| اسلام اور معاشرہ اسلام اور معاشرہ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
||||
|
||||
|
مناظر: 4483
|
||||
| 26 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | fazain (12-10-10), Miss Khan (07-10-11), sahj (19-12-09), فیصل ناصر (14-04-09), کنعان (18-12-09), پاکستانی (11-10-10), یاسر عمران مرزا (19-10-10), نبیل خان (04-10-11), میاں شاہد (14-04-09), مباح (27-05-09), محمد عاصم (23-02-11), مزمل فاروق (18-05-09), wajee (04-10-11), ام طلحہ (14-04-09), امتیاز احمد (29-05-09), احمد نذیر (03-11-11), حیدر (13-10-11), راجہ اکرام (14-04-09), رضی (14-04-09), سحر (19-05-09), ضِرار Derar (11-10-10), عارف اقبال (14-10-10), عبداللہ آدم (29-08-10), عبداللہ حیدر (21-12-09), عدنان دانی (20-12-09), عروج (18-10-10) |
|
|
#136 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,343
کمائي: 95,256
شکریہ: 52,394
11,140 مراسلہ میں 35,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
چناچہ اب میرے سوالات ہیں کہ 1: ہر بارے میں روایات مل جاتی ہیں۔ اور اگر ہم ناسخ و منسوخ کی بحث کو بھول جائیں۔۔۔اور ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیں کہ یہ آیت رجم قرآن کا ہی حصہ تھی اور اس بارے میں تواتر سے احادیث موجود ہیں۔۔۔۔ تو احادیث اس بارے میں کیا بتاتی ہیں کہ یہ آیات کس طرح ڈس پوز آف کی گئیں۔ کیوں کہ ہر ہر آیت لکھی جاتی تھی۔ کس نے ڈس پوز آف کیں۔ کیا سب اصحابہ کی موجودگی میں ایسا ہوا؟ اس بارے میں احادیث کی کتب کیا بیان کرتی ہیں؟ |
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (23-10-11) |
|
|
#137 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم حیدر بھإئی ، آپ نے اپنے سوالات سے پہلے جن سوالات کو اقتباس میں لگایا ہے ، اُن سوالات کے جوابات سوالات سے پہلے والے مراسلات میں ہی موجود ہیں ، اب اِن شاء اللہ ایک دفعہ پھر کچھ مختلف الفاظ میں اور کچھ وضاحت کے ساتھ جوابات پیش کرتا ہوں ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام پاک میں سے کسی اور نہ کچھ منسوخ نہیں کیا ، اور نہ ہی کوئی ایسا کر سکتا تھا اور نہ کر سکتا ہے اور نہ کر سکے گا ، لہذا اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے کلام کریم میں سے جو کچھ منسوخ فرمایا گیا وہ خود اللہ نے ہی منسوخ فرمایا ، اور بالکل اسی طرح اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک کی وساطت سے ہی اس نسخ کا اظہار کروایا ، جس طرح نازل ہونے والی اور برقرار رہنے والی آیات و احکامات کا اظہارکرواتا رہا ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہی قران نازل فرمانے والا ہے اُس اپنی بے عیب حِکمت سے جب چاہا اپنی جس بات کو ، جِس طرح چاہا منسوخ فرمایا ، اس میں چُھپتے چھپاتے کیے جانے والا کوئی کام نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے اس آیت کے موجود ہونے اور پھر منسوخ ہونے کی خبر ثابت ہے ، جو کہ خود اعتراض کرنے والے ان صاحب نے بھی ذکر کی ہے لیکن اسے ذِکر کرتے ہوئے حوالہ بھی نا درست دیا ہے اور اپنی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات پاک سے کچھ الفاظ بھی منسوب کیے ہیں ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف سے بھی آیت ءرجم کے نازل ہونے اسے پڑھنے ، سمجھنے اور پھر اس کے منسوخ ہونے کی خبریں ثابت شدہ ہیں ، تو چُھپتے چُھپاتے والا کام کہاں ہوا !!! رہا معاملہ لوح محفوظ میں قران کریم کے لکھے ہونے کا تو اس کی دلیل کیا ہے ؟؟؟ یہ تو جن صاحب نے لکھا ہے انہیں بتانا ہی چاہیے ، بہر حال ، قران کریم اللہ کے پاس اصل کتاب میں اسی طرح محفوط ہے جس طرح اللہ نے محفوظ رکھا ہے ، اور اس میں سے جو کچھ جب جب اللہ نے چاہا نازل فرمایا ، اور نازل فرمائے ہوئے میں سے جو کچھ اور جب کب چاہا جس جس انداز میں چاہا منسوخ فرمایا ، اس منسوخ سےاصل کتاب میں موجود قران کریم کی حفاظت اور الفاظ میں ترمیم لازم نہیں ہوتی ، اور اگر ترمیم مان بھی لی جائے تو بھی اُس خالق و مالک کی بے عیب و بے نُقص حِکمتء تامہ اور مشیئت میں جو کچھ مقرر ہوا اُس نے کیا ، یعنی اگر وہ ترمیم کرے بھی تو اصل کتاب کی حفاظت اور اُس میں سے نازل کردہ قران کریم کی حفاظت میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا ، اس کی قرانی دلیل اِن شاء اللہ آگے ذِکر کروں گا ، یُوں بھی یہ بات تو ایک ادنیٰ سا قاری بھی سمجھ سکتا ہے کہ قران کریم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے تصرفات سے محفوظ ہونے کی خبر دی ہے کہ وہ اس کے الفاظ میں تحریف نہ کر سکیں گے ، معانی اور مفاہیم میں تحریف کا سلسلہ تو چلتا آ رہا ہے جس کے بہت سے نمونے یہاں پاک نیٹ پر بھی موجود ہیں ، تو ،،، اللہ تعالیٰ کی طرف سے قران کریم کی حفاظت کا وعدہ اُس کی مخلوق کی طرف سے ممکنہ تصرفات کے بارے میں ہے نہ کہ اُس کا مطلب یہ کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اپنی قدر ت و حِکمت کے اختیار سے بھی خارج ہو گیا ، پس وہ اصل کتاب جس میں سے قران کریم نازل کیا گیا وہ اصل کتاب اللہ کے پاس محفوظ ہی ہے اور اُس میں سے نازل کردہ قران کریم بھی اللہ کی حفاظت میں ہی تھا اور ہے اور ہمیشہ رہے گا ، اُس کے نزول کی تکمیل سے پہلے پہلے اُس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اللہ ہی نے کی اور وہ ہی اس کا اکیلا اور مکمل حق دار تھا اور ہے ، کسی نے کوئی آیت اپنی مرضی سے نہیں نکالی ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہی قران نازل فرمانے والا ہے اور اُس نے اپنی بے عیب حِکمت کے مطابق جب چاہا اپنی جس بات کو چاہا منسوخ فرمایا ، اس تنسیخ کے سبب اصل کتاب جس میں سے قران کریم نازل فرمایا گیا ، اُس اصل کتاب میں کسی ترمیم ہونے کاکوئی شائبہ بھی نہیں ہے ، اور نہ ہی اس تنسیخ میں چُھپتے چُھپاتے کیے جانے والا کوئی کام ہے ، بلکہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قول اور فعل کےذریعے اس تنسیخ کی خبر کروائی اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے قول اور فعل کے ذریعے اُس کی خبر کروائی ، اب کوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت شدہ خبرکو نہ مانے تو اس کے لیے ہدایت کی دُعاء کی جانی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اُسے ہدایت دے اور اگر اللہ کی مشیئت میں اس کے لیے ہدایت نہیں ہے تو اللہ اُس کے شر سے سب انسانوں کو محفوظ رکھے، حیدر بھائی ، آیت رجم کے قران میں نازل ہونے اور پھر منسوخ ہونے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے اور چھ عظیم المرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہوتی ہے ، لہذا پوری کی پوری اُمت نے شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہونا قبول کیا ہے ، حتیٰ کہ اُمت کے دوسرے بڑے گروہ اہل تشیع ، جس کا پہلے اور سب سے بڑے گروہ اہل سُنّت و الجماعت سے تقریبا عقائد ، عبادات ، اور فقہ وغیرہ میں بہت ہی زیادہ اختلاف ہے ، اُس گروہ میں بھی یہ حکم مقبول ہے ، اور یہ بات معروف ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم ہونے کے بارے میں کبھی کہیں کوئی قابل ذِکر و مؤثر اختلاف نہیں پایا گیا ، حیدر بھائی ، یہ اتفاقء اُمت اس بات کی سب سے زیادہ مضبوط دلیل ہے قران کریم میں رجم کی آیت تھی ، اللہ کے حکم سے اُس کی قرأت و حروف منسوخ ہوئے اور اللہ ہی کے حکم سے اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس آیت کے حکم پر بار ہا عمل فرما کر یہ تعلیم دی کہ اس آیت کا حکم برقرار ہے ، اور اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے براہ راست شاگردوں ، قران کریم کے پہلے مخاطبین صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، جن میں خلفاء راشدین بھی شامل ہیں ، ان سب نے ہی اس تعلیم کو خوب اچھی طرح سے سمجھا ، اور اس پر عمل کیا اور واشگاف الفاظ رجم کی سزا کا قران کی منسوخ شدہ آیت میں مذکور ہونے کا اعلان کیا ، حیدر بھائی گو کہ آپ نے اپنے سوال کے ابتدائی حصے میں ناسخ و منسوخ کی بحث سے کو بھول کر ، وقت طور پر یہ مان لیا کہ آیت رجم قران میں تھی اور منسوخ ہو گئی ، لیکن میں نے یہ مذکورہ بالا الفاظ آپ کے پیش کردہ اقتباس میں کیے گئے اعتراضات اور سوالات کے مختصر جواب کے طور پر اس لیے لکھے ہیں کہ آپ نے یہ بھی لکھا تھا کہ ان اعتراضات یا سوالات کے بعد والے مراسلات میں آپ کو ان کے جوابات نہیں ملے ، اس کے بعد آپ کے اصل سوال کی طرف آتا ہوں کہ ::: اقتباس:
بہر حال ،بھائی جی ، آیے اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان پڑھتے اور سمجھتے ہیں کہ ((((( يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ ::: اللہ جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اللہ کے پاس ہی اصل بنیادی کتاب ہے))))) سورت الرعد /آیت 39، اللہ کے اس فرمان میں آپ کے پیش کردہ اقتباس میں کیے گئے لوح محفوظ میں ترمیم والے سوال کا جواب بھی ہے ، اور ایک رُخ سے آپ کے سوال کا بھی ، کہ منسوخ کی جانے والی آیات میں سے جس کو اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے چاہا اس طرح بھی ڈسپوز آف فرمایا ، کہ اُسے مٹا دیا ، جیسا کہ اس آیت مبارکہ میں بیان ہے اور یہ کہ یہ تنسیخ صرف نازل شدہ آیات میں ہی ہے اصل کتاب جس میں سے قران نازل فرمایا گیا وہ اللہ کے پاس تنسیخ کے بغیر ہی محفوظ ہے ، حیدر بھائی ، اللہ تعالیٰ کا کلام پاک کوئی ایسا میٹریل تو نہیں جسے ڈسپوز آف کرنے کا ہیومن سنسز کی قید میں آسکنے والا پراسس ہونا ضروری ہو ، نہ تواللہ تعالیٰ کے کلام پاک کے نزول کا پراسس ، محمدصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک کے علاوہ کسی انسان کی سنسز میں آنے والا تھا، اور نہ ہی نازل شدہ کلام میں سے کسی حصے کے ڈسپوز آف ہونے کا پراسس ، جی ہاں نزول وحی کے وہ سمٹمز اور سائنز جن کی خبر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ہوئی کہ جب یہ سمٹمز اور سائنز ، اپیر ہوں تو سمجھو کہ مجھ پروحی نازل ہورہی ہے ، ان کی ایپیرنس کے مطابق ہی صحابہ رضی اللہ عنہم سمجھا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے ، اور یہ بات بھی ناقابل تردید ہے کہ اُن سمٹمز اور سائنز کی ایپیرنس کے بغیر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، کیونکہ وحی کے نازل ہونے کا صرف ایک ہی طریقہ تو نہیں تھا ، اس بات کو سمجھنے کے لیے وحی کی اقسام کا مطالعہ ضروری ہے ، لہذا اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات ، مستقبل اور آخرت کے معاملات اور اللہ پاک کے پیغامات اور احکامات کی بابت جو کچھ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک سے ثابت ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے وحی کی بنا پر ہی ہے ، اس وحی میں سے قران کریم کی آیات مبارکہ بھی رہی ہیں ، اور دیگر احکام و پیغام بھی جو قران کا حصہ نہیں تھے ، انہی احکامات میں سے کسی آیت کے الفاظ یا قرأت یا حکم ، یا پہلے دونوں یا دوسرے دونوں یا تینوں ہی کے منسوخ ہونے کا حکم بھی ہوتا رہا ہےجس کو جاننے کا واحد ذریعہ نبی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک رہی ہے ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اقوال و افعال تا دم تحریر موجود ہیں اور ان کے براہ راست شاگردوں رضی اللہ عنہم اجمیعن کے اقوال و افعال جو اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اقوال و افعال کی تشریح اور تفہیم کا سب سے بہترین ذریعہ ہیں ، پس جب تک ہم ان ذرائع کو استعمال نہیں کرتے دِین کے کسی بھی معاملے کو ، خاص طور پر اختلافی معاملات کو کبھی بھی حق کے مطابق نہیں سمجھ سکتے ، اس کے بعد حیدر بھائی ، آپ کے سوال کے عین مطابق احادیث کی روایات کے بارے میں یہ کہوں گا کہ اس بارے میں پہلے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کے حکم پر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ کے قران کریم جمع کرنے کی تفصیلات کا مطالعہ صحیح روایات کی روشنی میں کیا جانا چاہیے ، اگر میں جمع ء قران کے اس موضوع کو یہاں شروع کروں تو بات کافی طویل ہو جائے گی ، مختصراً اتنا ہی کہتا ہوں کہ اس بارے میں پہلے سے بیان کردہ جامع القران زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ والی روایات دیکھیے ، مزید یہ کہ قران کریم کی لکھی ہوئی آیات کریمہ کو جمع کرنے کی مہم سے متعلق دیگر صحیح روایات کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ نے قران کریم کی لکھی ہوئی آیت جمع کِیں ، اور امیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ نے ہر ایک آیت کی دو دو حافظء قران سے تصدیق کروا کر ، لکھوا یا اور انہی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ کی نگرانی میں ایک ایک آیت کو پڑھ پڑھ کر لکھوایا تو اس وقت مختلف لوگوں سے ، مختلف مواد پر لکھی ہوئی جمع کردہ آیات میں آیت رجم لکھی ہوئی نہ ملی ، اور اُس وقت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ کی موجودگی میں قران لکھنے والوں میں سے حفاظ ء قران نے جب اُس آیت کے مُقام پر پہنچے تو انہوں نے اس آیت کے بارے میں استفسار ظاہر کیا تو زید بن ثابت اور سعید ابن العاص رضی اللہ عنہ ُ نے اُن قران لکھنے والوں کی تائید میں اس آیت کے نازل ہونے ، اور خود پڑھنے کی گواہی بھی دی ، اور چونکہ سب ہی جانتے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُس آیت کے الفاظ اور قرأت منسوخ فرما دی لہذا قران کریم کا ایک نسخہ تیار کرتے ہوئے اس کو لکھا نہیں گیا ، ان کے علاوہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم جنہوں نے وہ آیت پڑھی تھی ، بلکہ اُس کو خوب اچھی طرح سے سیکھا اور سمجھا تھا ، نے اس آیت ء رجم کے پہلے موجود ہونے اور پھر منسوخ ہونے کی گواہیاں دیں ، تو ان سب معلومات کی روشنی میں یہ پتہ چلا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ بالا فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو مٹا دیا ، اسی لیے جب دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اس آیت کو قران کریم کی دیگر آیات میں لکھنے کی اجازت طلب فرمائی تو انہوں نے فرمایا (((((لاَ أَسْتَطِيعُ الآنَ ::: میں اب ایسا نہیں کر سکتا ))))) سنن النسائی ، اور سنن البیھقی کی روایت کے الفاظ ہیں (((((لاَ أَسْتَطِيعُ ذَاكَ ::: میں ایسا نہیں کر سکتا)))))) اور روایت نقل کرنے کے بعد امام البیھقی رحمہ ُ اللہ نے یہ وضاحت بھی لکھی ہے کہ """"" فِى هَذَا وَمَا قَبْلَهُ دَلاَلَةٌ عَلَى أَنَّ آيَةَ الرَّجْمِ حُكْمُهَا ثَابِتٌ وَتِلاَوَتُهَا مَنْسُوخَةٌ وَهَذَا مِمَّا لاَ أَعْلَمُ فِيهِ خِلاَفًا::: اس حدیث میں اور جو اس سے پہلے بیان ہوئی اُس میں اس بات کی دلیل ہے کہ آیتء رجم کا حُکم ثابت (قائم )ہے اور اُس کی تلاوت منسوخ ہے اور یہ ایسی بات ہے جِس کے بارے میں مجھے کسی اختلاف کا عِلم نہیں """ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے اس آیتء رجم کے الفاظ و قرأت منسوخ ہونے کی خبر ہو چکی تھی ، اس لیے انہوں نے اس آیت کو دیگر برقرار آیات کے ساتھ لکھنے کی اجازت نہیں دی ، لیکن اس میں موجود حُکم کے مطابق رجم کی سزا کو نافذ رکھا ، اس حدیث شریف کو اسی تھریڈ میں غلط حوالے کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے مراسلہ رقم 109 میں اپنے خیالات کو معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک کے الفاظ بنا کر لکھا ہوا ہے ، پس حیدر بھائی ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُس کے مذکورہ بالا فرمان کے مطابق اس آیتء رجم کو مِٹا دیا ، لیکن اپنی بے عیب و نقص حِکمت وہ آیت اور اس کے نازل ہونے اور پھر منسوخ ہونے کی خبر اُن صحابہ رضی اللہ عنہم کو یاد رکھوائی جنہوں نے وہ آیت پڑھی تھی ، اور آیت میں دیے گئے حکم پر عمل اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فعل مبارک کے ذریعے برقرار رکھا ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے خلفاء راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و افعال کے ذریعے زندی رکھا اور ان کے بعد اُمت کے اماموں اور علماء کے ذریعے زندہ رکھا اور تا حال زندہ و برقرار ہے ، جی یہ الگ بات ہے کہ اب ہمیں غیروں کے سامنے اپنے دِین کے احکام شرمندگی کا باعث محسوس ہوتے ہیں وحشیانہ محسوس ہوتے ہیں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی نقالی محسوس ہوتے ہیں ، جبکہ ہماری زندگی کی تقریبا ً تمام ہی مشغولیات ان یہود نصاریٰ کی نقالی پر مبنی ہو چکی ہیں ، وہاں ہمیں کچھ شرم نہیں آتی ، و لا حول و لا قوۃ الا باللہ، و الیہ اشتکی ، حیدر بھائی ، اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اس آیت رجم کے الفاظ و صورت کو مٹا دینے میں ، لیکن اس کے حکم کو عملی طور پر برقرار رکھنے میں ، اور اس کے نازل ہونے اور پھر الفاظ و قرأت کی حد تک منسوخ ہونے کی خبر کو زندہ رکھنے میں مجھے اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی ایک حِکمت یہ بھی سجھائی دیتی ہے کہ بعد میں آنے والے کلمہ گو لوگوں کے ایمان کی ایک اور کسوٹی ہو رہے ، واللہ أعلم ، میرا خیال ہے بات کچھ طوالت اختیار کر گئی ہے اس لیے اب رکتا ہوں ، اور امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ آپ کے لیے آپ کے سوال کا جواب اس بات میں میسر ہو گا ، مزید سوالات کے لیے آپ کا بھائی حاضر ہے ، بس جواب دینے میں دو سبب سے ذرا دیر سی ہوجاتی ہے ، ایک تو یہ کہ بڈھا آدمی ہوں جلدی تھک جاتا ہوں اور دوسرا یہ کہ اپنی روزمرہ کی مشغولیات میں سے وقت ہی بہت کم ملتا ہے ، امید ہے آپ اس تاخیر سے درگذر کرتے رہیں گے ، و جزاک اللہ خیرا ، بھإئی رانا صاحب نے غامدی والےتھریڈ میں ایک نٕئے مراسلے میں ایک اور حدیث پر ایک اعتراض وارد کیا ہے ، آپ نے احادیث پر اعتراضات پر بات چیت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے رانا بھإئی کے اس مراسلے پر بھی ایک تھریڈ کھول دیجیے تا کہ آپ کے شروع کردہ عنوان کی مناسبت سے تمام گفتگو ایک جگہ جمع ہوتی رہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور تمام قارٕئین کرام کو حق پہچاننے ماننے اپنانے اور اسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے و السلام علیکم۔ |
|||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#138 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 17
کمائي: 671
شکریہ: 18
13 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#139 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھإئی محمد آصف صاحب ، میں کافی دنوں سے حیدر بھإئی کی طرف سے کسی پیش قدمی کا منتظر ہوں کہ اس تھریڈ کو بھی انہوں نے اپنی انتظامی نگرانی میں لیا ہے ، بہرحال اِن شاء اللہ ، میں اپنے وعدے کے مطابق آپ کے سوالات میں سے اس تھریڈ کے موضوع سےمتعلق سوالات کے جوابات پیش کرتا ہوں ، محترم بھائی محمد آصف صاحب ، آپ نے سُورت النساء کی آیت رقم 25 کا ذِکر کر کے جو سوال کیا ہے اگر آپ اپنے ہی لکھے ہوئے پر کچھ غور کیجیے تو اس میں خود ہی جواب موجود ہے ، اس آیت مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے سزا کے بارے میں اِرشاد فرمایا ہے کہ اگر لونڈیاں شادی شدہ ہوں اوراپنے خاوند کے پاس رہتی ہوں اور پھر بھی بدکاری کریں تو اُن کے لیے آزاد عورتوں کی سزا سے آدھی سزا ہے ، اس آیت کریمہ میں ہمیشہ سے آزادعورتوں اوراپنے خاوند کے ساتھ رہنے والی شادی شدہ لونڈیوں کے بارے میں مطلق ذِکر ہے ،آزاد عورتوں کے شادی شدہ یا غیر شادی ہونے کی کوئی قید یا پابندی نہیں ہے ، لہذا اس آیت کریمہ میں آزاد عورتوں کی وہ سزا مراد ہے جو غیر شادی شدہ کی قید کے بغیر مقرر ہے ، غالباً آپ آیت شریفہ میں مذکور الفاظ """احصن """ اور """ المحصنات """ سے یہ خیال فرما رہے ہیں کہ اس سے مراد شادی شدہ ہے ، تو ایسا نہیں ہے بھائی محمد آصف صاحب ، یہ بات سمجھنے کے لیے ہمیں تھوڑا سا لغت کی طرف رجوع کرنا ہو گا اور پھر قران پاک میں تدبر کرنا ہو گا تو بات اِن شاء اللہ واضح ہو جائے گی ، آپ نے جن الفاظ کو سورت النساء کی آیت 25 میں """ شادی شدہ """ کے معنی میں لیا ہے ، اُن الفاظ کا اصل مادہ، ثلاثی مجرد ، سہ حرفی جڑ ،روٹ ورڈ """ حَصنَ """ ہے ، اور اس سے """ یَحصِّنُ """ حَصِینٌ """ ، """حصّانۃٌ """ ہے ، جس کا بنیادی معنی """ کسی چیز کو اپنے ارد گرد کر کے اس کے اندر محفوظ ہونا """، اور """ ایسی چیز جس کے اندر پائی جانی والی انتہائی محفوظ ہو اور آسانی سے اس چیز تک پہنچنا ممکن نہ ہو"""، اور دیگر معانی اور مفاہیم درج ذیل ہیں ، """شادی ہونے کی صُورت میں بدکاری سے محفوظ ہونا """، مؤنث کے لیے اس میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ """ ایسی عورت جس کی عِفت اس کے خاوند نے محفوظ کر رکھی ہو """، اور """ شادی شدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی اپنی شرمگاہ کو بدکاری سے محفوظ رکھنا """، اور """ صرف شرعی طور پر جائز انداز میں نکاح کے ذریعے جنسی تعلق قائم کرنا""" ہے ، اورقران و حدیث میں """ اِحصانٌ """ کو اسلام میں داخل ہو کر محفوظ ہونے کے مفہوم میں بھی استعمال کیا گیا ہے ، قران کریم میں یہ سب ہی مفاہیم انہی مذکورہ بالا معانی اور مفاہیم میں استعمال ہوئے ہیں ، اب آپ اپنی ذکر کردہ سُورت النساء کی آیت رقم 25 کو اس میں بیان کردہ موضوع کے مطابق سباق کے تسلسل کے ساتھ، اور اوپر بیان کردہ لغوی قواعد پڑھیے ، یہ موضوع جو نکاح میں حرمت کے بارے میں ہے آیت رقم 22 سے شروع ہو رہا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے ::: (((((وَ لَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا (22) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (23) وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (24) وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (25) يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (26) ))))) جی تو بھائی محمد آصف صاحب ، ان مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نکاح کے جائز طریقے بیان فرماتے ہوئے آیت رقم 25 ، جس کو ذِکر کرتے ہوئے آپ نے سوال کیا ، اُس آیت کے آغاز میں اللہ پاک نے جن """ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """ کا ذِکر فرمایا ہے بڑی وضاحت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شادی شدہ عورتیں نہیں بلکہ اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی آزاد مسلمان عورتیں ہیں، کیونکہ اگر یہاں """ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """ سے مراد شادی شدہ عورتیں لیا جائے تو اُن سے نکاح کرنے کے ذکر کا کیا مقصد جو پہلے ہی کسی کے نکاح میں ہیں اور نکاح میں ہونے کی وجہ سے """مُحصَّنۃٌ """ ہیں ، لہذا لا محالہ طور پر یہاں """ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """ سے مراد اپنی عفت کی حفاظت رکھنے والی آزاد اور کسی کے نکاح میں نہ ہونے والی اِیمان والی عورتیں ہیں ، اور آیت مبارکہ میں انہی """الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """کی سزا کی آدھی سزا کا ذِکر ہے ، اور اگر ان """الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """ یعنی کسی کے نکاح میں نہ ہونے والی ، اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی آزاد اِیمان والی عورتوں میں سے کوئی زنا کی مرتکب ہو جائے تو اس کی سزا رجم نہیں کیونکہ وہ """شادی شدہ """ نہیں ، لہذا اس کی سزا اسی کوڑے ہیں ، اور اسی سزا کی آدھی سزا شادی شدہ باندی کو دی جائے گی ، ذرا یہ بھی خیال رکھیے محترم بھائی ، کہ میری اور آپ کی بات میں تو ایسی نا معقولیت ہو سکتی ہے کہ ہم کسی نا قابل تقسیم چیز کو تقسیم کرنے کا حکم کر دیں ، لیکن اللہ عزّو جلّ کے کلام پاک میں ایسا ہر گز ہر گز نہیں ہے ، پس میرے بھائی سُورت النساء کی اس آیت رقم 25میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس سزا کو تقسیم کر کے اس کا نصف نافذ کرنے کا حکم دیا ہے وہ ایسی سزا ہی ہو سکتی ہے جو نصف نافذ کیے جانے کے قابل ہو ، اور وہ سزا کوڑے مارنے کی سزا ہے ، لہذا شادی شدہ باندی پر"""الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """ یعنی کسی کے نکاح میں نہ ہونے والی ، اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی آزاد اِیمان والی عورتوں میں سےزنا کرنے والی عورت کو دی جانے والی اسی کوڑوں کی سزا کا نصف چالیس کوڑے نافذ کیا جائے گا ، اس مسئلے کی وضاحت اللہ پاک نے اپنےنبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ز ُبان مبارک سے بھی کروائی اور ان کے عمل مبارک سے بھی ، اسی کو ہم سُنّت رسول علی صاحبھا افضل الصلاۃ و السلام کہتے ہیں جس کے بغیر اللہ کے کلام کو کبھی بھی اللہ کی مُراد کے مطابق نہیں سمجھا جا سکتا ، جی تو صحیح ثابت شدہ سُنت مبارکہ میں ہمیں اس مسئلے کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اس فرمان مبارک میں ملتی ہے کہ ::: (((((إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ ، وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلاَ يُثَرِّبْ ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ::: اگر تُم لوگوں میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اُس کا زنا ثابت ہو جائے تو اُس پر حد جاری کرتے ہوئے اسے کوڑے مارے جائیں ، اور اس کو طعنے نہ دیے جائیں ،پھر اگر وہ دوبارہ زنا کرے تو اُس پر حد جاری کرتے ہوئے اسے کوڑے مارے جائیں اور اسے طعنے نہ دیے جائیں ، اور اگر تیسری دفعہ زنا کرے اور اُس کا زنا ثابت ہو جائے تو اسے فروخت کردے خواہ بھوس کی بنی ہوئی رسی کے عوض ہی بیچ دے)))))متفقٌ علیہ ، صحیح البُخاری/حدیث 2234/کتاب البیوع/باب110، صحیح مُسلم/حدیث 4542/کتاب الحدود/باب6 ، بھائی محمد آصف صاحب سُورت النساء کی اس آیت مبارکہ رقم 25 میں جس سزا کی آدھی سزا نافذ کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے وہ کوڑوں کی سزا ہے ، کیونکہ اس آیت مبارکہ میں """الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ """ یعنی کسی کے نکاح میں نہ ہونے والی ، اپنی عِفت کی حفاظت کرنے والی آزاد اِیمان والی عورتوں کا ذِکر ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطاء کردہ توفیق کے سبب میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس آیت مبارکہ میں اس انداز میں """الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ""" یعنی کسی کے نکاح میں نہ ہونے والی ، اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی آزاد اِیمان والی عورتوں میں سے کسی سے زنا سر زد ہونے کی صورت میں ان کے لیے مقرر کردہ سزا کی یہ صفت بیان کرنا کہ وہ قابل تقسیم ہے ، یہ سب تفصیل اس بات کی بھی تائید ہے کہ جو مسلمان عورتیں """ آزاد ہوں اور کسی کے نکاح میں ہوں """ ان کے لیے ایسی سزا ہے جو ناقابل تقسیم ہے ، جس کا نصف وغیرہ نہیں کیا جا سکتا اور وہ سزا ہے رجم یعنی سنگساری ، والحمد للہ ، امید کرتا ہوں بھائی محمد آصف صاحب یہ معلومات آپ کے سوال کے جواب میں شافی وکافی ہوں گی اِن شاء اللہ ، مزید کوئی اشکال ہو تو ضرور سامنے لایے، باقی سوالات کے بارے میں ان شاء اللہ اگلی فرصت میں بات ہو گی ، بھائی محمد آصف صاحب کے علاوہ بھی جس بھائی یا بہن کو کوئی اشکال ہو تو ضرور ذکر کرے ، لیکن براہ مہربانی سابقہ تمام تر مراسلات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ، مناسب مؤدب ، آسان فہم واضح الفاظ پر مبنی عبارات کے ذریعے بات کی جائے ، و السلام علیکم۔ Last edited by عادل سہیل; 05-11-11 at 03:01 AM. |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | کنعان (05-11-11) |
|
|
#140 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عادل بھائی ایک سوال یہ ذہن میں آرہا ہے
عورتوں میں سے کسی سے زنا سر زد ہونے کی صورت وہ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ یعنی اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی آزاد اِیمان والی عورت کیسے رہے گی ؟؟ جبکہ یہاں تو خطا سرزد ہونے کے بعد ہونے والی سزا کے بارے میں بتایا جارہا ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
|
#141 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 17
کمائي: 671
شکریہ: 18
13 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپکے جواب کا بہت بہت شکریہ، میری خواہش ہے کہ آپ پہلے اپنی بات مکمل کرلیں پھر اسکے بعد میں اپنی گزارشات پیش کرنے کی جسارت کروں گا۔ آپ نے میرے سوالات کے سیریل نمبر 1 کے بارے میں جو کچھ رقم کیا ہے میں نے وہ پڑھ لیا ہے لیکن انتظار کررہا ہوں کہ باقی آپ اپنی فرصت میں سے جواب عنایت فرمادیں۔ والسلام آصف احمد |
|
|
|
|
|
|
#142 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، فیصل بھائی ، آپ کا یہ سوال دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے توجہ اور باریک بینی سے میرے مراسلے کا مطالعہ کیا ، جزاک اللہ خیرا ، فیصل بھائی اگر کوئی مسلمان عمومی طور پر اپنی عفت کی حفاطت کرنے والا ہو ، اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کرنے والا ہو ، حلال و حرام کی تمیز کرتے ہوئے حلال کام کرنے اور حرام سے بچنے کی کوشش کرتے رہنا والا ہو ، اور پھر کبھی کسی بھی سبب سے وہ کوئی گناہ کر لے ، یا اُس سے گناہ سرزد ہوجائے تو اس کو اُس گناہ کی بنا پراچھے مسلمانوں کی صف سے خارج نہیں کیا جا سکتا ، اور نہ ہی اس کی اچھائی کو یکسر فراموش کر کے اسے بروں کی گنتی میں شامل کیا جاسکتا ہے ، جی اگر گناہ ایسا ہے جس پر حد جاری کرنے کا حکم ہے اور گناہ ثابت ہوتا ہے تو حد جاری کی جائے گی لیکن اسے اس گناہ کے نسبت سے گناہ گاروں کی فہرست میں گنا نہ جاتا رہے گا ، بلکہ اسے اس کے گناہ کی نسبت سے کوئی بری یا سخت بات نہ کہی جائے گی ، جب تک کہ کوئی شخص بار بار ان یا دیگر جرائم کا مرتکب نہ ہوتا رہا ہو اور یہ یقینی ہو جائے کہ وہ شخص اس جرم کا عادی ہے ، اور وہ جرم کرنا اس کی سرشت میں داخل ہو چکا ہے ، بلکہ اس حد تک پہنچ جانے والے کے لیے بھی اس کے جرم کی نسبت سے اسے برا ہی قرار دے دینا درست نہیں ہے ، آپ دیکھیے کہ سیرت و تاریخ میں ہمیں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں کہ کسی مسلمان نے گناہ کیا ، ثابت ہوا ، حد جاری کی گئی ، لیکن اس کے بعد کبھی کسی نے چوری کرنے والے کو چور نہیں کہا ، شراب پی لینے والے کو شرابی نہیں کہا ، جوا کھیل لینے والے کو جواری نہیں کہا ، زنا کر لینے والے کو زانی نہیں کہا ، بلکہ جب کہیں ایسے کسی واقعے کا ذکر ہوا ہے تو کچھ یوں ذکر ہوتا ہے کہ فلاں نے زنا کیا ، فلاں نے چوری کی ، فلاں نے شراب پی ، یہ نہیں کہا گیا کہ فلاں زانی تھا، یا زانیہ تھی، فلاں چور تھا ، فلاں شرابی تھا ، جب تک کہ اس کی عادت و طبعیت میں اس جرم کی تکرار ثابت نہ ہوئی ہو، پھر بھی کچھ اس طرح کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں کہ فلاں چوری کیا کرتا تھا ، شراب پیا کرتا تھا ، وغیرہ وغیرہ ، اس احتیاط کے پیش نظر کہ اُس مسلمان کی شخصیت کو گناہ گار قرار نہ دے دیا جائے بلکہ حسن ظن برقرار رکھتے ہوئے کچھ یوں سمجھا اور کہا جائے کہ جس کے ذریعے اجتماعی فائدے کے لیے اس کی بری عادت کی خبر بھی ہو جائے اور اس کی شخصیت پر کوئی حکم نہ لگایا جائے، لہذا فیصل بھائی ، اگر کوئی عورت جو اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی ہو ، کسی بھی سبب سے کوئی ایسا کام کر لے جو عفت دری کے زمرے میں آتا ہو ، یا اس سے ایسا کوئی کام سرزد ہو جائے تو کسی کو یہ حق نہیں کہ اسے بدفعلی کی بنا پر بدکار یا بری قرار دے ، یہاں تک کہ معاذ اللہ ، اُس بد فعلی کی تکرار واقع نہ ہوتی رہے ، بلکہ ایک دفعہ پھر کہتا ہوں کہ تکرار واقع ہونے کی صورت میں بھی کسی مسلمان کی شخصیت پر کوئی حکم لگانے سے پہلے بہت سے پہلوؤں پر غور و فکر کرنا ہوتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ، تمام کلمہ گو بھائیوں بہنوں ، بیٹیوں کو ، ہماری عزتوں اور عفتوں کو ہر لغزش تک سےبھی محفوظ رکھے ، ان سب باتوں کی ایک دلیل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا وہ فرمان ہے جو میں نے سابقہ مراسلے میں ذکر کیا ، اور ایک دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی نہیں جانتا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کب کس گناہ گار کو سچی توبہ کی توفیق دے دے ، اور اسے اس کے گناہ کے نام سے نامزد کرنے والے اللہ کی ناراضگی کمانے والے بن جائیں ، اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کا فرمان ہے (((((وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا :::اور جس کسی نے گناہ کیا یا اپنی جان پر کوئی ظلم کیا اور پھر اللہ سے بخشش مانگی وہ اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہی پائے گا)))))سورت النساء ، اس آیت مبارکہ کی تفسیر کے طور پر ابی الدرداء رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے جو میری ان باتوں کی کافی مضبوط دلیل ہو سکتی ہے ، لیکن میں اسے اس لیے بیان نہیں کر رہا کہ محدثین کرام رحمہم اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، فیصل بھائی اس معاملے کو ایک اور زوایے سے بھی سمجھایا گیا ہے کہ گناہ گار کا گناہ اگر حد جاری کرنے کا متقاضی ہے تو اس پر حد جاری کی جائے گی ، لیکن اسے اس کے گناہ کی نسبت سے نامزد کرتے ہوئے نیکی کے خواہاں اور نیکی کے لیے کوشش کرنے والوں کی صفوں میں خارج قرار نہیں دیا جائے گا ، سوائے عادی گناہ گاروں کے ، اور عادی گناہ گار کا معاملہ بھی خوب اچھی طرح سے سوچ سمجھ کر ہی اس پر ایسا کوئی حکم لگایا جا سکتا ہے ، کیونکہ کسی کو اس کے گناہ کے سبب اس گناہ سے نامزد کر دینا شیطان کے لیے ایک سنہری موقع بن جاتا ہے جس سے فائدہ اُٹھا کر شیطان اُس گناہ گارکو مزید اسی یا دیگر گناہوں کا مرتکب ہونے کی طرف لے چلتا ہے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ، جب ان کے سامنے کسی کو نشے کی حالت میں پیش کیا گیا اور انہوں نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا تو کسی نے اس پر لعنت کی ، اور کسی نے اس کے بارے میں کہا کہ اللہ اسے رسوا و برباد کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا (((((لاَ تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ :::اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار مت بنو ))))) صحیح البخاری/کتاب الحدود ، فیصل بھائی اختصار کے پیش نظر میں یہیں بات روکتا ہوں اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اُمید کرتا ہوں کہ وہ اپنی رحمت سے اتنی بات کو ہی کافی و شافی بنا دے گا ، و السلام علیکم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتباس:
محترم بھإئی ، آصف احمد صاحب ، میں اپنی طرف سے جوابات پیش کرنے اور اپنے پچھلے مراسلے میں آپ کا نام محمد آصف لکھنے پر معذرت خواہ ہوں ، ان شاء اللہ بائیس ذی الحج کے بعد آپ کے باقی سوالات کے جوابات پیش کرنے کی کوشش کروں گا ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری بات چیت کو ہم سب کے لیے خیر والا بنإئے اور ہم ہر قسم کی ضد اور آپس کے بغض و عناد سے محفوظ رکھتے ہوٕئے اچھے مسلمان بھإئیوں کی طرح بات کرنے کی توفیق دے ، اور حق ہمارے لیے واضح کرے اور اسے قبول کرنے کی ہمت دے ، و السلام علیکم۔ |
||
|
|
|
|
|
#143 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,166
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپ کی ان باتوں سے یہ حقیت واضح ہوتی ہے کے اللہ اپنے بندوں کے حق میں رحیم اور توبہ قبول کرنے ولا اور بخشش کرنے والا ہے یہ بات بھی کافی درست لگتی ہے کے کسی بھی گناہ یا جرم کی بار بار تکرار کے باوجود بھی کسی مسلمان کی شخصیت پر کوئی حکم لگانے سے پہلے بہت سے پہلوؤں پر غور و فکر کرنا ہوتا ہے لیکن زنا کی سزا میں ہم دیکھتے ہیں ایک ہی جرم کے نتیجے میں دو مختلف سزائیں اور ان میں بھی بہت بڑا فرق ایک کی سزا صرف کوڑے اور ایک سزا میں موت اور وہ بھی کافی تکلیف دہ موت جنس کے جذبہ کی "طاقت " سے قطع نظر ، بعض اوقات شادی شدہ افراد کے حالات غیر شادی شدہ کے حالات سے زیادہ "غلطی ہوجانے " کا امکان رکھتے ہیں امید ہے آپ میرے سوال کو سمجھ رہے ہونگے کے ایک ہی حالات میں ایک ہی جرم کے دو مختلف اسٹیٹس رکھنے والے افراد میں کی سزا میں اتنے بڑے فرق کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#144 | |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 17
کمائي: 671
شکریہ: 18
13 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترمی آپ نے اپنے اقتباس میں آیت نمبر 22 تا 26 رقم کی ہے، بہت نوازش ہوگی اگر آپ میرے اور دوسرے قارئین کے لئے اسکا ترجمہ بھی کردیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ والسلام آصف احمد |
|
|
|
|
|
|
#145 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,543
شکریہ: 13,494
4,903 مراسلہ میں 16,685 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم ترجمہ کے لئے آپ یہاں پر کلک کریں، سورۃ النساء نمبر 4 ھے ۔ چاہے تو آیت نمبر 1 سے پڑھ لیں ثواب بھی ہو گا اور چاہے تو 22 سے 26 تک ترجمہ پڑھ لیں۔ والسلام
__________________
Last edited by کنعان; 09-11-11 at 02:04 AM. |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (09-11-11), عادل سہیل (10-11-11) |
|
|
#146 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
الحمد للہ وحدہ ، جس نے آپ کو وہ کچھ سمجھا دیا جو کچھ مجھے لکھنے کی توفیق دی ، فیصل بھإئی ایک احتیاط کے طور پر سب سے پہلے درج ذیل پیغام پڑھییے اور ان شاء اللہ اس کے بعد آپ کے مراسلے کا جواب پیش کرتا ہوں ::: عربی عبارات کو درست طور پر دیکھنے اور پڑھنے کے لیے درج ذیل فونٹس انسٹال کر لیجیے Al qalam quran Al Qalam Quran.ttf - 4shared.com - online file sharing and storage - download al_Mushaf Al_Mushaf.ttf - 4shared.com - online file sharing and storage - download ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیصل بھائی ، آپ کے مذکورہ بالا سوال کا پہلا ، بنیادی اور اصل جواب اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے ان فرامین میں ہے کہ ::: (((((وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ::: اور اللہ وہ ہے جِس کے علاوہ کوئی بھی سچا حقیقی معبود نہیں ہے ، اللہ ہی دُنیا اور آخرت میں تمام تر خاص سچی تعریف کا حق دار ہے اور اُس وہی حکم دینے کا سچا حق دار ہے اور تُم سب نے اُسی کی طرف واپس پلٹنا ہے ))))) سُورت القصص /آیت 70، (((((إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ:::بے شک اللہ جیسا بھی اِرادہ فرماتا ہےاس طرح کا حکم فرماتا ہے ))))) سُورت المائدہ/پہلی آیت ، (((((وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ::: اور اللہ ہی وہ حاکم ہے جس کے حکم کوٹال سکنے والا نہیں کوئی بھی نہیں اور اللہ بہت تیزی سے حساب لینے والا ہے ))))) سُورت الرعد /آیت 41 ، (((((وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ ::: اور اللہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے ))))) سُورت اِبراھیم /آیت 27، (((((لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ::: اللہ کو کچھ کرتا ہے اُس کے بارے میں اسے سے سوال نہ ہوگا بلکہ مخلوق سے سوال ہوگا ))))) سُورت الانبیاء/آیت 23، پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے احکام نازل فرمانے کے ساتھ ہی ساتھ ،اپنے اسلوب مبارک کے مطابق رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو حکم فرماتے ہوئے اور ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے خطاب کے ذریعے اُن کی اُمت کو یہ حکم بھی فرمایا ::: (((((وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ:::اور(اے محمد)جو کچھ آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اُس کی اتباع کیجیے اور صبر کرتے رہیے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلے کر دے اور اللہ سب سے زیادہ خیر کے ساتھ فیصلے کرنےوالا ہے))))) سُورت یونس / آخری آیت ، اسی حکم کے مطابق اللہ کی رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ کی طرف سے مقرر حدود کو نافذ فرمایا ، اور ان کے بعد ان کے خلفاء راشدین اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے اور ان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت میں سے جس کو بھی اللہ نے اتنا اِیمان دیا کہ وہ غیر اللہ کے ڈر سے اللہ کی مقرر کردہ حُدود کے نفاذ سے رکا نہیں ، ان حُدود کا منکر نہیں ہوا ، ان حُدود کے نفاذ میں روکاٹ ڈالنے والی باطل تاویلات بنانے یا پھیلانے والا نہیں ہوا ، اور اللہ کے ڈر سے اللہ کی مقرر کردہ حدود نافذ کرتا رہا ، پس فیصل بھائی، اصل بنیاد تو یہی ہے کہ جو حکم اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے ثابت ہو چکا ، اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی قولی اور فعلی سنت مبارکہ میں بغیر تنسیخ کے جاری رہا ، اس کے بارے میں ایک سچے اِیمان والے مُسلمان کی روش، اور منافقین کی روش اللہ کے ان مندرجہ ذیل فرامین میں بیان ہوئی ، ہم سب ہی اِن فرامین کی روشنی میں اپنے آپ کو پہچان سکتے ہیں ، آیے توجہ سے اپنے رب کی بتائی ہوئی ایک کسوٹی پر اپنے اِیمان و عمل کی پہچان کرتے ہیں::: (((((وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ مُعْرِضُونَ ::: اگر اُن لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ رسول اُن کے درمیان فیصلہ فرمائے تو اُن میں سے ایک گروہ رُوگردانی کرتا ہے (48)وَإِنْ يَكُنْ لَهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ ::: اگر (فیصلہ) اُن کے حق میں ہو تو رسول کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں (49) أَفِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ أَمِ ارْتَابُوا أَمْ يَخَافُونَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُولُهُ بَلْ أُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ::: کیا اُن کے دِلوں میں (منافقت کی)بیماری ہے ؟یا وہ(رسول کے فیصلے کے بارے میں ) شک رکھتے ہیں ؟یا اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اُس کا رسول اُنہیں رسوا کریں گے، نہیں بلکہ (حقیقت میں) وہ لوگ (خود ) ہی ظالم ہیں(50) إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ::: اِیمان لانے والوں کا معاملہ تو یہ ہوتا ہے کہ جب اُنہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو وہ کہتے ہیں ہم نے سُنا اور ہم نے تابع فرمانی کی ، اور یہ ہی لوگ خیر پانے والے ہیں (51) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ::: اور جِس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابع فرمانی کی اور اللہ سے ڈرا اور اللہ (کی نافرمانی اور عذاب)سے بچا تو وہی لوگ کامیاب ہیں (52) وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ قُلْ لَا تُقْسِمُوا طَاعَةٌ مَعْرُوفَةٌ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ::: یہ (منافق) لوگ بڑی بڑی قسمیں اُٹھا کر(رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے) کہتے ہیں اگر آپ فرمائیں تو ہم (اپنے گھروں سے بھی)نکل پڑیں گے (اے محمد) آپ فرمایے قسمیں مت اٹھاؤ (ز ُبانی دعوؤں کی بجائے )جانے پہنچانے طریقے پر تابع فرمانی درکار ہے بے شک اللہ تمہاری ساری کرتوتوں کی خُوب خبر رکھتا ہے (53) قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ::: فرمایے اللہ کی تابع فرمانی کرو اور رسول کی تابع فرمانی کرو ، اور اگر تُم لوگوں نے مُنہ پھیرا تو رسول اسی کا جواب دہ ہے وہی ہے جو اس کے ذمے ہے اور تُم لوگ اس کے جواب دہ ہو جو تُم لوگوں کے ذمے لگایا گیا ہے اور اگر تُم لوگ رسول کی تابع فرمانی کرو گے تو ہی ہدایت پانے والے بنو گے اور رسول کے ذمے تُم لوگوں تک وضاحت کے ساتھ (ہماری) بات پہنچا دینا ہے (54)))))) سُورت النور ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ بالا فرامین کے بعد گو کہ کسی اِیمان والے کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کسی حکم ، کسی فیصلے کے اسباب یا حِکمت تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ، لیکن فیصل بھائی میں آپ کے سوال کا جواب صِرف اور صِرف اللہ کے اس حُکم یعنی شادی شدہ زانی کی سزا کے حکم کی ممکنہ حِکمت سمجھنے کی کوشش کے طور پر دے رہا ہوں ، تا کہ کوئی مسلمان اللہ کے اس حکم کے بارے میں کسی فلسفے کا شکار ہو کر معاذ اللہ ، اللہ کے اس حکم کو معیوب نہ سمجھے ، اور نہ ہی معاذ اللہ ، اللہ کے اس حکم پر کسی شرمندگی کا شکار ہو ، پس اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، اور اس سے خیر کا سوال کرتے ہوئے اور ہر شر سے محفوظ رہنے کا سوال کرتے ہوئے ، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ شادی شدہ مرد یا عورت کے زنا کرنے کی صُورت میں اس قدر شدید اذیت ناک موت پر مشتمل سزا کی حِکمت یہ ہو سکتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی شرمگاہ کی حفاظت کا شرعی ذریعہ مہیا کر رکھا تھا پھر بھی اس نے اللہ کے عطاء کردہ حلال ذریعے کو چھوڑ کر حرام راستہ اپنا کر اللہ کی نعمت کا عملی کفر بھی کیا ، کسی مسلمان مرد کو اس کی جنسی شہوت کی تسکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیک وقت چار بیویاں رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے ، اور عورتوں کو ایک وقت میں ایک ہی مرد کے نکاح میں رہ سکنے کی اجازت دی ہے ، یقین جانیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہ احکام یہ پابندیاں بلا شک و شبہ انسانوں کی فطرت کے تقاضوں کو پوری کرنے والی ہیں ، کیونکہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ اپنی مخلوق کو سب سے زیادہ، اور سب سے زیادہ باریکی اور گہرائی سے جانتا ہے (((((أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ:::کیا وہ نہیں جانتا جِس نے تخلیق فرمایا اور وہ بہت اندروں بین اور بہت زیادہ خبر رکھنے والا ہے)))))سُورت المُلک /آیت 14، اور یقیناً اس کے احکام اور پابندیاں اس کی مخلوق کی استطاعت کے عین مطابق ، اور ان کی دُنیا اور آخرت کے لیے خیر اور رحمت کا سبب ہیں (((((وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنْطِقُ بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ::: اور ہم کِسی جان کو اس کی استطاعت سے زیادہ پابند نہیں کرتے اور ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو حق بات کرے گی اور اُن لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا))))) سُور المؤمنون /آیت62 ، پس فیصل بھائی مسلمانوں کو اللہ کی ان مقرر کردہ حدود میں ہی رہنا ہے ، اسی میں ان کی لیے خیر ہے اور اسی میں اللہ کی طرف دُنیا اور آخرت میں رحمت کا حصول ہے ، جی ، اگر کسی مرد یا عورت کی جسمانی ضرورت ان مقرر کردہ حدود میں رہتے ہو پوری نہ ہوتی ہو یا وہ اپنی جسمانی طلب کی تکمیل کے لیے جائز ذریعہ حاصل نہ کر سکتا ہو، یا اس کے پاس موجود ذریعہ اس کی ضرورت کی تکمیل کی استطاعت والا نہ ہو ، تو اس کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نفس پر جِہاد کرنے کا حکم دیا ہے ، اپنی نفسانی خواہشات کو مسخر کرنے کا حکم دِیا ہے ، اس راہ اور ان وسائل سے بھی دُور رہنے کا حکم دِیا ہے جو زنا کے قریب لے جاتے ہوں ، ان میں ستر وحجاب ، پردے، نظر کی حفاظت ، اور مرد و عورت کے آپس میں بات چیت کرنے کے بارے میں احکام شامل ہیں ، اور بڑی وضاحت سے یہ حکم بھی موجود ہے جو ان سب کاموں اور ان کے علاوہ بھی دیگر ہر ایسے کام سے منع کرتا ہے جو زنا کا سبب بننے والا ہو (((((وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا::: اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ بلا شک زنا بہت بڑی برائی اور بہت ہی برا راستہ ہے ))))) سُورت الاِسراء (بنی اِسرائیل)/آیت32، اور ان کے ساتھ ساتھ اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مبارک سے وہ طریقے بھی سکھادیے جو اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جانے کی بجائے اللہ کی رضا کی طرف لے جاتے ہیں اور روحانی وقت میں اضافے اور جسم کی نفسانی طلبات کی کمی کا مجرب نسخہ ہوتے ہیں ، یہ حدیث شریف پڑھیے (((((يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ::: اے جوانو، تُم لوگوں میں سے جو جنسی تعلق کی وقت رکھتا ہے وہ نکاح کرلے کہ نکاح کرنا نظر کو جھکانے کا سبب ہوتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کا سبب ہوتا ہے ، اور جو نکاح نہیں کر سکتا تو وہ روزے رکھا کرے کہ روزہ ایسے شخص کے لیے بچاؤ کرنے والا ہے ))))) متفق ٌ علیہ ، صحیح البخاری/حدیث5066 /کتاب النکاح/باب 3، صحیح مُسلم/حدیث3464/کتاب النکاح/پہلا باب ، اس حدیث شریٖف میں یہ بھی بتایا گیا کہ نکاح نظر کے جھکاؤ اور شرمگاہ کی حفاظت کے اسباب میں سے ہے ، فیصل بھائی ابھی ابھی میری کہی ہوئی درج ذیل بات پر اس حدیث شریف کی روشنی میں بھی غور فرمایے ، کہ ::: """"" اس کے بعد صِرف اور صِرف ممکنہ حِکمت سمجھنے کی کوشش میں آپ کے سوال کے جواب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ شادی شدہ مرد یا عورت کے زنا کرنے کی صُورت میں اس قدر شدید اذیت ناک موت پر مشتمل سزا کی حِکمت یہ ہو سکتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی شرمگاہ کی حفاظت کا شرعی ذریعہ مہیا کر رکھا تھا پھر بھی اس نے اللہ کے عطاء کردہ حلال ذریعے کو چھوڑ کر حرام راستہ اپنا کر اللہ کی نعمت کا عملی کفر بھی کیا ۔"""""" اس کے علاوہ اس مذکورہ بالا حدیث شریف میں جنسی شہوت کو کمزور کرنے کی راہ بھی سمجھائی گئی ہے ایسی راہ جو نفسانی خواہش سے بچاؤ کا سبب بھی ہے اور اللہ کی رضا کے حصول کا سبب بھی ، بشرطیکہ وہ خالصتاً اللہ ہی کے لیے اپنائی جائے ، اور وہ ہے """ روزہ رکھنا """، فیصل بھائی ، کسی مسلمان کے لیے کوئی ایسا عذر یا سبب نہیں ہے جس کی بنا پر ، جس کی آڑ میں وہ اپنی شرمگاہ کی طلب پوری کرنے کے لیے حلال ذریعہ اختیار کرنے کی بجائے حرام ذریعہ اپنائے ، اور جان بوجھ کر ،عمداً ، برضا و رغبت زنا کرے ، جی ہاں ، یہ حقیقت ہے کیونکہ ایک سچے اِیمان والا جب تک اپنے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت اور ان کی تعیلمات پر عمل پیرا رہتا ہے ، اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت میں رہتا ہے اس کے دِل میں اِیمان موجزن رہتا ہے اور ہر موج اُسے اپنے رب اور رسولء رب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کی طرف دھکیلتی ہے ، اور ہر اطاعت والا عمل اس کے اِیمان میں اضافے کا سبب بنتا ہے ، اور ہر اضافہ اسے پھر مزید اطاعت کی قوت مہیا ہونے کا سبب بنتا ہے اور یوں وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی کی طرف قطعا مائل نہیں ہوتا ، کوئی مسلمان اسی وقت کسی گناہ کا شکار ہوتا ہے جب اس کا اِیمان کمزوری بلکہ اس قدر کمزوری کی حالت میں ہوتا ہے گویا کہ نہ ہونے کے برابررہ جاتا ہے ، اور اس حالت میں جی ہاں ، ایسا ہی ہوتا ہے ، اس کی خبر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ز ُبان مبارک سے کروائی کہ(((((لاَ يَزْنِى الزَّانِى حِينَ يَزْنِى وَهْوَ مُؤْمِنٌ ، وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهْوَ مُؤْمِنٌ ، وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهْوَ مُؤْمِنٌ::: جب کوئی زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ اِیمان والا نہیں ہوتا ، اور نہ ہی جب کوئی شراب پیتا ہے تو وہ اسے پیتے ہوئے ہوئے وہ اِیمان والا ہوتا ہے ، اور نہ ہی کوئی چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے اِیمان والا ہوتا ہے)))))صحیح البُخاری/حدیث5578/کتاب الاشربہ/پہلا باب، صحیح مُسلم /حدیث217/کتاب الایمان/باب26، پس فیصل بھائی ، مسلمان کو ، اِیمان والےکواپنے اِیمان کی حفاظت کرتے ہوئے ، اللہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کا پابند ہی رہنا چاہیے ، اپنے اِیمان کی حفاظت کی کوشش کے بعد باجود ، یا بغیر ایسی کوشش کے ہی جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے اُس کے مالک و خالق کی طرف سے اس کے گناہ کی سزا مقرر ہے (((((سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ::: ہم نے سنا اور ہم نے تابع فرمانی کی ))))) کی صفت خود میں مہیا کرتے ہوئے ہمیں اللہ کے احکام کو نافذ کرنا ہے ، ان کی کوئی حکمت سمجھ میں آئے تو الحمد للہ سونے میں سہاگہ کے مصداق ہوا ، نہ سمجھ میں آئے تو بھی اِیمان والے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی احکامات اور فیصلوں کے اسباب تلاش نہیں کرتے کہ یہ عمل اِیمان کی کمزوری کا سبب ہے اور معاذ اللہ اگر اس میں کثرت اور اصرار رہے تو اللہ پر اعتراض تک لے جاتا ہے اور اللہ کے احکامات کے انکار یعنی کفر تک لے جاتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اور ہر مسلمان بھائی بہن کو اس سے محفوظ رکھے ۔ والسلام علیکم۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اقتباس:
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا، کنعان بھإئی ، بھإئی آصف احمد کنعان بھإئی نے آپ کے لیے اور دیگر قارٕئین کرام کے لیے ترجمے والے مسٕئلہ حل فرما دیا ہے ، جزاہ اللہ خیرا ، میں بھی اِن شاء اللہ کوشش کروں گا کہ اگلی فرصت میں اپنے اسی مراسلے میں ترجمہ شامل کر دوں ، باذن اللہ و السلام علیکم۔ |
|||
|
|
|
|
|
#147 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 17
کمائي: 671
شکریہ: 18
13 مراسلہ میں 39 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم عادل سہیل صاحب،
ایک اور گزارش ہے کہ آپ ساتھ ساتھ یہ بھی وضاحت کردیں کہ سورہ النور کی آیت نمبر 2 میں کس اصول کے تحت کوڑوں کی سزا صرف اور صرف غیر شادی شدہ زانی کے لئے قرار دی جاتی ہے دعاوں کا طالب آصف |
|
|
|
| آصف احمد کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (29-11-11) |
|
|
#148 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,841
شکریہ: 2,077
3,583 مراسلہ میں 12,686 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
بھإئی آصف احمد صاحب ، اس اصول کے مطابق ::: (((((بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ::: اور (اے محمد)ہم نے آپ کی طرف ذکر (قران) نازل کیا تا کہ آپ لوگوں کے لیے واضح فرمائیں کہ اُن کی طرف کیا اتارا گیا ہے اور تا کہ وہ غور کریں ))))) سورت النحل / آیت44، اور (((((وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلاَّ لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ::: اور(اے محمد ) ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب صرف اس لیے اتاری ہے کہ یہ لوگ جِس(چیز ) میں (بھی) اِختلاف کرتے ہیں آپ اِن لوگوں پر(اِس کتاب کے مطابق)وہ (چیز)واضح فرما دیجیے ، اور (ہم نے یہ کتاب)ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت (بنا کر نازل کی ہے) ))))) سورت النحل/آیت64، آصف بھإئی مزید تفصیل کے لیے اس تھریڈ اور مراسلے کا مطالعہ فرمایے ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سب کو ہر کلمہ گو کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پہچان, پھول, پاک, پسندیدہ, واقعات, قدم, لوگ, نماز, معلوم, ایمان, اللہ, بھائی, جواب, حدیث, خوش, دُعا, دیکھو, دریافت, زندگی, عورت, عقل, صاف, صحابہ, صحابی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ”یہ سزا ہے یا جزا“ | جاویداسد | خبریں | 2 | 03-12-10 06:09 PM |
| کیاسزا ہے ۔۔۔۔۔؟ | جاویداسد | دلچسپ اور عجیب | 1 | 20-10-10 09:04 AM |
| بدکاری کی سزا | میاں شاہد | اسلامی نظریہ حیات | 2 | 07-04-09 01:59 AM |
| سزا جون ایلیاء | Real_Light | جون ایلیا | 2 | 22-02-09 03:04 AM |
| لو میرج کی سزا | وسیم | قہقہے ہی قہقے | 3 | 05-01-09 05:23 PM |