاوہ بھی محدث دیار مصر علامہ احمد شاکر اور علامہ محمود شاکر ، علامہ اقبال،مولانا صدر الدین اصلاحی اور بے شمار دوسرے علماء و مفکرین مغربی نظاموں کی حیثیت کا پول کھل چکے ہیں.....

والسلام

Last edited by عبداللہ آدم; 26-04-11 at 12:48 AM.
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (26-04-11), مرزا عامر (26-04-11), حیدر (27-04-11), عبداللہ حیدر (26-04-11)
پرانا 26-04-11, 01:12 AM   #10
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے نزدیک ایسے لوگ فساد فی الارض‌ کے مرتکب ہیں‌جو القاعدہ اور اس جیسی تنظیموں کو قتل و غارت کرنے کا لائسنس ان فتوئ نما فتنوں سے دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہیے جو قرآن میں‌ فساد فی الارض والوں‌کے ساتھ کیا جانے کا حکم ہے۔۔۔

خارجیوں کا سب سے بڑا نعرہ کیا تھا ذرا اس کو بھی دہرا دیں‌ تاکہ اجکل کے خارجیوں اور ان خارجیوں‌ میں‌ تعلق واضح‌ ہو جائے۔۔۔۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (26-04-11), کنعان (27-04-11), اویسی (26-04-11), حیدر (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 10:03 AM   #11
Senior Member
 
اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 1,086
کمائي: 19,143
شکریہ: 9,214
761 مراسلہ میں 1,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

الملک اللہ الحکم اللہ

Last edited by اویسی; 28-04-11 at 03:15 PM.
اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
اویسی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 10:13 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,554
کمائي: 315,019
شکریہ: 25,207
16,383 مراسلہ میں 41,612 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اویسی مراسلہ دیکھیں
المک اللہ الحکم اللہ
برادرم عبارت درست کر لیں ۔۔ شکریہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 10:40 AM   #13
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ہم تو ٹھہرے اجنبی مراسلہ دیکھیں
خارجیوں کا سب سے بڑا نعرہ کیا تھا ذرا اس کو بھی دہرا دیں‌ تاکہ اجکل کے خارجیوں اور ان خارجیوں‌ میں‌ تعلق واضح‌ ہو جائے۔۔۔۔

والسلام
خارجیوں کا نعرہ تھا کہ حاکم صرف اللہ ہے۔
اس کی تفصیل بعد میں دونگا ان شاءاللہ، ابھی دوکان پر جانے کی تیاری کر رہا ہوں۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (27-04-11), حیدر (27-04-11), عبداللہ آدم (26-04-11)
پرانا 26-04-11, 11:29 AM   #14
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,863
شکریہ: 23,988
4,978 مراسلہ میں 14,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تو کیا ہم ان کے نعرے کی وجہ سے حقیقت سے نظریں پھیر لیں؟؟ یہ تو قرآن کی ایت بھی کہتی ہیں

یہ ایک دوسری انتہا ہو گی محترم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قران کی آیات احادیث اور ائمہ سلف کا منہج اس سارے طرز فکر کو ہم تکفیری کہیں گے تو ہمارے پاس کیا بچے گا پھر؟؟

یہ عبارات بھی قابل غور ہیں اوپر کے مضمون کی::

""[I"][ ہمیں تسلیم ہے کہ کئی ملکوں میں ایسے چھوٹے چھوٹے گروپ بھی پائے گئے ہیں جو واقعی تکفیری تھے اور جنہوں نے حکمرانوں کی تکفیر پر ہی بس نہ کی مسلمان ملکوں میں پوری کی پوری فوج، پولیس، سرکاری ملازمین حتی کہ عوام الناس اور علماءو مشائخ تک پر بلا تفریق و امتیاز تکفیر کی مشین چلائی۔ اس فتنہ کی ابتداءمصر میں ’جماعت التکفیر والھجرہ‘ سے ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بہت سارے ملکوں میں اسکے چربے تیار ہوئے۔ مگر ایسے گمراہوں کی تعداد کہیں بھی الحمد ﷲ درجنوں سے تجاوز نہ کر پائی۔ جبکہ مروجہ نظاموں اور حکمرانوں سے براءت کی بات کرنے والی اصولی تحریکوں کے لوگ ہزاروں میں رہے ہیں۔پھر یہ بات بھی معلوم ہے کہ ان تکفیری گروہوں کی سب سے زیادہ مذمت ان اصولی تحریکوں کی جانب سے ہی ہوئی ۔ یہ صرف میڈیا اور سرکار کے وظیفہ خوار مولویوں کی کرشمہ سازی تھی کہ ایسے چند گمراہوں کی کالک ہر ایسی تحریک اور شخصیت کے چہرے پر مل دینے کی کوشش ہوتی رہی جو کسی بھی مسلمان خطے میں حقیقی اصلاح کا علم لے کر اٹھی یا آئیندہ اٹھے گی۔

پھر یہ بات تو شاید بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ تکفیریوں کے یہ ٹولے بھی درون خانہ سرکار ہی کے پروردہ تھے اور انکی خفیہ پشت پناہی کا کام کچھ ہی دیر کے اندر مصر سے سعودی انٹیلی جنس کے سپرد ہو گیا۔ اس کے پیچھے جو مقصد کار فرما تھا وہ یہ کہ خالص عقیدہ کی ترجمان اسلامی تحریکوں کو بد نام کیا جائے اور انکے نا پختہ اور جذباتی نوجوانوں کو معاشروں کی تکفیر کی ڈالی پر لگا کر انکی صلاحیتیں ضائع کروائی جائیں، پھر ہو سکے تو قبل از وقت کارروائیوں میں الجھا کر بھی انکو خراب کیا جائے اور انکی قوت پر امن طور پر بڑھنے سے روک دی جائے۔ واقفان حال تو یہ بھی جانتے ہیں کہ آج سے بیس سال پہلے سعودی عرب میں ’حرم پر قبضہ کروانے کا مشہور واقعہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی جس کا مقصد وہاں اصلاح کے عمل کو سبوتاژ کرنا اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانا تھا۔ اور اس طرح اصلاح اور تبدیلی کے عمل کو کئی عشروں تک کےلئے پیچھے دھکیل دینے میں بالفعل کامیابی حاصل کر بھی لی گئی۔ ومکروا مکرھم و عند اﷲ مکرھم وان کان مکرھم لتزول منہ الجبال][/FONT]
""[/I]


کیا نظام کا انکار کرنے والے تکفیری کہلائیں گے سب کے سب؟؟

والسلام
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (27-04-11)
پرانا 26-04-11, 12:54 PM   #15
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,607
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,594 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا مسلمان ملکوں میں مسجدوں میں آذانیں ہو رہی ہیں؟ لوگوں کو نماز پڑھنی کی آذادی ہے؟‌ کیا ہر مسلمان اپنے عقیدے پر عمل کر سکتا ہے؟‌کیا وہ زکواہ دے سکتا ہے؟‌ کیا وہ خیر کے عمل کر سکتا ہے؟‌ اگر کسی بھی ملک میں ایک شخص‌یہ کام کرسکتا ہے تو اپ اس ملک کے نظام کو طاغوت نہیں کہ سکتے اور نہ ہی ایسے حکمران کو جو ان سب اعمال کی اجازت دیتا ہو۔۔۔۔ اپ نظام کی بہتری کے لیے کام کرنے کی بات کر سکتے ہیں‌ لیکن اس کو طاغوت نہیں کہ سکتے۔۔۔ فتنہ باز فتوی بازوں کی چالاکیوں کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
کنعان (26-04-11), نورالدین (26-04-11), آبی ٹوکول (26-04-11), حیدر (27-04-11)
جواب

Tags
color, کلمہ, پاکستان, قرآن, قران, لوگ, نظر, موجودہ, مسائل, آج, آدمی, احتجاج, اسلام, بندگی, جواب, حدیث, حضرات, خدا, شخص, ظالم, غور, غلطی, صحیح, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میرجعفروں اور میرصادقوں سے مارے جاتے ہیں، جسٹس رمدے گلاب خان خبریں 4 11-06-11 01:45 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
اللہ کی عبادت اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب عبداللہ آدم توحید 1 22-10-10 04:02 AM
طاغوت سے کفر و اجتناب محمد عاصم کفروشرک 3 29-06-10 01:56 AM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger